Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode47

Pari By Shanzey Rajpoot Episode47

مجھے میری واٸف چاہیے سنا تو نے۔بصورت دیگر تجھ سمیت تیرے پورے عملے کو فارغ کرنے میں مجھے ایک لمحہ لگے گا۔سمجھا تو۔
آیا بڑا قانونی چارہ جوٸی کرنے والا۔ہمان نے جھٹکے سے سے اسے چھوڑا وہ دور جاکر گرا۔
بندے کو میجر ہمان حیدر ملک کہتے ہیں۔
ہمان نین اور ماہیر یہاں سے سیدھا۔کراٸم سین انویسٹیگیٹر کے کےدفتر ترگۓ تھے ۔اب پانی سر سے اوپر چلا گیا تھا۔پولیس سے مدد لینا نابےکارتھا۔
اس سے سےپہلے ہی وہ کرنل محمد فخر حسین سے بات کر چکا تھا اور انہی کے ذریعے سے وہ دفتر میں بیٹھا آفیسر زمان کو اپنا بیان ریکارڈ کروارہا تھا۔
تو بتاٸیے میجر ہمان صاحب یہ واقعہ کتنے بجےپیش آیا۔ہاتھ میں پیپرویٹ لیے پین کی مدد سےہمان کے ہر رسوال کے جواب کو ووہ پیپر پر اتار رہے تھے۔میں ایکزیکٹ ٹاٸم نہیں بتا سکتا۔
میں پورے دس بجے روم سے سےباہر نکلا تھا اور ٹھیک دس بج بجکر پندرہ منٹ پر پرمیں واپس آیا تو دیکھا پری وہاں نہیں تھی۔
ہمم تو واس کا مطلب جو بھی ہوا ہے ان پندرہ منٹوں میں ہوا ہے۔جس سے ایک بات تو صاف اور بالکل واضح ہے۔
کہ یہ ای سوچی سمجھی سارش ہے۔
کسی نے آپ پر بھرپور طریقے سے نظر رکھی ہوٸی تھی۔اس لیے مقابل نے موقع دیکھتے ہی اپنا کام کر دکھایا۔ یہ سب سب ایک پلین کے تحت ہوا ہے۔
ویسے آپ کی کسی یسے کوٸی دشمنی۔ایمپوسیبل آفیسر۔
ہمان نے اپنی وضاحت دی۔کسی پہ شک۔پتا نہیں فالحال میرا دماغ بالکل کام نہیں کر کررہا آفیسر۔پر جیسے ہی میں مینٹلی طور پر ٹھیک ہوتا ہوں۔سب سے پہلے یہاں حاضری دونگا۔
ہم آپ کا کابیان ریکارڈ کر رچکے ہیں۔میں اپنی ٹیم تیار کرواتا ہوں جو جاۓ وقوع پر جا کر تحقیق کرے گی۔
آپ کا ہمارے ساتھ ہونا بہت ضروری ہے۔ہوسکتا ہے وہاں کوٸی شواہد مل جاۓ۔جسے آپ پہچاننے میں ہماری مدد کریں گے۔
انہوں نےکسی سے فون پر رابطہ کرکے فون رکھا اور ہمان کی طرف متوجہ ہہوۓ۔
میں سمجھ سکتا ہوں۔میجر ہمان۔چلیں ہماری ٹیم تیار ہے۔
ہمان نین نین اور ماہیر کراٸم سین انویسٹیگیٹر کی ٹیم کے کےہمراہ ہسپتال کا معاٸنہ کر رہے تھے۔روم، کوریڈور ،واشروم اور سٹور روم دیکھنے کےبعد بھی بھیکوٸی پختہ ثبوت ہاتھ نہ آیا۔
البتہ جس روم میں پری کو رکھا گیا تھا۔اس روم سے فوٹ پرنٹ کلیکٹ کر کرلیے گۓ تھے۔جن میں تین الگ الگ قسم کے فوٹ پرنٹس ملے تھے۔
روم میں ہر تھوڑی دیر بعد صفاٸی ہونے کے باٸث ماہیر زویا اور عالی کے فوٹ پرنٹس مٹ چکے تھے۔ورنہ اس وقت تھوڑی دیر پہلے وہ لوگ بھی یہاں آۓ تھے۔
آپ لوگ فکر نہ کریں۔ہماری ٹیم سراغ لگانے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔کچھ نہ کچھ تو ضرور ہاتھ لگے گا۔ آفیسر زمان کے پاس فالحال ہمان کو تسلی دینے کے علاوہ کچھ نہ تھا۔
آپ لوگ اب گھر جاٸیں اللہ سے بہتر سے بہترین کی دعا کریں۔ہمان نین اور ماہیر اس سےمصافحہ کر کے گھر کے لیے نکل گۓ۔
نین گاڑی ڈراٸیو کر رہا تھا۔ہمان کی ہمت ہی نہیں پڑ رہی تھی۔وہ مینٹلی طور پر کافی ڈسٹرب تھا۔اسی لیے ماہیر نے اسے ڈراٸیو نہیں کرنے دی۔
گھر پہنچتے ہی سوالوں کا ایک کا انبار جمع تھا۔ ہمان میںکسی کو کچھ بتانے کی ہمت نہیں تھی۔ فالحال تو وہ اس پوزیشن میں ہی نہیں تھا کہ کسی سے بات کر سکتا۔
وہ سیدھا اپنے روم میں آکر بند ہوگیا۔شاور لے کر گیلے بالوں سمیت ہی وہ بیڈ پرگر گیا۔
کیا کچھ نہ یاد آیا تھا۔اس کی کی ہنسی۔اس کا رونا۔روٹھنا منانا۔فرماٸش کرنا۔
اف یہ جداٸی۔ابھی تو ٹھیک سے ملے بھی نہ تھے۔کہ قسمت نے ایک کبار پھر جداٸی سے سے ہمکنار کردیا۔عشق آگ کا دریا ہے۔جسے ہر حال میں پار کرنا ہے۔
پری تم یہاں بیٹھو میں بس ابھی آیا۔پھر ہم گھر چلیں گے۔
ہمان اسے وارڈ میں موجود صوفے پر بیٹھا کر بولا۔
پر آپ کہاں جا رہے ہیں۔میں بھی آپ کے ساتھ جاٶں گی۔
وہ ایک دم سیدھی ہو بیٹھی چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔
پری تم کہاں جاٶ گی یار۔یہیں بیٹھ کر میرا انتظار کرو۔میں بس ابھی آیا۔پر ہمان۔پر۔ور کچھ نہیں۔ میں نےکہا نا کہ میں بس ابھی آیا۔تو کیوں اتنی فکر کر رہی ہو۔
اچھا بتاٶ کچھ کھانا ہے تم نے۔نہیں مجھے کچھ نہیں کھانا۔پھر ٹھیک تم بیٹھو میں ابھی آتا ہوں۔
ہمان پلیز مت جاٸیں۔میرا دل بہت تیز دھڑک رہا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ میرا یہ انتظار ب کبھی ختم نہیں ہوگا۔
ہم پھر کبھی نہیں ملیں گے
وہ جو واپس جانے کے لیے مڑا تھا۔پری کہے الفاظ پر اس کے قدم وہیں منجمند ہوگۓ۔وہ مڑ کرقدم قدم چلتا اس اسکے پاس آیا۔کنچی آنکھوں میں بے پناہ خوف تھا۔آنسو ٹپ ٹپ اس کے گود میں رکھے ہاتھ بھیگو رہے تھے۔
ہمان فرش پر اس کے پاس گٹھنوں کے بل بیٹھ گیا۔
بی بریو پری۔اس نے پری کے ٹھنڈے پڑتے ہاتھوں کو اپنے ہاتبوں میں لے کر امید سے کہا۔ہمان کے ہاتھوں کی حدت پری کے ہاتھ میں منتقل ہونے لگی تھی۔وہ محسوس کر سکتا تھا۔کہ وہ کانپ رہی ہے۔
بہادر بنو پری۔یہ دنیا تم جیسے معصوموں کے لیے نہیں۔تم جیسوں کے لیے پرستان ہوا کرتا ہے۔وہ بول کر مسکرایا تھا۔
تمہیں پتا ہے ہےجب میں نے تمہیں پہلی مرتبہ دیکھا تھا تو مجھے صبح اٹھ کر لگاجیسے میں نے خواب میں ایک پری دیکھی۔سلیپینگ بیوٹی۔جو خود تو سکون سے سو رہی تھی۔پر میری نیند اور چین اڑا گٸی۔
وہ پری کا دیھان بٹانا چاہ رہا تھا۔جس میں وہ مکمل طور پر کامیاب ہوا۔ پر آپ نے مجھے پہلی مرتبہ کب دیکھا تھا۔اتنا معصومانہ سوال۔۔
پری اب سب کچھ بھولاۓ انہماک سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اس کے جواب کی منتظر تھی۔
وہ ایک دم ہنسا تھا۔پھر اٹھ کھڑا ہوا۔اب میں چلا۔تم بیٹھواور خود سے اپنے دماغ کے کےگھوڑے دوڑاٶ کہ پہلی ملاقات کب ہوٸی تھی میری تم سے۔
وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا مسکراہٹ بکھیرتا چلا گیا۔
پری کے ساتھ گزارے لمحے یاد کر کے اس کی آنکھیں بھیگ گٸیں۔
آنسو آنکھوں سے نکل کر بیڈ شیٹ میں جذب ہوگۓ۔
ایک میرا یارا ایک اودی یاری
یہی ارداس ہے میری
وہی میرا سچ ہے وہی میری ضد بھی
دل وچ سانس ہے میری
روٹھے نومنونڑا آتا نہیں ہے
آپاں بس سیکھیا یاری نیبھانا
جب سے جڑی ہے جان تجھ سے
او یارا میرے
خیر منگ دا میں تیری ربا سے یارا
خیر منگ دا میں تیری
خیر منگ دا میں تیری ربا سے یارا
خیر منگ دا میں تیری
یار بنا جینا سیکھادے او ربا میرے
مہر منگ دا میں تیری
یار بنا جینا سیکھادے او ربا میرے
مہر منگ دا میں تیری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین ہمیں کچھ نہیں کھانا بس ہمیں ہماری پری لادیں۔پتا نہیں وہ کہاں اور کس حال میں ہونگی۔انجی کی پوری رات اضطراب میں گزری تھی۔وہ ایک لمحے کے لیے بھی سو نہ سکیں۔ ممتا تو اپنے ہوش میں ہی نہ تھیں کجا کہ وہ رونا دھونا ڈالتیں۔پری کے غاٸب ہونے کی خبر سنتے ہی ممتا کا بیپی شوٹ کر گیا تھا۔کل سے وہ بس بسترکی ہوکر رہ گٸی تھیں۔افی صاحب نے تو ڈوریاں اللہ کے ہاتھوں چھوڑ دی تھیں۔
ماما پلیز کچھ تو کھالیں۔ہم سب کوشش کر رہے ہیں۔پری مل جاۓ گی ماما۔اللہ تعالیٰ سب بہتر کرے گا۔آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں۔
زین آپ جاٸیں یہاں سے ہمارا ضبط مت آزماٸیں۔انجی بیڈ کراٶن سے ٹیک لگاۓ ایک ہاتھ سے تکیہ کو دبوچتے ہوۓ بیں۔جبکہ دوسرا ہاتھ ماتھے پہ دھرا تھا۔رو رو کر اب تو آنسو بھی خشک ہوچکے تھے۔
زین چپ چاپ کھانے کی پلیٹ ہاتھ میں لیے وہاں سے چلا آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورے گھر میں موت کا سا سماع بنا ہوا تھا۔فضا سوگوار سی تھی۔خوشیاں و مسکراہٹیں تو جیسے منہ موڑے بیٹھی تھیں۔
ماہیر اور نین آفیسر زمان سے ملنے گۓ تھے۔انہوں نے فون کرکے بلایا تھا۔وہ ہمان کوبھی ساتھ لے جانا چاہتے تھے،پر نین نے کچھ سوچ کر منع کر دیا۔
ہمان رات دیر تک جاگتا رہا۔پری کی فکر نے اسے لمحہ بھرنہ سکون لینے دیا۔رات بھر جاگ کر وہ پری کے بارے میں سوچتا رہا۔بھلا پری کی کسی سے کیا دشمنی ہوسکتی ہے۔وہ ہسپتال سے ایسے کیسے منٹوں میں غاٸب ہوگٸی۔وہ تو یہاں کسی کو جانتی تک نہ تھی۔پھر کیسے وہ اس طرح دن دھاڑے اغواہ ہوگٸی۔یہ سب سوچ سوچ کر تو ہمان کا دماغ سن ہوا جارہا تھا۔پر کوٸی ایک بھی سرا ہاتھ نہ لگا۔
ہمان شاور لے کر باہر آیا تو اس کا فون بج اٹھا۔اس نے موباٸیل پر دیکھا تو ماہیر کی کال تھی۔اس نے ریسیو کر کے کان سے لگایا۔
ہیلو ہاں ماہیر بول ۔ ہمان آفیسر زمان اپنی ٹیم کے ساتھ گھر پہنچ رہے ہیں۔پر کس لیے۔ہمان کو حیرانی ہوٸی۔وہ جو فٹ پرنٹ کلیکٹ کیےتھے اسی کے سلسلےمیں۔
ہم میں سے جو جو ہاسپیٹل گیاتھا۔ان سب کے فٹ پرنٹس کلیکٹیڈ فٹ پرنٹ سے میچ کرنے ہیں۔وہ تو سب کو یہیں بلارہے تھے۔پر میں نے ہی انہیں منع کریا۔گھر کی عزت کا معاملہ ہے کسی کو ذرا بھی بھنک پڑی تو بات میڈیا تک پہنچ جاۓ گی۔جو کہ میں ہر گز نہیں چاہتا۔
ٹھیک ہے ماہیر آنے دو انہیں۔
ہمان نے کال کاٹ کر فون جیب میں ڈالا اور راہداری عبور کرتا باہر چلا گیا۔ارادہ ہسپتال کا ایک چکر لگانے کا تھا۔
ہسپتال کے پارکنگ میں گاڑی روک کر وہ اس روم میں آیا جہاں پری کو رکھا گیاتھا۔ایک بار پھر سے پری کی یاد نے اس پر گھیرا ڈال دیا۔اس نے فوراً سر جھٹکا اسے کمزور نہیں پڑنا تھا۔بلکہ پری کو ڈھونڈنے کی کوشش کرنی تھی۔
کمرے کی ایک ایک چیز کو وہ غور سے دیکھتا رہا۔ہر جگہ یہاس تک کہ واشروم کی ایک ایک جگہ چھان ڈالی کہیں کوٸی نشان تک نہ چھوڑا گیا تھا۔یہ جس کسی کا بھی کام تھا۔وہ گیم پلین کے زریعے عمل کر رہا تھا۔
مقابل کافی شاطر تھا۔اپنا ایک سراغ تک نہ چھوڑا۔پر وہ بھی ہمان تھا۔اگر مقابل سیر ہے تو وہ سوا سیر۔اسے اچھے اچھوں کو زیر کرنا آتا تھا۔پر یہاں معاملہ پری کا تھا۔جسے وہ چاہ کر بھی منظرِ عام پرنہیں لا سکتا تھا۔
میڈیا کے طرح طرح کے سول اور خود سے گھڑی جانے والی منگھڑت کہانیاں جو کہ بڑھا چڑھا کر اور مرچ مصالحہ لگا کر عوام تک پہنچاتے ہیں۔
انہیں تو اس وقت پھر کسی کی بیٹی بہن بیوی کا خیال بھی نہیں رہتا صرف اور صرف اپنے شو کی ریٹینگ کا حصول مد نظر ہوتا ہے۔
ہمان وہاں سے واپس آنے لگا تو نظر بیک ساٸیڈ پر لگے بینر پر پڑی جہاں لکھا تھا۔یہاں آنا ممنوع ہے۔براۓ کرم اسطرف نہ آٸیں۔
یہ کراٸم انویسٹیگیٹر والوں نے ہی لگوایا تھا۔وہ بیک ساٸیڈ پر آ گیا۔یہ پوری جگہ محاصرے میں لی ہوٸی تھی۔جگہ جگہ چاک اور سپرے کے نشانات واضح تھے۔آفیسر زمان کی ٹیم سے ہی تحقیق کے زریعے معلوم پڑا تھا کہ پری کو بیک ساٸیڈ سے لے جایا گیا تھا۔کیونکہ اس طرف کیمرے نصب نہیں تھے۔ہمان کچھ سوچ کر آگے بڑھا۔وہ یہاں پڑی ہرچیز کو پھرول پھرول کر دیکھ رہاتھا کہ شاید کہیں تومجرم اپنا پتہ چھوڑ جاۓ۔ کہیں تو کوٸی ثبوت ہاتھ لگے۔
ابھی وہ ادھر ادھر ہاتھ مار کر سراغ تلاش کر رکا تھا۔کہ اچانک اس کی نظر کسی چمکتی ہوٸی چیز پر گٸی۔
وہ اٹھ کر وہاں گیا ۔دیکھا تو گولڈ پینڈینٹ پڑا تھا۔اس نے جھک کر اٹھایا۔
یہ کس کا ہوسکتا ہے بھلا۔لگ تو دیکھا دیکھا سا رہا ہے یار ابھی کچھ دن پہلے ہی تو دیکھا تھا۔پر کہاں کچھ یاد نہیں آرہا۔
وہ ایک ہاتھ میں پینڈینٹ تھامے دوسرے ہاتھ کی دو انگلیوں سے پیشانی مسلتا ہوا خود سے ہم کلام تھا۔اچانک ایک جھماکا سا اس کے دماغ میں ہوا اور سب کچھ یاد آ گیا۔
یہ پینڈینٹ انجی نے بنوایا تھا زین سے کہہ کر میرے اور پری کے نکاح والے دن وہ مجھے دکھانے آٰی تھیں۔وہ پری کو تحفے میں دینا چاہتی تھیں۔
اوہ میرے اللہ یہ تو پری کا ہے۔میں کیسے بھول گیا۔ہمان خود کوملامت کرنے لگا پھر جلدی سے پینڈینٹ جیب میں ڈالنے لگا۔اس کا رخ اب گھر کی طرف تھا۔آفیسر زمان سے وہیں ملاقات ہوجانی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں بالکل نہیں۔ آپ میں سےکوٸی بھی فٹ پرنٹ نہیں دے گا۔سنا آپ سب نے اور آفیسر آپ ۔وہ گھوم کر انگلی اٹھا کے افیسر کی طرف بڑھیں۔کیا لگتا ہے آپ کو ہاں۔ پری کے غاٸب ہونے میں گھر والوں کا ہاتھ ہے، جو یہاں ہمارے بچوں کے فٹ پرنٹ لینے چلے آۓ۔
وہ مزید بھی کچھ بولتیں کہ ماہیر انہیں بازو سے پکڑ کر ایک طرف لے گیا۔یہ کیا کر رہی ہیں انجی آپ۔جیسا آپ سمجھ رہی ہیں ویسا کچھ بھی نہیں ہے۔رہنے دیں آپ ہمیں مت سمجھاٸیں۔دنیا میں آپ پہلے نہیں آۓ ہم آۓہیں۔
اچھی طرح جانتے ہیں ہم ان کی کالی وردی والوں کو۔اصل مجرم پیسوں سےمنہ بند کرواکر گھر کے ہی لوگوں کو مجرم بناکر کیس بند کردیتے ہیں۔
بس کریں انجی آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔آپ کو آرام کی ضرورت ہے انجی آپ آرام کریں اور انہیں ان کا کام کرنےدیں۔
پر ماہیر اگر یہ ہمارےبچوں میں سے کسی کوپکڑ کر لےگۓ تو۔انجی کا خدشہ کسی طور کم نہ ہوا۔نہیں لے کر جاٸیں گے۔میں سب دیکھ لوں گا انجی آپ ادھر بیٹھیں۔
ماہیر انجی کو صوفے پر بٹھاتا آفیسر کی طرف بڑھا جو ایک طرف کھڑے یہ سب ختم ہونے کے انتظار میں تھے۔
آفیسر تھوڑی دیر پہلے جو ہوا اس کے لیے رٸیلی رٸیلی سوری پری کے غاٸب ہونے سے انجی کو کای گہرا صدمہ لگا ہے۔اٹس اوکے مسٹر ماہیر ہم سمجھ سکتے ہیں۔
کہتے ساتھ ہی آفیسر نے اپنی ٹیم کو اشارہ کیا، جو چند ایک مشینوں کے ساتھ اب فٹ پرنٹ لینے کے لیے بالکل تیار کھڑی تھی۔
سب سے پہلے ماہیر نے اپنے فٹ پرنٹ دیے۔جس کے دیتے ساتھ ہی مشین کی سکرین پر کراس کا ساٸن بنا ہوا آیا۔آفیسر نے انہیں جانے کااشارہ کیا۔ اب کے بار زویا نے پرنٹ دیے۔جب بھی سکرین پر کراس روشن ہوا۔
اب عالی نے فٹ پرنٹ جمع کروانے تھے۔وہ جلدی سے اپنا دوپٹہ درست کرتی آگے بڑھ گٸی۔جبکہ پیچھے کھڑی عاشی کے چہرے کی تو ہواٸیاں اڑ گٸیں۔
اس نے تو یہ قطعی نہیں سوچا تھا کہ ہمان اس طرح سے چھان بین کرواۓ گا۔اسے تو یہی لگا تھا کہ وہ اس مسلۓ کو حل کرنے کے لیے پولیس کی مدد لے گا اور وہ اس بلیک میلر سے کہہ کر پولیس کا منہ بند کروادے گی یوں کیس ختم ہوجاۓ گا۔
مگر یہاں تو ساری کایہ ہی پلٹ گٸی۔گر جو میرے فٹ پرنٹ میچ کر گۓ تو۔اسے تو وسوسوں نے گھیر رکھا تھا۔ارے عاشی کی بچی ایسے کیسے نہیں تیرے فٹ پرنٹ میچ کریں گے۔سب سے آخر میں تو ہی تو گٸی تھی۔
وہ من ہی من خود سے ہم کلام تھی۔ پریشانی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔ن۔ن۔نہیں مم۔میں بول دوں گی کہ م۔میں ا۔اپنا موباٸیل لینے اندر گٸی تھی۔
حد ہے عاشی اتنا بھی کیا گھبرانا۔بس اب بالکل اٹینشن ہوجا، ورنہ ذرا بھی کسی کو بھنک پڑ گٸی نہ تو خیر نہیں۔
وہ اپنی ہی سوچوں میں غرق تھی، جب آفیسر زمان کی ہلکی سی دھاڑ پہ زور سے اچھل پڑی۔
دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ایک پل کو تو اسے ایسا لگا، جیسے اس کا کچا چٹھا سامنے آگیا ہو۔زین نے مٹھیاں بھینچ لیں۔اس کے ہوتے کسی نےاس کی بہن سے اونچی آواز میں بات کی اور وہ کچھ کر بھی نہ سکا۔
پر اگلے ہی پل وہ آفیسر کے چہرے پہ بکھرے سکون کو دیکھ کر خود کو نارمل کرنے لگی۔پر آگے کا سوچ کر ہی اسے ہال اٹھ رہے تھے۔وہ شانو پہ دوپٹہ درست کرتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی آگے بڑھی اور سلیپر ساٸیڈ پر اتار کر فٹ پرنٹ دینے لگی۔ایک گلٹی سی گلے میں ابھر کر معدوم ہوگٸی۔
پر اگلے ہی پل اس کے نہ صرف کان کھڑے ہوگۓ بلکہ اس کا دل ڈوب کر ابھرا، جب آفیسر زمان نے کہا کہ آپ کے فٹ پرنٹ میچ کر چکے ہیں اور ساتھ ہی بڑھی چبھتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
ماہیر نے کچھ کہنے کے لیے لب وا کیے ہی تھے کہ وہ پھر بولنے لگے۔تو مس عاٸیشہ آپ کے فٹ پرنٹ میچ کر چکے ہیں، آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔
آ۔آ۔آپ غلط سمجھ رہے ہیں آفیسر۔ میں آپ کو بتاتی ہوں۔ دراصل بات یہ ہے کہ جس دن ہم ہسپتال سے گھر واپس آ رہے تھے، اس دن پارکنگ کی طرف جاتے وقت عاشی کو یاد آیا کے وہ اپنا موباٸیل وہیں روم میں بھول آٸی ہے۔
بس اسی وجہ بسے وہ واپس روم میں گٸی تھی اور یہ نشان بھی جب ہی لگے ہونگے۔
عالی نے بات سنبھالنے کی کوشش کی، گھر کی ایک بیٹی تو ویسے ہی غاٸب تھی اور ایسے میں عاشی کو اس نقطٸہ نظر سے دیکھنا عالی کو کہاں برداشت تھا۔اسے تو مزید فکر ہونے لگی تھی۔
گھر کے سب بڑے ایک طرف خاموش کھڑے تھے۔
اس کی فکر آپ مت کریں کون صحیح ہے اورکون غلط ہے، وہ تو پتا لگ ہی جاۓ گا۔ایک بار پھر آفیسر زمان نے طنزاً کہتے چبھتی نظر عاشی پہ ڈالی اور ماہیر سے مخاطب ہوۓ۔
کل صبح انہیں لے کر سیدھا کراٸم انویسٹیگیشن آفس پہنچیں۔وہاں ان کا بیان لیا جاۓ گا۔دیکھتے ہیں کون کتنے پانی میں ہے۔
بس زین کی برداشت یہیں تک تھی۔وہ تو ویسے ہی تپا ہوا تھا رہی سہی کسر اس آفیسر نے پوری کردی۔
ہے یو!!!۔زبان سنبھال کر بات کرو۔تم!۔تمہاری ہمت کیسے ہوٸی۔تم میرے ہی گھر میں کھڑے ہوکر میری ہی بہن پہ الزام لگا رہے ہو۔وہ بھی بغیر کسی ثبوت کے۔
ماہیر سر پکڑ کر رہ گیا وہ جتنا معاملہ سلجھانے کی کوشش کررہا تھا۔ یہ لوگ معاملہ اتنا ہی الجھا رہے تھے۔پہلے انجی اور اب زین۔
انففف زین بس بہت ہوا۔بند کرو یہ بے کار کی باتیں۔یہاں کوٸی کسی پہ الزام نہیں لگا رہا۔بس اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔وہ بس عاشی سے اس کا بیان لینا چاہتے۔چونکہ سب سے آخر میں وہی گٸی تھی روم میں۔
ماہیر کی بات پہ وہ پیچ و تاب کھا کر رہ گیا۔پھر ایک غصیلی نظر عالی پہ ڈالتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔عالی کندھے اچکا کر رہ گٸی۔
اس میں بھلا اس کی کیا غلطی تھی۔
اب ہم چلتے ہیں۔ آفیسر زمان ماہیر سے مصافحہ کرتے باہر نکل گۓ۔
جبکہ پیچھے زویا گہری سوچ میں بیٹھی تھی۔جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی ٹاٸر چرچرانے کے ساتھ ہی ایک جھٹکے سے رکی تھی اور وہ اگنیشن میں چابی گھماتا گاڑی کا درواہ کھول کر باہر نکلا اور گاڑی لاک کر کے مین گیٹ عبور کرتا لاٶنج میں ایک طاٸرانہ نظر ڈالتا وہاں رکھے صوفوں پہ گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گیا۔
جیب میں ہاتھ ڈال کر وہ لاکٹ نکال کر اپنی کشادہ ہتھیلی پر پھیلایا۔لاکٹ دیکھتے ہی ایک بار پھر اس کی آنکھیں جھلملا گٸیں۔پھر مٹھی میں بند کیے وہ آنکھیں زور سے میچ گیا۔
پورا لاٶنج خالی پڑا تھا۔یقیناً کراٸم انویسٹیگیش کی ٹیم جا چکی تھی۔اس نے آنے میں دیر کردی۔کاش اگر رستے میں گاڑی خراب نہ ہوٸی ہوتی تو میں وقت پر پہنچ جاتا۔
اب تو کل ہی جانا ہوگا۔
لاکٹ گلاس ٹیبل پہ رکھے وہ سر صوفے کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں موند گیا۔کچھ پل ماحول میں خاموشی چھاٸی رہی
۔ہمان تم،تم کب آۓ۔عالی کی آواز پہ ہمان سیدھا ہو بیٹھا۔بس ابھی کچھ دیر پہلے ہی۔وہ دونوں ہاتھوں کو باہم ملاۓ فرش کو گھورنے میں مصروف تھا۔
پری یاد آ رہی ہے۔یہ ایک غیر متوقع سوال تھا۔ہمان نے سر اٹھانے کی بھی زحمت نہیں کی۔یاد انہیں کیا جاتا ہے جو دور جاتے ہیں اور پری تو مجھ سے کبھی دور گٸی ہی نہیں وہ میری روح میں بسی ہےمیری سانسوں میں سماٸی ہے خوشبو کی طرح۔
بس ایک بےچینی سے ہے بے سکونی سی ہے۔جو جب تک ختم نہیں ہوگی جب تک پری میری نظروں کے سامنے نہیں آجاتی۔عالی مجھے اپنی فکر کم پری کی فکر زیادہ ہے۔نہ جانے پری کہاں ہے کس حال میں ہے۔جس کے پاس بھی وہ ہے ناجانے وہ کیسے لوگ ہونگے۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *