Pari By Shanzey Rajpoot NovelR50762 Pari By Shanzey Rajpoot Episode31
No Download Link
828.1K
52
Rate this Novel
Pari By Shanzey Rajpoot Episode01 Pari By Shanzey Rajpoot Episode02 Pari By Shanzey Rajpoot Episode03 Pari By Shanzey Rajpoot Episode04 Pari By Shanzey Rajpoot Episode05 Pari By Shanzey Rajpoot Episode06 Pari By Shanzey Rajpoot Episode07 Pari By Shanzey Rajpoot Episode08 Pari By Shanzey Rajpoot Episode09 Pari By Shanzey Rajpoot Episode10 Pari By Shanzey Rajpoot Episode11 Pari By Shanzey Rajpoot Episode12 Pari By Shanzey Rajpoot Episode13 Pari By Shanzey Rajpoot Episode14 Pari By Shanzey Rajpoot Episode15 Pari By Shanzey Rajpoot Episode16 Pari By Shanzey Rajpoot Episode17 Pari By Shanzey Rajpoot Episode18 Pari By Shanzey Rajpoot Episode19 Pari By Shanzey Rajpoot Episode20 Pari By Shanzey Rajpoot Episode21 Pari By Shanzey Rajpoot Episode22 Pari By Shanzey Rajpoot Episode23 Pari By Shanzey Rajpoot Episode24 Pari By Shanzey Rajpoot Episode25 Pari By Shanzey Rajpoot Episode26 Pari By Shanzey Rajpoot Episode27 Pari By Shanzey Rajpoot Episode28 Pari By Shanzey Rajpoot Episode29 Pari By Shanzey Rajpoot Episode30 Pari By Shanzey Rajpoot Episode31 (Watching)Pari By Shanzey Rajpoot Episode32 Pari By Shanzey Rajpoot Episode33 Pari By Shanzey Rajpoot Episode34 Pari By Shanzey Rajpoot Episode35 Pari By Shanzey Rajpoot Episode36 Pari By Shanzey Rajpoot Episode37 Pari By Shanzey Rajpoot Episode38 Pari By Shanzey Rajpoot Episode39 Pari By Shanzey Rajpoot Episode40 Pari By Shanzey Rajpoot Episode41 Pari By Shanzey Rajpoot Episode42 Pari By Shanzey Rajpoot Episode43 Pari By Shanzey Rajpoot Episode44 Pari By Shanzey Rajpoot Episode45 Pari By Shanzey Rajpoot Episode46 Pari By Shanzey Rajpoot Episode47 Pari By Shanzey Rajpoot Episode48 Pari By Shanzey Rajpoot Episode49 Pari By Shanzey Rajpoot Episode50 Pari By Shanzey Rajpoot Episode51 Pari By Shanzey Rajpoot Last Episode
Pari By Shanzey Rajpoot Episode31
Pari By Shanzey Rajpoot Episode31
بیٹھو یہاں ۔اسے بیڈ پہ بیٹھاتا وہ خود نیچے بیٹھ کر اپنا سر پری کی گود میں رکھ گیا۔ پری اس اچانک افتاد پہ گھبراگٸی۔ ہمان یہ آپ ک۔ک۔کیا ک۔کر ررہے ہیں۔ تم بتاٶ کیا کر رہا ہوں۔ گود میں سر رکھے ہی اس نے پری کے سوال پہ سوال کر ڈالا۔ ۔م۔مجھے نہیں پتا۔ ہمان نے سر اٹھایا۔ حیرت سے اسے دیکھا۔
واقع۔۔!!!!!۔ تمہیں نہیں پتا۔ نہیں۔ میں بتاٶں۔۔!!! ہمان نے آگے کو جھک کر شرارتاً کہا ۔تو پری نے اسے دیکھا۔ وہ پری کہ برعکس کافی اچھے موڈ میں تھا۔ میں اپنی بیوی کی کی آغوش میں سر رکھے بیٹھا تھا۔ سوچا تھا کہ تھوڑا بہت پیار سمیٹ لیاجاۓ تم سے ۔ مگر یہاں تو دور دور تک سبزہ نہیں نظر آتا۔ وہ الجھی نظروںسے اسے دیکھے گٸی۔
ہمان نے کھڑے ہوکر اپنا ماتھا پیٹ لیا۔ وہ بھی کہاں مثالیں آزما رہا تھا۔ بھلا پری کو اس کی باتیں کہاں سمجھ آتی تھیں۔ جو آج وہ سمجھ جاتی۔ وہ کچھ کہنے لگا تھا پریسے اس کا فون رنگ ہوا تو وہ موباٸیل کان سے لگاتا کھڑکی میں جا کھڑا ہوا۔
واپس آیا تو پری سے مخاطب ہوا۔ ماٸی سوٸیٹ پری ۔ریڈی رہنا شام میں ۔کیوں۔ بے اختیار اس کے منہ سے نکلا تھا۔ پھر وہ سر جھکا گٸی۔ ہمان کے ہونٹوں پہ اس کی معصومیت سے تبسم سا پھیل گیا۔ کیونکہ مجھے اپنی پری کو باہر لے کر جانا ہے ۔
وہ اس کے ماتھے پہ بوسا دیتا باہر نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عاشی بیڈ پہ سارے شاپنگ بیگز کھولے بیٹھی تھی۔ ساتھ میں عالی ڈریسنگ ٹیبل پہ بیٹھی تھی جو نیلز پہ نیل پینٹ لگانے میں مگن تھی ۔ سارہ اور عاشی عالی کو زچ کیے ہوۓ تھیں۔ جب سے عالی اور زین کا رشتہ پکا ہونے اور اینگیجمنٹ کا پتا چلا تھا۔ دونوں نے اس کا جینا حرام کر رکھا۔ بس پھر اٹھتے بیٹھتے اسے زین کا نام لے کر چھیڑتی رہتیں اور جواباً وہ خون آشوم نظروں سے گھور کر رہ جاتی اور وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔۔
ابھی بھی وہ عالی کو چھیڑ رہی تھی۔ یار سارہ وہ سونگ یاد ہے تمہیں علی ظفر والا۔ ارے وہ کیسا یہ عشق ہے اسی مووی کی بات کر رہی ہو نہ ۔ سارہ نے دماغ پر زور ڈالتے ہوۓ کہا ۔ ہاں ہاں وہی ۔
سُندر ہو اور سوشیلا رنگ چاندی سا چمکیلا
بگڑی بھی ہو فیشن بھی جانے
ہو سیتا جیسی ناری اور جانے دنیا ساری۔
پیا کو ہی وہ سب کچھ مانے رے۔
دل سے دہلی ہی وہ دھڑکن سے ہو لنڈن
ایک پر شوق نظر علی پہ ڈالی اور مزید گنگنانے لگی۔
عالی نے گھور کر اسے دیکھا ایسا لگتا تھا وہ کسی بھی پل اٹھ کر اسے کچا چبا جاۓ گی ۔
میرے برادر کی دلہن۔ براد کی دلہن۔
عاشی نے بولتے ساتھ ہی کمرے سے باہر ننگے پیر دوڑ لگادی ۔ کیونکہ عالی ایکشن میں آچکی تھی۔ عاشی کی بچی رک زرا تو ۔ تجھے اور تیرے برادر کی تو ایسی کی تیسی۔ عالی نے پہلوان کی طرح دونوں آستینیں اوپر چڑھاٸیں ۔ ایک بار شادی ہوجانے دے عاشی تیرے برادر کی تو خیر ہی خیر ہے تو اپنی خیر منا۔ وہ اسے انگلی اٹھاتی وارن کر رہی تھی ۔اور عاشی اپنی ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں دوہری ہورہی تھیں۔ تمہیں روکا کس نے ہے ہنس لو ہنس لو ۔ یہی کسر باقی رہ گٸی ہے۔ عاشی بس مسکراتی نظروں سے اسے منہ پہ انگلی رکھے چپ رہنے کا اشارہ کر رہی تھی اور یہ تم چپ ہونے کا کیوں کہہ رہی ہو۔
ارے میں تو اس لیے بول رہی ہوں کہ کہیں کوٸی سن نا لے ۔ سنتا ہے تو سننے لے ڈرتی نہیں ہے عالیہ ملک کسی سے ۔عالی نے فخریہ بتایا۔
ارے واہ عاشی تمہاری ہونے والی بھابھی تو کافی بولڈ ہے۔ زین کی آواز پہ عالی اچھل پڑی۔ عالی اسے کٸی دن بعد ایسے سامنے مل رہی تھی ورنہ جب سے رشتے کی بات ہوٸی تھی وہ تو ویسے ہی زین کی بے باک باتوں اور حرکتوں کی وجہ سے اور کچھ فطری شرم کی وجہ سے چھپتی پھرتی تھی۔ پر آج زین نے بھی اسے لگے ہاتھوں لے ہی لیا۔
کتنی تیز ہے یہ تو۔ ہے نا عاشی۔۔۔ مجھے لگتا ہے کوٸی اور معصوم سی شریف سے بھابھی ڈھونڈنی چاہیے۔ آنکھوں میں حد درجہ سنجیدگی لیے وہ عاشی سے مخاطب تھا۔ مگر نظریں عالی پہ ٹہری تھیں۔
عالی نے اپنا جھکا سر اٹھایا۔ شرمندہ چہرے پہ اب غصے کے اثار نمودار ہو چکے تھے۔ پھر کہاں کی شرم کیسی حیا۔ بھاڑ میں گٸی شرم و حیا۔ سمجھتا کیا ہے خود کو یہ۔
تم خود کوسمجھتے کیا ہو۔ چیپ انسان۔ کتنے دوغلے ہو تم۔ بد تمیز آوارہ گرد۔ میری ایک بات کان کھول کر سن لو۔ خبردار۔!!!!!!!خبردار۔ اگر تم نے میرے علاوہ کسی اور لڑکی کا سوچایا کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو۔
ورنہ میں تمہارہ اچھا اچھا سارہ خون پی جاٶں گی۔
گھورتی ہوٸی اسے وارن کرتی وہ مڑی اور تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی۔ کمرے کا دروازہ بند کرنے کی آواز نیچے تک آٸی تھی۔ کچھ پل تو زین سکتے میں آگیا کہ یہ ہوا کیا ۔ پھر اس کا چھت پھاڑ قہقہ لگا تھا۔ ساتھ ہی عاشی بھی اپنے قہقہے پہ ضبط نا کر پاٸی اب وہ دونوں ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عاشی پیٹ پہ ہاتھ رکھتی اپنی ہنستی کنٹرول کرتی کمرے میں پہنچی۔ تو موباٸیل صاحب زور شور سے بجنے میں مصروف تھے۔ عاشی نے کال ریسیو کی۔
ہیلو۔۔!!!!!!
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد عاشی پھر بولی۔
عجیب انسان ہو بھٸی ۔ ہیلو۔۔ کوٸی ہے کس سے بات کرنی ہے۔۔ اس نے فون کان سے ہٹاکے گھوا۔
لگتا ہے کسی گونگے نے فون کیا ہے ۔حد ہے لوگوں کو تنگ کرنے سے ہی فرصت نہیں۔ جب کچھ دیر کوٸی نہ بولا تو وہ جھنجھلا گٸی اور فون بند کرنے لگی تھی ۔ کہ ہاتھ میں پکڑاکان سے لگا موباٸیل ہاتھ سمیت کانپ گیا وہ خود اندر تک خوف زدہ ہوگٸی۔
نیہاں۔۔۔!!!! نام تو یاد ہوگا ۔یا پھر میں یاد دلاٶں۔ ۔۔۔
اس نام کو وہ کیسے بھول سکتی تھی۔ یہ نام سنتے ہی اس رات کا پورا منظر اسکے زہن کے پردے پہ کسی فلم کی طرح چلنے لگا ۔سب کچھ ایک دم تازہ ہوگیا۔ جیسے یہ تھوڑی دیر پہلے کی ہی بات ہو۔ نیہاں کا اس سے یوں اچانک ملنا۔ پھر اسے لفٹ کی آفر کرنا ۔ ایک انجان جگہ لے جاکر کڈنیپ کرنا اور وہ رابن کا اس کے ساتھ ۔۔۔۔۔ اس کے آگے وہ کچھ سوچ نا سکی خوف اس کے چہرے سے عیاں تھا۔
آواز کسی مرد کی تھی۔ وہ پہچان نہ سکی کہ یہ وہی نیہاں کا ساتھی رابن ہے یا پھر کوٸی اور۔
ک۔ک۔کون۔ن۔ن۔نہیاں م۔میں ک۔کسی ن۔ن۔نہیاں کو نہیں ج۔جانتی ۔
ہاہاہاہا دوسری طرف سے بے ہنگم قہقہہ لگایا گیا۔ سٹرینج تم اس نیہاں کو نہیں جانتی۔ یا پھر جاننا نہیں چاہتی۔ مجھے لگتا ہے تم بھول گٸی ہو۔ چلو میں تمہیں یاد دلا دیتا ہوں۔
وہ نہیاں جس کی وجہ سے تم گھر سے آدھی رات سے بھی زیاد وقت تک باہر رہی اوووو سوری بلکہ باہر اس رابن کے ساتھ کافی اچھا وقت گزرا تمہارا۔
Shutup just shutup ..!!!
میں کسی نیہاں اور رابن کو نہیں جانتی سنا تم نے کسی کو نہیں جانتی۔ اور اگر تم نے دوبارہ مجھے کال کی نا تو میں تمہارا حشر بگاڑ دوں گی۔
Understnad that..!!!
وہ غصے سے ہانپتی ایک سانس میں ہی اسے سب بول گٸی۔ اندر سے تو اس کا دل سوکھے پتے کی مانند لرزرہا تھا۔ مگر وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی ۔ویسے بھی لوگ کمزوری کا فاعدہ اٹھانا باخوبی جانتے ہیں اور کم از کم عاشی اس طرح کی کوٸی کمزوری کسی بھی طور اس فون کال والے کو پتا نہیں لگنے دینا چاہتی تھی ۔
اووووہ میں توواقع میں ڈر گیا۔ وہ ڈرنے کی ایکٹنگ کرتا ہوا بولا۔ ہاہاہاہا اور پھر کمینگی سے ہنسا۔
ڈٸیر عاشی
See you soon with the the movie…!!!
this was the trailer …!!!!
just wait and watch..
ٹوں ٹوں۔ کال کٹ چکی تھی ۔ عاشی اپنا سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گٸی۔ یا میرے اللہ یہ سب کیا ہورہا ہے میرے ساتھ اور کیوں ہورہاہے۔ مجھے تو لگا تھا کہ یہ معاملہ رفع دفع ہوگیا۔ مجھے لگا تھا کہ انہوں نے مجھے غلطی سے کڈنیپ کرلیا ہوگا کسی اور کی جگہ۔ جبھی تو اس کا ٹیکسی ڈراٸیور مجھے گھر تک چھوڑ کر گیا۔ ورنہ وہ بھلا مجھے کیوں چھوڑتے ۔ پر ایسے تو میرا نام بھی پتا ہے ۔ مطلب اففف
اب کیا ہوگا میرے اللہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری بادل نخواستہ ہمان کے کہنے پہ تیار ہو گٸی تھی۔ وہ بالوں میں برش پھیر رہی تھی۔ کہاں جانے کی تیارہ ہے محترمہ۔ سارہ نے پری کے کمرے میں جھانکتے ہوۓ پوچھا۔ اندر آجاٶ سارہ وہاں کیوں کھڑی ہو۔ سارہ قدم قدم چلتی اندر آٸی تمہارے کہنے پہ میں اندر آٸی ہوں ۔ بعد میں مجھے کچھ مت کہنا کہ ڈسٹرب کر دیا۔۔ مجھے پتا ہے تم میرے بھاٸی کے خیالوں میں گُم تھیں۔ ایسے میں میں تمہارے خیالوں کے بیچ ہڈی بن گٸی۔ ایسا ہی ہے۔ ہے نا ۔ ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیک لگاۓ وہ تھوڑا اس کی طرف جھک کر شرارت سے بولی۔ تو پری سر جھکا گٸی۔ نہیں تم نے مجھے ڈسٹرب تو نہیں کیا۔
ویسے کہاں کی تیاری ہے۔۔۔ ہمممم ضرور باہر جارہی ہونگی ہمان کے ساتھ ہے ۔ ہممممم پری نے گردن اثبات میں ہلاٸی۔ اچھی لگ رہی ہو ۔ پر صرف کپڑے ہی تو بدلے ہیں ۔ تیار تو نہیں ہوٸیں۔ دیکھاٶ میں تیار کرتی ہوں تمہیں اور ایسا تیار کروں گی نہ کہ میرا بھاٸی تو لٹو ہوجاۓ گا تم پر۔ وہ اس کے ہونٹوں پہ ریڈ لپ شیڈ لگاتی مزے سے بولی تھی۔ آٸیز کے کارنرز بناکر لاٸینر لگایا پھر مسکارے سے پلکیں بھی خوبصورت بنادیں ۔ ۔دیکھاٶ زرا چہرا۔ وہ اپنی انگلی اس کی تھوڑی کے نیچے رکھ کر چہرہ اوپر کر کے بولی۔
اب پرفیکٹ ہے۔ ہاتھوں میں چوڑیا پہناٸیں کانوں میں چھوٹے چھوٹے جھمکے پہناۓ۔ سفید نیٹ کی شارٹ شرٹ جس پر گلاب کے پھول بہت ہی مہارت او خوبصورت سے کڑھے ہوۓ تھے اس پر سفید کیپری تضاد یہ کہ کھُلی زلفیں کھڑکی سے آتی ہوا کے دوش پر رقص کرنے لگی تھیں۔وہ واقع بہت خوبصورت کوٸی اپسرا لگتی تھی ۔ وہ دستِ قدرت کا ایک حسین شاہ کار تھی۔ یونہی تو ہمان اسے دیکھ کر اپنا آپا کھو بیٹھتا تھا ۔ اب تو تم اور بھی زیادہ پیاری لگ رہی ہو ۔
خیال رکھا کرو اپنا۔ سج سنور کر رہا کرو اور خوش رہا کرو میرا بھاٸی جب تک خوش نہیں ہوتا ۔جب تک تمہیں خوش نہ دیکھ لے ۔ بہت پیار کرتا ہے تم سے وہ ۔ اس کی جاب بہت ٹف ہے ۔ وہ کٸی کٸی دن گھر نہیں آتا۔ ہفتے بھی لگ جاتے ہیں اسے۔ بہت تھک جاتا ہے وہ۔ پر تمہیں دیکھ کر اس کی ساری تھکن دور ہوجاتی ہے۔ وہ تو تمہارے تصور سے بھی مسکرا اٹھتا ہے۔ تمہارے خیال تمہاری باتیں اسے درد میں بھی راحت دیتی ہیں۔ سارہ اسے سمجھا رہی تھی۔
وہ سر جھکاۓ اس کی باتیں سن رہی تھی۔ سچ ہی تو کہہ رہی تھی وہ ہمان کی دیوانگی کہاں چھپی تھی کسی سے۔ ۔پری خود بھی واقف تھی۔ اس کی دیوانگی سے۔
دروازے پہ نوک کرنے سے وہ اپنے خیالوں سے باہر نکلی ۔سارہ جا چکی تھی ۔ ہینڈسم سا ہمان بلیک شرٹ جس کے اوپر کے دو بٹن کھلے تھے اور بلیک ہی جینس پہنے آستینں کہنیوں تک فولڈ کیے ہاتھوں میں تہہ شدہ کوٹ تھامے سیدھا اس کے دل میں اترتا اس کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر گیا وہ نظریں جھکا گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمان اسے شاپنگ پر لے گیا تھا ۔ اس نے پری کے لیے اپنی پسند سے اور کچھ اس کی پسند سے ڈھیر ساری شاپنگز کر ڈالی تھی۔ پھر وہ اسے ہوٹل Pearl continentailلے گیا تھا ۔
وہاں سے انہوں نے پری کی فیورٹ ڈیشیز منگواٸی تھیں ۔پھر راستے میں اسنے اسے آٸیس کریم کافی فلیور بھی لے کر دیا تھا۔ اوراسے گلاب کے گجرے بھی لے کر دیے تھے ۔جو ہمان نے گاڑی روک کر اسے خود اپنے ہاتھوں سے پہناۓ تھے۔ ۔۔۔
پری کا موڈ پہلے سے قدرے بہتر ہوگیا تھا۔ مگر پہلے جیسا بھی نہ تھا۔ ہمان بولتاتو وہ بات کر لیتی۔ پھر چپ ہوجاتی کھڑکی سے باہر رات کے اندھیرے میں بھاگتے مناظر دیکھتی رہتی۔ہمان نے تہیہ کر لیا تھا ۔وہ آج گھر جا کر پری کا موڈ اپنے طریقے سے ٹھیک کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر آنے کے بعد پری کو تو سارہ نے اورعالی نے گھیر لیا تھاوہ اس کی شاپنگ دیکھ کر عش عش کر اٹھی تھیں۔ ایک سے ایک قیمتی ڈریسیز جیولری سینڈلز چوڑیاں۔ سارہ توسارہ علی کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
اللہ اللہ ۔ اینگیجمنٹ اس کی تھی اور قیمتی چیزیں ساری پری کی ۔ پر وہ خوش تھی پری کے لیے ۔حسدکا زرہ برابر نہ تھا۔
پری اٹھ کر اپنے کمرے میں آگٸی اور سارے شاپنگ بیگز اٹھاکر وارڈ راب میں رکھ کر وارڈراب لوک کیا ۔وہ پلٹی تو ہمان کواپنے بےحد قریب دیکھ کر ایک دم بوکھلا گٸی ۔ وہ قدم قدم اس کی طرف بڑھتا اسے الماری کےساتھ لگا گیا۔ ہمان کی آنکھوں میں عجیب سی تپش تھی عجیب سا احساس ۔پری نظریں جھکا گٸی ورنہ وہ ہمان کے ایسے دیکھنے پہ اکثر نظریں جھکانے کے بجاۓ نظریں اٹھاۓ اسے دیکھتی۔ ہمان نے اس کے دونوں اطراف ہاتھ رکھ کر اس کے راستہ بند کر دیا ۔گویا فرار کی ساری راہیں مسدود ۔ وہ کچھ نہ بولا تھا بس آنکھیں حالِ دل بیان کر رہی تھیں۔ پری بھی چپ تھی۔ دونوں کے بیچ خاموشی ساز بنی ہوٸی تھی۔ ٹھنڈی ہوا مدھر سی تھی ۔
چاند کی روشنی چھن چھن کر پورے کمر ے کو روشن کر رہی تھی۔ وہ پری کے مزید نزدیک ہوا اب کوٸی فاصلہ نہ تھا ۔سارے فاصلے مٹ چکے تھے۔ پری کا دل کی تیز ہوتی دھڑکن ہمان سن سکتا تھا۔ ہمان کی سانسوں کی تپش پری کو اپنے چہرے پہ محسوس ہورہی تھی۔ وہ نگاہیں جھکاٸے لرزتی پلکوں کے ساتھ دلکش لگ رہی تھی ۔ سفید لباس میں وہ بہت خوبصورت لگتی تھی ۔ اس پہ ریڈ لپ سٹیک ہمان کا فیورٹ شیڈ تھا۔وہ تو سادگی میں بھی اسے چاروں شانے چت کرنے کا ہنر جانتی تھی۔آجتو پھر وہ ہتھیاروں سے لیس تھی۔ کمسنی کا اس کا حسن و سراپا ہمان کا ہوش و حواس اڑا گیا ۔ وہ مد ہوش سا اسکی طرف جھکا ۔ اسکا ماتھا چوما۔ باری باری دونوں آنکھیں چومی۔ پہلے ایک گال چوما پھر دوسرا۔ پری جی جان سے لرز گٸی۔ اس کی حالت غیر ہونے لگی تھی۔ پورا وجود منٹوں میں پسینے میں نہاگیا۔ ہاتھ میں پہنے گلاب کے گجرے دونوں کے ملن پہ خوشبوٸیں بیکھیر گۓ۔ پورہ کمرہ معطر ہوگیا۔
اس کی ہتھیلیاں تک پسیج گٸیں۔ ہمان نے اس کے ہاتھ کی انگلیوں میں اپنے ہاتھ کی انگلیاں پھنسا دیں ۔ گلاب کی پتیاں جھڑ جھڑ کر گر رہی تھیں۔ اس کے ہاتھوں پہ ہمان کی گرفت کافی مضبوط تھی۔ ہمان تھوڑا سا دور ہوا ۔ پر پری نے چہرہ جھکالیا ۔ چہرے پہ ہلکی سی شرمیلی مسکان لیے وہ ہمان کے دل بے قابو کرنے پہ تلی تھی ۔ نظریں جھکاۓ شرماٸی شرماٸی سی وہ تو کوٸی اور ہی لگی ہمان کو۔اس کے چہرے پہ گھلتے حیا کے ساتوں رنگ ہمان کو اس پر کسی پریستان سے بھٹکی پری کا کمان ہوا ۔ اٹھتی جھکتی پلکیں ہمان مبہوت رہ گیا۔کوٸی اتنا خوبصورت کیسے ہوسکتا ہے۔ یہ لڑکی ہمان پہلمحہ بہ لمحہ نشے کی طرح چڑھ رہی تھی۔ اور وہ اس نشے میں ڈوبتا چلا گیا۔ مدہوشی غالب آچکی تھی۔ اسے کسی چیز کاہوش نہ تھا ۔ہوش تھا تو صرف اتنا کہ سامنے کھڑی یہ لڑکی صرف اور صرف اس کی ہے ۔
ہمان تو مدہوش ہوچکا تھا۔ ایک تو ویسے ہی وہ جادوگرنی تھی ۔ جیسے دیکھ کہ ہمان سب کچھ بھول جاتا تھا دوسرا آج وہ لگ اتنی پیاری رہی تھی کہ ہمان کا دل کیا کہ وہ اسے خود میں سما لے۔ ۔
نگاہیں جھکاۓ کھڑی رہی۔ ہمان کی بڑھتی جسارتوں نے اس کی بولتی بند کروادی تھی۔ بس اتنی سی برداشت تھی تم میں ۔ تم تو میری اتنی سی قربت برداشت نہ کرپاٸیں۔ ابھی تو میری چاہتوں اور شدتوں کا اندازہ نہیں ہے تمہیں۔
پری نے اب نظر اٹھا کر اسے دیکھا ۔
آپ بدلیں گے تو نہیں کبھی۔ دل میں اٹھتا ایک سوال ایک اندیشہ اس نے پوچھ لیا ۔ہمان نے اسے گود میں اٹھا کر بیڈ پر احتیاط سے لیٹا یا۔ کمفرٹر درست کرتا وہ خود دوسری ساٸیڈ آکر لیٹ گیا۔
فطرت کبھی بدلتی نہیں پری۔ تم سے پیار کرنا میری فطرت میں شامل ہے اگر کبھی کسی موڑ پہ تم کچھ بھی برا کرو کچھ بھی کہو ۔ میں جب بھی تم سے پیار کرتا رہوں گا ۔ایک بات یاد رکھنا پری ۔ ساری دنیا بھی تمہیں برا کہے یا تمہارا ساتھ چھوڑ پر تم ہمان کو ہر قدم پہ اپنے ساتھ پاٶ گی۔ تم اچھا کرو گی جب ببھی یتمہارے ساتھ برا کرو گی میں جب بھی تمہارے ساتھ ہوں۔ پر تمہاری اصلاح کرتا رہوں گا۔اس کے بالوں میں انگلیا چلاتا بہت ہے مدھم سی سرگوشیوں میں کہتاوہ اس کے کانوں میں رس گھول گیا۔ اور وہ اسے سنتی ۔نیندکی آغوش میں چلی گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین فریش فریش سا اپنے کمرے میں تیار ہورہا تھا۔اپنی انگیجمنٹ کو لے کر وہ بے حد ایکساٸیٹڈ تھا۔پچھلے دو گھنٹے لگار کر وہ تیار ہوا تھا۔کبھی کچھ پسند نہ آتا تو کبھی کچھ۔ انجی دس دفع آکر بول چکی تھیں کہ زین بس کر جاٸیں کون سا آپ ابھی سے گھوڑی چڑھنے لگے ہیں۔
لیکن نہ جی زین پھر زین تھا۔
وہ کیوں اپنی انگیجمنٹ پر کسی سے کم لگتا ۔اسے سب سے ہنڈسم جو دکھنا تھا۔ آخر کو آج دن جو اس کا تھا۔آخری نظر خود پر ڈالتا باہر کی جانب نکلا۔انجی عاشی بے صبری سے اس کی راہ دیکھ رہی تھیں ۔کوٹ کے سامنے کے بٹن بند کرتا وہ سیڑھیاں پھلانگتا نیچے اترا۔بہت پیارے لگ رہے ہیں آپ۔اللہ نظرِبد سے بچاۓ۔
انجی نے آنکھ سے کا جل کی انگلی بھر کر زین کے کان کے پیچھے لگاٸی۔ رہنے دیں ماما نہیں لگتی آپ کے سپوت کو نظر۔زرادیکھیں تو کیسے اوپر سے لے کے نیچے تک کالا کوا لگ رہا ہے۔ ہاۓ میری عالی کا تو اللہ ہی حافظ ہے ۔وہ زین کے بلیک کٹ پر چوٹ کرتی اس کے بگڑتے تیور دیکھ کر جلدی سے عالی کا نام لے کرمصنوعی دوہاٸیاں دینے لگی۔عاشی نے جان بوجھ کر اپنے بچاٶ کے لیے عالی کا نام لیا تھا۔اسے پتا تھا کہ عالی کا زکر سن کر ہی موصوف کہ سوچنے سمجھنے کہ ساری صلاحیتوں کو بیڑا غرق ہو جانا ہے۔
ہاۓ یہ پیار عشق محبت اچھے سے اچھے انسان کو نکما بنا دیتا ہے۔آخری لاٸن بول کے اس نے باہر دوڑ لگاٸی جبکہ انجی اپنے بیٹے کی میسنی سی شکل دیکھ کر زور سے ہنسی تھیں چلیں باہر سب ویٹ کر رہے ہونگے۔وہ مسکراکر بولتی اسے باہر لے کر نکل گٸیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری ہمان،سارہ حماد،رافع یہ سب تو ابراراور ہادیہ بیگم کے ساتھ عالی کو لے کر بینکوٸیٹ کے لیے نکل چکے تھے۔
زویا کو مجبوراًماہیر کی خاطر گھر میں رکنا پڑا۔سارہ نے اسے سمجھایا تھا کہ وہ ہمارے ساتھ چلے ماہیر آفس سے واپسی پر تیار ہوکر پہنچ جاۓ گا۔ لیکن زویا نے انکار کر دیا کچھ پہلے ہی ان کے درمیان تناٶ اور کھینچا کھینچا رویہ سارہ نوٹ کر چکی تھی۔
یہ الگ بات تھی کہ اسنے کبھی زویا سے اس بارے میں کچھ نہیں پوچھا۔ پر سارہ جتنی تیز نظر اور جاسوس طبیعت کی مالک تھی ۔اس سے کوٸی بعید نہیں کہ وہ کب اس سے کچھ بھی پوچھ لے۔ تو وہ کیا جواب دے گی سارہ کو کہ اس کا بھاٸی کتنا بیوفا ہے۔اس لیے وہ کسی بھی طرح کر کے اپنے رشتےکی تلخ حقیقت کو آشکار کرنا نہیں چاہتی تھی۔فالحال تو بالکل بھی نہیں۔
زویا بالکل ریڈی بیٹھی تھی ماہیر کو وہ تیار ہونے سے پہلے میسج کر کے پوچھ چکی تھی۔ماہیر نے اسے جواب دیا تھا کہ وہ تھوڑی دیر تک پہنچ جاۓ گا۔لیکن وہ اب تک نہیں آیا تھا۔ بار بار وہ ہاتھ میں پہنی رسٹ واچ پہ ایک نظر ڈالتی اور ایک نظر دروازے پر۔اس بار جب دروازے پر نظر ڈالی تو ماہیر اندر آتا دکھاٸی دیا۔وہ بپھری ہوٸی شیرنی کی طرح اس کے اوپر چڑھ دوڑی۔
کہاں تھے آپ ماہیر۔کچھ ندازہ ہے آپ کو۔ میں گھر میں اکیلی کب سے یہاں تیار بیٹھی آپ کا انتظار کر رہی ہوں۔لیکن آپ کو تو اپنے آفس کے کامو ں سے فرصت نہیں۔زویا بولتے بولتے رو پڑی تھی۔آنکھوں میں نمی آ ٹھری تھی۔جسے وہ آسانی سے چھپا گٸی۔اور رخ پھیر گٸی ماہیر تو اس کے انداز واطوار پر ہی دنگ رہ گیا۔ہوا کیا تھا زویا کو آخر۔آفس سے لیٹ تو وہ ہمیشہ ہی ہوجایا کرتا تھا۔آج تو پھر وہ گھر میں فنگشن کی وجہ سے جلدی آگیا تھا۔پہلے تو کبھی زویا نے ایسا ری ایکٹ نہیں کیا۔اسے کہاں فرق پڑتا تھا ۔ ماہیر کے جلدی یا دیر سے آنے پہ۔اکثر ماہیر گھر آتا تو زویا کو سویا ہوا پاتا تھا۔تو پھر آج اسے کیا ہوا تھا وہ بری طرح الجھ گیا۔یہ تو طے تھا زویا کی آنکھوں میں وہ نمی دیکھ چکا تھا۔و سر جھٹکتاوارڈروب سے کپڑے نکال کر چینج کرنے چلا گیا۔کیا کر رہی تھی زویا تو۔
کیوں اس انسان کے سامنے ریزہ ریزو بکھرنے لگی تھی۔کیا ضرورت تھی۔ اس شخص کے سامنے آنسو بہانے کی جسے کا تجھ سے اور تیرے آنسوٶں سے کوٸی واسطہ نہیں۔وہ خودسے باتیں کرتے اتنی تلخ ہوگٸی کہ بد گمانی کی آخری حد جسکو کہتے ہیں وہ تک پار کرنے کو تھی۔
ماہیر چینج کر کے باہر آیا۔پانچ منٹ لگے تھے اسے تیار ہونے میں۔پھر وہ اور زویا گھر سے نکلے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا بات ہے عالی آج بڑا سکون ہے کہیں تم نے کچھ پلین تو نہیں کر ر کھااورنہ تم اور سکون ناممکن سی بات سارہ اور
عالی کی کھینچاٸی کرنے میں لگی تھیں۔بیچاری عالی چپ رہنے کے سوا اور کر بھی کیا سکتی تھی۔اس کی شوخ طبیعت کے باٸثانجی نے اسے سختی سے منع کیا تھا کوٸی بھی اوٹ پٹانک حرکت نا کرے۔خاص کر زین سے الجھنے سے۔کیونکہ وہ اور عالی جو کسی بات پر شروع ہوجاٸیںتو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔ارے نہیں یہ سارے بدلے زین بھاٸی سے لے گی اپنی شادی کی رات۔عاشی نے رازداری سے سارہ کے کان میں کہا اس کی آواز عالی باخوبی سن چکی تھی۔سچی عالی تم تو بڑی چھپی رستم ہو تم نے تو اپنی ویڈنگ ناٸیٹ کے لیے بھی سب پلین کرلیا اور بتایا بھی نہیں۔سارہ مسلسل اسے چھیڑے جارہی۔شرمندہ تو عالی نے کیا ہی ہونا تھا۔الٹا وہ ان دونوں کو خون آشوم نظروں سے گھورتی رہی جیسے ابھی کچاچباجاۓ گی۔کیا بات ہے سارہ عاشی کیوں پریشان کر رکھا ہے آپ نے ہماری بہو کو انجی نے عالی کی حمایت لیتے ہوۓ آخر میں اس کی ٹانگ کھینچی۔وہ تینو ایک ساتھ ہنس دیے۔کیاانجی میں کوٸی بہو وہو نہیں ہوں آپ کی وہی پرانی والی عالی ہوں وہ منہ بسورکے بولتی انجی کو کو بے حد پیاری شرارتی سی گڑیا لگی اچھا بابا آپ تو ہماری وہی عالی ہیں جسے ہم بچپن میں اپنے ہاتھ سے نوڈلز کھلایا کرتے تھے اور آپ کھاتی کم گراتی زیادہ تھیں۔وہ اس کے گال پہ ہاتھ رکھ کر پرانی یافیں تازہ کر گٸی عالشی سارہ عالی کو باہر لے آٶسٹیج پرزویا اور ماہیر بھی آ چکے ہیں میرے خیال میں رسم شروع ہوجانی چاہیے۔آپ چلیں ہمیں لے کر آتے ہیں بنو کو سارہ شرارت سے بول کر ینس دی۔
عالی کو زین کے برابر میں نفیس سے صوفوں پربیٹھایا گیا تھ جس کے عین اوپر روز فلاور سے ڈیکیوریٹ کی گٸی چھت تھی جس میں ہر تھوڑے سے فاصلے پر ٹرانسپیرینٹ بلون لٹکے ہوۓ تھے ان بلونز میں گولڈن سٹارس اور ڈسکو تھی بیک سٹیج پورا موتیے کے پھولوں سے سجا تھا جس پر گلاب کے پھولوں سے عالی اور زین کا نا م لکھا گیا تھا۔پورا ہال بے حد خوبصورت اور اپنی مثال آپ تھادیب
Ladies and gentle men can I have your attention plz
Today’s my younger naughty sister Aali’s engagement is held
جاری ہے
