Pari By Shanzey Rajpoot NovelR50762 Pari By Shanzey Rajpoot Episode46
No Download Link
828.1K
52
Rate this Novel
Pari By Shanzey Rajpoot Episode01 Pari By Shanzey Rajpoot Episode02 Pari By Shanzey Rajpoot Episode03 Pari By Shanzey Rajpoot Episode04 Pari By Shanzey Rajpoot Episode05 Pari By Shanzey Rajpoot Episode06 Pari By Shanzey Rajpoot Episode07 Pari By Shanzey Rajpoot Episode08 Pari By Shanzey Rajpoot Episode09 Pari By Shanzey Rajpoot Episode10 Pari By Shanzey Rajpoot Episode11 Pari By Shanzey Rajpoot Episode12 Pari By Shanzey Rajpoot Episode13 Pari By Shanzey Rajpoot Episode14 Pari By Shanzey Rajpoot Episode15 Pari By Shanzey Rajpoot Episode16 Pari By Shanzey Rajpoot Episode17 Pari By Shanzey Rajpoot Episode18 Pari By Shanzey Rajpoot Episode19 Pari By Shanzey Rajpoot Episode20 Pari By Shanzey Rajpoot Episode21 Pari By Shanzey Rajpoot Episode22 Pari By Shanzey Rajpoot Episode23 Pari By Shanzey Rajpoot Episode24 Pari By Shanzey Rajpoot Episode25 Pari By Shanzey Rajpoot Episode26 Pari By Shanzey Rajpoot Episode27 Pari By Shanzey Rajpoot Episode28 Pari By Shanzey Rajpoot Episode29 Pari By Shanzey Rajpoot Episode30 Pari By Shanzey Rajpoot Episode31 Pari By Shanzey Rajpoot Episode32 Pari By Shanzey Rajpoot Episode33 Pari By Shanzey Rajpoot Episode34 Pari By Shanzey Rajpoot Episode35 Pari By Shanzey Rajpoot Episode36 Pari By Shanzey Rajpoot Episode37 Pari By Shanzey Rajpoot Episode38 Pari By Shanzey Rajpoot Episode39 Pari By Shanzey Rajpoot Episode40 Pari By Shanzey Rajpoot Episode41 Pari By Shanzey Rajpoot Episode42 Pari By Shanzey Rajpoot Episode43 Pari By Shanzey Rajpoot Episode44 Pari By Shanzey Rajpoot Episode45 Pari By Shanzey Rajpoot Episode46 (Watching)Pari By Shanzey Rajpoot Episode47 Pari By Shanzey Rajpoot Episode48 Pari By Shanzey Rajpoot Episode49 Pari By Shanzey Rajpoot Episode50 Pari By Shanzey Rajpoot Episode51 Pari By Shanzey Rajpoot Last Episode
Pari By Shanzey Rajpoot Episode46
Pari By Shanzey Rajpoot Episode46
چپ ہوجاٶ پری۔میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیں تھا۔میں صرف تمہیں سمجھارہا تھا پری۔پاپا کی باتیں سننے کے بعد تمہیں خود سے فیصلہ کرنے کے بجاۓ میرا سوچنا چاہیے تھا۔کیا میں تمہارے بغیر رہ لیتا۔
وہ اس کے آنسو صاف کرتے مسلسل اسے سمجھا رہا تھا۔
خود کو اتنا کمتر اور حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں کوٸی نہ کوٸی خوبی رکھیہے۔دنیا میں کوٸی بھی چیز بےکار نہیں بنی۔
تم میرے جینے کی وجہ ہو۔میری ہر خوشی تم سے وابستہ ہے۔ تمہاری اتنی بڑی خوبی تمہیں مجھ سے جوڑے رکھنے اور زندہ رہنے کے لیے کافی نہیں۔
پری کے گال پہ ہاتھ رکھے وہ اسے سوال کرتا مشکل میں ڈال گیا۔ایسا تو اس نے سوچا ہی نہ تھا۔کہ ہمان اس حالت میں بھی اس سے حساب برابر کرے گا۔
پری آٸی لو یو سو مچ۔میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔ اتنی کہ جس کی کوٸی حد نہیں بے۔ حد بے۔ تحاشہ۔ بے شمار۔
تم سانسو میں بسی وہ خوشبو ہو ۔جس سے میری زندگی کا ہر لمحہ مہکتا ہے۔تم سے میرے دل کی دھڑکنیں جڑی ہیں پگلی۔کیسے سوچ لیا تم ے کہ ہمان سے الگ ہوکر اسے کسی اور کے لیے چھوڑ دو گی۔ تو وہ خوش رہےگا۔
دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھامے وہ پری کی پیشانی سے پیشانی ٹکراۓ اس کی دھڑکنیں منتشر کر گیا۔اتنا خوبصورت لمحہ تھا۔مانو ہواٸیں رقص کرتی ہوں۔مدھر سا ساز چھڑا ہو۔جیسے ماحول معطر ہو۔
وہی ازلی نرم لہجہ پری کا دل دھڑکا گیا۔گھمبیر لہجے میں اپنی آواز سے وہ پری کے کانو تک میں رس گھول گیا۔
کتنی ہی دیر وہ پری کے ساتھ باتیں کرتا رہا۔
پری کا دل ہلکا ہوگیا۔ ہمان نے اسے دیکھا اب وہ پہلے سے کافی پر سکون لگ رہی تھی۔
اب اچھی لگ رہی ہو نا۔ہمیشہ مسکراتی رہا کرو۔اس نے پیار سے پری کا گال کھینچا۔پری نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔پھر دونوں ہاتھ باندھے منہ پھیر لیا۔
افف ہمان تو اس کی پل پل بدلتی اداٶں پر حیران تھا۔اب کیا ہوا میری کنچن کو۔اس نے پیار سے اس کے چہرا ادھر موڑا۔بات مت کریں مجھ سے آپ۔ میں آپ سے بہت زیادہ ناراض ہو۔
وہ کیوں بھٸی۔آپ آٸینہ سے بات کیوں کرتے ہیں۔ہر وقت اس کے ساتھ رہتے ہیں اور اب تو شادی بھی کر لیں گے۔
بولتے بولتے وہ آخر میں اداس ہوگٸی۔لہجہ پھر سے نم ہوا تھا۔مزید کچھ بولنے کی ہمت نہیں رہی وہ سر جھکا گٸی۔آنسوں کسی بھی لمحے نکلنے کو بیتاب تھے
ادھر دیکھو پری۔
کسی سے بات کرلینا کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ آپ کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت کے حامل شخص کی کوٸی قدرو قیمت نہ ہو۔
عشق میں شرک نہیں ہوتا پری۔چاہے وہ حقیقی ہو یا مجازی۔
محبوب اپنے عشق میں شراکت داری پسند نہیں کرتا۔اور پتا ہے۔پیار تو ہر چیز سے ہوجاتاہےمحبت بھی سب سے ہوجاتی ہے۔
”پر عشق صرف ایک ہوتا ہے۔صرف ایک سے ہوتا ہے۔اور وہ صرف کسی ایک کے لیے ہی ہوتا ہے۔“
پر آپ کی آٸینہ سے شادی۔کیا وہ اس عشق میں شرک نہیں ہے۔بولیں۔وہ پریشان سی نم آنکھوں سے ہمان سے پوچھ رہی تھی۔
اور ہمان اس کے چہرے پہ تو مسکراہٹ بکھری تھی۔پری الجھ گٸی یہاں وہ کتنی مشکل میں تھی اور وہ تھا کہ مسکرا رہا تھا۔
یہ ایک راز ہے۔کیسا راز۔پری نے چھوٹتے ہی پوچھا۔آٸینہ سے میں کسی قسم کی کوٸی شادی نہیں کر رہا۔
پر شادی کے وہ فنکشنز وہ سب کیا تھا پھر۔وہ اب صحیح معنوں میں الجھ چکی تھی۔
پھر کبھی تفصیل سے بتاٶں گا تمہیں۔تم بھی یہیں ہو اور میں بھی یہیں ہوں۔بس ایک بات یاد رکھنا۔ تمہارے ہمان کی زندگی میں نہ تم سے پہلے کوٸی لڑکی تھی۔نہ تمہارے ہوتے ہے کوٸی لڑکی ہے۔نہ ہی بعد میں ہوگی۔
”عشق صرف ایک ہوتا ہے اور وہ صرف تم ہو۔“
پری اسے دیکھے گٸی۔وہ ہمیشہ ایسے ہی اپنی باتوں سے اس کا دل دھڑکاتا تھا۔
اب تم آرام کرو۔پری لیٹ گٸی تو اس نے اس کے اوپر چادر درست کی۔مجھے گھر جانا ہے۔
ہممم صبح چلیں گے گھر۔نہیں مجھے ابھی جانا ہے۔پلیز ہمان مجھے نہیں رہنا یہاں۔وہ بچوں کی طرح ضد کرنے لگی۔
کنچن ضد نہ کرو یار۔
تم تو ویسے ہی اتنی پیاری ہو۔ضد کرتے وقت ایمان سے یار اتنی کیوٹ لگتی ہو کہ مرا دل کرتاہے کہ میں۔۔۔
اس نے جملہ ہی ادھورا چھوڑ دیا۔
اس کی معنی خیز باتیں۔پری نگاہیں جھکا گٸی۔ہمان نے جی بھر کر یہ خوبصورت منظر دیکھا۔اٹھتی جھکتی چلمن۔ اس کے چہرے پہ حیا کے ساتوں رنگ بھکرے پڑے تھے۔وہ حسن کا شاہکار تھی۔
پری سو گٸی۔ تو وہ بھی کمرے میں رکھے ٹو سیٹر صوفے پہ بیٹھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ہوتے ہی ماہیر عالی اور زویا پری سے ملنے آۓ تھے۔پر یہاں آ کر ان کو پری کے ڈسچارج کا پتا چلا تو ان کے چہروں پہ سکون کی لہر دوڑ گٸی۔
عاشی بھی ساتھ ہی آٸی تی۔عالی نے اسے زبردستی اپنے ساتھ گھسیٹا تھا تو مجبوراً اسے آنا پڑا۔ پری اب پہلے سے بہتر فیل کر رہی تھی۔
سب سے بات بھی کر رہی تھی۔
پری بہت عیش کر لی تم نے اب گھر چلو۔عالی مصنوعی غصے سے اسے کہہ رہی تھی ۔جواباً پری کی ہنسی کمرے میں گونج رہی تھی۔
افففف بس شروع ہوگیا انکا میلو ڈرامہ۔عاشی کوفت سے سوچتی اپنا سر پکڑکے کھڑی تھی۔پری کا ہنسنا مسکرانا۔
مزید وہ سہہ نہیں سکتی تھی۔تنگ آ کر پانی کا بہانہ کرتی وارڈ سے باہر نکلتی چلی گٸی۔
جہاں دیکھو پری پری۔حد ہوتی ہے۔میں تو کسی کو نظر ہی نہیں آتی۔ہنہہ ناجانے کب جان چھوٹے گی اس پری نام کی بلاسے۔
وہ چلتی ہوٸی بڑاڑارہی تھی کہ اچانک کسی عبایہ میں ملبوس عورت سے اس کی زوردار ٹکر ہوٸی۔کچھ تو پہلے ہی اس کا دماغ سڑا پڑا تھا۔اوپر سے یہ صبح صبح کسی سے تصادم وہ بری طرح پھٹ پڑی۔
اففف اندھی ہو کیا۔دیکھ کر نہیں چل سکتیں۔دکھتا ہے نہیں اور چل پڑتی ہیں لمبے لمبے تنبو پہن کر۔
حد ہوتی ہے۔جاہل نابینا عورت۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید کوٸی گل افشانی کرتی اس عورت نے عاشی کو بازو سے پکڑ اپنے ساتھ گھسیٹا۔
عاشی تو اس اچانک حملے پہ گھبراگٸی پسینے کی ننھی ننھی بوندھیں اس کے ماتھے پہ چمکنے لگی تھیں۔
آواز تو مانو کہیں حلق میں ہی دب کرہ گٸی تھی۔اس کا نرم و نازک بازو اس کی مضبوط گرفت میں تھا۔
اس گرفت پہ اسے مرد کا گمان ہوا ۔جو اس کے ہوش اڑانے کے لیے کافی تھی ۔عاشی کو اس کی انگلیاں اپنے بازو میں گڑھتی ہوٸی محسوس ہوٸی۔
صبح کا وقت ہسپتال کا کوریڈور سونا پڑا تھا۔ عاشی کی ساری مزاحمت بے کار گٸی۔
اسشخص نے ہسپتال کے خالی کمرے میں اسے دھکیل کر دروازہ مقفل کیا اور اپنے چہرے سے نقاب اٹھایا۔
عاشی کے اوسطان خطا ہوگۓ۔دل ایک دم تیز تیز دھڑکنے لگا۔
روبن۔اس کے لب ہولے سے پھڑپھڑاۓ تھے۔اور جواباً روبن کے لب کمینگی سے مسکرادیے۔
عاشی کو اپنے آس پاس خطرے کی گھنٹیاں بجتی محسوس ہوٸیں۔اسے اپنی عزت کی پرواہ تھی۔وہ تو ابھی پہلے والی ہی حرکت نہیں بھولی تھی۔ کجا کہ اب وہ پھر سے اس کے سامنے تھا۔نہ جانے اب وہ کیا کرے۔
اس سے پہلے کہ عاشی چیخ و پکار کرتی گردن پہ رکھی روبن کی پسٹل اس کی بولتی بند کرواگٸی۔زبان تو مانو تالو سے چپک گٸی۔
میری بات دھیان سے سن لڑکی۔تیرے پاس صرف ایک گھنٹے کا ٹاٸم ہے۔اس ایک گھنٹے میں تو جو کر سکتی ہے کر۔اس لڑکی پری کو بوس کے حوالے کر۔یہ بوس کا حکم ہے۔
ورنہ دوسری صورت میں یہ دیکھ لے۔
اسنے ایک ہاتھ سے اس گردن پہ پسٹل ٹکاۓ دوسرے ہاتھ سے پینٹ کی پاکٹ سے موباٸیل نکال کر ویڈیو اس کے سامنے کی۔
ن۔ن۔نہیں م۔م۔میں ک۔ک۔کچھ۔کر تی ہوں۔پر پ۔پ۔پلیز۔یہیہ وو۔ویڈیو ک۔کسی ۔ک۔کو مت دیکھانا۔
وہ ایک دم بوکھلا گٸی۔اپنی عزت کا ڈر غالب آ چکا تھا۔
ٹھیک ہے ۔سن چڑیا!! میرے پاس ایک پلین ہے۔اکیلےتو تجھ سے کچھ بھی نہیں ہوگا۔
بوس کے حکم پہ میں تیری تھوڑی سی مدد کرنے کے لیے تیار ہوا ہوں۔پر یاد رکھنا چھوکری!!!! زرا سی بھی ہوشیاری کی تو سیدھاکھلاااس۔
اس نے پیسٹل ہاتھ میں گھوما کے رخ عاشی کی طرف کیا۔مقصد اسے خوف میں مبتلا کرناتھا۔
سن اب۔ پھر روبن جیسے جیسے عاشی کو بتاتا گیا وہ سر ہلاتی گٸی۔
چل اب جا جاکے کام پہ لگ جا۔
اس نے دھیرے سے دروازہ کھول کر اسے باہر کا راستہ دکھایا۔
وہ ڈرتی ڈرتی باہر آٸی۔ماتھے پہ سے پسینا صاف کیا۔اور خود کو کمپوز کرتی وارڈ کی طرف چل دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہیر میں نے ساری فارمیلیٹیز پوری کردی ہیں۔ڈسچارج پیپر بھی ساٸن کردیے۔تو ایک کام کر ان لوگوں کو لے کر گھرجا میں پری کو لے کر گھر پہنچتا ہوں۔
ہم ٹھیک ہے۔ چلو بھٸی ہم تو گھر چلیں۔پری کو ہمان لے آۓ گا۔ماہیر صوفے سے اٹھتا ہوا بولا۔
ابھی سے ابھی تو میرا کام۔۔۔۔
عاشی کو ماہیر کی بات سن کر ہی کرنٹ لگا تھا اور وہ بنا سوچے سمجھے بول گٸی۔
کون سا کام عاشی۔ماہیر نے اس سے پوچھا تو وہ ہڑبڑا گٸی۔ن۔نہیں کوٸی بھی کام نہیں میں تو بس ہاسپیٹل کی فارمیلیٹیز کا بول رہی تھی۔
ارے وہ تو ہمان نے پوری کردیں۔
چلو تم لوگ آجاٶ میں گاڑی میں تم لوگوں کا انتظار کر رہا ہوں۔وہ بول کر چابی گھماتا وارڈ سے پارکنگ ایریا کی طرف چلا گیا۔
زویا بھابھی چلیں۔ ہاں چلو۔وہ لوگ بھی پارکنگ ایرجا کی طرف چل دیں۔عاشی بھی ان کے ساتھ تھی۔
او شٹ!!! عاشی نے زور سے بولنےکے ساتھ ہی ماتھے پہ ہاتھ مارا ۔کیا ہوا عالی نے مڑ کر پوچھا۔ارےیار میں اپنا موباٸیل تو وہیں روم میں بھول آٸی۔
ایک کام کرو تم لوگ چلو میں آتی ہوں۔
اچھا ٹھیک ہے۔ پر جلدی آنا ماہیر بھاٸی انتظار کر رہے ہیں۔
اوکے۔وہ بولتی واپس مڑ گٸ۔سامنے ہی ہمان روم سے نکلتا سیدھا ادھر ہی آرہا تھا۔وہ فوراً ستون کی آڑ میں چھپ گٸی۔ دل ڈر کے مارے باہر آنے کو تھا۔
پھر اس کے نہ ہونے کا اطمینان کرتی۔آہستہ سے روم میں داخل ہوٸی۔نرس پری کو چینج کروا چکی تھی۔پری صوفے پہ بیٹھی شاید ہمان کی منتظر تھی۔
پری نے آہٹ پر نظر اٹھا کر دیکھا تو عاشی کو دیکھ کر ہی اس کے ماتھے پہ شکنیں ابھر آٸیں۔
تم کیوں آٸی ہو ادھر۔نہ چاہتے ہوۓ بھی پری تلخ کلامی کر بیٹھی۔پری تم اتنا روڈلی بیہیو کیوں کر رہی ہو۔میں مانتی ہوں کہ میں نے تمہارا بہت دل دکھایا ہے پر۔مجھے معاف کردو۔
عالی کی طرح میں بھی تو تمہاری بہن ہوں اور پھر انسان بھی تو ہوں اور غلطیاں تو ہم انسان سے ہی ہوتی ہیں۔
میں نے کبھی یہ نہیں سوچا پری کہ تم مر جاٶ۔
یا تمہیں موت آجاۓ۔بہنوں میں ناراضگی ضرور ہوتی ہے پر اس حد تک نہیں کہ ہم کسی کی جان کے در پہ ہوجاٸیں۔
عاشی بولتے بولتے سسک اٹھی۔پری تو اسے روتا دیکھ بوکھلا گٸی۔
عاشی تم رو کیوں رہی ہو۔پلیز مت رو۔میں نے تمہیں معاف کیا۔پر پلیز ایسے مت رو میرے دل کو کچھ ہورہا ہے۔مجھے گھبراہٹ ہورہی ہے۔
پلیز مت رو۔پری نے اسے رونے سے منع کیا۔تو عاشی نےاپنے آنسو صاف کیے۔تھینک یو پری ۔تم سچ میں بہت اچھی ہو۔عاشی نے پری کے دونوں ہاتھ تھام کر کہا۔
افف دیکھو باتوں باتوں میں تمہیں بتانا ہی بھول گٸی کہ ہمان تمہیں بلارہا ہے۔
ہمان پر انہوں نے کہا تھاکہ وہ خود مجھے لے کر جاٸیں گے۔ہاں پر اسے کچھ کام یاد آگیا ہوگا پری ۔چلو اب ہمان انتظار کر رہا ہوگا۔
ہاں چلو۔پر ہمان کہاں ہیں۔ وہ وہاں اس طرف ہے۔عاشی نے انگلی کے اشارے سے ایک طرف اشارہ کر کے بتایا۔
وہ اسے وہاں لے آٸی۔یہ ہاسپیٹل کا پچھلا دروازہ تھا جو کم ہی کھولا جاتا تھا۔ یہاں کافی پرانی گاڑیاں اور ہاسپیٹل کے استعمال شدہ انجیکشنز سریجیز اور ڈرپس کی بوٹلز کا کچرہے کا ایک ڈھیر جمع تھا۔
عاشی یہ کیسی عجیب سی جگہ ہے۔یہاں تو اتنی سمیل آ رہی ہے۔مجھے سانس بھی ٹھیک سے نہیں آرہا۔
وہ منہ پہ ہاتھ رکھتی بامشکل سانس لینے کی کوشش کر رہی تھی۔
ہمان کہاں ہہیں۔ مجھے تو کہیں نہیں دکھاٸی دے رہے۔
وہ پریشانی سے خود کو سنبھالتی ہوٸی گویا ہوٸی۔
ارے پری ہمان بس آتا ہی ہوگا۔کچھ دواٸیاں تھیں تمہاری بس وہی لینے گیا ہے۔عاشی اسے پیچھے سے دونوں کندھے تھام کر بولنے لگی اا۔چھ۔اچھ۔اچھا
وہ کھانسے لگی تھی۔ سمیل اتنی تھی کہ اس کی آواز تک نھیک سے نہیں نکل رہی تھی۔عاشی نےاس کے کندھوں کو اہنے ہاتھوں سے آزاد کیا۔
اور دو دوقدم پیچھے ہٹی اور دیوار کی اوزٹ میں کھڑے رابن کو اس طرف آنے کا اشارہ کیا۔اور خود وہاں سے دبے پاٶں نکل گٸی۔
پری کھانستی ہوٸی ادھر ادھر ہمان کو تلاش کر رہی تھی۔کہ اسے اپنے پیچے کسی کی آہٹ ہوٸی۔
وہ پیچھے مڑی ہی تھی کہ سامنے بلیک ہوڈی میں چہرہ پہ بلیک ماسک کے پہرے والے شخص کو دیکھ کر اس سے پہلے خوف کے مارے اس کی چیخ گونجتی۔
اس شخص نے کلورو فام سے بھرا رومال پری کی ناک پر رکھ کر بے دردی سے مسلا اور اگلے ہی پل وہ ہوش وحواس سے بیگانہ اس شخص کے ہاتھوں میں جھول گٸی۔
اس شخص نے پری کے بے حس وجود کو اٹھا کر اپنی گاڑی کی ڈگی میں ڈالا اور ڈگی لاک کر کے ڈراٸیونگ سیٹ سنبھالتا گاڑی زن سے بھگالےگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ عاشی کہاں رہ گٸی ہے۔دیر ہورہی عالی مجھے آفس بھی جانا ہے۔
گاڑی میں بیٹھا وہ کوٸی تیسری بار اپنی کلاٸی پہ موجود گھڑی پہ نظر ڈال کر جھنجھلاتے ہوۓ بولا۔پچھلے پندرہ منٹ سے وہ عاشی کا ویٹ کر ررہا تھا۔پر اب تک اس کے آنے کے کوٸی آثار نظر نہ آتے تھے۔
پتا نہیں ماہیر بھاٸی۔ عالی کہہ رہی تھی کہ اس کا موباٸیل وہ روم میں ہی بھول آٸی ہے وہی لینے جارہی ہے۔
موباٸیل لے کر آنے میں اتنی دیر لگتی ہے کیا۔تین منٹ کا راستہ نہیں ہے یہاں سے وہاں تک کا۔
ایک بار پھر وہ بڑبڑاتا ہوا گھڑی پہ نظر ڈالنے لگا۔عین اسی وقت عاشی گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھی تھی۔
ماہیر بھاٸی پلیز جل۔جلدی گھر چلیں۔
پسینے سے شرابور، گھبراٸی گھبراٸی سی عاشی نے نےعجلت میں ماہیر سے کہا۔الفاظ لبوں سے نکلتے نہ تھے۔وہ ٹھنڈی پڑ چکی تھی۔ ہاتھ پیر تھے کے کانپ رہے تھے۔
کیا ہوا عاشی از ایوری تھنک اوکے۔
ماہیر نے پریشانی کے عالم میں گردن پیچھے موڑے اس سے پوچھا۔بظاہر تو وہ اس سے غصہ تھا۔پر اب اس کی حالت دیکھتے ہوۓ اس پریشانی نے آن گھیرا تھا۔
وہ شروع سے ہی ایسا اتھا۔اپنے سے منسلک رشتوں کی فکر کرنے والا۔خاص کر خاندان کی تمام لڑکیوں کی نہ صرف وہ فکر کرتا تھا ۔بلکہ اس کی نگاہوں میں ہمیشہ عزت و تکریم کا عنصر نمایاں رہتا تھا۔
اب بھی وہ عاشی کو دیکھ کر نرم لہجے میں اس سے پوچھ گوچھ کر رہا تھا۔
عاشی وہاں سے نکلنے کے بعد سیدھا ہاسپیٹل کے واشروم میں بند ہو گٸی۔اپنے پلین کو تو وہ پایہ تکمیل تک پہنچا چکی تھی۔
پر ایک عجیب سی بے چینی و بے سکونی اس کے اندر جنم لے چکی تھی۔اسے اپنا جسم سن ہوتا محسوس ہوا۔اگر اسے کسی نے اس حال میں دیکھ لیا تو کیا ہوگا۔
اسی سوچ کو جھٹلانے کے لیے اس نے نل کھول کر اپنے منہ پر پانی کے چھپکے مارے۔اور ایک لمبی سانس لے کر خود کو کمپوز کیا اور باہر نکل آٸی۔
پر حقیقت تو یہی ہے۔مجرم چاہے کتنا ہی خود کو دوسروں سے چھپاۓ رکھے۔پر اس کا ضمیر ہمیشہ اسے ملامت کرتا رہتا ہے۔عاشی کے ساتھ بھی یہی سب کچھ ہورہا تھا۔وہ مینٹلی ڈسرب ہوچکی تھی۔
عاشی میں کچھ پوچھ رہا ہوں۔آر یو آل راٸٹ۔
ہاں ۔ہاں۔می۔میں بالکل ٹھیک ہوں۔م۔مجھے کیا ہونا ہے۔
وہ جو اپنے خیالوں میں گم تھی ماہیر کی آواز پہ چونک کر اسنے سر اٹھا کر دیکھا اور اسے اپنے جواب سے خاموش کروادیا۔
ہمم ٹھیک ہے تم کہہ رہی ہو تو مان لیتا ہوں۔ورنہ مجھے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمان وارڈ کا دروازہ کھول کر اندر آیا تو پری اسے کہیں دکھاٸی نہیں دی۔ہاتھ میں پکڑی دواٸیں اس نے بیڈ پر اچھالیں اور واشروم کی طرف بڑھ کر دروازے کا ناب گھمایا تو وہ کھلتا چلا گیا۔
واشروم ساٸیں ساٸیں کر رہا تھا۔
ہمان کا تو دماغ ہی گھوم گیا۔۔باہر نکل کر اس نے آس پاس کی سب جگہوں پر دیکھا پر پری کا کوٸی نام و نشان تک نہ تھا۔
ہر طرف دیکھنے کے بعد بھی جب کچھ حاصل نہ ہوا تو اس نے ہسپتال کی انتظامیہ سے رابطہ کر کے پورا ہسپتال چھان مارا۔ مگر پریشے اسے کہیں نہ ملی۔
وہ یہاں ہوتی تو ملتی۔وہ تو اسسے دور جا چکی تھی میلوں دور۔ ابھی ابھی وہ ہسپتال کی کینٹین چھان کر آ رہا تھا۔
وہاں سے بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
فکر اور غصے سے اس کا دماغ پھٹنے کو تھا۔لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ ہسپتال کی انتظامیہ کے پاس گیا۔
پیر کی ٹھوکر سے انتظامیہ آفس کا درواز دھاڑ سے کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔سارے آفیسر اس اچانک افتاد پہ گھبرا کر کھڑے ہوگۓ۔
ہو کیا رہا ہٕے یہاں۔ سر ہم پوری کوشش کر رہے ہیں آپ کی واٸف کو ڈھونڈنے کی۔ان میں سے ایک آفیسر مٸودب سے بولا۔
کوشش ماٸی فوٹ ڈیمیڈ۔یہاں بیٹھ کر کونسی کوشش کر رہے ہیں۔میں پوچھتا ہوں کس قسم کی انتظامیہ ہے یہ۔
کیسی سیکیورٹی ہے یہ۔اندھا قانون مچا رکھا ہے۔
دن دھاڑے ایک لڑکی ہسپتال سے غاٸب ہوجاتی ہے اور ہسپتال کی کیانتظامیہ ایک کمرے میں بند ہو کر راسے ڈھونڈنے کے ڈرامے رچا رہے ہیں۔
یہ تو ہماری قوم کا المیہ۔
سر پلیز آپ اس طرح سے یہاں کے عملے کے لیے نازیبا الفاظ یوز نہ کریں۔ ورنہ آپ کے خلاف قانونی چارہ جوٸی کی کی جاۓگی۔
میرے خلاف تو قانونی چارہ جوٸی کرے گا۔ارے تو کیا تیری اوقات کیا۔ہمان نے اسے جھپٹ کر گریبان سے سےپکڑ کر ربری طرح جھنجھوڑ ڈالا۔
ماہیر اور نین نے اسے پیچھے سے چھڑوانے کی کوشش کی۔
وہ دونوں فکر مندسے ابھی ہسپتال پہنچے تھے ہسپتال کا گرم ماحول ہمان کے شدید غصے کا پتہ دے رہا تھا۔وہ اسے ڈھنوڈتے انچارج آفس تک پہنچے تھے۔ ہمان نے ہی گھر گھرفون کر کے کےسب کو بتایا اتھا اور ماہیر اور اورنین کو ہسپتال بلوایا تھا۔
بہت آرام سے سےبات کرلی۔مجھے میری واٸف چاہیے زندہ سلامت۔ورنہ اس ہسپتال کو ومیں آگ لگادوں گا۔ایٹ اینی کوسٹ۔انڈرسٹینڈ دیٹ۔
بس کر رہمان چھوڑ انہیں۔مجھے تو ان سب کا کاہی ہاتھ ہے اس واردات میں۔ماہیر نے اسے پیچھے دھکیلا ورنی عین ممکن تھا کے وہ خون خرابہ اکر بیٹھتا۔
اگر ایسا ہوا نہ تو میں ایک ایک کو چن چن کر ایسی موت سے نوازوں گا کہ تمہاری سات پشتیں یاد رکھیں گی۔نین نے انگلی دیکھا کر سب کو وارن کیا۔
جاری ہ
