Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode15

Pari By Shanzey Rajpoot Episode15

جس کی آنکھوں میں شوق کا جہاں ہلکولے کھارہا تھا۔
نین اپنی پیٹ پوجا کر کے آچکا تھا
اور پری کے پاس بیٹھا اس سے گپے لڑا رہا تھا کہ
اس کا سیل رنگ ہونے لگا
وہ فون ریسیو کرتا باہر چلا گیا
ہیلو دوسری طرف ہنوز خاموشی چھاٸی رہی
نین نے پھر ہیلو کیا
ہیلو اب کے بار جو بھی تھا
شاید رو رہا تھا
نین اس کے رونے سے کافی گھبراگیا
پھر سے کہا
ہیلو عاشی کیا ہوا
یار کچھ بولو تو سہی
میرا دل بیٹھا جارہا ہے
نین کیا تم کچھ دیر کے لیے گھر آسکتے ہو
نین سوچ میں پڑ گیا
کہ آخر ایسی کون سی بات ہے
کہ عاشی مجھے ابھی گھر بلا کر بات کرنا چاہتی ہے
اور ساتھ رو بھی رہی ہے
کافی سوچ بچار کے بعد اس نے عاشی کو منع کر دیا
نہیں عاشی میں نہیں آسکتا
آج پری کو ڈسچارج مل جاۓ گا
میں اسے لے کر گھر آٶں گا
تو جو بھی بات ہے میرے آنے کے بعد کر لینا
پر میں ابھی نہیں آپاٶں گا
لیکن دوسری طرف بھی عاشی تھی
وہ بھی ضد پکڑ کے بیٹھی تھی
نین پلیز ایک بار آجاٶ پلیز اور
پری کو ہمان گھر لے آۓ گا
تھوڑی سی ہی دیر کی تو بات ہے
نین عاشی کو مایوس نہیں کرنا چاہتا تھا
اس لیے اس نے کہا
کہ میں دیکھتا ہوں کیا ہو سکتا ہوے
تم ٹینشن مت لو
نین اندر آیا ہمان یار وہ مجھے ایک ضروری کام ہے
تو تم پری کو گھر لے جاٶ گے
ہاں مجھے تو کوٸی ایشو نہیں
پر تم پری سے پوچھ لو
نین نے پری کی طرف دیکھا تو
پری نے ہاں میں گردن ہلا کے اسے گرین سگنل دیا
تھینکس بڈی اومممممماہ
نین نے اسے دور جاتے ہوۓ فلاٸینگ کس دی
تو پری کھلکھلا کے ہنس دی
شام تک پری کو ہاسپیٹل سے ڈسچارج مل گیا تھا
ہمان پری کو لے کر ہاسپیٹل کے کوریڈار میں لے کر کھڑا تھا
ایک نرس ہمان کی طرف آٸی
اور اس سے کچھ بات کرنے لگی
پھر وہ نرس جا چکی تو
ہمان پری کی طرف گھوما جو
اس کے برابر میں ہی کھڑی اس کی ساری کارواٸی دیکھ رہی تھی
پری تمہیں ایک انجیکشن لگنا باقی ہے
پر کیوں ہمان
تمہاری ریلکیسیشن کے لیے ضروری ہے
نہیں مجھے نہیں لگوانا
آپ ان سے کہہ دیں
مجھے نہیں لگوانا
پری نے ضدی لہجے میں کہا
پری پری ادھر دیکھو میری طرف
ہمان اسے اپنی طرف متوجہ کیا
جو روٹھ کر منہ موڑے کھڑی تھی
پری نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
پری انجیکشن لگوانا بہت ضروری ہے
لگوالو گڈ گرل ہو نا تم
ہمان نے ہلکے سے اس کا ہاتھ دبا کر چھوڑا
جیسے اس کو تسلی دی ہو
ٹھیک ہے
پری مان گٸی پر پھر اسے دیکھا
جو ہاتھ پکڑے اسے نرس کے پاس لےجانے کےلیے تیار تھا
وہ روکا پھر ایک آٸیبرو اچکا کر اسے دیکھا
ایکسپریشن ایسے تھے جیسے پوچھنا چاہتا ہو کہ کوٸی شرط ہے
میری ایک شرط ہے ۔
ہمان کا اندازہ درست تھا
اور وہ شرط کیا ہے
ہمان نے پوچھا
مجھے ایک دو تین چاکلیٹس چاہییں
پری نے اپنی انگلیوں پہ گن کر بتایا
ہمان کو پری پر بے انتہا پیار آیا
اس کی خواہشیں اس کی شرطیں اس کی خوشیاں بھی اس کی طرح معصوم سی کیوٹ کیوٹ سی تھیں
ٹھیک ہے مجھے تمہاری یہ شرط منظور ہے
اب چلیں
ہاں چلو
پری نے گردن اثبات میں ہلاٸی
ہمان اسے نرس کے پاس چھوڑ کر سامنے پارک میں لگے بینچ پر بیٹھ گیا
وہ جب سے آیا تھا
جب سے ایک سمت بیٹھا پری سے باتیں کر کے اس کا دھیان بٹاتا رہا تھا
ورنہ وہ ضرور گھر کے بارے میں اس سے پوچھتی
اور وہ اسے کیا جواب دیتا
اس لڑکی سے ہمان جھوٹ بھی نہیں بولنا چاہتا تھا
اس لیے اسے دوسری باتوں میں الجھاتا رہا
ویسے بھی وہ صبح عالی کو سمجھگا کر آیا تھا
کہ پری کو آج ڈسچارج مل جاۓ گا
تم کوشش کرو گھر میں سب نارمل ہو ں
ورنہ وہ ٹینس ہو جاۓ گی
ہمان اپنی ہی سوچوں میں غرق تھا
کہ اسے اپنی گرند اور کندھوں پہ کسی کا لمس محسوس ہوا
پری کو انجیکشن لگ چکا تھا
زیادہ درد بھی نہیں ہوا تھا
اس لیے وہ کافی ایزی فیل کر رہی تھی
وہ باہر آٸی تو
اسے ہمان کہیں نہیں دیکھا
وہ ایک دم پریشان ہو گٸی
نظریں ادھر اودھر دوڑا کر دیکھا
تو سامنے باغیچے میں بیٹھا شاید وہ ہمان ہی تھا
پری اس کی طرف بڑھ گٸی
وہ قریب آٸی تو یقین ہوا ہاں ہمان ہی ہے
وہ اس کے پیچھے بینچ کے پاس اس کے بے حد قریب کھڑی تھی
ہمان کی اس طرف پیٹھ تھی
اس لیے وہ اسے دیکھ نہ سکا
پری نے پیچھے سے اس کی گردن اور کندھوں کے گرد اپنی بانہوں کا حصار باندھ دیا
سر اس کے سر سے مس کیا
لمبے گھنے سلکی آبشار ہمان کے چہرے کو چھوتے کندھے پہ جھول گۓ
پری کے بالوں سے اٹھتی خوشبو ہمان کو مدہوش کر رہی تھی۔
________
اس پہ تضاد اس کی ہنسی کی جھنکار اس کے کانوں میں رس گھول گٸی
اس نے پری کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اور اسے محسوس کرنے لگا
لیکن اگلے ہی پل اس نے پری کے دونوں ہاتھ جھٹک دیے
اور اسے خود سے دور کیا
وہ بینچ سے اٹھ کر اس کی طرف مڑا تو چہرے پہ حد درجے سنجیدگی چھاٸی ہوٸی تھی
جبکہ پری کے چہرے پہ ہمیشہ کی طرح مسکراہٹ کا پہرا تھا
ہمان کو سنجیدہ دیکھ کر پری کے چہرے کی مسکراہٹ معدوم ہوگٸی
یہ کیا تھا پری
کیا کر رہی تھیں تم
تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے
ہمان کا لہجہ اتنا سخت تھا اور اوپر سے اس کا رویہ
پری کے نین جھلملا اٹھے
کنچی آنکھوں سے آنسو پھسل کر پری کے سرخ و سفید گال بھیگو گۓ
پری کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کے ہمان کے دل میں ایک ٹیس اٹھی
ابھی ہی تو یہ پیاری سی لڑکی آٸی سی یو سے آٸی تھی
ابھی تو ٹھیک سے اس کے زخم بھی نہیں بھرے تھے کہ
ہمان نے اسے اتنی بری طرح جھڑکا اس کا دل تو ویسے ہی ننھی چڑیا جیسا تھا
ہمان بھلا کیسے پری کو روتے دیکھتا
وہ تو اس کی دھڑکنوں میں بستی تھی
اس کے دل پر پورے حق سے براجمان تھی
ہمان اسے چپ کروانا چاہتا تھا
اسے بتانا چاہتا تھا کہ اس نے ٹھیک نہیں کیا
پر اس سے پہلے کہ ہمان پری سے کچھ کہتا
پری روتی ہوٸی وہاں سے بھاگ گٸی
ہمان بھوکلا گی
کہیں یہ لڑکی خود کو کچھ کر نہ بیٹھے
ویسے بھی وہ جذباتی اور حساس ہے
ہمان یہ سوچتے ہی اس کے پیچھے بھاگا
پری ۔۔۔ پری۔۔ میری بات سنو
پری میری بات تو سنو
ہمان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا
اور رخ اپنی طرف کیا
وہ دونوں پارکنگ ایریا کی طرف تھے
فالحال یہاں کوٸی ذی روح بھی نہ تھا
ہمان نے اس کا ہاتھ پکڑ کے کھینچا تو دھان پان سی پری سوں سوں کرتی اس کی طرف کھینچتی چلی گٸی
میری بات تو سنو پری
ادھر دیکھو میری طرف
ہمان نےانگلی سے پری کی تھوڑی اونچی کی
پری نے ہمان کا ہاتھ جھٹک دیا
ہمان اسے دیکھتا رہ گیا
کافی ضدی تھی یہ لڑکی
اور آگے جاکے کافی مشکلات کھڑی کرنے والی تھی
یہ ہمان کی زندگی میں
ہمان کو آگے جاکے خوب جھیلنا تھا
پیار کر تو لیا تھا
اب چنگے پھنسے ہمارے ہمان صاحب ۔
پری میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیں تھا
میں تو بس تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تمہار اس طرح میرے قریب ہونا ٹھیک نہیں
ہمان یہ کہتے ہوۓ کتنی مشکل میں تھا
یہ تو صرف وہی جانتا تھا
ورنہ اس میں پری کو خود سے دور کرنے کی ہمت تو بالکل بھی نہ تھی
ہمان نظریں چراگیا
آپ نے مجھے کیوں ڈانٹا
پری نے روتے ہوۓ سوں سوں کرتے ہوۓ کہا
آپ آرام سے بھی تو یہ بات بول سکتے تھے نا
اچھا بابا مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے
اب دوبارہ سے ایسا نہیں کروں گا پری کے ساتھ
ٹھیک ہے
نہیں پری
نروٹھے لہجے میں بولی
جاٸیں میں آپ سے بات نہیں کرتی
پری ایک با ر پھر چلنا شروع کر چکی تھی
اس سے پہلے کے وہ بنا سوچے سمجھے کہیں بھی جاتی ہمان تیر کی تیزی سے اس کی طرف لپکا
اور اس کی کلاٸی اپنی گرفت میں لے لی
پری نے اسے دیکھا
جو اب اس کا ہاتھ چھوڑے دونوں ہاتھوں سے اپنے کانوں کو پکڑے سوری کر رہا تھا
آٸی ایم سوری پری
ہمان نے اس کنچن سے سوری کہا
وہ شخص جو کسی کے آگے جھکنا پسند نہیں کرتا تھا
آج وہ جھکا تھا
اپنے پیار کے آگے
اپنی محبت کے آگے
اس وقت اگر گھر کا کوٸی فرد ہمان کو ااس طرح دیکھ لیتا
تو اسے ضرور چار سو چالیس والٹ کا کرنٹ لگتا
کیونکہ ہمان سوری کرنے والوں میں سے نہیں
بلکہ کروانے والوں میں سے تھا
وہ کسی کے آگے جھکتا نہیں تھا بلکہ لوگ اس کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجاتے تھے
پری نے اس عظیم شخص کو حیرت سے دیکھا
واقع وہ اپنی غلطی پر نادم تھا
اور پھر وہ پری کا دوست بھی تو تھا
پھر کیسے وہ ہمان کی سوری ایسیپٹ نہ کرتی
ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی
کہ ہمان کی آواز نے اسے دوبارہ اپنی طرف متوجہ کیا
پری یار میرے کان دکھ رہے ہیں
دیکھو اگر تم نے مجھے معاف نہ کیا نا
تو اس طرح کان پکڑے پکڑے تو میرے کان لمبے ہاتھی جتنے ہو جاٸیں گے
ہمان کی بات پہ پری زور سے ہنسی
اور ادھر کسی کو سکونِ قلب مل گیا
پری کی ہنسی ہمیشہ اسے پرسکون کردیتی تھی
آج بھی وہ کافی پرسکون محسوس کر رہا تھا
پری بہت دیر تک ہنستی رہی
پورا رستہ ہمان اسے عجیب و غریب قصے کہانیاں سناتا رہا
اور ہماری پری کی ہنسی بند ہی نہ ہوٸی
_________
“پری کے گھر آتے ہی ممتا بیگم نے کینیڈا واپس جانے کی رٹ لگا رکھی تھی”۔۔۔
” جبکہ فواد صاحب انہیں کب سے ایک ہی بات سمجھا رہے تھےکہ ابھی ایک آدھ دن رک جاتے ہیں”۔۔۔
” مگر ممتا بیگم کسی صورت ماننے کو تیار نہ تھیں “۔
“آخر ابھی جانے میں کیا قباہت ہے افی صاحب “۔
“ممتا بیگم آپ کیوں نہیں سمجھتیں گھر کے سب ہی لوگوں نے ان حالات میں کتنا سپورٹ کیا ہے ہمیں”۔۔
” اور اگر ہم اس طرح سے ایسے منہ اٹھا کر چلے جاٸیں گے تو کتنا برالگے گا سب کو “۔۔
“خاص کر ہمان کو وہ بچا تو ویسے بھی بہت کم یہاں ملتا ہے
“جب بھی ہم آتے ہیں وہ کہاں ہوتا ہے اب اگر وہ ہے تو اس کے ساتھ بھی تھوڑا وقت گزار لیتے ہیں “۔
“افی صاحب ایک بات میری بھی آپ سن لیں آج جو عاشی کی وجہ سے پری کی حالت ہوٸی ہے”
” اسے تو میں مرتے دم تک نہیں بھولوں گی اور رہی بات یہاں رہنے کی تو میں کل صبح کی فلاٸٹ سے پری کو یہاں سے لے کر جارہی ہوں “
“آج اس نے میری بچی پر اتنا گھٹیا الزام لگایا ہے “۔
کل کو کیا بھروسہ اس کا وہ پری کو کچھ گھول کر پلادے”
” میں تو اس پر رتی بھر بھی بھروسہ نہیں کرتی”۔
” ممتا بیگم یہ بول کر وہاں رکی نہیں اور افی صاحب وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گۓ”۔
” وہ آج ایک بار پھر عاشی اور پری کے مسٸلے کی وجہ سے پھنس گۓ تھے”۔
” ایک طرف انجی تھیں تو دوسری طرف ممتا بیگم وہ کس کی مانتے اور کس کی نہ مانتے”۔
” مما آپ کیا کر رہی ہیں کچھ بتاٸیں تو صحیح”۔
” مما میں آپ سے پوچھ رہی ہوں آپ یہ کیا کر رہی ہیں”۔
” میرے کپڑے کیوں پیک کر رہی ہیں “
“ہم, ہم کہیں جا رہے ہیں”۔
” ممتا بیگم افی صاحب سے بات کر کے سیدھے پری کے کمرے میں آٸیں”۔۔
” پری کے کپڑے پیک کرنے لگیں وہ الماری سے پری کی ایک ایک چیز اٹھا کر سوٹ کیس میں رکھتی جارہی تھیں “۔۔
جب پری نے ممتا بیگم کے ہاتھ سے ہینگ کپڑے لے کر بیڈ پر رکھے اور پھر سے پوچھا “۔
“مما ہم کہاں جا رہے ہیں ممتا بیگم بھی چپ رہ کر تھک گٸیں تھیں”
” آخر کب تک چپ رہتیں پری کو بتانا تو تھا ہی”۔۔
“ممتا بیگم نے ایک بار پھر پیکنگ شروع کردی ہاں ہم جارہے ہیں “۔
“پر ہم جا کہاں رہے ہیں مما “۔
“کینیڈا “۔
“یک لفظی جواب دے کر وہ زِپ بند کرنے لگیں”۔
” اتنی جلدی کیوں جا رہے ہیں مما “۔
“ابھی تو سارہ کی شادی ہوٸی ہے”۔۔
” پری کے سوالوں کا ممتا بیگم کے پاس کوٸی جواب نہیں تھا”۔۔۔
” وہ کیا کہتیں کہ وہ کیوں جارہی ہیں
“مما آپ بول کیوں نہیں رہیں”
” پری کتنے سوال کرتی ہو “
“کس کس کا جواب دوں میں “۔۔
“کوٸی ایک سوال ہو تو نا”۔۔
” اب ایک اور سوال نہیں سمجھیں”۔۔۔
” ہم کینیڈا واپس جارہے ہیں”۔۔
” بس جارہے ہیں”۔۔
” ممتا بیگم گرجتی برستی پری پر حکم صادر کر کے چلی گٸیں”
” پیچھے پری کو الجھن میں چھوڑ گٸیں”۔
پری کی جھلملاتی آنکھیں اس رستے کو دیکھنے لگیں جہا ممتا بیگم تھوڑی دیر پہلے کھڑی تھیں”
” آنسو آنکھوں سے نکل کر گالوں پر بہہ گۓ”۔
” سر درد سے پھٹنے کو تھا”۔
” وہ سر پکڑے پیشانی مسلنے لگی”۔
نا جانے یہ آنسو پاکستان چھوڑ کر جانے کے تھے یا ہمان کی جداٸی کے “
“وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر تھی “۔۔
” سوں سوں کرتی وہ کمرے سے باہر کوریڈور کی ونڈو میں آ کھڑی ہو ٸی “۔
“ہمان جو اپنی ہی دھن میں کمرے سےنکل رہا تھا
” سرسری سی نظر اپنے ارد گرد ڈالتا آگے بڑھنے لگا “۔
“جب اسنے ونڈو کے پاس پری کو دیکھا”۔
” اس کے لب ہلکے سے مسکراۓ قدم خود بہ خود اس جانب چل دیے”۔۔
” پری
“ہمان نے اسے ہولے سے پکارا “۔۔
“ہمان کی آواز پر پری مڑی”۔۔
” ہمان اس کی سرخ آنکھیں بھیگی پلکیں دیکھ کر پریشان ہو گیا “
“ماتھے پر شکنیں ابھر آٸیں”۔۔
” کیا ہوا ہے پری “۔۔
“تم روٸی ہو “۔۔
“پری نظریں چرا گٸی”۔۔
” میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں”۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *