Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode48

Pari By Shanzey Rajpoot Episode48

یہ دنیا اس جیسے معصوموں کے لیے نہیں ہے عالی۔ وہ معصوم تو یہ تک نہیں جانتی دنیا کہتے کیسے ہیں۔یہاں طرح طرح کے لوگ اپنے شکار کی گھات لگاۓ بیٹھے ہیں۔حوس کے پجاریوں سے یہ دنیا بھری پڑی ہے۔
کوٸی بعید نہیں کہ جس شخص کے پاس وہ ہے۔
وہ صاف و شفاف نیت کا حامل ہو۔بس یہیں آکے میری تمام سوچیں ختم ہوجاتی ہیں۔
اس سے آگے سوچ کر میری روح کانپ اٹھتی ہے۔وہ بول رہا تھا مگر زبان لڑکھڑا رہی تھی۔لب و لہجہ نم تھا۔آواز میں واضح لرزش محسوس کی جاسکتی تھی۔
عالی نے اپنی آنکھوں کے نم گوشوں کے دو انگلیوں کی مدد سے صاف کیا اور کاندھے سے پھسلتا دوپٹہ صحیح سے شانو پر پھیلایا۔ہم سب دعا گو ہیں پری کے لیے۔اللہ اپنے نیک بندوں کے ساتھ کبھی کچھ غلط نہیں کرتا اور بدکار لوگوں کو کبھی بخشتا نہیں۔
یہ دنیا کی ریت ہے جیسا کرتے ہم ویسی ہی پھر بھرتے بھی ہیں۔
نہ ہم نے برا کیا ہے نہ ہم برا پاٸیں گے ہمان۔
اللہ بہت بڑا ہے۔
ہمان نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔بہت بڑی ہوگٸی ہو ہاں۔عالی کو لگا شاید وہ مسکرایا تھا۔ہاں کیا کروں جب بڑے بچوں کی طرح ہمت ہار بیٹھیں تو چھوٹوں کو ہی بی اماں بننا پڑتا ہے۔وہ مسکراکر بولی۔
اچھاااااااااا۔اس نے اچھا کو زرا کھینچ کر کہا۔جاٶ ایک کپ کافی بنا کر لاٶ،سر درد سے پھٹنے لگا ہے۔بس پانچ منٹ دو ابھی لاٸی کافی۔عالی کے جاتے ہی وہ پھر سے آنکھیں موند گیا۔آنکھوں کے سیاہ پردے پہ چھن سے کسی کا چہرہ آ کر غاٸب ہوا۔
ہمان نے آنکھیں کھول دیں۔عالی بھی کافی بنا لاٸی۔یہ لو تمھاری کافی۔عالی نے کپ اس کے ہاتھ میں تھمایا۔انجی کیسی ہیں۔
انجی تو ویسی ہی ہیں۔بس پورا دن کمرے میں بند رہتی ہیں نہ کچھ کھاتی ہیں نہ پیتی ہیں اور ممتا چاچی۔
ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔بخار ہے بہت تیز۔بی پی تو نارمل ہے۔جب بھی تھوڑا بہت ہوش آتا ہے پری کو یاد کرکے روے لگتی ہیں۔رات بہت مشکل سےمیں نے اور زویانے سنبھالا انہیں۔
ہمممم۔ہمان ٹھنڈی آہ بھر کرہ گیا۔سر میں درد زیادہ ہے تو ٹیبلیٹ دے دوں۔وہ ہمان کو سر پکڑے دیکھ کر بولی۔کل سے وہ پری کے لیے گھم چکر بنا ہوا تھا۔اسے تو خود اپنے کھانے پینے کی ہوش نہ تھی۔
ہاں لا دو کسی طور تو کم ہو یہ سر درد۔میں لاتی ہوں۔تھوڑی دیر بعد وہ ٹیبلیٹ بھی لے آٸی۔ یہ لو ٹیبلیٹ اور پانی۔آرام ملے گا تھوڑا۔ہمان نے دوا لے کر پانی کا خالی گلاس عالی کو تھمایا۔وہ جو گلاس لے کر سرعت سے پلٹنے لگی تھی،ٹیبل پر رکھے گولڈپینڈینٹ نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچی اور وہ فوراً سے ہمان کی طرف پلٹی۔
یہ۔یہ۔پینڈینٹ۔عالی نے انگلی کے اشارے سے کہا۔ہاں یہ پینڈینٹ مجھے ہسپتال سے ہی ملا ہے۔
میں گیا تھا وہاں۔مجھے لگا ہوسکتا ہے کوٸی ثبوت مل جاۓ اس کے خلاف۔ثبوت تو نہیں ملا پر پری کا یہ پینڈینٹ مجھے وہاں پڑا ہوا ملا۔پتہ ہے عالی۔اسے دیکھ کر مجھے پری کی شدت سے یاد آرہی ہے۔یہ انجی نے پری کو تحفے میں اس دن دیا تھا جس دن میرا اور پری کا نکاح ہوا تھا۔
وہ کھوۓ کھوۓ سے لہجے میں بولا۔آواز میں تھکاوٹ سی تھی۔جبکہ عالی نے خاصی الجھن بھری نظروں سے اسے دیکھا اورفوراً اس کی بات کاٹی۔
ایک منٹ ایک منٹ ہمان!!!
یہ۔یہ۔لاکٹ یہ پری کا کیسے ہو سکتا ہے،یہ تو عاشی کا ہے اور یہ تمہیں وہاں کہاں سے ملا۔اب کےالجھنے کی باری ہمان کی تھی۔کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں ۔
یہ لاکٹ عاشی کا کیسے یہ تو پری کا ہے۔نکاح والے دن انجی خود میرے پاس آٸی تھیں یہ پینڈینٹ دکھانے کے لیے۔
ہمان نے گویا عالی کو جتایا۔نہیں ہمان یہ عاشی کا ہے۔ہاں انجی نے اسے پری کےلیے بنوایا ضرور تھا اسے نکاح کے دن تحفہ میں دینے کےلیے۔ مگر جب یہ بات عاشی کو پتا چلی تو اس کا منہ بن گیا تھا اور اس نے شرط رکھی تھی کہ اگر انجی اسے یہ پینڈینٹ دے دیتی ہیں تو ہی وہ شادی کے سارے فنکشن اٹینڈ کرے گی۔ ورنہ نہیں۔
اسی لیے انجی نے یہ پینڈینٹ عاشی کو دے دیا۔
ہمان تو مانو سناٹو کی زد میں آ گیا۔مزید ایک بھی لمحہ ضاٸع کیے بنا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا عاشی کے کمرے کے دروازہ دھاڑ سے کھول کر اندر آیا۔عاشی جو سکون سے بیڈ کراٶن سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی۔اس اچانک افتاد پہ بوکھلا کر بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوٸی۔
تمہارہ پینڈینٹ کدھر ہے۔ہمان کی آواز کسی بھی تاثر سے پاک تھی۔ ک۔ک۔کون۔س۔سا پ۔پینڈینٹ۔آواز حلق سے نکلنے کو تیار نہ تھی۔الفاظ جیسے ساتھ چھوڑ گۓ تھے۔اسے ہمان کے انداز و اطوار کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔
وہی پینڈینٹ جو تم نے ماہیر کی شادی کے تمام فنکشن میں شرکت کرنے کی شرط پہ انجی سے مانگا تھا۔
نہایت ہی سرد انداز میں بولتے ہوۓ وہ دو قدم آگے آیا۔ابھی بھی یاد نہیں آرہا ۔چلو تمہاری مشکل آسان کردیتا ہوں۔وہی پینڈنٹ جو انجی نے پری کے لیے بنوایا تھا۔
وہی پینڈینٹ جو انجی پری کو نکاح کے تحفے کے طور پر دینا چاہتی ہیں۔وہ ایک ایک لفظ چباتا اس کے نزدیک آیا اور نہایت سرد مہری سے کہتا وہ اس کے چہرے کی ہواٸیاں پل میں اڑا گیا۔
وہ۔ وہ تو میرے گلے میں ہے عاشی نے اپنی گردن پہ ہاتھ پھیرا جو سونی پڑی تھی۔پھر ایک نظر ہمان کو۔وہ ہ م۔م۔میرے کبڈ میں رکھا ہے س۔سمبھال ک۔کر۔
جاٶ لا کر دو م۔م۔مجھے۔ہمان نےحکم صادر کیا۔پر ہمااان۔عاشی نے کچھ کہنا چاہا پر۔ پر بے سود۔کہا نہ لا کر دو مجھے۔
ہمان اتنی زور سے دھاڑا تھا کہ وہ اچھل پڑی تھی۔اسے اپنی جگ سے ہلتا نہ دیکھ اس کا شک یقین میں بدلنے لگا تھا۔
تم کیا ڈھونڈو گی۔میں ڈھونڈتا ہوں۔
ہمان نے اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے دھکیلا۔اور خود الماری کے دونوں پٹ کھول کر لمحوں میں وہ اس کبڈ کی تمام اشیإ کپڑے چپلیں جیولری پرفیومز دیگر چیزیں سب باہر پھینک چکا تھا۔
الماری سمیت پورے کمرے کی حالت وہ ابتر کر چکا تھا۔عاشی ہونق بنی سفید پڑتے چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔
تو بس بچت کے دن یہیں تک تھے۔اب زوال شروع ہے۔
نہیں ہے تمہارا پینڈینٹ ادھر۔یو بلڈی۔۔ہمان کچھ سخت کہتے کہتے رک گیا۔کہاں ہے تمہارا پینڈنٹ، بتاٶ جلدی مجھے ورنہ آج میں تمہیں کسی طور نہیں بخشوں گا۔ہمان کا دل تو کر رہا تھا اس کا گلا ہی دبادے۔
عاشی رونے لگی تھی۔م۔م۔مجھے ن۔نہیں پتا۔م۔م۔مجھے س۔سچ۔م۔میں ۔نہیں پتا۔وہ روتے ہوۓ سسک اٹھی تھی۔
تمہیں نہیں پتا ۔ہاں تمہیں نہیں پتا۔پر مجھے پتا ہے۔وہ آج شدید غصے میں تھا۔
یہ رہا،یہ رہا تمہارا پینڈنٹ۔ یو بلڈی وچ۔
ہمان نے جیب سے نکال کر پینڈنٹ اس کے آنکھوں کے سامنے لہرایا اور وہیں عاشی کی آنکھیں چار ہوگٸیں۔
جواباً ہمان زور سے دھاڑا تھا۔اور عاشی کے رونے میں مزید روانی آ گٸی۔ہمان کی دھاڑ اور عاشی کی رونے کی آواز پر سب لوگ وہاں آ گۓ۔ماہیر،زویا،عالی،انجی،زین،نین،رافع،افی میسم ابرار اور ہادیہ بیگم سب خاموش تماشاٸی بنے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔وہ سب کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھے۔
پتا ہے کہاں سے ملا ہے مجھے یہ۔عالی سب جانتی تھی۔تھوڑی دیر پہلے تو ہمان نے اسے بتایا تھا۔پر وہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ ہمان اتنا ری ایکٹ کیوں کر رہا ہے۔
یہ مجھےہاسپیٹل سے ملا ہے۔ہمان کچھ دیر کے لیے خاموش ہوا اور عین اسی وقت عالی بول اٹھی۔
ہمان وہ۔وہ۔د۔د دراصل ہاسپیٹل سے واپسی پر جب ہم پارکنگ کی طرف جارہے تھے تو عاشی کو یاد آیا کہ وہ اپنا موباٸیل وہیں روم میں بھول آٸی ہے۔
بس وہی لینے وہ واپس گٸی تھی۔ہوسکتا ہے اسی وقت گِرا ہو یہ پینڈنٹ وہاں۔
کمال ہے گٸیں تم روم میں تھیں،جبکہ پینڈنٹ مجھے جاۓ وقوع (وہ جگہ جہاں واردات ہوٸی ہو)پر ملا ہے۔ہمان نے عالی کو سخت گھوری سے نوازہ اور نہایت ہی طنزیہ انداز میں عاشی کو داد دی۔
کیا مطلب ہے تمہارے کہنے کا۔آخر تم کہنا کیا چاہتے ہو۔زین نے آگے بڑھ کر غصے سے ہمان سے پوچھا۔کیسے اپنی بہن پہ وہ الزم تراشی برداشت کرتا۔پھر چاہے وہ ڈھکے چھپے لفظوں میں ہی کیوں نہ کی گٸ ہو۔
یہی کہ پری کے غاٸب ہونے کے بارے میں اسےضرور کچھ معلوم ہوگا۔ہمان کو عاشی پر شک ضرور تھا۔پر اسے عاشی کے خلاف کوٸی ٹھوس ثبوت نہیں ملا تھا۔اسی لیے اس نے مناسب الفاظ کا استعمال کرتے کسی طرح بات کو دوسرا رخ دے دیا۔سچ تو یہ تھا کہ اس کا خود کا دل یہ ماننے کو تیار نہ تھا کہ پری کے اس طرح غاٸب ہونے کے پیچھے عاشی کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔
اگر اسے کچھ معلوم ہوتا تو یہ ضرور بتاتی۔ ایسے چپ نہ بیٹھی رہتی اور تمہارے دماغ میں جو بھی چل رہا ہے نا۔مجھے سب معلوم ہے۔ بہتر ہے اپنی سوچ کے گھوڑوں کو لگام دو۔ورنہ میں بھی سارے لحاظ بالاۓ طاق رکھ کر نبٹوں گا۔تم نے تو یہاں گھر کا بھیدی لنکا ڈھاۓ والا کام سمجھ رکھا ہے۔
زین ہمان کی شکی فطرت سے اچھی طرح واقف تھا،اسی لیے وہ ہمان کو پہلے ہی خبردار کر گیا۔تم کس طریقے سے بات کر رہے ہو اس سے۔ اسنے عاشی کا بازو تھام کر آگے کیا۔
تمہیں تو بات تک کرنے کی تمیز نہیں ہے کہ کسی سے کیسے بات کرنی چاہیے۔
تم سمجھتے کیا ہو خود کو۔تمہارا جو جی میں آۓ گا کرو گے۔اس کے کمرے میں دن دھاڑے دھڑلے سے گھس کر جو مرضی الزام لگادو۔یہی عزت رہ گٸی ہے اب ہماری۔
میں بھی اگر اس طرح تمھاری بہن کو اپنے ہی گھر میں کھڑے ہوکر جی بھر بےعزت کروں اس سے اونچی آواز میں بات کروں یا اس پر بے بنیاد الزام لگاٶں تو کیسا لگے گا تمہیں۔
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ۔میں یہاں تمہاری بکواس سننے نہیں کھڑا۔پہلے تو تم دو اپنی زبان کو لگام، پھر بعد میں میرے بارے میں تبصرے کرنا اور تمیز کی تو تم بات ہی چھوڑ دو جتنی تم میں ہے دیکھ لیا میں نے آج۔ہاں ایک بات اور یہ سارہ کو بیچ میں لانا چھوڑ دو زین،
ورنہ میں تمھارے ساتھ وہ کروں گا کہ دنیا دیکھے گی۔اپنے بچوں کو اس طرح آپس میں لڑتےدیکھ انجی منہ پہ ہاتھ رکھے بے یقینی سے دو قدم پیچھے ہوٸیں۔زویا نے انہیں کاندھوں سے تھام کر تسلی دی۔
تمھاری بہن کا میری بہن سے کیا مقابلہ۔ یہ تو میری بہن کے پیروں کی دھول برابر نہیں۔کجا کے اس کی برابری سارہ سے کرے۔شی ڈیزرو اٹ۔وہ دھاڑا تھا،اتنی زور سے کہ عاشی کی ریڑھ کی ہڈی تک سنسنا گٸی۔
ویسے بھی میری بہن تیری بہن کی طرح حاسد اور بخیل خور نہیں۔وہ رشتوں میں گھلی ،مٹھاس سے لبریز ،زندہ دل اور دوسروں کی خوشی میں خوش رہنے والی لڑکی ہے۔
ہمان نے ناگواری سے عاشی کو دیکھتے پتھر برساتے لہجے میں ایک ایک لفظ پر زور دے کر زین کو گویا اچھے برے میں تفریق کرواٸی۔
بے شک ہمان اس بحث و تکرار کے حق میں نہ تھا۔پر زین نے سارہ کو معاملے میں خوامخوہ گھسیٹ کر اپنی جو بھڑاس نکالی تھی۔ہمان شدید برہم ہوا تھا۔عاشی کی مغرورانہ طبیعت سے سب ہی واقف تھے۔پر سارہ وہ تو بالکل شفاف تھی،پانی کی طرح۔زین نے عاشی کو ڈیفینڈ کرتے وقت ایک بار بھی اس کے بارے میں نہ سوچا۔
اسی بات پہ ہمان کا دماغ کھول اٹھا تھا۔اسے تو سات پردو میں چھپا کے رکھ۔قصور وار اگر یہ ہوگی، تو میں اسے پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالوں گا۔لیکن ایک بات میری مت بھولنا۔گر جو پری کی کیڈنیپینگ میں اس کا ہاتھ ہوا،
ہمان کے جبڑے بھینچ گۓ تھے۔ آنکھیں لہو رنگ ہورہی تھیں۔تو میں اسے کی قبر کھود ڈالوں گا۔اس کی ایک ایک بوٹی اگر کتے کو نہ چکھاٸی تو میں بھی اپنی ماں کی اولاد نہیں۔سرد مہری سے کہتے وہ ایک جھٹکے سے پلٹتا کرسی کو ٹھوکر مار کر کسی آندھی طوفان کی طرح کمرے کی دہلیز پار کر گیا۔
ہمان کے قدم وہیں منجند ہوگۓ۔سارہ کا پورا چہرہ آنسوٶں سے تر تھا۔کتنی خوش تھی وہ۔ جب حماد نے اسے پری کے ڈسچارج ہونے کی خبر دی تھی۔ پر حماد نے اسے ناجانے کیوں پری سے ملنے نادیا۔
حماد صبح سے کسی کیس میں الجھا ہوا تھا۔موقع غنیمت جان کر وہ گھر سے ملک ہاٶس کے لیے نکل پڑی۔پر یہاں تو صورتِحال دیکھ کر ہی وہ سن پڑ گٸی اب اسے سب سمجھ آ یا تھا کیوں حماد اسے یہاں آنے سے روک رہا تھا۔
ہمان نے بنا کچھ کہے اسے اپنے ساتھ لگایا۔سارہ کا سکتا ٹوٹا اور وہ بے اختیار اس کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رودی۔
گھر کے سب لوگ بکھر سے گۓ تھے۔ایسے میں ایک عالی تھی جو کافی مضبوط اعصاب کی مالک تھی۔وہ آگے بڑھی اور سارہ کو خود سے لگایا۔پھر ماہیر نے بھی اسے خود سے لگا کر تسلی دی۔
میسم کا تو مارے شرمندگی کے حال برا تھا۔
ابرار صاحب اپنی نم آنکھوں کو صاف کرتے کمرے کی طرف چل دیے۔
ناجانےگھر میں کیسی بد شگونی سی پھیل چکی تھی۔بہت برےہیں آپ لوگ۔میں کبھی بات نہیں کروں گی آپ لوگوں سے۔آپ لوگوں نے پل میں پرایا کر دیا مجھے۔ بتانا تک گوارہ نا کیا۔
عالی اسے اپنے ساتھ لگاۓ اپنے کمرے میں لے آٸی۔سارہ اس کے ساتھ چلتی بڑبڑاتی جارہی تھی۔زین نے ایک غصیلی نگاہ اس پہ ڈالی اور روتی بلکتی عاشی کو لیے اپنے ساتھ کمرے میں لے گیا۔وہیں نین کھڑا ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔
ان سب کی بہنیں صحیح سلامت ہیں۔پر کوٸی مجھ سے پوچھے۔قرب سے نین نے آنکھیں بند کرلیں۔افی صاحب نے اس کے کاندھے پہ ہاتھ رکھا تو وہ سرعت سے پلٹا اور زور سے افی کو جپھی ڈال کر ہچکیوں سے رودیا۔
پاپا ان سب کے پاس ان کی بہنیں ہیں ۔مجھے بھی میری بہن لا کر دیں۔ مجھے میری پری لاکر دیں پاپا۔مجھ سے برداشت نہیں ہوتا اب۔میرا بڈی چلا گیا پاپا۔میرا شہزادہ میرا بڈی میرا بچہ چلا گیا پاپا۔
اس کی عزت کی حفاظت کی دعا کرو نین دعا کرو اللہ اس کی آبرو سلامت رکھے۔میرے بچے۔افی نے اس کی پیٹھ تھپکی اور اسے تسلی دی۔سواۓ دلاسے اور تسلیوں کے کچھ بچا بھی کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمان ہر چیز کو ٹھوکر کی نظر کرتاباہر چلا گیا۔ایک دم سب ملیامیٹ ہوگیا۔رات نے چاروں جانب اپنے پر پھیلادیے۔زویا انجی کو کمرے میں آرام کرے کی غرض سے چھوڑ کر کچن کی طرف آ گٸی۔
دفعتا ڈور بیل۔بجی تو وہ کام چھوڑتی دروازے کی طرف بڑھ گٸی۔
جی کہیے کس سے ملنا ہے آپکو۔
زویا نے کالے دھبوں میں ملبوس اس جوان سے لڑکے کو دیکھ کر پوچھا۔میم میں یہ پاس ہی کالونی کے گیراج سے آیا ہوں۔یہ ماہیر صاحب کا ہی گھر ہے؟
جی یہ ان کا ہی گھر ہے۔میم یہ لیجیے ماہیر صاحب کی کار کی چابی ۔ان کی کار میں کچھ مسٸلہ تھا اسی لیے وہ اسے گیراج چھوڑ گۓ تھے۔
آپ چل کر دیکھ لیں ایک دفع۔تسلی کرلیں ںسب کچھ ٹھیک ہے۔
زویا نے اس سے چابی لے لی۔اچھا چلو۔وہ اس کے پیچھے ہی باہر پورچ میں آ گٸی اور کار کو دیکھ کر اچھے سے تسلی کر کے اس نے لڑکے کو واپس بھیجا۔ابھی وہ گاڑی لاک کرنے ہی لگی تھی کہ ہمان سامنے سے آتا دیکھاٸی دیا۔
آپ کہیں جارہی ہیں زویا بھابھی۔لہجہ صبح کے مقالے میں نرم تھا۔نہیں وہ گیراج سے لڑکا آیا تھا،ماہیر کی گاڑی لے کر بس وہی چیک کر رہی تھی۔لاٸیں چابی دیں میں چیک کرتا ہوں۔
ہمان زویا سے چابی لیتا ڈراٸیونگ سیٹ پر آ بیٹھا۔جب بھی گاڑی چیک کرنی ہو تو سب سے پہلے چلاکر دیکھنا چاہیے کہ سٹارٹ ہونے میں پروبلم تو نہیں کر رہی۔
ہمان اسے سمجھا رہا تھا۔ایکسلیریٹر پہ پاٶں رکھتے ہی اس کی نظر گاڑی میں نیچے بچھے سیاہ کارپیٹ پر پڑی۔جہاں تھوڑی دیر پہلے اس نے پاٶں رکھا تھا۔
وہاںں روشنی سی پھوٹ رہی تھی۔ہمان نے جھک کر سیاہ کارپٹ اٹھایا تو نیچے آٸی فون پڑا تھا۔جھک کر اس نے اٹھایا اور سرعت سے دروازہ کھول کر باہر آیا۔
کیا ہوا۔زویا نے پوچھا۔کچھ نہیں یہ موباٸیل ملا ہے ماہیر کی گاڑی سے۔ہمان نے الٹا سیدھا کر کے دیکھا۔ یہ موباٸیل زرا دکھاٶ تو۔ایک سیکنڈ زویا بھابھی موباٸیل کی کنڈیشن کچھ کہہ رہی ہے۔جس طرح سے یہ وہاں گاڑی کے اس حصے میں پڑا تھا۔صاف ظاہر ہے کسی نے جان بوجھ کر چھپایا ہے۔
یہ تو وہی گاڑی ہے نہ زویا بھابھی جس میں آپ لوگ اس دن ہسپتال آۓ تھے۔ہاں وہی گاڑی ہے۔زویا نے سوچ کر کہا اس کا دھیان تو موباٸیل پر تھا۔
پتا نہیں کیوں یہ بھی مجھے پری کی کیڈنیپینگ سے کنیکٹ لگ رہا ہے۔ہمان موباٸیل دکھاٶ زرا۔زویا نے موباٸیل مانگا تو ہماننے اسے تھما دیا۔
چونکہ ہمان اس سے تھوڑا فاصلے پہ کھڑا تا اور رات کی وجہ سے اندھیرا بھی تھا،اسی لیے وہ ٹھیک سے دیکھ نہیں پارہی تھی۔ہمان نے اپنے موباٸیل کی ٹارچ آن کرکے اس کی مشکل آسان کی۔روشنی کے ساتھ ہی زویا کی آنکھوں میں تجسس کی جگہ تحیر نے لے لی۔
ہمان زویا کے تاثر جانچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ہ۔ہ۔ہممااان
یہ یہ تو عاشی کا موباٸیل ہے۔ہمان یہ وہی موباٸیل ہے جس کی خاطر عاشی واپس پری کے روم میں گٸی تھی۔
پر۔ہمان جو حیرانی سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔پر پہ اچھنبے سے اسے دیکھا۔
پر۔پر کیا زویا بھابھی ہمان نے بیتابی سے پوچھا۔پر ہمان جب وہ واپس آٸی تو اس کے ہاتھ میں موباٸیل نہیں تھا اور وہ کافی پریشان اور خوف زدہ سی تھی۔اس لیے ماہیر جی اور عالی نے تو دھیان نہیں دیا۔مگر میں اس دن سے اسی بات پہ الجھی ہوٸی تھی۔عاشی سے بات نہیں کرپاٸی ویسے بھی یہ اس کا ذاتی معاملہ تھا۔
نہیں زویا بھابھی یہ تب اس کا زاتی معاملہ تھا،پر اب نہیں نہیں بلکہ اب یہ میرا آپ کا اور ہم سب کا معاملہ ہے۔
ہمان نے عاشی کا موباٸیل لے کر اپنی جیب میں ڈالا۔
ہمیں گھر میں سب سے بات کرنی چاہیے ہمان۔نہیں
گھر میں بات کرنا بےکار ہے۔
اب تو بس ایک ہی دفعہ گھر میں طوفان آۓ گا۔ایک ایسا طوفان جو عاشی کی پوری زندگی تہس نہس کردے گا۔ہمان کی باتیں زویا کے سر پر سے گزر رہی تھیں۔
سرا تو اس کے ہاتھ لگ چکا تھا۔ اب بس گتھی سلجھانا باقی تھا۔ہمان جس قدموں واپس آیا تھا اسی قدموں واپس چلا گیا۔اسے بس کیسے بھی کر کے پری تک پہنچنا تھا۔
وہ سیدھا یونٹ آیا تھا جہاں حماد بری طرح کسی کیس میں کیپٹن عزیز کے ساتھ الجھا ہوا تھا۔
حماد وہ جو پوری طرح فاٸل میں سر دیے بیٹھا تھا۔سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ہمان کیسا ہے اور پری کا کچھ پتا چلاوہ فاٸل وہی پٹخ کر اس کی طرف آیا۔نہیں ۔
نہایت ہی مایوسی سے کہا ۔مجھے تجھ سے کچھ کام تھا۔یہ دیکھ یہ عاشی کا موباٸیل مجھے ماہیر کی گاڑی سے ملا اور پھر ہمان اسے من و عن سب بتاتا چلا گیا۔حماد تو سر تھام کہ رہ گیا۔
چل الحاد کے پاس چلتے ہیں،اس موباٸیل کا سارہ ڈیٹا وہی نکالے گا۔اسے یہ کام آتا ہے۔۔حماد چلتے چلتے اسے بول رہا تھا۔وہ تو میں بھی نکال سکتا ہوں یا۔ہمان نے چڑ کر کہا۔
ہمیں اس موباٸیل کی ساری کالز کا ڈیٹا چاہیے جو ہمیں صرف اور صرف اریج نکال کر دے سکتی ہے۔
ہاں کیوں کہ وہ آٸی ٹی ماسٹر ہے۔حماد کہ کہنے وہ لوگ کیپٹین عزیز کے کیبن سے باہر آ گۓ۔زرا پتا کر یہ اریج ہے کہاں۔اوشٹٹٹٹ۔یاااار۔
حماد نے رک کر وہیں ستون کے ساتھ ٹیگ لگا کر ہاتھ ماتھے پہ مارا۔کیا ہوا۔اریج تھوڑی دیر پہلے ہی پنڈی کے لیے نکلی ہے اور کوٸی بعید نہیں کہ وہ اٸیر پورٹ پہنچ چکی ہو۔
واٹ دا ہیل از دس یارو
۔ہمان نے اپنے ہاتھ کامکہ بنا کر زور سے دیوار پر مارا۔
ہم اٸیر پورٹ چلتے ہیں تو اسے فون ملا کر دیکھتا رہ۔ہو سکتا ہے اٹھا لے۔ہمان نے اپنی جیپ میں بیٹھتے ہوۓ حماد کو کہا۔مسلسل کال کرنے پر بھی کوٸی جواب نہیں ملا۔اگلی طرف کسی نے کال نہ اٹھانے کی قسم کھا رکھی تھی۔
یمان کی گاڑی ہواٶں سے باتیں کرتی اٸیر پورٹ تک پہنچی تھی۔
وہ جیپ سے چھلانگ لگا کر اترا اور اندر ک طرف بھاگا۔تو اس طرف دیکھ حماد میں ادھر ٹکٹ کاٶنٹر کے پاس دیکھتا ہوں۔دونووں الگ الگ جگہ دیکھ کر خوار ہو کر واپس وہیں آگۓ۔
اگلی سوچ کے غالب آتے ہی ہمان سیکیورٹی کے سارے رولز توڑتا جہاز کی طرف بھاگا تھا۔ایک دم ساری سیکیورٹی الرٹ ہوگٸی۔ریڈ لاٸٹس جل اٹھیں اور ساٸرن بجنے لگے۔گارڈ ہمان کو پکڑنے اس کی طرف بھاگے تھے۔
پیچھے پیچھے حماد تھا۔ایک سیکیورٹی آفیسر نے بھاگ کر اسے پکڑا اس کی جیکیٹ کا پچھلا حصہ اس کے ہاتھوں میں تھا مجبوراً وہ رکا۔
پلٹ کر جلدی سے شرٹ کی فرنٹ پاکٹ سے اپنا آٸی ڈی کارڈ نکال کر اس کے سامنے کیا۔
آرمی آفیسر میجر عبدالحماد۔اس سیکیوررٹی آفیسر نے کارڈ دیکھتے ہی گرفت ڈھیلی کی اور تمام سیکیورٹی کو واپس بلایا۔
شکر تھا جہاز ابھی ٹیک آف نہیں ہوا تھا۔حماد اور ہمان جہاز کی سیڑھیاں چڑھتے اندر آۓ۔انہیں زیادہ ڈھنڈنا نہیں پڑا اریج فرنٹ پر ہی تیسری سیٹ پر ٹانگ پہ ٹانگ چڑھاۓ مزے سے بیٹھی تھی۔
انہیں دیکھ کر الرٹ ہوٸی خاص کر ہمان کو دیکھ کر اس کی گلی گم ہوگٸی۔
وہ حماد کے اشارے پر باہر آٸی اور پھر بغیر کسی گفتگو کے پورا رستہ خاموشی کی نظر ہوا۔وہ لوگ اپنے یونٹ کے آٸی ٹی ڈیپارٹ میں بیٹھے تھے۔ہمان نے اریج کو سب کھ بتادیا تھا۔بلا شبہ اریج قابل بھروسہ لڑکی تھی۔
دو گھنٹے لگا کر وہ کمپیوٹر کے مختلف پروگرامز کے زریعے موباٸیل کی پیچھلے دو مہینوں کی کالز کا ڈیٹا نکال پاٸی تھی۔
اس نے حماد اور ہمان کو بلایا۔
میجر ہمان یہ اس موباٸیل پچھلے دو مہینوں کی ساری کالز کا ڈیٹا ہے۔اس نے کمپیوٹر میں موجود فاٸل انہیں دکھاٸی۔زیادہ تر کالز عالی کے نام کی تھیں۔چند کالز زین کے نمبر سے بھی آٸی ہوٸی تھیں اور کی ہوٸی بھی تھیں۔
ایک ان نون نمبر سے کال آٸی ہوٸی تھے۔ایک بار نہیں کٸی بار۔
اس نمبر سے آخری کال ٢٥ ستمبر سے آٸی ہوٸی تھی۔جس کا دورانیہ پچھلی تمام کالز سے زیادہ تقریباً پندرہ منٹ تھا۔
ہمان کو حیرت ہوٸی۔کیونکہ اس نمبر سے صرف کالز ریسیو کی گٸی تھیں۔یہ نمبر ڈاٸیل میں نہیں تھا۔
اریج کیا کوٸی ایسا پروگرام ہے جس کے زریعے موباٸیل میں آنے والی ان تمام ان کمنگ اور آٶٹ گوٸنگ کالز کو سنا جا سکے۔
یس افکورس ہے ایسا پروگرام۔
پر اس کے لیے مجھے چار سے پانچ گھنٹے در کار ہیں۔کام بہت زیادہ ہے۔نہیں یہ اس نمبر کی کالز سننی ہے مجھے۔اوہ مطلب صرف یہی نمبر۔ پھر کم و بیش دو سے ڈھاٸی گھنٹے تو لگیں گے ہی۔
ٹھیک ہے اریج تم یہ کام کرو جب تک ہم دوسرا کام نبٹا کر آتے ہیں۔ہمان اچھنبے سے اسے دیکھا۔
پھر وہ لوگ باہر آگۓ۔جانتا ہوں ہو کیا سوچ رہا ہے تو ۔دیکھ ہمان۔ہو سکتا ہے جو ہم سوچ رہے ہوں۔ویسا نہ ہو۔میرا مطلب ہے کہ ہوسکتا ے کہ عاشی۔انف حماد نام مت لو اس کا۔
ہمان نے بیچ میں ہی اس کی بات کاٹ دی۔
ہمیں ہاسپیٹل کے سیکیورٹی سے بات کرنی چاہیے۔میں کر چکا ہوں حماد کوٸی فاٸدہ نہیں۔ہاسپیٹلز میں کیمرہ نام کی بھی کوٸی چیز ہوتی ہے۔ہم ہاسپیٹل کے کیمرے کی سی۔سی۔ٹی۔وی۔فوٹیج دیکھتے ہیں۔دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاۓ گا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *