Pari By Shanzey Rajpoot NovelR50762 Pari By Shanzey Rajpoot Episode43
No Download Link
828.1K
52
Rate this Novel
Pari By Shanzey Rajpoot Episode01 Pari By Shanzey Rajpoot Episode02 Pari By Shanzey Rajpoot Episode03 Pari By Shanzey Rajpoot Episode04 Pari By Shanzey Rajpoot Episode05 Pari By Shanzey Rajpoot Episode06 Pari By Shanzey Rajpoot Episode07 Pari By Shanzey Rajpoot Episode08 Pari By Shanzey Rajpoot Episode09 Pari By Shanzey Rajpoot Episode10 Pari By Shanzey Rajpoot Episode11 Pari By Shanzey Rajpoot Episode12 Pari By Shanzey Rajpoot Episode13 Pari By Shanzey Rajpoot Episode14 Pari By Shanzey Rajpoot Episode15 Pari By Shanzey Rajpoot Episode16 Pari By Shanzey Rajpoot Episode17 Pari By Shanzey Rajpoot Episode18 Pari By Shanzey Rajpoot Episode19 Pari By Shanzey Rajpoot Episode20 Pari By Shanzey Rajpoot Episode21 Pari By Shanzey Rajpoot Episode22 Pari By Shanzey Rajpoot Episode23 Pari By Shanzey Rajpoot Episode24 Pari By Shanzey Rajpoot Episode25 Pari By Shanzey Rajpoot Episode26 Pari By Shanzey Rajpoot Episode27 Pari By Shanzey Rajpoot Episode28 Pari By Shanzey Rajpoot Episode29 Pari By Shanzey Rajpoot Episode30 Pari By Shanzey Rajpoot Episode31 Pari By Shanzey Rajpoot Episode32 Pari By Shanzey Rajpoot Episode33 Pari By Shanzey Rajpoot Episode34 Pari By Shanzey Rajpoot Episode35 Pari By Shanzey Rajpoot Episode36 Pari By Shanzey Rajpoot Episode37 Pari By Shanzey Rajpoot Episode38 Pari By Shanzey Rajpoot Episode39 Pari By Shanzey Rajpoot Episode40 Pari By Shanzey Rajpoot Episode41 Pari By Shanzey Rajpoot Episode42 Pari By Shanzey Rajpoot Episode43 (Watching)Pari By Shanzey Rajpoot Episode44 Pari By Shanzey Rajpoot Episode45 Pari By Shanzey Rajpoot Episode46 Pari By Shanzey Rajpoot Episode47 Pari By Shanzey Rajpoot Episode48 Pari By Shanzey Rajpoot Episode49 Pari By Shanzey Rajpoot Episode50 Pari By Shanzey Rajpoot Episode51 Pari By Shanzey Rajpoot Last Episode
Pari By Shanzey Rajpoot Episode43
Pari By Shanzey Rajpoot Episode43
فنکشن کا آغاز ہو چکا تھا۔ سب کپلز مدھم میوزک پہ ڈانس کر رہے تھے۔تو کچھ ہاتھ میں مشروب لیے ایک دوسرے سے محو گفتگو تھے۔
دفعتاً رافع کی آواز نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
سب سے پہلے تو میں آپ سب کا بے حد مشکور ہوں کہ آپ لوگ اس تقریب کا حصہ بنے اور اپنی شرکت سے اس محفل میں چار چاند لگا دیے۔
رافع کی آواز ماٸک میں گونج رہی تھی۔ ہر کوٸی اس کی طرف متوجہ تھا۔سفید ڈنر سوٹ میں ملبوس ڈیسینٹ سی پرسنیلیٹی کا مالک رافع اس وقت ہر کسی کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔
آپ لوگوں کی شراکت سے یہ تقریب نہ صرف پر رونق بنی ہے بلکہ خوبصورت بھی ہوگٸی ہے۔ تو کیوں نہ اس رونق اور خوبصورتی کو اور بڑھا دیا جاۓ۔
سب لوگوں نے زورو شور سے اس کی بات کی تاٸید کی۔تو خوشی کے اس پر مسرت موقع پہ میں دعوت دیناچاہوں گا اس شام کی سب سے حسین جوڑی کو
کہ وہ آٸیں اور اپنے پرفورمنس سے اس محفل کی رونق کو مزید دوبالا کریں۔
سو پُٹ یور ہینڈس ٹوگیدر فار آٸینہ اینڈ ہمان۔
تالیوں کی گونج اور سیٹیوں کے شور میں ہمان آٸینہ کا ہاتھ تھامے فلور پر آیا۔
تمام لاٸٹس آف ہوگٸیں تو سپوٹ لاٸٹ میں جگ مگ کرتا ان دونوں کا وجود ظاہر ہونے لگا۔
دل لے ڈوبا ڈوبا مجھ عریبک آنکھوں میں
آج لوٹا لوٹا مجھ کو فریبی باتوں نے
دل لے ڈوبا ڈوبا مجھ عریبک آنکھوں میں
آج لوٹا لوٹا مجھ کو فریبی باتوں نے
خامخواہ سا سینے میں پیار کے مہینے میں
ایک ہی اشارے پہ دل چیز تجھے دے دی
دے دی دے دل چیز تجھے دی
دے دی ہاں دے دی دل چیز تجھے دے دی
دے دی دے دی دل چیز تجھے دی
ماشا اللہ تعریفیں ماشا اللہ
بڑی بد بخت ہے تو حبیبی مست ہے تو
واللہ واللہ اداٸیں واللہ واللہ
بڑی ہی سخت ہے تو
حبیبی مست ہے تو
بار بار جو دیکھا دو دفع نہ سوچا
ایک ہی اشارے پہ دل چیز تجھے دے دی
دے دی دے دل چیز تجھے دی
دے دی ہاں دے دی دل چیز تجھے دے دی
دے دی دے دی دل چیز تجھے دی
زرّہ زرّہ کہے یہ زرّہ زرّہ
تیری گستاخ آنکھیں
کرے بے باک باتیں
پردہ پردہ ہٹالے پردہ پردہ
حسن کے چاند دیکھے کٸی ارمان لیکے
وبرو وبرو جو تو آٸی دھڑکن نہ سنبھل پاٸی
ایک ہی اشارے میں دل چیز تجھے دے دی
دے دی دے دل چیز تجھے دی
دے دی ہاں دے دی دل چیز تجھے دے دی
دے دی دے دی دل چیز تجھے دی
ہمان اور آٸینہ نے سپوٹ لاٸٹس کی جگ مگ کرتی روشنیوں میں دھماکے دار پرفورمنس دیا تھا۔
جہاں سب نے بھرپور تالیوں سے انہیں داد دی تھی۔ وہیں پری کھڑی خود پر جبر کے پہرے بٹھاۓ برداشت کی آخری حد کو چھو رہی تھی۔
گیت کا ایک ایک بول اسے ایسا لگا۔ جیسا ہمان اسے ہی کہہ رہا ہو۔پورے پرفورمنس میں اس نے ایک بار نگاہ اٹھا کے دیکھی تھی اور جو منظر اس نے دیکھا تھا اس کے بعد تو پری کی ہمت جواب دے گٸی ۔
وہ سیڑھیوں کے پاس ہی کھڑی تھی مڑ کر جانے لگی تو برابر میں کھڑی عالی نے اس کی کلاٸی تھام کر رکنے کا اشارہ کیا۔ ناچار اسے رکنا پڑا۔ہمان بہت زبردست طریقے سے اس کا صبر آزما رہا تھا۔
تمام لاٸٹس آن ہوگٸیں۔آٸینہ کے چہرے پہ مسکراہٹ کا پہرہ تھا۔وہ بہت خوش تھی۔کیوں نہ ہوتی ہمان جیسا ہمسفر پا کر تو ہر لڑکی خوش ہوتی۔
ہمان اور آٸینہ کی دھماکے دار پرفورمینس نے محفل میں چار چاند لگا دیے پر آپ لوگ مایوس نہ ہوں۔
تو کیا ہوا جو ان کی پرفورمنس ختم ہوگٸی۔پر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا ۔جی ہاں
خواتین و حضرات میری بات کا آپ لوگ ٹھیگ مطلب سمجھے ہیں۔
یعنی کے اب باری ہے اگلی پرفورمنس کی۔
سو پلیز پُٹ یور ہینڈس ٹوگیدر فار ماہیر بھیا اینڈ زویا بھابھی۔
زویا تو اپنا نام سنتے ہی گڑبڑا گٸی۔ماہیر کے بھی کچھ ایسے ہی تاثرات تھے ۔پھر کیا تھا۔ دونوں کے لاکھ انکار کو سارہ اور زین نے اقرار میں بدل دیا۔
ماہیر زویا کو لیے فلور پہ آیا۔ پر اس نے سپوٹ لاٸٹ سے منع کردیا تھا۔ زویا پہلے ہی نروس تھی۔ سب کی توجہ کا مرکز بن کر وہ اور نروس ہوجاتی۔
میں کوٸی ایسا گیت گاٶوں کے آرزو جگاٶں اگر تم کہو
میں کوٸی ایسا گیت گاٶوں کے آرزو جگاٶں اگر تم کہو
تم کو بلاٶں یا پلکیں بچھاٶں
قدم تم جہاں جہاں رکھو۔
زمین کو آسماں بناٶں ستاروں سے سجاٶں اگر تم کہو
میں کوٸی ایسا گیت گاٶوں کے آرزو جگاٶں اگر تم کہو
میں تتلیوں کے پیچھے بھاگٶں میں جگنٶں کے پیچھے جاٶں
یہ رنگ ہے وہ روشنی ہے تمہارے پاس دونوں لاٶں
جتنی خوشبوٸیں باغ میں ملیں
ہاں جتنی خوشبوٸیں باغ میں ملیں
میں لاٶں ہاں پہ کہ تم ہو جہاں
جہاں پہ ایک پل بھی ٹہرو میں گلستاں بناٶں اگر تم کہو
میں کوٸی ایسا گیت گاٶوں کے آرزو جگاٶں اگر تم کہو
میں کوٸی ایسا گیت گاٶوں کے آرزو جگاٶں اگر تم کہو
ماہیر اور زویا کی ہلکی پھلکی مگر شاندار پرفورمینس پہ سب نے انہیں داد دی۔
پارٹی میں سب لوگ مشروب کا گلاس ہاتھ میں لیے مگن تھے۔ہمان ہاتھ میں گلاس پکڑے کاٶنٹر سے ٹیک لگاۓ گلاس لبوں سے لگاں نظریں پری پہ ٹکاۓ کسی گہری سوچ میں مگن تھا۔
حماد بھی آ چکا تھا۔سارہ اسے اگنور کرتی مہمانوں میں مصروف تھی۔انجی نے ایک نظر پری کو دیکھا تو وہ مطمٸن ہوگٸیں وہ کافی پریشان تھیں اس کی طبیعت کی وجہ سے۔
پر وہ جانتی تھیں کہ وہ کس تکلیف میں ہے۔اس کے اندر ایک جنگ چھڑی تھی۔
نشہ یہ پیار کا نشہ ہے
کہ میری بات یارو مانو
نشے میں یار ڈوب جاٶ
رہو نہ ہوش میں دیوانو
سب لوگ اپنے آپ میں مگن تھے۔ہمان کی آواز پہ سب اس کی طرف متجہ ہوۓ۔
بلیک ڈنر سوٹ میں ایک ہاتھ میں مشروب سے بھرا گلاس پکڑے وہ اپنےگانے کے ہر بول کے ساتھ بولتی نگاہوں سے پری کو دیکھ رہا تھا۔
نشہ یہ پیار کا نشہ ہے
کہ میری بات یارو مانو
نشے میں یار ڈوب جاٶ
رہو نہ ہوش میں دیوانو
ہمان کی آواز پری کے دل میں عجیب سی ہلچل مچاگٸی۔
نگاہ اٹھا کے اس نے دیکھا تو ہمان گنگناتا ہوا قدم قدم مشروب کا گلاس تھامے اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔
کہ جب سے میں نے تم کو دل یہ دے دیا
میٹھا میٹھا سادرد لے لیا
سنو او پریا میں نے تم کو دل دیا۔
وہ گنگناتا ہوا پری کے سامنے آ کھڑا ہوا ۔مشورب سے بھرا گلاس پاس سے گزرتے ویٹر کے ٹرے میں رکھا اور پری کا ہاتھ تھامے رقص کرنے لگا یا یہ کہنا زیادہ ٹھیک ہوگا کہ وہ اسے پریشان کرنے کی ٹھان چکا تھا۔
نشہ یہ پیار کا نشہ ہے
کہ میری بات یارو مانو
نشے میں یار ڈوب جاٶ
رہو نہ ہوش میں دیوانو
نظر سے یوں میلی نظر دیوانہ میں ہو گیا
اثر یہ کیا ہوا اثر کہاں یہ میں کھو گیا
پری کے ساتھ تو وہ کپل ڈانس کر رہا تھا وہ بھی اعلیٰ درجے کا۔وہ تو اس سب کے لیے بالکل تیار نہ تھیں۔نہ ہی اسے ڈانس آتا تھا ۔بس ہمان اسے جہاں گھماتا وہ کٹ پتلی کی طرح وہیں گھوم جاتی۔
بہکے بہکے کے قدم بہکا بہکا ہے من
چھاگیا چھاگیا مجھ پہ دیوانہ پن
سنو او پریا
ہمان نے تھوڑی سے پری کا چہرہ اوپر کیا وہ اسے ہی تو کہہ رہا تھاسنو او پریا۔پریا یعنی پری ہاں وہ اسے ہی کہہ رہا تھا۔
میں نے تم کو دل دیا۔
ہمان نے دور ہو کر اس کی طرف اشارہ کیا۔
نشہ یہ پیار کا نشہ ہے
کہ میری بات یارو مانو
نشے میں یار ڈوب جاٶ
رہو نہ ہوش میں دیوانو
ہمان کے الفاظ تھے۔ یا جادو پری جکڑی جا چکی تھی ۔اتنے سارے لوگوں کے درمیان کپل ڈانس اور گانے کے ایسے بول وہ نگاہیں جھکاگٸی۔اس کی حالت یر ہونے لگی تھی۔
جھکی جھکی نگاہ میں بلا کی شوخیاں جھکیں
کھی کھلی لٹوں میں بھی گھٹا کی مستیاں رکیں
پری کا دل زور سے دھڑکا تھا۔ہمان نے اس کی جھکی نگاہ پہ چوٹ کی۔رقص کرتے پیچھے سے ہاتھ بڑھا کر پری کا جوڑا کھول دیا۔سنہری زلفیں بھی ساتھ رقص کرنے لگی تھیں۔چند شریر لٹیں چہرہ چوم رہی تھیں۔
یہ حیا یہ ادا یہ حسیں یہ نین
دے گۓ دے گۓ میٹھی میٹھی چبھن سنو او پریا
دونوں فاسٹ کپل ڈانس کر رہے تھے۔
میں نے تم کو دل دیا
کہ جب س میں نے تم کو دل یہ دے دیا
میٹھا میٹھا سادرد لے لیا سنو او پریا
نشہ یہ پیار کا نشہ ہے
کہ میری بات یارو مانو
نشے میں یار ڈوب جاٶ
رہو نہ ہوش میں دیوانو
پری کے دنوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر زرا دور کر کے پھر اپنی طرف کھینچا اور رخ موڑ کر اس کے دونوں ہاتھ لے جاکر اپنے گردن کے پیچھے لے گیا۔
عالمِ سرور،نشہ عشق،دھڑکنوں میں برپا طلاطم،سحر انگیز کیفیت،بولتی آنکھیں،خاموش لب،دھڑکتے دل،مدھم ہوتی سانسیں،محبت کے جگنو،پیار کی روشنی میں روشن دو وجود،
ارد گرد سے بےگانہ ہر طرف سفید اڑتے روٸی کے گالے جیسے پھیلے بادل ۔ٹھنڈی ٹھنڈی پون۔ ہر طرف رنگین تتلیاں۔ جگنو کی جھل مل۔ وہاں کوٸی جہاں آباد تھا پریوں کا۔
معطر ہواٸیں،گنگناتیں فضاٸیں۔ سُر وتال کا پیکر۔ جمیل وادی۔ حسین شجر ۔خوشبوٶں میں لپٹا یہ حسین نگر۔
وہ دو وجود کسی اور جہاں میں میں کھوۓ ایک حسین تصور کے زیر اثر سب کچھ بھلاۓ ارد گرد سے بے نیاز اپنی دنیا میں مگن تھے
ایک دنیا محبت کی،ایک جہاں پریوں کا جہاں محبت سے گُندھے دو وجود تھے جن پر پریوں کی چھاٶں تھی۔
اور اس چھاٶں تلے وہ دونوں۔
ارد گرد منڈلاتی چھوٹی چھوٹی پریاں۔
جیسے شرارتیں کرتیں۔ اٹھکیلیاں کرتیں تو کوٸی دعاٸیں دیتی۔خاموشی سے ایک دوسرے کو اپنے ہونے کا احساس دلاتے وہ دو وجود عشق محبت اور پیار کا پیکر تھے۔
ہر طرف تالیوں کی گونج شور و غل ایک فسوں تھا۔ جو ٹوٹا تھا۔ایک حسین تصور تھا۔ جو تکیمل سے پہلے ہوا میں ہی کہیں زاٸل ہوا تھا۔چھن سے سب کچھ بکھر گیا۔
دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوۓ۔
پری نے جھٹ سے فاصلہ قاٸم کیا۔یہ جہاں پریوں کا نہیں انسانوں کا تھا۔روۓ کے گالے جیسے بادل،ٹھنڈی پون،معطر ہوا،گنگناتی فضا،شجر،وادی حسین نگر،شوخ رنگ تتلیاں،جگنوں کچھ بھی نہ تھا۔
نہ تو پریاں تھیں نہ پریوں کی چھاٶں۔نہ ہی محبت کی دعا۔کچھ بھی تو نہ تھا سواۓ گمان کے۔
سب لوگ انہیں ہی غور غور سے دیکھ رہے تھے۔ آٸینہ آنکھیں پھاڑے دونوں کو گھور رہی تھی۔رفتہ رفتہ تالیوں کی آواز مدھم ہوگٸی۔
بہت بہت شکریہ۔شی از ماٸی کزن پری۔
وہ کیا ہے نہ کہ میں اپنی شادی پہ بہت خوش ہوں اور پری میری بیسٹ فرینڈ اور بیسٹ کزن ہے اتنی دور سے آٸی ہے شادی میں شرکت کرنے۔
اب ایک ڈانس تو بیسٹی کے سات بنتا ہے نا۔ کیوں کیا کہتے ہیں آپ لوگ۔
ہال میں ایک بار پھر تالیوں کی گونج سناٸی دی۔
پری کے ساتھ ڈانس میں ہمان کچھ زیادہ ہی جزباتی ہوگیا تھا ۔کہ وقت اور جگہ کا بھی اسے خیال نہ رہا۔ پری وہ تو ویسے ہی اس کے سحر میں جکڑی ہوٸی تھی۔
جب ہمان کو احساس ہوا کہ وہ اتنے سارے لوگوں کے بیچ کچھ غلط کر گیا ہے۔ جبکہ یہ سب تو اسے آٸینہ کے ساتھ کرنا چاہیے تھے۔وہ اس کی ہونے والی شریک حیات تھی۔
ایسے میں جتنے لوگ اتنی باتیں۔
بروقت ہمان نے بات اس طرح سنبھالی سب ہمان کو دیکھتے ہی رہ گۓ۔کم از کم وہ پری کی عزت پر تو کوٸی رسک نہیں لے سکتا تھا۔
اس لیے خود کو ہی کسور وار ٹہرایا۔ سب لوگ دوبارہ باتوں میں لگ چکے تھے۔ہمان آٸینہ کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ کاٶنٹر پر لے آیا ۔جہاں ہر طرح کے حرام سے پاک مشروب رکھے تھے۔وہ لوگ بیٹھے کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔پری نے تپتی نگاہوں سے وہ منظر دیکھا اور لمحے میں وہ وہاں سے واک آٶٹ کر گٸی۔
ہمان بھی وہاں سے اٹھ گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فنکشن جیسے تیسے کر کے اپنے اختیتام کو پہنچا۔ سب مہمان جا چکے تھے۔ رات کافی زیادہ ہوگٸی تھی۔انجی پری سے طبیعت کا پوچھ کر اپنے کمرے میں چلی گٸی۔ عالی عاشی زویا اور سارہ چینج کر چکی تھی۔
سارہ تو کچن میں پانی پینے چلی گٸی عالی اور عاشی زویا کے ساتھ ٹیرس پر آ گٸیں ۔آج ینگ پارٹی کا جگ رتے کا پروگرام تھا۔
سارہ پانی پی کر جیسے ہی مڑی حماد کھڑا اسے ہی گھور رہا تھا۔ سارہ اسے اگنور کر کے جانے لگی تو حماد نے ساٸیڈ سے بھی راستہ روک لیا۔ سارہ نے اسے گھور کر دیکھا۔ ناراض ہو؟ اس نے نرمی سے پوچھا۔ ہاۓ جیسے تو آپ کو وپتا ہی نہیں ہے؟
وہ بگڑتی ہوٸی بولی تو حماد کی ہنسی چھوٹ گٸی۔
کس وجہ سے ناراض ہو؟حماد آپ زیادہ بچے نہ بنیں۔ بن تو ایسے رہے ہیں جیسے ایلین ہوں۔
چلو تمہارے لیے ایلین ہی سہی اب یہی سننا باقی رہ گیا تھا۔خیر سوری اس وقت مجھے ہمان پہ شدید غصہ تھا اور وہ مجھ پہ نکل گیا ہےنا۔ سارہ نے اس سکی بات کاٹتے بولا۔ بالکل ایسا ہی ہے۔
ہر کسی کا غصہ مجھ پہ ہی اتاریں گے۔نہیں یار ایسا نہیں ہے۔ دراصل تمہارا آٸینہ سے بات کرنا گھلنا ملنا سارہ ان سب میں تم پری کو یکر فراموش کر گٸی ہو۔
حماد ایسا نہیں ہے۔ اسنے خود ہی اپنے آپ کو سب سے الگ کر رکھا ہے۔ اب اس میں ہم لوگ کیا کر سکتے ہیں۔ ہمم کچھ نہیں کر سکتے پر مجھے تو معاف کرسکتی ہو۔
میں آپ سے ناراض کب تھی۔ جو معاف کردوں ۔وہ کھلکھلا کے بولتی ہوٸی حماد کے کندھے سے سر ٹکا گٸی۔حماد چلیں اوپر چلیں آج ہماری بیٹھک ہے۔
افففف ایک تو تم اور تمہاری بیٹھک جگواۓ گی آج کی رات ۔چلو کیا کر سکتے ہیں۔ بیگم آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ وہ شوخ ہوا ۔رہنے دیں حماد یہ بہت زیادہ ہوگیاہے۔
سارہ تم پری کو بھی اوپر لے آٶ وہ اکیلی کیا کرے گی۔ اچھا نہیں لگتا اس طرح سب کزنز ایک جگہ ہیں اور وہ اکیلی اپنے کمرے میں۔ جاٶ شاباش اسے بھی اپنے ساتھ لے آٶ۔ وہ مسکراکر اس کا گال سہلاتا ہوا بولا
اچھا آپ چلیں میں آتی ہوں۔ وہ بھی مسکراکر پری کے کمرے کی طرف چل دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری کیا کر رہی ہو وہ اس کے روم میں آٸی تو وہ شیشے کے سامنے خاموش سی کھڑی تھی۔کچھ نہیں۔مختصر سا جواب دیا۔تو پھرمیرے ساتھ اوپر چلو ٹیرس پر سب لوگ وہیں ہیں آج بیٹھک لگی ہے سب کزنز ایک ساتھ ہیں تم بھی چلو۔
نہیں سارہ پلیز تم جاٶ۔ میں نہیں آرہی۔ مجھے نیند آ رہی ہے۔ہمان اور آٸینہ وہ بھی تو وہاں ہونگے ناں۔کیسے دیکھوں گی انہیں ایک ساتھ ۔نہیں مجھ سے یہ نہیں وگا۔وہ دل میں سوچتی خود سے مخاطب تھی۔پری چلو نا یار بہت مزہ آۓ گا۔سارہ پلیز جاٶ یہاں سے مجھے نہیں آنا۔
ٹھیک ہے ۔سارہ کی آواز بہت مدھم تھی شاید نمی گھلی تھی اسکی آواز میں۔
جارہی ہوں میں۔ مت آٶ تم۔رشتہ تم نے ہمان سے توڑا ہے۔ کیا مجھ سے بھی تم سارے رشتے توڑ چکی ہو۔کیا میں کچھ نہیں لگتی تمہاری۔
میری خوشی کوٸی معنی نہیں رکھتی اب ۔کیا صرف نند بھابھی کا رشتہ تھا ہمارے بیچ ازل سے۔
اگر ایسا ہے تو ٹھیک آٸیندہ کے بعد تم سے بات کرنا مجھ پہ حرام ہے پری۔
سارہ پلیز کیسی باتیں کر رہی ہو۔میں نے ایسا تو نہیں کہا۔تم مجھ سے بڑی ہو۔آپی ہو میری میں نے تو کبھی نند۔نہیں سمجھا تمہیں۔ تم ایسی باتیں مت کرو۔میرا دل گھبرا رہا ہے۔کیوں کیا ہوا ہے پری ۔اب سارہ کو اپنی چھوڑ پری کی فکر ہونے لگی تھی۔
وہ کافی نڈھال تھکی ہاری سی معلوم ہوتی تھی۔ میں چلتی ہوں تمہارے ساتھ اوپر چلو۔ہممم !!!
یہ ہوٸی نہ بات چلو ۔اوپر ٹھنڈی ہوا میں بیٹھو گی تو دل بھی نہیں گھبراۓ گا۔ دفعتاً سارہ کے کےموباٸیل پہ میسج آیا۔سارہ نے دیکھا تو حماد کا تھا۔
وہ جگ رتے میں شامل نہیں ہو رہا تھا۔ اسے ارجنٹ کوٸی کام آن پڑا تھا۔ وہ سخت بد مزہ ہوٸی پر پھر کچھ سوچ کر خوش ہو گٸی۔
وہ اسے لیے اوپر آ گٸی۔ہمان اور آٸینہ بھی آچکے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب آپس میں خوش گپیوں میں لگے تھے۔عالی ٹرے میں سب کے لیے گرما گرم بھاپ اڑاتی کافی لے آٸی۔سب نے اپنا اپنا مگ ٹرے سے اٹھا کے لبوں سے لگایا تو کافی کی چاکلیٹی سی دلفریب خوشبو ماحول کو منفرد رنگ دے گٸی۔
ماہیر اور زویا ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
عالی اور زین کسی بات پر جھگڑ رہے تھے۔
عاشی نین اور رافع بھی محو گفتگو تھے۔حماد نہیں آیا تھا۔ جبھی سارہ کافی پر سکون سی کبھی کسی کےبیچ ٹانگ اڑاتی تو کبھی کسی سے پنگا لیتی۔
ان سب سے بے نیاز وہ دونوں ایک دوسرے میں اتنا مگن تھے کہ آس پاس کا سدھ بدھ ہی نہیں۔
ہمان اور آٸینہ ساتھ ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ہمان نے اسے کچھ کہتا تو وہ ہر تھوڑی دیر بعد جی جان سے مسکرادیتی۔اب بھی وہ سر جھکا کر اس کے کان میں شاید کچھ کہہ رہا تھا۔جس پہ آٸینہ شرما کر سر جھکا گٸی۔
ہمان نے اس کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال لیا۔آٸینہ شرما کر وہاں سے اٹھنے لگی تھی کہ ہمان نے اس کی کلاٸی تھام لی۔
دفعتاً اس کی نظر پری پہ پڑی۔
وہ مسلسل اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ بے تاثر چہرہ اور بہت کچھ بولتی آنکھیں اور ان آنکھوں میں تیرتی نمی جو چاند کی روشنی میں ہیرے کی مانند چمک رہی تھیں۔
آٸینہ کی کلاٸی اب بھی ہمان کی گرفت میں تھی پر اب وہ بیٹھ چکی تھی۔
ہمان اسے دیکھ رہا تھا۔وہ دونوں ہی مسلسل سب سے بے نیاز ایک دوسرے کی آنکھوں میں ایک دوسرے کا حالِ دل جاننے کی کوشش میں تھے۔ پری کی آنکھوں سے ہمان کو ایک انجانہ سا خوف محسوس ہوا۔
آٸینہ نے سر ہمان کے کندھے پہ رکھ دیا اور بازو اس کے بازو میں پھنسا دیے۔ آنسو پلکوں کی چلمن سے سرخ وسفید روٸی جیسے گالوں کو بھیگو گۓ۔ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔
پری کی برداشت بس یہیں تک تھی۔پری ایک دم کھڑی ہوٸی۔ہاتھ کی پشت سے آنسوٶں کو رگڑتے وہ دو قدم پیچھے ہوٸی۔ہمان الرٹ ہوگیا۔اسے بہت کچھ بری طرح کھٹکا تھا۔
پری کی آنکھیں اسے بہت کچھ کہہ رہی تھیں۔وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا لہنگا سنبھالتی نیچے کی طرف بھاگی تھی۔ہمان پری کے پیچھے نیچے بھاگا تھا۔
ماحول میں ایک دم سکوت چھا گیا۔
سب اس اچانک سچوٸیشن پر گھبرا کر نیچے گۓ۔بھاگنے سے اس کی چوڑیاں کی چھن چھن خاموشی میں ارتعاش برپا کر گٸیں۔
جاری ہے
