Pari By Shanzey Rajpoot NovelR50762 Pari By Shanzey Rajpoot Episode42
No Download Link
828.1K
52
Rate this Novel
Pari By Shanzey Rajpoot Episode01 Pari By Shanzey Rajpoot Episode02 Pari By Shanzey Rajpoot Episode03 Pari By Shanzey Rajpoot Episode04 Pari By Shanzey Rajpoot Episode05 Pari By Shanzey Rajpoot Episode06 Pari By Shanzey Rajpoot Episode07 Pari By Shanzey Rajpoot Episode08 Pari By Shanzey Rajpoot Episode09 Pari By Shanzey Rajpoot Episode10 Pari By Shanzey Rajpoot Episode11 Pari By Shanzey Rajpoot Episode12 Pari By Shanzey Rajpoot Episode13 Pari By Shanzey Rajpoot Episode14 Pari By Shanzey Rajpoot Episode15 Pari By Shanzey Rajpoot Episode16 Pari By Shanzey Rajpoot Episode17 Pari By Shanzey Rajpoot Episode18 Pari By Shanzey Rajpoot Episode19 Pari By Shanzey Rajpoot Episode20 Pari By Shanzey Rajpoot Episode21 Pari By Shanzey Rajpoot Episode22 Pari By Shanzey Rajpoot Episode23 Pari By Shanzey Rajpoot Episode24 Pari By Shanzey Rajpoot Episode25 Pari By Shanzey Rajpoot Episode26 Pari By Shanzey Rajpoot Episode27 Pari By Shanzey Rajpoot Episode28 Pari By Shanzey Rajpoot Episode29 Pari By Shanzey Rajpoot Episode30 Pari By Shanzey Rajpoot Episode31 Pari By Shanzey Rajpoot Episode32 Pari By Shanzey Rajpoot Episode33 Pari By Shanzey Rajpoot Episode34 Pari By Shanzey Rajpoot Episode35 Pari By Shanzey Rajpoot Episode36 Pari By Shanzey Rajpoot Episode37 Pari By Shanzey Rajpoot Episode38 Pari By Shanzey Rajpoot Episode39 Pari By Shanzey Rajpoot Episode40 Pari By Shanzey Rajpoot Episode41 Pari By Shanzey Rajpoot Episode42 (Watching)Pari By Shanzey Rajpoot Episode43 Pari By Shanzey Rajpoot Episode44 Pari By Shanzey Rajpoot Episode45 Pari By Shanzey Rajpoot Episode46 Pari By Shanzey Rajpoot Episode47 Pari By Shanzey Rajpoot Episode48 Pari By Shanzey Rajpoot Episode49 Pari By Shanzey Rajpoot Episode50 Pari By Shanzey Rajpoot Episode51 Pari By Shanzey Rajpoot Last Episode
Pari By Shanzey Rajpoot Episode42
Pari By Shanzey Rajpoot Episode42
انجی پری کی کی باتوں پہ فرط حیرت سے گرنے کو تھیں۔پری نیم بے ہوشی میں صحیح لیکن ان کو حقیقت سے آشنا کر چکی تھیں۔وہ مزید بھی نہ جانے کیا کیا بول رہی تھیں، انجی کچھ سن نہ سکیں۔
دواٶں کے زیرِ اثر وہ غنودگی میں ہی بول رہی تھی،پھر نہ جانے کب وہ سو گٸی ۔اب ہلکی ہلکی منمناہٹ بھی بند ہو چکی تھیں۔ انجی ہوش میں آٸیں تو کمرے کے پردے برابر کر کے پری کے پاس آٸیں۔اس کے ماتھے پہ بکھرے بال انگلیوں سے پیچھے کیے ۔
پھر ماتھے پہ بوسہ دیا۔ہماری پری اتنی بڑی ہوگٸی۔ اس سے پہلے کے آنسو چھلک جاتے ۔انجی آہستہ سے کمرے کا دروازہ بند کرتی اپنے کمرے میں چلی گٸیں۔
پری نے نیند میں کروٹ لی۔ایک ہاتھ جیسے اس نے رکھنا چاہا وہ بیڈ پر گر گیا۔خوف کے مارے اس اسکی آنکھ کھل لگٸی۔ اس کے پاس بیڈ پہ کوٸی بھی نہیں تھا نہ ہی یہ کمرہ اس کا تھا۔پری نے ہمان کے اوپر ہاتھ رکھنا چاہا تھا۔
وہ اس کے پاس ہی تو سوتا تھا۔پر اب یہاں وہ اکیلی تھی۔اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔
سر میں اب بھی اس کے شدید درد ھا۔بس خون نہیں بہہ رہا تھا۔ہمان کدھر ہیں۔م۔میں یہاں کیسے۔وہ اپنے آپ سے مخاطب ہوتی بری طرح الجھی ہوٸی تھی۔بلینکٹ بیڈ پہ پھینک کے وہ کمرے سے سےباہر نکلی ۔
کنپٹی مسلتی وہ اپنے اور ہمان کے کمرےکی طرف جا رہی تھی،جب اچانک اس کی نظر سامنے ہال پہ پڑی وہ جہاں تھی وہیں جم گٸی۔
دواٶں کے اثر اور سر میں شدید درد کے باٸث نیند سے سےاٹھنے پر وہ جو سب بھول بیٹھی تھی۔سامنے کا منظر ایک دم اسے پچھلا سب کچھ یاد دلا گیا۔
ہمان سانس روکے پری کو دیکھ رہا تھا۔ جو شاکڈ سی کیفیت میں ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔آٸینہ ہمان کے بالکل نزدیک کھڑی تھی۔ شاید انچ بھر کا فاصلہ ان دونوں کے درمیان تھا۔
آٸینہ کا بازو کھنچنے سے وہ جو اس کی طرف کھینچی تھی۔ اس کے بال بری طرح ہہمان کے کرتے کے اوپری بٹنز میں پھنسے تھے۔جنہیں وہ اپنے تیٸیں نکالنے کی کوشش کر ررہی تھی۔کچھ دیر کی تک و دو کے بعد بالآخر وہ کامیاب ہو گٸی۔
لیکن اس خوشی میں وہ پری کو بھول گٸی جو سامنے کھڑی اسے خونخوار نظروں سے کچا چباجانے کا ارادہ کر کرچکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٸینہ!!!!!پری زور سے چیخی۔آٸینہ سرعت سے اس سے الگ ہوٸی۔
تم۔۔۔۔۔وہ غصے سے پھنکاری تھی۔ شدت ِ ضبط سے اس کی آنکھیں غصہ چھلکا رہی تھیں۔تمہاری اتنی ہمت !!!!!!
سٹے اوے۔ سٹے اوے۔وہ زورسے آٸینہ پہ چیخی۔
تمہیں سمجھ میں نہیں آتا ،میں نے کہا دور ہٹو ۔دور ہٹو ہمان سے۔آٸینہ سکتے کے عالم کھڑی ٹس سے مس نہ ہوٸی۔۔
اور اس کی یہ ہی حرکت پری کو تیش دلا گٸی۔
وہ تیز قدموں سے چلتی اس کےقریب آٸی اور دونوں ہاتھوں سے اسے پیچھے دھکا دیا۔آٸینہ کا سکتہ ٹوٹا اور وہ پیچھے گرتی بال بال بچی۔
یو ڈھیٹ لڑکی!! تمہاری جرأت کیسے ہوٸی میرے ہمان کے ساتھ چپکنے کی۔اب بچو تم مجھ سے۔میں تمہارا منہ نوچ لوں گی۔
کہتے ساتھ ہی وہ بلی کی طرح دونوں ہاتھوں کے پنجے بناۓ آٸینہ کی طرف جارحانہ تیور لیے بڑھی۔ خوف کے مارے آٸینہ کی چیخ نکلی اور اس سے قبل کے پری اس کے چہرے پہ اپنے پنجوں سے حملہ کرتی وہ جو پری کو دیکھے کب سے برف کا مجسمہ بنا کھڑا تھا۔
فوراً ہوش میں آیا اور پری کو پیچھے سے اپنے حصار میں لے کر پیچھے کیا۔ پری کالم ڈاٶن ریلیکس۔ہمان نے اسے ٹھنڈا کر ا چایا۔
پر وہ تو جیسے بپھری ہوٸی شیرنی بنی ہوٸی تھی۔ہمان کے کہے کا اس پہ کوٸی اثر نہیں ہوا۔اس نے خود کو اس کی گرفت سے آزاد کروایا۔
اور پھر سے وہ غیض و غضب ڈھاتی آٸینہ کی طرف لپکی۔ریلیکس ماٸی فوٹ۔اور تم!!!! تمہیں اس گھر میں رہنے کی جگہ کیا دے دی۔ تم میرے ہمان کو قبضانے چلی تھیں۔
تمہیں تو میں مزہ چکھاتی ہوں۔مغریبی حسینہ خالہ۔
آج تو میں تمہارہ اچھااچھا سارہ خون پی جاٶں گی۔وہ آٸینہ کو مارنے آگے بڑھی تھی
کہ ہمان نے پھر سے اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے کیا۔پری کے ہاتھ میں گلاپ کے پھول کی چند پتیاں آ گٸی تھی جو اس نے آٸینہ کے ہاتھ میں پہنے کنگن سے نوچی تھیں۔
پری ہمان سے اپنا بازو چھڑوانے لگی۔لیکن اس کا منہ اب بھی آٸینہ کی طرف تھا۔ چھوڑیں مجھے۔چھوڑیں۔ہاتھ چھوڑیں میرا۔
آج اس آٸینہ کو میں نے آٸینہ نا دیکھایا تو میرا نام بھی پریشے نہیں۔
چھوڑیں میرا ہاتھ چھوڑ دیں بس ایک دفع۔ اسے تو آج میں بتاتی ہوں۔
یو بچ میسنی۔ویسٹنڈیز کی شکل والی۔مراثن۔
وہ غصے میں ناجانے ان کن خوبصورت القابات سے اسے نواز رہی تھی۔آٸینہ تو ویسے ہی سہمی کھڑی تھی اس میں تو اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ یہاں سے بھاگ ھاتی۔
ہمان تو پری کے القابات پہ با مشکل ہنسی ضبط کیے ہوۓ تھا۔ کچھ سیچوٸیشن بھی ایسی تھی اسے خاموش رہنا ہی مناب لگا۔
اماوس کی رات والی چڑیل۔ تمہارا تو تو میں کریا کرم ابھیکرتی ہوں۔چھوڑو میرا ہاتھ۔پری نےہمان کے ہاتھ پہ زور سے کاثا۔نتیجہ میں پری پری آٸینہ کی طرف لپکی اور دونوں ہاتھوں سے اس کے بال پکڑ کر نوچ ڈالے۔
ہمان تو پری کی جرأت پہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھا۔وہ جتنا حیران ہوتا اتنا کم۔
آٸینہ پری سے اپنے بال چھڑوارہی تھی۔پر پری کا فالحال کوٸی موڈ نہیں تھا۔
پری پلیز چھوڑو میرے بال مجھے درد ہورہا ہے ۔ہمان پلیز مجھے بچاٶ۔وہ روہانسی ہوتج ہمان سے مدد طلب کرنے لگی۔
نام مت لو ہمان کا۔
ہمان نے پری سے آٸینہ کے بال چھڑوانے کی کوشش کی۔
اس نے پیچھے سے پری کے بازو پہ ہاتھ پھیرتے ہوۓ اس کی کلاٸیاں سختی سے تھام کر ہلکی سی مروڑی۔پری نے درد کی وجہ سے جون ہی بالوں پہ گرفت ہلکی کی ہمان نے فوراً سے بیشتر اسے اپنے حصار میں قید کرلیا۔
چھوڑو مجھے میں اس کے بال نوچ لوں گی۔سارے بال نوچ لوں گی۔اس کامنہ بھی نوچ لوں گی۔ چھوڑو مجھے
گو اوے آٸینہ ۔گو۔جاٶ یہاں سے ۔
اس کے نہ ہلنے پر ہمان نے اسے پھر سے مخاطب کٕا۔
آٸینہ اپنے کمرے میں جاٶ۔
ہمان۔وہ جو اس کی طرف متوجہ تھا پری کی ہلکی سی آواز پہ اسے دیکھا۔جو نیم بے ہوشی میں اس کے ہاتھوں میں بے جان سی پڑی تھی۔
اس کی آنکھیں بند ہونے کو تھیں ۔ سانس مدھم چل رہی ۔وہ کچھ بڑبڑا رہی تھی ۔ہمان نے نہیں سنا۔پری! کیا ہوا ہے آنکھیں کھولو پری۔ پری!.اوہ میرے اللہ کیا ہوگیا اسے۔
اٹھو پری۔
وہ متفکر سا اپنے سینے سے لگی پری کے گال تھپتھپا رہا تھا۔
م۔میں اسے نہیں چھوڑوں گی۔میں بال نوچ لوں گی۔
یا اللہ تیرا شکر ہے۔ وہ نیم بے ہوشی میں بول رہی تھی۔شاید سر دردتھا اسے جو وہ اپنے زور سے پکڑے ہوۓ تھی۔
ہمان نے اسے گود میں اٹھایا اور کمرے میں لا کر بیڈ پر بلینکٹ اوڑھا دیا۔وہ کافی دیر تک وہی اس کے پاس بیٹھا رہا۔وہ نیم بے ہوشی میں تھی۔
ناک سے پھر خون بہنے لگا تھا۔وہ پھر کچھ منہ ہی منہ میں رہی تھی۔ہمان نے اپنا رومال نکال کر اس کے نکا سے بہتا خون صاف کیا۔
خون رکنے والا نہ تھا۔خون ایسے بہتا بھی نہ تھا۔ ایسے مریضوں میں جب وہ حد سے زیادہ ٹینشن لیں یا ڈیپریشن کا شکار ہوں تو ان کا سر شدید درد کرنے لگتا ہے۔جس کے نتیجے میں دماغ کی نسوں میں رواں خون جامد ہوجاتا ہے ہھر ناک کی طرف کی نالیوں کا خون ناک کے زریعے بہنے لگتا ہے۔
جس کی تکلیف حد سے سوا ہوتی ہے۔ہمان نے پھر خون صاف کیا او رومال اس کی ناک پہ رکھے وہ کمرے سے نکلتا چلا گیا۔قریباً پونے گھنٹے بعد وہ آیا تو اس کے ہاتھ میں سرینجیز اور دواٸیں تھیں۔
اس میں سے ایک سرینج نکال کر اس نے گلاس بوٹل کو ہلکی سی ضرب لگا کر توڑا۔پھر سرینج میں وہ محلول بھرا اور بوٹل کوڑے دان میں ڈالے وہ پریکی طرف پلٹا۔
پری آستینیں اوپر کیے اس نے سوٸی کی نوک اس کے بازو کی جلد پہ رکھی اور اللہ کا نام لے کر انجیکشن اندر گھسایا اورسار محلول اس کے جسم میں اتار کر سرینج باہر نکال کر پھیک دی۔
آدھا گھنٹا لگا تھا۔خون بہنا بند ہوگیا۔ہمان اس کے پاس ہی وہیں کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔پھر قریباً فجر کی اذانوں کے وقت وہ اٹھ کر مسجد نماز پڑھنے چلا گیا۔
ساری رات اس نے ایک پل بھی سو کے نہیں دیکھا تھا۔اسے پری کی فکر تھی کہیں وہ پھر سے نہ اٹھ جاۓ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ آرام سے ایک جگہ بیٹھ نہیں سکتے۔سارہ نے حماد کے چکر کاٹنے پہ تلملا کے کہا۔ تم تو چپ ہی رہو سارہ۔میرا میٹر آلریڈی شارٹ ہے۔ایسا نہ ہو شارٹ ٹیمپر ہو جاۓ۔وہ غصے سے تلملاتا ہوا بولا۔آپ کا بھی میٹر ہے۔
وہ رازداری سے پوچھ ہی بیٹھی۔ ہاں میرا میٹر ہے۔ پر وہ تمہارے بھاٸی کی طرح خراب نہیں ہے۔ پر شارٹ تو ہے نہ۔
وہ فوراً بولی کیسے سنتی پنے بھاٸی کی براٸی۔
میرا میٹر تو اب شارٹ ہوا ہے۔ تمہارے بھاٸی کا تو پیداٸشی دماغ خراب ہے۔
وہ سارہ کے قریب رکا اور ایک ایک لفظ چبا کے بولا۔وہ جو اطمینان سے بیڈ پہ بیٹھی اس کے خاموش ہونے کی راہ تک رہی تھی،ایک دم کھڑی ہوگٸی۔ہاں اس کا دماغ پیداٸشی خراب ہے پر آپ کی تو پیداٸش ہی خراب۔
وہ غصے سے تنے نقوش لیے اسے دیکھ کر بولی۔
اور اس خراب پیداٸش والے انسان کی تم بیوی ہو۔وہ بھی دو بہ دو بولا۔ہاں میری قسمت میں تم جیسا چمار جو لکھا تھا۔وہ کون سا کم تھی برابر کے مقابلے اتر آٸی تھی۔
میں یعنی میں آرمی کا ہینڈسم بواۓ تمہیں چمار لگتا ہوں۔ہوں۔وہ حیرت سے بولا۔کوٸی شک ہے۔ سارہ کے بولنے پہ وہ آنکھیں پھاڑے اسے یک ٹک دیکھے گیا۔ نا شکری کی اعلیٰ مثال تھی وہ۔
آٸینہ دیکھو جاکے۔ اسے انگلی سے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف اشارہ کیا۔فار گاڈ سیک سارہ نام بھی مت لو اس فرنگی لڑکی کا میرے بس میں ہو نہ تو بنا شوٹ کیے ہی شمشان گھاٹ پہنچا دوں۔
حماد زرا تمیز سے وہ میری ہونے والی بھابھی ہے۔اوہ رہنے دو بھابھی۔اس نے ناک سے مکھی اڑاٸی۔
سارہ مجھے ہمان پہ شدید غصہ آ رہا ہے وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے۔لڑکیاں تو ہوتی ہی ایسی ہیں جزباتی اور نادان پری نے بھی کسی بات پہ اڑ کر نہ کر دی ہو گی۔عقل کا تقاضا یہ تھا کہ ہمان اس کی ایک نہ سنتےہوۓ سب بڑوں کی مرضی سے شادی رکھوالیتا۔ایک بار شادی ہوجاتی پھر وہ دونوں خود سیٹ ہو جاتے
میں آپ کی بات سے زحمت ہوں۔پر یہ ہمان کی زندگی ہے۔اس بارے میں و پہلے ہی سب سے دو ٹوک بات کر چکا ہے۔مزید کچھ بھی کہنا یا کرنا بے کار ہے۔
وہ سب تو ٹھیک ہے پر مجھے تمہارا اس شیشے والی لڑکی۔آٸینہ نام ہے اس کا۔سارہ نے گویا نام یاد کروایا۔
ارے ہاں ہاں جو بھی ہے آٸینہ ڈاٸینہ۔ایک ہی ہے سب چلتا ہے۔ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ تم مجھے اس کے پاس اس باتیں کرتی نظر نہ آٶ ورنہ میرے عتاب سے پھر بچ کے دکھانا۔
حماد آپ کا میٹر واقع شارٹ ہوگیا ہے۔گھر میں شادی ہے اور وہ میری ہونے والی بھابھی ہے میں اس کی اکلوتی نند ہوں۔
تو کیا کروں نند ہو تو۔کون سی کتاب میں لکھا ہے کہ بھابھی کے آگے پیچھے گھوموں۔
آپ سے بات کرنا بے کار ہے حماد۔ وہ بولتے ہوۓ کمرے سے نکل گٸی۔ہاں تو مت کرو اس ڈاٸینہ سے بات کروں جا کے۔ ڈاٸینہ نہیں آٸینہ نام ہے اس کا۔
ایسی سیچوٸیشن میں بھی وہ اپنے شرارتی انداز پہ قابو نا رکھ پاٸی اور وہیں سے حماد کی حالت پہ پر زور قہقہہ لگا کر پھر سے اس کے نام کی تصحیح کی۔
اور وہ پیر پٹخ کر آفس روانہ ہوگیا۔شام میں اسے جلدی گھر آنا تھا ہمان نے سنگیت کا فنکشن رکھا تھا ۔جس میں قریب قریب کے سب رشتہ دار موجود تھے۔حماد تو سنگیت کا سن کر ہی بے یقینی کے عالم میں ہمان کو دیکھنے لگا۔لیکن ہھر سر جھٹک گیا۔آج کل وہ ہر نا قابلِ یقین کام سر انجام دینے پہ تلا ہوا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زویا بھابھی کافی ملے گی۔زین نے کچن میں آ کر زویا کو کام کرتے دیکھ کر کہا۔ توقع تو عالیہ کر رہا تھا۔کیونکہ اکثر کچن میں وہی کام کرتی پاٸی جاتی تھی۔وہ سخت بے زار ہوا تھا۔نکاح کے بعد سے ہی وہ عالی سے بات نہیں کر ایا نا ہی ادسے موقع ملا۔
گھر میں ایک کے بعد ایک مسلے جو کھڑے ہوۓ تھے ۔زین تو اپنے نۓ رشتے کو وقت ہی نہ دے پایا۔ کچھ اور چاہیے کافی کے ساتھ۔زویا کی آواز پہ وہ سوچوں کی دنیا سے باہر آیا۔
تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے زین۔ زویا نے دیکھا وہ ہلکا ہلکا اپنا سر مسل رہا تھا۔ہممم ہاں ٹھیک ہوں میں۔
ٹھیک ہے تم اوپر جاٶ میں کافی وہیں بھجوادوں گی۔
وہ مسکراکر بولتی دوبارہ کام میں لگ گٸی۔
زین اپنے کمرے کی طرف بڑھا تو نظر سامنے کھڑی ممتا پہ گٸی۔وہ بالکل خاموش سی بیٹھی تھیں۔زین ان کے پاس چلا آیا۔ممانی جان طبیعت تو ٹھیک ہے نا آپ کی۔
وہ ان کے پاس گٹھنوں کے بل بیٹھ کر فکرمندی سے پوچھ رہا تھا۔
کچھ نہیں زین بیٹا بس یونہی۔وہ بات ٹال گٸیں جبکہ پریشانی چہرے سے صاف عیاں تھیں۔جھوٹ بولنے میں آپ فیل ہو گٸی ہیں۔ چلیں اب بتاٸیں جلدی سے کیا بات ہے۔
زین۔و۔وہ ۔ زین کے پوچھنے پہ وہ سسک اٹھیں ۔زین مزید پریشان ہوگیا۔
ممانی جان کیا ہو گیا ہے آپ کو۔پلیز ایسے نہ روٸیں۔چلیں اٹھیں میرےساتھ کمرے میں چلیں اورمجھے بتاٸیں کیا بات ہے کیوں پریشان ہیں۔
چلیں جلدی سے اٹھیں شاباش۔ زین نے ممتا کو پیار سے پچکار کے اٹھایا اور بازو کے حلقے میں انہیں لیے ان کے کمرے میں آ گیا۔
بیٹھیں یہاں اور خبردار جو آپ روٸیں۔ورنہ میں سمجھوں گا کہ آپ صرف نین سے ہی پیار کرتی ہیں مجھ سے نہیں۔اس کی دھمکی پہ ممتا کچھ کہہ نہ سکیں۔وہ اس وقت ان کو کتنا اپنا اپنا سا لگا تھا۔نہیں۔ وہ تو ان کا اپنا ہی تھا۔
بتاٸیں کیا بات ہے۔
ممتا ایک بار پھر رو پڑیں۔ زین میں نے رات بہت برا خواب دیکھا۔میری پری بہت مصیبت میں پھنس گٸی تھی۔
ہر طرف کالی کھاٸی جیسا اندھیرا تھا اور وہ تن تنہا سن سان سے رستے پر چل رہی تھی۔
پھر اچانک وہ سیدھا رستہ کانٹوں سے بھر گیا۔اس کا پاٶں ان کانٹوں پر لگا تو تکلیف سے اس کی آنکھوں سےآنسوٶں کی جھڑی لگ گٸی۔ پیروں سے خون رسنے لگا تھا۔وہ صبر کر کے مزید آگے گٸی۔تو آگے آگ تھی اور پھر اس سے آگے میری بچی کی ہولناک چیخیں تھیں۔
زین مجھے پری کی بہت فکر ہے۔اسے کچھ ہوگیا تو میں مر مرجاٶں گی۔ بہت نازوں سے پالا ہے میں نے اسے وہ میرے دن رات کی منتوں کا ثمر ہے زین۔
زین ہ صبح فجر کے وقت کا خواب تھا اور صبح صادق کے خواب اکثر سچ ہوا کرتے ہیں۔وہ خوف سے بولےجارہی تھیں۔
اٹس اوکے ممانی وہ صرف خواب تھا۔
شیطان اکثر ہمیں بہکاتا ہے۔۔ہمیں اس کے بہکاوے میں نہیں آنا۔ ہمیں اپنے اللہ کہ رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے اور بس پھر باقی کا کام اس پروردگار کا
بے۔بے شک زنگی موت پہ وہ قدرت رکھتا ہے۔
آپ ہماری بڑی ہیں ۔یاد ہے ۔بچپن میں میں بھی ایسے ہی ایک بار ڈر گیا تھا ۔پھر آپ نے مجھے یہی الفاظ کہے تھے۔زین نے انہیں یاد کروایا۔کچھ دیر بار ممتا نم آنکھوں سے مسکراٸیں۔انہیں یاد آگیا تھا۔
زین انہیں وہاں بیٹھا کافی دیر تک تسلی دیتا رہا ۔پھر اٹھ کر اپنے کمرے میں آگیا۔کافی کمرے میں رکھی تھی ۔زویا نے کہا تھا وہ بھجوادے گی۔
پر اب اس کی طلب نہیں رہی تھی۔عجیب سی پریشانی میں دل مبتلا تھا۔دل ایک انجانے خوف سے بیٹھا جارہا تھا۔اس نے آنکھیں موند کر خود کو پر سکون کرنے کی لاکھ کوشش کی پر بے سود وہ اٹھ کر لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا۔
خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے۔ممتا کی بچپن میں کہی بات اسے فوراً یاد آگٸی۔اس وقت شیطان اس کے دل میں وسوسےڈال رہا تھا۔سو وہ مصروف ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حماد مجھے گھر چھوڑ آٸیں۔شام میں سنگیت کا فنگشن ہے۔
حماد آفس میں بیٹھا ایک ضروری کیس پہ کام کر رہا تھا۔فون کی رنگ ٹون پر اس نے سر اٹھاۓ بغیر کال ریسیو کرکے موباٸیل کان سے لگایا تو سارہ کی آواز پہ اس کے کان کھڑے ہوگۓ۔
نہ سلام نہ دعا۔سارہ تمہیں تو زرا تمیز نہیں۔جب سے آٸینہ کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہوا ہے۔ تم رہی سہی تمیز بھی بھول گٸی ہو۔وہ اس پہ صبح والا غصہ نکال رہا تھا۔
سارہ تو گنگ رہ گٸی۔ بنا کچھ بولے اس نے کھٹاک سے فون بند کردیا۔حماد نے موباٸیل کان سے ہٹا کے دیکھا اور اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ڈالا۔ گاڑی کی چابی اٹھاتا وہ گھر کے لیے روانہ ہوگیا۔
گھر آتے ہی حماد سیدھا روم میں گیا۔سارہ منہ بناۓ بیٹھی تھی۔سارہ چلو ریڈی ہوجاٶ۔پر وہ ہلی تک نہیں۔سارہ اچھا آٸی ایم سوری نا۔
غصہ آ گیا تھا مجھے چلو اٹھو اب۔وہ اس ہاتھ پکڑ کر اٹھانے لگا۔وہ خاموشی سے اٹھ کر چینج کرنے چلی گٸی۔وہ تیار ہو چکی تو حماد نے ایک بھرپور نظر اس کے سراپے پر ڈالی۔ پھر اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا وہ پورچ میں چلا گیا۔
وہ بھی اس کے پیچھے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی گاڑی میں آ بیٹھی۔پورے راستے وہ دونوں خاموش تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کے ساۓ گہرے ہوتے ہی ملک ولا میں رونقوں کا ڈیرہ لگ گیا۔زویا عالی اور عاشی سب تیار ہوچکی تھیں۔ ہمیشہ کی طرح عالی اور عاشی کے کپڑے ایک جیسے تھے ۔پیچ رنگ میکسی پہ سلور جیولری اور کرل بالوں کے ساتھ وہ دونوں ہی بہت پیاری لگ رہی تھی۔
زویا نے ماہیر کے کہنے پہ ہلکے کام والا سلور اور نیوی بلیو رنگ کا لہنگا کرتی پہنا تھا۔ بالوں کو کرل کر کے جوڑے کی شکل دیے اور کانوں میں خوبصورت آویزیں پہنے وہ کافی خوبصورت لگ رہی تھی۔
سارہ بھی آ چکی تھی۔ سب سے مل کر وہ آٸینہ کے پاس آ گٸی۔جو سلور پرل کے باریک کام والی بلیک میکسی پہنے کھڑی تھی۔بالوں کو گلاب کی شکل میں جوڑا بناۓ سلور اٸیر رنگ اور گردن میں نفیس سے نیکلس پہنے وہ بالکل تیار کھڑی تھی۔
سارہ نے اسے مسکرا کر اوکے کا سگنل دیا۔پھر خود بھی تیار ہونے چلی گٸی۔نارنجی شارٹ شرٹ اور گلابی کیپری میں دوپٹہ گلے میں ڈالے جگ مگاتی ہوٸی سارہ باہر نکلی۔آج وہ بہت سٹاٸلش لگ رہی تھی۔
سب سے الگ سب سے منفرد۔ سنگیت کا فنگشن لاٶنج میں ہی منعقد کیا گیا تھا۔
پورا لاٶنج برقی قمقموں سے سجا ہوا تھا۔اور ایک طرف ڈانسینگ فلور بنایا گیا تھا۔فلور کے لیے کوٸی سٹیج نہیں بنایا گیا تھا ۔ بلکہ لاٶنج کے اس حصے کو اس طرز سے سجایا گیا تھا کہ
وہ باقی حصوں سے زیادہ سجا ہوا تھا۔ جگہ جگہ جھل مل کرتی ڈسکو لاٸٹس اور سپوٹ لاٸٹ کا انتظام کیا گیا تھا۔
سب مہمان آ چکے تھے۔
انجی گڑ کلر کی ساڑھی پہنے چہرے پہ مصنوعی مسکراہٹ سجاۓ مہمانوں سے مل رہی تھیں اور ہادیہ بیگم بھی مہمانوں کو دیکھ رہی تھی۔
میسم آج کے فنکش میں شامل ہونے سے انکار کر چکے تھے۔گو کہ انہیں یہ گانا بجانا پسند نہ تھا۔ ابرار صاحب بچوں کی خوشی کی خاطر آگے آگے تھے۔
ممتا اور افی آج بھی ان سب میں شامل نہ تھے۔سارہ اور عاشی آٸینہ کو لیے نیچے آ گٸیں۔عالی پری کے روم میں چلی گٸی۔ہمان اور ماہیر بلیک ڈنر سوٹ پہنے ہمیشہ کی طرح ماحول پر چھاۓ ہوۓ تھے۔
سارہ آٸینہ کو تمام مہمانوں سے ملوا رہی تھی۔
عالی نے پری کے کمرے کا دروازہ کھولا تو وہ باکل تیار سی کھڑکی میں کھڑی تھی۔ عالی نے اس کا رخ اپنی جانب کیا تو وہ مبہوت رہ گٸی۔وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔
ڈیپ ریڈ ویلویٹ کی گولڈن کامدار کرتی شیفون جارجٹ کا ڈیپی ریڈ گولڈن کام دار پاٶں کو چھوتا لہنگا۔دوپٹہ ازل کی طرح کاندھے پہ جھول رہا تھا۔
ڈیپ ریڈ رنگ سے مزین ہونٹ۔سموکی آٸیز۔سنہری زلفیں کھلی تھیں۔گولڈن جھمکے کان میں ہلکورے کھا رہے تھے۔مڑی مڑی سی پلکیں وہ سچ میں حسن سراپا تھی۔ عالی کے دل نے اعتراف کیا تھا۔
یو لوکنگ سو گورجس پری!!۔
عالی نے مسکرا کر اس کی تعریف کی پر اس کے چہرے پہ تو ویرانی ہی ویرانی تھی۔پری جواباً کچھ کہہ نہ سکی اس کی چھنکتی ہنسی توکہیں کھو گٸی تھی۔
آٸینہ اور ہمان کے وہ قربت بھرے لمحے اس کے دل و دماغ میں نقش ہو کر رہ گۓ تھے۔
اس کی آنکھیں نم تھیں۔کتنی مشکل سے اس نے صبح سے خود کو سنبھالا ہوا تھا۔یہ صرف وہی جانتی تھی۔پری نے اپنے امڈتے آنسوٶں کو اندر دھکیلا اور عالی کے ساتھ نیچے آ گٸی۔
جہاں رنگوں کا میلا لگا تھا۔ہر کوٸی خوش تھا۔خوشبوٶں کا ریلا تھا۔ہنسی اور قہقہے تھے۔پری بے رنگ تھی۔ اس کے تو سارے رنگ ہمان سے تھے ۔جو اپنے راستے کتنی آسانی سے الگ کر چکا تھا۔
اس کی زندگی کی جو خوشبوٶں سے مہکتی تھی۔ اب ویران اور بنجر لگنے لگی تھی۔ہنسنا مسکرانا وہ بھول چکی تھی۔
اپنے سامنے ہمان کو کسی اور کا ہوتے دیکھنا کتنا ازیت ناک لمحہ تھانا۔اور پری کی ازیتوں اور تکلیفوں کا تو ویسے بھی کوٸی شمار نہ تھا۔
وہ خاموش ہی تو رہتی تھی۔ہمان نے اسے بولنا ہنسنا مسکرانا زندگی کو جینا سیکھایا۔ اور اب وہی شخص سب چھین لے گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ عالی کے ساتھ چپ سی ایک کونے میں نگاہیں جھکاۓ کھڑی تھی۔آٸینہ اور ہمان کسی مہمان سے مل کر پلٹے تو پہلی فرصت میں ہمان کی نگاہیں اس حسین و جمیل سراپے پہ جا ٹہریں۔
وہ نظریں جھکانا بھول گیا۔نکاح والے دن بھی وہ اتنی ہی پیاری لگ رہی تھی۔آج بھی وہ اتنی ہی حسین لگ رہی تھی۔ صرف نوز پن کی کسر تھی۔دوپٹہ کندھے کے بجاۓ سر پر ٹکا ہونا چاہیے تھا ۔یہ ہمان کی سوچ تھی۔
وہ مسحور کن سا اس ساحرہ کو دیکھ رہا تھا۔جو اپنے حسن کا سحر پھونک رہی تھی۔جب اس کے کانوں میں آواز پڑی۔
دو کشتیوں میں سوار ہونے والا ڈوب جایا کرتا ہے۔ہمان نے چونک کر دیکھا ماہیر گہری نگاہ سے اسے دیکھ رہا تھا۔ آٸینہ سارہ لوگوں کے ساتھ تھی۔
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے یار۔اب بندا دیکھے بھی نہ۔
ہمان نے ماہیر کو ٹالا۔ایک طرف پری اور ایک طرف آٸینہ۔
۔۔۔تو پری سے خفا ہوسکتا ہے محبت کرنا نہیں چھوڑ سکتا۔آٸینہ تیری انا ہے۔ انا سے رشتے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
جہاں محبت ہوتی ہے ۔وہاں انا نہیں ہوتی۔ انا دیمک کی طرح زندگی کو کھاجاتی ہے۔صرف چند روز کا دکھاوا زندگی بھر کا پچھتاوا۔
ہمان کے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ بہت کچھ بول کر آگے چلا گیا ۔جہاں زویا کھڑی اسے ہی مسکراکر دیکھ رہی تھی….
جاری ہے
