Pari By Shanzey Rajpoot NovelR50762 Pari By Shanzey Rajpoot Episode38
No Download Link
828.1K
52
Rate this Novel
Pari By Shanzey Rajpoot Episode01 Pari By Shanzey Rajpoot Episode02 Pari By Shanzey Rajpoot Episode03 Pari By Shanzey Rajpoot Episode04 Pari By Shanzey Rajpoot Episode05 Pari By Shanzey Rajpoot Episode06 Pari By Shanzey Rajpoot Episode07 Pari By Shanzey Rajpoot Episode08 Pari By Shanzey Rajpoot Episode09 Pari By Shanzey Rajpoot Episode10 Pari By Shanzey Rajpoot Episode11 Pari By Shanzey Rajpoot Episode12 Pari By Shanzey Rajpoot Episode13 Pari By Shanzey Rajpoot Episode14 Pari By Shanzey Rajpoot Episode15 Pari By Shanzey Rajpoot Episode16 Pari By Shanzey Rajpoot Episode17 Pari By Shanzey Rajpoot Episode18 Pari By Shanzey Rajpoot Episode19 Pari By Shanzey Rajpoot Episode20 Pari By Shanzey Rajpoot Episode21 Pari By Shanzey Rajpoot Episode22 Pari By Shanzey Rajpoot Episode23 Pari By Shanzey Rajpoot Episode24 Pari By Shanzey Rajpoot Episode25 Pari By Shanzey Rajpoot Episode26 Pari By Shanzey Rajpoot Episode27 Pari By Shanzey Rajpoot Episode28 Pari By Shanzey Rajpoot Episode29 Pari By Shanzey Rajpoot Episode30 Pari By Shanzey Rajpoot Episode31 Pari By Shanzey Rajpoot Episode32 Pari By Shanzey Rajpoot Episode33 Pari By Shanzey Rajpoot Episode34 Pari By Shanzey Rajpoot Episode35 Pari By Shanzey Rajpoot Episode36 Pari By Shanzey Rajpoot Episode37 Pari By Shanzey Rajpoot Episode38 (Watching)Pari By Shanzey Rajpoot Episode39 Pari By Shanzey Rajpoot Episode40 Pari By Shanzey Rajpoot Episode41 Pari By Shanzey Rajpoot Episode42 Pari By Shanzey Rajpoot Episode43 Pari By Shanzey Rajpoot Episode44 Pari By Shanzey Rajpoot Episode45 Pari By Shanzey Rajpoot Episode46 Pari By Shanzey Rajpoot Episode47 Pari By Shanzey Rajpoot Episode48 Pari By Shanzey Rajpoot Episode49 Pari By Shanzey Rajpoot Episode50 Pari By Shanzey Rajpoot Episode51 Pari By Shanzey Rajpoot Last Episode
Pari By Shanzey Rajpoot Episode38
Pari By Shanzey Rajpoot Episode38
شادی تو میری ہوگی۔اور اسی دن ہوگی جس دن میں چاہوں گا۔تم میری دلہن سجاٶ گی پری بہت شوق ہے تمہیں وقتی جزبے آزمانے کا“
”اب میں تمہیں آزماتا ہوں دیکھتا ہوں کتنی برداشت ہے تم میں۔تمہیں مجھ سےشادی نہیں کرنی ۔نہیں کرو پر میری دلہن تم سجاٶ گی۔شادی کی ساری رسمیں تم کرو گی۔
بصورت دیگر محبت میں ہارے ہوۓ لوگوں کا انجام تم جیسے بے وفا لوگ باخوبی جانتے ہیں“۔
انتہاٸی سر بے لچک لہجے میں کہتا وہ ایک سیکنڈ کی بھی تاخیر کیے بنا لمبےلمبے ڈگ بھرتا پورچ میں کھڑی گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔
پری کا دل خوف سے کانپنے لگا تھا۔یہ ستم کم تھا کیا اسے اپنی زندگی کے چند دن بھی ہمان کے بغیر گزارنے تھے جو ہمان اس پہ ایک اور دھماکا کر گیا۔
محبت کے بعد جہاں کچھ نہیں ہوتا وہاں۔اجل ہوتی ہے۔
رورتے سسکتے وہ اپنے کمرے میں آ گٸی۔پوری رات اس کی آنکھوں میں کٹی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمان بنا مقصد ہی سڑکوں پر گاڑی دوڑاتا رہا۔پری اس کے لیے کیوں اتنی مشکلیں کھڑی کر رہی تھی وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔پورچ میں آکے اس نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی اور سر سیٹ کی پُشت سے ٹکاکر آنکھیں بند کر لیں دو آنسو چپکے سے نکل کر بالوں میں جذب ہوگۓ۔
وہ اندر آیا پورا گھر سناٹے میں ڈوبا ساٸیں ساٸیں کر رہا تھا یقیناً سب سو چکے تھے ۔
وہ دھیمی چال چلتا ڈاٸیننگ ٹیبل پر رکھے جگ سے پانی نکالنے لگااندر ایک آگ لگی تھی ایک جنگ چھڑی تھی۔گلاس لبوں سے لگاتا وہ گٹاگٹ سارہ پانی چڑھاگیا۔اگلے ہی لمحے اس کی نظر یونہی فرش پہ پڑی۔
تو اس نے جھک کر نیچے پڑی شے اٹھاٸی۔دماغ پر زور ڈالنے پہ اسے اچھی طرح یاد آیا۔یہ پری کے دوپٹے پہ لگی موتی کی لڑیوں میں سے ایک لڑی تھی۔جو نیچے شاید ٹوٹ کر کسی چیز میں الجھ کر گری ہو۔
ہمان نے اسے دو انگلیوں سے پکڑ کر اپنے سامنے لہرایا۔اورپر سوچ نظروں سے دیکھتا ایک جزب سے اپنی مٹھی میں قید کر لیا۔
بہت سی سوچیں اس کے دماغ میں جنم لے رہی تھیں۔تو ماجرہ یہ ہے مسز ہمان۔محترمہ اب تک نہیں سوٸیں۔اب تک میرے انتظار میں تھیں۔میری اتنی فکر۔ اب تو بہت کچھ کرنا پڑے گا۔
پہلے تو تمہاری باتیں مجھے سچ لگیں کہ شاید واقع اپنی حساس طبیعت کی بنا پر تمہیں وقتی لگن ہو مجھ سے۔ پر ایسا کچھ نہیں جانتا ہوں میں۔محبت تمہیں بھی ہے۔
سب جھوٹ بول کر کوٸی ایک سچ چھپا گٸی ہو۔تمہارا ہمان تمہیں تم سے زیادہ جانتا ہے۔
اب دیکھو میں کیا کرتا ہوں۔
اس کے لبوں پہ تبسم کا پہرا تھا۔آنکھوں میں پھر وہی چمک۔
ہمان کے اندازے کے مطابق پری ہمان کے انتظار میں اس کے گھر نہ آنے تک جاگ رہی تھی۔ شاید اس کی گاڑی کی آواز پہ وہ اندر گٸی ہوگی تبھی اس کا دوپٹہ کسی چیز میں اڑا ہوگا۔
ہمان گیا ہی اتنے غصے میں تھا اسی لیے شاید وہ اس کی فکر میں اب تک جاگ رہی تھی۔
کہ کہیں وہ غصے میں خود کو کوٸی نقصان نہ پہنچالے۔
ہمان یہ سب سوچ کر مسکراتا اپنے کمرے میں آگیا۔
اب آگے دیکھنا تھا ہمان کے ایکشن پہ پری کا کیا ری ایکشن ہوگا۔
وہ سوچ کر ہی مسکرادیا وہ تو ہمان کو کسی کے ساتھ کھڑا بھی نہیں ونے دیتی تھی۔ کجا کے اسی کی دلہن وہ بھی اپنے ہاتھوں سے سجاۓ ۔ہاں وہ اس کے بال وال ضرور پھاڑ دے گی۔منہ بھی نوچ لے گی۔
ہمان کو بے اختیار پری کی وہ منہ نوچنے اور بال نوچنے والی بات یاد آٸی۔
________
لاٶنج میں سب ہی نفوس خاموشی و بے صبری سے ہمان کا انتظار کر رہے تھے۔ہمان نے صبح صبح ہی سب کو فون کھڑکا کے ملک ہاٶس میں جمع ہونے کو کہا تھا۔
سب لوگ پریشان سے بیٹھے ایک دوسرے کو تک رہے تھے۔عاشی بے زار سی بیٹھی گردن کبھی ادھر جھٹکتی تو کبھی ادھر۔ صاف ظاہر تھا جیسے کہہ رہی ہو۔
” ناجانے کون سا مرگی کا دورہ پڑا تھا۔ اس ٹیڑھے شخص کوجو خامخواہ صبح صبح حلال کمیٹی کا اجلاس بٹھادیا“
ماہیر بے چارہ ہر پانچ منٹ بعد اپنی کلاٸی پہ موجود رسٹ واچ پہ نظر ڈالتا اور پھر ایک نظر سیڑھیوں پر
”سب کو بلا کے ناجانے موصوف خود کہاں گم ہیں“۔ماہیر صرف سوچ سکا ویسے بھی کافی کم گو تھا۔
میسم بھی سامنے صوفے پہ بیٹھے ہمان کا انتظار کر رہے تھے۔جب دھپ دھپ کرتا ہشاش بشاش سا ہمان سیڑھیاں پھلانگتا نیچے آیا۔آج گزرے دنوں کے مقابلے وہ کافی خوش اور ہینڈسم لگ رہا تھا۔
سفید چکن کے کرتے پاجامے میں بلیک کھدر کی شال گردن کے گرد لپیٹے ہمیشہ کی طرح ڈیسینٹ لگ رہا تھا۔اس نے ایک بھرپور نظر سب پر ڈالی سب موجود تھے۔
سواۓ ایک شخص کے اور وہ کون تھا۔ سوچتے ہی ہمان کےہونٹوں پہ مدھم سی مسکراہٹ نے گھیرا ڈالا جسے وہ باآسانی چھپا گیا۔
اس سے پہلے کے میسم صاحب یا کوٸی اور کچھ بولتا ہمان خود ہی بول پڑا۔دونوں ہاتھوں کو کراس میں باہم ملاۓ اس نے سب کو دیکھتے ہی اپنی بات کا آ غازکیا۔
”مجھے آپ سب سے اپنے بارے میں کچھ ضروری باتیں کرنی تھیں۔بات دراصل اتنی سی ہے کہ چونکہ حالات قدرے سنبھل چکے ہیں۔گھر کا ماحول بھی خاصا پر سکون ہے۔اب جبکہ سب کچھ سب پہلے جیسا ہوچکا ہے توحالات کو دیکھتے ہوۓ شادی کی جو تقریبات روک دی گٸی تھیں۔انہیں اب بحال کرنا چاہیے“۔
”صاف لفظوں میں کہوں تو شادی کی تیاریاں شروع کردیں۔اب کوٸی رکاوٹ نہیں آۓ گی“۔ ان شاء اللہ۔
جہاں میسم صاحب کے گلے میں بری طرح پھندہ لگا تھا۔وہیں ممتا اور افی نے کرب سے ایک دوسرے کو دیکھتے اپنے آنسو ضبط کیے۔یہ ایک کڑا امتحان تھا۔
”اس کا مطلب بھاٸی صاحب نے ہمان سے اب تک کوٸی بات نہیں کی اسے کچھ نہیں بتایا۔جبھی ہمان شادی کی بات کر رہا ہے“۔ممتا اور افی اپنی اپنی جگہ سوچوں کے تانے بانے بن رہے تھے۔
”جو بھی ہو پر مجھے ہمان سے ہر حال میں بات کرنی پڑیے گی۔ورنہ اس طرح تو میری پری گھٹ گھٹ کر مر جاۓ گی۔اس کی بیماری نہ صحیح لیکن اسے ہمان کی جداٸی مار ڈالے گی۔وہ نہیں سہہ پاۓ گی یہ جداٸی“۔
سب کے چہروں پہ خوشی کی رمق دوڑ گٸی تھی۔ سارہ اور ماہیر تو اپنے بھاٸی کی خوشیوں کے لیے دل سے دعا گو تھے۔نین نے پریشانی کے عالم میں ہمان کو مخاطب کیا۔
”ہمان پری پہلے سے بہتر ہے۔ مگر وہ اس حالت میں نہیں کہ وہ یہ سب برداشت کر سکے۔مجھے نہیں لگتا ان حالات میں یہ سب موزوں ہے۔کیونکہ پری مینٹلی طور پر کافی ڈسٹرب ہے۔وہ اب تک اس حادثے کے اثر سے باہر نہیں آٸی“۔
”کوٸی بات نہیں سالے صاحب اس کا بھی انتظام میں کرچکا ہوں۔سو ڈونٹ بی وریڈ“۔
ہمان کا انداز نین کو کافی عجیب لگا۔
”مجھے آپ سب سے ایک او بات کرنی ہے۔اب کیا بات کرنی ہے یار“۔
ماہیر جو ہمان کی بات ختم ہوتے ہی صوفے سے اٹھنے لگا تھا دوبارہ بیٹھ گیا۔اسے آفس سے کافی لیٹ ہوگیا تھا۔
”دراصل مجھے آپ لوگوں کو کسی سے ملوانا ہے“۔
آٸینہ!!!!۔
ہمان کی پکار پر ایک خوبصورت سمارٹ سی دوشیزہ قدم قدم چلتی ہمان کے برابر آ کھڑی ہوٸی۔
سب لوگ حیرت کا مجسمہ بنے اسے دیکھ رہے تھے۔
گولڈن کندھوں سے نیچے تک آتے سٹریٹ بال۔تراشیدہ گلابی رنگ سے پوشیدہ ہونٹ۔کھلتی سفید رنگت۔ٹخنوں سے زرا اوپر تک آتی ٹاٸٹ جینس کے اوپر بسکیٹی رنگ کی شرٹ اور اس پہ بلیک شرک پہنے۔سر پہ بلیک گاگلز لگاۓ۔ہاتھ کی کہنی میں ہینڈ بیگ لٹکاۓ ہاتھ میں سمارٹ فون پکڑے وہ لڑکی چلتی پھرتی مغریبی ثقافت کا منہ بولتا ثبوت تھی۔
”چلتی پھرتی آٸیٹم“
اسے دیکھ کر زین کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا۔پر اگلے ہی لمحے وہ درد سے بلبلا اٹھا۔عالی جو اس کے برابر میں براجمان تھی۔اس نے اپنی سلیپر زور سے زین کے پاٶں پہ دے ماری۔زین نے گھور کر اسے دیکھا جو پہلے سے اسے گھور کر دیکھ رہی تھی۔
”نا محرم ہےوہ“۔”اپنی نظریں جھکا کے رکھو ورنہ تمھارے یہ دونوں انٹے پھوڑ ڈالوں گی“۔
وہ اسی کی آنکھوں کی طرف اشارہ کرتی پھنکار کر بولی۔زین تو سکتے میں آ گیا۔یہ نکاح کے بعد عالی کی پہلی گفتگو تھی اس کے ساتھ۔وہ بھی اتنی دہشتگردانہ۔
اس نے سہم کر تھوک نگلا اللہ ہی حافظ ہے زین تیرا۔شادی کے بعد تو یہ پٹخ پٹخ کر مارے گی۔
”یہ میری دوست“۔۔۔اس سے پہلے کہ ہمان اس کا تعارف کرواتا وہ مسکرا کر ہمان کو اشارے سے منع کر گٸی کہ میں خود ہی اپنا تعارف کرواٶں گی۔
”ہیلو ایوری ون ۔میں آٸینہ ہوں۔ہمان کی یونی فیلو اور اس کی فرینڈ بھی“۔سب نے قدرے تعاجب سے اس آٸینہ نامی لڑکی کو دیکھا۔پہلے تو کبھی ہمان کی کوٸی بھی فرینڈ اس طرح منظرِ عام پر نہ آٸی پھر اب یہ ۔۔۔۔
”وہ سب تو ٹھیک ہے ہمان پر یہ یہاں۔ہمارا مطلب ہے کہ“ انجی کی بات بیچ میں ہہی رہ گٸی ہمان بیچ میں ہی بول اٹھا۔”میں سمجھ رہا ہوں انجی آپ کیا کہنا چاہتی ہیں“۔
”میں آٸینہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں “۔
ہمان نے سب کے سروں پر بم پھوڑا تھا۔
انجی نین ممتا اور افی شاکڈ رہ گۓ باقی سب کا بھی یہی حال تھا۔
”ہمان آ۔آ۔آپ۔یہ۔یہ۔ک۔ک۔کیا کہہ رہے ہیں“۔دکھ اور صدمے کی
کیفیت سے نجی کے لفاظ ان کا ساتھ چھوڑ گۓ۔سب پھٹی پھٹی آنکھوں سے ہمان کو دیکھنے لگے۔
”تیرا دماغ خراب ہو گیا ہے ہمان“!!!!!!!
”تو پری کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے۔آخر ایسی بھی کیا آفت آ گٸی ہے۔جو تو اس چلتی پھرتی مغریبی حسینہ سے شادی کرنے کے پر تول رہا ہے“۔
نین آگے بڑھ کر ہمان کی گردن ہی دبوچ لیتا۔
جو اگر بروقت انجی اس کا بازو اپنی گرفت میں نہ لیتیں۔ گرفت اتنی مضبوط نہیں تھی ۔پر نین انجی کی عزت کرتا تھا۔اس لیے چپ ہو وگیا۔
اس لیےوہ ر ک بھی گیا ۔پر وہ ہمان پہ بری طرح دھاڑا تھا۔
”کل تک جس کی ایک زرا سی تکلیف پہ تیری آہیں نکل جاتی تھیں۔آج خود اسے زندگی بھر کا زخم دینے جا رہا ہے“۔
”تو پری کو دھوکا دے رہا ہے“۔
دل میں اس کے ٹیس سی اٹھی تھی وہ ایسا تو نہ تھانہ ہی بے وفاٸی اس کے مزاج و طبیعت کا خاصا تھی ۔
”ہمان تم پری کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔ممتا نم آنکھوں سے ہارےہوۓ انداز میں بولیں یہ تو ایک نہ ایک دن ہونا ہی تھا ممتا شاید پری کے نصیب میں یہی لکھا ہے۔افی نے ممتا کو سنبھالا“۔
”یہ میری زندگی ہے۔ایسے کیسے کسطرح کس کے ساتھ گزارنا ہے میں باخوبی سمجھ سکتا ہوں۔عاقل ہوں۔بالغ ہوں۔اور شعور بھی رکھتا ہوں۔اپنی زندگی کے فیصلے لینا کا میں پورا پورا حق رکھتا ہوں۔“
”کسی میں ہمت ہے تو روک لے“۔
”اور ویسے بھی جب پری کو کوٸی اعتراض نہیں ہے تو آپ لوگ کیوں اتنا ڈرامہ کرییٹ کر رہے ہیں“۔
”کیا مطلب۔آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ہم کچھ سمجھے نہیں۔
انجی قدرے نا سمجھی سے ہمان سےپوچھا“۔
”مطلب یہ کہ بلاٸیں ابھی اسی وقت پری کو اور پوچھیں اس سے کہ وہ کیا چاہتی ہے“۔
پرشوق نظریں عجیب نرم لہجہ بالکل ایسے جیسے واقع ہمان کو کوٸی فرق نہ پڑتا ہو جیسے وہ ازل سے ہی ایسا ہو۔
پر اس کے اندرکا حال کون جانے وہ رب جانے جو سب جانے۔
”اگر وہ شادی کرنے کے لیے تیار ہے تو ٹھیک میں تو ایز آلویز ریڈی ہوں ۔لیکن اگر وہ راضی نہیں ہے۔تو آپ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں خاموشی نیم رضامندی“۔
”میں ابھی بلا کر لے آتا ہوں پری کو۔وہ تمہیں اچھی طرح کرواتی ہے دوسری شادی“۔نین ایک ایک لفظ چبا چب کے کہتا اوپر پری کے کمرے میں چلا گیا۔
نین نے کافی منتیں ترلے کر کے پری کو نیچے آنے کے لیے راضی کیا۔
پری کے موڈ سے تو اندازہ اسے ہو ہی گیا تھا کہ دونوں کے بیچ کوٸی نہ کوٸی بات ضرورہوٸی ہے۔لیکن ہمان کی تھوڑی دیر پہلے والی کارواٸی کو وہ بلکل بھی متوقع نہیں کر رہا تھا کہ وہ اتنا بڑا قدم وہ بھی بنا سوچے سمجھے بغیر کسی کی اجازت سے اٹھا لے گا۔
وہ پری کو نیچے لے آیا۔گھر کےسب لوگوں کے بیچ اسے اپنا آپ عجیب لگ رہا تھا۔بلیک نیٹ کی کرتی اور چوڑی دار پاجامے میں دوپٹہ ایک کندھے پہ لٹکاۓ وہ ہمیشہ کی طرح سر جھکاۓ کھڑی تھی۔
سنہری زلفیں پشت پر بکھری تھیں۔چہرہ بالکل میک اپ سے عاری صاف و شفاف تھا۔
پیروں میں سلیپر پہنے وہ ناجانے کیوں اپنے ہی پیروں کو گھورنے لگی۔
ہمان اسے یک ٹک دیکھے گیا۔کل رات کے بعد اب اس کنچن کو دیکھا تھا۔اس نے اپنے دل پر پتھر رکھنےکا فیصلہ کر لیا تھا۔
جب وہ ہی اس کے ساتھ رہنے کو راضی نہیں تو ہ کیوں اپنی زندگی کو اجیرن بنالے۔ وہ اپنے لیے ایک مضبوط فیصلہ لے چکا تھا اب بس اس پر عمل کرنا تھا۔
”پری میں آٸینہ سے شادی کر نا چاہتا ہوں۔تمہیں کوٸی اعتراض تو نہیں“۔
پری نے جھٹ سے جھکا سر اٹھا کےہمان کو دیکھا۔دونوں کی نظریں ملی۔پر دونوں طرف معاملات الگ تھے ایک کی دھڑکن تیز ہوٸی تھی تو دوسرے کے دل میں جیسے درد کی لہر دوڑ گٸی۔
کیا کیا نا دیکھا ہمان نے ان آنکھوں میں۔شکوہ و شکایات۔دکھ۔ رنج وغم۔ اوررل بھی بہت کچھ ۔ہمان اسے دیکھتا رہا پری نے نظریں پھیر لیں۔
چہرے پہ پھر سے وہی سرد مہری سجاۓ وہ پورے اعتماد سے وہ اب ہمان کے برابر کھڑی اس دوشیزہ کو دیکھنے لگی۔
”مجھےکوٸی اعتراض نہیں۔ چاہے جتنی مرضی شادیاں کریں۔بس میری جان چھوڑ دیں“۔
سب نے سکتے کے عالم میں پری کو دیکھا۔آج صبح سے ہی انہیں شاکڈ پہ شاکڈ مل رہے تھے۔یہاں کھڑا کوٸی شخص کچھ کہنے کے ابل نہ رہا۔سب کی زبان مانوں تالو میں بند ہو گٸی۔
انتہاٸی ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کہتی وہ بغیر ایک لمحے کی بھی تاخیر کیے جیسے آٸی تھی۔ ویسے ہی خاموشی سے چلی گٸی۔
”سن لیا آپ سب نے میں تو چاٸینیز زبان میں بول رہا تھا۔آپ لوگوں نے خود پری کے منہ سے سنا اسے کوٸی پروبلم نہیں تو کسی کو بھی نہیں ہونی چاہیے“۔
”مجھے پوری امید ہے کے آپ لوگ آٸینہ کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھیں گے۔آخر کو یہ گھر اس کا بھی ہے“۔
”ویل یہ یہیں رہے گی“۔”یہاں کیوں رہیں گی“۔یہ بولنے والی انجی تھی لہجے میں زرا غصہ درإٓیا تھا گو کہ وہ غصہ کبھی بھی کرتیں نہ تھیں یہ تو ان کی عادت میں شامل ہی نہ تھا۔پر پھر بھی انہیں ہمان پر غصہ آ گیا۔
”انجی شادی کے بعد بھی آٸینہ نے اسی گھر میں رہنا ہے۔اب بھی رہ لے گی تو اچھا ہی ہے نہ آپ سب کے ساتھ گھل مل جاۓ گی“۔
انجی غصے سے پیر پٹختی وہاں سے چلی گٸیں۔سارہ آنکھیں سکیڑے آٸینہ کو دیکھ رہی تھی ایسے جیسے پہچاننے کی سعی کر رہی ہو۔ ماہیر نے اس کی آنکھوں کے آ گے چٹکی بجاٸی۔سارہ ایک دم ہڑبڑا گٸی۔
”ایسے کیا دیکھ رہی ہو پہلی بار دیکھی ہے لڑکی۔ن۔ن۔نہیںم۔ماہیر۔بھاٸی میں بس دیکھ رہی مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں نے اسے کہیں دیکھا ہو۔
ماہیر کو غصے میں دیکھ کر وہ جلدی سے بولی مبادہ کچھ اور ہی نہ سننے کو ملے۔غصہ ماہیر کی طبیعت کا بھی خاصا نہ تھا پر ہمان پہ اسے شدید غصہ آرہا تھا۔
ماہیر پھر اسے کچھ کہنے لگا تھا کہ سارہ پر جوش سی بولی۔
”ارے تم تو وہی ہو نہ ہمان کی یونی فیلو“۔آٸینہ اکثر گھر پہ آیا کرتی تھیں۔وہ آگے بڑھ کر آٸینہ کے گلے لگی۔ہاں بالکل۔”شکر ہے کسی نے تو مجھے پہچانا“۔
وہ مسکراہ کر نا محسوس طریقے سے شکواہ کر گٸی۔
”ارے ایسی بات نہیں اب اتنے سالوں بعد دیکھا ہے تھوڑا تو مشکل ہوتا ہے نا اور پھر تم کبھی کبھی تو آتی تھیں۔
بولنے والی عالی تھی جو اب آٸینہ سے حال اوال پوچھ رہی تھی“۔
”سارہ اسے اس کا کمرہ دیکھا دو تھک گٸی ہو گی۔تھوڑا ریسٹ کرلے گی تو اچھا محسوس کرے گی“۔
ہمان اسے تاکید کر کے باہر چلا گیا۔
سارہ اورعالی آٸینہ کو اس کا کمرہ دیکھانے لے گٸیں۔
ماہیر اور رفع آ فس چلے گۓ۔ زین کا تو دماغ ہی بھگسے اڑ گیا۔تھوڑی دیر پہلے تو کچا چبادینے والی نظروں سے وہ اس لڑکی کو گھو رہی تھی اور اب اس کے ساتھ ہنسی ٹھٹہ کر رہی تھی وللہ کیا چیز تھی۔
وہ بھی نا سمجھی سے کندھے اچکاتا آ فس چلا گیا۔ممتا افی تو پہلے ہی جا چکے تھے۔نین پیچ و تاب کھا کے رہ گیا۔پر وہ کسی طور چین سے بیٹھنے والا نہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٸینہ کو آۓ ابھی دو دن ہی ہوۓ تھے مگر وہ سب میں اس قدر گھل مل گٸی جیسے وہ ہمیشہ سے یہیں پلی بڑی یو۔
ابھی وہ سب لاٶنج میں بیٹھے تھے ہنسی مزاق کر رہے۔
سارہ عالی تو اس بلا تکلف ہنی مزق کر رہی تھی آٸینہ بھی ان سب میں کافی انجواۓ کر رہی تھی۔
ماہیر اور نین کا رویہ لیا دیا سا تھا۔ زویا بھی ماہیر کے سامنے کم ہی بولتی تھی ہاں جب وہ نہیں ہوتا تھا تو وہ ان سب کی طرح ہی گفتگو کیا کرتی۔عاشی بھی آٸینہ سے بہت خوش مزاجی سے باتیں کر رہی تھی یہ بات نین نے شدت سے نوٹ کی تھی۔
”آپ کیوں اتنا کم بولتے ہیں ماہیر بھاٸی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ میرے آنے سے آپ لوگوں کو برا لگا“ ۔آٸینہ نے روہانسی ہو کر لگے ہاتھوں ماہیر سے پوچھ ہی لیا۔”نہیں ایسکوٸی بات نہیں ہے ہمیں تمہارا یہاں رہنا برا نہیں لگتا۔
بلکہ یہ تو ایک طرح سے اچھا ہی ہوا گھر مں رونق مزید بڑھ گٸی“۔ماہیر کو الفاظ ہی نہیں مل رہے تھے۔وہ آٸینہ کو کیسے مطمٸن کرتا جبکہ اسے اس کا یہاں رہنا واقع برا لگا تھا۔
وہ پری کی جگہ تھی ۔کیسے بھلا ماہیر اسے وہ جگہ دیدیتا۔
ماہیر سمیت سب کو سمجھ آ گٸی تھی۔
ہمان اب اپنی بات سے نہیں ٹلے گا۔ ویسے بھی نصیبوں کا لکھا آج تک کون بدل سکا ہے۔یہی سوچ کر سب کا رویہ آٸینہ کے ساتھ کافی بہتر ہو گیا تھا۔
وہ لوگ اب اسے ساتھ بھی باتیں کرتے ہنسی مزاق کرتے۔بس ایک نین اور گھر کے بڑے ہی تھے۔ جو اس شادی سے خوش نہ تھے مگر وہ آٸینہ سے برا رویہ ہر گز بھی نہ رکھ سکے۔
اس سب میں بھلا اس کیا قصور۔ یہ سب تو تقدیر کے کھیل ہوتے ہیں۔
ہادیہ بیگم نے انجی اور ممتا کو سمجھایا۔ابرار نے بھی افی کو سمجھایا۔کے ہمان بھی اس گھر کا بچہ ہمیں اس کی خوشیوں میں شریک ہونا چاہیے۔
البتہ میسم کی خاموشی ابرار کو بہت بری لگی۔اس نے تو پری کے حق میں کچھ کہا۔ نہ ہمان کو اس شادی سے روکا۔ان سب معاملات میں وہ مکمل طور پر خاموش تھے۔
پری تو اپنے کمرے سے نکلتی ہی نہ تھی۔
اس نے خود کو ایک عجیب سے خول میں بند کر لیا تھا۔رونا تو اس نے چھوڑ دیا تھا۔ شاید آنکھوں کا پانی ہی خشک ہو گیا تھا۔
قسمت کی کس کس ستم ظریفی پہ وہ آنسو بہاتی۔
ممتا تو اس کی منتیں کر کے رہ گٸیں۔ لیکن وہ کمرے تک ہی محدود رہتی۔انجی اسے خود اپنے ہاتھوں سےکھانا کھلاتی تو وہ منع کر دیتی۔ خود سے کھاتی تو کھاتی ورنہ بھوکی رہ لیتی۔
آخر انجی نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔ ”پری ہم آپ کے آگےہاتھ جوڑتے ہیں خودکو اتنی ازیت مت دی“۔
”یہ کیا کر رہی ہیں انجی۔پلیز مت کریں اور میں خود کو کوٸی ازیت نہیں دے ہی“۔”ادھر دیکھیں زرا ہماری طرف کتنے فیصد سچ بولرہی ہیں آپ۔ ہمان کا سامنا کرنے سے کتراتی ہیں۔یا آنے والے وقت کا سوچ کر گھبراتی ہیں۔
یہ راہیں آپ کی خود کی منتخب کی ہوٸی ہیں۔ یہ فیصلہ آپ کا خود کا تھا تو پھر کیوں چار دیواری میں بند رہتی ہیں“۔
”جیسا آپ سمجھ رہی ہیں ایسا کچھ نہیں بس میری طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔اس لیے باہر نہیں نکلتی“۔
”مطلب آپ نے قسم کھا رکھی کہ آپ اس کمرے سےباہر نہیں نکلیں گی۔تو ٹھیک ہے پھر آج کےبعد ہم سے کبھی کلام مت کیجیے گا۔“
پری کی ضد کے آگے وہ ہار چکی تھیں وہ کسی طور راضی نہیں تھی یہ آخری حربہ انہوں نے آزمایا تھا“
انجی پلیز ایسا تو نہکہیں آپ چاہتی ہیں میں باہر نکلوں تو ٹھیک ہے میں میں مانوں آپ کی بات پر پیز آپ مجھ سے بات کریں گی“ ۔
”ہاں ہماری جان ۔ہم بھلا آپ سے بات کیے بنارہ سکتے ہیں۔وہ پری کےگال تھپتھپاتی ہوئی بولی.
جاری ہے
