Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode50

Pari By Shanzey Rajpoot Episode50

علی نے ایک ہی جست میں اسے قابو کیا اور اس کے زخمی بازو پہ گرفت مضبوط کر کے گویا اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔ہمان کا دل تو مانو کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔اس کے ہاتھ سے خون کی بہتی قطاریں آنسو سے تر چہرہ اس کی سسکیاں ۔
ہمان کا بس چلتا تو وہ اسے خود میں سمولیتا پر ہاۓ یہ ظالم عشق۔ کیا سے کیا بنادیتا ہے انسان کو ۔کیا کیا کرواتا ہے انسان سے۔ اچھے اچھوں کے گٹھنے رگڑواۓ ہیں اس عشق نے۔
۔علی پلیز اس کے بازو سے ہاتھ ہٹادو درد ہورہا ہے اسے علی۔
ططعلی پلیز اس چھوڑدے۔دیکھ علی تیری دشمنی مجھ سے ہے۔ تجھے جو کہنا ہے مجھے کہہ،جو کرنا ہے میرے ساتھ کر۔پر پلیز تو اسے چھوڑ دے۔ دیکھ تجھے جو چاہیے میں دوں گا۔اسے چھوڑ دے علی۔
مایوسی در مایو تھی ۔بے بسی ہی بے بسی تھی۔چہرے پر خوف کی تحریریں رقم تھیں۔ یہ درندہ صفت انسان اس کی پری کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا تھا۔وہ لاچار سا نم لہجے میں علی سے اپنی زندگی کی بھیگ مانگ رہا تھا۔پر علی بے حس وحرکت برف کا مجسمہ بنا کھڑا رہا۔
علی چھوڑ دے میرے بھاٸی۔آخر اس لڑکی نے تیرا کیا بگاڑا ہے ۔اس معصوم کا کیا قصور ہے۔ اسے کس بات کی سزا دے رہا ہے تو ۔حماد کے لاکھ سمجھانے پر بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔
اسے کیسے چھوڑ دوں اس معصوم کو۔اس معصوم کا شوہر ہی تو میرے اس مقام پر ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے وہ لہجے میں نفرت سموۓ بولا۔
۔میرے ان حالات کا ذمہ دار صرف یہ شخص ہے ،صرف یہ شخص،جس کی جان اس گڑیا میں بستی ہے۔اس شخص کی بربادی کی چابی میرے ہاتھ میں ہے اور آپ کہتے ہیں چھوڑ دو اسے ۔
اتنی آسانی سے میں بھی پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں آخر کو میری بربادی کی وجہ بھی تو یہی شخص ہے۔
ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں ابھی سے چہرے پہ اتنا خوف۔چچ چچ چچ۔یہ خوف زیب نہیں دیتا فوجیوں کو۔۔وہ اس کی بے بسی کا مزاق اڑا رہا تھا۔
علی کیا چاہتا ہے تو ۔کیوں کر رہا ہے یہ سب۔کس بات کی سزا دے رہا تو ہم سب کو اور اس سب میں اس معصوم کا کیا قصور ہے۔
اسے تو بخش دے۔حماد غصے سے پھنکارا تھا۔مانا کے وہ اس کا اپنا خون تھا پر حماد کے سینے میں بھی دل تھا ۔جو پری کی اس حالت پہ رو دینے کو تھا۔۔آپ جاننا چاہتے ہیں میں کیوں کر رہا ہوں یہ سب۔بڑا رحم آرہا ہے آپ کو اس لڑکی پر۔مجھ پر رحم نہیں آیا تھا آپ کو۔
اس شخص سے جڑی ہر چیز آپ کو عزیز ہوتی ہے۔ میں تو ہمیشہ سے ہی آپ کی لسٹ سے آٶٹ رہا ہوں۔
ماما بابا کے جانے کے بعد مجھے لگا تھا کہ میرے پاس میرا سہارا آپ باپ کی جگہ ہیں۔پر میرا یہ خیال بھی کچھ دنوں میں ہوا میں زاٸل ہو گیا۔ اسکول میں پیرینٹس میٹینگ تھی۔یہی بتانے میں آپ کو آپ کے کمرے میں آیا تھا، آپ نے جانے کے لیے ہاں بھی کردی تھی، پھر اچانک اس شخص کا فون آیا اس نے ہمان کی طرف اشارہ کیا اور آپ عجلت میں چلے گۓ۔ پوری رات اور پورا دن گھر نہ آۓ۔کتنا گلٹی فیل ہوا تھا مجھے میرے دوستوں کے سامنے۔کتنا مزاق بنایا تھا سب نے میرا۔
ستاٸس مارچ میرا ١٧ برتھ ڈے یاد ہے نا آپ کو وہ دن ۔آپ نے سب انتظام کیے تھے۔ کیک بھی لے کر آۓ تھے ۔میرے لیے جس پر میرا نام لکھا تھا۔پورا گھر سجایا تھا بھاٸی آپ نے۔ لیکن پھر اینڈ ٹاٸم پر ہمان آگیا اور آپ ایک بار پھر مجھے تنہا کر گۓ ۔کالج یونیورسٹی میں بھی ایسے کٸی موقعوں پر مجھے آپ کی ضرورت تھی بھاٸی۔
اس شخص نے میرا عزیز بھاٸی چھینا مجھ سے۔ میری زندگی کی ساری خوشیاں چھین لیں۔مجھے اندھیروں میں لا پٹخا اس نے۔تاریکی میرا مقدر بن گٸی۔ایک یہی تو آخری رشتہ بچا تھا میرے پاس۔ وہ بھی اس نے ہتھیا لیا۔میں خالی دامن رہ گیا۔کچھ بھی تو نہ بچا میرے پاس۔کچھ بھی
آج میں تنہا ہوں۔
بالکل تنہا اور یہ تنہاٸی صرف آپ لوگوں کی وجہ سے میرے سر کا تاج بنی ہے اور میں اندھیرے کی تنگ تاریک دنیا کا بے تاج بادشاہ ڈیول۔
حماد سن کھڑا اس کی باتیں سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔واقع اس کا بھاٸی اس کی دسترس سے بہت آگے نکل چکا تھا۔ اتنا آگے کہ وہ چاہ کر بھی اسے اپنے پاس نہیں لا سکتا تھا۔
علی نے دونوں کی حالت سے لطف اٹھاتے ایک قہقہہ لگایا۔میری دکھ بھری کہانی سن کر مجھ سے بالکل بھی اچھے کی امید مت رکھیے گا۔شیطان ہرگز اپنی فطرت سے باز نہیں آتا۔
کہتے ساتھ ہی علی نےایک قدم پیچھے لیا۔ اب صرف ایک قدم کا فاصلہ باقی تھا۔ہمان کا دماغ الرٹ ہوا۔ اس کا دل ایک انہونی کی خبر دینے کو تھا۔ یک دم دل نے رفتار پکڑی تھی۔اس کا تو دل حلق میں آگیا۔گردن میں ایک گلٹی سی ابھری تھی ۔آنکھیں حیرت سے پھیل گٸیں۔
تو تم نہیں دو گے طلاق۔علی نے پھر سے ہمان سے پوچھا۔ہم س۔س۔۔سکون سے۔بی۔بیٹھ کر بات کرتے ہیں نا علی۔کوٸی تو حل نکل آۓ گا۔خوف کے مارے ہمان کے لبوں سے الفاظ تک ادا نہ ہورہے تھے۔اسے ڈر تھا۔ جس جگہ وہ لوگ کھڑے تھے ۔پل بھر کی غفلت سے کچھ بھی ہو سکتا تھا۔اوپر سے علی کے ارادے بالکل نیک نہ تھے۔وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔
ہاں یا نا ۔بحث نہیں ۔ڈری سہمی سی پری اجڑی حالت میں سسک رہی تھی۔ ایک آس تھی۔ امیدد تھی۔پر اس کا ننھا دماغ یہ باتیں سمجھنے کی کہاں قابل تھا۔
یہ سب اس کے سر سے بالا تر تھا۔وہ چپ چاپ سی بس ہمان کو دیکھ رہی تھی۔ جو علی کو دیکھ رہا اس کی ایک ایک حرکت ہمان کی نگاہ میں تھی۔ وہ نہیں چاہتا تھا ۔اس کی اتنی سی غفلت سے کوٸی بھی جانی نقصان ہو۔
ٹھیک ہے م۔م۔میں تیار ہو طلاق دینے کے لیے ۔پر تم پری کو چھوڑ دو پلیز۔پری کی آنکھیں حیرت سے پھیل گٸیں۔وہ اپنا درد بھولے۔ہمان کے منہ سے ادا ہونے والے لفظ نما تیر کا درد اپنے اندر اتارنے لگی۔الفاظ تھے یا خار وہ فرق نہ کرسکی ۔اس نے یہ تو کبھی نہیں سوچا تھا۔وہ حرجاٸی میرے آنسو ہی بے مول کر گیا۔
تو ٹھیک ہے دو اسے ابھی اسی وقت طلاق۔علی ہم یہ مسٸلہ کوٹ میں حل کریں گے۔کوٹ ہماری طلاق کروادے گی۔بے وقوف سمجھ رکھا ہے مجھے۔وہ زور سے دھاڑا تھا۔
لیکن میں اتنا بے وقوف ہوں نہیں۔
ماحول میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گٸی۔
یور ٹاٸم اسٹارٹ ناٶ۔اشارہ ہمان کی طرف تھا۔
ٹک ٹوک، ٹک ٹوک، ٹک ٹوک۔ہاہاہاہا
زندگی سے بھرپور قہقہ لگاتےاس نے دفعاتاً رخ موڑ کڑ پری کو اپنی گرفت سے آزاد کیا۔اس کا توازن بگڑا تھا۔ساحل ہونے کے باٸث ہوا کا دباٶ بہت زیادہ تھا۔فلور کے بالکل کنارے پہ کھڑی پری یک دم ڈگمگاٸی اور پیچھے کی جانب گرتی چلی گٸی۔عین موقعے پر فاٸیرنگ کی آواز گونجی تھی اور گولی علی کا سینہ چیرتی چلی گٸی۔ نیوی بلیو کوٹ پورا لال ہوگیا۔
ہمان کی چیخیں نکلی تھیں۔ وہ جتنا زور سے دھاڑ سکتا تھا دھاڑا تھا۔آنسو کسی سیلاب کی طرح نکلے تھے۔وہ دوڑ کر اس دروازے تک آیا تھا، جو بظاہر شو کے لیے عمارت کا حصہ بنایا گیا تھا۔ مگر آج اس وقت وہ دروزہ ہمان کو دوزخ کا دروازہ لگا تھا۔ جو کسی جہنم سے کم نہ تھا۔
ٹھنڈی ہوا ہمان کا چہرا چھو کر گزری۔ہمان نے نیچے جھانکا۔ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ایک دریا سمندر نہ جانے کون سی ندی تھی نیچے۔اسے تو پانی کے سوا کچھ دکھاٸی نہ دیا۔
کالی سیاہ خاموش رات موت کا سا سکوت لیے ہوۓ تھی۔اس کی تو سانسی اٹک گٸیں۔ یک دم پورا جسم ٹھنڈا پڑ گیا۔یہ رات اسے کاٹ کھانے کو تھی۔ زندگی کی سب سے بری رات ثابت ہوٸی تھی۔دل جیسے پھٹنےکو تھا۔پلٹ کے وہ اندھا دھند نیچےکی طرف بھاگا تھا۔
حماد کے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گٸیں۔ پستول پکڑے ہاتھ بے جان سے ہوکر پہلو میں آ گرے۔ریوالور چھوٹ کر نیچے گری تھی اور وہ خود بھی بے جان ہوتے جسم کے ساتھ گٹھنوں کے بل گرا تھا۔آنسوں لڑی کی صورت گالوں پہ بہہ نکلے تھے۔اسے ابھی تک اپنی کیے پر یقین نہ آپایا تھا۔
ب۔ب۔بھاٸی
علی کی آواز نے اس سکوت کو توڑا تو حماد بھی کسی ٹرانس سے باہر نکلا تھا۔ علی کو دیکھتے ہی وہ منہ اوپر کرکے زور سے چلایا تھا۔علییییی ی ی ی۔۔
وہ بھاگ کر علی کے ےپاس آیا اور اس کے سر اپنی گود میں رکھا۔ بھا۔بھ۔بھاٸی۔یہ۔یہ۔آ۔آ۔آپ نے یہ ک۔کیا۔ک۔کیا۔۔بھ۔بھاٸی۔ا۔اپنے۔ہ۔ہی۔بھاٸی۔ک۔کو۔اپنے۔ہ۔ہاتھوں سے ۔
آ۔آپ۔ن۔نے۔ہ۔ہ۔میشہ۔م۔میرے۔س۔س۔ساتھ ن۔نن۔نا انصاف۔فی۔کی۔ہ۔ہے۔بامشکل بولتے علی نے اپنے خون سے بھرے ہاتھ حماد کے گال پہ رکھے اس سے شکواہ کیا۔
حماد پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔صحیح تو کہا رہا تھا وہ ۔جب باسے توجہ ہکی ضرورت تھی تب اسے توجہ نہ ملی۔ہمیشہ ہی وہ ہاس کے معاملے میں نا انصافی کرجاتا تھا۔
ب۔ب۔بھاٸی۔می۔میأ۔ن۔ننے پ۔پ۔پری۔کے۔کے۔ساتھک۔کچھ۔غلط۔ن۔نہیں۔ک۔کیا۔می۔می۔میرا۔یقین۔ک۔ک۔کیجے۔
ہ۔ہ۔ہمان۔سے۔ک۔ک۔کہیے۔گ۔گ۔پ۔پری۔کو۔غ۔لط۔نہ۔سم۔مجھے۔اور۔م۔میں اسس۔سے۔اپنا۔ب۔بدلہ۔روزِ۔محشر۔لوں۔گا۔
اس۔ن۔نے مجھ۔س۔سے۔آ۔آپ۔کوچھن۔لیا۔
بے ربط الفاظ حماد دل چیر گۓ اس کا ااتنا پیارا بھاٸی موت کے دروازے پہ دستک دیے کھڑا تھا۔ایسا مت بول علی تجھے کچھ نہیں ہوگا۔میں تجھے کچھ ہونے نہیں دوں گا۔
حماد نے اس کا ماتھا چوما۔تو وہ تمسخر سے مسکرادیا۔ک۔کتنی۔عج۔ججیب ب۔ببات ہ۔ہہے۔خ۔خود۔ہ۔ہی۔گو۔گولی۔م۔مارک۔کر۔خ۔خودہی۔بو۔ولتے ہ۔ہہو۔کہ۔میں ت۔تجھے ک۔ک۔کچھ ہ۔ہہونے۔ن۔نہیں ہونے د۔دوں گ۔گا۔
ب۔ب۔بس ایک۔کام۔کرنا بھب۔بھاٸی۔م۔مجھے۔ج۔جہنم۔ک۔کی۔آگ۔سے۔ب۔بچا۔ل۔لینا۔ف۔فوجیی۔بہت ن۔نیک ہوتے ہ۔ہیں۔اپ۔پنیتھ۔تھوڑی۔س۔سی۔ن۔نیکیاں۔م۔مجھے ب۔ھی۔دے۔دینا بھھ۔ا۔۔۔اچانک اس کی گردن لڑھک گٸی۔اور حماد تو اس کے کہے آخری جملوں کے سحر میں کہیں کھو گیا۔
اس اپنے سینے سے لگاۓ وہ چیخ چیخ کر رو دیا۔اس سے اس کا آخری رشتہ اس نے اپنے ہاتھوں سے خود سے ہمیشہ کے لے دور کردیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمان اندھا دھند بھاگتا ہوا عمارت کے دوسری طرف آیا جہاں پانی اپنی آب و تاب سے بہہ رہا تھا۔ہمان نے نا آٶ دیکھا نہ تاٶ اور اپنی جیکٹ اتار تا پانی میں ڈبکی لگا گیا ۔برف سا ٹھنڈا پانی وہ بنا پرواہ کیے تیرتا رہا۔اسے تیراکی ٹریننگ کے دوران سکھاٸی گٸی تھی۔
صاف شفاف سا نیلا پانی یوں تو زندگی پانی کے بغیر نہیں مگر اس وقت یہی پانی کسی کی کی موت کا سبب بنا ہوا تھا ۔پانی کی نچلی تہوں میں تیرتا وہ ادھر سے ادھر بے تابی سے پری کی تلاش میں تھا۔
تیرتی مچھلیاں اور دیگر جانور۔ اسے ڈر تھا تو اس بات کا کے پری کس طرح سب سہہ پاۓ گی۔یک دم نظر ایک بوٹی پر پڑی جس میں کوٸی کپڑا اڑا ہوا تھا۔ قریب جاکر اس نے دیکھا۔
ی۔یہ۔تو پ۔پ۔پری کا دوپٹہ ہے۔دل میں سوچتا وہ دوپٹہ ہاتھ میں پھنساۓ آگے کی طرف تیرنے لگا۔اچانک اس کی نظر ایک وجود پر پڑی جو پانی کے تہوں میں جھول سا رہا تھا۔
ہمان تیزی سے تیرتا اس وجود کے پاس آیا اور ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا تو لمحے بھر کو اس کی جان میں جان آٸی وہ کوٸی اور نہیں بلکہ پری ہی تھی۔
پری کا ایک ہاتھ پکڑ کر کھینچتا وہ اوپر کی طرف تیرنے لگا اور منہ پانی سے باہر نکال کر گہرے گہرے سان لینے لگا ۔پری کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھا۔اسے گود میں اٹھاۓ وہ باہر لے کر آیا اور نیچے لیٹایا۔
پ۔پ۔پری اٹھو۔پلیز پری۔ آنکھیں کھولو ۔دیکھو میں ہوں ہمان ۔کچھ نہیں ہوگا تمہیں پری۔ اٹھو۔وہ دیوانہ وار پری کے گال تھپتھپاتا اسے ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا اتھا۔ہمان نے اس کی نبض چیک کی ،جو بہت ہلکی چل رہی تھی۔دو انگیاں ناک کے پاس لےجاکر سانس چیک کی سانسیں مدھم مدھم سی چل رہی تھیں۔
اس نے جھک کر اس کی دل کی دھڑکن سنی جو معمول سے ہٹ کر بہت ہلکی رفتار سے دھڑک رہا تھا۔اتنی ٹھنڈ میں وہ پوری بھیگ چکی تھی۔
اس نے پری کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر رگڑے۔اسے حدت پہنچاٸی۔پھراس کے پیٹ پہ وزن ڈالا تو اس کے منہ سے پانی نکلنے لگا۔اور اس کے بے حس وجود میں حرکت ہوٸی تو ہمان نے شکر کا کلمہ پڑھا۔اور وہیں سجدہ ریز ہوکر بندہ مومن ہونے کا حق ادا کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری کے بھیگے وجود میں ہلکی سی جنبش ہوٸی۔ہاتھ نیچے لگنے سے ہلکی سی کراہ نکلی تھی۔اس کی آواز پہ ہمان نے سجدے سے سر اٹھایا اور اس کی طرف لپکا۔
شکر ہے اللہ کا کہ تمہیں ہوش آ گیا۔پری اٹھنے لگی تھی پر ہاتھ زخمی تھا اٹھ نہ سکی۔ہمان نے اسے دونوں ہاتھوں سے اٹھایا۔ تو کچھ اس کے حواس بحال ہوۓ۔
ہماااان۔تڑپ اور چاہ سے اس نے پکارا تھا بس اسے پکارتی وہ ہمان کےسینے سے لگی شدت سے رودی۔یہاں تک کہ اسے اپنے زخم کی بھی پرواہ نہ رہی۔ہمان نے اس کے گرد اپنا حصار باندھ دیا۔
ہچکیوں سے سسکیوں سے وہ روتی رہی۔ہمان بھی بے آواز رو رہا تھا۔دونوں ہی روتے رہے اس خاموش ازیت ناک رات میں۔فرق صرف اتنا تھا ،وہ بے آواز رو رہا تھا۔
ہمان نے دھیرے سے اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش کی پر پری بالکل تیار نہ تھی۔وہ بہت زیادہ ڈر گٸی تھی۔جتنی اونچاٸی سے وہ بہتے پانی میں گری تھی،یہ بھی اس کی ہمت تھی کہ وہ برداشت کر گٸی۔
ڈر خوف کے زیرِ اثر وہ ہمان سے کسی طور الگ ہونے کے موڈ میں نہ تھی۔پری!!! بس۔ششش!! ادھر دیکھو میری طرف۔پری میری طرف دیکھو۔سب ٹھیک ہے پری۔کچھ نہیں ہوا ۔سب ٹھیک ہے۔پری کو دیھرے سے خود سے الگ کرتے اس نے نرمی سے اسے کہا جو آنکھیں بند کیے رو رہی تھی۔
ہمان نے ہاتھ بڑھا کر نرمی سے اس کے گال سے بہتے آنسوٶں کو صاف کیا۔ہمان مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ڈر لگ رہا ہے مجھے۔وہ۔وہ اتنا اونچا تھا۔علی نے مجھے دھکا دیا۔میں کتنا ڈر گٸی تھی۔پانی بہت گہرا تھا۔بہت ٹھنڈا بھی تھا۔وہاں اتنے سارے جانور بھی تھے۔پانی سے مجھے ڈر لگتا ہے۔روتے ہوۓ وہ بے ربط جملے بول کر ہمان کے دل میں طوفان برپا کر گٸی۔
مجھے گھر جانا ہے ماما کے پاس۔نین بھیا کے پاس ۔
وہ علی بالکل اچھا نہیں تھا۔بہت گندہ انسان ہے وہ۔آپ نے اسے پکڑا کیوں نہیں۔دیکھا اس نے مجھے گڈنیپ کرلیا اور کیا کردیا میرے ساتھ۔
کچھ نہیں ہوا پری۔ سب ٹھیک ہے۔بھروسہ ہے نہ تمہیں مجھ پہ۔ہممم!! پری نے اثبات میں سر ہلایا۔گڈ۔ہم گھر جاٸیں گے ماما پاپا کے پاس نین بھیا کے پاس ہممم۔ چلو اٹھو گھر چلتے ہیں۔ٹھنڈ بہت ہے یہاں۔وہ کھڑا۔ہوا اورساتھ ہی پری کو بھی کھڑا کیا۔
پر وہ سردی سے کانپ رہی تھی اوپر سے اس کا بازو بھی زخمی تھی۔خون بہنے کی وجہ سے وہ نڈھال بھی ہورہی تھی۔ ہمان نے اپنی جیکٹ اس کے کندھوں پہ ڈال دی اور اسے اپنے سہارے پر وہاں سے لے گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علی کی سانسی تھمتے ہی حماد جو رویا تھا کہ پورے پلازہ کی سیکیورٹی الرٹ ہوگٸی کچھ فاٸر کی آواز پہ بھی پہلے ہی الرٹ ہوچکی تھی۔
حماد نے تمام سیکیورٹی کو اپنا آٸی ڈی کارڈ دیکھا کر روانہ کیا اور ایمبیولینس کو فون کیا۔
کچھ ہی دیر میں ایمبیولینس آچکی تھی ،ساتھ ہی پولیس بھی تھی، جسے دیکھ کر حماد کا پارہ ہاٸی ہوا۔ چند اہلکار تو پلازہ کی تلاشی بھی لے چکے تھے۔جس کے نتیجے میں کٸی ٹن منشیات جن میں اعلیٰ اقسام کی بٸیر، ہیروٸین شیمپین، وسکی اور ہاٸی پاور ڈرگز شامل تھے۔
یہ سب حماد کے لیے غیر متوقع تھا۔اس کا بھاٸی نہ صرف گینگسٹر تھا بلکہ وہ منشیات فروش بھی تھا۔اندھیروں کی دنیا کا بے تاج بادشاہ ڈیول۔علی کی آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی۔
علی کا لیپ ٹاپ اور موباٸیل اور دیگر ڈیٹا بھی ضبط کرلیا گیا تھا۔حماد کو تو اس سب کی ہوش نہیں تھی۔ وہ اپنے بھاٸی کی ڈیتھ باڈی ایمبیولینس میں رکھوانے کے چکروں میں پڑا تھا۔
ہمان پری کو لے کر وہاں سے نکلتا، پر اسے یاد آیا حماد بھی اس کے ساتھ ہی آیا تھا اور علی کو گولی لگی تھی۔ یہ سب یاد آتے ہی وہ عمارت کی پچھلی ساٸیڈ سے ہوتا ہوا آگے کی جانب آیا تو اس نے کسی کا سٹریچر جو پورا سر تا پیر سفید چادر میں بندھا تھا ایمبیولینس میں لے جاتے اور اندر حماد کو بیٹھتےاور پھر ایمبیولینس کا دروازہ بند ہوتے دیکھا۔
اس کا سر چکراگیا او میرے اللہ کہیں یہ علی کی ڈیتھ باڈی تو نہیں۔یہ کیوں ہوگیا،بھلا میں نے علی کےلیے ایسا تو کبھی نہ سوچا تھا،اس کے کیے کی اتنی بڑی سزا۔وہ دل میں خود سے ہی شرمندہ تھا۔جو کچھ بھی ہوا پر اس میں غلطی ہمان کی بھی نہیں تھی ۔قدرت کے فیصلے بھلا کون ٹال سکتا ہے۔زندگی موت اسی کے ہاتھ میں ہے۔
ایمبولینس مین گیٹ سے باہر نکلتی چلی گٸی۔ہمان پری کو دیوار کے ساتھ پیڑ کی اوٹ میں کھڑا کر کے اچھی طرح ہدایت دیتا ہوا اندر گیا اور ٹھیک دس منٹ بعد اس کی واپسی ہوٸی اور پری کو روڈ پار کھڑی اپنی جیپ میں بیٹھایا اور خود ڈراٸیونگ سیٹ سنبھالتا اپنی منزل کی جانب چل پڑا۔
رات کے چار بجے تھے ہر سو ہو کا عالم خوف کا منظر پیش کر رہا تھا۔ساٸیں ساٸیں کرتی ہواٸیں سردی میں مزید اضافہ کر رہی تھیں۔پری سیٹ سے ٹیک لگاۓ نیند میں جھوم رہی تھی۔وہ غنودگی میں تھی۔بازو زخمی ہونے سے کافی خون جو بہہ گیا تھا اس کی وجہ سے بھی بار بار اس کی آنکھیں بند ہورہی تھی اور ہر بار ہمان اسے اٹھا دیتا یا باتوں میں لگا لیتا۔ہمان نے اپنی جیکٹ تو پری کو پہنا رکھی تھی،اپنی شرٹ اتار کر اس نے بیچ سے پھاڑ کر پری کے بازو پر باندھ دی تھی جس سے وقفے وقفے سے خون رس رہا تھا اور خود اتنی سردی میں بھی صرف واسٹ میں گزارا کر رہا تھا۔وہ تو کسی بھی طرح کر کے ان حالات کا سامنا کر سکتا تھا،لیکن پری وہ تو اس سردی میں جم ہی جاتی۔
سفر کے دوران ہی اس کو کچھ فاصلے پر روشنی سی نظر آٸی تھی۔قریب جانے پر اسے معلوم ہوا یہ ایک چھوٹا سا کلینک تھا۔شاید ایمرجنسی تھا جبھی اس وقت کھلا تھا۔
گاڑی کو بریک لگاتے ہی وہ جمپ لگا کر نیچے اترا اور پری کو اپنے ساتھ لیے وہ کلینک میں آیا۔
ایک شفیق سی خاتون سر پر دوپٹہ جماۓ نماز پڑھ رہی تھیں۔وہ دونوں وہیں بیٹھ گۓ۔کچھ دیر گزرنے کے بعد وہ خاتون نماز سے فارغ ہوٸیں اور جاۓ نماز تہہ کر کے ساٸیڈ ٹیبل پر رکھر ان کی طرف پلٹی تھوڑی دیر گزری تھی جب ایک بزرگ سر پر ٹوپی جماۓ اند داخل ہوۓ۔
میرے شوہر ہیں یہ۔وہ خاتون شاید ہمان کی آنکھوں میں اٹھتے سوال کو پڑھ چکی تھی اس لیے مسکرا کر بولیں۔جواباً ہمان شرمندہ ہوا۔
ڈاکٹر انہیں بینڈج کردیں ان کے بازو پر کٹ لگا ہے اور خون بھی کافی بہہ چکا ہے۔ہمان نے پری کے کندھوں سے جیکٹ اتاری کر انہیں زخم دکھایا۔
نہیں صرف بینڈج سے کام نہیں ہوگا۔کٹ تو بہت زیادہ گہرا ہے۔ٹانکے آٸیں گے وہ بھی چھ سات۔نہیں۔نہیں۔مجھے نہیں لگوانے۔میں سٹیچس نہیں لگواٶں گی۔مجھے گھر جانا ہے۔
پری تو سنتےہی چلانا شروع ہو گٸی بڑی مشکل سے ہمان نے اسے ایک انجیکشن کے لیے رازی کیا۔
انجیکشن کے لگتےہی وہ غنودگی میں چلی گٸی۔ڈاکٹر نے چھ سے سات ٹانکے لگاۓ۔
بیوی ہے تمہاری۔انہوں نے پوچھا ہاں۔میرا مطلب ہے جی۔
پر آپ کو کیسے پتا۔افف ہمان تیری جاسوس طبیت۔
وہ زرا سا ہنسی۔رات کے اس وقت اس حلیے میں اپنی بہن کے ساتھ تو ہونے سے رہے بیٹا۔اور گھر سے بھاگنے والے لڑکے تو تم شکل سے بالکل بھی نہیں لگتے۔
وہ پری کے ہاتھ پر بینڈج کرتے ہوۓ بولیں۔جانتی ہوں میں تمہیں ملک ہو نا تم ہمان نام ہے تمہارا۔ہمان نے قدرے حیرانی سے اس خاتون کو یکھا۔پتر جی پریشان نہ ہو۔
تیری تصویریں اس نے اخبار میں دیکھ رکھی ہیں۔اس لیے پہچان لیا او ویسے بھی اس کی میمری بڑی شارپ ہے۔
ہمان تھوڑا پرسکون ہوا۔
انہوں نےکچھ دواٸیاں دیں۔ساھ ہی ایک نسخہ بھی ہاتھ میں تھمادیا۔یہ رستےمیں اگر اسے ہوش آجاۓ تو دی دینا لازمی پین کلر ہے ٹانکوں میں درد ہوگا اور یہ شہر جاکر خرید لینا اور اس کی صحت کا خیال رکھنا کمزور ہے بہت۔
ہمان سر ہلاتا پرچی جیب میں رکھ کراٹھ کھڑا ہوا۔۔پری کو بازوٶں میں اٹھاکر جیپ میں بٹھایا اور پھر سے ڈراٸیونگ میں مصروف ہوگیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *