Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode27

Pari By Shanzey Rajpoot Episode27

سارہ انجی عالی اور عاشی نے مل کر زویا کو ماہیر کے کمرے میں بیٹھایا ۔ وہ کافی تھک چکی تھی ۔ کافی دیر تک تو سارہ اس کا دماغ کھاتی رہی ۔ اس کا وہاں سے جانے کا کوٸی امکان ہی نہ تھا ۔عالی نے حماد کو میسج کیا تو اس نے سارہ کو کال کی۔ سارہ جو زویا سے چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی موباٸیل کی رنگ ٹون پہ اس کی گفتگو کا سلسلہ ٹوٹا ۔
اوہ سو سوری زویا بھابھی مجھے میرے سرتاج بلا رہے ہیں ۔
وہ جاتے جاتے رکی ۔پھر مڑی زویا بھابھی اس نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاٸیں۔
آج کی رات ہونا ہے
پیار ہونا ہے پیار۔
زویا آنکھیں پھاڑے سارہ کی بے باکی ملاحظہ کرنے لگی۔ پھر خود ہی نظریں چراگٸی ۔ اگر زویا کی جگہ عالی یا عاشی ہوتی تو اب تک سارہ کی اچھی خاصی درگت بن چکی ہوتی ۔ وہ آرام سے دروازہ بند کرتی باہر نکلی ۔ جیسے ہی مڑی پیچھے حماد سینے پہ ہاتھ باندھے پلر سے ٹیک لگاۓ اسے بڑی پر شوق نظروں سے گھور رہا تھا ۔
آآآپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔
تمہارا انتظار ۔۔۔۔۔۔!!!!!!جواب حاضر تھا ۔ سارہ کو خطرے کی بو آنے لگی۔ ک۔ک۔کیوں ۔ تمہیں اغوا کرنا ہے ۔اوہ اچھا مجھے لگا کہ آپ۔۔۔۔۔۔ !!!اس کی بات ادھوری رہ گٸی جب اسے حماد کی بات سمجھ آٸی تو۔ اس کی آنکھیں ابل پڑیں۔ حماد۔۔۔۔!!!!!!! سارہ ایک دم چیخی ۔
آپ آآآ۔پ مجھے ۔میرا مطلب ہے کہ مجھے اغوہ کریں گے ۔ وہ آنکھوں میں بے یقینی لیے حماد کو دیکھنے لگی ۔۔ ہاں نہ صرف تمہیں اغواہ کروں گا بلکہ میں تمہارےساتھ کچھ بھی کر سکتا ہوں ۔ حماد اس کے چہرے پہ آٸی لٹ کو کان کے پیچھے کرتا آخر میں شرارت سے بولا ۔
سارہ اس سے دو قدم پیچھے ہوٸی اس سے پہلے کے وہ فرار ہوتی حماد نے اسے اٹھا کے اپنے کندھے پہ ڈالا اس کے سارے بال حماد کی پشت پہ جھول گۓ ۔۔ حماد پلیز نیچے اتارو مجھے۔ وہ اس کے کمر پہ مکے برساتی چلا رہی تھی پر وہ تو جیسے کانوں میں روٸی ٹھونس چکا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زویا تھکان سے چور ماہیر کا انتظار کرتی بیٹھے بیٹھے ہی سو گٸی تھی ۔ ماہیر ہلکے سے دروازے کاناب گھماتا اندر داخل ہوا ۔ پورا کمرہ شمعوٶں سے روشن تھا ۔ جابجا بیڈ پہ بکھری گلاب کی پتیوں نے پورے کمرے کو معطر کر رکھا تھا ۔ شمع کی روشنی میں دمکتا زویا کا خوبصورت وجود اس کمرے کے مکمل کر چکا تھا ۔
ماہیر اسے ایک نظر دیکھ کر واچ اتارنے لگا اس کا ہاتھ پاس پڑے ٹیبل پہ رکھے واز سے ہلکا سا ٹکارایا اور واز چھناکے کی آواز سے نیچے گرا تھا ۔ زویا ایک دم نیند سے ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھی ۔ آٸی۔ ایم۔ سوری۔ میں نے آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کیا۔
لوجی۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!
” لوگ اچھا خاصا ڈسٹرب کر کے پوچھ رہے ہیں کہ ڈسٹرب تو نہیں کیا“ ۔ زویا کا لب و لہجہ کافی طنزیہ تھا ماہر سمجھ نہیں پایا ۔ بلکہ یہ بات تو مجھے آپ سے پوچھنی چاہیے کہ کہیں میں نے تو آپ کو ڈسٹرب نہیں کیا ۔ وہ اب اٹھ کر ماہیر کے مقابل کھڑی ہوچکی تھی ۔ زویا یہ آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔ بھلاآپ مجھے کیسے ڈسرب کرسکتی ہیں۔ وہ تو مجھ سے یہ واز گر گیا تھا تو آپ کی نیند خراب ہوگٸی۔ میں نے تو اس لیے کہا تھا۔ ماہیر کو کچھ سمجھ نہ آیا تو وہ اپنی صفاٸی دینے لگا۔ آپ اتنے بھولے ہیں یا بننے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ زویا آپ کی باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں ۔
آپ جو بھی بات کرنا چاہتی ہیں پلیز کھل کر کہیں ۔ نہ میں گھما پھرا کر بات کرتا ہوں نہ ہی سننے کا عادی ہوں۔ اب تک تو مجھے یہی لگا تھا کہ شاید آپ میرے دیر سے آنے پر غصہ ہیں پر اب مجھے واقع ایسا لگ رہا کہ کوٸی سیریس بات ضرور ہے ۔ اور آپ مجھے بتانا پسند کریں گی کہ کیا بات ہے ۔ ماہیر کا لہجہ ہرگز بھی سخت یا طنزیہ نہیں تھا ۔وہ اپنے ازلی لہجے میں زویا سے مخاطب تھا ۔ اور یہی بات زویا کو اندر تک سلگا گٸی ۔
وہ اگر اتنی بے چین تھی تو وہ کیوں اتنا پر سکون تھا ۔ ”ایکٹنگ کافی اچھی کرلیتے ہیں آپ “۔ ”سٹار پلس میں آنا چاہیے آپ کو۔“
وہ اس پر طنزکا تیر برساکے شکواہ کناہ نظر ڈالتی رخ پھیر گٸی ۔۔ ماہیر کو زویا یہ انداز ایک آنکھ نہ بھایا تھا اس نے تو آج تک اسلہجے میں کسی سے بات تک نہ کی تھی طنز کرنا تو دور کی بات ہے پھر وہ زویا کی یہ بے جوڑ باتیں کیسے برداشت کرتا ۔ اس نے زویا کو بازو پکڑ کر اس کارخ اپنی طرف کیا ۔
وہ جو وارڈراب سے کپڑے نکالنے لگی تھی ۔ اس اچانک اکتفاد پہ لڑکھڑاتی ماہیر کے سینے سے لگتی پر اس نے دونوں ہاتھ اس کے سینے پہ رکھ کر خود کو اس سے دور کیا ۔ کیا بد تمیزی ہے یہ ماہیر ۔ بد تمیزی تو میں نے کی ہی نہیں بلکہ وہ ڈپارٹمنٹ تو آپ کا ہے ۔ خیر۔۔۔!!!!
آپ کے اس رویے کے پیچھے جو بھی وجہ ہے میں جاننا چاہتا ہوں۔ آخر کو میری ذات سے آپ کو کونسی شکایت ہے۔۔
آپ مجھ سے اتنا بد گمان کیوں ہیں ۔ کیا پروبلم ہے مسلٸہ کیا مجھ سے شیٸر کریں ۔ زویا ہم بیٹھ کر اس مسٸلے کا حل نکالیں گے ۔ زویا۔ آنکھوں میں نمی لیے تمسخر سے مسکراٸی اور ایک جھٹکے اسے بازو اسکی گرفت سے چھڑوایا۔
وہ دو قدم پیچھے ہوۓ مسلٸہ آپ مسٸلہ پوچھ رہے ہیں ۔ میری زندگی برباد کرکے مجھ سے آپ یہ پوچھ رہے ہیں کے مسٸلہ کیا ہے ۔وہ نم آنکھوں سے دبی دبی آواز میں چلاٸی ۔
ماہیر تو جیسے پتھر کا ہوچکا تھا اسے تو کچھ سناٸی ہی نہیں دے رہا تھا اگر کچھ سن رہا تھاتو وہ صرف یہ کہ میری زندگی برباد کرکے مجھ سے آپ یہ پوچھ رہے ہیں کے مسٸلہ کیا ہے ۔
آپ خاموش کیوں ہیں ماہیر ۔ بولیں پوچھیں مجھ سے کیا مسٸلہ ہے ۔ نہیں آپ بھلا کہوں پوچھیں گے آخر کو آپ کی زندگی میں میری اہمیت ہی کیا ہے ۔ زویا۔
میں آپ کی زندگی کیسے برباد کر سکتا ہوں ۔اس کو اپنی آواز کسی گہری کھاٸی میں سے آتی محسوس ہوٸی ۔ بولیں زویا ۔ میں جاننا چاہتا ہوں ۔ میں سننا چاہتا ہوں ۔ بولیں زویا۔۔!!!!۔۔۔
کیا بات ہے ۔ کیا مسٸلہ ہے اس بدگمانی کے پیچھے کیا وجہ ہے ۔ ۔۔۔
آپ وجہ جاننا چاہتے ہیں ۔ سننا چاہتے ہیں آپ ۔ ہمت ہے آپ میں سچ سننے کی ۔ تو سنیں ماہیر سنیں آپ کہ کیا وجہ ہے میرے اس رویہ کی ۔
”آپ کو پتا ہے آج کیا ہے کون سا دن ہے ۔ آج میری شادی تھی ماہیر شادی۔۔۔!!!.
”اور آج ہماری ویڈنگ ناٸٹ ہے ویڈنگ ناٸین کا مطلب سمجھتے ہیں نا آپ ۔ آپ کو پتا ہے ایک لڑکی ہمیشہ سے یہ خواب دیکھتی ہے کہ کا اس لاٸیف پارٹنر اسے پسند کرتاہو اس سے محبت اگر محبت نہ بھی کرتا ہو تو ایٹ لیسٹ اس سے مخلص ہو ۔ لیکن ہمارے درمیان نہ تو پیار ہے نہ محبت ہے اور جس کی امید تھی مخلصی وہ تو بالکل بھی نہیں ۔ آپ مجھ سے مخلص نہیں ماہیر ۔“
زویا۔ آپ یہ سب میرا مطلب ۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔آپ کیا کہہ رہی ہیں اور کیوں ۔۔!!!! ۔
اس نے بڑی ہی گہری نظروں سے ماہیر کو دیکھا اور بے دردی سے اپنے آنسو اپنی ہتھیلی کی پشت ست رگڑے ۔ اب آپ کو سب سمجھ میں آجاۓ گا۔ وہ بولتے کےساتھ ہی رکی نہیں بلکہ وارڈراب میں پھرولا پھرولی کرنے لگی ۔اس کے ہاتھ میں شاید کچھ تھا نیم اندھیرے کے باٸث وہ ٹھیک سے دیکھ نہیں پایا۔ یہ دیکھیں ۔
آپ کی ساری الجنوں اور سوالوں کے جواب۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی تصویر ماہیر کے سامنے کی۔ ماہیر اس تصویر کو دیکھ کر فریز ہوگیا۔ ایسے جیسے ہلنے کی ہمت نہ ہو ۔ اس تصویر میں موجود شخصیت کو تووہ لاکھوں میں بھی پہچانتا تھا۔
”سفید ڈریس میں سرخ و سفید رنگت لیے وہ دلکشی سے مسکراتی کسی کا بھی ایمان ڈگمگانے کی صلاحیت سے وابستہ کوٸ اور نہیں وہ پریشا تھی “
پریشا۔۔۔۔۔!!!!!!!!! ہاں پریشا۔۔۔!!!!!!
_________
بولیں اب چپ کیوں ہیں آپ ماہیر ۔ہنہہ آپ کیا بولیں گے ماہیر ۔ میں بتاتی ہوں ۔ یہ ہے آپ کی پسند ۔اور میں ۔۔۔!!!۔میں تو ایک ان چاہی بیوی ہوں ۔ جو آپ کے سرتھوپی گٸی ہوں ۔ یہی سچ ہے نا۔ اور وہ پری جسے میں اتنی بھولی سمجھتی تھی اصل میں تو وہ ایک چیٹر ہے۔ گیم کھیل رہی ہے وہ دونوں بھاٸیوں کو پاگل بنارکھا ہے اپنے پیچھے۔ اور آپ دونوں پاگل۔۔۔!!!!!!!
Enough is enough Zoya.
control your words against Pri .I’m not speaking anything so that doesn’t mean that you will say anything.You tell me anything but nothing about pari.
Understand that …..!!!!!!
وہ غرایا نہیں تھا ۔نہ ہی غصہ کیا تھا ۔چہرے کے تاثرات بھی نارمل تھے ۔ پر اس کی آواز کا سرد پن زویا کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں گھستا محسوس ہوا ۔لمحے بھر کو تو وہ ماہیر کے اس انداز پہ کانپ گٸی تھی ۔ اب تک تو اس نے ایک صوبر اور شاٸستہ اخلاق کے حامل انسان کو دیکھا تھا پر اب ۔جسے وہ دیکھ رہی تھی وہ اس ماہیر سے یکسر مختلف تھا۔ ماہیر اسے وارن کرتا رکا نہیں تھا ۔ سیدھے وارڈراب سے کپڑے نکال کر فریش ہونے چلا گیا ۔
جب وہ واپس آیا تو زویا اسی انداز میں کھڑی خاموش آنسو بہا رہی تھی ۔
بھلا ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنی شادی کی پہلی رات ہی آنسو بہاۓ کیا یہی تھا میرے نصیب میں ۔ مجھے وہ شخص کیوں ملا جو کسی اور سے دل لگا بیٹھا ہے ۔زویا رات بہت ہو چکی ہے آپ آرام کر لیں۔دور کہیںاسے اپنے کانوں میں اس انسان کی آواز سناٸی دی جس کے لیے اس کے دل نے ابھی دھڑکنا شروع ہی کیا تھا۔
وہ بھیگی پلکوں سے اپنی قسمت پہ جتنا رو سکتی تھی روٸی تھی ۔ وہ پوری رات نہ سو سکی تھی نہ ماہیر سو سکا تھا ۔ وہ بیڈ چھوڑ کر صوفے پہ جا سویا فالحال وہ کسی بھی بحث کرنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔ کتنا خوش تھا وہ ۔ ایک دم جیسے سب خوشیاں کسی نے اپنے شکنجے میں لے لی تھیں ۔ سب کچھ ویران لگنے لگا تھا۔
اسکا دل بھی ایک دم بجھ سا گیا تھا کتنا پاگل تھا وہ جس نے قسمت پہ بھروسہ کر کے اپنے لیے خوشیاں تلاش کی تھیں پر شاید اس کے مقدر کو خوشیاں راس نہیں ۔یہی سوچتے کب صبح ہوٸی اسے پتا ہی نہیں چلا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی جاگنگ کر کے آیا تھا دروازہ بند کرتے ہ پہلی نظر اس دشمنے جان پہ جا ٹہری جو ہر چیز سے بے گانا و بے نیاز ہوکر نیند کی وادی میں کھوٸی ہوٸی ۔ وہ قدم قدم چلتا اس کےپاس آ بیٹھا ۔ کتنی پیاری گتی تھی وہ ایسے بچوں کی طرح سوتے ہوۓ ۔ بالکل کسی چار سالہ بچے کی طرح معصوم تھی ۔ سوتے میں بھی ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے کے احاطہ کیےہوتی تھی ۔ ۔
اس کی معصومیت پہ ہمان کو کل رات والی پری کی باتیاد آٸی ۔
” ہمان ہممممم ۔۔۔!!!مجھے آپ سے کچھ کہنا تھا وہ چینج کرنے جارہی تھی لیکن پھر کچھ یاد آتے ہی وہ ہمان کی طرف مڑی جو بیڈ پہ سفید کرتا پہنے لیپ ٹاپ پہ کوٸی کام کرنے میں مگن تھا ۔
”آپ کس کے ہیں ۔ پری کے سوال پہ اس کی انگلیاں رکی تھیں سر اٹھا کے دیکھا تو وہ ہاتھ میں ناٸیٹ گاٶن پکڑے اس کے جواب کی منتظر تھی ۔ چہرے کے تاثرات ایسے تھے جیسے کہہ رہی ہو جلدی بتاٸیں نا ۔۔ مطلب ہمان نے الجھ کر پوچھا ۔۔۔!!!! مطلب کہ آپ۔۔ آپ۔۔ وہ۔میں یہ کہہ رہی تھی کہ وہ اچانک پزل ہوگٸی ۔
جو وہ پوچھنا چاہ رہی تھی اسے سمجھ نہیں آیا کہ کیسے پوچھے ۔پر ہمان کی تو روح تک میں رچ بس گٸی تھی پری کیسے نہ اس کی بات سمجھ پاتا ۔وہ لیپ ٹاپ ساٸیڈ پہ رکھتا اس کے پاس آیا ۔ اس کا چہرے دونوں ہاتھوں کےپیالے میں لیا ۔
”ہمان صرف پری کا ہے صرف پری کا ۔ اور پری صرف ہمان کی ۔ مسکراتے ہوۓ اس نے پیشانی پری کی پیشانی سے ٹکرادی ۔“
”پری آپ کو کسی کو بھی نہیں دے گی نہ ہی ہمان کو شیٸر کرے گی کیونکہ ہمان صرف پری کا ہے ۔ وہ اس کندھے سے سر ٹکاتی ایک ایک لفظ سچاٸی سے کہتی گٸی“
ہمان کو بے اختیار پری پہ ٹوٹ کے پیار آیا ۔ اس نے جھک کے پری کے ماتھے پہ منتشر بالوں کو نرمی سے ہٹایا اور اس کا ماتھا چوما ۔ اس لمس پاتے ہی پری نے کسلمندی سے آنکھیں کھولیں اور اپنے اوپر جھکے ہمان کو دیکھ کر اس کی چیخ نکلتی کہ ہمان نے اپنا مضبوط بھاری ہاتھ اس کے نازک سے ہونٹوں پہ رکھ کر اس کی بے ساختہ چیخ کا گلا گھونٹا ۔یار میں ہوں اس میں چیخنے والی کون سی بات ہے ہاتھ ہٹانے لگا ہوں چیخنا نہیں ۔
وہ اٹھ کر بیٹھ گٸی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمان کی قربت سے اس کی بولتی بند ہوچکی تھی ۔ وہ بس نظریں جھکاۓ بیٹھی تھی ۔ ہمان کو وہ اس وقت کوہ کاف سے بھٹکی ہوٸی کوٸی پری لگی تھی جو اس کے نصیب میں لکھ دی گٸی تھی ۔ وہ اس کی حالت اچھی طرح سمجھ سکتا تھا اس لیے اٹھ کر فریش ہونے چلا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گڈ مارننگ زویا بھابھی ۔ عالی اور عاشی نے زویا کو سلام کیا جو اس وقت فونٹ کلر کی ساڑھی میں ہلکا سا مک اپ کیے بھی بہت پیاری لگ رہی تھی ۔ یہ ساڑھی سارہ کی فرماٸش تھی ۔ دراصل ساڑھی ماہیر کو بہت پسند تھی اور یہ ماہیر نے خود زویا کے لیے پسند کی تھی پر وہ اسے دے نہ سکا اس لیے سارہ کو کہ دیا کہ وہ خود زویا کو دے دے۔
ملک ولا میں پہلی صبح مبارک ہو سارہ نے مسکرا کر کہا تو وہ بس ہلکا سا مسکراٸی ورنہ جو کچھ رات کو ہو چکا تھا اس سب میں تو وہ مسکرانا ہی بھول گٸی تھی ۔ ناشتہ لگ گیا ۔ آجاٸیں اور یہ ماہیر کدھر ہیں زویا۔
انجی نے چاۓ کے کپس ڈاٸیننگ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ زویا سے پوچھا تو ایک دفعہ کے لیے تواس کے ہاتھ کپکپا گۓ ۔ کیا جواب دیتی وہ ۔
وہ ایچولی میں وہ بس!!!!! ۔ ۔۔۔۔
گڈ مورننگ انجی ۔۔۔ !!!
ماہیر کی چہکتی ہوٸی آواز پہ وہ بے ساختہ مسکراٸیں۔ گڈ مارننگ وہ سیڑھیوں پہ مصروف سا رسٹ واچ باندھتے اتر رہاتھا بلیک این براٶن کامبینیشن سوٹ میں ملبوس نفاست سے سیٹ کیے بال ایک لمحے کو اسے دیکھ کر زویا کا دل زور سے دھڑکا تھا پھر جلدی سے اس نے خود کو گھرکا ۔ نہیں زویا۔ جیسے تو اپنا سمجھ رہی ہے وہ شخص تیرا نہیں ایک زخمی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پہ آکر معدوم ہوگٸی ۔
کہاں کی تیاری ہے برخوردار ۔۔۔!!!
ایک امپورٹنٹ میٹنگ ہے ۔ وہ تو مجھے بھی پتا ہے ۔ تو پھر ۔ یہ لنڈن کی ٹکٹ کس خوشی میں وہ بھی تمہارے اکیلے کی۔ ماہیر کا منہ کا جاتا ہاتھ رک گیا ۔پھر جلدی سے خود کو نارمل کیا ۔ایک پروجکٹ کے سلسلے میں جارہا ہوں کچھ دنوں تک آجاٶں گا۔ زویا کو تو ایک اور غم لگ چکا تھا ایک تو کل رات ماہیر کا پری کے لیے اس سے بد تہذیبی سے بات کرنا دوسرا اب وہ اسے چھوڑ کر لنڈن جا رہا تھا ۔ اس کی بھوک ہی مر چکی تھی ۔ وہ اٹھ کر جانے لگی۔ زویا کہاں جا رہی ہیں ناشتہ تو کرتی جاٸیں ۔ انجی نے پیچھے سے اسے پکارہ۔
نہیں بھوک نہیں ہے۔ آواز رندھی ہوٸی تھی۔ وہ رکی نہیں تھی سیڑھیاں پھلانگتی اپنے کمرے میں چلی گٸی ۔
This is not fair Maheer.
زویا تو ابھی سے اداس ہوگٸی ہیں اور آپ ہیں کے جانے کی بات کر رہے ہیں ۔ ہاں بھاٸی ابھی نٸی نٸی تو شادی ہوٸی ہے ۔آپ ایک کام کریں زویا کو بھی ساتھ لے جاٸیں ۔
نہیں اس کی ضرورت نہیں ۔ وہ اپنا کوٹ اٹھاکر باہر کہی جانب چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ فریش ہوکر باہر آیا تو پری ویسے ہی بیٹھی تھی اس کا سر کافی حد تک جھکا ہوا تھا ۔
ہمان اس کے طرف بڑھ گیا ۔
کم آن گیٹ اپ پری جلدی سے چینج کرو فریش ہوجاٶ ۔ پھر میں تمہیں باہر لے کر جاٶں گا چلو اٹھو شاباش ۔
وہ بادل ناخواستہ اٹھ کر فریش ہونے چلی گٸی ۔
تھوڑی ہی دیرگزری تھی ہمان کو کچھ غیر معمولی ہوتا محسوس ہو۔ا پری کا واشروم گۓ گھنٹہ گزر چکا تھا۔ وہ بھی کچھ پیپیر ورک کر رہاتھا۔ پتا ہی نہیں چلا کے اتنا وقت گزر گیا ۔
یہ لڑکی بھی نہ ابھی تک باہر نہیں نکلی کہیں اندر ہی تو نہیں سو گٸی۔ افف ہمان تو بھی کیا کیا سوچتا رہتا ہے ۔
وہ اپنی سوچوں کو جھٹکتا واشروم کا دروازہ نوک کرنے لگا پر جواب نادار ۔
کافی دیر بجانے پر بھی جب دروازہ نہ کھلا تو ہمان کو گڑبڑ لگنے لگی ۔ اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ ہلکا سا پش کیا ۔ دروازہ کھلا تھا ۔ اس نے پورا کھول دیا۔ سامنے ہی بلر گلاس وال سے اسے پری کا عکس دکھاٸی دیا ۔وہ بیسن پہ جھکی ہوٸی تھی ۔ وہ گلاس وال کراس کرتا اس کے پاس آیا جو بیسن پہ جھکی عجیب سے خمار میں تھی ۔ ہمان پریشان ہوگیا اچانک اس کی طبیعت بگڑ گٸی تھی نا جانے کیا ہوا تھا وہ بے چین سا اسے پکار بیٹھا۔
پری۔۔۔!!!!
دونوں کندھوں سے اسے تھام کر اس کا رخ اپنی جانب کیا ۔ ۔
عجیب وحشت تھی الجھے بال اجلی دمکتی رنگت پہ سرخ گاٶن سے چھلکتے سفید بازو جس کے سٹریپ کندھوں سے نیچے اتر چکے تھے ۔ ہونٹوں سے بہتا خون اسے خون کی الٹی ہوٸی تھی ۔ یا وحشت عجیب ہی گھٹن تھی ۔ وہ لڑکھڑاٸی کہاں اس میں طاقت تھی کہ وہ زندگی کے اتنے ستم سہتی ۔ اسے حوش نہیں تھا آنکھیں بار بار بند ہورہی تھیں ۔ جسم کانپ رہا تھا ۔ اس کا بدن ٹھنڈا یخ برف کی سلی کی طرح پڑا تھا۔ ہمان نے اسے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا ۔ آخر یہ لڑکی حوش میں کیوں نہیں تھی ۔ ہمان کے جھنجھوڑنے پر اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی اسے پتا تھا ہمان ہے اس کے پاس ۔ ہمان نے بنا دیر کیے اسے خود میں بھینچ لیا ۔ ۔۔
وہ ایک لمحے کے لیے ہمان کے سینے سے لگ کے پر سکون ہوگٸی ۔ اسے لگا اب درد نہیں ہوگا ۔
لیکن یہ زندگی اس کے لیے کہاں اتنی آسانیاں رکھنے والی تھی ۔ تکلیف اک بار پھر ہوٸی تھی گلا میں گلٹیاں بننے لگی تھیں ۔ اس نے خود کو ہمان سے الگ کیا اور لڑکھڑاتے دوبارہ بیسن پر جھکی تھی ۔ اور پوری قوت سے خون کی الٹی کی تھی۔ جابجا بیسن پہ خون کے چینٹے دور دور تک گۓ تھے۔ درد حد سے سوا تھا ۔
اس نے خون کا زاٸیقہ چکھا تھا ۔ پری کو رکلیف تھی آنسو بے آواز ہمان کا چہرا بھیگو رہے تھے۔
تھوڑی دیر پہلے ہی تو وہ اس لڑکی کو نیند سے اٹھانے کے لیے اس کے سوتے وجود سے اٹکیلیاں کر رہا تھا اور اب وہ اپنی زندگی سے لڑ رہی تھی ۔ وہ وہی جم چکا تھا ۔ اس نے پری کو سنبھالا پری بیسن پہ جھکی تھی اور وہ پری پہ ۔ اس نے ایک بازو سے جھکی پری کو اپنے حصار میں لیا ۔ دودرے سے اس کے بال پیچھے کیے اور اپنا گال پری کے گال سے مس کیا ۔ اسے قریب آنے پہ احساس ہوا درد کی شدت کیا ہوتی ہے۔ پری کی سسکیاں اس کی آہییں ۔
اس کے منہ سے بہتا خون بیسن لال ہوچکا تھا۔ اتنا کہ خون میں گوش کے ٹکڑے بھی تھے ۔اس کی تکلیف اتنی تھی کے آنسو رکتے نہ تھے ۔ ہمان اس کے چہرے سے چہرہ ملاۓ اس کے ساتھ ہی جھکا تھا ۔جیسے کہ رہا ہو
”پری میں تمہاری ہر تکیلف میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ تم مجھے ہر موڑ پہ اپنے ساتھ کھڑا پاٶ گی ۔“
ہمان نے پری کے موتی اپنے پوروں پہ چن لیے اور پھر جو وہ روٸی تھی ۔ ہمان کی روح تک تڑپ گٸی ۔ ہمان اسے چپ کرواتا رہا پر وہ چپ نہ ہوٸی ۔ہمان خود بھی اس کے ساتھ ہی روتا رہا ۔ بھلا ایسا کبھی ہوا ہے کہ اس کا محبوب روۓ اور وہ نہ روٸے ۔
اس کے ساتھ لگی پری سسکیوں سے روتی پورے درو دیوار ہلاگٸی ۔ اوہ وقتاً فا وقتاً پری کے بال سہلاتا اور اس کا سر چوم کر اس کی ہمت بندھاتارہا ۔ وہ اب تک گاٶن میں ملبوس تھی کہاں اسے حوش اپنے حلیے کی تھی ۔
وہ ا لٹی کر چکی تھی۔ ہمان نے اسے سیدھا کیا ۔ بے اخیار اس نے پری کا ماتھا آنکھیں اور دونوں گال چوم ڈالے ۔ کیا جنون تھا۔ کیا عشق تھا۔ محبوب کے درد میں درد ۔ راحت میں راحت ۔
نل کھول کر اس نے پانی اپنے ہاتھ کی مٹھی میں لے کر پری کا چہرہ صاف کیا ۔ اپنا رمال نکال کر چہرہ خشک کیا ۔ وہ اتنا رو رہی تھی کہ روتے روتے ہمان کی بانہوں میں جھول گٸی ۔ ہمان مزید پریشان ہوگیا۔ وہ اس حالت میں اسے کہیں لے کر بھی نہیں جا سکتا تھا ۔ یہ لڑکی اس کی کمزوری بن چکی تھی ۔اس کی مسکراہٹ اسکا غم اس کی خوشیاں سب اس کنچن سے ہی جڑی تھیں ۔
ہمان نے اسے بیڈ پر احتیاط سے لٹا دیا۔ پھر گلاس میں پانی لے کر چند چھینٹے پانیاس کے چہرے پہ مارے وہ سر ادھر ادھر مارتی حوش میں آٸی مندی مندی آنکھیں کھولی تو ہمان کو اپنے سامنے پاکر وہ ایک پھر زورسے رودی ۔
Pari calm down relax .Its all right
دونوں ہاتھوں ست اسکا چہرہ تھام کر وہ بالکل اسے بچوں کی طرح ٹریٹ کرنے لگا ۔ یہ تو شکر تھا کہ اب تک اس طرف کوٸی آیا نہیں تھا اس نے نکاح کے بعد ہی سارہ کو سختی سے تاٸید کی تھی کہ اس کے کمرے کی طرف کوٸی نہ آۓ ۔
اسی تاٸید کا اثر تھا جو ناشتے کے لیے بھی اب تک کوٸی نہیں بلانے آیا تھا ۔۔
چپ ہوجاٶ بالکل چپ کچھ نہیں ہوا ہے دیکھو بالکل ٹھیک ہو تم ہمان کے پاس ہو۔ پری نے نظریں اٹھا کے دیکھا کیا کچھ نا تھا اس کی نظروں میں بولتی آنکھیں کٸی سوال تھے ان آنکھوں میں ہمان نے نظریں ہٹالیں ۔
میری پری بہت بہادر ہے۔ بریو گرل ۔۔۔!!!اس نے مسکرا کر کہا ۔ ہے نا بریو گرل ۔۔!!!پری نے اثبات میں سر کو ہلایا ۔ اب پری نہیں روۓ گی ۔نہیں۔۔۔!!! پری نے ہونٹوں کو ہلکی سی جنبش دی ۔
ہمان نے اسے چینج کرنے کا کہا۔ ہمت کر کے پری نے کپڑے چینج کیے تھے ۔ ورنہ حالت تو اس کی ایسی تھی ابھی گرتی اور ابھی گرتی ۔ دوا دے کر اسے بلینکٹ اوڑھایا ۔ یو نیڈ ریسٹ پری ۔تم آرام کرو ۔ وہ اسے ہدایت کرتا اٹھ کر جانے لگا تھا ۔ وہ ابھی اس کا ہاتھ چھوڑ کر مڑا ہی تھا کہ وہ ایک بار پھر زور سے رونے لگی ۔ ہمان فوراً اس کے پاس بیٹھ گیا۔
پری کیا ہوا ہے میں نے ابھی سمجھایا تھا نا چندہ روتے نہیں ہیں۔ آآآآپ ۔مممجھے جھے۔ چچچھوڑڑ۔ ککے جاجا رہہے ہیں ۔
وہ ہچکیاں لیتی بے ربط الفاظ بول رہی تھی ۔ ہمان کا کلیجہ کٹ گیا اسے اتنی تکلیف میں دیکھ کر ۔
” نہیں پری میری جان میں اپنی پری کو چھوڑ کر کیسے جاسکتا ہوں تمہیں چھوڑ دوں گا تو سانس کے سے لوں گا ۔ “
عجیب الفاظ تھے اس کے لفاظ تھے کہ چاشنی۔ وہ گھل ہی تو گٸی تھی اس کے لفظوں کی چاشنی میں ۔
اس کا ماتھا چومتے محبت سے کہتا وہ اس کے کانوں میں رس گھول گیا۔ آنسو تھے کہ اپنے آپ تھم گۓ ۔ہاں وہ واقع اسے نہیں چھوڑ کر جاسکتا ۔بھلا سانس لینا بھول سکتا ہے کوٸی ۔ وہ اب مطمٸن تھی ۔
کافی لمحے خاموشی کی نظر ہوگۓ ۔ وہ نظریں جھکاۓ بیٹھی تھی ۔اور ہمان اسے دیکھ رہا تھا کتنی تکلیف کے بعدسکون میسر آیا تھا اسے ۔ اس کی تکیلف کوٸی ہمان سے پوچھتا ۔
ہمان ۔۔۔!!!!جھکی نظروں سے پکارا گیا ۔
ہمممم ۔۔۔!!!
مجھے پاٸن ایپل کھانا ہے بہت سارا۔ بچوں والی فرماٸش ۔ نظریں اٹھاکر وہ اپنے محبوب سے فرماٸش کر رہی تھی ۔آواز رندھی ہوٸی تھی۔ نینوں میں ایک بار پھر پانی جھلملانے لگا تھا۔
اس نے روتے ہوۓ ہچکی لی ۔
رونا کس بات کا ہے پاٸن ایپل کھانا ہے مل جاۓ گا میں لاکر دوں گا اور بولو ۔جو بولو کی وہ حاضر کردوں گا۔
یہ رونا بند کرو اس نے اپنی ہتھیلی سے ایک بار پھر اسکے آنسو صاف کیے ۔ ۔
ہمان ۔۔۔!!!ہممم اب کیا چاہیے ۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں گم تھے ۔
ایک کی آنکھیں نم تھیں تو دوسرے کا دل پسیج گیا تھا۔
ہمان اتناسارہ خون۔۔۔!!!! وہ۔۔۔ وہاں ۔۔۔!!!بیسن ۔۔۔!!!منہ سے۔اتنا سارہ ۔۔۔کیوں آیا تھا ۔
پری کا سوال تھایا کوٸی خنجر جو سیدھا اس کے دل کو چیر گیا اس کی آنکھوں کے گوشے لمحے میں نم ہوگۓ ۔ آنسو تھے کہ پلکوں کی باڑ توڑنے کو تھے۔ وہ سر جھکاگیا۔ کیا جواب دیتا وہ اسے کہ کیوں اسے خون کی الٹی ہوٸی تھی۔
کیوں وہ اتنی تکیلف سے دو چار رہتی ہے ۔ یہیں کہ اسے برین ٹیومر ہے اس سوال کا جواب تو ہمان خود بھی سننا نہیں چاہتا تھا ۔اس کا دل شدت سے دعا کرتا تھا کہ یا اللہ یا تو اس لڑکی کو زندگی دے دے یا مجھے موت دے دے۔
اس سے اس کی تکلیف سہی نہیں جاتی ۔
مجھ سے اس کی تکلیف نہیں سہی جاتی ۔
وہ پری کو سلاکر باہر چلا گیا اس کے اندر کا موسم آج کافی ابر آلود تھا کچھ بادل تھے غم کے جن کو جھٹنے میں کافی وقت لگنا تھا۔ برس کر ہی دم لیناتھا۔ وہ کیسے بھلا پری کے سامنے روتا ۔وہ نہیں چاہتا تھا اس کا محبوب اسے روتا دیکھ کر روۓ ۔یہی تو دیوانگی کی حد ہے ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *