Pari By Shanzey Rajpoot NovelR50762 Pari By Shanzey Rajpoot Episode44
No Download Link
828.1K
52
Rate this Novel
Pari By Shanzey Rajpoot Episode01 Pari By Shanzey Rajpoot Episode02 Pari By Shanzey Rajpoot Episode03 Pari By Shanzey Rajpoot Episode04 Pari By Shanzey Rajpoot Episode05 Pari By Shanzey Rajpoot Episode06 Pari By Shanzey Rajpoot Episode07 Pari By Shanzey Rajpoot Episode08 Pari By Shanzey Rajpoot Episode09 Pari By Shanzey Rajpoot Episode10 Pari By Shanzey Rajpoot Episode11 Pari By Shanzey Rajpoot Episode12 Pari By Shanzey Rajpoot Episode13 Pari By Shanzey Rajpoot Episode14 Pari By Shanzey Rajpoot Episode15 Pari By Shanzey Rajpoot Episode16 Pari By Shanzey Rajpoot Episode17 Pari By Shanzey Rajpoot Episode18 Pari By Shanzey Rajpoot Episode19 Pari By Shanzey Rajpoot Episode20 Pari By Shanzey Rajpoot Episode21 Pari By Shanzey Rajpoot Episode22 Pari By Shanzey Rajpoot Episode23 Pari By Shanzey Rajpoot Episode24 Pari By Shanzey Rajpoot Episode25 Pari By Shanzey Rajpoot Episode26 Pari By Shanzey Rajpoot Episode27 Pari By Shanzey Rajpoot Episode28 Pari By Shanzey Rajpoot Episode29 Pari By Shanzey Rajpoot Episode30 Pari By Shanzey Rajpoot Episode31 Pari By Shanzey Rajpoot Episode32 Pari By Shanzey Rajpoot Episode33 Pari By Shanzey Rajpoot Episode34 Pari By Shanzey Rajpoot Episode35 Pari By Shanzey Rajpoot Episode36 Pari By Shanzey Rajpoot Episode37 Pari By Shanzey Rajpoot Episode38 Pari By Shanzey Rajpoot Episode39 Pari By Shanzey Rajpoot Episode40 Pari By Shanzey Rajpoot Episode41 Pari By Shanzey Rajpoot Episode42 Pari By Shanzey Rajpoot Episode43 Pari By Shanzey Rajpoot Episode44 (Watching)Pari By Shanzey Rajpoot Episode45 Pari By Shanzey Rajpoot Episode46 Pari By Shanzey Rajpoot Episode47 Pari By Shanzey Rajpoot Episode48 Pari By Shanzey Rajpoot Episode49 Pari By Shanzey Rajpoot Episode50 Pari By Shanzey Rajpoot Episode51 Pari By Shanzey Rajpoot Last Episode
Pari By Shanzey Rajpoot Episode44
Pari By Shanzey Rajpoot Episode44
اس نے اپنے کمرے میں آ کر کمرہ اندر سے لاک کیا ساتھ ہی چٹخنی بھی چڑھالی۔آنسوں اس کا چہرہ بھیگو رہے تھے۔ وہ اپنی سسکیوں پر قابو نہ رکھ سی اور ہچکیوں سے روتی وہ۔
کمرے میں موجود چھوٹےسےاسٹور روم سے پیٹرول کا کین اٹھالاٸی۔ہمان جلدی جلدی سیڑھیاں اترتا اس کے کمرےکی طرف بھاگا تھا۔ پری نے کین کا ڈھکن کھول کے پورے کمرے میں پیٹرول کا چھڑکاٶ کر دیا۔اور باقی کا اپنے اوپر گرالیا۔وہ اب بھی بری طرح رو رہی تھی۔
خالی کین ایک ساٸیڈ پہ پھینک کر وہ بیڈ ساٸیڈ ٹیبلز کی درازوں میں ماچس تلاش کرنے لگی۔جو اسے بنا کسی مشقت کے مل گٸی۔پری نے تیلی نکال کے ماچس جلاٸی اورصرف ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں۔آنکھوں کے مدھم پردوں پہ وہی ہنستا مسکراتا چہرہ۔
پر یہ خرافات اب اس کے لیے نہیں تھیں ۔اس نے دونوں انگلیوں سے تیلی کو آزاد کیا تیلی فرش پر گری۔اگلے ہی لمحے پورا کمرہ آگ کی لپٹوں کی نظر ہو چکا تھا۔
ہمان کے قدم کمرے پہ آ کے تھمے۔پر دھوٸیں۔ آگ کی تپش اور تیز روشنی نے اس کے قدموں تلے زمین کھینچ لی۔
وہ بری طرح چلایا تھا۔
پری۔!!!!!!!!!!!!!
بری طرح دروزہ پیٹتا وہ شاید ہی زندگی میں اتنی تیزی سے سےاس کا دل دھڑکا ہوگا جتنا اب دھڑک رہا تھا۔وہ دروازے کھولنے کی ہر ممکن کوشش کر چکا تھا۔اب تو بس صرف ایک ہی راستہ بچا تھا۔
پری کو منانا ہاں وہ بہت جلد ہر ہربا ت مان لیا کرتی تھی۔
پری دروازہ کھولو پری وہ دونوں ہاتھوں سے دروازہ پیٹ رہا تھا۔آٸینہ سمیت سب وہیں آ گۓ۔
ی۔ی۔یہ سب ہمان یہ آگ فار گاڈ سیک ہمان تیرا دماغ ٹھیک ہے اندر پری ہے اور یہ آگ ہے نظروں کی سپیڈ سے پھیلتی ہے ماہیر نے ہمان کو جھنجھوڑا۔
تو کیا کروں وہ دروازہ نہیں کھول رہی ماہیر۔ وہ پریشان دیکھتا تھا۔ماہیر اس قت اس کی حالت سمجھ سکتا تھا۔گھبراہٹ کے مارے اس کے ہاتھ پیر پھولنے لگے ۔
نین تو سکتے کے عالم میں اس دروزے کو دیکھ رہا تھا۔۔ایک دم وہ غصے میں ہمان کے اوپر چڑھ دوڑا۔
یو بلڈی باسٹرڈ تم نے میری بہن کی یہ حالت کی ہے۔ صرف تم نے۔ اس سب کے ذمہ دار تم ہو۔
قسم اس رب تعالیٰ کی ہمان ۔اگر میری بہن کو کچھ ہو گیا نا تیری میں ہستی ہلاکر رکھ دوں گا۔
لہو رنگ آنکھوں میں خون اتر آیا۔اس نے ہمان کے گریبان پکڑ کر اسے دھمکی دی
ماہیر اور زین نے اسے پیچھے کرنا چاہا۔وہ دونوں کے ہاتھ جھٹک گیا اور دروازے پہ زور سے لات ماری تو وہ ٹوٹ کر نیچے گرا۔
نین آگ کی پرواہ کیے بغیر کمرے میں جانے لگا۔زین نے نےپٕچھے سے اسے پکڑا۔کیا کر رہا دماغ خراب ہوگیا ہے تیرا۔
اندر آگ کی لپٹیں اٹھ رہی ہیں۔
تو کیا کرو چوڑیاں پہن کر بیٹھ جاٶں۔جلنے دوں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز بہن کو۔ وہ ہتھے سے اکھڑ گیا۔
شور شرابا سن کر گھر کے سب سب بڑے یہیں آ گۓ۔
یہ۔یہ۔ت۔تو پری کا کمرہ ہے۔انجی نے ہکلاتے ہوۓ کہا اس سے آ گے کچھ بھی سمجھنے کی ضرورت نہیں تھی۔
ممتا افی میسم ابرار ہادیہ بیگم سب سر پکڑے کھڑے تھے ۔انجی تو کمرے کی طرف بڑھنے لگیں تھیں۔ماہیر نے انہیں قابو کیا۔
ماہیر ہمیں چھوڑیں ہمارا ہاتھ چھوڑیں ماہیر ہماری پری اندر ہیں وہ ڈر جاٸیں گی۔انہیں سانس نہیں آۓ گا۔ہماری بچی ماہیر خدا کا واسطہ ہے ماہیر چھوڑیں ہمیں ہماری پری بری طرح روتے تسسکتے انجی ماہیر سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کی سعی کر رہی تھیں۔ماہیر نے انجی کو اپنے ساتھ لگا لیا تو وہ رو پڑیں ۔
ممتا کا حال بھی اس سے مختلف نہ تھا زین نے انہیں سنبھال رکھا تھا۔ ہمان نے بنا سوچے سمجھے کمرے میں قدم رکھا۔ ہر طرف دہکتی آگ اور اس کی جھلسا دینے والی تپش۔ وہ مزید بچ بچاکر آگے بڑھا ۔
لکڑی کی بڑی سی آگ میں جلتی شے اسے کے اوپر گرنے کو تھی پر وہ بروقت آگے کی طرف کود گیا۔
شےگرنے کی آواز باہر تک آٸی تھی۔ سارہ کی چیخیں بلند ہوٸی تھیں۔اگلے ہی لمحے وہ رافع کے ہاتھوں میں نیم بے ہوش گرتی چلی گٸی۔
زویا خود شوکڈ سی آنسو پیتی کھڑی تھی۔
ہمان بری طرح کھانس رہا تھا۔دھواں پورے کمرے میں بھر چکا تھا۔وہ پری کو آواز دے دے کر تھک گیا تھا۔
اچانک اس کی نظر سامنے سرخ کپڑے پر پڑی جس پر آگ لگی ہوٸی ۔
ہمان فوراً ادھر لپکا پاٶں کی مدد سے اس نے وہ کپڑے ادھر ادھر کیے تو اسے پری کا وجود دکھاٸی دیا۔جو بالکل صحیح سلامت تھی۔
ہمان وہیں سجدے میں جھکتا چلا گیا۔بے شک ربِ تعالیٰ کی زات کسی دلاٸل کی کی محتاج نہیں۔جیسے وہ پتھر میں کیڑے کو غذا پہنچا سکتا ہے ۔
بالکل ایسے ہی ان انگاروں میں جہاں سب کچھ آگ کی نظر رہو گیا ہو۔پری کا سلامت بچ جانا یہ بھی اسی کی کرامات ہیں۔
ہمان نے سر سجدے سے اٹھاتے ہی اس نے پری کے ماتھے پہ بوسہ دیا اور سب سے پہلا کام یہ کیا اپنے گلے سے کھدر درکی چادر جو وہ اکثر لیا کرتا تھا۔
اس میں اسے لپیٹ کے کندھے پہ ڈالا اور باہر کی طرف بڑھا بیچ میں آگ بہت زیادہ تھی۔ وہ جونہی آگے بڑھتا کوٸی نہ کوٸی چیز آ گرتی۔
آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے موقع دیکھ کر وہ آ گے گیا۔آگے آگ نہیں تھی۔نین نے تمام ملازموں سے پانی سے آگ بجھانے کو کہا تھا۔ ملازم ہاتھ میں پاٸپ لیے پانی کی تیز دھاروں سے آگ پہ قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان میں نین بھی شامل تھا۔
ہمان کو کوباہر آتے دیکھ وہ پاٸپ چھوڑ چھاڑ کر اس کی طرف لپکا۔
ہمان میری بہن کیسی وہ۔وہ وہ۔ ٹھیک ت۔تتو ہے نا۔نین نے اس کے کندھے پہ پڑے چادر میں لپٹے وجود کو دیکھ کر سوالوں کی بوچھاڑ شروع کردی۔ اس کا دل ایک انجانے خوف سے لرز رہا تھا۔
نین ہمیں اسے ہسپتال لے جانا چاہیے۔ گاڑی نکالو تم۔
انجی اور ممتا کو تو ہوش ہی نہیں تھا۔ہمان پری کو گاڑی میں لیٹا کر خود نین کے ساتھ آگے بیٹھ گیا۔ نین کی گاڑی ہواٶں سے باتیں کر کررہی تھی۔
گاڑی ہسپتال کے سامنے روک کے نین ہمان سے پہلے ہی پری کو اٹھا کے اندر کی طرف بھاگا اور اسے سٹریچر پر ڈال کر زور زور سے ڈاکٹرز کو آوازیں دے کر پورا ہسپتال وہ سر پہ اٹھا اچکا تھا۔
اس کی دھاڑ اور ہمان کی چیخ پکار پر ڈاکٹرز کا پورا عملہ اس طرف متوجہ ہوا اور پری کو آٸی سی یو میں لے جایا گیا۔
زین پری کو کچھ ہوگا تو نہیں عالی ابھی ممتا بیگم کو نیند کی گولیاں دودھ میں ملا کر دے کر آٸی تھی۔ اب وہ بری طرح نیچے کھڑی رو رہی تھی۔زین نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لے کر اس کے سر پر بوسہ دیا۔
کچھ نہیں ہوگا اللہ سب بہتر کریگا۔
زویا کو ماہیر تسلیاں دے دےرہا تھا۔زویا سب ٹھیک ہوجاۓ پلیز آپ رونا بند کر یں سارہ تو ماہیر کے سینے سے لگی ہچکیوں سے رو رہی تھی ۔آٸینہ تو اب تک برف کا مجسمہ بنی کھڑی تھی۔
ملک ولا سے دو تین گاڑیاں آگے پیچھے نکلی تھیں۔
رافع گھر ہی رکا تھا انجی اور ممتا کو اسے ہی دیکھنا تھا۔
ماہیر زویا سارہ اور ہادی بیگم کو ہسپتال لے جارہا تھا ۔زین کی گاڑی میں عالی عاشی افی جبکہ ابرار اور ہادیہ بیگم الگ گاڑی میں تھے۔ آٸینہ بھی انہی کے ساتھ تھی ۔
_________
خیریت تم نے مجھے یہاں اکیلے میں ملنے بلایا ہے۔چٸیر گھسیٹتے آٸینہ نے ہمان کو چھیڑا۔بی سیریس آٸینہ۔اوکے اوکے وہ دونوں ہاتھ کھڑے کرتے ہوۓ سرینڈر کرنے والے انداز میں بولی۔
اب بولو کیوں بلایا ہے مجھے۔ تم سے ایک ضروری اور بہت کام ہے۔ کون سا کام۔ ایک آٸیبرو اٹھا کے پوچھا گیا۔مجھ سے شادی۔۔
واٹ تمہارا اوپر والا چیمبر تو ٹھیکانے پہ ہمان کیا بک رہے ہو۔وہ پہلے تو چونک گٸی پھر غصے میں پھٹ پڑی۔
میں یہاں تمہارے کہنے پر تمہاری شادی اٹینڈ کرنے آٸی ہوں اور تم مجھ سے ہی شادی کرنے کا بول رہے ہویو نو واٹ ہمان۔
شٹ یور ماٶتھ آٸینہ۔پہلے میری پوری بات سن لو۔آدھی ادھوری بات سن کر ردِ عمل کرنے والی عادت ابھی تک گٸی نہیں تمہاری۔ تم کلو پترہ ہو یا جولیا ہو جو میں شادی شدہ ہونے کے باوجود تم سے شادیکرنے کے لیے مرا جارہا ہوں۔حد کرتی ہوں تم قسم سے کبھی کبھی تمہاری عقل پر ماتم کرنےکا دل کرتا ہے۔
ہمان نے اچھی طرح اس کی طبیعت صاف کی اور آٸینہ نے جہاں ایک سکون بھری سانس خارج کی وہیں۔ اس نے لفظ کلو پترہ اور جولیا پہ ہمان کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔
کیا ہم بات کر سکتے ہیں انسانوں کی طرح۔بالکل ۔آٸینہ نے چبا کر کہا۔تو سنو تمہیں مجھ سے شادی کا جھوٹا ڈرامہ کرنا ہے۔
بولو کرو گی۔ہاں اس بات کی میں گارنٹی دیتا ہوں۔یہ شادی سچ میں نہیں ہوگی پر شادی تک کی ساری رسمیں ہونگیں۔
ٹھیک ہے مجھے تم پر بھروسہ ہے۔اگر تم اتنا فورس کر رہے ہو تویری طرف سے ڈن ہے اب پوری ہسٹری کھولو۔
ککھ بھی پلے نہیں پڑا۔
آٸینہ پری نے شادی سے انکار کر دیا ہے۔ہمان نے ہارے ہوۓ لہجے میں کہا۔واٹ۔اسے چار سو چالیس والٹ کا کرنٹ لگا ۔ہمان نے آٸینہ کو پری کے بارے میں شروع سے لے کر آخر تک سب بتادیا۔
اچھا تو یہ بات۔تو تم پری کو جیلس فیل کروانا چاہتے ہو۔
ہاں آٸینہ۔او تمہیں یقین ہے کہ تمہارا یہ پلین کام کرے گا۔یقین ہے پرا پورا۔کیونکہ پری اپنی کوٸی بے جان چیز تک کیسی شٸیر نہیں کرتی انفیکٹ وہ تو کسی کو ہاتھ تک لگانے نہیں دیتی۔
اور یہاں تو پھر بات میری ہے جس وہ بے انتہامحبت کرتی ہے۔مجھے یقین ہے جب وہ ہم دونوں کو ایک ساتھ دیکھے گی تو اس کے اندر غصے کا ایک وبال اٹھے گا۔اور وہ سب سچ بتا دے گی۔
ایک سیکنڈ ایک سیکنڈ ۔کون سا سچ۔اب یہ کیا کھپت ہے۔
آٸینہ پری کا انکار معمولی ضد نہیں اس کے پیچھے ضرور کوٸی ٹھوس وجہ ہے۔پری کےانکار کو تو میں اقرار میں بدل ہی لیتا مگر بات یہاں اس کے پیچھے چھپی اس وج ہکی ہے جو جاننا میرے لیے بہت ضروری ہے۔
تا کہ پتا تو چلے کہ اس کے معصوم ذہن میں یہ خناس بھرا کس نے ہے وہ جو لمحہ بھر کی دوری برداشت نہیں کرتی وہ زندگی بھر کی دوری کیسے برداشت کرے گی۔
تمہیں پتا ہے آٸینہ میں نے جب پری سے دوسری شادی کی بات کہہ تو اس نے کوٸی ردِ عمل ظاہر نہ کیا۔اور یہیں سے میرا شک یقین میں بدل گیا۔
کہ وہ الفاظ جو اس کے منہ سے ادا ہوۓ نہ تو وہ الفاظ اس کے تھے نہ ہی وہ لب و لہجہ۔
اٹس اوکے ہمان سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔تم پریشان مت ہو۔ہم ہیں نہ مل کر سب ٹھیک کر لیں گے۔پر ہمان پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہماری شادی کا جب تم گھر والوں کو بتاٶ گے تو کہیں وہ منع نہ کردیں۔آٸینہ نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
اس کی فکر تم مت کرو وہ سب کچھ میں پلان کر چکا ہوں۔اب بس عمل کرنا باقی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پر ہمان یہ سب ٹھیک نہیں ہے کیا لگتا ہے آپ کو کیا آپ کا یہ پلین کام کریگا۔ہمان انجی کے کمرے میں بیٹھا ان سے سب ڈسکس کر رہا تھا اور باقی سب کو بھی اس نے یہیں بلا لیا تھا۔وہ سب کو اپنے پلین میں شامل کرنا چاہتا تھا۔
جب ہمان ان سب کو اپنا پلین بتایا۔تو سب سے پہلے انجی نے انکار کیا۔
ماہیر اور زویا ان سب میں شامل نہیں تھے۔نہ ہی نین شامل تھا۔یہ ب بھی اس نے کچھ سوچ کر تر تیب دیا تھا۔آٸی تھینک ہمان ٹھیک کہہ رہا ہے موم ۔زین نے ہمان کی بات کی تاٸید کی۔
صرف سارہ عالی زین اور انجی اس کے پلین میں شامل تھے۔سارہ نے افوس سے سر جھٹکا۔ہمان کیا واقع اس کے علاوہ کوٸی دوسرا اوپشن نہیں ہے ہمارے پاس۔سارہ نے آس بھری نگاہوں سے ہمان کو دیکھ کر پوچھا۔نہیں اور کوٸی اوپشن نہیں۔
پر پری بہت جزباتی ہے ہمان۔وہ ہمیشہ غصے میں اہنا ہی نقصان کرتی ہیں۔ڈونٹ وری اس بار وہ اہنا نہیں کسی اور کا نقصان کرے گی۔ انجی کی فکر دیکھ کر ہمان نے انہیں تسلی دی۔
ٹھیک ہے ہمان ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ بہ شرط یہ کہ اس میں پری کو کوٸی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔پھر اس سے آ گے آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کیا ہوگا۔صورتحال بجاۓ صحیح ہونے کے مزید بگڑ جاۓ گی۔
مجھ پہ بھروسہ کریں انجی پری جتنی آپ سب کو عزیز ہے۔وہ اتنی ہی میرے لیے بھی معزز ہے۔آپ فکر مت کریں ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہسپتال کے کوریڈور سونا پڑا تھا۔نین سر ہاتھوں میں گراۓ بینچ پہ بیٹھا تھا۔ہمان ستون سے ٹیک لگاۓ دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے آنکھیں بند کیے کھڑا تھا۔
عین اسی وقت ماہیر ابرار اور زین سب آگے پیچھے ہسپتال میں داخل ہوۓ۔پری کیسی ہے کچھ بتایا ڈاکٹر نے۔کیسی ہے پری۔
ماہیر نے ہمان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر پوچھا۔نہیں فالحال تو کچھ نہیں۔وہ مایوسی سے دوبارہ آنکھیں موند گیا۔
دفعتاً آٸی سی یو سے ڈاکٹر باہر آۓ۔
ہمان آگے بڑھنے لگا تھا۔ ماہیر نے اس کا بازو تھام لیا۔یہ وقت نین کا ہے۔بے شک بہن بھاٸی کا رشتہ سب سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔میری بھی تو کچھ لگتی ہے وہ۔ہمان کے دل میں درد سا اٹھا تھا۔صبر کرو۔ماہیر بس اتنا ہی کہہ سکا۔
نین جلدی سے ان کی طرف بڑھا۔ڈاکٹر میری بہن کیسی ہے۔ کیا میں اس سے مل سکتا ہوں۔
دیکھیے پیشنٹ کی حالت بہت نازک ہے۔انہیں major brain ataick .ہوا ہے۔ ان کے دماغ کی مخصوص نس پھٹنے کا خدشہ ہے۔ہمیں فوری طور پہ اوپریشن کرنا ہوگا۔
یہ کچھ پیپرز ہیں ان پہ سیگنیچر کردیں۔تاکہ ہم آپریشن شروع کر سکیں۔ڈاکٹر نے پیپرز نین کے ہاتھ میں تھماۓ۔کیا ہے یہ۔اس نے چونک کر پوچھا۔ماہیر نے نین کے ہاتھ سے پیپر لے کر پڑھے اور سیگنیچر کر کے دوبارہ ڈاکٹر کو تھمادیے۔
شکریہ مسٹر ماہیر۔
آپریشن سے پہلے میں آپ سب کو ایک بات بتادینا چاہتا ہوں۔ پیشنٹ کے بچنے کے چانسیس بہت کم ہیں۔تقریباً ٣٠ فیصد چانس ہیں۔باقی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
ہمان نے قدرے اچھنبے سے ڈاکٹر کو دیکھا۔ واٹ رابش۔یو بلڈی چیپ ہمت کیسے ہوٸی تیری میری بہن کے بارے میں ایسا کہنے کی۔ہوتا کون ہے تو اسے آر یا پار لگانے والا۔
نین نے ڈاکٹر کا گریبان پکڑ کر تقریباً چیخ کر کہا۔
چھوڑ نین پاگل ہوگیا ہے کیا ۔ڈاکٹر جا چکا تھا۔ہمان نے اس پیچھے کیا۔
ہاں پاگل ہو گیا ہوں میں اور یہ سب تیری وجہ سے ہوا ہے۔بہت شوق چڑھا تھا نا تجھے دوسری شادی کا تو جا جاکر کر نا شادی۔یہاں کیا دھنیا نوچنے آیا ہے۔یا پھر انتظار کر رہا ہے اس کے مرنےکا۔کہ کب وہ مرے اور کب تو سکون سے شادی کرے۔
ہمان تو نین کی باتوں پہ ششدہ رہ گیا۔اس نے پری کے بارے میں ایسا کبھی نہیں سوچا تھا۔بلکہ وہ تو سب کچھ پہلے جیسا کرنا چاہتا تھا۔نین کی باتیں تیر کی طرح اس کے دل میں پیوست ہورہی تھیں اور وہ گھایل ہی تو ہو گیا تھا۔
ارے تیرے اندر شرم نام کی چیز ہے کہ نہیں۔
اس نے منع کر دیا اور تو مان گیا۔ارے اس سے پوچھتا تو صحیح کہ آخر کیوں کر رہی ہے وہ یہ سب۔اگر اس انکار کے پیچھے اتنی سی بھی سچاٸی ہوتی نہ تو آج وہ ہسپتال میں نہ پڑی ہوتی۔
سر پلیز کیپ ساٸیلنٹ یہ ہاسپیٹل ہے کوٸی پبلک پلیس نہیں ۔ اگر آپ نے شور ہی کرنا ہے تو باہر جا کر کریں۔نین کی آواز پہ نرس نے اسے کڑے تیوروں میں تنبیہہ کی۔
او پلیز بند کرو اپنا یہ بھاشن۔کسی کے باپ کا نہیں ہے یہ ہسپتال۔میں وہی کروں گا۔جو میرا دل چاہے۔۔سمجھیں۔
وہ ایک دم غصے سے دھاڑا تھا۔
ماہیر سر پکڑ کر بیٹھ گیا زین نے نفی میں گردن ہلا کر سر جھٹکا۔
ہمان ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔۔ نہیں۔غلط تم نہیں۔ غلط میں ہوں۔سارا قصور ہی میرا ہے۔مجھے پری کو پاکستان بھیجنا ہی نہیں چاہیے تھا۔
میں ہی اپنے بھاٸی ہونے کا فرض نہیں نبھا پایا۔مجھے کیا پتا تھا کہ وہ پاکستان آۓ گی تو کیا ہوگا۔وہ یہاں آۓ گی۔اس کادل لگ جاۓ گا۔وہ نرم و نازک دل کی مالک کسی سے دل لگا بیٹھے گی۔وہ لڑکی جس کے لیے صرف اس کا بھاٸی اور اس کی چاکلیٹس عزیز ہوا کرتی تھیں۔ اب کوٸی اسے خود سے بھی زیادہ عزیز ہو جاۓ گا۔
مجھے کیا پتا تھا کہ وہ جو اپنے بھاٸی کہ بغیر ایک لمحہ نہیں رہتی تھی۔وہ کسی اور کے بغیر جینے پر موت کو ترجیح دینے لگے گی۔ نہیں پتا تھا کہ وہ جیسے زندگی کہ معنی ٹھیک سا نہ پتا تھے وہ خود کشی کرنے کی کوشش کرے گی۔
یو ڈیم وہ جو آج آپریشن تھیٹر میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس کی وجہ تم ہو ہمان صرف اور صرف تم ہو۔
اگر اسے کچھ بھی ہو گیا نہ تو میں بھول جاٶں گا کہ تم کون ہو میں رشتوں کا تقدس بھول جاٶں گا ہمان۔
۔وہ حلق کے بل چیخا تھا۔آنکھوں سے اشک رواں تھے۔غصے کے باٸث چہرہ کے نقوش تن گۓ تھے۔
پیھے کھڑی سارہ بری طرح سہم گٸی تھی۔
انف اس انف نین بہت ہو گیا۔یہ ہاسپیٹل ہے۔کوٸی ریسلنگ کلب یا میدانِ جنگ نہیں۔ کم از کم پری کا ہی لحاظ کرلو۔
وہ اندر زندگی اور موت سے لڑ رہی ہے اور تم دونوں کو بس اپنی پڑی ہے۔
لڑنا ہے نا۔باہر جا کر لڑو۔ایک کام کرو دونوں ایک ایک کلاشن کوف لے لو اور پھر کام تمام۔قصہ ہی ختم۔ویسے بھی یہ طنز اور تعنیٰ تشنی سے جنگیں نہیں جیتی جاتیں۔
ماہیر جو اتنی دیر سے یہ سب برداشت کر رہا تھا۔ایک دم اٹھ کر ان دونوں پر دبا دبا سا غرایا۔گو کہ ہمان چپ تھا۔لیکن یہ چپ ہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
وہ غلطی پر تھا۔اسی لیے خاموشی سے نین کی باتیں سن رہا تھا۔نین خاموشی سےلب بھینچے بینچ پر بیٹھ گیا۔سب اپنی اپنی جگہ خاموشی سے بیٹھے تھے۔
پھر ایک گھنٹہ دو گھنٹے تین گھنٹے گزر گۓ۔ ہمان ہر دس منٹ بعد روم کے دروازے پر آس بھر نگاہ دوڑاتا اور ہر بار مایوس۔
نین کی تو اب ہمت جواب دے گٸی تھی۔وہ اٹھ کر تیزی سے آٸی سی یو روم کی طرف بڑھنے لگا تھا۔کہ اچانک ڈاکٹر اور دو نرس باہر آتی دکھاٸی دیں۔
نین ہمان اور ماہر پھرتی سے آگے بڑھے۔
میری بہن کیسی ہے ڈاکٹر۔وہ ٹھیک تو ہے نہ آپریشن کیسا رہا۔ کیا میں مل سکتا ہوں اہنی بہن سے۔
نین نے سوالوں کی بوچھاڑ کردی وہ قدرے متفکر نظر آتا تھا۔
آپریشن کامیاب رہا۔سب کی سانس بحال ہوٸی تھی۔مگر انہیں ابھی تک ہوش نہیں آیاہے۔اگلے بہاتر گھنے ان کے لیے بہت اہم ہیں۔اگر ان گھنٹوں میں انہیں ہوش نہیں آیا تو انکے قومہ میں جانے کا خدشہ ہے۔
نین لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہوا ماہیر نے اسے کاندھوں سے پکڑ کر سہارا دیا۔اسے ایسا لگا جیسے اس کی ٹانگوں میں جان باقی نہ بچی ہو۔وہ شاکڈ کے عالم میں خالی الزہن ڈاکٹر کی باتیں سن رہا تھا۔
مجھے شاید یہ کہنا تو نہیں چاہیے کہ ان کے ہوش میں آنے کے چانسس بہت کم ہیں۔انہیں میجر برین اٹیک ہوا تھا۔دماغ مکمل طور پر سن ہو چکا ہے۔
انکا نروس سسٹم کام نہیں کر رہا۔ایسا لگتا ہے جیسے شاید وہ خود ہی زندگی کی طرف آنا نہیں چاہتیں۔ہمان کی ہمت باقی نہیں رہی تھی۔اسے لگا اگر وہ مزید یہاں کھڑا رہا تو شدت سے رو پڑے گا۔
کیا واقع محبوب کا دیکھ اتنا ازیت ناک ہوتا ہے کہ اپنی جان نکلتی محسوس ہوتی ہے۔وہ وہاں سے چلا آیا۔
ورنہ اکثر ایسے کیسس میں پیشنٹ ہوش میں آجاتے ہیں۔لیکن جب مریض ہی ہمت ہار جاۓ تو پھر کیا کہا جا سکتا۔
آپ لوگ دعا کیجیے فالوقت انہیں دواٶں کی نہیں دعاٶں کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر اپنے منہ پر سے ماکس ہٹاکر ہاتھوں کے گلبز اتارتے ہوۓ اپنے پروفیشنل انداز میں بول کر آگے بڑھ گۓ۔ جبکہ نین وہی ٹھنڈے فرش پر بیٹھ گیا۔
ماہیر میرا بڈی ۔اسے کہو اٹھے۔میں اسے باہر لے کر جاٶں گا۔
وہ جو کہے گی کھلاٶں گا۔وہ شوارمہ بہت شوق سے کھاتی۔اسے ڈونٹ بہت پسند ہے۔ اسے کہو نا کہ نین اسے یہ سب چیزیں کھلاۓ گا۔بس ایک دفعہ آنکھیں۔کھولے۔میں اسے کینیڈا لے جاٶں۔اس نے مجھ سے کہا تھا۔ اسے یہاں نہیں رہنا۔میں اسے اپنے ساتھ لے جاٶں گا ما ہیر۔
وہ پگلا وہیں فرش پہ بیٹھے شدت سے رودیا۔ماہیر کو اس کی حالت پہ افسوس ہونے لگا تھا۔وہ بھی تو اس کے لیے ہمان جیسا ہی تھا۔
گر جو اس کی جگہ سارہ ہوتی اور نین کی جگہ میں۔ سوچ کہ ہی اس کی روح کانپ گٸی۔وہ نین کا درد سمجھ رہا تھا۔وہ وہی پنجوں کے بل نین کے پاس بیٹھا اور خاموشی سے اپنے پیارے بھاٸی کو گلےلگا لیا۔
سارہ تو خود رو رو کے ہلقان ہوچکی تھی بر وقت اسے زویا نے سنبھالا۔عالی کو زین کینٹین لے گیا تھا۔ عاشی بھی ان کے ساتھ ہی تھی۔وہ ان سب سے سخت بےزار تھی اس کی آنکھ سے تو ایک آنسو تک نہ ٹپکا تھا۔
ماہیر سب کو لے کر گھر آگیا۔گھر آتے ہی اس کے لیے سب سے بڑی مشکل تیار کھڑی تھی ۔انجی اور ممتا نے اسے گھیر رکھا تھا۔پر وہ کچھ نہ بولا۔نین کی حالت دیکھتے ہی انجی سکتے میں آگٸیں اور ماہیر کو لگا۔وہ مزید سچ نہیں چھپا سکتا۔
ماہیر نے انہیں سب سچ بتادیا۔ان سب کے سچ سننے کی دیر تھی انجی اور ممتا کو سنبھالنا ان کے لیے دو بھر ہو گیا۔وہ پری سے ملنے کی ضد کیے بیٹھی تھیں۔
ہمان بھی وہیں موجود تھا۔گھر کے سب لوگ لاٶنج میں تھے۔یہاں تک کہ میسم بھی۔ہمان نے کن نظروں سے میسم صاحب کو دیکھا۔میسم صاحب کو جب اپنے اوپر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوٸی۔
تو اپنے تعاقب میں ہمان کو پایا۔
اس کی نگاہوں میں ایک سرد پن تھا۔غصہ ضبط کرنے کے باٸث گلے میں ابھرتی گلٹی واضح ہو رہی۔میسم صاحب کو کچھ غیر معمولی محسوس ہوا۔ہمان کی نگاہوں بہت کچھ بول رہی تھی۔
ہر سو ہو کا عالم تھا۔میسم تو نظریں چرا کر اپنے کمرے میں چلے گۓ۔ جب بھی ان کا سامنا ممتا یا افی سے ہوتا وہ اسی طرح کنی کتراجاتے۔
دو دن یونہی گزر گۓ ۔نین زیادہ وقت ہسپتال میں ہوا کرتا تھا۔ہمان بھی ایک آدھ بار چکر لگا لیتا تھا۔اسی دوران ماہیر ممتا اور انجی کو بھی ایک بار ملوانے لایا تھا۔
سارہ تو چپ رہنے لگی تھی۔عالی کو بھی اکی دم چپ لگ گٸی تھی۔لیکن ان سب میں ایک شخص ایسا تھا۔جسے زرہ برار تک فرق نہ پڑا اور وہ تھی عاشی۔
آج پری کو بے ہوش ہوۓ تیسرا دن تھا آج اس کا ہوش میں آنا بہت ضروری تھا۔انجی ممتا ہمان نین اور سارا عالی تقریبا سب ہی اس کے لیے دعا گو تھے۔
جاری ہے
