Pari By Shanzey Rajpoot NovelR50762
Last updated: 10 July 2026
No Download Link
828.1K
52
Pari By Shanzey Rajpoot Episode01Pari By Shanzey Rajpoot Episode02Pari By Shanzey Rajpoot Episode03Pari By Shanzey Rajpoot Episode04Pari By Shanzey Rajpoot Episode05Pari By Shanzey Rajpoot Episode06Pari By Shanzey Rajpoot Episode07Pari By Shanzey Rajpoot Episode08Pari By Shanzey Rajpoot Episode09Pari By Shanzey Rajpoot Episode10Pari By Shanzey Rajpoot Episode11Pari By Shanzey Rajpoot Episode12Pari By Shanzey Rajpoot Episode13Pari By Shanzey Rajpoot Episode14Pari By Shanzey Rajpoot Episode15
Pari By Shanzey Rajpoot
وہ گناہگار تھا اس سے گناہ ہوا تھا"۔
"بھلا گناہ کر کے بھی کسی کو سکون ملا ہےنیند آٸی ہے"۔۔۔
"نہ
یں نا"۔
"تو پھر ہمان کو کیسے نیند آجاتی"۔
"ہمان پریشانی کے عالم میں آنسو پونچھتا گاڑی کی چابی اٹھا کے دبے پاٶں پورچ میں آیا"۔۔
"اگنیشن میں چابی گھماٸی اور گاڑی سن سان سڑک پہ ڈال دی "۔۔
"وہ کافی دیر تک سڑکوں پے بے مقصد گاڑی دوڑاتا رہا"۔۔
"کچھ دیر تک گاڑی دوڑانے کے بعد ہمان نے گاڑی ایک جھٹکے سے روکی"۔۔
"چہرہ آنسوٶں سے تر تھا"۔
" اس نے سر گاڑی کی پشت سے ٹکا دیا"۔
"کافی دیر وہ تک اسی پوزیشن میں بیٹھا رہا "
"پھر گاڑی سے باہر نکلا "۔
"دونوں ہاتھ گردن کی پشت پر باندھ دیے "۔۔
" اور چہرہ آسمان کی طرف کر لیا
"شاید وہ اپنے اللہ سے بات کرنا چاہتا تھا"۔۔۔
"س سے اپنے گناہ کی معافی مانگنا چاہتا تھا "۔
"تا کہ اسے سکون مل سکے "۔۔۔
"آج کے دور میں کہاں کوٸی محرم نا محرم کی سمجھ رکھتا ہے "۔۔"اگر رکھتا بھی ہے تو اسے لوگ دقیانوسی سوچ کا حامل سمجھتے ہیں"۔۔۔"ہر جگہ لڑکا لڑکی کھلے عام پھرتے نظر آتے ہیں "۔۔۔"ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے نہ جانے کون سے خوابوں میں مگن ہوتے ہیں جو انہیں یہ یاد ہی نہیں۔۔
" کہ قرآن پاک میں ہمارے رب نے کھلے الفاظوں میں بیان کر دیا ہے :
"عورت مرد پر اور مرد عورت پر نکاح کی شرط پر ہی حلال ہیں "
"اس کے علاوہ اگر تعلقات قاٸم کیے جاٸیں تو پس وہ لوگ زنا کے زمرے میں آۓ"۔۔
" جو گناہ کبیرا ہے جس کی معافی کسی صورت نہیں"۔
"ہمارے معاشرے میں یہ سب عام ہے "۔
"چھوٹی چھوٹی عمر کی لڑکیاں محبت جیسے پاک جزبے کے نام پر اپنی دنیا و آخرت خراب کر رہی ہوتی ہیں "۔۔
"یہں وہ صنف نازک ہوتی ہیں جو اس محبت نامی جال میں پھنس کر بعد میں اپنی عزت کا رونا روتی ہیں"۔
"وقت رہتے انہیں سنبھل جانا چاہیے"۔۔
"بے شک عزت اور ذلت اس پروردگار حقیقی کے ہاتھ میں ہے"۔
"معاشرے میں جہاں ایسے لوگ موجود ہیں وہیں ہمان جیسے لوگ بھی موجود ہیں "۔
"جو اپنی ایک غلطی کے کفارے کے لیے راتوں کو چین کہ نیند نہیں سو پاتے "۔۔
"جب تک وہ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر مغفرت طلب نہ کرلیں"۔۔
"ہمان بھی اپنے رب سے معافی کا طلب گار تھا "۔۔۔
"انجانے میں ہی سہی میں کیسی نا محرم کو ہاتھ لگا چکا تھا"۔۔۔" بھلا کیوں "۔۔۔" وہ روتا روتا گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگا کے نیچٕ بیٹھ گہا" ۔۔
"ہمان کو وہیں بیٹھے کافی دیر گزر گٸی"۔۔
"دور کہیں سے فجر کی اذان کی آواز آ رہی تھی"۔۔
"فجر کی اذان سن کر ہمان کو لگا اسے اس کا رب بلا رہا ہے "۔۔۔
" جیسے کسی نےاس میں سکون پھونک دیا ہے
"حی الصلاة"
"آٶ بھلاٸی کی طرف"
"حی اللفلاح"
"آٶ نماز کی طرف
اسے اس کا رب بلا رہا تھا" ۔۔۔ "آٶ بھلاٸی کی طرف"۔۔" آٶ نماز کی طرف"۔
بے بےشک نماز برے برےکاموں اور اوربے حیائی حیائی سے روکتی روکتی ہے
__________
"ہمان چہرہ صاف کرتا گاڑی میں بیٹھا
" اور گاڑی مسجد کی طرف جانے والی کچی سڑک پہ ڈال دی"
"مسجد زیادہ دور نہیں تھی اس لیے وہ جلدی پہنچ گیا"۔۔
"مسجد کی دہلیز پہ پہلا قدم رکھتے ہی اس کے آنکھیں پھر بھر آٸیں"
" پر یہ پچھتاوے یا کیسی گناہ کے آنسو نہیں تھے یہ تو خوشی کے آنسو تھے"۔
" اسے اس کے رب نےمعافی کے کابل سمجھا تھا"۔
" جبھی تو وہ یہاں اس کے گھر کہ چوکھٹ پہ کھڑا تھا بے شک وہ جس کو چاہے ہدایت بخشنے والا ہے"۔
"وہ چلتا چلتا وضو خانے کی طرف آیا"۔۔
"چبوترے پہ بیٹھ کہ دونوں کف فولڈ کیں اور نلکا کھول کر وضو کیا جیسے جیسے وضو کا پانی نیچے گر رہا تھا اسے اپنا آپ ہلکا لگ رہا تھا"
اسے لگا اس کے گناہ بھی ساتھ ہی بہہ رہے ہیں"۔
" اب وہ صف میں آ کھڑا ہوا نیت کی اور بارگاہ الہی میں جھک گیا
"پوری نماز میں ہمان کا چہرہ نم تھا
"آنکھیں نم تھیں سلام پھیر کر ہاتھ دعا کے لیے اٹھا تو بے اختیار زبان پہ اللہ کے نام کے کے بعد دوسرا نام پری کا آیا"۔
" یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا "
"کیسے شاید اس معاملے وہ بے اختیار ہو چلا تھا
" نظریں ہتھیلیوں پر مرکوز تھیں "
"میں تجھ سے معافے مانگتا ہوں"
"میرے اللہ میں جو کیا غلط کیا بلکہ گناہ کیا مجھے اس طرح سے پری کو ہاتھ نہیں لگانا چاہیے تھا"۔
" کچھ بھی تو نہیں لگتی وہ میری پھر نہ جانے میں نٕ کس حق سے اسے گلے سے لگالیا
"مجھے معاف کردے میرے مولا بےشک تو غفور رحیم رحمان ہے "
"اے رب کاٸنات میں تیرا ادنی سا بندہ میری کوٸی اوقات نہیں کہ میں تیرے حکم کی ادولی کروں"
" میں تجھ سے اپنے گناہ کی معافی مانگتا ہوں"
" ہمان رو رو کردعا منگتا سجدے میں جھک گیا "
" بزرگ صحیح کہتے ہیں
"گڑگڑا کر دعا مانگنے والا بندا اللہ کو بے حد پسند ہے اور وہ اپنے پسندیدہ بندوں کی مغفرت فرمادیا کرتا ہے"
"ہمان سجدے سے اٹھا دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرے اور باہر کی جانب چلدیا "۔
"صبح کا ملکجا اندھیرا روح کو سکون بخش رہا تھا ٹھنڈی ہواٸیں بھلا سا تاثر دے رہی تھیں "۔
"ہمان یک ٹک آسمان میں موجود جھلملاتے ستاروں کو تک رہا تھا
