Pari By Shanzey Rajpoot NovelR50762 Pari By Shanzey Rajpoot Episode12
No Download Link
828.1K
52
Rate this Novel
Pari By Shanzey Rajpoot Episode01 Pari By Shanzey Rajpoot Episode02 Pari By Shanzey Rajpoot Episode03 Pari By Shanzey Rajpoot Episode04 Pari By Shanzey Rajpoot Episode05 Pari By Shanzey Rajpoot Episode06 Pari By Shanzey Rajpoot Episode07 Pari By Shanzey Rajpoot Episode08 Pari By Shanzey Rajpoot Episode09 Pari By Shanzey Rajpoot Episode10 Pari By Shanzey Rajpoot Episode11 Pari By Shanzey Rajpoot Episode12 (Watching)Pari By Shanzey Rajpoot Episode13 Pari By Shanzey Rajpoot Episode14 Pari By Shanzey Rajpoot Episode15 Pari By Shanzey Rajpoot Episode16 Pari By Shanzey Rajpoot Episode17 Pari By Shanzey Rajpoot Episode18 Pari By Shanzey Rajpoot Episode19 Pari By Shanzey Rajpoot Episode20 Pari By Shanzey Rajpoot Episode21 Pari By Shanzey Rajpoot Episode22 Pari By Shanzey Rajpoot Episode23 Pari By Shanzey Rajpoot Episode24 Pari By Shanzey Rajpoot Episode25 Pari By Shanzey Rajpoot Episode26 Pari By Shanzey Rajpoot Episode27 Pari By Shanzey Rajpoot Episode28 Pari By Shanzey Rajpoot Episode29 Pari By Shanzey Rajpoot Episode30 Pari By Shanzey Rajpoot Episode31 Pari By Shanzey Rajpoot Episode32 Pari By Shanzey Rajpoot Episode33 Pari By Shanzey Rajpoot Episode34 Pari By Shanzey Rajpoot Episode35 Pari By Shanzey Rajpoot Episode36 Pari By Shanzey Rajpoot Episode37 Pari By Shanzey Rajpoot Episode38 Pari By Shanzey Rajpoot Episode39 Pari By Shanzey Rajpoot Episode40 Pari By Shanzey Rajpoot Episode41 Pari By Shanzey Rajpoot Episode42 Pari By Shanzey Rajpoot Episode43 Pari By Shanzey Rajpoot Episode44 Pari By Shanzey Rajpoot Episode45 Pari By Shanzey Rajpoot Episode46 Pari By Shanzey Rajpoot Episode47 Pari By Shanzey Rajpoot Episode48 Pari By Shanzey Rajpoot Episode49 Pari By Shanzey Rajpoot Episode50 Pari By Shanzey Rajpoot Episode51 Pari By Shanzey Rajpoot Last Episode
Pari By Shanzey Rajpoot Episode12
Pari By Shanzey Rajpoot Episode12
تم خامخواہ ٹینشن لے لیتیں “۔
“کیا بات ہے ہمان “۔۔
“اب تم مجھے ایسے کہوگے خامخواہ کی ٹینشن “۔۔۔
“مجھے نہیں لگتا یہ جھگڑنے کا وقت ہے”۔
زین نے سارا اور ہمان کو سمجھانے والے انداز میں کیا
” تو دونوں خاموش ہو گۓ”۔۔
” پری کیسی ہے سارہ کا لہجہ بھراگیا”۔
” وہ معصوم سی لڑکی سارا کو بہت پیاری لگتی تھی “۔
“ہمان نے آگے بڑھ کے اسے گلے سے لگا کر تسلی دی “
“ٹھیک ہوجاۓ گی پری تم فکر نہ کرو “۔
“ہمان نے اپنی انگلی کی پوروں سے اس کے آنسو صاف کیے”۔
“ہم ہیں نا سب مل کر دعا کریں گے اس کے لیے”۔۔
” سارہ نے اثبات میں سر ہلایا “
“پر یہ سب اچانک میرا مطلب ہے کہ بیٹھے بیٹھاۓ کیا ہوگیا اسے “
“اچھی بھلی تو آٸی تھی وہاں سے “
“سارہ کی بات سے ہمان کو اپنے گھر میں آنے کا مقصد یاد آیا
“تو وہ عالی سے مخاطب ہوا”
“عالی کل رات تم اور عاشی اکیلے گھر کیوں آٸی تھیں”۔
“عالی کے اس سوال پہ طوطے اڑ گۓ”۔
” وہ تو سمجھی تھی اس سب میں ہمان یہ بات بھول گیا ہوگا”
“لیکن یہ صرف اس کہ غلط فہمی تھی “
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے”۔۔
” ہمان کی آواز کا سرد پن عالی کی اندر تک خوف زدہ کر گیا
“وہ ہمان عاشی کی طبیعت خراب ہو گٸ تھی تو بس اسی لیے ہم لوگ “
“ابھی عالی کی بات پوری بھی نہیں ہوٸی تھی کہ ہمان زور سے دھاڑا”
“کس کی اجازت سے تم لوگ اکیلے رات کو ڈراٸیو کر کے آٸیں
“عالی اچھل کر دو قدم پیچھے ہوٸی “
“ہمان کے غصے سے گھر میں سب ہی ڈرتے تھے”۔
“بولو گی اب یا چپ کا روزہ رکھا ہے تم نے “
“مجھ پر مت برسو ہمان “
“یہ سوال جا کر عاشی سے پوچھو “۔
“اس سے بھی پوچھ لوں گا پہلے تم بتاٶ
“مجھے عاشی نے کہا تھا کہ اس نے زین کو بتادیا ہے کہ میری طبیعت خراب ہے تو میں گھر جا رہی ہوں عالی کو لے کر
“تو تم نے اس کی بات مان لی اتنی آسانی سے
“ہاں وہ ضد کر رہی تھی تو اس لیے بس”۔
“عالی نے ڈرتے ڈرتے بتایا”
“ہمان غصے سے اسے گھورتا عاشی کی خبر لینے چلاگیا”۔
“عاشی “
” کیا ہوا تھا تمہیں کل رات “۔
“سنا ہے کافی طبیعت خراب ہو گٸی تھی تمہاری “۔
“مجھے بھی تو پتا چلے آخر کتنی طبیعت خراب تھی”۔
” جو تمہیں جھوٹ بول کر گھر آنا پڑا “
“عاشی اپنی چوری پکڑی جانے پہ گھبراگٸی”
” اسے عالی پہ بے حد غصہ آیا یہ عالی کی بچی بھی نہ کوٸی بات پچتی نہیں اس کے پیٹ میں”۔
” چپ کیوں ہو جواب دو ہمان کی آواز کسی بھی تاثر سے پاک تھی”۔
” خیر چھوڑو شرمندہ تو تم نے کیا ہی ہونا ہے”
” میری اگلی بات کا جواب دو۔ ک۔ک۔کیا “
“تمہارے عالی اور پری کے درمیان کوٸی ایسی بات ہوٸی ہے جس سے پری کو گہرا صدمہ پہنچا ہے “۔
“ن۔ن۔ن۔ نہیں ۔ت۔ت۔تو ایسی تو کوٸی بات نہیں ہوٸی “۔
“ہمان کے سوال پہ عاشی نہ صرف سٹپٹاٸی “۔
“بلکہ گھبراہٹ اور خوف کے مارےاس شدید سردی میں بھی اس کے پسینے چھوٹ گۓ”۔۔۔
________
تم سچ کہہ رہی ہو
ہاں
میں ج۔ج۔جھوٹ کیوں بولوں گی
میں سچ کہہ رہی ہوں۔
پر مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ تم کچھ تو چھپارہی ہو
نہیں نہیں میں تو کچھ بھی نہیں چھپارہی
جو سچ ہے وہی بتارہی ہوں
کچھ بھی نہیں ہوا ہمارے درمیان
اچھا اگر ایسا ہے تو اتنی سردی میں تمہیں پسینے کیوں آرہے ہیں
عاشی ہمان کی باتوں سے کافی حد تک سمجھ چکی تھی کہ اسے مجھ پر شک ہے
ن۔ن۔نہیں بس وہ طبیعت ٹھیک نہیں ہے نا میری اور پھر میں نے میڈیسن بھی لی ہیں
شاید اسی وجہ سے پسینہ آرہا ہے
عاشی نے ڈرتے ڈرتے اپنے دوپٹے کے پلو سے ماتھے پہ آیا پسینہ صاف کیا۔۔
چلو تم کہتی ہو تو مان لیتا ہوں ۔
ہمان کے لہجے میں عجیب سی پرسراریت تھی
جیسے عاشی نے باخوبی محسوس کیا
خیر سچ کیا ہے یہ تو پری کے حوش میں آنے کے بعد ہی پتا چلے گا
پھر میں دیکھوں گا کہ اس معاملے کو کیسے ہینڈل کرنا ہے۔
ہمان نے ایک تیکھی نظر اس پر ڈالی اور اپنی مغرورانہ چال چلتا واپس پلٹ گیا
جبکہ عا شی کہ چہرے کی ہواٸیاں اڑ چکی تھیں ۔۔
اس کا دل کسی پتے کی مانند لرزرہا تھا
کہ اگر پری نے ہمان کو سچ بتادیا تو کیا ہوگا
شام میں ہمان دوبارہ ہسپتال گیا تو نین سے پری کے بارے میں پوچھا
نین نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا
ہمان اس کی جواب سمجھ چکا تھا
اس لیے چپ چاپ اس کے ساتھ وہیں بینچ پہ بیٹھ گیا
سارہ کے بےحد اسرار پر حماد اسے پری سے ملوانے ہسپتال لے آیا۔
نین اور ہمان سارہ کو دیکھ کر کھڑے ہوگۓ ۔
کہاں ہے پری سارہ کی خود کی آواز بھی رونے سے بھاری ہو رہی تھی
نین سارہ کو پری کے روم میں لے گیا
پری کو مشینوں میں جکڑا دیکھ کر سارہ کا دل ہل گیا۔۔
وہ اس کے بیڈ پر ہی ٹک گٸی
پری یہ کیاحالت بنا لی ہے تم نے
تم تو کہہ رہی تھیں نا کہ تم مجھ سے میرے نۓ گھر ملنے آٶ گی
تو پھر کیوں نہیں آٸیں
سارہ کو وہ دن یاد آیا جب مہندی والے دن رسم کرتے ہوۓ پری نے سارہ سے کہا تھا کہ سارہ تم تو چلی جاٶ گی
پھر میں اداس ہو جاٶں گی
تو سارہ نے اسے مسکراکر دیکھا اور کہا کوٸی بات نہیں تم مجھ سے ملنے آجایا کرنا
میں تمہیں اپنا سسرال مطلب اپنا نیا گھر دیکھاٶں گی
اچھا پھر میں آپ کا نیا گھر دیکھنے ضرور آٶں گی
بولتے بولتے سارہ آخر میں رو پڑی
نین نے اسے دلاسا دیا
نین اس سے کہو اب تو اٹھ جاۓ
کتنا سوۓ گی یہ سب کو پریشان کر رکھا ہے اس نے ۔
تمھاری تو ہر بات مانتی ہے یہ
کہو نا اسے کہ اٹھ جاۓ ۔۔
نین سارہ کی حالت کو دیکھتے اسے باہر لے آیا
حماد نے اسے خاموش کروایا تو وہ چپ ہو گٸی ۔
ا بھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ایک نرس کمرے سے باہر نکلتی ان کی طرف آٸی
پیشینٹ کو حوش آگیا ہے ۔۔
اور ہمان کو لگا اس کی زندگی لوٹ آٸی ہے اس نے بے اختیار لب واکیے اور رب العزتکا شکر ادا کیا
کیا آپ سچ کہہ رہی ہیں سارہ نے نرس سے پوچھا
تو وہ مسکراکر سر اثبات میں ہلا گٸی
کیا ہم ان سے مل سکتے ہیں
جی آپ لوگ مل لیں
لیکن دیہان رہے انہیں کسی قسم کا سٹریس یا پھر ان کے سامنے کوٸی بھی ایسی بات مت کیجیے گا
جس سے ان کی طبیعت دوبارہ بگڑ جاۓ ۔
ڈونٹ وری سسٹر ہم اس بات کا خاص خیال رکھیں گے۔
وہ لوگ ا ندر آۓ تو پری چھت پر کسی غیرمرعی نقطے پر نظر ٹکاۓ لیٹی تھی ۔
سارہ اس کے پاس آٸی اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا
پری نے اس طرف دیکھا تو آنکھیں پل بھر میں نم ہوٸیں اور آنسو نکل کر بالوں میں جذب ہوگۓ
سارہ نے پیار سے اس کے آنسو صاف کیے
کیسی طیعت ہے اب
پری نے کچھ نا کہا بس ایسے ہی سب کو دیکھتی رہی
نین آگے بڑھا اور پری کے ماتھے پہ بوسہ دیا اور لیٹے لیٹے ہی اسے گلے سے لگالیا ۔۔
پھر اس کے ہاتھ پر بوسا دیا
پری نے ہلکی ہلکی آواز میں رونا شروع کر دیا
ہمان سے یہ سب دیکھا نا گیا
پہلے بھلا کب اس نے پری کی آنکھوں میں آنسوں آنے دیے
پر آج وہ بے بس تھا کوٸی اور وقت ہوتا تو وہ پری کے موتی چن لیتا۔
اس لیے وہ یہ کہہ کر روم سے باہر چلا گیا کہ میں گھر میں پری کے حوش میں آنے کی اطلاع دے دیتا ہوں ۔
نین نے اسے چپ کروانے کی کوشش کی تو اس کے رونے میں مزید شدت آگٸی
وہ ہچکیوں سے روتی سر کو نفی میں ہلانے لگی
اس کی آواز پر نرس بوکھلتی ہوٸی وہاں آگٸ
پلیز آپ لوگ باہر چلےجاٸیں ان کی طبیعت بگڑ رہی ہے
پر نین وہاں سے نہ ہلا
نرس نے دوبارہ کہا تو
نین نے جواب میں یہ کہا کہ جب تک میں پری کے ساتھ ہوں اسےکچھ نہیں ہوگا
ہاں اگر میں یہاں سے چلا جاٶں گا تو اس کی طبیعت مزید بگڑ جاۓ گی
نرس نے رشک بھری نگاہوں سے اس معصوم لڑکی کو دیکھا
جسے اللہ نے اتنا پیار کرنے والے بھاٸی سے نوازا تھا
وہ لاجواب ہو کر واپس چلی گٸی
پری شش نین نے اس کے منہ پہ انگلی رکھ کر اسے بچوں کی طرح چپ کروایا
چپ بالکل چپ روتے نہیں پری,
میری پری تو بہت بہادر ہے دیکھنا میری پری جلدی ٹھیک ہو جاۓ گی
پری نین کے اتنے پیار سے چپ کروانے پر چپ ہوگٸی
البتہ آنسو اب بھی بہہ رہے تھے
وہ ایک بار پھر مسکرایا اور وہی بیٹھا رہا ۔
تھوڑی دیر میں گھر سے ممتا انجی فواد میسم بھاٸی بھی آگۓ تھے
باقی سب گھر تھے
عالی نے ساتھ آنے کی ضد کی پر پھر ہمان کا غصہ یاد آیا تو خاموش ہوگٸی ۔
وہ لوگ ہسپتال پہنچے تو ہمان لوگوں کو اپنا منتظر پایا
ممتا بیگم جلدی سے ہمان کی طرف آٸیں ہمان میری پری کہاں ہے
مجھے پری کے پاس لے چلو وہ روہانسی ہو گٸیں
چاچی جان آپ خامخواہ پریشان ہورہی ہیں
پری اب ٹھیک ہے
آٸیے میں آپ کو لے کر چلتا ہوں پری کے پاس
وہ لوگ روم میں آۓ تو ہمان نے دیکھا پری اب پہلے سے کافی بہتر تھی
مرجھایا کملا یا سا زرد چہرہ جس پہ مسکان تک نا تھی
پھر بھی وہ ہمان کو اپنی اپنی سی لگی
پری نے اس کی طرف دیکھا تو نظر ممتا بیگم پر پڑی
پری انہیں دیکھ کر ایک بار پھر رونا شروع ہو گٸی
ممتا بیگم نے اسے خوب پیار کیا تو پری کچھ پر سکون ہوٸی
فواد نے پری کو دیکھا تو اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر ماتھے پربوسی دیا ۔
دیکھا میرا بیٹا اتنی جلدی ٹھیک ہوگیا میں نے اپنے بیٹے کے لیے ڈھیر ساری دعا کی تھی ۔
افی صاحب اپنے مخصوص انداز میں پری سے مسکراتے ہوۓ بولے تو پری ہلکا سا مسکراٸی
اوریہ ہلکی سی ہی مسکراہٹ کسی کو اندر تک سرشار کر گٸی ۔
ہمان دور دروزے پہ کھڑے پری کو مسکراتا دیکھ رہا رھا
جبکہ باقی سب پری سے ہلکی پھلکی باتیں کر رہے تھے
البتہ انجی اب تک پری سے نہیں ملی تھیں
ان کا ارادہ پری سے اکیلے ملنے کا تھا
اس لیے جب سب پری سے مل کر گھر واپس چلے گۓ
تو انجی پری کے روم میں آٸیں
پری سو رہی تھی وہ وہیں پری کے پاس بیٹھ گٸیں
کتنی معصوم ہیں آپ پری
ہمیں آپ پر بے تحاشہ پیار آرہا ہے
ہمارہ دل کر رہا کہ ہم ابھی آپ کو اپنی آغوش میں لے لیں
انجی روتے ہوۓ پری سے باتیں کر رہی تھی
انہوں نے پیار سے پری کے چہرے پے ہاتھ پھیرا اور اس کے دونوں گالوں پر بوسہ دیا
ہم چاہ کر بھی آپ کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے
پر دعا ضرور کر سکتے ہیں کہ کبھی تو ایساوقت آۓ گا جب آپ ہمارے پاس ہوں گی
انجی اس کے پاس بیٹھی کافی دیر تک باتیں کرتی رہیں
پھر شام کے ساۓ گہرے ہوۓ تو انجی سارہ اور حماد کے ساتھ گھر چلی گٸیں
اب صرف نین اور ہمان ہسپتال میں روکے ہوۓ تھے۔
ہمان اس دشمن جان سے ملنا چاہتا تھا اسے ایک نظر دیکھنا چاہتا تھا اس سے بات کرنا چاہتا تھا
ہمان کا دل عجیب سی بے چینی میں گھرا تھا
پر وہ نین کی وجہ سے اندر بھی نہ جا سکتا تھا
نین نے ہمان کی بے چینی محسوس کرلی تھی کہ وہ پری سے ملنا چاہتا ہے
اس لیے وہ وہاں سے اٹھ کر کیفیٹیریا کی طرف چلدیا ۔
ہمان نے سکھ کی سانس لی اب وہ اس کنچن سے مل سکتا تھا۔
پری انجی کے جانے بعد کافی دیر تک سوچتی رہی سب ہی اس سے ملنے آۓ تھے
پر ایک ہمان تھا جس نے اس کی خیریت تک نہ پوچھی تھی
وہ ہمان سے سخت ناراض تھی اور اسی ناراضگی میں اس کی آنکھ لگ گٸی تھی
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ نیند سے جاگی تھی
چارو طرف نظر دوڑانے کے بعد بھی وہ پیارا سا شخص اسے نا دکھا
تو وہ مایوس ہوگٸی
عاشی والی بات تو شاید وہ بھول ہی گٸی تھی
سب کا اتنا پیار جو ملا تھا اسے ۔
وہ ہمان کا انتظار کرتے کرتے آنکھیں موند گٸی ۔
ہمان نے دروازے کا ناب گھمایا تو دروازہ کھل گیا
وہ آہستہ سے اندر آیا اور دروازہ دوبارہ سے بغیر آواز کیے بند کردیا
کہ کہیں اگر پری سو رہی ہو تو شور کی آواز سے جاگ نا جاۓ
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کے بالکل قریب آیا
کافی دیر تک وہ اسے یوں ہی دیکھتا رہا ایک عجیب سا سحرتھا اس لڑکی میں
جب جب ہمان اسے دیکھتا تھا
عجیب سے سحر میں جکڑا جاتا تھا
پری کو خود پر کسی کی نظروں کی تپش کا احساس ہوا تو پٹ سے آنکھیں کھول دیں
ہمان اسے دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا اور یہ مسکراہٹ ہی تو پری کی جان تھی
اسے ہمان کی سماٸیل بہت پسند تھی
کیسی طبیعت ہے پری
اب کیسا محسوس ہو رہا ہے
آپ کہاں تھے سب مجھ سے ملنے آۓ تھے
آپ کیوں نہیں آۓ
پری نے ہمان کے سوال تو جیسے سرے سے سنے ہی نہیں
وہ تو ویسے ہی اس سے شدید خفا تھا
اب پری کے شکوے شروع ہو چکے تھے
ہمان کو وہ خفا خفا سی منہ پھولاۓ ہوۓ بے حد پیاری لگی
اس نے مسکرا کر سر کو خم دیا
پھر اس کی طرف دیکھا جو منہ پھلاۓ لیٹی تھی
پری میں یہیں تھا تمہارے پاس ۔
جھوٹ بالکل جھوٹ پری نے ایک خفگی بھری نظر اس پر ڈالی اور بچوں کی طرح بولی ۔
نہیں پری میں جھوٹ تھوڑا ہی بول رہا ہوں
میں کل رات سے یہیں ہوں تمہارے پاس بالکل پاس
کل رات سے ایک پل کے لیے بھی میری نظر تم پر سے نہیں ہٹی
ہمان کی نظریں مسلسل پری کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں
پری کی خفگی ہمان کی باتیں سن کر جھاگ کی طرح بیٹھ گٸی ۔
پر ایک تم ہی تھیں جیسے میری کوٸی پرواہ نہیں کہ میں کس حال میں ہوں
ہمان کی گھمبیر آواز پر پری کی ایک بیٹ مس ہوٸی
اٹھی نظریں جھک گٸی
ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نے احاطہ کرلیا
جیسے وہ چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی
تمہاری مسکراہٹ مجھے بہت پسند ہے پری
اس لیے تم میرے سامنے مسکراسکتی ہو
یہ مسکراہٹ صرف میری ہے
پری کے دل نے رفتار پکڑلی
حیا کے سات رنگ اس کے سبیح چہرے پہ بھکر گۓ
پری
ہمان نے اسے پکارہ
پر اب کمبخت دل نافرمانی کرنے پر تلا تھا
اس ایک ہی جملے میں ہمان نےاسے بہت کچھ جتلادیا تھا
اسے
ناجانے اب وہ کیا کہنا چاہتا ہے
پری تو ٹس سے مس نا ہوٸی
ہمان اس کی حالت سے خاصا محفوظ ہوا
پھر سے اسے پکارہ
پری
اب بھی کوٸی ریسپونس نہیں آیا
تو ذرا ٹہر کے جملہ مکمل کیا
تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا
ہمان کی بات پہ پری نے نظریں اٹھا کے الجھن بھری نگاہوں سے اسے دیکھا
ہمان اس کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوۓ بولا
طبیعت کیسی ہے
پری کو یاد آیا اس نے کیا پوچھا تھا
میری طبیعت اب ٹھیک ہے
پری نے مسکرا کر جواب دیا
اس کی مسکراہٹ دیکھ کر ہمان کے بےقرار دل کو قرار آیا۔
ہممم گڈ.
جاری ہے
