Pari By Shanzey Rajpoot NovelR50762 Pari By Shanzey Rajpoot Episode11
No Download Link
828.1K
52
Rate this Novel
Pari By Shanzey Rajpoot Episode01 Pari By Shanzey Rajpoot Episode02 Pari By Shanzey Rajpoot Episode03 Pari By Shanzey Rajpoot Episode04 Pari By Shanzey Rajpoot Episode05 Pari By Shanzey Rajpoot Episode06 Pari By Shanzey Rajpoot Episode07 Pari By Shanzey Rajpoot Episode08 Pari By Shanzey Rajpoot Episode09 Pari By Shanzey Rajpoot Episode10 Pari By Shanzey Rajpoot Episode11 (Watching)Pari By Shanzey Rajpoot Episode12 Pari By Shanzey Rajpoot Episode13 Pari By Shanzey Rajpoot Episode14 Pari By Shanzey Rajpoot Episode15 Pari By Shanzey Rajpoot Episode16 Pari By Shanzey Rajpoot Episode17 Pari By Shanzey Rajpoot Episode18 Pari By Shanzey Rajpoot Episode19 Pari By Shanzey Rajpoot Episode20 Pari By Shanzey Rajpoot Episode21 Pari By Shanzey Rajpoot Episode22 Pari By Shanzey Rajpoot Episode23 Pari By Shanzey Rajpoot Episode24 Pari By Shanzey Rajpoot Episode25 Pari By Shanzey Rajpoot Episode26 Pari By Shanzey Rajpoot Episode27 Pari By Shanzey Rajpoot Episode28 Pari By Shanzey Rajpoot Episode29 Pari By Shanzey Rajpoot Episode30 Pari By Shanzey Rajpoot Episode31 Pari By Shanzey Rajpoot Episode32 Pari By Shanzey Rajpoot Episode33 Pari By Shanzey Rajpoot Episode34 Pari By Shanzey Rajpoot Episode35 Pari By Shanzey Rajpoot Episode36 Pari By Shanzey Rajpoot Episode37 Pari By Shanzey Rajpoot Episode38 Pari By Shanzey Rajpoot Episode39 Pari By Shanzey Rajpoot Episode40 Pari By Shanzey Rajpoot Episode41 Pari By Shanzey Rajpoot Episode42 Pari By Shanzey Rajpoot Episode43 Pari By Shanzey Rajpoot Episode44 Pari By Shanzey Rajpoot Episode45 Pari By Shanzey Rajpoot Episode46 Pari By Shanzey Rajpoot Episode47 Pari By Shanzey Rajpoot Episode48 Pari By Shanzey Rajpoot Episode49 Pari By Shanzey Rajpoot Episode50 Pari By Shanzey Rajpoot Episode51 Pari By Shanzey Rajpoot Last Episode
Pari By Shanzey Rajpoot Episode11
Pari By Shanzey Rajpoot Episode11
عالی نے بیڈ پہ لیٹی پری کو ایک جھٹکے سے سیدھا کیا”۔۔۔
“جوں ہی اس کی نظر پری پہ پڑی تو اس کے حلق سے ایک دلخراش چیخ نکلی” ۔۔۔
“اور عالی گھبراتی الٹے پیر وہاں سے بھاگتی نیچے ہوٸی آٸی”۔۔۔
” اس کی چیخ سن کر تو پہلے ہی سب لوگ حیران تھے “۔۔
“لیکن اسکی حواس باختہ حالت اور آنسوٶں سے لبریز آنکھیں دیکھ کر سب مزید پریشان ہو گۓ”۔۔
” اور ممتا بیگم کی چھٹی حس کسی خطرے کا الارم دے چکی تھی”۔۔۔
” عالی کیا ہوا ہے آپ یہ کیا حالت کر رکھی ہے”۔۔
” انجی نے عالی کی حالت پہ گھبراکر پوچھا”۔۔۔
“ہاں کیا ہوا ہے تم ٹھیک تو ہو”۔۔
“پری کیسی ہیں”۔۔
” آ۔آ۔آپ تو پ۔پ۔پری کو بلانے” ۔۔
“پری تو ٹھیک تو ہیں کیا ہوا ہے عالی آپ کچھ بولتی کیوں۔نہیں۔؟”۔۔۔
“انجی کو بھی کسی خطرے کہ بو محسوس ہونے لگی تھی “
“وہ وہ۔انجی۔وہ۔وہ پپپ۔پری”۔
” عالی نے بھراۓ ہوۓ لہجے میں بس اتبنا ہی کہا تھا کہ ہمان جو اپنی ہی دھن میں بظاہر تو مباٸل میں مگن مگر عالی کی باتوں پر متوجہ تھا” ۔۔
“موباٸل اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گرا”۔۔
” اور وہ ایک جھٹکے سے عالی تک پہنچا” ۔
“کیاہوا پری کو “
“کچھ بولتی کیوں نہیں تم”۔۔
” کہاں ہے پری”۔۔
“ہمان نے ایک ساتھ کٸی سوالوں کی بوچھار کر ڈالی”۔۔۔
بولو بولتی کیوں نہیں”۔
“ہمان نے عالی کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔۔تو اس کے آنسوٶں میں مزید روانی آگٸی”۔
” تم سے تو پوچھنا ہی بےکار ہے “
“میں خود ہی دیکھتا ہوں پری کو”۔۔
“ہمان نے ایک جھٹکے سے عالی کو چھوڑا “۔
“اور تیزی سے سیڑھیاں عبور کرگیا”۔
“ہمان کے پیچھے نین بھی بھاگا “۔
“اس بھی فکر ہونے لگی تھی پری کی”۔۔
” کہ کیوں اس نے اکیلا چھوڑا پری کو” ۔
“وہ یہی سوچتے ہمانکے پیچھے پری کے کمرے میں پہنچا”۔۔
“ہمان پری کے کمرے میں آیا تو وہ اوندھے منہ بیڈ پر آڑی ترچھی پڑی تھی” ۔
“دوپٹہ ڈریسنگ ٹیبل سے لٹکتا فرش کو چھو رہا تھا”۔۔۔
“ٹوٹی چوڑیاں زمین پہ جابجا بکھری پڑی تھیں ۔۔۔
“گلاس الٹا پڑا تھا”
” فرش پانی سے تر تھا شاید وہ پانی پینا چاہتی تھی پر پی نا سکی” ۔
“ہمان یہی سوچتا اس کی طرف بڑھا “۔۔
“نین بھی اس کے پیچھے پیچھے تھا کمرے کی ابتر حالت سے ہی اسے پری کی حالت کا پتا دے رہی تھی”
” ہمان نے جلدی سے آگے بڑھ کر پری کا کاندھا ہلا کر اسے آواز دی” ۔
“پری”۔۔۔
“پر وہ ویسے ہی بے حس و حرکت پڑی رہی”۔
“ہمان نے پھرتی سے اسے کاندھے سے پکڑ کر سیدھا کیا”۔
“پھر جو منظر اسے دیکھنے کو ملا وہ اس کے پیروں تلے سے زمین کھینچ کر لے گیا”۔۔۔۔
ہمان کی نظریں اس پر پڑی تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گٸی “
“زبان تو جیسے حلق سے چپک گٸی”۔
اس کے حواس معطل ہو گۓ”۔۔
یہی کوٸی حال نین کا بھی تھا”۔۔
” پری کے ناک سے بہتی خون کی لکیر بالوں میں جذب ہو رہی تھی”۔۔۔
“اوندھے منہ لیٹنے کی وجہ سے بیڈ شیٹ کا کافی سارا حصہ خون سے لت پت ہو چکا تھا “
“خون پری کی ناک سے بہتا گردن سے ہوتا اس کی پنک کرتی بھیگو گیا”
“ہمان کچھ دیر تک سن سا ہو گیا”۔
” پھر حوش آیا تو جلدی سے اس نازک سی لڑکی کے پاس بیٹھ کر اسے ڈھیر ساری آوازیں دے ڈالیں “
“پری۔۔۔۔پری ۔۔وہ اس کے گال تھپتھپاتا اسے دیوانہ وار آوازیں دے رہا تھا کہ شا ید وہ اٹھ جاۓ۔۔۔
“پری ۔پری اٹھو۔ آنکھیں کھولو پری ۔
نین پیچھے کھڑا ہمان کی ساری کارواٸی دکھتا رہا”۔
اسے ہمان کا اس طرح پری کے پیچھے بھاگنا اس لیے اتنا پوزیزیو ہونا نین کو بس یہ ایک پل لگا تھا جاننے میں اور اسے ساری بات سمجھ میں آگٸی”۔
“کسی نے صحیح کہا ہے عشق کے روگ چھپاۓ نہیں چھپتے۔”
“پری آوازیں دینے سے بھی نہ اٹھی تو ہمان نے کھڑے ہو کر ایک ہاتھ اس کی گردن کے نیچے ڈالا اور دوسرا اس کی ٹانگوں کے نیچے “۔۔
اور اسے اپنی بانہوں میں اٹھاۓ وہ نیچے کی طرف بھاگا تھا
ہمان کی بانہوں میں کسی لچک دار ڈالی کی مانند پری کا ایک ہاتھ نیچے لٹکا جبکہ دوسرا ہمان کے کندھے پہ ٹکا تھا”۔
” لمبے آبشار ہمان کے ہاتھ سے نیچھے جھول رہے تھے “
“پر وہ ہستی کھیلتی کھیلتی پری بالکل ساکت تھی “
“بالکل خاموش”
” آج وہ چاند بھی خاموش تھا نیلا تاروں سے بھرا آسمان کسی گہرے راز کا پتا دے رہا تھا
“ہواٸیں ساکن و جامد تھیں مانو جیسے اپنی سہیلی کی حالت پہ ماتم کناں ہو”۔
“ممتا بیگم اور انجی کی تو پہلے ہی جن حلق میں آٸی ہوٸی تھی
اوپر سے اترتے ہمان کی بانہوں میں خون سے لت پت اور حوش وحواس سے بیگانہ پری کو دیکھ کر ممتا بیگم کے رہے سہے اعصاب بھی جواب دے گۓ
“اور وہ پری کو اس حالت میں دیکھ کر بری طرح سسک اٹھیں “۔۔۔
جبکہ باقی سب کی آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا”۔۔
” پری اس حالت کی کوٸی توقع بھی نہیں کرسکتا تھا”۔۔
” زین کو تو پری کو دیکھ کر ایسا لگا جیسے کسی نے اس کی روح کھینچ لی ہو “
“بالکل ایسے جیسے کوٸی کانٹوں دار جھاڑی سے ململ کا دوپٹہ کھینچ رہا ہو “
“ہمان جلدی سے نیچے اترتا لاٶنج عبور کر گیا” ۔۔
” ماہیر بھی اس کے پیچھٕ بھاگا “۔
“ماہیر تو جلدی سے گاڑی نکال “۔
“ہمان نے ماہیر کو فکر مندی سے کہا تو فوراَ پورچ کی طرف بڑھ گیا “۔
ہمان نے جلدی سے پری کو فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر سیٹ بیلٹ لگایا “۔
“پری گردن بے حوش ہونے کی وجہ سے ڈھلک گٸی”۔
” خود بھی برق رفتاری سے ڈراٸیونگ یٹ سنبھالی”۔
“بس پھر اس نے گاڑی کسی آندھی طوفان کی طرح دوڑاٸی”۔۔
” کوٸی ٹرن نہیں دیکھا “۔
“کوٸی سگنل نہیں دیکھا”۔
ہمان کی گاڑی تو مانو ہواٶں سے باتیں کر رہی تھی”۔
” ریش ڈراٸیونگ کرتے وہ ہسپتال پہنچا گاڑی سے اتر کر پری کی ساٸیڈ کا دروازہ کھرلا اور اسے اپنی بانہوں میں اٹھاۓ ہسپتال کے اندر بھاگا”۔
” رات کے اس پہر ہمان کے اندر آتے ہی افراتفری کا عالم بن گیا “۔
“ہمان کو دیکھ کر سارے ڈاکٹرز الرٹ ہوگۓ اور جلدی سے اس کی طرف آۓ”۔
ڈاکٹر دیکھے انہیںکیا ہو گیا ہے”
” جلدی سے چیک کریں پتا نہیں کیا ہوگیا ہے”
“ہمان پری کو اسٹریچر پر لیٹاتے ہوۓ ڈاکٹر سے مخاطب ہوا”۔
“آپ فکر نہیں کریں “
“ہم انہیں چیک کرتے ہیں آپ پلیز باہر ویٹ کیجیے”۔
ڈاکٹر نے ہمان کو آٸی ۔سی۔یو کے باہر کھڑے رہنےبکی تاقید کی “۔
نین نے آگے بڑھ کر ہمان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور اسے قریبی بینچ پر بیٹھا کر خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
ہمان بینچ پر دونوں ہاتھ سختی سے ٹکاۓ سر جھکاۓ بیٹھا تھا”
” اس کی نظروں میں بار بار وہ منظر گھوم رہا تھا جب اسے نے پری خون میں لت پت دیکھا تھا”
اسنے ڈر کے مارے ایک جھرجھری لی” ۔
“اور ایک نظر آٸی سی یو کے دروازے پہ ڈال کر دوبارہ نظریں فرش پر مرکوز کرلیں”
” پری کو اس حالت میں دیکھ کر اس کے دل پر کیا بیتی یہ تو صرف وہی جانتا تھا”۔۔۔
“اس کو دل تو مانو کسی نے مٹھی میں جکڑ رکھا تھا”۔۔۔۔Dont copy past without my permission.
قسط 10
“سارہ کےولیمے کا فنکشن عروج پہ تھا
“سب کزنز خوب ہلا گلا کر رہے تھے ساتھ میں حماد کی ٹانگ بھی کھینچ رہے تھے”۔
” پری سٹیج پر آٸی تو سارہ نے حماد سے اس کا اسپیشل تعارف کروایا اور اسے اپنے ساتھ ہی صوفے پہ بٹھالیا”۔
حماد یہ پری ہے بارات والے دن تو یہ سٹیج پہ آٸی ہی نہیں “۔۔
“تم ملنا چاہتے تھے نہ پری سے تو مل لو”۔
اوہ ہ تو تم ہو چھوٹی سی پری جس کی تعریف کر کر کے سارہ میرے کان کھا جاتی تھی”۔۔
مجھے سارہ کی باتوں سے ہی ایسا لگتا تھا جیسے میں تم سےمل چکا ہوں”
تم تو میری سوچ سے بھی زیادہ کیوٹ ہو لیٹل گرل حماد نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کھلے دل سے اس کی تعریف کی”۔
” جواباَ پری کھل کے مسکرادی” ۔
فنکشن اپنے عروج پہ تھا “۔
” پری اسٹیج سے اتر کر جیسے ہی نیچے آٸی تو خلاف توقع علی سامنے سے اسٹیج کی طرف آرہا تھا”
” اسے دیکھ کے تو پری کے حواس معطل ہونے لگے تھے”۔۔
وہ گھبراتی اپنی انگلیاں مروڑتی ادھر اودھر دیکھنے لگی یا شاید اس کی نظریں ہمان کو ڈھونڈ رہی تھیں”۔۔
” اس سے پہلے کے علی قریب آتا پری وہاں سے سٹیج کی بیک ساٸیڈ پر چلی گٸی مبادہ کہیں علی پھر سے کوٸی فضول حرکت کرتا ۔۔۔
“پری علی کو دیکھ کر ہی اتنا ڈر گٸی تھی کہ وہ اس دفعہ بھی بغیر سوچے سمجھے پھر تاریک گوشے میں آگٸی “۔۔
“ہمان نے پری کو وہاں جاتے دیکھ لیا تھا اس لیے وہ پری کے پیچھے ہی چلا گیا اسے ڈر تھا کہ کہیں یہ لڑکی پھر کسی مصیبت میں نہ پھنس جاۓ”۔
” ہمان نے پری کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو پری ڈر کے مارے ایک دم چیخی” ۔
“اسے لگا کہ علی پھر سے اس کے پیچھے آگیا ہے “۔۔
“ہمان نے جلدی سے اس کے منہ پہ اپنا بھاری ہاتھ رکھا کہیں اگر اس کی چیخ کوٸی سن لیتا تو لینے کے دینے پڑ جانے تھے”۔
“پری میں ہوں ہمان”۔
ہمان کہ آواز سننے کے بعد اس کہیں دل کی تہہ تک سکن ملا تھا”۔۔۔۔
“اندھیرے میں تو وہ اسے پہچننے سے ققصر تھی”۔
“میں اب ہاتھ ہٹانے لگا ہوں پری تم نے چیخنا باکل بھی نہیں ہے” ۔
“ہمان نے پری کے منہ پہ سے ہاتھ ہٹا یا”۔
“پری کی آنکھیں ہمان کو دیکھ کے جھل ملا اٹھیں”
” ہمان”۔۔
“پری نے بھراٸی آواز میں اسے پکارہ”۔
“ہمان ک دل کیا اسے کہیں اپنے سینے میں چھپالے سات پردوں میں جہاں کوٸی خوف اورڈر نہ ہو صرف پیار کا احساس ہو “۔۔
پر فالحال وہ اس لڑکی پر کوٸی حق نہیں رکھتا تھا “۔
پر پھر بھی نہ جانے کیوں وہ لڑکی اسے جان سے بھی زیادہ عزیز تھی “
“اس کے معاملے میں ہمان خود کو ہمیشہ بے بس محسوس کرتا ٥ھا”۔
“ہمان اچھا ہوا آپ آگۓ”۔
“وہ علی ۔وہ علی۔۔۔کیا ہوا ہے “۔۔”پری!!!! علی نے کچھ کہا تمہیں “۔۔۔اس نے پھر سے کوٸی ایسی ویسی حرکت کی تمہارے سارھ” ۔۔
“کیا ہوا ہے مجھے بتاٶ “۔
“میں ابھی اس کی طبیعت درست کرتاہوں “۔
” لگتا ہے پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی اسے”
” نہیں ہمان اس نے کچھ بھی نہیں کیا “۔
“وہ میں بس!!
“پری ہمان کا غصہ دیکھ کر ایک دم گھبراگٸی”۔
” ہاں بولو کیا تم!!!
” اب کے بار ہمان کا لہجہ قدر نرم تھا اسنے محسوس کیا پری اس کے لب و لہہجے سے کافی خوف زدہ ہو چکی تھی “
“ہمان وہ آپ نے کہا تھا کہ علی نہیں آۓ گا یہاں”۔
“پر وہ تو آیا ہے”
پری!! تم فکر مت کرو وہ کچھ نہیں کرے گا “
” فنکشن بس ختم ہونے والا ہے”
پھر تھوڑی ہی دیر میں ہم گھر چلیں گے”۔۔
“ہممم !!!!ٹھیک ہے نا ہمان نے گردن کو خم دے کر اس سے تصدیق چاہی”۔۔۔
ہممم ٹھیک ہے۔۔”۔
“چلو” ۔۔
“اندر چلیں”۔
” ہمان پری کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا “۔۔
“وہ کسی صورت علی جیسے انسان کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا” ۔۔
” علی کی نیت سے تو وہ اچھی طرح واقف ہو گیا تھا”۔۔۔ “علی سٹیج سے اتر کر سیدھا ہمان کی طرف آیا اور سالام کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا”
” ہمان نے ایک سلگتی نگاہ اس پہ ڈالی پری کا تو دل ہی اچھل کے حلق میں آگیا”۔۔
“میں نے تم سے کہا تھا نا کہ”۔۔
“کول ڈاٶن برو میں تو بس دیکھنے آیا تھا “
“کہ کہیں کوٸی میری پرسنیلیٹی سے متاثر ہوکر یہاں آنے سے انکاری تو نہیں ہو گیا”۔۔
“علی نے ہمان کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی”۔۔
“جبکہ نظریں پری پر مرکوز تھیں جو ڈر کے مارے دونوں ہاتھوں سے ہمان کا بازو تھامے سہمی سی کھڑی تھی” ۔
“ہمان اس کی نظروں کا زاویہ اور اس کی بکواس کا مطلب سمجھتے ہوۓ وہا ں سے پری کو لے کر چلا گیا “۔۔۔
__________
“کچھ کھاٶ گی”۔۔
” وہ ڈراٸیو کرتے ہوۓ پری سے پوچھ رہا تھا”۔۔
“اممم!! ۔۔۔۔۔ہاں!!
” پر اگر آج بھی پیسے نہیں ہوۓ تو”۔۔
پری کو مال والی بات ٕیسد آٸی جب اس نے پہلی بار اپنے لیے خود سے کچھ پسند کیا اور
” پھر ہمان کی وجہ سے لے بھی نہ سکی”۔۔۔
“ہمان اس کی بات پہ کھل کے ہنسا”۔۔
ارے نہیں اس وقت میں جلدی میں بھول گیا تھا “۔۔۔
“پر اب تو ہے “۔۔
“تم بتاٶ کیا کھانا ہے تمہیں “۔۔۔۔
“چاکلیٹ آٸیسکریم “۔۔
“ہممم !!!۔”تمہیں چاکلیٹ بہت پسند ہے”۔۔۔
” ہاں مجھے بہت پسند ہے”۔۔۔
وہ مگن سی باہر کے نظارے دیکھ رہی تھی”۔۔۔
اور ساتھ ساتھ ہمان کی باتوں کا جواب بھی دے رہی تھی”۔۔۔
“وہ لوگ آٸیس کریم کھا کر گھر پہنچے تو عالی اور عاشی کی کار کھڑی تھی”۔۔
” ہمان کو سمجھنے میں تھوڑی دیر لگی تھی کہ وہ دونوں اکیلی ہی فنکشن سے واپس آگٸی ہیں “۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اندر جا کے ان دونوں کی عقل ٹھکانے لگاتا ہمان کا موباٸل رنگ کرنے لگا”۔۔
” پری تم اپنے کمرے میں جاٶ ” ۔
” اچھا پر ہمان”۔۔
“ہممم کیا ہوا !!
کچھ کہنا ہے!!
” ہمان کا وہی نرم لہجہ پری کا دل موہ لے گیا ۔
“ہاں وہ میں پوچھ رہی تھی کہ ہم پھر کب جاٸیں گے باہر گھومنے”۔۔۔
“نگاہیں نیچی کیے وہ اس سے استفسار کر رہی تھی” ۔
“مجھے ابھی اور بھی گھومنا تھا ہم جلدی کیوں آگۓ ہمان”۔
“ابھی تو کوٸی بھی نہیں آیا”۔۔
“اب وہ نظریں اٹھاۓ اس سے ضدی لہجے میں گویا ہوٸی” ۔
“ہمان اس پری کے پل پل بدلتے روپ کو دیکھ رہا تھا
“جس کا ہر روپ اسے دیوانہ بنادیتا تھا” ۔
“اب بھی وہ اسے دیوانوں کی طرح خوشی سے سن رہا تھا”۔
” جیسے وہ کوٸی بہت خاص بات کر رہی ہو”۔۔
“ہم واپس اس لیے آگۓ کہ باہر بہت ٹھنڈ ہے اور
” پھر اتنی رات تک باہر گھومنا ٹھیک نہیں”۔۔
“میں تمہیں بہت جلد پھر سے لونگ ڈراٸیو پر لے کر جاٶں گا
“پر ابھی تم اندر جاٶ سب آتے ہونگے ہال سے” ۔۔
“پری اثبات میں سر ہلاتی اندر کی جانب چلدی “۔۔
“لاٶنج میں عالی عاشی بیٹھی باتیں کر رہی تھیں “۔
“عالی تم آگٸیں”
“ہاں ۔۔۔کیوں !!!نہیں آنا چاہیے تھا ہمیں۔۔”
“تم نے کچھ پلان رکھا تھا کیا “۔۔
جواب عالی کےبجاۓ عاشی نے دیا” ۔۔
” پری اس سےہرگز الجھنا نہیں چاہتی تھی”۔
“اس لیے خاموش رہی البتہ عاشی کی باتوں کا مطلب وہ بالکل نہیں سمجھ پاٸی” ۔۔۔
” عاشی نے اسے کھلا طنز کیا ہمان کو لے کرجو عالی بھی نہ سمجھ سکی”۔۔
“عالی مال میں اور نین کے سامنے ہوٸی اپنی بےعزتی کیسے بھول سکتی تھی “۔۔
“اس کا تو اس نے بدلا لینا ہی تھا”۔۔
“اسے بس اچھے موقع کی تلاش تھی اور
” آج سے بہتر موقع اس کے پاس ہو ہی نہیں سکتا تھا
“گھر کے سب لوگ اب تک ہال میں تھے”۔
عاشی نے پری اور ہمان کو ایک ساتھ ہال سے نکلتے دیکھ لیا تھا”۔۔۔
اس کے خیال کے تحت کہ ہمان اور پری گھر ہی گۓ ہوں گے
“وہ پری ہمان ک ساتھ اکیلی کیوں گٸی اور ہال میں ہمان کا پری کا ہاتھ پکڑنا”۔۔
” اس سے ہرگز برداشت نہ ہوا “۔۔۔
“تو وہ عالی کو بہانے سے اپنے ساتھ لے آٸی کیوں کہ عالی نے ایسے تو آنا نہیں تھا اور
” ہمان کے غصے سے وہ اچھی طرح واقف تھی”۔۔۔۔
“اور جب عاشی گھر آٸی اور اسے پری ہمان کہیں نظر نہیں آۓ تو
” اس کا غصہ اور بھی بڑھ گیا”۔۔۔
“اب سواۓ اس کے انتظار کے اور کوٸی چارہ نہ تھا
“تو وہ عالی کو لاٶنج میں ہی لے کے بیٹھ گٸی”۔۔۔
” پری عاشی کو ایک نظر دیکھتی سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے کی طرف چلدی “۔۔۔
“مجھے یہاں بیٹھا کر تم خود کہاں چلیں”۔
“۔ عالی نے عاشی کو صوفے سے اٹھتے دیکا توگھور کے پوچھا”۔۔
” ابھی آتی ہوں تم یہیں بیٹھو” ۔۔
“پری میں دوپٹہ اتار کر بیڈ پر پھینکا اور چوڑیاں اتارنے لگی” ۔۔
“ابھی اس نے آدھی بھی نہیں اتاری تھیں”۔۔
” کہ اسے آٸینے میں عاشی کا عکس دیکھاٸی دیا”۔۔
عاشی !!۔۔
“پری کے منہ سے بے اختیا ر نکلا “۔۔۔
وہ چوڑیاں چھوڑ چھاڑ ڈریسنگ ٹیبل سے اٹھ کر اس کی طرف بڑھی”۔۔
” عاشی تم یہاں!!!۔
“ہاں میں یہاں”۔۔
“کیوں نہیں آسکتی”۔۔
“عاشی نے سوال داغا”۔۔۔
“نہیں میں نے ایسا تو نہیں کہا”۔۔
اندر آٶ نا”۔۔
“پری اپنی نرم طبیعت کے باٸث اس سے سخت رویہ نہ رکھ سکی
” ویسے بھی پری کا غصہ وقتی ہوتا ہے”۔۔۔
” اس لیے اس نے عاشی کو اندر بلایا”
” نہیں میں یہاں بیٹھنے نہیں آٸی بلکہ میں
” تو تمہاری طبیعت صاف کرنے آٸی ہوں”۔۔
“کیا چل کیا رہا یہ سب تمہارے اور ہمان کے بیچ”۔۔۔
” پری کو سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے”۔۔
“ہر وقت تم دونوں ایک ساتھ ہی پاۓ جاتے ہو”۔۔۔
“ک۔ک۔کیا مطلب تم کیا کہہ رہی ہو عاشی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا
“ہاں تمہیں سمجھ آۓ گی بھی کیسے”۔۔
“تم ہمان کے ساتھ کہاں گٸی تھیں “۔۔۔
“وہ بھی اتنی دیر تک بولو اب بولتی کیوں نہیں جواب دو مجھے”۔۔
عاشی کی آواز کافی تیز تھی اور وہ پری کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے جھنجھوڑتی ہوٸی اس سے پوچھ رہی تھی”۔۔۔۔
” تم کیا بتاٶ گی میں بتاتی ہوں تمہیں “۔۔۔۔
“تمہارہ افٸیر چل رہا ہے نہ ہمان کے ساتھ”۔۔۔
“مجھے تم بڑے دھڑلے سے کہہ رہی تھیں اس دن کہ دور رہا کرو میرے نین بھاٸی سے کیوں میرے نین بھاٸی کے آگے پیچھے پھیرتی رہتی ہو”۔۔
“خود ک کے کرتت دیکھے تم نے تم سے تو لاکھ گناہ اچھی ہوں میں “۔۔۔
“کم سے کم میں تمہاری طرح یوں راتوں کو کسی کے ساتھ گھومتی پھرتی نہیں اور
” تمہارے سو کولڈ نین بھیا کے ساتھ تو بالکل بھی نہیں”
” بولو”۔۔۔
” ارے تم میں شرم نام کی کوٸی چیز ہے بھی کہ نہیں” ۔۔
“تمہیں شرم آتی ہے جو ہر وقت اس کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گھومتی ہو”۔۔۔۔
پری تو منہ کھولے سن سی اسے دیکھ رہی تھی”‘۔۔۔
اس کی بولنے کی صلاحیت تو جیسے نست ونابود ہو چکی تھی”۔۔۔
“ڈیٹ پربھی جایا جا رہا “۔۔۔ہاں امیزنگ!!!۔۔
تم بھولی بھالی پری سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کیا کر رہی ہو کسی کو پتا بھی نہیں۔۔
“اور کل تو تم نے حد ہی کردی بھٸی “۔۔۔
“آٶ دیکھا نا تاٶ ہمان کو اکیلا دیکھ تم تو اس سے جونک کی طرح لپٹ گٸیں”۔۔
” تمہیں ذرا شرم نہیں”۔۔۔
” وہ تو اچھا ہوا جو میں عالی کو لے کر فنکشن ختم ہونے سے پہلے ہی آگٸی “۔۔۔
“میں نے تمہیں اور ہمان کو ایک ساتھ نکلتا ہوا دیکھ لیا تھا “۔۔
“اور اگر میں گھر نہ آتی تو شاید اس سے آگے بھی تمھارا پلان تھا” ۔۔
“ہمان کے کمرے تک تم ویسےبھی پہنچ چکی ہو
” اب اس تک پہنچنے میں بھلا کتنی دیر لگتی”۔۔
“تم تو سجتی سنورتی بھی نہیں ہو پھر یہ سب کس لیے” ۔۔
“ہمان کے لیے نا”۔۔۔
“چلو جی تم دونوں کی آج کی رات تو میں نے ناکام بنادی
“اب تو تم کچھ نہیں کرسکتی” ۔۔۔
“عالی کی آخری بات سن کر پری کے جسم میں کرنٹ سا لگا اور وہ حوش میں آٸی”۔۔۔۔۔
“ایکدم کنچی آنکھیں جھل ملاٸیں”۔۔۔
” آنسو پلکوں کی باڑ توڑنے لگے”۔۔۔
” سرخ وسفید روٸی جیسے گالوں پہ جھرنے بہنے لگے”۔۔۔
“عاشی اسے دیکھ کے تمسخر سے مسکراٸی “۔۔۔
“اس کے انداز میں ایک غرور سا تھا۔”۔۔۔
” آنکھوں میں جیت کی روشنی نمایاں تھی”۔۔۔
” جو وہ چاہتی تھی وہ کر چکی تھی”۔۔۔
“جاٶ یہاں سے پری اپنی تمام تر ہمت جمع کر کے اتنی زور سے چلاٸی تھی
” کہ ایک دفع کے لے عاشی بھی دنگ رہ گٸی”۔۔۔
” پھر جلد ہی اپنےد ل کو سنبھالتی وہا ں سے واک آٶٹ کر گٸی “۔۔۔
“پری الٹے قدم چلتی بیڈ سے جا لگی اور گرنے کے انداز میں بیڈ پہ ڈھے سی گٸی” ۔۔۔
“عاشی کی باتوں نے اس کا دماغ گھومادیا تھا “۔۔۔
“وہ جانتی تھی کہ عاشی اس کے یہاں آنے سے ناخوش ہے “۔۔۔
“پر وہ اس حد تک گر جاۓ گی کہ کسی پاک دامن لڑکی پر بہتان لگاۓ
” یہ تو اس نے کبھی سوچا نہیں تھا”۔۔
” وہ زور زور سے رونے لگی یہاں تک کہ اس کی ہچکیاں بندھ گٸیں”۔۔۔
“روتے روتے اس کے سر میں درد ہو گیا”۔۔
” بامشکل وہ پانی پینے اٹھی پانی گلاس میں ڈالا ابھی اس نے گلاس ہونٹوں سے ہی لگایا تھا کہ درد کی ایک شدید لہر اس کے سر میں سرایت گٸی “۔۔۔
“گلاس اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا”۔۔
“اور وہ اپنا سر تھامے کتنی ہی دیر کھڑی برداشت کرتی رہی” ۔۔
“درد تھا کے تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا”۔۔
“مزید بڑھتا ہی چلا گیا “۔۔
اور درد سے کراہتی پری اپنا توازن برقرا نہ رکھ سکی اور چکرا کر بیڈ پر گر پڑی” ۔۔
“آخری لفظ جو اس کے لبو سے ادا ہوا وہ ہمان کا تھا اس نے اپنے اس درد و تکلیف میں بھی ہمان کو ہی پکارا”۔۔۔
_______
“سارہ اور حماد کے ولیمے کا ریسیپشن اپنے اختتام کو پہنچا تو سب نے گھر کی راہ لی”۔۔۔
“سب لوگ لاٶنج میں بیٹھے شادی کہ باتیں کر رہے تھے”۔۔۔
“ینگ پارٹی بھی اپنی باتوں میں مگن تھی”۔۔
“باتیں بھی وہ جن کا کوٸی اختتام نہیں ۔۔
“اتنے میں ہمان بھی آگیا”۔
” تم کدھر تھے بھٸی” ۔۔
“میسم صاحب نے اپنے صاحبزادے سے پوچھا” ۔۔۔
“ایک ضروری کام تھا”۔۔
“ہممم”۔۔
“وہ صوفے پہ بیٹھا نظریں ادھر اودھر دوڑاتا شاید پری کو ہی تلاش رہاتھا”۔۔
“اور پھر خود ہی خود کی حالت پر ہنس کر نظریں نیچی کیے موباٸل میں لگ گیا”۔۔
” ارے بھٸی یہاں تو اکیلے اکیلے محفل لگی ہے”۔۔۔
“ہماری پری کہاں ہیں” ۔۔
“آج تو اسے بھی بلا کرلاٸیں”۔۔
” ا نجی چاۓ کے کپز کی ٹری سینٹر ٹیبل پہ رکھتی ہوٸی بولیں” ۔۔
“ہاں کیوں نہیں میں بلا کے لاتی ہوں پری کو”۔۔
“عالی جھٹ سے بولتی صوفے سے اٹھ کر اوپر کی چلی گٸی”۔۔
“پیچھے سب اس کی حرکت پر ہنسنے لگے” ۔۔
“ہر کام کی جلدی ہوتی ہے اس لڑکی کو تو “۔
“ہادیہ بیگم فوراَ بولیں” ۔۔
“وہ پری کے کمرے میں پہنچی تو میڈم مزے سے بیڈ پر لیٹی تھی”۔۔۔
” پری عالی نے اسے آواز دی اور اس کے پاس آگٸی پری اٹھو کیا تمیں ا بھی سے ہی سوتا پڑگیا” ۔
“ایک تو تم اور تمہاری پیاری نیند اور اس نیند میں تمہارے سہانے سہانے خواب” ۔۔
“چلو اب اٹھ جاٶ جلدی سے شاباش”
” سب لوگ تمہیں نیچے بلا رہے ہی” ۔۔۔
“عالی کے بولانے پر بھی پری نہیں اٹھی تو عالی کو غصہ آیا “۔۔
“اور وہ بیڈ پہ بیٹھی اسے اٹھانے لگی” ۔۔
“اس کا اردہ پری کو تنگ کرنے کا تھا”۔۔۔
” اسے لگا پری اسے پریشان کر رہی ہے”
” اس لیے کچھ نہیں بول رہی ورنہ وہ بنا چینج کیے کبھی نہیں سوتی”۔۔
“اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے خوشیوں کا کوٸی نام و نشان نا ہو”۔
“آج اسے شدت سے یہ احساس ہورہا تھا کہ وہ پری کے بنا کچھ نہیں “۔
“پری ہی تو اس کی زندگی میں خوشی بن کر آٸی تھی اور اس کی زندگی رونق سے بھر دی تھی “۔۔۔
______
” ہمان بےصبری سے اس دروازے کو ہر دو گھڑی بعد تکتا کہ کب یہ دروازہ کھلے”
” اور اسے کوٸی نوید ملے”۔
” کسی بری خبر کے بارے تو وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا”
“اس سے آگے اس کی ساری سوچیں ختم ہوتی تھیں” ۔
“ہمان اور نین دونوں خاموش تھے”
” کہنے کو کچھ بھی نہ تھا”
” وہ دونوں ہی پری کو لے کے بہت پریشان تھے”
“نین کی جان بستی تھی پری میں پھر نہ جانے وہ کیسے اتنے صبر کا مظاہرہ کیے بیٹھا تھا”۔
” دوسری طرف ہمان تھا”
” جس کا دل کر رہا تھا زور زور سے رو دے”
” جب کوٸی اہنا جان سے پیارا کسی مصیبت میں ہو تو دل کی ایسی ہی کیفیت ہو جاتی ہے” ۔
“ہمان کی بھی کچھ ایسی ہی حالت تھی “
“وہ چاہ کر بھی کسی سے اپنا دکھ شیٸر نہیں کر سکتا تھا”۔
“گھر میں ممتا بیگم انجی عالی سمیت سب پریشان تھے”۔
” رات سب کہ آنکھوں میں کٹی تھی “۔
“فواد صاحب تو ہر دو گھڑی بعد نین کو فون کر کے وہاں آنے کا کہتے “۔۔۔اور
” ممتا بیگم بھی ہسپتال جانے کی ضد پکڑ کر بیٹھی تھی
© انجی کو تو جیسے چپ لگ گٸی تھی”
” انہیں رہ رہ کر پری کا خیال ستاتا”
“آٸی سی یو کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر باہر آۓ”
ہمان اور نین تیزی سے ان کی طرف بڑھے” ۔۔
ڈاکٹر پری کیسی ہے اب”۔۔
” وہ ٹھیک تو ہے نہ”۔۔۔
ہمان نے بے قراری سے ہوچھا”۔۔
“ڈاکٹر کوٸی خطرے کی بات تو نہیں”۔
” نین نے ڈرتے ڈرتے پوچھا “۔
“دیکھیں پیشینٹ کی حالت کافی سیریس ہے”۔
“خون بہت بہہ چکا ہے “
“آپ لوگ جلد از جلد خون کا انتظام کریں
تم یہا رکو میں بلڈ کا انظام کرتا ہوں “
” ہمان کےڈاکٹر اپنے پروفیشنل انداز میں کہتے ہاتھ میں فاٸل پکڑے وہاں سے چلے گۓ”۔۔
” نین نے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا کیوں کہ پری کہ بلڈ گروپ اور میڈیکل ریپورٹس کے بارے نین ہی سب کچھ جانتا تھا”۔
” ورنہ ہمان کا اگر بس چلتا تو وہ سارا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیتا”
“پری کو بلڈ لگ چکا تھا”
“صبح کا اجالا ہر سو پھیل چکا تھا”۔
” ڈاکٹرز کے کہنے کے مطابق پری کو اب تک حوش نہیں آیا تھا”۔
“نین تو اسپتال کی فورمیلیٹیز میں گھم چکر بن کر رہ گیا تھا”۔
” تو دوسری طرف اسے پری کی الگ فکر لگی ہوٸی تھی”۔
“اسے پری کی اس اچانک طبیعت خرابی کی بالکل سمجھ نہیں آرہی تھی”۔۔۔
“وہ جتنا سوچتا کہ شاید کہیں تو کچھ ہوا ہوگا لیکن ہر بار ناکام “۔۔۔
“ہمان آٸی سی یو کے باہر دروازے کی گلاس ونڈو سے پری کو دیکھ رہا تھا”۔۔۔
” جو کل رات سے اسی پوزیشن میں لیٹی تھی”۔۔
“نہ ہونٹوں پہ ہنسی تھی نہ آنکھوں میں شرارت “
“بس وہ تو کل رات سے جیسے سب سے روٹھی ہوٸی لیٹی سنوواٸیٹ کی طرح “۔
“الیکٹریک مشینوں کی بیچ مختلف نلکیوں میں جکڑی وہ معصوم سی پری ہمان کا دل سکون چین سب اپنے ساتھ ہی لے کر سو گٸی تھی”
“ہمان اس کو یک ٹک دیکھتا رہا اسے وہ دن یاد آیا جب دن دھاڑے اس کے کمرے میں گھس کر اسی کے کمرے کو اپنا کمرہ کہہ رہی تھی”۔
“ہمان بے اختیار نم آنکھوں سے مسکرایا”۔
“یہ لڑکی غم اور دکھوں میں بھی ہنسا نے کا فن جانتی تھی
“جبھی ہمان اس اداسی کی فضا میں بھی اسے دیکھ کر مسکرایا تھا”۔
” ہمان کل رات وقفے وقفے سے پری کو دیکھتا رہا” ۔
“لیکن آج صبح فجر کے بعد سے توجیسے ہمان نے ونڈو کے پاس سے نہ ہٹنے کی قسم کھالی تھی “
” نین نے ہمان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا “۔
“ہمان نے پلٹ کے اسے دیکھا تو اس کے تاثرات ایسے تھے”۔
“جیسے کہنا چاہتاہو کہ فکر نہ کر یار ٹھیک ہو جاۓ گی ہماری پری اب تھوڑا ریسٹ کرلےصبح سے یہیں کھڑا ہے”۔
“ہمان اور نین دونوں ہسپتال کے پارک میں لگی بینچ پہ بیٹھے تھے “۔
“نین بینچ کی پشت سے ٹیک لگاۓ آنکھیں موند گیا”
” وہ بھی کل رات سے ایک پیر پے کھڑا سارے کام سنبھال رہا تھا”
” کبھیں دواٸیں تو کبھی انجیکشن تو کبھی ریپورٹس “۔
“ہمان بینچ پہ بیٹھا مسلسل گھاس کو گھور رہا تھا” ۔
“اس کے ذہن میں بھی ایک ہی بات گردش کر رہی تھی”۔
“کہ پری کو اچانک کیا ہوا “۔
“جبکہ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ کسی گہرے صدمے کے باٸث ان کی برین نس ڈیمیج ہوٸی ہے “۔۔
“ہمان سوچ سوچ کر پریشان تھا “۔۔۔
سب کچھ سمجھ سے باہر تھا”
“میں رات کو پری کو بالکل ٹھیک چھوڑ کر آیا تھا”۔۔
” وہ تو کافی خوش تھی کل رات “۔
“پھر اچانک بھلا کس بات کا صدمہ ہو سکتا ہے”
“کوٸی کیوں اسے کچھ کہےگا “
“سب جانتے ہیں پری حساس طبیعت کی مالک ہے”
” پھر کون ہو سکتا جبکہ سب لوگ لاٶنج میں تھے تو پری کی طبیعت”
“ہمان کے دماغ میں اچانک جھماکا سا ہوا اور اسے ایک کے بعد ایک ساری بات سمجھ میں آگٸی”۔
” کل رات جب میں پری کو گھر کو چھوڑ کر گیا تھا تو عالی اور عاشی آلریڈی وہاں موجود تھیں
“پر وہ پہلے کیوں آٸی تھیں یہ تو وہ نہیں جانتا تھا”۔
” یعنی جو کچھ ہوا ہے ان تینوں کے بیچ ہوا ہے”۔
” لیکن اگر ایسا ہے تو پھر عالی کا رویہ تو بالکل ایسا تھا جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو”۔
“لیکن عاشی اس کے تاثرات بھی نارمل تھے”۔
کچھ بھی نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہے”
“ہمان نے آنکھیں زور سے بند کر کے کھولیں
“وہ کافی پریشان تھا”۔
“جتنا وہ اس گتھی کو سلجھانا چاہ رہا تھا اتنا ہی الجھ جاتا
“میں ایک چکر گھر کا لگا کر آتا ہوں ۔”۔
“ہمان نین سے کہتا وہاں سے چلا گیا”۔
“نین اسے دور جاتا دیکھ رہا تھا”
” اس کے دماغ میں کٸی سوچیں ایک ساتھ جنم لے چکی تھیں
“ہمان کا پری کی فکر کرنا, اسکے ساتھ رہنا,اسے بےہوش دیکھ کر کیسے اسے اسپتال لے آنا, پوری رات اپنی نیند کی پرواہ کیے بغیر اسے دیکھتے رہنا, ہمان کا رویہ اسے کافی کچھ بتلا گیا تھا”۔۔
“وہ سوچتے سوچتے پری کے وارڈ کی جانب چل دیا”۔
“ہمان گھر آیا تو سب پریشان سے لاٶنج میں بیٹھے تھے
” ممتا بیگم نے تو رو رو کے اپنی حالت ہی خراب کرلی تھی”۔
” انجی نے بھی ناجانے کیسے خود پر بند باندھ رکھا تھا”۔
” سب کے سامنے تو وہ خود کو بہت مضبوط بناۓ ہوۓ تھیں”۔
” پر اندر سے تو پری کی لیے ان کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا”
“کل سے انہوں نے پری کو دیکھا نہیں تھا”۔
” ہمان نے سختی سے سب کو منع کر رکھا تھا”۔۔
“کیوں کہ پری حالت کافی سیریس تھی”۔
” اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ گھر میں سب پریشان ہوجاٸیں”
” اس لیے اس نے گھر میں بھی اب تک کچھ نہیں بتایا تھا”۔
“جب بھی گھر سے کوٸی فون کر کے پری کے بارے میں ہوچھتا تو وہ کہتا آپ فکر نہ کریں “
“اللہ سب ٹھیک کرے گا”۔
” بس دعا کریں کہ وہ ٹھیک ہو جاۓ”
____________
“ہمان گھر آیا تو سیدھا اپنے روم میں گی
“فالحال وہ کسی کے بھی سوالوں کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں تھا”۔۔۔
” ایک تو وہ پری کی سیریس حالت کو لے کے پریشان تھا “۔۔۔
“دوسرا اس کی اس حالت کے پیچھے کی وجہ کو سوچ سوچ کے اس کا دماغ شل ہو رہا تھا”۔۔۔
” وہ کمرے میں آکے بیڈ پر ڈھے سا گیا”۔۔۔
” اس واقع نے سچ میں ہمان کی روح تک ہلادی تھی”۔۔
” اسے نہیں پتا تھا کہ سارہ کی شادی میں لگنے والا گھر کا یہ چکر اس کی زندگی کے معنی ہی بدل کر رکھ دے گا “۔
” اس نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ پیار کے پنگوں میں پڑے گا “۔۔۔
“اور یہاں تو اسے محبت بھی ہوٸی تو عشق کی انتہاء تک”۔۔
“وہ اٹھ کر وارڈراب کی طرف بڑھ گیا اپنے کپڑے نکالے اور شاور لینے چلاگیا”۔۔۔
” کل رات سے اس نے سارہ کے ولیمے میں جو کپڑے پہنے تھے وہی پہن رکھےتھے “۔
” تو اسے تو کسی چیز کا حوش ہی نہ تھا”
“شاور لینے کے بعد وہ تیار ہوکر سیدھا عالی کے روم میں گیا
“خلاف توقع سارہ بھی وہاں موجود تھی “
“ہمان اسے دیکھ کر ٹھٹھک گیا”۔
” پھر سنبھل کر اندر گیا “
“تم یہاں”
“ہاں میں یہاں نا صرف میں بلکہ حماد بھی آیا ہے”
“خیریت
“حماد تو بول کر پچھتایا”
“خیریت کیسے ہوسکتی ہے ہمان
“تم نے ایک ہی رات میں مجھے پرایا کردیا”
“تو تم نے بھی دنیا کی کہاوت کو سچ کر دیکھایا نہ
” سارہ کیا کہہ رہی ہو یار”
“تم اچھی طرح جانتے ہو میں کیا کہہ رہی ہوں “۔
“پر مجھے پھر بھی سمجھ نہیں آرہا پتا تو ہمان کو چل چکا تھا”۔
” کہ وہ یہاں کس لیے آٸی ہے”
“ہمان تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں پری کے بارے میں
سارہ دبی دبی آواز میں چلاٸی “۔
“ہمان اس سے اس بات کی توقع کرتا تھا
“اسے پتا تھا جب سارہ کو پتا چلے گا”
” تو وہ ایسے ہی ری ایکٹ کرے گی”۔
” سارہ میری بات سنو میں تمہیں بتانا چاہتا تھا
“لیکن ابھی ابھی تو تمہاری شادی ہوٸی ہے”۔۔
جاری ہے
