Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode37

Pari By Shanzey Rajpoot Episode37

یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ بھاٸی صاحب۔ایسا نہیں ہو سکتا۔ آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔پری آپ کی بھی تو بیٹی ہے پھر۔آج کیا ہوا۔میری پری جیتے جی مر جاۓ گی میسم بھاٸی۔میسم کے نۓ انکشاف نے ممتا کو اندر تک ہلا کے رکھ دیا تھا۔
یہ تو انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
”مر جاۓ گی میری پری۔کیوں اسے موت سے پہلے موت دے رہے ہیں۔اسے ہمان سے الگ نہیں کر رہے بلکہ اس سے اس کی سانسیں چھین رہے ہیں“
”نہیں رہ سکے گی وہ۔میسم یہ نہیں ہوسکتا“
”یہ ہو چکا ہے ممتا یہ شادی نہیں ہوگی اور یہی میرا آخری فیصلہ ہے“
دونوں ہاتھ کمر کی پشت پر باندھے میسم ممتا کی طرف پیٹھ کر کے کھڑا تھا۔
ممتا کے الفاظ اسے گھایل کر رہے تھے۔پر وہ اپنے بچے کا مسقبل خراب نہیں کر سکتے تھے۔
”میسم بھاٸی“
ممتا نے آس سے پکارا!!!!
”تم جا سکتی ہو ممتا“
ان کا لہجہ کسی بھی تاثر سے پاک اور سنجیدہ تھا۔خاموش کمرے میں ممتا کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔
باہر کھڑی پری کے سر پر ایک بار پھر آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔اسکی زندگی کی اوس اس سے ہمان کا ساتھ بھی چھن چکا تھا۔
ا ایک رات میں کتنا کچھ ہو چکا تھا۔
اس کی مایوں مہندی پر ایک راز کھلا تھا اس رازکے کھلتے ساتھ ہی زندگی نے اس سے ہمان کو چھین کر موت کی نوید سناٸی تھی۔
ممتا مردہ قدموں سے چلتی دروازے تک آٸیں ۔قدموں کی آہٹ پہ پری جلدی سے اپنے کمرے کی جانب بھاگی تھی اور اسی ہبڑا دبڑی میں دیوار کے ساتھ رکھے میز پہ سجا گلدستہ پری کے ہاتھ لگنے سے زمین بوس ہوا۔
خاموش فضا میں چناک سی آواز آٸی ۔ممتا نے پیچھے مڑ کر میسم کو دیکھا جو اب تک اسی پوزیشن میں تھے۔انہیں کیا فق پڑنا تھا۔ممتا نے بھاگ کر کمرے کا دروازہ کھول کر دیکھا باہر کوٸی نہیں تھا۔
شیشے کے گلدستے کی کرچیاں بکھر چکی تھیں۔ وہ بھی ہزار ٹکڑوں میں۔ممتا اپنے کمرے میں آگٸیں۔وہ جتنا رو سکتی تھیں روٸیں نیند تو سوتیلا کہہ کر جا چکی تھی۔
اسی بات کا ڈر تھا ممتا کو۔اللہ اولاد کا دکھ نا دکھاۓ کبھی کسی کو۔ خاص کر بیٹی کا۔ وہ بھی تب جب کوٸی قصور ہی نہ ہو
پری نے بھاگتے اپنے کمرے میں آکر دروازہ بند کر لیا۔دروازے کے ساتھ ہی وہ نیچے بیٹھتی چلی گٸی۔آنسو تھے کے چہرا بھیگو رہے تھے۔وہ ہچکیوں سے روتی سر دروازے سے ٹکا گٸی۔
”پری کو برین ٹیومر ہے۔ پری کو برین ٹیومر ہے “ میسم کے کہے گۓ الفاظ اب تک اس کےدماغ میں باز گشت کر رہے تھے۔
”م۔م۔مجھے ب۔ب۔بری۔ین ٹ۔ٹیومر ہے۔“
الفاظ تھے کے نکلنے کو تیار نہ تھے۔اسے اپنی ہی آواز گہری کھاٸی سے آتی معلوم ہوٸی۔
گزرے وقت کے سارے واقعات اس کی آنکھوں میں فلم کی طرح چلنے لگ۔اس نے آنکھیں زور سے میچ کر ہچکیوں سے رونا شروع کر دیا۔سر تھا کے درد سے پھٹنے کو تھا ۔مگر وہاں پرواہ کسے تھی۔جیسے تھی وہ یہاں تھا نہیں۔
پری میکانکی انداز میں اٹھی دروازا کھولا۔
اسے اس گھر سے عجیب وحشت ہونے لگی تھی ۔اس کا دم گھٹ رہا تھا۔
”یہ شادی نہیں ہوسکتی ممتا۔میں جانتے بوجھتے اپنے بچے کو اندھی کھاٸی میں نہیں دھکیل سکتا۔“
میسم کی باتیں رہ رہ کر اسے یاد آ رہی تھیں۔ بالکل ٹھیک کہا بڑے پاپا نے میں ہمان کے قابل نہیں ہوں ۔میرے ساتھ ان کا کوٸی مستقبل نہیں۔مجھے ان سے شادی نہیں کرنی چاہیے ۔مجھے اگر کچھ ہوگیا تو ہمان کا کیا ہوگا۔کیا وہ جی پاٸیں گےمیرے بغیر ۔
”نہیں وہ نہیں جی پاٸیں گے۔“
”مجھے ان کی زندگی سے دور چلے جانا چاہیے۔مجھے اس گھر سے ہی چلے جانا چاہیے۔میں بد قسمت ہو بہت ہی بدقسمت۔خوشیاں میرا مقدر ہو ہی نہیں سکتیں۔مجھے یہاں نہیں رہنا“
پری جزبات کے دھارے میں بہہ کر خود سے ہم کلام تھی۔شاید وہ جو سوچ رہی تھی کسی حد تک ٹھیک تھا۔اس کی تکلیف کا اندازہ توصرف وہی لگا سکتی تھی۔
ایک انسان کو اپنی موت کا پتا نہیں ہوتا۔لیکن پری کو اپنی موت کا پتا تھا ۔اس کی موت زندگی کے دروازے پہ کبھی بھی دستک دے سکتی تھی۔ہو سکتا ہے اگلےہی پل ملکلموت تیار ہو۔
وہ بھاگتی ہوٸی کوریڈور سے نیچے تک آٸی اور جھٹ سے دروازہ کھولا آنسو اسی طرح جاری تھیں خوبصورت آنکھوں سے جھرنے بہہ رہے تھے۔سر میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔
پر اس کے سر پہ اس وقت جزبات و جنون سوار تھا۔پری شروع سے ہی حساس تھی۔ باتوں کو جلدی محسوس کرنے والی۔بات بات پر رو دینے والی۔
ضدی طبیعت کی مالک۔
وہ تقریباً بھاگتے ہوۓ باہر لان سے ہوتے ہوۓ مین گیٹ تک پہنچی تھی۔اس نے بے دردی سے اپنا ہاتھ کی پشت سے آنسو رگڑے۔واچ مین کرسی پہ بیٹھا اونگھ رہا تھا۔پری کی قسمت اچھی یا بری جو بھی تھی۔مین گیٹ پہ آج شاید واچ مین تالا لگانا بھول گیا تھا۔
پری نے درواز ہلکا سا دھکیلا اور باہر نکل آٸی۔ وہ باہر نکلتے ہی گھر سے دور تک اندھا دھند بھاگتی رہی۔ بادل زور سے گرجے پھر دیھکتے ہی دیکھتے تیز بارش نے دھاوا بول دیا۔ٹھٹھرتی سردی میں ٹھنڈی ہوا کے ساتھ تیز بارش بادل کی گرج بجلی کی چمک اس پہ تضاد اندھیری رات اور تن تنہا وہ۔
وہ بھاگ بھاگ کر تھک چکی تھی.اب اس میں چلنے کی ہمت نہیں تھی۔ایک بارش کی وجہ سے اسے ٹھنڈ لگ رہی تھی۔ دوسرا اندھیری رات میں اسے خوف آرہا تھا۔جب بھی بجلی کڑکتی تو وہ زور سے رونا شروع کر دیتی۔
سر الگ درد سے پھٹا جا رہا تھا۔ٹھنڈ کے باٸث اس کے ہاتھ پیر سُن ہو رہے تھے۔ وہ پوری کی پوری بھیگ چکی تھی۔اسے سانس لینے میں بھی دشواری ہورہی تھی۔
اس نے لمبے لمبے سانس لینے شروع کیے۔لیکن بے سود۔
م۔م۔مما۔م۔مما ہم۔ہم۔ہماا۔ن سانس رکنے کے کی وجہ سے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔
مہندی سے سجے ہاتھ اب صاف ہو چکے تھے۔ابھی اس کے ہاتھ پہ لگی پیا نام کی مہندی کا رنگ بھی نہ چڑھا تھا۔کہ بارش نے اس کے ہاتھوں پہ لگی مہندی کو دھو ڈالا۔ پر پری۔!!!!۔ اسے تو جیسے کوٸی ہوش ہی نہ تھا۔ وہ لمبے لمبے سانس لیتی۔لیکن اگلے ہی پل اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔
ایک دم سب کچھ جیسے فریز ہوگیا ۔اور اگلے ہی لمحے وہ لہرا کر زمین پر گری تھی۔اس کا بے جان سا وجو بارش میں پڑا بھیگ رہا تھا۔وہ ہوش وحواس سے بے گانا ہو چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلیک شرٹ پہ بلیک لیدر جیکٹ پہنے،ہاتھ میں برانڈیڈ رسٹ واچ،بلیک ہی شوز، آنکھوں پہ بلیک گاگلز لگاۓ، ایک ہاتھ کندھے پہ بیگ پکڑےہوۓ دوسرے ہاتھ سے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ چہرے پہ ازلی دل موہ لینے والی مسکراہٹ سجاۓ ایٸر پورٹ پہ کھڑا ہزاروں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بنا ہوا تھا۔
آتے جاتے لوگ اسے ستاٸشی نظروں سے رک رک کر دیکھتے۔
کتنو کی نگاہوں کا مرکز بنا ہوا تھا وہ پر اس کی نگاہ کا مکز تو صرف ایک تھی۔ اس کی کل کاٸینات
ہمان کو آنا تو کل تھا۔لیکن وہ پری کو سرپراٸیز دینا چاہتا تھا۔اس لیے ایک دن پہلے ہی آ گیا ۔تھوڑی دیر پہلے ہی اس کی فلاٸیٹ لینڈ ہوٸی تھی۔
وہ ہنستا مسکراتا ایکزٹ گیٹ کی جانب بڑھنے لگا۔ جب پیچھے سے ایک گارڈ نے اسے آواز دے کر روک لیا۔
”ایکسکیوزمی سر“
ہمان ایڑھیوں کے بل مسکراتا ہوا پلٹا اور باٸیں ہاتھ کے انگھوٹے اور انگلی کی مدد سے گاگلز زرا سے نیچے کیے اس نے شرارتی موڈ میں ایک آٸیبرو اچکاٸی۔
گارڈ اس کے ایکسپریشن سمجھ چکا تھا۔
چلتا ہوا قریب آیا۔
”سر آپ چیکنگ گیٹ پر اپنا پاسپورٹ اور موباٸیل بھول گۓ تھے “بڑی ہی شاٸستگی سے کہتے گارڈ نے دونوں چیزیں ہمان کے سامنے کیں۔
”اووووہ۔میں تو آج اتنا خوش ہوں کہ اپنی قیمتی چیزیں ہی بھول گیا۔ “
”سوری یار “۔” ہوتا ہے کبھی کبھی “۔ ہمان نے گارڈ کے کندھے پہ ہاتھ مارتے ہوۓ کہا۔
”ایکچولی وہ کیا ہے نا کہ میری شادی ہورہی ہے “۔۔اس نے شادی کو زرا کھینچ کر کہا”۔۔” پر میں اس لیے خوش نہیں کہ میری شادی ہورہی ہے“
گارڈ نے قدرے حیرانی سے ہمان کو دیکھا۔
”بلکہ میں تو اس لیے خوش ہوں کہ میری شادی پری سے ہورہی ہے“۔
ہمان کی باتوں پہ گارڈ کو کافی تعجب ہوا۔
”تم آرہے ہو نا“۔۔ گارڈ بیچارہ پریشان سا مسکین سی شکل بناۓ ہمان کی باتوں کو سن رہا تھا ۔جو تقریباً اس کے سر پہ سے فلاۓ ہورہی تھیں۔
” ٹھیک دو دن بعد میری شادی ہے ضرور آنا ہاں “
ہمان بیگ کندھے پہ ڈالے گارڈ کا گال تھپتھپاتا مسکراتا سیٹی بجاتا ایکزٹ گیٹ سے باہر نکل گیا۔جبکہ گارڈ ہونقوں کی طرح ایگزٹ گیٹ کو دیکھتا رہا۔
”آج تو عجیب ہی نمونہ ملا تھا“ وہ بڑبڑاتا سر جھٹک کر واپس اپنی پوزیشن پہ چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک تو بارش اوپر سے رات ایسے میں ہمان بڑی احتیاط سے ڈراٸیونگ کر رہا تھا۔سڑکوں پر پھسلن ہورہی تھی۔وہ محتاط انداز میں گاڑی چلا رہا تھا۔اسے اپنی پری کو سرپراٸیز دینا تھا۔
اس کے مہندی سے بھرے ہاتھ دیکھنے تھے۔کچھ گھنٹوں پہلے ہی توسارہ نے اسے پری کی تصویریں بھیجیں تھیں۔کتنی پیاری لگ رہی تھی۔ وہ زرد رنگ کے جوڑے میں شرماٸی شرماٸی سی مسکراتی ہوٸی ۔
کسی تصویر میں اسے سارہ مٹھاٸی کھلا رہی تھی۔ تو کسی میں عالی اس کی ناک پہ اُبٹن لگا رہی تھی۔ایک تو سارہ نے اس کی مہندی رنگ کے سوٹ میں لی تھی جس میں وہ دونوں بانہیں پھیلاۓ بیٹھی تھی چہرے پہ چمکتی مسکراہٹ تھی۔
وہ اپنی ہی سوچوں میں مگن تھا۔ جب اچانک نظر ونڈ سکرین سے باہر سڑک پہ بارش میں بھیگتے ایک وجود پہ جا ٹھری۔ہمان فوراً بنا اپنی پرواہ کیے گاڑی کو ساٸیڈ پہ لگاتا باہر نکل کر اس تک پہنچا۔
اوہ میرے اللہ یہ تو لڑکی ہے۔ اللہ جانے کیا کیس ہے۔ اس لڑکی کا رات کے اس پہر ایک لڑکی وہ بھی اس طرح سے اس جگہ۔
خیر جو بھی ہے۔ دیکھوں تو کس حال میں ہے یہ۔ ہمان خود سے باتیں کرتا نیچے اس کے پاس بیٹھ گیا ۔پر جیسے ہی اس نے اس وجود کو سیدھا کیا جو اوندھا پڑا تھا۔
ہمان کی نظریں اس کے چہرے پہ اٹک گٸیں۔اسے لگا وہ دوسری سانس نہیں لے پاۓ گا۔ اس کی ساری خوشی پل میں جھاگ ہوگٸی۔اسے اپنے دل کی رفتار کم ہوتی معلوم ہوٸی۔
ہمان کے لب پھڑپھڑاۓ تھے
”۔پ۔پ۔پری”۔پھر وہ جیسے ہوش میں آیا تو دیوانا وار پری کا گال تھپتھپا کر اسے پکارتا رہا۔
پری ۔پری اٹھو۔آنکھیں کھولو پری۔دیکھو میں آ گیا ہوں۔اب سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔پری کا سر اپنی گود میں رکھے وہ مضبوط سا مرد رو دینے کو تھا۔
”پری اٹھو پلیزززز!!!!!! میرا صبر مت آزماٶ“
وہ پری کو خود میں سموۓ زور سے چیخا تھا۔
یہ وقت جوش سے کام لینے کا نہیں ہوش سے کام لینے کا تھا۔ ہمان نے پری کی ناک کے آگے دو انگلیاں رکھیں۔سانس بہت مدھم نہ ہونے کے برابر چل رہی تھی۔نبض بھی سلو تھی۔دل بھی بہت کم رفتار پر دھڑک رہا تھا۔
پری کی طبٕعیت کافی ناساز تھی ۔ہمان نے اسے گود میں اٹھا کے سیٹ پر بیٹھا کر سیٹ بیلٹ باندھا۔خود ڈراٸیو کرتا جلدی سے ہسپتال پہنچا۔
پری کو اٹھاکر وہ اندر کی طرف بھاگا تھا۔جہاں ریسیپشنسٹ نیند میں اونگھتی جبراً اپنا کام کر رہی تھی۔ ہمان کے اندر آنے پہ پٹ سے پوری آنکھیں کھولے وہ متوجہ ہوٸی۔
”ڈاکٹر کو بلاٶ یہاں کھڑی میرا منہ کیا تک رہی ہو“ ہمان اس کے سر پہ کھڑا چیخ کر بولا۔
سر اس وقت تو تمام ڈاکٹر سے چھٹی کر کے جاچکے ہیں۔
اس نے نرم لہجے میں بولا اور ساتھ ہی اس سکی گود میں جھولتی اس نوعمر حسین لڑکی کو دیکھا۔جس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔
ہونٹ بھی پھٹ چکا تھا۔
ہاتھ بھی زخمی تھے جو گرنے کے باٸث چوڑیاں ٹوٹنے سے زخمی ہوۓ تھے۔پر وہ ہر درد سے بے گانا پلکوں کی جھالر گراۓ نہایت پر سکون تھی۔
”کہاں مر گۓ سارے ڈاکٹر“
”کوٸی تو ایمر جنسی میں ہونا چاہیے“
ہمان نے غصے سے ریشیپن پہ بیٹھی اس لڑکی کو کہا
کیا صرف پیسہ کمانے کی حد تک محدود رہ گیا ہے ڈاکٹری کا شعبہ۔ہم جیسے کیا پاگل ہیں۔ جو اس وطنِ عزیز کے لوگوں کی خاطر جان ہتھیلی پہ لیے نہ دن دیکھیں نہ رات ۔ ”بلاٶ ڈاکٹر کو ابھی کہ ابھی“
وہ زور سے غصے سے بری طرح دھاڑا تھا۔ یہاں تک کہ سامنے بیٹھی وہ بری طرح کانپ گٸی تھی۔ج۔ج۔جی سر۔
پھر ریسیپشنیٹ نے جلدی سے ڈاکٹرز کے عملے کو کال کر کے بلایا۔تقریباً آدھے گھنٹے میں پورا عملہ ہسپتال میں موجود تھا۔
ہمان نے پری کو سٹریچر پہ لٹایا۔پری ک حالت بہت سیریس تھی۔پورہ ماتھا خون سے لدا ہوا تھا۔خون بہہ بہہ کر پورے چہرے کو بھیگو رہا تھا۔ہاتھ پہ بھی جابجا زخم تھے۔ جن میں سے خون رس رہا تھا۔ سنہرے بال گیلے ہوچکے تھے۔ جو لٹو کی سورت میں اس کی دودھیا گردن پہ چپکے ہوے تھے۔ کچھ چہرے پر تھے۔ دوپٹے سے بے نیاز نو عمری کا اس کا حسن کسی کا بھی ایمان ڈگمگانے کے لیے کافی تھا۔ وہ اس حال میں بھی حسین لگ رہی تھی۔
ہمان جو سٹور سے انجیکشن لینے گیا تھا۔ینگ ڈاکٹر کو پری کے اوپر جھکا دیکھ کر اس کا فشار خون بلند ہوگیا۔ ہاتھ میں پکڑی سرینج کڑاک کی آواز سے ہاتھ میں ہی ٹوٹ گٸی۔
غصے سے اس اسکی رگیں تن گٸیں۔
ہمان نے آٶ دیکھا نا تاٶ پیچھے سے کھینچ کے پہ در پہ اس کے چہرے پہ مکوں کی برسات کردی۔ ۔کالر سے پکڑ کر اسے دیوار سے لگایا اور ایک زور دار لات اس کے پیٹ میں دے ماری۔ جس سے وہ بے چارہ بلبلا اٹھا اور کراہ کر نیچے بیٹھتا چلا گیا۔ہمان نے اس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر اس کا سر زور سے کٸی دفعہ فرش پہ دے مارا۔
کسی میں بھی اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ ہمان کو روک سکتے۔ ہمان کے چہرے پہ تنے غصے اور جنون سے سب کاپن گۓ تھے۔
ہمان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس شخص کو جہنم رسید کردیتا۔ لیکن اس وقت اسی پری کو اسکی ضرورت تھی۔ ہمان نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا اور اپنا بھاری بوٹ اس کی انگلیوں پہ رکھ کر بری طرح کچل ڈالا ۔یہ وہ ہاتھ تھا جس ہاتھ سے اس نے پری کے چہرے پی چپکے گیلے بالوں کو ہٹایا تھا۔
ہم وطن کے محافظ ہیں۔اپنی ماٶں بہنوں بیٹیوں اور بیوی کے بھی محافظ ہیں کوٸی میلی آنکھ سے دیکھے تو صحیح وہ آنکھیں نوچ ڈالیں گے۔ہم شاہین ہیں۔ہم اقبال ہیں ہم قاٸد ہیں ہم لیاقت ہیںسنا تم نے ہم شاہین ہیں اور شاہین جتنے خوبصورت ہوتے ہیں اتنے ہی خوف ناک بھی۔ بری طرح اس کا ہاتھ پیروں تلے کچلنے کے بعد وہ پری کے پاس آیا تھا۔
”لیڈی ڈاکٹر کو بلاٶ “
ہمان کی دھاڑ پہ سب کے سب اچھل پڑے اور جلدی جلدی اپنے کام میں لگ گۓ۔لیڈی ڈاکٹر جلدی سے آگے آٸیں اور پری کا ٹریٹ منٹ شروع ہوا۔
ہمان باہر راہ داری میں دیوار سے ٹیک لگاۓ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑے کھڑا تھا ۔
پری وہاں کیسے پہنچی؟ اس کی یہ حالت کیسے ہوٸی؟گھر میں کسی کو پتا ہے یا نہیں؟ ایسے ہزار سوال اس کے ذہن میں پنپ رہے تھے۔ پر جواب کسی ایک کا بھی نہیں تھا۔
وہ سر پکڑے وہیں بینچ پر بیٹھ گیا۔
دل میں ایک دھڑکا سا لگا تھا۔ نازک سی وہ لڑکی پتا نہیں زندگی کے اتنے ستم برداشت کر بھی سکے گی یا نہیں۔
وہ وہیں سجدے میں گر گیا۔اپنے رب کے آگے روتے سسکتے وہ اپنی پری کی جان کی بھیک مانگ رہا تھا۔
اتنے میں دروازہ کھولا اور ڈاکٹر باہر آٸیں ہمان سجدے سے اٹھ کر ان کی طرف بڑھا۔
” ڈاکٹر ماٸی واٸیف“
ہمان نے بھیگی آنکھوں سے پوچھا۔”شی از فاٸن“ ہمان نے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔جو ہرطحال میں اپنے بندوں کو جاد رکھتا ہے۔
صبح تک انہیں ہوش آجاۓ گا۔
وہ پروفیشنل انداز میں کہتی آگے بڑھ گٸیں۔
ہمان پوری رات راہداری میں بیٹھا ناجانے کون کون سی صورتیں پڑھتا رہا ۔کب صبح ہوٸی ۔وہ فجر پڑھ کر بینچ پہ بیٹھا بیٹھا سو گیا تھا۔ پوری رات وہ جاگتا رہا پری کو ایک نظر تک نہ دیکھا۔اس میں کہاں اتنی ہمت تھی آکسیجن ماسک اور نلکیوں میں جکڑے اس وجود کو دیکھنے کی۔ جو جگہ جگہ سے پٹیوں میں جکڑی پڑی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمان پری کو فارم ہاٶس لے آیا تھا۔ابھی اسے ٹھیک سے ہوش بھی نہیں آیا تھا۔وہ اسے بے ہوشی کی حالت میں ہی لے آیا تھا۔فارم ہاٶس شہر سے کافی دور تھا۔
جدید طرز کا بنا یہ فارم ہاٶس ہمان کا اپنا ذاتی تھا۔دور سے دیکھنے پہ ایسا معلوم ہوتا جیسے کیسی جزیرے پہ محل تعمیر کیا گیا ہوا۔خوبصورتی میں اپنی مثال آپ۔
ہمان فریش ہوکر پری کے روم میں آیا۔جو ابھی تک سو رہی تھی۔ڈاکٹر نے اسے نیند کا انجیکشن دیا تھا۔ہمان نے ایک نظر سوٸی ہوٸی پری کو دیکھا۔پھر وہ ناشتے بنانے کچن میں چلا گیا۔کٸی سوال تھے۔کٸی سوچیں تھیں۔ان سب کو ایک طرف رکھتا وہ پری کےلیے فکرمند سا کچن میں ناشتے میں مصروف تھا۔
ناشتہ وہ بنا چکا تھا۔اپنے لیے کافی چڑھاتا وہ دودھ کا پیکٹ کھولنے لگا تھا کہ پری کے رونے آواز پہ ہمان پیکٹ وہیں چھوڑتا روم کی طرف بھاگا تھا۔
پری کو اچانک ہوش آیا تو آنکھیں کھلتے ہی انجان جگہ دیکھ کر خوف کی ایک لہر اس کے جسم میں سرایت کر گٸی۔اس نے زور شور سے رونا شروع کردیا۔
کمرے کا دروازہ کھلنے پہ پری نے لیٹے لیٹے ہی دروازے کی طرف دیکھا تو زور سے چیخنے لگی۔ہمان فوراً اس کے پاس آیا۔اس سے پہلے کے وہ پری کو کوٸی تسلی دیتا یا چپ کرواتا پری کی اگلی حرکت نے اس کے اوسطان خطا کردیے۔ ”دور رہو مجھ سے۔دور ہٹو“
پری نے بے بسی سے ہاتھ پیر مار کر اسے دور کرنا چاہا۔پری کا رویہ ہمان کی سمجھ سے بالا ترتھا۔
”پری بات سنو چندہ“
کمزوری کی وجہ سے اس سے اٹھا نہیں جا رہا تھا۔پھر بھی وہ ہمت کر کے اٹھی۔اس نے پاس ٹیبل پہ فروٹ باسکٹ میں پڑی چھری اٹھا کے نوک کا رخ اپنی جانب کر لیا۔
”جاٶ یہاں سے“
خبردار!!!!!!
”جو میرے پاس آنے کی کوشش کی مار لو گی میں خود۔“
ہمان ے ایک جھٹکے سے پری کے ہاتھ سے چھری چھینی پر پری کی گرفت کافی مضبوط تھی۔
وہ پری کو کسی بھی صورت خود کو نقصان نہیں پہنچانے دیناچاہتا تھا۔چھینا جھپٹی میں چھری ہمان کو بری طرح لگی تھی۔ہمان نے چھری دور پھینکی۔اور پری کو خود سے لگا لیا۔وہ ہونک بنی اس کے ہاتھ سے رستے خون کو ہی سوچ رہی تھی۔
اس نے پری کو خود سے الگ کیا۔
”پری مجھے سب کچھ سچ سچ بتاٶ۔تم کل رات وہاں کیا کر رہی تھیں۔؟ وہ بھی اس حلیے میں؟کیا گھر میں کسی کو پتا ہے۔؟
”م۔م۔مجھے کچھ ن۔نہیں پ۔پتا“
”ایسا ہو نہیں سکتا پری۔بتاٶ مجھے ۔سب سچ جاننا ہے۔کیا پھر سےعاشی نے کچھ۔۔۔۔۔“
ہمان نے اتنا ہی کہا تھا کہ پری نے غصیلی آنکھوں سے اسے دیکھا۔اور ہمان کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ہمان وہیں چپ ہو گیا۔
”کسی پر انگلی اٹھانے سے بہتر ہے کہ ہزار دفعہ سوچیں۔ ہوسکتا ہے۔غلطی ہماری اپنی ہو“
پری نے منہ دوسری طرف موڑ لیا۔”تمہارے کہنے کا مطلب ہے کہ تمہاری اس حالت کے پیچھے کہیں نہ کہیں میں ذمہ دار ہوں“
پری کی باتوں سے تو ہمان یہی اندازہ لگا سکا۔پری کچھ نہ بولی۔بس خاموشی سے گلاس وال سے بہتے مصنوعی جھرنے کو تکتی رہی۔
”ادھر میری طرف دیکھو پری۔ہمان نے اس کا چہرہ اپنی طرف کیا۔ کیا تمہیں لگتا ہے کہ یہ جو بھی سب ہوا ہے اس کی وجہ میں ہوں“
”بنا ہاتھ لگاۓ بھی بات کی جاسکتی ہے ہمان“۔پری کی باتوں پہ ہمان سکتے میں آ گیا۔”پری تم کیا کہہ رہی ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا“
”پری جو بات ہے کھل کر کر لو۔مجھے لگتا ہے کہ میرے بغیر بتاۓ جانے پر تم مجھ سے اب تک ناراض ہو“
”میں آپ سے ناراض کیوں ہوں گی“۔” اس لیے کہ میں نے پورا ہفتہ لگا دیا یار“
”میری بلا سے آپ ہفتہ رہیں مہینہ رہیں یا سال یا پھر آٸیں ہی نہیں ۔مجھے کوٸی فرق نہیں پڑتا“
پری کی باتوں اور اس کے لب و لہجے پہ ہمان سکتے میں آگیا۔یہ اس کی پری تو نہ تھی وہ تو اتنی معصوم سی تھی۔چھوٹی چھوزٹی باتوں پہ جیسے ناراض ہوتی ویسے ہی چھوٹی چھوٹی باتوں پہ مان بھی جاتی تھی۔
پر آج تو پری اپنی عمر سے کہیں زیادہ بڑی لگ رہی تھی ۔
تمہیں واقع فرق نہیں پڑے گا اگر میں واپس نہ آٶں“
ہمان نے امید سے اسے دیکھا۔ جو سامنے بہتے جھرنے کو دیکھ رہی تھی۔
”نہیں مجھے کوٸی فرق نہیں پڑتا“
”تمہاری اس بے رخی کی میں کیا وجہ سمجھوں“
”جو مرضی سمجھیں“۔ٹکہ سا جواب دے کر نگاہیں دوبارہ ادھر مرکوز کر لیں۔
کچھ تھا اس کی نگاہوں میں۔اتنی سرد مہری۔ہمان سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔آخر اس کے پیچھے ایسا کیا ہوا تھا۔جو وہ ہمان سے اس قدر بد گمان تھی۔
”پری پلیز کیا میں تمہارے اس سرد رویے ک وجہ جان سکتا ہوں“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *