Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode34

Pari By Shanzey Rajpoot Episode34

انجی کو جب زین نے نکاح والی ساری بات بتاٸی تو وہ پہلے تو حیران ہوٸیں پھر پریشان پر زین نے انہیں یہ کہہ کر سمجھا دیا کہ آپ ماموں ممانی سے بات کر لیں وہ بات کو سمجھیں گے اور ویسے بھی آج نہیں تو کل شادی تو ہونی ہی ہے پھر ابھی نکاح کرنے میں کیا حرج ہے انجی کو زین کی بات کسی حد تک ٹھیک لگی۔
انجی نے ہادیہ ابرار بھاٸی بھابھی اور میسم سے مشورہ کر کے نکاح کیا تو انہوں نے بلا جھجک ہاں کردی۔
میسم ابرار اور ہادیہ بیگم ملک ہاٶس آ گۓ تھے۔اور انہوں نے سب کو ہی اس بات سے آگاہ کر دیا تھا کہ آج شام میں ہی زین اور عالیہ کا نکاح ہے۔
کسی کو کیا اعتراض ہونا تھا سب تو چاہتے ہی یہی تھے اور ویس بھی عاشی کی وجہ سے گھر میں ایک دم سے جو سوگوار سی فضا پھیلگٸی تھی۔وہ بھی خوشگوار ہوجاتی۔ اس لیے سب اپنی اپنی تیاریوں میں مگن ہوگٸیں ۔
سارہ کو ہادیہ بیگم نے فون کر کے پہلے ہی بلا لیا تھا حماد اسے وہاں لے آیا تھا۔ماہیر بھی زویا کو بابا کے گھر سے جلدی لے آیا تھا یہ کہہ کر کے گھر میں بہت یاریاں کرنی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انجی لوگ ملک ہاٶس آ چکے تھے ۔سارہ زویا مل عالی کو تیار کر رہی تھیں۔ ماہیر رافع زین کی کھینچاٸی کررہے تھے زین تو آلریڈی تیار بیٹھا تھا۔جیسے آج ہی اس نے عالی کو رخصت کر والینا ہے۔
ہمان تو صاف کہہ چکا تھا کہ پری کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لیے میں نہیں آسکوں گا۔دراصل حقیقت تو یہ تھی کہ ہمان زین کی باتوں سے بہت ہرٹ ہوا تھا۔
ساری تیاریاں ہو چکی تھیں۔جب زین کو ہمان کے نہ آنے کا پتا چلا تو اس نے ہمان کو فون کر کے باہر بلایا۔
کیا مسٸلہ ہے تیرے ساتھ۔بدلہ لے رہا ہے میرے ساتھ۔مانتا ہوں میری غلطی تھی ۔پر اب معافی مانگ رہا ہوں ۔سوری یارسال
وہ کان پکڑ کر بولا۔
ہمان نے ایک نظر اسے دیکھا اور بولا۔بس ہوگیا تیرا۔جاٶں میں۔زین نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا کیا چیز تھا یہ شخص۔وہ دانت پیس کر رہ گیا۔وہ جانے کے لیے مڑا۔زین نے اس کا بازو پکڑ کر رخ اپنی طرف کیا۔
اس سے پہلے کے زین پھر کچھ بولتا۔ہمان بول پڑا ۔زین مجھے برا اس بات کا نہیں لگا کہ تو نے مجھ سے بدتمیزی سے بات کی بلکہ مجھے برا اس وقت لگا جب تو نے اس معاملے میں سارہ ار پری کو گھسیٹا ۔
بیچ میں ان دونوں کو گھسیٹنے کا کیا ک بنتا ہے۔کیا وہ تیری کچھ نہیں لگتیں۔تو نے کیسے اسے پل بھر میں پرایا کر دیا۔تجھے سارہ کی آنکھوں میں امڈتے آنسو نہیں دیکھے۔پری تو چلو نادان ہے وہ سمجھ نہیں سکی تیری باتوں کو لیکن سارہ اس کا کیا قصور تھا۔
ہمان نے اپنا لہجہ حتیٰ المقدور نرم رکھنے کی کوشش کی۔پر پھر بھی آخر میں وہ تلخ ہوگیا۔زین کو واقع شرمندگی محسوس ہوٸی۔ہمان نے کچھ غلط بھی نہ کہا تھا ٹھیک تو کہہ رہا تھا وہ۔
ایم سوری ہمان۔میں واقع شرمندہ ہوں مجھے ایسا نہیں بولنا چاہیے تھا۔پتا نہیں مجھے کیا ہوگیا تھا۔میں سار سے معافی مانگ چکا ہوں۔وہ سر جھکاۓ بول رہا تھا۔سنہرے کرے میں سفید پاجامے گلے میں سنہرا پٹکا ڈالے وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔
زین تیرا نکاح ہے تجھے نیچے جانا چاہیے۔زین نے اسے دیکھا کتنا پتھر دل یار تھا اس کا ۔اس کی خوشی میں شریک نہیں ہونا چاہتا تھا۔
وہ خون کے گھونٹ پیتا نیچے آکر صوفے پہ دھپ سے بیٹھ گیا۔
سب بڑے اور ینگ پارٹی ہال میں جمع تھی۔عالی کو سارہ کے کمرے میں بیٹھایا گیا تھا۔نکاح خواں آ چکے تھے۔
زین نے ایک آخری نگاہ اوپر ہمان کے کمرے پہ اٹھاٸی۔مایوسی سے سر جھکالیا۔
_________
زین کا نکاح شروع ہو چکا تھا۔عاشی،انجی اور گھر کے سب بڑے بہت خوش نظر آرہے تھے۔ایک زین ہی تھا،جو منہ لٹکاۓ بیٹھا تھا۔ہمان کے نہ آنے کا غم اسے کھاۓ جا رہا تھا۔نہ جانے وہ کن سوچوں میں الجھا تھا۔ہوش تو جب آیا جب مولوی صاحب نے پھر سے اپنے جملے زور سے دہراۓ۔
زین ولد اسد۔ آپ کا نکاح عالیہ ولد ابرار سے طے ہونا قرار پایا ہے۔
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔
مولوی صاحب نے زین کو گھور کر دیکھا جس کا نکاح تھا اس کا دھیان ہی کہیں اور تھا۔
قبول ہے۔زین نے سر نیچے کر کا جواب دیا۔
”رک جاٶووووو۔!!!!!!!!یہ نکاح نہیں ہو سکتا“
زین نے جھٹ سے اپنا جھکا سر اٹھایا۔اس کی آنکھوں میں حیرت کا سمندر موجزن تھا۔سب لوگ اچانک پریشان ہوگۓ۔
”کیوں نہیں ہو سکتا یہ نکاح“
زین اس کے سامنے کھڑا خون خوار نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔زین کا دل کیا اسی وقت اس روڑے (پتھر) کو اٹھا کر دریاۓ سندھ میں پھینک آۓ۔
”کیونکہ میں کہہ رہا ہوں“۔
ہمان اسے مسلسل زچ کر رہا تھا۔عالیہ تو منہ کھولے یہ ساری کارواٸی دیکھ رہی تھی۔
اور تم یہ کیوں کہہ رہے ہو۔زین کے اندر اب غصے کے ابال اٹھنے لگے تھے۔
”کیونکہ میرا دل کہہ رہا ہے“
اور میں ہمیشہ اپنے دل کی کرتا ہوں۔
عالیہ تواپنا دوپٹہ اور شرارہ سنبھال کر مزے سے صوفے پہ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گٸ۔دونوں ہاتھوں کو تھوڑی کے نیچے رکھے بڑے انہماک سے وہ سامنے چلتی مووی انجواۓ کر رہی تھی۔ وہ بھی بغیر ٹکٹ کے۔
اتننا اچھا موقع وہ بھی کیسے جانے دے سکتی تھی۔
”یو نو تم نے وہ مہاورہ تو سنا ہی ہوگا نا“۔سنو سب کی کرو دل کی۔ہمان نے ایک ادا سے جھک کر اپنے پف کو جھٹکا دے کر سر ونچا کیا۔
زین کو تو گویا تن بدن میں آگ ہی لگ گٸی۔
”تم خود کو سمجھتے کیا ہو“۔زین دبا دبا سا غرایا۔
”میجر ہمان حیدر“
جواب حاضر تھا۔سمجھتا نہیں ہوں بلکہ میں ہوں۔
وہ تھوڑے توقف کے ساتھ بولا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے قریب کھڑے تھے۔ اس لیے ان کی گفتگو صرف وہی سن سکتے تھے۔
زین خود کو بے بسی کی انتہا پر محسوس کر رہا تھا۔
ایک دم وہ زور سے چلایا تھا۔
”میں تمہیں شوٹ کر دوں گا ہمااااان“
”میں پولیس کو انفارم کردوں گی“ زین بھاٸی۔!!!!! اگر آپ نے ہمان کو ہاتھ بھی لگایا تو۔ پری پیچھے کھڑی دونوں کو دیکھ رہی تھی زین کی آخری بات پہ تو اس کا دل اچھل کرحلق میں آگیا۔
ہمان کو خود سے وہ دور کیسے ہونے دیتی۔فوراً زین کو دھمکی لگاٸی زین تو زین ہمان بھی حیران رہ گیا۔اتنا پوزیزیو تھی وہ اسے لے کے۔ہمان نے جلدی سے اپنی حالت پہ قابو پایا۔.
اوہ تو کبوتری کو بھی پر نکل آۓ۔زین یہ صرف دل میں سوچ سکا۔بولنے کی ہمت تو اس میں تھی نہیں سامنے ہمان تھا۔جو زرا سا بولنے پہ اس کی گردن بوچ لیتا۔
انجی نے بامشکل اپنی ہنسی چھپاٸی ورنہ زین کی حالت پہ انہیں ہنسی تو بہت آٸی تھی۔
”دیکھ ہمان۔۔!!!!میرا دماغ خراب مت کر جا یہاں سے“
”کبھی کہتا ہے آجا کبھی کہتا ہے چلا جا“
عجیب انسان ہے یار تو۔پر جو بھی ہے یہ نکاح تو آج نہیں ہوگا۔ہمان کہتے ساتھ ہی سامنے صوفے پہ دونوں ہاتھ پھیلاۓ ٹانگ پہ ٹانگ چڑھاۓ بیٹھ گیا اور سیٹی بجانے لگا۔زین تو رو دینے کو تھا۔اس کی ہمت جواب دے گٸی تھی۔اسے خود کی حالت پہ رودینے کو دل چاہ رہا تھا۔ لمحے میں اس کی بے بسی غصے میں بدلی اور وہ سخت تیور لیے ہمان کی طرف بڑھا۔
”تو دن دھاڑے میرا نکاح رکواۓ گا“
”دن ھاڑے کیا رات دھاڑے“
کر لے جو کرنا ہے ۔ہمان بھی ایک جھٹکے سے کھڑا ہو کر دوبہ دو بولا۔
زین کی ہمت جواب دے چکی تھی۔وہ ٹیبل کو ٹھوکر مارتا جیسے ہی مڑا ۔اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گٸی منہ الگ کھل گیا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کا کھلا منہ مسکراہٹ میں تبدیل ہو گیا۔
کیونکہ سامنے اس کا لنگوٹیا یار بچپن کا ساتھی نین اس کا کزن کھڑا مسکرا کر باہنیں کھولے کھڑا تھا۔اس کا سارہ غصہ پل بھر میں جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔
زین آگے بڑھ کر نین سے بغل گیر ہوا نین نے اسے گود میں اٹھا کے گول گول گھومایا۔” ابے بچے کی جان لے گا کیا نیچے اتار مجھے ابھی تو شادی بھی نہیں ہوٸی میری“
زین کی دھاٸیاں اور نین کی مستیاں جاری تھیں۔
افی اور ممتا کو یوں اچانک دیکھ کر سب سرپراٸیزڈ ہی ہوگۓ تھے۔خاص کر پری اس کی تو خوشی دیدنی تھی۔
نین بھیا۔!!!!!!پری بھاگ کر نین کی بانہوں میں سماگٸی ۔
ایک الگ سا سما بندھ گیا ھا۔ ہر ایک خوش تھا۔اس سب میں زین تو اپنا غم مکمل طور پر بھول چکا تھا۔
”تم میرے بغیر ہی اتنی بڑی خوشی منانے چلے تھے اور عالی محترمہ تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ تم دونوں کا یہ سو کولڈ رشتہ میرے بغیر ہو بھی پاۓ گا“
نین بیٹا سب اچانک ہی ہوا ہم نے بس منگنی کرنے کا سوچا تھا۔میسم صاحب نے اسے سمجھانا چاہا جو روٹھا روٹھا سا لگ رہا تھا۔ ارے ہاں بھٸی نین پتر تیرے بنا کوٸی فنکشن رکھا ہے کیا ہم نے۔ ہادیہ بیگم سے بھی نین کی خفا خفا سی صورت برداشت نہ ہوٸی۔
چلیں اب آپ لوگ اتنا کہہ رہے ہیں تو مان لیتا ہوں۔زین نے ایک غصیلی نظر ہمان پہ ڈالی۔بس کر بھاٸی مت گھور اس بچارے کو۔ابھی جو میں یہاں تیرے سامنے کھڑا ہوں اس کا کریڈٹ ہمان کو جاتا ہے۔زین اچھنبے سے نین کی طرف کی دیکھا ۔تاثرات ایسے تھے جیسے کہہ رہا ہو
” وہ کیسے“
آم کو کھا کھا گٹھلی نہ یکھ۔زین منہ بسور کے رہ گیا۔
زین اور عالی کا نکاح بخیرو آفیت ہو گیا تھا سب چھوٹے بڑے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
”مجھے ابھی تک ایک بات سمجھ نہیں آٸی کہ نین تم اینڈ موقع پہ آۓ مین میرا مطلب یہ تو ایک اتفاق ہوگیا“
زویا کے یو اچانک سوال پہ نین کے ہونٹوں پہ شرارتی مسکان سی مچلی تھی۔
اس نے کن انکھیوں سے ہمان کو دیکھا جو اسے ہی معنی خیزی سے دیکھ رہا تھا۔پل بھر میں نظروں کا تبادلہ ہوا۔”یہ تو ایک راز ہے زویا بھابھی“
دونوں نے ایک ساتھ بولا۔ ”کون سا راز نین بھیا“مجھے بتاٸیں
پری جو نین کے برابر میں اس کے کندھے سے لگی بیٹھی تھی۔راز کے نام پہ اس کے اندر کی متجسس روح جاگ اٹھی۔نین پیار سے اس کے دونوں گال کھینچے۔
”زویا بھابھی اس سب کا کریڈٹ واقع ہمان کو جاتا ہے۔جس نے اتنے اچھے موقع پہ مجھے نہ صرف اس گدھے یعنی زین کی نکاح کا بتایا بلکہ ارجنٹ آنے کو بھی کہا۔اور میں پہنچ گیا۔“
”ہاں تمہیں تو موقع چاہیے ہوتا ہے سیر سپاٹے کا کام شام تو تمہیں کوٸی ہے نہیں“
تمہاری تو وہ مثال ہے” ویلے رہن پرونیا جوگی“
وہ ایک ادا سے بولی۔نین نے اسے گھور کور دیکھا۔
”حماد سمجھا کے رکھو اپنی پٹاخا کو۔ ورنہ جو میں نے اپنی باتوں کی آگ لگاٸی نہ تو یہ پٹاخا جل کر خاک ہوجاۓ گا اور پھر میں اس خاک کی راکھ کو گنگا ندی میں بہا آٶں گا۔جہا اس کا نام و نشاں تک نہ ملے گا۔“
پھر کشکول لیے کہتے پھر نہ گلی گلی” اللہ کے نام پہ سارا دے دے بابا۔“
نین ک ادکاری پلس جملوں پہ سب کا چھت پھاڑ قہقہہ لگا تھا۔ یہاں تک خود حماد بھی اپنی ہنسی نہ روک سکا جبکہ سارہ جلتی کڑھتی اٹھ کر کچن میں عاشی کی ہیلپ کرنے چلی گٸی۔اب اس کی دال گلنے والی نہ تھی اس کا اپنا شوہر ہی اس کی یہنسی اڑا رہا تھا۔
ہنسی مزاق میں ایک خوبصورت رات کا اختتام ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات نکاح کی وجہ سے سب لوگ ملک ہاٶس میں ہی رک گۓ تھے۔زویا اور عاشی مل کر لنچ کی تیاری کر رہی تھیں۔ نین زین کو تنگ کرنے میں لگا ہوا تھا۔ جب سے نکاح ہوا تھا۔ وہ اسے زچ کرنے کی قسم کھا چکا تھا۔ رافع اورماہیر سدا کی طرح آفس گۓ تھے۔انجی ہادیہ اور ممتا ہال کمرے میں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔
ہمان اور حماد لاٸبریری میں بیٹھے ایک ایمپورٹنٹ کیس ڈسکس کر رہے تھے۔
موسم کافی خوشگوار تھا۔ بارش کے کافی آثار نظر آرہے تھے۔چرند پرند ادھر سے ادھر چہکتے پھرتے۔سورج بادلوں کی چادر اوڑھ چکا تھا۔لان میں سبزے پہ بیٹھی پری کو سارہ نے آواز دی اور اندر آنے کو کہا۔وہ جو دلچسپی سے چڑیا کو اپنے بچے کو کھانا کھلاتا دیکھ رہی تھی۔شدید بد مزہ ہو کر وہاں سے اٹھ کر اندر کی جانب چلدی۔
بھابھی لنچ ریڈی ہے۔ بس سیلڈ رہ گٸی ہے۔ راٸیتا میں نے بنا دیاہے۔آپ جلدی آٹا گوندھ کر روٹی بنالیں میری تو بھوک کھانا دیکھ کر اور اشتہا انگیز خوشبوٸیں سوونگھ کر ہی مزید بڑھ چکی ہے۔اب صبر نہیں ہوتا۔
زویا نے مسکرا اسے دیکھا۔ہاں تم بس آدھا گھنٹا دو اور روٹیاں ریڈی۔آدھا گھنٹا سن کر عاشی کی بانچھیں کھل گٸیں۔اسے اب اندازہ ہو رہا تھا۔ بھوک کاٹنا کیسے کہتے ہیں۔اففف میرے خدا۔
وہ منہ بسورتی کیچن سے ہوتی ہوٸی سیڑھیاں عبور کر کے راہداری میں آگٸی۔ابھی وہ کمرے کی طرف بڑھتی کی اس کا موباٸل زور زور سے بجنے لگا۔
اس نے بنا دیکھے کال پک کی۔اور چھوٹتے ساتھ ہی بولنا شروع کردیا۔
ارے بھاٸی کون ہے۔بندہ تھوڑا صبر بھی کرلے اٹھا ہی رہی تھی فون لیکن پتا نہیں کس بات کی جلدی ہوتی ہے۔وہ مزید اپنی فضول گوٸی جاری رکھتی۔ لیکن اگلی طرف کی آواز نے نہ صرف اس کی بولتی بند کروادی بلکہ وہ اوپرسے لے کر نیچے تک کانپ گٸی۔
وہ وہی بلیک میلر تھا۔جو اکثر فون کرتا تھا۔
”سو مس عاشی کیسی طبیعت ہے اب آپ کی ۔سنا ہے میری ننھی سی دھمکی پہ ہی دو دن بخار میں پھنکتی رہیں تھیں“۔” سوچا خیر خیریت ہی پوچھ لوں“
”کیا چاہتے ہو تم اور کیوں فون کر کے مجھے پریشان کر رکھا ہے۔تمہاری وجہ سے میرے بھاٸی کی خوشیاں خاک میں ملتے ملتے بچی ہیں“
وہ غصے سے بولی تھی آخر وہ کمزور کیوں پڑتی ۔وہ تنگ آ چکی تھی۔اس کالز سے اس لیے اس نے برہِ راست پوچھ ہی لیا کے وہ آخر چاہتا کیا ہے۔
وہ بے ہنگم سا قہقہہ لگا کر مخاطب ہوا۔
”کافی سمجھدار ہو“ ۔”یہ ہوٸی نہ بات“
” چلو اب پتے کی بات کرتے ہیں۔“
اگلی طرف وہ نیم اندھیرے میں راکنگ چیٸر پر بیٹھا گلاس وال سے باہر سرمٸی آسمان دیکھتے فون کان سے لگاۓ ہوۓ تھا۔ جبکہ دوسرا ہاتھ چٸیر کے آرم پہ دھرا تھا۔
عاشی نے ادھر ادھر نظر دوڑاٸی اگر اس وقت اسے کوٸی دیکھ لیتا تو کیا ہوتا سوچ کر ہی اس نے جھرجھری لی اور اوپر ٹیرس پہ آگٸی۔ جہاں کوٸی بھی نہیں تھا۔
بولو کیا مسٸلہ ہے۔
مجھے پری چاہیے الفاظ تھے یا کوٸی بجلی گری تھی وہ ہسندازہ نہ کرسکی۔
”واٹ۔!!!!کیا مطلب تمہیں پری چاہیے“عاشی ایک دم چلاٸی۔”مطلب سیدھا،صاف اور شفاف ہے“
”مجھے تمہاری کزن پری چاہیے“۔وہ بھی ایٹ اینی کوسٹ۔اور تم مجھے پری لا کر دو گی“۔
”مجھے لگتا ہے تمہارے اسکریو ٹاٸیٹ نہیں ہیں دماغ سٹھیا گیا ہے تمہارا۔جاٶ جا کے علاج کروا کے آٶ اپنے برین کا“عاشی نے اس کی عقل پہ ماتم کیا ۔
وہ مانگ کیا رہا تھا پری۔پاگل ہوگیا ہے۔جانتا نہیں کیا۔ ہمان کو اس نے اگر پری کا نام بھی سن لیا نا تو پچھلی دفع تو ہواٸی فاٸر کیا تھا۔اس دفع تو سیدھا بھیجا ہی اوڑا ڈالے گا۔
اس نے دل میں سوچا ساتھ ہی ساتھ اسے باس بلیک میلر پہ شدید غصہ بھی آیا۔
”تم سن رہی ہو تم مجھے پری لا کر دو گی“میں کیوں تمہیں پری لا کر دوں یہ کام تم اپنے کسی چمچے سے کرواٶ نا۔وہ ایک۔دم غراٸی تھی۔
”ویسےتمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں پری کو تم تک پہنچانے میں مدد کروں گی“
اس نے رازداری سے پوچھا۔
بلیک میلر نے جاندار قہقہہ لگایا۔ایک تو اس کے بے باک قہقہے۔عاشی نے افسوس سے سوچا۔
ڈٸیر عاشی تم نے ابھی ابھی مجھے کہا کے میں تمہیں کیوں پری لا کر دوں یہ کام میں اپنے چمچے سے کیں نہ کروالوں۔
تمہیں پتا ہے کہ تم پری کی خیر خواہ نہیں بلکہ انتہاٸی سفاک اور خود غرض لڑکی ہو اور اس کی مثال بھی میں تمہیں چند گھنٹوں میں دوں گا۔ بجاۓ اس کے کہ تم پری کے لیے مجھ سے لڑو برا بھلا کہو۔یا پھر جا کر اس کے سو کولڈ ہسبنڈ ہمان کو انفارم کرو،تم تو مجھے مشورہ دے رہی ہو کہ میں اپنے چمچے سے یہ کام کروالوں۔
”امیزنگ آٸی ایم امپریسڈ“
تمہیں مجھے کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔میں کیسی ہوں ۔مجھے اچھی طرح معلوم ہے۔
عاشی غصےسے تلملا کے بولی۔تم کچھ زیادہ ہی اچھل رہی ہو بہتپر نکل آۓ ہیں تمہارے بھول گٸی وہ خوبصورت رات جو رابن کے سنگ گزرنی تھیپر تم پر ترس آ گیا۔۔چچ چچ چچ۔ بے چاری عاشی۔
ویل تمہیں ہر حال میں میرا یہ کام کرناہے مجھے پری چاہیے وہ بھی زندہ ۔ورنہ۔
ورنہ کیا کر لوگے تم۔ ہاں!!!! بولو کیا کر لو گے۔
میں تو کچھ بھی نہیں کروں گا میری کیا مجال ۔
جو کرے گی یہ ویڈیو کری گی۔۔ک۔ک۔کون سی ویڈیو۔
تم خود دیکھ لو ۔اس نے فون کاٹ کر واٹس ایپ چیک کیا نہ معلون نمبر سے ایک ویڈیو موصول ہوٸی تھی۔عاشی کلک کیا۔تو وہ کھلتی چلی گٸی۔
جیسے جیسے وہ دیکھتی گٸی اس کے ہاتھ پیر ٹھنڈے ہوگۓ۔آنسو سے لبریز آنکھیں خوف سے تھر تھر کانپتا جسم وہ کسی بھی لمحے بے ہوش ہونےکو تھی۔افسوس سد افسوس۔
اس کے سوا کر بھی کیا سکتی تھی۔
وہ اس رات کی ویڈیو تھی جس رات نہیاں اسے اپنے اڈے پہ لے گٸی تھی اور وہاں رابن نے اس کے ساتھ جو جو سلوک کیا تھا، وہ سب اس ویڈیو کلپ میں قید تھا۔
صحیح کہتے ہیں لوگ کے ماضی کبھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔وہ چاہے جتنی بھی کوشش کرلے۔
وہ وہیں بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔وہ اس ویڈیو کلپ کا مطلب اچھی طرح سمجھ چکی تھی۔وہ شخص اے کھلم کھلا دھمکی دےرہا تھا کہ اگ اس نے اسکا کام نہ کیا تو وہ اس کلپ کو اس کے گھر والوں کو دکھا دے گا۔وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتی۔گھر والوں کی نظر میں بھی گرجاتی۔ پھر جو ہمان اس کے ساتھ سلوک کرتا اس ساتھ پشتوں تک یاد رہتا۔
ایک اپنی عزت تھی دوسری طرف پری تھی جس میں نہ صرف ہمان کی جان بلکہ اس کی روح اس کی سانسیں تک اس لڑکی میں بستی تھیں۔کیسے وہ اتنا بڑا قدم اٹھاتی۔کیسے وہ اتنی آسانی نے ہمان کی کل کاٸینات کو کھاٸی میں جھونک دیتی۔ ہمان تو اسے زندہ مین میں گاڑ دے گا۔اگر اسے پتا چلا تو۔وہ تو جب باس کے نکاح میں نہیں جب اس کا ہمان سےکوٸی رشتہ بھی نہیں تھا تب ہمان نے عاشی کو نہیں بخشا تھاوہ ٹھیک ٹھاک خبر لیتا اس کی۔ پر انجی کی شکل پہ اسے رحم آگیا۔لیکن اس بار تو وہ انجی کا بھی لحاظ نہیں کرے گا۔
لیکن میں کیا کروں میرے خدایا۔میری عزت داٶ پہ لگ جاۓگی جو اگر میں نے یہ قدم نہ اٹھایا۔وہ بلیک میلر میری یہ کلپ سب جگہ پھیلا دے گاگھر میں باہر سوشل میڈیا پر ۔لوگ کیا کہیں تھو تھو کریں گے۔لعن تعن کریں گے میرےاہنے گھر والے زین بھاٸی وہکیا سلوک کریں گے ۔کہیں گھر سے نہ نکال دیں ار عالی وہ کیا سوچے گی میرے بارے میں۔ماموں مامی سب کیا کہیں گے۔سب کی نظروں میں میری عزت دو کوڑی کی رہ جاۓ گی۔آنسو اس کا چہرہ بھیگو رہے تھے۔ جنہیں وہ بار بار بے دردی سے صاف کر رہی تھی۔
نہیں میں ایسا ہونے نہیں دوں گی۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔عاشی کو آج تک کوٸی نہیں ہرا پایا۔میں اب بھی اس جنگ میں جیتوں گی پری سنا تم نے۔
تم پری تم بچپن سے لے کر اب تک ہمیشہ میرے لیے رنج غم اور آلام کا باٸث بنی ہو ۔تمہاری وجہ سے میں اپنی ہی ماما کے منہ سے اپنی تعریف کے بجاۓ تمہاری تعریفی ںسنتی آٸی ہوں۔بچپن سے لے کر اب تک ماما کی زبان پہ صرف ایک نام ہوتا ہے پری ۔اور میں میں تو کہیں بھی نہیں۔ہر وقت تمہاری باتیں تمہارے قصے۔ پری ایسی پری ویسی۔یہاں تک کے کمرے میں بھی ماما نے میری تصویر کے بجاۓ تمہاری تصویریں لگا رکھیں ہیں۔ایسا کیوں ہے پری۔تم نے پری میری زندگی عذاب بنا کے رکھ دی ہے۔ آج بھی دیکھو میں تمہاری وجہ سے اس دوراہے پہ کھڑی ہوں۔اس شخص کو تم چاہیے پری تم ۔ہر کسی کو تم کیوں چاہیے ہوتی ہو ۔ہر کسی کی زبان پہ تمہارا نام ہی کیوں ہوتا ہے۔
میں نے بہت سمجھایا اپنے دل کو بہت پر وہ ماننے کو تیار نہیں ہاں پری مجھے واقعی تم سے جلن ہوتی ہے۔ حسد کرتی ہوں۔ میں تم سے نفرت کرتی ہوں۔ مجھے تم سے صرف نفرت۔
” میں اس نفرت کی خاطر اپنی عزت داٶ پہ نہیں لگا سکتی کسی بھی قیمت پر نہیں“۔”اس کے لیے چاہے پھر مجھے تمہارے ساتھ کچھ بھی کرنا پڑے“عاشی اپنے حسد میں بہت آگے نکل چکی تھی۔
بے لچک لہجے میں خو سے مخاطب ہوتی کھڑی ہوٸی۔اس نے بڑی بے دردی سے دوپٹے کے کنارے سے اپنی آنکھیں رگڑ کر صاف کیں۔بکھرے بال ہاتھ سے سیدھے کیے۔ اپنا دوپٹہ درست کیا اور ایک عزم کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوٸی ۔اب اس کی آنکھوں میں نہ کوٸی خوف تھا نہ کوٸی ڈر۔
ایک عجیب سی چمک تھی۔کسی چیز کو فتح کرلینے کی چمک۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *