Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode30

Pari By Shanzey Rajpoot Episode30

شام کاسماع انجی کے گھر شاہ ہاٶس میں خاصی رونق لگی ہوٸی تھی کھانے کے بعد عالیہ اور عاشی نے مل کر سب کے لیے چاۓ بناٸی۔اس حادثے کے بعد عاشی کافی حد تک سنبھل چکی تھی ۔ ویسے بھی وہ باتوں کو زیادہ سوار کرنے والی لڑکی نہ تھی اس لیے جلد ہی برا خواب سمجھ کر بھول گٸی ۔ سب لوگ خوش گپیوں میں لگے پڑے تھے پری انجی کے ساتھ بیٹھی تھی ۔ عاشی نے ایک نظر ساتھ بیٹھی انجی کو دیکھا۔ جو پری کو مسکراکر کوٸی بات کہہ رہی تھیں ۔۔۔۔ زویا، سارہ، عالی ،عاشی ایک طرف جبکہ حماد ہمان زین رافع اور ماہیر ایک طرف بیٹھے تھے ابرار اور میسم آپس میں کچھ بزنس کے بارے میں ڈسکس کر رہے تھے۔ انجی ہادیہ بیگم کے ساتھ مصروف تھیں ۔ ویسے انجی آج کی دعوت کا خاص موضوع کیا ہے ۔سارہ نے ایک نظر عالی اور دوسری نظر زین کو دیکھ کر پوچھا ۔ ویسے سارا کا سینس آف ہیومر کافی سے بھی زیاہ تیز تھا۔ جاسوس کہیں کی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارہ بہت اچھا یاد دلایا آپ نے ہمیں ۔ ابرار بھاٸی ہادی بھابھی ہمیں آپ سے کچھ مانگنا ہے ۔آپ لوگ انکار تو نہیں کریں گے ۔یہاں انجی کے بولنے کی دیر تھی۔ عالی کے دل نے رفتار پکڑ لی۔ نا انجی ایک بات بتا پہلے کبھی منع کیا ہے جو آج کریں گے ۔ وہ ہاتھ اٹھا کر بولیں ۔
ارے بھٸی ہمارا تو سب کچھ تمہارا ہے ۔ہادیہ نے عالی کو دیکھا اور انجی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا گویا تسلی دی ہو ۔ بھیا بھابھی ہم اپنے زین کے لیے آپ کی عالیہ کا ہاتھ مانگنا چاہتے ہیں ۔ایک دم سب لوگ چپ ہوگۓ مگر سب ہی بہت خوش تھے۔ سارہ اور ہمان کے چہرے پہ تو چلبلی سی مسکان ٹہری ہوٸی تھی۔ زین تو سر جھکا گیا۔ شاید شرماگیا تھا۔
انجی تم خالی ہاتھ کیوں مانگتی ہو۔ پوری کی پوری عالی ہی رکھ لو۔ ۔ اس نے تو ویسے بھی ناک ناک تنگ کر رکھا ہے مجھے ۔ انجی تو خوشی سے سر شار ہوگٸیں ۔ عاشی عالی جاٸیں میٹھاٸی لے کر آٸیں۔
ارے انجی آپ بھی کمال کرتی ہیں۔ بھلا اپنی رشتہ پکا ہونے کی مٹھاٸی عالیہ خود کیسے لاسکتی ہے ۔سارہ اور عاشی نے سب کا منہ میٹھا کروایا۔ سب بے انتہا خوش تھے عالی سے فطری شرم و حیا کے مارے سر ہی نہ اٹھایا گیا ۔ زین تو خوب ڈھٹاٸی سے داد وصولی میں لگا تھا ۔
ینگ پارٹی نے خوب شور شرابا اور ہوٹنگ بازی کی ۔ پری کہاں جارہی ہو۔ سارہ نے پری کو جگہ سے اٹھتے دیکھاتو تفشیش سے پوچھا۔ وہ میٹھاٸی کھاٸی تھی ۔تو ہاتھ چپ چپ کر رہے ہیں۔ بس وہی دھونے جارہی ہوں ۔اچھا جاٶ جلدی آنا ۔
ہلا گلا کرتے ماہیر نے زین کو بولا۔ ویسے ایک بات ہے اگر نین ہوتا نا تو سچی اس سے کوٸی بعید نہیں تھی ۔ وہ تو گلے میں ڈھول ڈال کے بھنگڑے ڈالنا شروع کر دیتا۔ سب نے مل کر قہقہہ لگایا پر اگلے ہی پل۔
پری چیخیں سناٸی دی تھیں۔ ہمان پہلی فرست میں وہاں سے چیتت کی تیزی سے بھاگتا روم میں پہنچا تھا۔ پر اگلا منظر جو اس کی آنکھوں نے دیکھا۔ وحشت ہی وحشت تھی۔ہر جگہ خون ہی خون ۔۔۔۔۔۔۔ وہ متحیر سا خون میں لت پت اس مردہ وجود کو دیکھے گیا ۔اس کی ٹانگوں سے اسے جان نکلتی محسوس ہوٸی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمان سکتے کی سی حالت میں اس کمرے میں موجود مردہ وجود کو دیکھ رہا تھا ۔جو خون میں لدا ہوا تھا ۔ جا بجا خون کے چھینٹے وحشت ناک منظر پیش کر رہے تھے۔ کمرے کے ایک کونے میں واشروم کے دروازے کے ساتھ پری دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپاۓ سن کھڑی تھی ۔ دوپٹہ کب کا کندھوں سے پھسل کر فرش کی زینت بن چکا تھا ۔خوف سے تھر تھر کانپتی پری کی آوازکہیں کھو چکی تھی ۔
ہمان نے پہلا قدم اندر رکھا ۔ کمرے میں ہر طرف خون کے چھینٹے پڑے تھے۔ بچ بچا کر وہ قدم قدم چلتا پری کے نزدیک آیا ۔۔
Pari are you ok.
pari im taking with withyou.
تم ٹھیک ہو بولتی کیوں نہیں کچھ ڈیمڈ۔
دونوں ہاتھ چہرے سے با مشکل ہٹاۓ ۔ جو وہ مضبوطی سے جماۓ کھڑی تھی۔ جیسے وہ کوٸی برف کا مجسمہ ہوں۔ سرد میں ٹھنڈی ہواکے تھپیڑے اس کا پورا وجود منجمند ہو چکا تھا آنکھوں میں خوف کی لکیریں رقم تھیں۔
پری تم ٹھیک ہو ۔ادھر دیکھو میری طرف کچھ نہیں ہوا ہے۔پری میری طرف دیکھو سب ٹھیک ہے تم ٹھیک ہو پری ۔ پر کو کچھ سناٸی نہیں دے رہا تھا۔ پری کچھ نہیں بولی وہ شاید ٹراما میں جا چکی تھی۔ اس کے اوپر سکتے کی کیفیت طاری ہوچکی تھی۔ نظریں ہمان کے پیچھے پڑے مردہ وجود پر تھیں۔ آنکھوں میں حد درجہ تحیر سمٹ آیا تھا۔ وہ خود ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔
واٹ از دس ہمان یہ سب کیسے۔
ایک سیکنڈ ماہیر تم اندر مت آنا وہیں رہو۔ ہمان پری کو کمرے سے باہر سارہ کے پاس چھوڑ آیا اور اسے تاکید کر آیا کہ اس کا خیال رکھے۔ یہ شوکڈ ہے۔ زین رافع ماہیر اور ہمان اس وقت اس کمرے میں تھے۔ جہاں تھوڑی دیر پہلے پری تھی۔ ہمان یہ لاش یہاں کیسے میرا مطلب ہم سب میں سے تو کوٸی بھی۔۔۔۔۔ ابھی رافع کی بات مکمل نہیں ہوٸی تھی۔ جب ہمان بول پڑا ۔شششش آہستہ بولو یہ سیدھا سیدھا مرڈر کیس ہے۔ یو مین قتل کیس ۔ہاں پر یہ ہے کون۔ پتا نہیں میں چیک کرتا ہوں۔
پر ہمان تیرے فنگر پرنٹس ۔۔۔ماہیر نے اسے یاد دلایا کہ ڈیڈ باڈی چھونے سے فنگر پرنٹ لگ سکتے ہیں ۔جس سے وہاس کیس میں بری طرح پھنس سکتا ہے۔ ماہیر میں اتنے سال آرمی میں سبزی نہیں بیچتا رہا ۔مجھے اچھی طرح پتا ہے کیا اور کیسے کرنا ہے۔وہ اسے گھور کر بولتا ہاتھوں میں گلبز چڑھاتا ڈیڈ باڈی کے پاس پنجوں کے بل بیٹھا اوراسے ایک جھٹکے سے سیدھا کیا ۔
انجی کی زور دار چیخ نکلی۔۔ یہ یہ۔ت۔ت۔تو ہمارا مالی ہے ہمااان ۔انجی آپ یہاں کیا کر رہی ہیں ۔ وہ ایک دم اٹھ کر زور سے چیخا تھا۔ میں نے کہا تھا نا کہ مت آۓ اس کمرے کی طرف کوٸی بھی۔ سمجھ کیوں نہیں آتی آپ لوگوں کو ۔وہ ایک ہاتھ سر مارتا ہوا بولا ۔ زین انجی کو لے کر جا یہاں سے۔ وہ شدید برہم ہوا یہ ایک قتل قیس تھا ۔مقتول بھی ان کے اپنے گھر کا مالی۔ ایسے میں شک کے داٸیرے میں سب سے پہلے گھروالے آتے اور شاہ ہاٶس کی سربراہ انجی تھیں ۔اس لیے ہمان نے سختی سے کام لیتے ہوۓ سب کو کمرے سے باہر نکالا۔ اب حماد اور ہمان رہ گۓ تھے ۔
ہمان کیا کرنا ہے اب۔ تجھے کیا لگتا ہے۔ کس کا کام ہے یہ ۔کس نے کیا ہوگا ۔اس بچارے کو اتنی بے دردی سے قتل کیا ہے ۔ پتا نہیں ۔فالحال تو کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ہمان ادھر سے ادھر چکر کاٹتے ہوۓ بولا۔ ہمان ہمیں جلد سے جلد پولیس کو انفارم کردینا چاہیے ۔دیر جیتی کریں گے۔ان کا ہم پر شک بڑھتا جاۓ گا۔
I think you right.
میرے ایک جاننے والا ہے پولیس میں اچھی پوسٹ پر۔ ہمیں کافی مدد ملے گی۔ میں کال کرتا ہوں۔ ۔۔۔۔
پولیس نے لاش کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ ہر ہر ینگل سے ڈیڈ باڈی کی تصاویر لے کر اب انسپیکٹر چند ایک سوال کر رہا تھا ۔ دیکھو حماد یہ ایک قتل کیس ہے۔ جس میں مقتول بھی گھر کا ہی ہے۔ تو اینکواٸیری میں چند ایک سوال ہیں۔ جن کے جواب آپ لوگوں کو دینے ہونگے۔ اس کمرے میں کون آیا تھا۔ مطلب یہ کہ کس نے سب سے پہلے ڈیڈ باڈی دیکھی تھی۔ حماد نے ہمان کو دیکھا نظروں کا تبادلہ ہوا۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں وہ بہت کچھ باتیں کر چکے تھے۔ میں آیا تھااس کمرے میں اور ڈیڈ باڈی دیکھ کر شاکڈ ہوگیا۔ ہمان کمال مہارت سے پر اعتماد لہجے میں جھوٹ بول گیا اس کے لہجے میں زرہ برابر بھی لڑکھڑاہٹ نہیں تھی۔ یہی وجہ تھی انسپیکٹر نے ہمان کی بات پر یقین بھی کر لیا۔
ہہممم تو۔ کوٸی ہے۔ جس پر آپ کو شک ہو یا پھر اس کی فیملی کے بارے میں کچھ جانتے ہوں۔ آپ ہوسکتا ہے کسی جھگڑے کی بنا پر۔۔۔ نہیں ہم کچھ نہیں جانتے اس بارے میں تفشیش کا کام آپ کا ہے۔ جتنا ہمیں پتا تھا اتنا ہم نے آپ کو بتادیا۔ نا چاہتے ہوۓ بھی ہمان تلخ ہوگیا ۔
ٹھیک ہے حماد ہم جلد ازجلد اس کیس کو سولو آٶٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
لاش کو پاسٹ مارٹم کے لیے ہسپیٹل بھیج دیا گیا تھا اس کمرے کو بھی مکمل سیل کردیا تھاجہاں مرڈر ہوا تھا۔ جب کوٸی کارواٸی نہیں ہوجاتی کوٸی ثبوت یا گواہ سامنے نہیں آتا تب تو یہ کمرہ ایسے ہی سیل رہنا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب ہال میں پریشان سے بیٹھےتھے ۔سارہ پری کی طبیعت کیسی ہے۔ بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔ الٹیاں کر کر کے اس کا معدہ خالی ہو چکا ہے ۔ اتنا ڈر گٸی ہے۔ وہ کہ بخار میں تپ رہی ہے ۔ میں نے دوا دی ہے پر اسے زرا ہوش نہیں ۔ بہت روٸی ہے وہ۔ بار بار وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں خون کا ذکر کر رہی ہے۔ اس کےدماغ میں یہ بات بیٹھ چکی ۔ جس لڑکی نے کبھی مری ہوٸی چیونٹی نہیں دیکھی سارہ۔ یہ سب دیکھ کر تو اس کی حالت خراب ہونی ہی ہے پتا نہیں ہر بار ہماری پری کےساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ انجی روتی ہوٸی زین کے کندھے سے سر ٹکا گٸیں ۔
پتا نہیں یہ ہوکیا رہا ہے ۔ پہلے وہ گفٹ والا حادثہ۔ اور اب یہ مرڈر کیس ۔میں تو الجھ کر رہ گیا ہوں ۔کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔وہ دو انگلیوں سے ماتھا مسلتاہوا اٹھ کر باہر نکل گیا۔ اندر کافی گھٹن تھی۔ اسے ترو تازہ ہوا کی ضرورت تھی۔ ناجانے اس ہنستے بستے گھر کو کس کی نظر لگ گٸی تھی۔ یہاں توہر سو ہنسی کی آوازیں سناٸی دیا کرتی تھیں۔ اب صرف چیخیں گونجتی ہیں ۔
پر مجھے سب سمجھ میں آرہا ہے ۔ہمان آواز پر پلٹا ۔ پیچھے حماد کھڑا تھا۔ کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں ایسا کیا سمجھ آرہا ہے تمہیں جو مجھے سمجھ نہیں آرہا۔
ہمان میں نے اب تک ایک بات نوٹ کی ہے۔
اب تک دوحادثے ہو چکے ہیں۔ پر دونوں کا شکار پری ہی کیوں ہوٸی ۔کوٸی اور کیوں نہیں ۔ گھر میں تو اور بھی لوگ ہیں ۔ کہنا کیا چاہتے ہو صاف صاف کہو ۔
مطلب پہلے وہ گفٹ والا حادثہ جیسے تم نے محض پری کا خواب سمجھ کر خود کو اور پری کو تسلی دے لی تھی ۔ پر پھر بعد میں تمہیں ونڈو کے پردے پے سکواٸچ ٹیپ لگی ملی تھی۔وہ شاید گفٹ کے ریپر پہ لگی ہوٸی تھی۔جبکہ اس ٹیپ کا تو تمہارے کمرے میں کوٸی کام ہی نہیں تھا۔ نہ ہی پری ان چیزوں میں گھستی ہے نہ ہی کوٸی تیسرا تمہارے روم میں آتا ہے۔ تب کہیں جا کے تمہیں پری کی بات سچ لگی تھی ۔ پر میں اس کی تفشیش کر چکا ہوں۔ کہیں کوٸی ثبوت کوٸی سراغ نہیں ملا۔ اب یہ قتل کیس ایک اور پھٹیک۔
ہمان ٹینشن نہ لے یار آرام سے زرا ٹھنڈے دماغ سے بیٹھ کر سوچ سارلی الجھی گتھیاں اپنے آپ سلجھ جاٸیں گی ۔ایسے کیسے آرام سے بیٹھ جاٶں حماد ۔ پری کی حالت ٹھیک نہیں تو نے سنا نا سارہ نے کیا کہا اسے الٹیا ں ہورہی ہیں۔ خون دیکھ کر اس کا بخار اترنے کا نام نہیں لے رہا ہوش میں نہیں ہے وہ ۔ اور تو کہتا ہے میں ٹھنڈے دماغ سے کام لوں ۔ان حادثوں سے پری بہت متاثر ہوٸی ہے حماد اسے سکون کی ضرورت ہے اسے میری ضرورت ہے۔ ۔ اگر اسے کچھ ہوگیا نا حماد میں اس شخص کو کتے کی موت ماروں گا ۔ ہمان نے لان کی کیاری میں رکھا گملہ اٹھاکر پوری قوت سے نیچے پھینکا ۔ ہر طرف مٹی بکھر چکی تھی۔ بچھو بوٹی اب ختم ہوگٸی تھی۔ گملہ کی کرچیاں بکھری پڑی تھی۔
ہمان کالم ڈاٶن ریلیکس۔ چل میرے ساتھ ۔ حماد سے بازو سے کھنچتا ہوا لان کی دوسری ساٸیڈ لگے بینچو کے پاس لے آیا۔ بیٹھ ادھر ۔ ہمان نے اسے گھورا۔ بیٹھ ادھر ۔ جواباً حماد نے اس بینچ پر دھکا دے کر بیٹھایا۔
ہم سب جانتے ہیں ۔ تو پری سے جنون کی حد تک پیار کرتا ہے ۔یا شایدعشق ۔ پر میرے بھاٸی زرا دماغ سے کام لے تیری ایک غلطی حرکت اور ہم سب کو بہت کچھ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تیرے ایک غلط سٹیپ کا خمیازہ پری کو بھگتنا پڑے۔ حمااااااااد۔ ہمان زور سے چلایا۔ تھا سٹوپ اٹ خبردار اگر دوبارہ اس کیس میں پری کا نام بھی لیا تو ۔ جان سے مار دوں گا تجھے میں۔ انگلی اٹھا کی اسے بارآور کرایا آنکھوں میں جذبہ محبت۔ شدت۔ جنون سب کچھ تھا ۔غصے سے آنکھیں لال ہو رہی تھیں ۔ حماد اسے دیکھکہ ہلکا سا دمھم سا مسکرایا۔ اس کا دوست دوست کم رانجھا زیادہ لگنے لگاتھا۔ ہمان نظریں پھیر گیا۔ ایک لمبی سانس خارج کر کے خود کو کمپوز کیا۔پھر تھوڑے توقف سےبولا۔
حماد یہ جو کوٸی بھی ہے بہت ہی شاطر دماغ والا ہے۔ بہت چالاک ہے وہ ۔ ہم سب کے ماٸنڈ کو یوز کر رہا ہے۔ اس نے اٹیک ہی ایسی جگہ کیا ہے کہ دماغ ہی ماٶف ہوگیا ہے۔ سارا کھیل دماغ کا ہے ۔ ہاں بہت ہی ماسٹر ماٸینڈ ہے وہ ۔ ہمان جہاں تک مجھے لگتا ہے اس شخص کا ٹارگٹ پری ہے۔ پہلے والا حادثہ بھی پلین کیا گیا تھا۔ پہلے تجھے ایک کال آٸی تو سننے باہر گیا۔ سگنل نہیں آرہے تھے ۔پھر تیرے پیچھے سے وہ سب ہوا صرف پانچ منٹ کا گیم تھا ۔اور وہ اپنا کام کرگیا۔ اور اب بھی سوچی سمجھی سازش تھی۔ ایک بنا بنایا جال جس میں پری پھنسی ۔ وہ ہاتھ دھونے واشروم گٸی تھی۔ کوٸی بہت بری طرح پری کے ماٸینڈ کے ساتھ گیم کھیل رہا ہے۔ اسے شاید پتا تھاکے پری اس روم میں جاۓ گی ۔
ایک سیکنڈ ایک سیکنڈ حماد ایک مٹ رک۔ کہیں وہ پری پہ نظر تو ۔۔۔۔۔ کچھ سمجھ میں آیا ہمان نے آدھا ادوھرا جملہ چھوڑ کر حماد کی طرف دیکھ کر پوچھا۔ ہاں میں بھی وہی سوچ رہا ہوں۔ جو تو سوچ رہا ہے ۔یعنی مجھے پری کی حفاظت میں زرا سی بھی کوتاہی نہیں برتنی ۔ ہرپل ہر لمحہ اس کے ساتھ رہنا ہے ۔ اور گھر سے باہر تو بالکل بھی نہیں جانے دے سکتا میں اسے ۔ اس انسان کا کوٸی بھروسہ نہیں آج مالی کو مار دیا۔ کل کو میری پری ۔ ہمان نے سوچ کے بری طرح جھرجھری لی ۔یہ سوچ ہی اس کے رونگٹے کر دیتی تھی کہ پری کو ایک کھروچ بھی آۓ۔ نہیں ہمان یہاں ایک بات قابل غور ہے اس نے ابھی تک پری کو کوٸی نقصان نہیں پہنچایا جبکہ وہ دونوں دفع میں اکیلی تھی۔ معاملہ پری کو نقصان پہنچانے کا نہیں کچھ اور ہی بات ہے۔ وہ انگلیوں کو گھوماتا ہاتھ کے اشارے سے بات کر رہا تھا
خیر یہ تو چھان بین کے بعد ہی پتا چلے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قتل والےحادثے کو گزرے دو دن گزر چکے تھے سارہ اور عاشی تو کافی حد تک اس فیز سے نکل چکی تھی ۔ میسم ابرار ہادیہ بیگم کافی فکر مند نظر آتے تھے ۔پری کی طبیعت بھی سنبھل چکی تھی ۔ پر اس دن کے بعد سے اس کی مسکراہٹ کہیں غاٸب ہوگٸی تھی ۔ ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج دو دن بعد سب لوگ پھر سے شاہ ہاٶس میں جمع تھے۔ انجی کیا ہوگیا کیوں آپ ہر وقت مایوس رہتی ہیں ۔مسکراتی ہوٸی اچھی لگتی ہیں اور پاپا چاچو چاچی سب ٹھیک ہے میری بات ہو گٸی ہے انسپیکٹر سے ۔ سب کچھ کلٸیر ہے۔ آپ لوگ ٹینشن نہ لیں ۔ ہمان نے انہیں تسلی دی بے شک اس نے جھوٹ بولا تھا ۔کیونکہ اصل مشن تو اس کا اب سٹارٹ ہوا تھا ۔ پر گھر میں ہر طرف مایوسی دیکھ کر اس کا دل عجیب سا ہوگیا تھا۔ وہ گھر میں پہلے جیسا ماحول چاہتا تھا۔
وہ اٹھ کر انجی کے پاس بیٹھ گیا ۔اور ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔ فکر نہ کریں میرا وعدہ ہے آپ سے۔ کبھی اس گھر میں کوٸی دکھ نہیں آنے دوں گا ۔نہ ہی اس گھر سے خوشیوں کو روٹھنے دونگا۔ یہ میرا وعدہ ہے آپ سے۔ ہمان حیدر کا اور ہمان حیدر اپنے وعدے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ آپ عالیہ اور زین کی انگیجمینٹ کی تیاریا ں کیجیے باقی کام میرا ہے ۔ انجی کا ہاتھ وہ ہولے سے دبا کر چھوڑ چکا تھا۔ انجی اسے دیکھ کر نم آنکھوں سے مسکراٸی تھیں ۔
اتنا بڑا ہوگیا میسم بھاٸی ہمارا ہمان ۔ ہمیں پتا ہی نہیں چلا ۔ دیکھیں زرا کتنی بڑی بڑی باتیں کرنے لگا ہے ۔ افف انجی اب یہ سینٹی وینٹی ماحول کو پھونک ماریں اور خوشیوں کو ویلکم کریں ۔سارہ نے بڑے ہے جوش و جزبے سے کہا ۔ ہاں انجی اب آپ میرے خیال سے منگنی کی ڈیٹ فیکس کردیں ۔اچھا ہے گھر میں فنگشن سیلیبریشنز ہوگا ۔ ماحول چینج ہوگا تو سب اس فیز سے باہر آجاٸیں گے۔ زویا نے انجی کو اپنی طرف سے سمجھاتے ہوۓ بالکل ٹھیک کہا تھا۔ ہاں بھٸی جب میرے بچے راضی ہیں تو ہم کیوں راضی نہ ہوں ۔ چلو بھٸی انجی میرے خیال سے تو کل بدھ پرسو جمعرات جمعہ ٹھیک رہے گا۔ بہت نیک دن ہے ۔ کیوں جی ٹھیک کہا نا میں نے ۔ہادیہ بیگم نے ابرار صاحب سے پوچھا۔ ہاں بیگم آپ تو شروع سے ہی ٹھیک کہتی آرہی ہیں ۔اور میسم بھاٸی آپ بھی اپنی راۓ دے دیجیے۔ بھیٸی ہادیہ میں کیا کہوں جیسے بچے خوش ویسے ہم بھی خوش ۔تو پھرانجی جمعہ کا دن فکس کرلو ۔ اور تیاری پکڑلو دن کم تیاریاں زیادہ ہیں ۔۔
بھٸی میں تو کل ہی شاپنگ پہ جاٶں گی۔ تم چلو گی عاشی۔ افکورس سارہ تم بھی نہ یار میرے اکلوتے بھاٸی کی دو دن بعد انگیجمنٹ ہے۔ وہ بھی میری بیسٹی پلس کزن کے ساتھ تو شاپنگ تو بنتی ہے۔ وہ بھی فنٹاسٹک والی اور میں مجھے بھول گٸیں تم دونوں۔ زویا کڑے تیور لیے ان کی طرف بڑھی تھی اور پھر مستی مزاق کا دور شروع ہوا تھا۔ ہر طرگ شور شرابا گہماگہمی ۔ خوشیاں ایک بار پھر دستک دینے کو تھیں ۔
_________
صبح کا سورج ملک ولا پر خوشیوں کی سنہری دھوپ لےکر چڑھا تھا۔ ہلکی ہلکی پھوار وقفے وقفے سے ہورہی تھی کبھی آسمان سرمٸی بادلوں سے ڈھک جاتا تو کبھی بادل جھٹ جاتے سورج لکھا چھپی کھیل رہا تھا بادل جھٹتے تو سورج کی کرنیں چھن کر اپنی روشنی سے دنیا منور کر دیتی۔ ہر سو چرند پرند چہچہا تے سبزہ لہلہاتا خوبصورت سا سماع باندھ رہا تھا ۔
ٹہنی ک ڈال پہ بیٹھی سنہری رنگ چڑیا چوں چوں کررہی تھی ۔ شاید اللہ ہو کر رہی تھی۔ پرندے بھی اللہ کی حمد و ثنإ کرتے ہیں لیکن ہم انسان ہی دولت اور پیسہ کمانے میں اتنے مصروف ہوگۓ ہیں کہ یہ تک بھول گۓ رزق تو اس رازق کے ہاتھ میں ہے ۔ خالی ہاتھ ہی تو آۓ تھے خالی ہاتھ ہی جانا ہے ۔ پھر اتنا پیسہ اور اس میں اتنی مصروفیت کہ پروردگار حقیقی کو ہی فراموش کردیا جاۓ ۔ یہ عدل تو نہیں۔
پرندے بالخصوص چڑیا نرم دل و معصوم پرندہ ہے ٹہنی پہ بیٹھی وہ چڑیا چہچہارہی تھی شاید موسم کے بدلتے رنگ سے وہ بھی انسانوں کی طرح خوش ہونا جانتی تھی ۔ پر دیکھتے ہی دیکھتے ۔ٹہنی پر باز آکر بیٹھ گیا۔ معصوم سی چڑیا سہم گٸی۔ اس کی مسکراہٹ اس کی چہچہاہٹ اب بند ہوچکی تھی۔ شاید وہ اس باز کے خوف سے سہم گٸی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم کب آٸی سارہ ۔ ہمان گھر کے اندر داخل ہوا تو سوال داغا ۔یہی کوٸی اکیس سال پہلے۔ آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔کافی پی کر سارہ نے مگ ٹیبل پہ رکھ دیا۔ عاشی نے کن نظروں سے دونوں کو دیکھا پھر نفی میں گردن ہلاتی اٹھ کھڑی ہوٸی۔ یہ نہیں سدھر سکتے۔بڑبڑاتی وہ شاپنگ بیگ اٹھاکر اوپر لے گٸی۔ تم سے بات کرنا ہی بے کار ہے چڑیل ۔ وہ اس کو گھور کر دیکھتا نظر انداز کر کے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
نہیں ہے وہ اپنے روم میں ۔اس نے صوفے پہ بیٹھے ہانگ لگاٸی۔ ہمان ایڑھیوں کے بل گھوما ۔تو پھر۔ ایک آٸیبرو اچکا کر پوچھا۔ پیچھے والے لان میں جہاں باغ ہے۔ وہاں کیا کر رہی ہے وہ ۔۔حیرت سے اس کا منہ کھل گیا۔ کیوںکہ وہاں کوٸی بھی نہیں جاتا تھا۔ پتا نہیں تم خود ہی جا کر دیکھ لو اپسیٹ ہے وہ اس حادثے کی وجہ سے ۔ ہمان سوچ میں پڑ گیا۔
پھر سر جھٹکتا باغ کی طرف چلا گیا۔
دور سے ہی وہ اسے نظر آرہی تھی ۔ سرخ رنگ کا شارٹ لینتھ انگرکھا جس پر سنہری باریک باریک بیل بوٹیاں بنی تھیں اور بنفشی کیپری پہنے وہ ہمیشہ کی طرح منفرد سب سے الگ لگ رہی تھی۔ دوپٹہ کاندھے پہ لٹکتا ہوا سے اڑ رہا تھا ۔ اس کی زلفوں کا بھی کچھ یہی حال تھا۔ پرآج ہونٹ لال رنگ سے پوشیدہ نہ تھے ۔ نہ کانوں میں آویزیں تھے۔ نہ ہاتھوں میں چوڑیاں تھیں ۔ اداس چہرہ اداس آنکھیں ویران سی زندگی لگتی تھی ۔ ہنسی جو اس کے ہونٹوں سے جدا ہی نہ ہوتی تھی ۔ سورج کی کرنوں کی طرح غاٸب ہوگٸی تھی۔ لمحے اداس ہوگۓ تھے۔
یہاں اکیلی کیوں کھڑی ہو ۔
ہمان نے اس کے ساتھ کھڑے ہوکر پوچھا۔ پری نے ایک نظر اسے دیکھا۔ پھر نگاہیں دوبارہ سامنے مرکوز کرلیں ۔ باز کب کا اڑ چکا تھا ۔ پر چڑیا۔۔!!!! اس کا کیا۔ باز تو اڑ گیا پر اپنی دہشت اور خوف چھوڑ گیا۔ چڑیا اب تک ویسے ہی سکڑی سمٹی سی ٹہنی کے کونے سے لگی بیٹھی تھی ۔ بار بار آنکھیں گھما کر دیکھتی تھی کہیں باز تو نہیں آگیا۔
پری میں تم سے ہی بات کر رہا ہوں۔ چپ کیوں ہو کچھ بولو۔ اور اکیلی کیوں کھڑی ہو ادھر اندر چلو ۔ سب کے ساتھ بیٹھو باتیں۔ کرو۔تمہیں پتا ہے سارہ عاشی اور عالی شاپنگ کر کے آٸیں ہیں۔ تم بھی دیکھو جا کر کیا لاٸی ہیں ۔ وہ خاموش تھی ۔کچھ نہ بولی۔ ہمان نے لمبی سانس ہوا کے سپرد کی۔ شایدوہ کافی سے بھی زیادہ اپسیٹ تھی۔ اب اسے ہی کچھ کرنا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باز آیا تھا ۔پھر چلا گیا۔ وہ کھوٸی کھوٸی سے لہجے میں بولی ۔پر چڑیا ڈر گٸی ۔ ہمان کو وہ ٹھیک نہیں لگی ۔ہمان نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے عین سامنے کھڑا کیا ۔۔وہ لڑکھڑاتے ہوۓ اس کے دینے پہ دونوں ہاتھ رکھ گٸی ۔ورنہ سنبھلنے کے بجاۓ گِر جاتی۔ تم ٹھیک تو ہو چندا۔ کیا بولے جارہی ہو باز اور چڑیا ۔ پھرکوٸی برا خواب دیکھا تھا کیا۔ وہ متفکر سے اس کے گال پہ ہاتھ رکھے پوچھ رہا تھا۔ خواب ہو یا حقیقت ڈر تو ڈر ہوتا ہے نا۔ اب کے بار جب وہ بولی تو آنکھوں کے گوشے نم تھے ۔ چڑیا تو ڈرگٸی نا۔ آواز رندھ چکی تھی۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ ہمان کو ایک لمحہ لگا تھا سمجھنے میں ۔ وہ خود کو چڑیا سمجھ رہی تھی۔ جو شاخ پہ تنہا ڈری سہمی سی بیٹھی تھی۔ ہمان نے اسے اپنے سینے سے لگا کر حصار تنگ کر لیا۔ اور وہ جو کب کی اپنے آپ پر بند باندھے بیٹھی تھی۔ ہمان کے سینے میں منہ چھپاۓ وہ پھوٹ پھوٹ کے رودی۔
ہمان نے اسے خود سے الگ کیا۔ چہرہ رونےسے لال سرخ ہوگیا تھا۔ چھوٹی سی ناک کتنی پیاری سی لگ رہی تھی ۔پاگل ہوتم پری بالکل پاگل۔ تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ تم ٹہنی پہ بیٹھی وہ چڑیا ہو جو تن و تنہا ہے ۔کیسے تم نے اپنے آپ کواس سے ملادیا۔ کیسے سوچ لیا پری۔
ارے پاگل میں ہر دن ہر وقت ہر لمحہ تمہارے ساتھ ہوں ۔پھر کس چیز سے ڈر لگ رہا ہے تمہیں۔ اب تک ایک آنچ تک نہیں آنے دی میں نے تمہیں۔ اور جب تک میں زندہ ہوں۔ تم پر کوٸی آنچ آنے بھی نہیں دوں گا۔
میرے ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہے ۔ پہلے وہ گفٹ والا حادثہ اور اب یہ مرڈر ۔وہ اب ہچکی لیتی رو رہی تھی ۔آنسو اس کا چہرہ بھیگو رہے تھے۔ پلکیں تر ہوچکی تھیں۔
ہمان وہ۔۔۔ وہ مالی کاکا تھے نا کس نے اتنی بے دردی سے مارا ہے انہیں۔ افففف ۔بے اختیار اس کا وجود کانپ اٹھا تھا۔وہ خون آلود لاش کا منظر یاد کرکے اور بھی زور و شور سے رونے لگی تھی۔ آنسوٶں میں یکدم تیزی آگٸی تھی۔
شششش۔۔!!!!! چپ بالکل چپ ۔کچھ نہیں ہوا۔ تم نے کچھ نہیں دیکھا۔ تم کہیں نہیں گٸی تھیں اس رات ۔
پری نے عجیب نظروںسے اسے دیکھا۔ پر میں نے دیکھا تھا۔ ہمان میں گٸی تھی اس رات کمرے میں۔ میں نے کہا پری تم نے کچھ نہیں دیکھا تو مطلب کچھ بھی نہیں دیکھا ۔ وہ اپنی بات پر زور دے کر بولا۔ سمجھ گٸیں۔
ہمممممم۔ پری نے منمناتے ہوۓ کہا۔ ہمان کے ساتھ رہ کر وہ اس کی عادتیں اچھی طرح جان گٸی تھی۔ اس کے انداز کہ وہ کب کیا کس طرح کہنا چاہ رہاہے۔ ایسے ہی وہ اب بھی سمجھ گٸی تھی کہ ہمان اسے منظرِ عام سے غاٸب کرنا چاہ رہا ہے۔
دونوں ہاتھ کے انگوٹھوں سے اسے کے آنسو صاف کیے ۔ اب نہیں روناتم نے اور کسی سے بھی کوٸی زکر نہیں کرنا اس رات کااور کوٸی تم سے کچھ پوچھے تو کہنا کہ مجھے کچھ نہیں پتا۔
چلو اب مسکرادو جلدی سے۔ دیکھو موسم بھی کتنا اچھا ہے ۔ پر پری چاہ کر بھی مسکرا نہ سکی۔ اسکے چہرے پہ اداسی اب بھی رقم تھی ۔ اب تو واقع کچھ کرنا پڑے گا تمہاری مسکراہٹ واپس لانے کے لیے۔ وہ دل میں سوچتا پری کو مسکراکر دیکھ رہاتھا۔ پھراس کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لے آیا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *