Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode45

Pari By Shanzey Rajpoot Episode45

لیکن دوپہر سے شام اور اب شام سے رات ہونے کو آٸی تھی پر اسے ہوش نہ آیا۔
ہمان اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑا پری کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔ اس کا ہنسنا اس کا مسکرانا۔اس کا وہ کھلکھلانا۔پھر یک دم اسے اس کی تکلیف یاد آٸی جس سے وہ گزر رہی تھی اس پہ تضاد ہمان کی پلاننگ کس ازیت سے دوچار ہوٸی ہو گی وہ۔
ہمان نے قرب سے آنکھیں بند کرلیں۔دفعتاً اس کا موباٸیل بجا۔اس نے ریسیو کر کے کان سے لگایا۔اگلی طرف سے جو ہمان کو خبر ملی۔وہ اس کے لیے زندگی کی سب سے اہم۔نوید تھی۔خوشی سرشاری کیا کچھ نہ تھا۔
پری کو ہوش آگیا۔ہاں اس دشمنِ جاں کو ہوش آ گیا تھا۔آج پورے تین دن تین راتوں بعد۔کتنی دعاٸیں کی تھی ہمان نے اس کے لیے۔ایک پل وہ سو نا سکا۔تین دن سے کچھ کھایا تک نہ تھا اس کی اپنی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی۔
دو موتی اس کی آنکھوں سےنکل کر گالوں کو بھیگو گۓ۔نین نے اسےفون کیا تھا۔پری کے ہوش میں آنے پر وہ اتنا خوش تھا کے آپس کی رنجشیں تلخ کلامی سب بھول گیا۔
ہمان نے نیلے آسمان کو دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا۔جو ہمیں ہماری اوقات سے زیادہ نوازتا ہے۔ور کہیں عشا کی آذان کی آواز اس کے کانوں میں رس گھولنے لگی تھی۔وہ خاموشی سے گیلری سے نکل کر کمرے میں آیا۔
اس کا رخ مسجد کی طرف تھا۔اس رب کا شکر ادا جو کرنا تھا۔جو ہمیں ہر حال میں یاد رکھتا ہے پھر چاہے اس کے بندے کتنے ہی غافل کیوں نہ ہوں۔
مسجد نماز ادا کرنے کے بعد وہ سیدھا ہسپتال گیا تھا۔وہاں پہنچ کر اس نے ماہیر کو پری کے ہوش میں آنے کی اطلاع دی۔
ماہیر سمیت سب گھر والے پری سے ملنے آۓ تھے۔ممتا نے اس کا ڈرپ لگا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر چوما۔پری نے آنکھیں کھول دیں۔سب اس کے پاس کھڑے نم آنکھوں سے مسکرا رہے تھے انجی نے آگے بڑھ کر اسے پیار کیا۔
کتنا تڑپایا ہے تم نے ہمیں اللہ پوچھے گا تمہیں پری۔بہت بری ہو تم قسم سے بہت بری۔ سارہ روتے ہوۓ اس سے بول رہی تھی۔
میں اتنی بری ہوں تو کیوں بچایا تھا مجھے۔پری کے سوال پہ سب نے چونک کر ایک دوسرے کو دیکھا۔اس لیے کہ تم میری شادی میں دھمال ڈال سکو۔پیارا بھیا میرا دولہا راجا بن کے آگیا۔وہ والا گانا گا سکو۔دروازہ رکاٸی لے سکو۔
نین نے پری کا جواب اتنی سنجیدگی سے دیا۔ کہ وہاں کھڑے سب لوگوں کا قہقہہ گونج اٹھا۔باہر کھڑے ہمان قدرے تعاجب سے دروازے کو دیکھا۔اندر سے اس طرح قہقہوں کی آواز آنا ایک غیر متوقع عمل تھا۔وہ اندر نہیں گیا تھا۔
اس میں تو پری سے سامنا کرنے کی ہمت ہی نہ تھی۔
نین نے جو کچھ بھی کہا تھا۔
کسی حد تک ٹھیک ہی کہا تھا۔پری کی اس حالت کا ذمہدار وہی تھا۔نہ ہی وہ آٸینہ کے ساتھ اتنی بےتکلفی سے پیش آتا نہ ہی یہ سب ہوتا۔
ہمان اپنی سوچوں میں غلطاں وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔
سب لوگ پری سے مل کر گھر جا چکے تھے۔مما نے کافی ضد کی رکنے کی پر ماہیر سمجھا بجا کے انہیں اپنے ساتھ لے گیا۔نین وہیں پری کے پاس بیٹھا اس سے باتیں کرتا رہا پری نین کی باتو کا جواب مسکرا کر دے دیتی۔
لیکن یہ مسکراہٹ بھی ایک دم کھوکلی تھی۔وہ بار بار نہ محسوس طریقے سے دروازے کی طرف دیکھ لیتی۔نین کی نظر اس پر ہی تھی۔ایک آس تھی اس کی آنکھوں میں امید کے دیے روشن تھے۔
وہ کافی دیر اس کے پاس بیٹھا رہا۔جب اسے محسوس ہوا پری دواٶں کے زیرِ اثر سو چکی ہے۔تو وہ بنا چاپ کیے روم سے باہر آ گیا۔
سامنے ہی ہمان پلر کے سہارے کھڑا تھا نین کی طرف اس کی پشت تھی۔وہ ہمان کے پاس آیا۔
تم پری سے اب تک نہیں ملے۔وہ تمہاری آمد کی توقع رکھتی ہے۔وہ تماری آس لگاۓ بیٹھی ہے۔کم سے کم اس کی یہ امید تو اس سے نہ چھینو۔
ہمان پلٹا تھا۔مجھے معلوم ہے۔تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں نین۔نین نے چبتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔مطلب صاف تھا اگر ایسا ہے تو ملے کیوں نہیں۔میں تمہاری وجہ سے اب تک نہیں ملا پری سے مجھے لگا تمہیں برا لگے گا۔
ورنہ اپنے ذمہ داریوں سے دستبردار ہونا ہمان ملک کی فطرت میں نہیں۔کیا واقع۔نین کا انداز طنز بھرا تھا۔جسکا مطلب وہ باخوبی سمجھ چکا تھا۔
نین اسے وہیں چھوڑ کر گھر چلا گیا۔ہمانپہ اتنا بھروسہ تو وہ کرتا تھااس لیے اس کے بھروسے پری کو چھوڑ کر آ گیا۔ہ تین دن سے انہی کپڑوں میں تھا نہ کھانے کی ہوش تھی نہ پینے کی۔
وہ فریش ہونے کی غرض سے گھر چلا گیا۔پری کے ہوش میں آجانے سے جیسے وہ کھل اٹھا تھا۔
ہمان کی باتوں کو نظر انداز کرتا وہ سیدھا روم کا دروازہ دھکیلتا آہستہ سے اندر چلا گیا۔مبادہ اس کی نیند خراب نہ ہوجاۓ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمان آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اندر آیا اسٹریچر پہ لیٹی وہ اس کی آمد سے بےخبر تھی۔جس کی راہ تکتے تکتے وہ غنودگی میں اترگٸی تھی۔ وہ کرسی گھسیٹ کر اس کے پاس وہیں بیٹھ گیا۔
دونوں ہاتھوں کے ذریعے ڈرپ قطرح قطرح اس کے وجود میں اترتی اسے زندگی کی طرف گامزن کرنے پہ کوشاں تھی۔
ماتھے پہ ہلکی سی خراش تھی۔چہرہ ان تین دنوں میں مرجھا سا گیا تھا۔زردی گھلی رنگت میں کبھی سرخ و سفید لالی بکھری ہوا کرتی تھی۔
جو پچھلے کٸی دنوں سے اس کے چہرے پہ ناپید تھی۔وہ چہرہ جو کبھی ہنسنے و کھلکلانے سے سرخ سیب کی مانند لالی چھلکاتا تھا۔ اب کٸی دنوں سے مرجھایا ہوا تھا اور پچھلے تین دنوں میں تو زردی اس پری چہرے میں گھل کر رہ گٸی تھی۔
ہمان کا دل مانوں کسی نے مٹھی میں لے لیا۔وہ سچ میں خود کو اس کا قصور وارگرداننے لگا۔دھیرے سے ہاتھ بڑھا کر اس نے پری کے گال کو دو انگلیوں سے چھوا اور آنکھیں بند کر کے اس لمس کو محسوس کیا۔ جسے محسوس کرنے سے وہ تین دن سے ترسا ہوا تھا۔
آٸی ایم سوری پری۔اپنے ہمان کو معاف کردو۔بہت برا ہوں نہ میں۔ بہت زیادہ برا۔پر سارا قصور میرا بھی تو نہیں ہے۔تمہارے انکار نے مجھے بہت برا دھچکا دیا تھا۔میں ٹوٹ گیا تھا پری۔ایسے میں تمہیں راہ راست پر لانے کے لیے مجھے یہی ایک طریقہ مناسب لگا۔
مجھے لگا تھا تم آٸینہ سے جیلس فیل کر کے اپنے انکار کو اقرار میں بدل دو گی اور آٸینہ کو چلتا کرو گی۔مگر۔مگر پری تم نے نہ صرف میری بلکہ ہم سب کی سوچ کو جھٹلاتے تم نے خود کشی کی کوشش کی۔
وہ کرسی سے اٹھ کر پری کے بیڈ پر پڑی خالی جگہ پر بیٹھ کر اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا۔کنچی آنکھیں بند تھی۔جن پہ سیاہ چلمن سایہ فگن تھی۔مڑی مڑی سی پلکیں ہلکی نم تھی۔شاید وہ روٸی تھی۔ پر کیوں؟؟ وہ اندازہ نہ کر سکا۔
پر اس نےجھک کر دونوں آنکھیں چوم کر موتی چن لیے۔اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دےگا۔گر جو آنسو آ بھی جاٸیں۔تو وہ ان کو چن لے گا۔
اس نے موتی چن لیے۔
قیمتی موتی۔جس کی قیمت تو وہی جانتا تھا۔ویسے بھی ہیرے کی قدر و قیمت تو جواہری ہی جانتا ہے۔وہ سیدھا ہو بیٹھا۔
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔تمہارے ننھے سے دماغ میں میں خود کو ازیت سے دوچار کرنے کی باتیں پناہ لے لیں گی۔آگ کی لپٹیں دیکھ کر ایک دفع تو میرا دل بند ہونے لگا تھا۔مجھے لگا میں نےتمہیں کھو دیا۔
شاید اب زندگی باقی نہیں رہی۔پر میرا اللہ کی زات سے بھروسہ نہیں اٹھا۔ مجھے یقین تھا تمہیں کچھ نہیں ہوگا اور دیکھو تم بالکل صحیح سلامت ہو میری نظروں کے سامنے ہو۔
پر تم نے بہت تڑپایا ہے پری۔اتنا کہ میں لفظوں میں بیاں نہیں کر سکتا۔پگلی میں تو تم سے بدلہ بھی نہیں لے سکتا۔جب کہ حق رکھتا ہوں پورا پورا۔
وہ نم آنکھوں سے اسے مسکرا کر باتیں کر رہا تھا۔شاید اپنے آپ کو ہمت دے رہا تھا۔کہ پری کے اٹھتے ہی اس کا سامنا کر سکے۔
وہ اس کے بال سہلاتا اس کے ماتھے پہ بوسا دینے لگا تھا کہ پری نے کسمسا کر مندی مندی آنکھیں کھول کر دیکھا۔اسے اپنے پاس ہمان کا گمان ہوا۔کچھ صاف نہیں دکھتا تھا۔سب کچھ دھنلا دھنلا سا تھا۔وہ ایک دم اٹھی تھی یقین کرنے کہ واقع ہمان اس کے پاس ہے یا صرف گمان۔
وہ ٹھیک سے گردن بھی نہ اٹھا سکی تھی کہ اس کی چیخیں نکل گٸی۔وہ ہاتھوں پر زور ڈال کر اٹھنے لگی تھی پر ڈرپ لگنے کے باٸث درد کی شدید لہریں اندر تک سرایت کر گٸیں۔اور وہ روتے ہوۓ دوبارہ بستر پر ڈھے گٸی۔
ہمان نے اسے سنبھالا۔اس کے آنسو صاف کیے اور پانی پیلانے لگا۔پر اتنے میں پری کے حواس بحال ہو چکے تھے۔اس نے ہمان کے بڑھتے ہوۓ ہاتھ کو سرعت سو اگنور کردیا۔ہمان گلاس اس کے ہونٹوں کے قریب لے گیا۔
پری نے گلاس والا ہاتھ زور سے جھٹکا۔ گلاس دور جا گرا۔کانچ کٸی ٹکڑوں میں تقسیم ہوکر کر بکھر گیا۔
ہمان اس کی توقع رکھتا تھا کہ اس کا ردِ عمل شدید ہوگا۔اسے صرف گلاس توڑ کر ہی سکون نہ آیا۔
تو پاس پڑے ٹیبل پر زور سے ہاتھ مار کر ساری چیزیں نیچے گرا دیں ۔دواٸی کی بوتلیں ٹوٹ کر بکھر گٸیں۔پانی سے بھرے کانچ کے جگ کی کرچیاں کمرے میں دور دور تک پھیل گٸیں۔
ہمان اطمینان سے اس کی کارواٸی دیکھ رہا تھا۔جانتا تھا۔یہ کٸی دنوں کا غبار ہے۔ جو اسی طرح نکلے گا۔وہ چاہتا تھا کہ وہ تھوڑا بہت ہی سہی پر ریلیکس ہو جاۓ۔تا کہ وہ اس سے بات کر سکے۔ اسے سمجھا سکے۔
اسے اب بھی سکون نہ آیا۔شدید غصے کے عالم میں اس کی نظر ڈرپ کی بوتل پر ٹہر گٸی۔بغیر کسی دقت کے اس نے پنا ہاتھ زور سے کھینچ کر جھٹک دیا۔
اس کے ہاتھ میں لگی سرینج اپنی جگہ سے ہلی اور دوسری سمت مڑ گٸ۔یہی وہ لمحہ تھا جب اس کی درد ناک چیخیں کمرے کے در و دیوار ہلا گٸیں۔
خون کا فوارہ اس کے ہاتھ سے پھوٹا تھا۔ڈرپ کے باریک سے پاٸپ میں خون بھرنے لگا تھا۔
ہمان نے سرعت سے اسے اپنی طرف کر کے سیدھا کیا۔
یہ کیاکر دیا پری تم۔میرے خدایا۔ہمان نے پری کا وہی ہاتھ تھام کر افسوس سے اسے دیکھا۔اس کی چیخوں سے ہمان کے ہاتھ پیر پھولنے لگے تھے۔
ڈاکٹر ڈاکٹر۔
اس نے دبا دب ڈاکٹر کو آوازیں دے ڈالیں۔ساتھ ہی وہ پری کو تسلی بھی دے رہا تھا۔
پری ریلکس کچھ نہیں ہوا۔دیکھنا ابھی ڈاکٹر آٸیں گے اور سب کچھ ٹھیک ہو جاۓ گا۔
ایسے نہیں روتے چندہ۔میری پری تو بہت بریو ہے۔اور بریو گرل کوٸی روتی تھوڑی نہ ہیں۔ہمان نے اس کے ماتھے پہ بکھرے بالوں کو اپنی انگلیوں سے پیچھے کیا اور اس کی پیشانی پہ بوسہ دیا۔
اتنے میں ڈاکٹر نرس کو لے کر روم میں داخل ہوۓ نرس نے سرنج نکال کر پھینک دی اور احتیاط سے بینڈیج کر ڈاکٹر کے ہمرہ باہر چلی گٸی۔
کافی خون بہہ گیا تھا پری کا۔اور وہ خون دیکھ کر ہی مزید خوف زدہ ہو گٸی تھی۔ سفید چادر پوری خون سے بھر چکی تھی۔جسے دیکھ کر وہ مزید سہم گٸی۔
ہمان نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔وہ نہیں چاہتا تھا۔پری یہ سب دیکھے۔ ایک تو وہ پہلے ہی ڈری ہوٸی تھی۔
اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ یہ سب دیکھ کر نیند میں بھی نہ ڈر جاۓ۔
کیونکہ اکثر وہ نیند سے بھی چیخیں مار کر اٹھ جایا کرتی تھی۔ہمان اسے اپنے سینے سے لگاۓ اس کے بال سہلاتا جارہا تھا
پری تو پہلے ہی ہمت ہاری بیٹھی تھی۔اوپر سے ہمان کی قربت، اس کا لمس اسے اپناٸیت کا احساس بخش رہا تھا۔ اور اس کا نرم لب و لہجہ پری کا دل پگھلنے لگا تھا۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
یہاں تک ہمان کی جیکٹ کو زور سے مُٹھیوں میں جکڑ کیا۔
نہ جانے وہ کیوں رو رہی تھی۔ ہمان سے دوری اسے رولا رہی تھی یا پھر اس کی قربت سے وہ خود پگھل چک تھی۔یا شاید وہ اس حادثے سے کافی زایادہ سہم گٸی تھی۔
جو بھی تھا ہمان نے اسے چپ نہیں کروایا۔وہ جانتا تھا۔یہ اس کا پیار ہے۔جسے وہ کتنے دن سے جھٹلانے کی دلیلیں دینے کوشش کر رہی تھی۔
یہ اس کے لاڈ تھے۔اسے ہی پیار جتایا کرتی تھی وہ۔یہ اس کا حق تھا۔ جس سے وہ کتنے دن سے منہ موڑے بیٹھی تھی۔پر نہ تو پیار بھلایا جاتا ہے نہ ہی حق چھوڑا جاتا ہے۔
وہ کافی دیر تک اس کے ساتھ لگی اشک بہاتی رہی۔وہ ذرا خاموش ہوٸی تو ہمان نے خود ہی اس الگ کر کے بیٹھ پر بیٹھایا۔ پھر خود بھی اس کے قریب بیٹھ گیا۔
پری ہمان نے نرم لہجے میں اسے پکارا۔
مجھے تم سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔پری دراصل آٸینہ اور میری شادی۔ ابھی اس نے بات پوری بھی نہ کی تھی کہ پری نے بیچ میں ہی بات کاٹ دی۔
میں اس چمارن کو دلہن نہیں بناٶں گی۔بتا رہی ہوں میں ہاں۔وہ روتی ہوٸی سوں سوں کرتی اسے دھمکی آمیز لہجے میں بولی۔ہمان تو دھک سے رہ گیا۔
ہاں پر میں اس کا حلیہ ضرور بگاڑ دوں گی۔میں ۔میں اس کا بوتھا رنگ دوں گی۔اس کے بال وال نوچ لونگی ہماااان۔
وہ سوں سوں کرتی آنسو صاف کر تے ہوۓ بولی۔
ہمان اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔اسے تو لگا تھا کہ وہ غصہ کرے گی۔اب تک کی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا سارہ حساب برابر کرے گی۔
پر نہیں !!وہ تو بدلہ لینے والوں میں سے نہ تھی۔پری جو ہے وہ۔بھلا پریاں بھی کبھی بدلہ لیا کرتی ہیں۔وہ تو بہت معصوم اور صاف شفاف بے داغ پر خلوص نیت اور معاف کردینے والی ہوتی ہیں ۔
ہمان پری کے انداز پہ مسکرادیا۔وہ باتیں تو شروع سے ہی اچھی کیا کرتی تھی۔ویسےتم آٸینہ کا ٹریٹمنٹ کرنے کے چکر میں کیوں ہو۔
اس نے استہفامیہ نظروں سے اسے دیکھا۔تو وہ جو آنسو پونچھ رہی تھی۔ایک دم سیدھی ہوٸی۔ہمان نے اس کی آستین کھینچ کر بازو نیچے گرایا اور ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
کیونکہ اس نے آپ کو مجھ سے چھین لیا۔میرا روم بھی چھن گیا۔سارہ بھی اب مجھ سے بات نہیں کرتی۔زین بھاٸی بھی میرا حال نہیں پوچھتے۔اس نے سب کو چھین لیا مجھ سے۔وہ آپ سے شادی کر لے گی۔پھر تو سب کچھ بدل جاۓ گا۔اسی لیے میں اسے کا بوتھا رنگو گی۔
وہ ایک بار پھر رونا سٹارٹ کر چکی تھی۔اور آستینوں سے آنسوں بھی صاف کرتی جارہی تھی۔
ویسے غلط بات ہے۔وہ تو تمہیں کچھ بھی نہیں کہتی۔
ہمان کا آج انداز ہی الگ تھا۔کیا مطلب کچھ نہیں کہتی۔کہنے کو کوٸی کسر باقی ہے۔آپ شادی کر تو رہے ہیں اس سے پھر وہ کیوں کچھ کہے گی۔
تو تم نہیں چاہتیں کہ میں آٸینہ سے شادی کرو۔ہوں۔پری کی نظریں جھکی ہوٸی تھی۔ہاں میں نہیں چاہتی۔
پر کیوں پری !!کسی نہ کسی سے تو کرنی ہے نا شادی۔
وہ اسے ٹریپ کر رہا تھا۔سٹیپ باۓ سٹیپ اپنی باتوں سے میں اسے الجھا کر وہ خود اس کے منہ سے سچ اگلوانا چاہتا تھا۔
اب وہ خاموش رہی۔دونوں طرف ہنوز خاموشی کو پھر ہمان کی آواز نے تھوڑا۔تو تم کرلو نہ مجھ سے شادی۔
میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی۔وہ دھیمے لہجے میں بولی ۔لہجے میں نارضگیاں سی گھلی تھی۔کیوں نہیں کر سکتیں۔کیوں کہ بڑے پا۔۔۔۔
وہ جو ہمان کے ہر سوال کا جواب بڑی پھرتی سے دے رہی تھی۔یک دم اس کی زبان کو بریک لگا۔
ہمان الرٹ ہوا۔کیا ۔کیا بول رہی تھیں تم۔بولو پری اس نے پری کو دونوں شانو سے تھاما۔نہیں ک۔ک۔کچھ نہیں مجھے سونا ہے ۔مجھے نیند آ رہی ہے۔پہلے مجھے بتاٶ کیا بول رہی تھیں۔کیا بڑے پاپا۔آگے بولو۔
کچھ نہیں ہمان۔پری کا دل بھر آیا۔گزرے دنوں میسم کی کہی ساری باتیں یاد آنے لگیں۔بھلا وہ ان باتوں کو بھولی ہی کب تھی۔اس کے نین کٹورے جھل مل کرنے لگے۔
ہمان نے اسے ایموشنلی ٹریپ کیا۔دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھامے وہ اسے گویا ہوا تھا۔
مجھے بتاٶ پری کیا کہنا چاہتی ہو تم۔کچھ ہے جو تم مجھ سے بلکہ سب سے چھپارہی ہو۔بتاٶ پری ہمیں کوٸی الگ نہیں کر سکتا۔
میں تمہیں کبھی الگ نہیں ہونے دوں گا۔تم ٹھیک ہو جاٶ گی۔پری۔ زندگی موت اس ربِ کاٸنات کے ہاتھ میں ہے جو مردوں میں بھی جان ڈالنے والا ہے۔
بتاٶ پری تم کچھ کہہ رہی تھیں۔کہہ رہی تھیں نہ۔ہمان نے تاٸید چاہی۔اس نے روتے ہوۓ گردن زور زور سے ہاں میں ہلاٸی۔وہ اسے ایموشنلی بلیک میل کر رہا تھا اور وہ ہورہی تھی۔
بتاٶ پھر جلدی سے۔
ہم۔ہم۔ہماان وہ۔وہوہ۔ بڑے پاپا ۔بڑے پاپانے۔وہ سانس لے کر رک رک کر بول رہی تھی۔ہمان اس کا گال سہلا رہا تھا۔
کیا کیا ہے بڑے پاپا نے۔ ہمان نے اس سے پوچھا۔
کچھ نہیں۔جواباً وہ بہت زور سے دھاڑی تھی۔ کچھ نہیں کیا انہوں نے۔میری قسمت خراب ہے۔میرے ہی قسمت خراب ہے۔میرے نصیب میں بس ہسپتال کے چکر دواٸیں ڈریپیں اور انجیکشن ہی رہ گۓ ہیں۔
اگر میں کسی کی زندگی میں شامل ہو گٸی تو اسے بھی یہیں کا ہو کر رہنا پڑے گا۔بھلا بڑے پاپا کا ان سب میں کیا قصور۔وہ تو صرف اپنی ولاد کی بھلاٸی چاہتے ہیں۔وہ بھلا کیوں ایک مہلک بیماری میں مبتلا لڑکی کو اپنے گھر کی بہو کے طورپر قبول کریں گے۔
مرض بھی وہ جو زندگی کو دیمک کی طرح کھا جاۓ۔ہمان مجھے تو اپنی سانسوں کا بھی نہیں پتا۔یہ کب بند ہو جاٸیں۔بڑے پاپا نے جو کچھ بھی کہا بالکل ٹھیک کہا۔میرا آپ کے ساتھ کوٸی بہتر مستقبل نہیں۔
وہ صحیح کہتے ہیں۔اسی لیے میں نے شادی سے انکار کیا تھا۔پر مجھے بالکل بھی یقین نہیں آیا تھا کہ آپ آٸینہ سے شای کریں گے۔وہ بھی میرے سامنے۔پر جو بھی تھا۔
مجھ سے ناجانے کیوں برداشت نہیں ہوا یہ سب۔اس لیے میں نے موت کو چن لیا۔مجھے غصہ تھا ۔صدمہ تھا۔ شاکڈ لگا تھا۔
آپ نے مجھ سے پیار کے وعدے کیے تھے۔پھر ایسے کیسے آپ نے وہ وعدے پل بھر میں توڑ دیے۔میرا مر جانا ہی بہتر تھا۔زندہ رہ کر بھی میں نے کون سا کچھ حاصل کر لینا تھا۔
میں آپ کے لیے بہتر ہمسفر ثابت نہیں ہوسکتی۔
پر میں آپ کو کسی اور کے ساتھ بھی نہیں دیکھ سکتی۔وہ سسک ہی تو اٹھی تھی۔آنسو متواتر چہرہ بھیگو رہے تھے۔چھوٹی سی ناک رونے کے باٸث سرخ ہوچکی تھی۔
ہمان م۔م۔مججھے ب۔برین ٹ۔ٹ۔ٹیوممر ہے۔دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپاۓ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
سنہری زلفیںۓھلک کر کندھے پر گرنے لگیں۔وہ کانپنے لگی تھی۔اتنا بڑا سچ اپنی زندگی کی یہ تلخ حقیقت اس نے کیسے ہمان کے سامنے کہی تھی۔یہ تو صرف وہی جانتی تھی۔
تکلیف درد سب بہت چھوٹے الفاظ تھے۔
ہمان نے اس کے دونوں ہاتھ چہرے سے ہٹاۓ۔وہ اب بھی رو رہی تھی۔
ویلڈن پری!!! تمہیں تو تمغہ امتیاز سے نوازنا چاہیے نٸیں۔پری نے چونک کر اپنی جھکی گردن اٹھاٸی۔اپنی طرف سے تو تم نے بہت اچھا فیصلہ لیا ہے۔
تم ہوتی کون ہو خود سے فیصلہ کرنے والی۔تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تمہیں چھوڑ دوں گا پری۔غلط ایک دم غلط۔
میں تمہیں اپنی آخری سانس تک نہیں چھوڑوں گا۔
تمہیں مجھ سے سواۓ اس رب کے کوٸی جدا نہیں کر سکتا پھر یہ برین ٹیومر کیا چیز ہے پری۔
چلو مان لیا تمہاری زندگی کا بھروسہ نہیں۔لیکن مجھے ایک بات بتاٶ پری کیا ہماری موت کا پتا ہے۔یا پھر کنفرم ہے کہ ہم جیسے لوگ اسی ٹاٸم پر مریں گے۔
بیوقوفی کی حد ہے۔نہیں آج تم مجھے بتا ہی دو۔کس بنیاد پر تم نے یہ سوچ لیا کہ موت پہلے تمہیں ہی آۓ گی اس لیے کہ تمہیں ٹیومر ہے۔
ہوسکتا ہے تم سے پہلے میں مر جاٶں۔
ہماااان!!!۔وہ زور سے چلاٸی تھی۔نہیں پری مجھے آج بول ہی لینے دو۔
میاں بیوی کا رشتہ اللہ نے بہت خوبصورت رشتہ بنایا ہے۔جس میں دونوں کے سکھ دکھ سانجھے ہوتے ہیں پری۔مجھ سے ایک دفع کہا تو ہوتا۔
تم مجھ سے بات تو کر کے دیکھتیں۔تمہیں کیا لگتا ہےمیں تمہیں اسی حال میں تڑپنے و سسکنے کے لیے چھوڑ دیتا۔
ہمان بس کریں پلیز بس کردیں۔دونوں ہاتھوں پہ کان رکھے وہ ایک بار پھر سسک اٹھی۔بالآخر ہمان کو اس کی حالت پہ رحم آ ہی گیا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *