357.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 9

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

لسن عرین خان مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمہارے قریب آنے کا مگر میری غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کے کوئی میری عزت کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھے! سرد لہجے میں اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ ایک ہی جھٹکے میں اس کی زپ بن کرتا اسے چھوڑ گیا

اس کی حرکت پر عرین نے آنکھوں میں آنسو لیے ایک نظر اس پر ڈالی اور تیزی سے وہاں سے نکل گئی کے اس کی بادامی آنکھوں میں موجود آنسو حازم کو بے چین کر گئے تھے

یہ رو کیوں رہی تھی؟ کہیں اس کے ساتھ کسی نے کچھ….شٹ! وہ فوری سے اس کے پیچھے بھاگا تھا جو تیز تیز قدموں سے چلتی اس کی نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی

حویلی کے اندر آتے ہی وہ کچن کی طرف بڑھی اسے پانی چاہیے تھا ایک پانی ہی تھا جو شاید اسکے رونے میں کمی لا سکتا تھا

کانپتے ہاتھوں سے پانی کی بوتل سے گلاس میں پانی انڈیل کر اسنے لبوں سے لگایا اور گہری گہری سانس لینے لگی جب اسے لیلی کی آواز سنائی دی جو شاید حازم سے مخاطب تھی

سر آپ کو کچھ چاہیے!

نہیں آپ جا سکتی ہیں! اس سے کہ کر وہ سیدھا کچن کی طرف آیا جہاں لیلی بے اسے عرین کی موجودگی کی خبر دی تھی

کیا ہوا ہے تمہیں؟ اس کے اچانک نازل ہونے پر وہ کانپ کر رہے گئی

کسی نے کوئی بدتمیزی کی ہے کیا؟ حازم خود پر ضبط کیے بولا

میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں!

نہیں مجھ سے کسی نے بدتمیزی نہیں کی! عرین سرد لہجے میں بولی اس لمحے اس بدتمیز شخص پر شدید غصہ آیا تھا جو خود بدتمیزی کرکے اس سے پوچھ رہاتھا

کیا سننے چاہتے ہیں؟ غلط سے کرنا بھول گئے ورنہ اگر کر لیتے تو شاید آپ کو سکون مل.جاتا….! وہ اونچی آواز میں غرائی

یہ کیا فضول بکواس ہے! حازم ضبط سے بولا

ہاں آپ کو تو میری ہر چیز بکواس لگتی ہے جیسے میں خود بھی آپ کو بکواس لگتی ہوں چلے جائیں یہاں سے!

تمیز سے بات کرو!

نہیں کروں گی میں تمیز سے بات سمجھے آپ….آپ اس قابل ہی نہیں……باقی کے الفاظ اس کے قریب آنے سے دم توڑ گئے تھے

اپنی یہ بدتمیزی بعد کے لیے ادھار رکھو ابھی میرے ساتھ باہر چلو! حازم خود پر ضبط کیے بولا مگر آج وہ اسکا صبر ہر لحاظ سے آزمانے پر تلی تھی

مجھے نہیں جانا اکیلا چھوڑ دیں مجھے!

باہر پارٹی اسٹارٹ ہے گھر کے سب ملازم باہر ہیں میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا یہ سیف نہیں ہے! اس کا انداز اب قدرے نارمل تھا

میں نے کہا نا مجھے نہیں جانا…وہ جو ابھی نارمل ہوا تھا اس کے چلانے سے مزید تیش میں آتا اسکا بازو پکڑ کر گھیسٹنے کے سے انداز میں اسے باہر لایا

”باہر چلو اور خبردار جو میری نظروں سے ایک منٹ کے لیے بھی اوجھل ہوئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا“ سرد لہجے میں کہتا وہ اسے ایسے ہی تھامے باہر لان میں لاکر چھوڑ گیا لان میں اب کپل ڈانس شروع تھا جس کے باعث کوئی انہیں اس طرح ساتھ آتے ہوۓ نہیں دیکھ سکا

Hi Beautiful!

would you like to dance with me?

وہ جو حائنہ کی طرف قد بڑھانے لگی تھی ایک نوجوان کے سامنے آنے سے رک گئی اسنے نظر گھما کر حائنہ کو دیکھا جو حمزہ کے ساتھ ڈانس کر رہی تھی اس کے بعد اسنے پلٹ کر حازم کو دیکھا جو کسی لڑکی کے ساتھ کھڑا محو گفتگو تھا نجانے کیوں اسے اس لڑکی کے ساتھ خوشگواری سے بات کرتے دیکھ کر اسے غصہ آیا اور اگلے ہی لمحے وہ غصے کے عالم میں اپنے سامنے موجود لڑکے کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا گئی

یو آر رئیلی بیوٹیفل! وہ شخص اس کے ساتھ ہلکے ہلکے اسٹیپ لیتا گھمبیر لہجے میں بولا کے اسکا ہاتھ اپنی کمر پر جاتا محسوس کرکے عرین کو گھبراہٹ سی محسوس ہوئی کے اس سے کچھ فاصلے پر کھڑے حازم کی نظر جیسے ہی اس منظر پر گئی اس کی پیشانی پر ان گینت بل نمودار ہوۓ تھے

اسٹیپ چینج….اسپیکر پر ڈی جے کی آواز گونجی جس سے اس لڑکے نے بھی عرین کو گھمانا کر واپس سے اپنی طرف کرنا چاہ جب اچانک سے کسی نے اسکا ہاتھ جھٹک کر عرین کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچا تھا اس اچانک اتفاد پر وہ بھکلا کر اس شخص کو دیکھنے لگی جو آنکھوں میں بلا کی سختی لیے اسے دیکھ رہا تھا اور پھر اپنے تاثرات نارمل کرکے اس کے ساتھ کھڑے لڑکے کی طرف متواجہ ہوا

Sorry she is already taken!

جتانے والے انداز میں کہتا وہ عرین کے ساتھ ہلکے ہلکے اسٹیپ لینے لگا تھا جبکہ وہ تو بس کسی پتلے کی طرح اسکے ساتھ لگی اپنے دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کو سنبھالنے لگی تھی

بہت شوق ہے تمہیں لوگوں کے ساتھ ڈانس کرنے کا ہاں؟ حازم نے سرد لہجے میں اس کی آنکھیں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا

ہاں جیسے آپ کو شوق ہے دوسری لڑکیوں سے ہنس ہنس کر باتیں کرنے کا! جوابا وہ بھی بنا ڈرے بولی

منع کیا تھا نا کہا تھا نا میری غیرت کو مت للکارنا؟ وہ اب اس کی کمر جکڑ چکا تھا کے اب کی بار عرین کو اتنی گھبراہٹ نہیں ہوئی تھی جتنا اس شخص سے ٹچ سے ہوئی تھی مگر اس کے لمس میں ایک احساس تھا جو فطری تھا

آپ کے لیے تو یہ سب نارمل ہوگا نہ پھر کیوں اس طرح ری ایکٹ کر رہے ہیں؟ اس کے اس سوال پر حازم کے تاثرات یکدم دھیلے پڑے تھے یہ سوال تو اسکا بھی خود سے تھا وہ کیوں اس کی باری میں ایسے Possesive ہو رہا تھا

اگلے ہی لمحے اسنے آرام سے عرین کو چھوڑا تھا

Do whatever you want to do!

اس کے لفظوں پر عرین نے اس پر ایک خاموش نگاہ ڈالی اور پھر تیزی سے وہاں سے واک اوٹ کر گئی

(یہ شخص اس کی سمجھ سے بلکل باہر تھا)

************************

میرا خیال ہے اب ہمیں گھر چلنا چاہیے! شمیم گھبرا کر بولی

ایسے کیسے ابھی تو کھانا بھی نہیں کھایا۔۔۔رعنین آنکھیں چھوٹی کیے کہنے لگی

کھانے کو چھوڑو۔۔۔مجھے تو اس محول میں گھٹن ہو رہی ہے دیکھو تو صیح کیسے زمانہِ جہالت والے کام ہو رہے ہیں نامحرم ایک دوسرے کے ساتھ ناچ رہے ہیں نا عمر کا خیال ہے نا شرعی اصولوں کا!

میری پیاری اماں یہی دنیا میں چل رہا ہے آج کل اسئلے تو منع کر رہی تھی آپ کو یہاں آنے سے کیوں کہ آپ دنیا سے کٹی ہوئی ہیں اسئلے مصوم ہیں ورنہ جو آج کل چل رہا ہے آپ جیسے بندہ تو گھبرا ہی جائے۔۔۔ رعنین پیار سے انہیں سمجھانے لگی

تم ان چیزوں سے دُور ہی رہنا! شمیم نے اسے وارن کیا جبھی ان کی نظر سائد پر کھڑی ایرج اور عرین پر گئی

یہ تو ایرج بہن ہیں نہ! اپنا نام سن کر ایرج اس جانب متواجہ ہوئی

اسلام و علیکم! ایرج انہیں پہچانتی ان سے ملنے لگیں شمیم بھی ان سے اچھے سے ملی تھیں

آؤ عرین یہیں بیٹھ جاؤ۔۔۔ایرج اسکا ہاتھ پکڑ کر بیٹھانے لگی اس حالت رعنین کو بھی کچھ ٹھیک نہیں لگی تھی

تم ٹھیک ہو؟ رعنین اسے پانی کا گلاس پکڑاتی بولی

دراصل اسے اس طرح کی گیڈرنگز کی عادت نہیں ہے ہم آسٹریلا میں بھی پارٹیز آٹینڈ نہیں کرتے تھے بس اسئلے زرا پریشان ہو رہی ہے!

اوہ آئی سی۔۔۔ویسے تمہاری ایج کیا ہے؟ رعنین اس سے مخاطب ہوئی جانے کیوں اِسے یہ پیاری سی لڑکی اچھی لگ رہی تھی

”اس نومبر میں 19 کی ہو جاؤں گی“

اوہ تم تو بہت چھوٹی ہو یار! رعنین اپنے مخصوص انداز میں بولی جس پر عرین مسکرا دی

ہاۓ لیڈیز کیا ہو رہا ہے؟ حنان کی آواز پر وہ سب اس کی جانب متواجہ ہوۓ

کچھ خاص نہیں تم کہاں گھوم رہے ہو؟ عرین نے ابرو اچکا کر پوچھا

بس یار کوئی نظر کرم کرو کوئی لڑکی دھونڈ دو دیکھو بیچارہ تمہارا بھائی کیسے اکیلے کھڑے ہوکر کپل ڈانس دیکھ رہا ہے! وہ قدرے رازدانہ انداز میں بولا جبکہ اس کی بات پر عرین کے ساتھ ساتھ رعنین بھی ہنسی تھی

بس کرو تم….رکھی ہوئی ہونگی تم نے دو چار گرل فرینڈز! عرین شریر لہجے میں بولی

قسم سے جھٹ نہیں کہ رہا اب کے اس کے چہرے کی مصومیت سے عرین اس کی بات ماننے پر مجبور ہو گئی

”چلو تمہارے لیے بھی کچھ کرتے ہیں“

موم آپ کا ڈیڈ سے کوئی رابطہ ہوا ہے؟ اسنے ایک بار پھر سوال کیا

افف ہو عرین ابھی ابھی میں یہی سوال تم دس بار کر چکی ہو….تمہارے ڈیڈ بزی ہونگے اسئلے ان سے بات نہیں ہو رہی! ایرج نرمی سے بتانے لگیں

”آپ.پلزز ایک بار اور ٹراۓ کر لیں نا موم میرا دل عجیب سا ہو رہا ہے“

اچھا میں کرتی ہوں! ایرج اسکی ضد سے پریشان ہوتی کال ملا گئی مگر ہنوز فون اوف آنے پر وہ اب خود بھی پریشان ہو گئی تھیں

کیا ہوا موم؟

فون اوف جا رہا ہے میں حازم سے کہتی ہوں وہ پتا کرتا ہے! ایرج کہ کر حازم کی طرف بڑھ گئیں کچھ ہی دیر میں کھانا شروع ہو گیا تھا سب لوگ کھانے مصروف ہو گئے تھے خاص کر رعنین جو شاید آئی صرف کھانے کے لیے تھی

*******************

رات کے بارہ بجے کے قریب فنشن ختم ہو گیا تھا ایک کے بعد ایک مہمان اٹھ کر جا چکے تھے رعنین اور شمیم کو الیانہ کے منع کرنے کے باواجود حنان گھر ڈراپ کرنے گیا تھا

بس بیٹا یہی روک دو!

تو یہ ہے آپ کا گھر؟ حنان شوق سے پوچھنے لگا

ہاں یہی ہے ہمارا غریب کھانا اگر تمہیم مناسب لگے تو آؤ چاۓ پی کر جانا! وہ اپنی اور ان کی حیثیت کا فرق جانتی جھجھک کر بولیں

کسی باتیں کرتی ہیں خالہ اچھا بھلا کتنا خوبصورت گھر ہے آپ کا ابھی تو جلدی میں ہوں پھر انشاءاللہ صرف چاۓ نہیں بلکہ کھانا کھانے آؤں گا! وہ اپنائیت بھرے لہجے میں بولا کے اس کے انداز پر رعنین نے حیرت سے اسے دیکھا

اتنی مغرور ماں کا ایسا بیٹا؟ وہ محض سوچ سکی تھی

”چلو اچھا پھر ضرور آنا اور اب سیدھا گھر جانا ملک کے حالات کچھ ٹھیک نہیں ہیں“ شمیم اس کے سر پر ہاتھ ہھیڑتے ہوۓ بولیں

آپ بے فکر ہو جائیں خالہ! حنان مسکرا کر کہتا انہیں ان کے گھر چھوڑ کر گاڑی واپسی کے لیے بھاگا گیا

*******************

حازم تم نے ٹراۓ کیا؟ عالم خان مسلسل ادھر سے ادھر چکر کاٹتے ہوۓ بولے جب کے الیانہ مطمئن انداز میں صوفے پر بیٹھی یہ سارا تماشا دیکھ رہی تھی

ڈیڈ میں نے ٹراۓ کیا ہے ان کی کمپنی سے بھی کونٹیٹک کیا ہے ابھی پتا لگ جاتا ہے آپ بے فکر رہے انہیں کچھ نہیں ہوگا! وہ ایک نظر عریم کی غیر ہوتی حالت کو دیکھ کر بولا

اللہ میرے شوہر کی حفاظت کریں…ایرج اپنی ساڑھی کا پلو سر پر لیتی بولیں ابھی تک کسی نے چینج نہیں کیا تھا فنشن کے ختم ہوتے ہی اقبال خان کی پریشانی آگئی تھی

انشاءاللہ کچھ نہیں ہوگا! عالم خان تسلی دینے لگے جبھی حازم کا فون بجا

کس کا فون ہے؟ عرین نے بے چینی سے پوچھا

حمزہ! لفظی جواب دیتا وہ تیزی سے باہر نکل گیا

عرین تم پلزز پانی تو پی لو! حائنہ پانی کا گلاس اسکے ہونٹوں کے قریب کرتی بولی

نہیں جب تک میرے ڈیڈ کی خیریت پتا نہیں لگے گی میں کچھ نہیں کھاؤں گی!

یہ ضد….! اس سے پہلے حائنہ کچھ کہتی اس کی نظر حازم پر گئی جو چھوٹے چھوٹے قدم بڑھا کر اندر آرہا تھا اس کے چہرے کے تاثرات حائنہ کو کچھ ٹھیک نہیں لگے

کیا ہوا حازم کیا کہ رہا تھا حمزہ؟ عالم خان بے چین سے بولے

حمزہ کی بات ہوئی ہے چاچو کی سیکٹری سے! وہ عرین پر نظر ڈالے بغیر آستہ آواز میں بولا

پھر؟

چاچو کا آوفس سے جاتے ہوۓ ایکسیڈنٹ ہوا تھا خون کافی بہ گیا تھا! اسنے گویا سب پر دھماکہ کیا تھا

کیا میرے ڈیڈ میرے ڈیڈ کہاں ہیں مجھے ان کے پاس جانا ہے!

عرین رکو بھائی کی بات تو سن لو…حائنہ نے اسے کنٹرول کرنا چاہ

کیا ہوا ہے اقبال کو بولو حازم؟ عالم خان اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولے

چاچو کا انتقال…..

نہیں جھوٹ کہ رہے ہیں آپ جھوٹ! اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی عرین بری طرح سے چیخی تھی

ان کی سیکٹری فیرا شام سے چاچی کو کالز کر رہی ہے بٹ آپ کا نمبر اوف جا رہا ہے آج سنگل کا ایشو تھا! حازم مدھم لہجے میں بولا اسکا اپنا دل اس بات کو ماننے کو تیار نا تھا

ڈیڈ…حازم نے آگے بڑھ کر انہیں سنبھالا جو بے صدمے کی حالت میبں دل پر ہاتھ رکھے بیٹھتے چلے جا رہے تھے کے عین اسی وقت حائنہ کی آواز گونجی

عرین! حائنہ اسکے جھولتے ہوۓ وجود کو سنبھالے اسکے چہرے کو تھپتھپا رہی تھی جب کے ایرج تو جیسے پتھر کی ہو چکی تھیں ان کی آنکھوں سے ایک آنسو نا نکلا تھا وہ سب دروازے کو دیکھ رہی تھی جس سے کل ان کا شوہر بلکل ٹھیک گیا تھا

دوسری طرف وہ بے سد سی اپنے باپ کے الفاظ اپنے ذہن میں گونجتے محسوس کر رہی تھی

مجھے اپنی بیٹی پر پورا یقین ہے تم اس کے دل میں اپنا مقام بنا لو گی یاد رکھنا میرے بعد تمہارا شوہر ہی ہوگا جو تمہاری حفاطت کرے گا!

”عرین میری بیوی کا خیاک رکھنا“ یہ آخری الفاظ تھے جو اسکے باپ نے اسے کہے تھے