451.5K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 33

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

کچھ ہی دیر میں حنان نے انہیں پیک کرکے ویڈنگ ہال ڈراپ کر دیا تھا

وہ اس وقت برائیڈل روم میں بیٹھی اپنی زندگی کو سوچ رہی تھی کیسے وہ ایک مصوم سی عرین سے ایک تیز لڑکی بن گئی تھی اسے ساتھ ساتھ اقبال خان کی یاد بھی آئی تھی جس سے اس کی آنکھوں میں نمی چھانے لگی

ایرج اسے دیکھتے ہی اس کی نظر اتارنا شروع ہو گئیں تھیں

بارات آگئی ہے! رعنین برائیڈل روم میں داخل ہوتے ہوۓ چہک کر بولی

اور حازم بھائی کیا لگ رہے ہیں یار ایک دم پپو بچے لگ رہے ہیں! اس کے کہنے پر عرین نے بڑا سا منہ بنایا

میں تو بارات دیکھنے جارہی ہوں…رعنین پرجوش سی کہتی باہر بھاگ گئی

حازم مہرون شیروانی پر مہرون ہی کولہا پہنے ہاتھوں میں برینڈد واچ اور پاؤں میں کھڑی ڈالے وہ اپنے مردانہ قد قاٹ اور خوبصورت رنگت سے مغرانہ چال چلتا ہوا عالم خان الیانہ حائنہ اور حنان کے ساتھ ہال میں داخل ہوا انکے چاروں طرف میڈیا کے کیمرے اور رپوٹرز تھے اس کے حق مہر کی بات بھی میڈیا پر کسی آگ کی طرح پھیلی تھی

اس کے اسیٹج پر جاتے ہی بہت سی لڑکیوں نے عرین کی قسمت پر رشک کیا

اس کے بیٹھنے کے کچھ دیر بعد ہی ایرج نے حائنہ اور رعنین کو عرین کو لانے کو کہا

یکدم ہال کی لائٹس اوف ہوئیں اور ایک اسپورٹ لائٹ انٹرس کی طرف جاکر ٹہر گئی جس سے وہ حائنہ حنان رعنین اور ایرج کے ساتھ کسی حور کی طرح داخل ہوئی تھی اس کے ساتھ ساتھ پیروں میں اسموک(دھواں) چل رہا تھا

اسے دیکھتے ہی حازم کے حلق میں گلٹی ڈوب کر ابھری تھی وہ آج پہلی بار پلکیں جھپکانا بھول گیا تھا اس کی دھڑکن آج معمول کے برعکس زیادہ تیز تھی وہ کسی شہزادی کی طرح آستہ آستہ قدم بڑھا کر اس کے قریب آتی جا رہی تھی

”آئی ایسی رات ہے جو بہت خوش نصیب ہے

چاہے جسے دور سے دنیا وہ میرے قریب ہے“

”میں اگر کہوں ہمسفر میری آپسرہ ہو تم یا کوئی پری

تعریف یہ بھی تو سچ ہے کچھ بھی نہیں“ بیک گراؤنڈ میں چلتا میوزک کے بول اس لمحے حازم خان کے دل کی بات ادا کر رہے تھے

بھائی؟ حائنہ کے مخاطب کرنے پر وہ ہوش میں آیا

کہاں کھو گئے ہیں ہماری بھابھی کی ہیلپ کریں! حائنہ کے کہنے پر وہ ہونٹوں پر زبان پھیر کر اپنے اس کے آگے اپنا ہاتھ پھیلا گیا جسے وہ ایک عقابی نظر ڈال کر ایرج کے زور دینے پر ہاتھ تھام گئی ہال میں موجود سب کزنس نے اس خوبصورت منظر پر ہوٹنگ کی تھی

چلیں بھائی صاحب نکالیں ہماری دودھ پلائی… کھانے کے بعد رعنین چند لژکیوں کے ساتھ ان کے پاس بیٹھ کر اسے دودھ کا گلاس پکڑاتے ہوۓ بولی

دودھ پلائی؟ حازم چونکا

ہاں جی پیسے دیں ہمیں دودھ پلائی کے!

اچھا کتنے؟

ایک لاکھ!

یہ رو چیٹنگ ہے تم نے خود گلاس دیا ہے بھائی کو! حنان بیچ میں لقمہ دیتے ہوۓ بولا کے اس کی بات رعنین کا قہقہ بلند ہوا

کیا مطلب ہے؟ آپ لوگوں کو رسم کا نہیں پتا؟ اسنے باری باری سب کے چہرے دیکھے جو حوانک تھے

ہاں یہ کونسی رسم ہے؟ حائنہ نے ناسمجھی سے کہا جس پر وہ اپنا ماتھا پیٹ کر انہیں رسم سمجھانے لگی

ہاں تو بھائی کوئہ ضرورت نہیں ہے اتنے پیسے دینے کی یہ دودھ کا گلاس پچاس روپے میں آجاتا ہے! اب کے حنان پوری تیاری سے میدان میں آتے ہوۓ بولا

تو اب آپ کو اتنا انمول موتی بھی تو دے رہے ہیں! اس کی بات پر حازم نے ایک نظر اسے. دیکھا جو منہ جھکاۓ الغرض سی بیٹھی تھی

پھر تو آپ کا بنتا ہے! حازم شریر لہجے میں کہتا اس کے ہاتھ میں بلینک چیک کر گیا ہال میں ایک بار پھر شور بلند ہوا تھا مزید کچھ ہلا گلا کرنے کے بعد رخصتی کا ٹائم ہو گیا

ایرج نے روتے ہوۓ اسے پیار کرکے اسے دھیروں دعائیں دی تھیں وہ چاہیے اسی گھر میں جا رہی تھی مگر بیٹیاں جب رخصت ہوتی ہیں تو ماؤں کو ان کے نصیبوں سے زیادہ ڈر لگتا ہے

********************

رات کے دس بجے کے قریب وہ لوگ گھر پہنچے تھے

حائنہ رعنین بیٹا جاؤ عرین کو حازم کے روم تک چھوڑ آؤ…ان کے کہنے پر وہ دونوں اسے لے کر حازم کے روم میں لے آئی

چلیں جی بس اب کچھ دیر اور…رعنین نے اسے چھیڑا جس پر وہ بامشکل اپنی تلخی چھپا پاۓ تھی

میں کسی کا انتظار نہیں کر رہی میں چینج کرنے جا رہی ہوں ….ان ہے ساتھ آدھا گھٹنہ گزارنے کے بعد وہ بیڈ سے اٹھتے ہوۓ بولی

بس تھوڑا سا ویٹ کر لو عرین بھائی آنے والے ہونگے! حائنہ تحمل سے بولی

انہیں آنا ہوتا وہ ابھی تک آجاتے اب پلزز…ان سے کہ کر وہ واشروم کی طرف بڑھنے لگی جب اسکا دروازہ نوک ہوا

کون؟

اب مجھے میرے روم میں آنے کی اجازت لینی پڑے گی؟ اس کی آواز سے حائنہ اور رعنین معنی خیزی سے مسکرائی

بھائی آگئے ہیں تم جلدی سے سیٹ ہوکر بیٹھ جاؤ ہم بھائی سے راستہ روکائی تو لے لیں! وہ ایکسائٹڈ سی کہتی دروازے کی طرف بڑھ

کافی بحث کے بعد حازم سے اپنی مرضی کے مطابق پیسے لینے کے بعد انہوں نے اسے اپنے روم میں جانے دیا تھا

کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر سامنے بیٹھی اس خوبصورت لڑکی پر گئی بے ساختہ ایک مسکراہٹ نے اس کے ہونٹوں کا احاطہ کیا

وہ روم لوک کرنے کو مڑا اور پلٹا تو وہ جو پہلے بے حد ادب سے بیٹھی تھی اسکے دروازہ بند کرنے پر عرین فورا سے بیڈ سے اٹھی

کہاں؟ حازم اسے اٹھتے ہوۓ دیکھ کر چونکا

آپ کو کیا لگا مسٹر حازم میں روایتی دلہنوں کی طرح آپ کے انتظار میں بیٹھوں گی؟ تیش سے کہتی وہ آگے بڑھنے لگی جب وہ اگلے ہی لمحے اسے قریب پہنچ کر اسکا بازو تھامے اسے اپنے قریب کر گیا

اور اگر میں کہوں کے تم واقعی روایتی بیوی کی طرح میرے انتظار میں بیٹھو تو؟ اس کے انداز پر عرین کا دل اچھل کر حلق میں آیا

میرا ہاتھ چھوڑیں…!

چھوڑنے کے لیے نہیں تھامتا میں! وہ ایک قدم مزید اس سے قریب ہوتے ہوۓ بولا جب اگلے ہی پل عرین کا چھت پھاڑ قہقہ کمرے میں گونجا

آپ کے منہ سے یہ الفظ اچھے نہیں لگتے مسٹر حازم محبت کا م بھی جانتے ہیں آپ؟ وہ تلخی سے کہتی اس کی گرفت سے نکلتے ہوۓ واشروم کی طرف بڑھنے لگی کے وہ ایک بار پھر آگے بڑھ کر اس بار اس کی کمر جکڑ گیا

اچھی تو تم مجھے اسی دن لگنے لگی تھی جس دن تم نے میری ناراضگی کا خوف ظاہر کیا تھا

اور محبت مجھے تم سے اس دن ہی ہو گئی تھی جس دن تم نے مجھے اپنا محافظ سمجھا اور کسی بھی خیال کے بغیر تم میرے روم میں پرسکون سی سو گئی تھیں ہاں میں اس دن کچھ کنفیوز ضرور ہوا تھا لیکن وہ کیفیوژن وقتی تھی

اور عشق مجھے تم سے تمہارا یہ شیرنی والا روپ دیکھ کر ہو گیا ہے

”اس سے زیادہ اگر محبت کے کوئی مقام ہوتے تو میں اسے بھی تمہارے ساتھ گزارے ہر لمحے کے نام کر دیتا“ وہ اس کی کمر جکڑے شاید آج پہلی بار اس کی اہمیت بتا رہا تھا یا شاید وہ اتنا تویل بولا ہی پہلی بار تھا مگر آج سننے والے کا دل اس کی کسی بات پر نہیں دھڑکا تھا

چھوڑیں مجھے میرے پاس آپ کی ان فضول باتوں کے جواب نہیں ہیں! تلخی سے کہتی وہ پوری قوت سے اس سے علیحدہ ہوکر آگے بڑھنے لگی کے اس اچانک اتفاد پر وہ لڑکھڑا کر پیچھے ہوا

تمہارے دل میں کیا اب میرے لیے بلکل گنجائش نہیں ہے؟ اس کے الفاظ پر عرین کے قدم تھمے

نہیں! وہ پلٹے بغیر بولی حازم نے ایک بار پھر اس کی طرف قدم بڑھاۓ مگر اب کی بار وہ اس کے سامنے کھڑا ہوکر اس کے چہرے پر گرد ہاتھوں کا پیالہ بنا گیا

تم مجھ سے اتنی خفا کیوں ہو چھوٹی لڑکی؟ کم از کم مجھے میرا قصور تو سمجھاؤ؟ تم جانتی ہو میں کبھی کوئی کیس بھی نہیں ہارا لیکن تمہاری آنکھوں میں یہ بے رخی دیکھ کر مجھے لگ رہا ہے میں زندگی سے ہار گیا ہوں مجھے اس تکلیف میں مبتلا مت کرو! وہ اس کے چہرے کو نرمی سے تھامے بولا کے اس سب میں پہلی بار عرین کو اپنا دل نرم پڑتا محسوس ہوا

مجھے اس تکلیف میں مبتلا مت کرو…حازم گھمبیر لہجے میں کہتا اس کے خوبصورت چہرے پر نظریں جماۓ ہوۓ تھا جو دلہن کے روپ میں اس کے سامنے اس لمحے پلکیں جھکاۓ کھڑی اس کے لیے سخت امتحان بنی کھڑی تھی وہ بے خود سا اس کے لبوں پر جھکنے لگا جب وہ اس کے ارادے بھانپ کر چہرہ تیزی سے موڑ گئی

سوچیے گا بھی مت حازم خان! اس کی آنکھوں میں یکدم اپنے لیے بے پناہ نفرت دیکھ کر حازم کی گرفت اس کے چہرے سے ہلکی پڑی اس کے مزید کچھ کہنے سے پہلے وہ اسے چھوڑ کر ضبط سے بیڈ پر جاکر بیٹھ گیا کے اس کے ہٹتے ہی وہ سکون سا سانس لیتی واشروم میں گھس گئی

******************

چند لمحوں بعد وہ فریش سی اسی کی ٹی شرٹ اور ٹراؤزر باہر آئی یہ سوٹ شاید اسنے واشروم میں موجود اس کی کبڈ سے نکالا تھا

دروازہ کھولنے کی آواز آنے پر بھی وہ ایسے ہی آنکھیں موندے لیٹا رہا اس کی حرکت پر وہ جی جان سے کڑھی

اٹھیں یہاں سے سونا ہے میں نے! وہ اب بیڈ کے کونے پر کھڑی چلائی کے اس کے چلانے پر حازم نے اسے دیکر آنکھیں ایک بار پھر موند کر کھولی وہ اس کی سفید ٹی شرٹ اور فرش کو چھوتے ہوۓ ٹراؤزر میں مزید دلکش لگ رہی تھی

تو سو جاؤ میں نے تمہیں منع کیا ہے؟ اسنے ابرو اچکائی

کیا مطلب ہے سو جاؤں؟ میں ایک ہی بیڈ پر نہیں سوؤں گی!

تو اپنے ساتھ ایک اور لے آتی! وہ اب خاصا تپ چکا تھا کے اس کے جواب پر عرین نے ضبط سے گہرا سانس بھرا

کل تک میں اپنا کوئی انتظام کر لوں گی فلحال یہاں سے اٹھ جائیں…!

میں نہیں اٹھ رہا جب تم انتظام کر لو جب بتا دینا! اس کے کہنے ہے وہ پیر پٹکتی بیڈ کی دوسری طرف جاکر بیٹھ گئی

گڈ گرل! اس سے کہ کر وہ اٹھ کر بیڈ کی سائد ٹیبل سے کچھ نکالتا اس کی طرف آتا اس پر جھکاؤ کرتے ہوۓ بولا کے اسے اپنی طرف جھکتا ہوا محسوس کرکے عرین بے اختیار آنکھیں موند گئی کافی لمحے اس کی طرف سے کوئی حرکت نا ہوتے دیکھ کر وہ آنکھیں کھول گئی

وہ اس پر خاصا جھکاؤ کیے کھڑا اس کے چہرے پر نظریں مرکوز کیے ہوۓ تھا اس سے پہلے وہ کوئی سوال کرتی وہ اس کے آگے ایک لفافہ کر گیا

یہ تمہارے لیے! اسنے یہ لفافہ اس کی طرف بڑھا جسے دیکھ کر وہ آنکھیں سیکڑ گئی

یہ کیا ہے؟

ایک حق مہر تم نے ڈسائد کیا تھا اور یہ حق مہر میں نے اپنی بیوی کے لیے منتخب کیا ہے! وہ اسے ایک بلینک چیک پکراتے ہوۓ بولا کے اس کی بات ہر عرین بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی

اس پر جو چاہے رقم لکھ دو!

اور اگر میں آپ ہی کی قمیت لکھ دوں تو؟ وہ اس کا صبر آزمانے کو بولی جب کہ اس کی بات پر حازم سر جھکا کر مسکرایا

مجھ جیسے ہزاروں حازم خان…عرین حازم خان پر قربان! وہ خمار آلود لہجے میں کہتا اٹھ کر اپنی شیروانی اتار کر چینجنگ روم میں چلا گیا کے اس کے جانے کے بعد وہ پرسکون سانس لیتی کمبل منہ تک اوڑھ گئی