357.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 25

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

کچن سے نکل کر وہ تیز تیز قدم بڑھاۓ اپنے روم میں آتی دروازے سے لگ کر منہ پر ہاتھ رکھے بیٹھتی چلی گئی

یا اللہ! اس نے بے ساختہ خود کے دل ہر رکھا کر اپنے رب کو پکارا تھا اسے لگا جیسے کوئی اس کا دل مٹھی میں بھینج رہا ہے اس کا سانس جیسے رکنے لگا اس کا دم گھٹ رہا تھا

نننہیں عررین تم نے کممزور نہیں پڑھنا! وہ اپنا دل سہلاتے ہوۓ گہرے گہرے سانس لیتی بولی

یہ مممجھے ککیا ہو ررہا ہہے؟ اسکا دم گھٹنے لگا تھا وہ بامشکک سانس لے پا رہی تھی اس کی سانسں جیسے تھمنے سی لگی اور اگلے ہی لمحے اسے اپنی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا ہوا محسوس ہوا تھا

عزت سے آئی ہوئی موت سیدہ

بہتر ہے زلت کی زندگی کے دو پلوں سے بھی!

دوسری طرف وہ یہی کچن میں کھڑا اس کی باتوں کو سوچ رہا تھا

”میں بھی مجبور ہوں کیوں کہ میرے دل نے اب آپ کے نام کے دروازے خود کے لیے بند کر دیے ہیں جب تک یہاں ہیں کوشش کرئیے گا میرے سامنے مت آئیں“

”شاید ناراض ہے کوئی بات نہیں منا لوں گا تمہیں بھی“ وہ محض سوچ سکا تھا اس کے کرب کا اندازہ فلحال اس کے لیے لگانا مشکل تھا

***********************

رعنین…شمیم اسے تیار ہوتا دیکھ کر بولیں

جی اماں!

بیٹا تم آج کل بیٹھتی ہی نہیں ہو میرے پاس آدھا دن تو یونیورسٹی میں لگ جاتا ہے اور پھر تم ان کتابوں کا پیچھا نہیں چھوڑتی! شمیم کے کہنے پر اسنے ڈریسنگ کے شیشے سے انہیں دیکھا

بولیں اماں….اور آپ فکر نا کریں میں کل سے اپنی اماں کے لیے پورا ٹائم نکالوں گی! رعنین انہیں افسردہ دیکھ کر ان کے پاس بیٹھتے ہوۓ بولی جس پر وہ مسکرا دیں .

اچھا تو پھر سنو کل رضیہ آئی تھی اسنے بہت اچھا رشتہ بتایا ہے میں سوچ رہی ہوں انہیں گھر بلا لوں! شمیم کے کہتے ہی اس کے تاثرات تبدیل ہوۓ تھے

اماں…

دیکھو بیٹا مجھے پتا ہے ہر بار کی طرح تمہارا جواب نا ہی ہونا ہے لیکن یہ دیکھو میرے ہاتھ…مجھے خدا کے واسطے اتنا پریشان مت کرو رعنین!

اماں آپ ایسے مت کہیں!رعنین نے اب کے بندھے ہوۓ ہاتھ تھامے

دیکھو بیٹا لوگ مجھے باتیں سناتے ہیں کہ میں بیٹی کو اس لیے پڑھا رہی ہوں تاکہ کل کو اس کی کمائی کھا سکوں اسئلے میں چاہتی ہوں تم جلد از جلد اپنے گھر کی ہو جاؤ!

فار گوڈ سیک اماں آپ کیوں لوگوں کی فضول باتیں سنتی ہیں؟ ان لوگوں نے ہمیں کچھ نہیں دینا سواۓ باتوں کے…اور میری عمر کونسا نکل گئی ہے صرف اکیس سال کی ہوئی ہوں میں!

ہاں تو یہی اچھی عمر ہے شادی کی..شمیم اسے سمجھاتے ہوۓ بولیں

ٹھیک ہے پھر کچھ دن رک جائیں میرا لاسٹ سمسٹر کمپلٹ ہو جاۓ اس کے بعد سوچیں گے اس بارے میں! اسنے نجانے کس دل سے یہ بات کی تھی

واقعی؟ تم سچ کہ رہی ہو؟

جی اماں میں نے پہلے کبھی ایسا مزاق کیا ہے؟

تمہارا بہت شکریہ میری جان تم نے میری سب سے بڑی مشکل آسان کر دی!

بس اب آپ نے ان سوچوں کی وجہ سے خود کو ہلکان نہیں کرنا…رعنین ان کی پیشانی کا بوسہ لے کر باہر کی طرف بڑھ گئی اسے یونیورسٹی کے لیے دیر ہو رہی تھی

گھر سے نکلتے ہی اسنے گہرا سانس بھر کر خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی تھی مگر ہاتھ میں ہوتی کپکپاہٹ سے وہ خود کو چاہ کر بھی نارمل ظاہر نہیں کر پا رہی تھی

”یا اللہ میں کیسے اماں کو بتاؤں کے میں اب تک اس گھٹیا انسان کے نکاح میں ہوں؟ یا اللہ میری مدد کر….“ خود سے کہ کر وہ بامشکل خود کو گھیسٹتے ہوۓ بس تک لائی

اس مسئلہ کا حل شاید عرین ہی بتا سکتی تھی!

*********************

صبح کا منظر سبز حویلی پر خاصا پر رونق سماں پیش کر رہا تھا آج کافی عرصے بعد ناشتے کی ٹیبل پر خان خاندان کے سب لوگ موجود تھے صرف ایک عرین کی کمی تھی

عرین بیٹی کہاں ہے؟ عالم خان کے کہنے پر حازم کے دل کو کچھ سکون سا ملا تھا وہ خود اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا

“وہ آرہی ہوگی ڈیڈ…کم رات سے اس کی طبیت بہت خراب تھی رات میں بھی بےہوش ہو گئی تھی میں صبح اس کے روم میں گئی تو وہ دروازے کے ساتھ گری ہوئی تھی” حائنہ کے بتاتے ہی ایرج اور حازم ایک ساتھ اپنی جگہ سے اٹھے جب کے اسے اٹھتا دیکھتے ہی الیانہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس بیٹھنے کا اشارہ کیا

کیا ہوا ہے اسے؟ ایرج پریشانی سے بولیں جبھی ہال میں اس کی آواز گونجی تھی جس پر حازم نے بے اختیار اسے دیکھا

کچھ نہیں موم…حائنہ بس ایسے ہی پریشان ہو گئی…وہ سفید کرتا اور بیلو جینس پر مٹلی ڈوپٹا گلے میں ڈال کر بالوں کو پونی میں قید کیے کافی پر اعتماد انداز میں ٹیبل تک آئی

”ایسے کیسے اگر تمہاری طبیت خراب ہو رہی تھی تو مجھے کہ دیتی…“

آپ لوگ ایسے ہی پریشان ہو رہے ہیں مجھے عادت ہے! آخری بات اسنے قدرے آستہ آواز میں کی تھی کے حازم اس کی آواز بخوبی حازم کے کانوں تک پہنچ گئی تھی حازم نے اسے دیکھا جب کے اسنے ایک غلط نگاہ بھی حازم کی طرف نہیں ڈالی تھی اور یہی بات تھی جو حازم خان کو بری طریقے سے جھنجھوڑ گئی تھی

عرین بیٹا آپ آج اپنا پروپر چیک اپ کروا لیجیے گا! عالم خان اسے دیکھتے ہوۓ بولے جس پر وہ سر کو خم دے گئی

“جی بڑے بابا” اس کے بعد سب ناشتے میں مصروف ہو گئے

کٹو تم نے میرے ساتھ جانا ہے یا الگ جاؤ گی؟ حنان نے نیپ کن سے ہاتھ صاف کرتے ہوۓ پوچھا

نہیں مجھے گھر سے اپنے نورٹس اٹھانے ہیں تم چلو میں آتی ہوں!

اکیلے کس طرح جاؤ گی؟ حازم نے بے اختیار پوچھا

”وقت انسان کو بہت کچھ سیکھا دیتا ہے…آپ کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے! اس کے سفاک انداز پر ٹیبل پر موجود سب افراد نے حیرت سے اسے دیکھا جب کہ حازم دانت پیس کر رہے گیا

عرین! ایرج نے اسے ٹوکا

موم میں نکل رہی ہوں آپ لوگوں کو شام تک پیک کر لوں گی!!! ان سے کہ کر وہ اٹھ گئی تھی

کیا مطلب آپ لوگ کہیں جا رہے ہیں؟

جی بیٹا بس گھر جائیں گے! ایرج نے اسے جواب دیا

گھر؟

ہمممم ایرج عرین اور اماں اب الگ فلیٹ میں رہتے ہیں…اس بار بولنے کی باری الیانہ کی تھی جس پر حازم سر کو خم دے گیا اس کا دل جیسے کسی نے دبوچ لیا تھا معاملہ اتنا سیدھا تھا نہیں جتنا لگ رہا تھا

رکو لڑکی! وہ جیسے ہی باہر نکل کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھی اپنے پیچھے سے آتی آواز پر رک گئی

عرین نام ہے میرا! اسنے گردن اکڑا کر کہا

اچھا لگ رہا ہوگا نا تمہیں میرے بیٹے کو اتنے عرصے بعد دیکھنے سے…دل میں ٹھنڈ سی پڑ گئی ہوگی! الیانہ اسکے قریب آتی طنزیا انداز میں بولی

بلکل بہت ٹھنڈ پڑ رہی ہے کیوں کہ میری کہانی کا اصل کردار اب آیا ہے آپ دیکھیے گا اب کیسے میں آپ کے اور آپ کے اس بیٹے کو کسی کا حق کھانے کا انجام بتاؤں گی! اس کے انداز میں جو اعتماد تھا وہ الیانہ کو اندر تک ہلا گیا تھا اس ایک سال میں اس کی ملاقات عرین سے کم ہی ہوئی تھی مگر آج اس کا یہ انداز اسے ہلا کر رکھ چکا تھا

اب کوشش کرئیے گا آپ اور آپ کا بیٹا میرے سامنے مت آئیں! سرد لہجے میں کہتی وہ گلاسس آنکھوں پر لگاۓ گاڑی میں بیٹھ کر زن سے بھاگا گئی

یہ لڑکی اب اوقات سے باہر ہوتی جا رہی ہے اس کا کچھ کرنا پڑے گا! الیانہ اسکی گاڑی کو زہر آلود نظروں سے دیکھتی واپس اندر کی جانب بڑھ گئی

****************

کچھ پتا لگا میرے بیٹے کا؟ زہرہ انہیں آتا دیکھ کر بے چینی سے بولی

نہیں! انور ملک منہ سر جھکاۓ بولے

انور آپ کی سورسس کا کیا فائدہ آج ایک سال ہو گیا ہے میں نے اپنے بچے کی شکل تک نہیں دیکھی آپ اسے دھوندیں میں آپ کو بتا رہی ہوں اس سب میں حازم کا کچھ تو چکر ہے!

مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے مگر میری معاملات کے مطابق حازم خان پیچھلے ایک سال سے کہیں نہیں گیا….اس سے ملنے کے لیے جب بھی میں نے کوشش کی ہے اسکا رائٹ ہینڈ حمزہ کوئی نا کوئی بہانہ بنا دیتا ہے آئی سویر اگر اس سب میں حازم خان کا کوئی لینا دینا ہوا تو میں اسے چھوڑوں گا نہیں! انور ملک غصے سے سرخ ہوتے ہوۓ چلاۓ جبھی ان کے کان سے دبی دبی سی آواز ٹکرائی تھی

ڈیڈ…!

اس کی آواز پر وہ سرعت سے پلٹے دروازے کی جانب دیکھنے لگے جہاں ان کی اکلوتی اولاد خون سے لپ پت بے بسی کی حالت میں دروازے کو پکڑے کھڑی تھی

المان..میرا بچہ! زہرہ اسے دیکھتے اس کی طرف لپکی

یہ سب کس نے کیا ہے؟ انور ملک اسکے قریب آتے ہوۓ اس کی حالت دیکھ کر ضبط سے بولے

حح ح حازم…ڈیڈ حازم…وہ مجھھے مارر دے گا میں بہت مششکل سے ببھاگ کر آیا ہوں! المان اتنا کہ کر زمین پر گرتا چلا گیا تھا

گاڈرز جعفر حسین جلدی آؤ…انور ملک اس کے بے سد وجود کو سہارا دیتے ہوۓ چلاۓ کے ان کی پکار کر گھر کے تمام گاڈرز بھاگتے ہوۓ ان کے پاس آتے المان کو اٹھا باہر کی طرف بڑھنے لگے

نہیں ڈاکٹرز کو گھر بلاؤ…میں نہیں چاہتا یہ خبر حازم تک جاۓ!

“لیکن اس کی حالت دیکھیں”

کچھ نہیں ہوگا اسے..میرا بیٹا چیتا ہے…اسے زندہ رہنا ہوگا حازم خان سے حساب تو برابر کرنا ہوگا! انور ملک پرسوچ انداز میں کہ کر اپنے موبائیل پر ڈاکٹر رافع کا نمبر ملا گئے

*******************

واٹ؟ تمہاری اماں کو اتنی جلدی کیا ہے؟ حنان اس کی بات سن کر بھڑکتے ہوۓ بولا

یہی تو مجھے سمجھ نہیں آتی!

ہاں بلاوجہ جلدی لگی ہوئی ہے میں بات کروں گا خالہ سے!

اچھا اور کیا بات کرو گے تم؟ رعنین نے ابرو اچکائی

یہی کے دور کیوں دیکھ رہی ہیں ان کے آس پاس ہی اتنے ہنڈسم ہنڈسم لڑکے موجود ہیں! وہ منہ بسور کر خاصے ڈرامائی انداز میں بولے

کونسے ہنڈسم لڑکے؟ رعنین نے نا سمجھی سے اسے دیکھا

ویسے نظر تو تمہاری بھی نزدیک کی خراب ہے! اس کے انداز پر رعنین اس کی بات کا مطلب سمجھتی غصے سے سرخ پڑی تھی

میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی ایڈیٹ! وہ اس کے سر پر ایک زوردار چٹ لگا کر بولی

کیا ہو گیا ہے کیوں لڑا جا رہا ہے؟ جبھی عرین نے انہیں جوائن کیا تھا جس پر رعنین نے اسے سارا معاملہ بیان کیا

”اچھا ریلیکس کرو…کچھ کرتے ہیں ہم“ عرین اس کا سارہ مسئلہ سمجھتے ہوۓ تسلی آمیز لہجے میں بولی

یار میں کیسے اماں کو سمجھاؤ؟

تم فکر مت کرو…اب ہم اس المان کا بھی کچھ کرتے ہیں ویسے یہ ہے کہاں کسی کو کچھ پتا ہے؟ عرین تشویشی انداز میں بولی

مجھے اس کی معلومات میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے! رعنین سپاٹ انداز میں بولی

ہاں لیکن ہمیں ڈائیورس لینے کے لیے اس سے ایک بار ملنا پڑے گا اور اب اس کا پتا لگوانا حنان کا کام ہے…کر لو گے یہ کام؟ عرین نے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا جو اس ساری گفتگو میں خاموش بیٹھا تھا

ٹھیک ہے میں دو دن تک اس کا پتا لگواتا ہوں اب تم لوگ بیٹھو میں کچھ کھانے کو لاتا ہوں! حنان ان سے کہ کر کیفے ٹریا کہ طرف چلا گیا جب کہ پیچھے وہ دونوں پھر سے محو گفتگو ہو گئیں

***********************

وہ ناشتے کے بعد سیدھا کورٹ آیا تھا جہاں حمزہ پہلے سے اس کے انتظار میں کھڑا دیکھائی دیا

اسلام و علیکم سر! وہ مسکراتے ہوۓ اس کے گلے لگا

و علیکم السلام کچھ پتا لگا؟

نہیں سر ابھی تک کچھ پتا نہیں لگا لیکن وہ ضرور اپنے گھر گیا ہوگا!

ہممم…اس دن صرف ایک بے احتیاطی کی وجہ سے وہ میری گرفت سے نکل گیا….اسنے سختی سے مٹھی بھینجی تھی

ریلیکس سر…ہم اسے دوبارہ پکڑ لیں گے یہ ہمارے لیے مشکل نہیں ہے! حمزہ اسے تسلی دینے لگا

بی پریکٹیکل حمزہ…وہ ہر بار آسانی سے پکڑ نہیں آۓ گا اس بار وہ ضرور اپنے باپ کی مدد حاصل کرے گا!

سر پھر ہم کیا کریں؟

انتظار….اس بار شکار خود چل کر ہمارے پاس آۓ گی! حازم پر سوچ سا بولا جس پر حمزہ مسکرایا

اس کا مطلب ہے آپ حل نکال چکے ہیں…!

ایسا ہی سمجھ لو…اور کوئی خبر ہے؟ حازم اب اپنی کرسی کی ٹیک. سے سر ٹکا گیا تھا اس کے ذہن میں اب بھی عرین کا روایہ تھا جو اسے خاصا بے چین کر رہا تھا

یس سر وہ…حمزہ رکا

بولو…..!

سر آپ کی ایڈورٹائزمنٹ کمپنی کے ففٹی پرسنٹ شیئرز ڈیڈ نے عرین میم کے نام کر دیے ہیں! اور اس کی بات پر حازم کرنٹ کھا کر اٹھا تھا

واٹ؟ وہ اس کا کیا کرے گی؟

سر وہ وہاں ہیڈ کرتی ہیں میم نے تقریبا ساتھ مہینے پہلے وہ کمپنی جوائن کی تھی! حمزہ اسے تفصیل بتانے لگا

اور ڈیڈ نے اسے اجازت دے دی؟ میں دیکھتا ہوں اسے زرا… طیش سے کہتا وہ تیزی سے باہر نکل گیا

*****************

آج آوفس آنے میں اسے کچھ دیر ہو گئی تھی

مورننگ میم…اس کے آوفس میں قدم رکھتے ہی اسٹاف نے اسے وش کیا جس پر وہ مسکرا کر انہیں ہاتھ کے اشارے سے جواب دے گئی

مسٹر حادی آپ میرے کیبن میں آئیں…وہ اپنا بیگ کندھے پر ڈالے مینجر کو آڈدر دیتے ہوۓ اپنے کیبن میں چلی گئی

یس میم؟

حادی آپ نے المیر سومرو سے کانٹیکٹ کیا؟

یس میم یہ ایڈ انشاءاللہ ہمیں ہی ملے گا!

ہمم انشاءاللہ…آپ مجھے سرمرو….باقی کے الفاظ سامنے سے آتے وجود کو دیکھ کر منہ میں ہی دم توڑ گئے

وہ گرے ڈریس پنٹ میں ملبوس مغرانہ چال چلتے ہوۓ اس کے کیبن کی طرف آرہا تھا

اسلام و علیکم سر! اسے دیکھتے ہی حادی نے مودب انداز میں سلام کیا

آپ جائیں مسٹر حادی میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں!

یس میم! اسے کہ کر وہ دروازے کی جانب جانے لگا جب حازم نے اسے روکا

میرے اور میم کے لیے کافی بھیجیں!

اوکے سر!

آپ کس کی اجازت سے یہاں آئیں ہیں مسٹر حازم؟ حادی کے جاتے ہی وہ کسی طیش میں آتی ہوئی چلائی جبکہ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے حازم نے آگے بڑھ کر اسکا بازو دبوچ کر اسے خود کے قریب کیا تھا

کس کی اجازت سے تم نے یہ اسٹیپ اٹھایا ہے ہاں؟ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ڈھارا

آپ ہوتے کون ہے مجھے اجازت دینے والے؟

تمہارا شوہر…سمجھی تم! اب کی بار اسنے اس پر مزید دباؤ کیا تھا

آپ سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے سمجھے آپ؟ اور اگر کوئی تعلق ہے بھی تو وہ صرف اور صرف نفرت کا ہے! عرین اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ غرائی تھی

کس بات کا اتنا غصہ ہے تمہیں ہاں؟ ایسے کیوں ری ایکٹ کر رہی ہو؟ تمہارے لیے یہ جگہ ٹھیک نہیں ہے لوگ ہر وقت ہماری فیملی پر اٹیک کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں! آخری الفاظ اسنے نرمی سے کہے تھے

آپ کو میری فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے مجھے اپنی حفاظت کرنا بہت اچھے سے آتی ہے ٹھیک ایسے ہی جیسے میں بے پیچھلے ایک سال میں اپنی موم اور خود کی حفاظت کی ہے ہمیں آپ کی ضرورت نہیں ہے! اسنے اپنا بازو اس کی گرفت سے چھڑوایا تھا جب حازم نے ایک بار پھر اسکی کمر جکڑ کر اسے خود سے قریب کیا

تو آپ اس بات پر خفا ہیں؟ وہ اس کی آنکھوں میں خود کے لیے ناراضگی دیکھ کر گھمبیر لہجے میں بولا

مجھے سے دور رہیں! اس نے سرد لہجے میں کہا

نا ہوں تو؟ وہ بے اختیار اس کی طرف جھکا تھا کے اگلے ہی لمحے عرین نے اپنی پوری قوت سے اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا جس سے وہ اپنی جگہ سے دو قدم پیچھے ہٹا تھا

تو مجھے خود کو آپ جیسے لوگوں سے چھڑوانا آتا ہے اب کبھی میرے قریب ہونے کی کوشش مت کیجیے گا! وہ اسے خود سے دور کرتی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وارن کرتے ہوۓ بولی

میرے جیسے لوگوں سے تمہاری کیا مراد ہے؟ حازم ڈھارا تھا

آپ جیسے لوگوں سے مراد آپ جیسا خود غرض اور ہوس پرست انسان! اس کے لفظوں نے حازم نے اسے اس کی آنکھوں میں دیکھنے پر مجبور کر دیا اور اس کی نظروں میں خود کے لیے نفرت دیکھ کر اس نے ساختہ اپنی مٹھی بھینجی

مے آئی؟ جبھی حادی کافی کی ٹرے لیے اندر داخل ہوا

سر یہ آپ کی کافی! حادی نے جیسے ہی اسکے سامنے کافی رکھی تھی حازم نے ایک زوردار مکہ ٹیبل پر مارا جس سے کافی کا کپ اچھل کر اس کے ہاتھ پر گرا تھا

سر…

گیٹ اوٹ!

بٹ سر …

آئی سیڈ گیٹ اوٹ! اب کی بار وہ پوری وقت سے ڈھارا کے حادی سر کو اثبات میں ہلاتے ہوۓ باہر نکل گیا جب کے عرین نے بے ساختہ اپنی کمیز کا دامن پکڑا تھا

تم….! حادی کے جاتے ہی وہ ایک بار پھر اس کی طرف پلٹا مگر پھر کچھ سوچتے ہوۓ اپنے قدم واپس لیے لمبے کمبے ڈھگ بھرے یہاں سے واک اوٹ کر گیا کے اس کے جانے کے بعد عرین بے اختیار کرسی پر گری سی تھی

نہیں تم اسٹرونگ ہو عرین بہت اسٹرونگ! اسنے خود کو دلاسہ سا دیا تھا جب کے دل جیسے اس کے سرخ ہاتھ کو دیکھ کر کسی کونے سے زخمی ہو گیا تھا