Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389 Mehram-e-Raaz Episode 29 (Part 2)
Rate this Novel
Mehram-e-Raaz Episode 29 (Part 2)
Mehram-e-Raaz by Syeda Shah
یہ شادی بھی تو ایک پروجیکٹ ہی ہے! عرین محض سوچ سکی
اب کہاں گھم ہو گئی جلدی آجاؤ…! حائنہ کے ہلانے پر وہ ہوش کی دنیا میں لوٹتی ان کے ساتھ قدم بڑھا گئی
کافی شوپس پر سر کھپانے کے بعد چوتھی دوکان میں داخل ہوۓ
یہ والا دیکھو عرین کتنا خوبصورت ہے! حائنہ نے ایک پیلے رنگ کا گرارا اس کے سامنے کیا جس پر نفیس سا کام ہوا تھا
ہے تو بہت پیارا لیکن اس کی بیک پر ڈوری ہے وہ بند کرنے میں مسئلہ ہوگا!
’’یار تم ٹراے تو کرکے تو دیکھو…ویسے بھی ہم تمہاری ہیلپ کے لیے ہونگے نا‘‘ رعنین کے زور دینے پر وپ سوچ میں پڑ گئی
ویسے یہ بات بھی ٹھیک ہے بس پھر یہ پیک کروا لو! اس کے بعد انہوں نے اس کے ساتھ کی میچنگ کی کچھ ہیئر آساسیریز اور جیولڑی لی تھی
اور مہندی کا ڈریس؟ رعنین نے ابرو اچکا کر پوچھا
وہ تو ہم دے گے تینوں دن کے ڈریسز حازم بھائی نے خود سلیکٹ کیے اور ان کی چوائس کمال کی ہے! اسکے کہنے پر عرین کے کان کھڑے ہوۓ
چلو دیکھتے ہیں تمہارے بھائی کے سلیکٹ کیے گئے ڈریسز مجھے پسند آتے بھی ہیں یا نہیں! عرین پرسوچ انداز میں بولی
تم دیکھنا تمہیں بھی بہت اچھے لگیں گے تم نے تو ٹائم نہیں دیا ورنہ سب تمہاری ہی مرضی کا آنا تھا!
میری مرضی تو اب بھی چلے گی ایک ہی تو شادی ہونی ہے میری…! وہ ذومعانی انداز میں بولی جس پر حائنہ مسکرا کر سر جھٹک گئی
آج کا پورا دن شوپنگ میں گزارنے کے بعد وہ گھر آکر شمیم اور ایرج کے ساتھ مصروف ہو گئی تھی
رات گزری اور صبح کے خوشگوار دن کا آغاز ہوا آج عرین کا مایو تھا جو انہی کے فلیٹ میں رکھا گیا تھا باقی کے سارے فنشن سبز ویلاز میں ہونے تھے
دروازے پر مسلسل ہونے والی دستک سے وہ بامشکل آنکھیں کھول پائی
آرہی ہوں! وہ آنکھیں مسلتے ہوۓ دروازے تک آئی اور دروازہ کھولتے ہی حائنہ اور رعنین چلاتے ہوۓ کمرے میں داخل ہوۓ
گڈ مورننگ دلہن میڈم!
ہم کب سے دروازہ بجا رہے ہیں کونسے گڈھے گھوڑے بیچ کر سو رہی تھی تم؟ عموما اس دوران تو لڑکیوں کو نیند بھی نہیں آتی!
میں نیند اڑانے والوں میں سے ہوں! وہ ذومعانی انداز میں کہتی بالوں کو کیچر میں قید کرنے لگی
اوہ ہو بڑی ہواؤں میں اڑ رہی ہے ہماری دلہنیا! رعنین نے اسے چھیڑا جس پر وہ شرارت سے أنکھین گھماتی واشروم میں بند ہو گئی
*********************.
حازم کہاں جا رہے ہو؟ عالم خان اسے تیزی میں گھر سے نکلتے دیکھ کر پوچھنے لگے
ڈیڈ ایک بہت ضروری میٹنگ ہے!
یہ کیا حرکت ہےآ ج عرین مایو بیٹھی ہے اور تمہیں اپنے کام سے فرصت ہی نہیں ملی رہی؟ عالم خان اس پر بھرکتے ہوۓ بولے
سوری ڈیڈ بٹ اٹس ارجنٹ! وہ موبائیل پر آتے لنک کو دیکھ کر ہڑڑا کر بولا
”ٹھیک ہے لیکن کل سے تمہارے فنشن اسٹارٹ میں نہیں چاہتا ایرج کو تمہاری ماں کے موڈ کی طرح تمہارے موڈ پر بھی ڈاؤٹ ہو“ عالم خان کے کہنے پر وہ سر کو خم دے گیا
اوکے ڈیڈ ڈونٹ وری! حازم اس سے کہ کر باہر کی طرف بڑھ گیا
یا اللہ بس میری عزت رکھ لینا….! عالم خان خود سے کہ کر باقی کا انتظامات دیکھنے لگے
*******************
دوسری طرف عرین کے فلیٹ کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا
سیڑھیوں سے لے کر ہر کمرے میں گینڈے کے پھولوں سے ڈیکوریشن کی گئی تھی آستہ آستہ کرکے مہمانوں نے آنا شروع کر دیا تھا جب کے وہ ابھی تک اپنے کمرے میں سادھا حولیے میں بیٹھی تھی جب ایرج اس کے روم میں داخل ہوئیں
یہ کیا حرکت ہے عرین؟ جاؤ جاکر ریڈی ہو! ایرج کے زور دینے پر وہ بڑا سا منہ بنا کر واشروم کی طرف بڑھ گئی کچھ دیر بعد وہ فریش سی باہر آئی
اسے اپنی کڑتی کچھ دھیلی لگی جس پر وہ اسے زیپ کے کھلے رہنے کا خیال آیا
شٹ…اب میں کیا کروں حائنہ اور رعنین بھی پتا نہیں کہاں ہیں! وہ خود سے بڑبڑاتی تھوڑا سا دروازہ کھول کر باہر جھانکنے لگی کے اچانک اسے اپنی زیپ بند ہوتی محسوس ہوئی وہ گردن موڑا بھول گئی اس کی خوشبو وہ آج بھی پہچان لیا کرتی تھی
ڈارلنگ شوہر کے ہوتے ہوۓ دوستوں کی مدد چاہیے آپ کو؟ وہ اس کے کان کے قریب ہونٹ رکھے کہتا ایک ہی جھٹکے سے اس کی زیپ بند کر گیا اس کی بات سے وہ بے ساختہ آنکھیں میچ گئی
یہ کیا حرکت ہے! ایک گہرا سانس لینے کے بعد وہ تلملا کر بولی
اپنی تو میں نے کوئی حرکت ہی نہیں کی! حازم اس کے بالوں گردن سے ہٹاتے ہوۓ گھمبیر لہجے میں بولا اس سے پہلے وہ اسے کوئی جواب دیتی باہر سے حائنہ کی آواز گونجی
عرین؟ اس کی آواز سنتے ہی وہ بے اختیار حازم کی طرف رخ کر گئی
آپ جائیں یہاں سے! اس کا لہجہ ٹھوس تھا
اور اگر میں نا جاؤں تو؟
آپ یہاں سے جائیں نہیں تو میں کچھ کر دوں گی! وہ تلخی سے کہتے ساتھ ہی اسے پیچھے کی طرف دھکا دے گئی وہ جو اس حملے کے تیار نہیں تھا اس اچانک حملے سے حازم گھمگا کر پیچھے ہوا
کیا کرو گی؟ اسکا انداز ہنوز گھمبیر تھا وہ پیلے رنگ کے جوڑے میں کھڑی اسے آزما رہی تھی
میں…میں آپ کو ہرٹ کروں گی بلکہ میں خود کو ہرٹ کروں گی…اتنا کہتے ہی وہ ڈریسنگ پر رکھا فورک اپنی کلائی پر رکھ گئی کے اس کی حرکت پر حازم نے چونک کر اسے دیکھا
یہ کیا بدتمیزی ہے عرین…پیچھے کرو اسے!
آپ جائیں یہاں سے ورنہ میں اس سے خود کو نقصان پہنچاؤں گی! وہ باہر سے حائنہ کی مسلسل آتی آواز پر اپنی کلائی پر فورک کی چاروں نوک رکھ کر اس پر دباؤ بڑھا گئی
میں دروازہ توڑ رہی ہوں اب عرین! حائنہ کی پکار کر اسنے بے ساختہ دروازے کی طرف دیکھا کے اس کا دھیان ہٹا دیکھ کر حازم نے برق رفتاری سے اس سے وہ فورک چھین پر زمین پر پھینکا
ہاؤ ڈئیر ….. عرین کہتے کہتے اسکے چہرے کی سختی دیکھ خاموشی اختیار کر گئی
آئندہ اگر تم نے اس طرح کی کوئی حرکت کی تو آئی سویر میں تمہیں تمہارے ان قدموں پر رکھا نہیں رہنے دوں گا.. وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتا اس کی کلائی پر لب رکھے تیزی سے کھڑی کے راستے باہر نکل گیا کے وہ کافی لمحے اس کے لمس میں کھوئی رہی تھی پھر کچھ یاد آنے پر اسنے بے اختیار وہ کانٹا اٹھا کر اسی جگہ پر گاڑھ دیا جس پر وہ ابھی کچھ لمحے پہلے اپنی مہر چھوڑ کر گیا تھا
ایک سسکی سی اس کے لبوں ست نکلی مگر وہ اپنے آنسو اور خون چھپا کر دروازے کی جانب بڑھ گئی
جہاں حائنہ اسی کے انتظار میں کھڑی اسے گھور رہی تھی
شکر ہے آج کی تاریخ میں دروازہ کھل گیا ہے!
”ہاں میں واشروم تھی…“
تم تیار کیوں نہیں ہوئی ابھی تک؟ جلدی سے بال بناؤ اوع باہر چلو لوگ تمہارے منتظر ہیں! حائنہ اسے برش پکراتے ہوۓ بولی ایکسائٹمنٹ میں وہ اس کی چوٹ پر غور ہی نہیں کر سکی تھی
