357.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 10

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

یہ خوشیاں فریب دیتی ہیں

در حقیقت غم ہی وفا نبھاتے ہیں….

بھائی یہ کیا کہ رہے ہیں آپ؟ حنان جو ابھی لوٹا تھا حازم کے الفاظ اور سامنے کا منظر اسے ساکت کر گیا

حنان ڈیڈ کو سہارا دو یہ وقت کمزور پڑنے کا نہیں ہے! حازم عالم خان کو اٹھانے لگا جب حنان نے اسے روکا تھا

میں اصغر کے ساتھ ڈیڈ کو روم میں لے جاتا ہوں آپ عرین اور ڈیڈ کے لیے ڈاکٹر کو بلائیں! حنان نے اس کی توجہ عرین کی طرف کی جو حائنہ کی گود میں بے سد سی آنکھیں بند کیے لیٹی تھی اس طرح لیٹٹنے سے ممکن تھا اسکی ساڑھی سے جسم عیاں ہو اگلے ہی لمحے وہ اپنی ساری سوچیں جھٹک کر عرین کی طرف لپکا

حائنہ میرے ساتھ آؤ! اسے احتیاط سے اپنے بازو میں بھرے حائنہ سے کہتا وہ اسکے اور حائنہ کے مشترکہ کمرے کی طرف بڑھ گیا عرین کو بیڈ پر لیٹانے کے بعد وہ حائنہ کی طرف مڑا جو مستقل آنسو بہا رہی تھی

بس میرا بچہ…خود بھی چینج کرو اور اسے بھی چینج کرواؤ! حازم اسے خود سے لگاۓ اسکا سر تھپتھپاتا بولا

جی بھائی!

”ہمت کرو بچے“ حازم اس کا سر تھپتھپاتا باہر نکل گیا ابھی اسے بہت کچھ دیکھنا تھا

نیچھے آتے ہی اسکا سامنا الیانہ سے ہوا جس کے چہرے پر مسنوئی دکھ بھی نہیں تھا

میرے خیال میں آپ کو اس وقت ڈیڈ کے پاس ہونا چاہیے! حازم نرمی سے بولا

اور میرے خیال سے تمہیں اس وقت عرین کے ساتھ ہونا چاہیے! الیانہ جتانے والے انداز میں بولی کے ان کی بات پر حازم چونکا

مطلب؟

مطلب یہ کہ اس وقت وہ ٹوٹ چکی ہے اسے کسی سہارے کی ضرورت ہوگی اور اس وقت تم سے اچھا سہارا بھلا کون ہوگا؟ میں چاہتی ہوں تم عرین کے ساتھ ٹائم اسپینڈ کرو تاکہ وہ جلد از جلد تم سے نکاح کے لیے راضی ہو جاۓ اور میری جائیداد میرے پاس واپس لوٹ جاۓ….الیانہ سامنے دیوار کو دیکھتی پرسوچ سی بولیں

ان کی بات پر حازم نے افسوس سے اپنی ماں کو دیکھا

یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے موم…مجھے نہیں لگتا آپ اتنی بے حس ہیں کہ اس وقت یہ باتیں لے کر بیٹھ جائیں آپ کو اس وقت ڈیڈ کے پاس ہونا چاہیے! حازم ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا کے اس کے لہجے کے سرد پن پر الیانہ کھسیانی ہو گئیں

” میری جان مجھے تمہارے چاچو کا بہت افسوس ہے مگر مجھ سے تمہارے ڈیڈ کی یہ حالت نہیں دیکھی جا رہی تھی اسئلے باہر آگئی“ اب کے وہ مصنوئی افسوس سے بولیں جس پر حازم سر اثبات میں ہلاتا فون پر حمزہ کی کال آٹینڈ کیے باہر نکل گیا

ہاں بولو!

سر ڈیڈ باڈی کل صبح تک پہنچ جاۓ گی اقبال خان کی سیکٹری نے ساری ڈیلیز جمع کروا دی تھیں! حمزہ اسے ڈیٹیلز بتانے لگا

اوکے تم کدھر ہو؟

گھر ہوں آجاؤں؟

نہیں ابھی رات کافی ہو گئی ہے صبح تم سے بات کرتا ہوں! کال کٹ کرتا وہ پرسوچ انداز میں سگریٹ لبوں سے لگا گیا

مجھے یقین ہے تم میری بیٹی کا خیال رکھو گے

جب تک میں واپس نا آؤ تم اس نکاح کو کسی کے سامنے آنے مت دینا

میں نہیں چاہتا کوئی میری بیٹی کے کردار پر انگلی اٹھاۓ! اقبال خان کے آخری الفاظ اس کے ذہن میں گونجے تھے بے ساختہ اسنے اپنی آنکھیں کھولی

وہ الجھنے کا عادی نہیں تھا مگر ہر گزرتا دن اسے مزید الجھن میں ڈالے جا رہا تھا

******************

اٹھ جا رعنین یونیورسٹی نہیں جانا آج؟شمیم اسے اٹھانے کی کوشش کرتی بولیں

اٹھ رہی ہوں اماں!

اٹھ جاؤ پھر جلدی آجانا ہم نے آج باجی کی طرف بھی جانا ہے!

کیوں اب کیا ہو گیا؟ رعنین ابرو اچکا کر پوچھنے لگی

”وہ ہم کل ایرج اور عرین سے ملے تھے نا عرین کے والد کا انتقال ہو گیا….“ ان کے الفاظ کسی ہتھورے کی طرح رعنین کو لگے تھے

واٹ؟ لیکن کیسے کل کتنی پریشان ہو رہی تھی وہ بیچاری! بے ساختہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے تھے وہ خود بن باپ کی بیٹی تھی

ہاں بس اللہ صبر دے اللہ سب کو اس تکلیف دور رکھے! شمیم افسردگی سے بولیں

آمین…میں فریش ہوجاتی ہوں یونی سے واپسی پر ہم ان کی طرف چلیں گے! ان سے کہ کر وہ واشروم کی طرف بڑھ گئی

کچھ دیر وہ بلیک سوٹ پہنے سادہ سے حویلے میں گھر سے نکل گئی تھی آج اسے وقتی بس بھی مل گئی تھی مگر نجانے کیوں اس کے ذہن میں بار بار عرین کا خیال آرہا تھا وہ بھی تو عرین کی طرح اپنے ڈیڈ سے اتنی اٹیچ تھی اور ان کے بعد اس کی زندگی جس طرح سے بدلی تھی یہ محض وہی جانتی تھی

یونیورسٹی سے اسنے بارہ بجے ہی اوف لے لیا تھا

تم اکیلے کیسے جاؤ گی؟ علینہ نے پریشانی سے کہا

جیسے جاتی ہوں! وہ کندھے اچکاۓ بولی

ارے بیواقوف روز تو تمہیں بس چھوڑنے جاتی ہے آج کیسے جاؤ گی یہاں تو آٹو بھی آگے جاکر ملے گا! علینہ اسے سمجھانے لگی

ہاں کہے تو ٹھیک رہی ہو مگر میں لیٹ نہیں کر سکتی جنازہ ظہر کے ٹائم ہے اماں اور مجھے جلدی پہنچنا ہے وہاں…میں باہر جاکر دیکھتی ہوں تم بے فکر رہو! رعنین سے کہ کر وہ باہر کی طرف قدم بڑھا گئی

یہ کہاں گئی ہے؟ اس کے جاتے ہی المان علینہ کے پاس آیا

وہ کچھ ایمرجنسی ہو گئی تھی اسلیے جلدی چلی گئی! علینہ کے بتانے پر اسنے سر ہلایا

آپ کیوں پوچھ رہے ہیں…؟علینہ نے تشویشی انداز میں پوچھا

میں تو ویسے ہی پوچھا تھا….المان کندھے اچکا کر بولا کے اس کے انداز پر علینہ منہ بگاڑ کر اپنی کلاس میں چلی گئی

یونیورسٹی سے نکل کر وہ اکتا کر ادرگرد دیکھنے لگی جہاں کوئی رکشہ تو دور کوئی زی روح تک نظر نہیں آرہی تھی

یا اللہ اب تو مجھے ایک کلو میٹر تک پیدل ہی جانا پڑے گا اللہ میاں پلزز کسی رکشے کو بھیج دیں آپ تو جانتے ہیں میں کتنی سست ہوں مجھ سے تو ایک کلو میٹر بھی چلا نہیں جانا! خود سے کہتی وہ مرے مرے قدموں سے چل رہی تھی جب اچانک دو بائیک نے اسکا راستہ روکا

اوہو لگتا ہے پاپا کی پری تھک گئی ہے تم کہو تو ہم چھوڑ دیں تمہیں؟

میرا دماغ خراب مت کرو اور اپنا راستہ ناپو! رعنین ان دو اجنبی لوفروں کو دیکھ کر تیش سے بولی

اوہو لگتا ہے پری برا مان گئی!

تم لوگ… اس سے پہلے وہ کچھ کہتی اس کی نظر اس لڑکے کے ہاتھ میں موجود گ*ن پر گئی اور اگلے ہی لمحے اسکے پورے جسم میں لرزا سا طاری ہوا

کککون ہو تتتم لوگگگ….. بے اختیار وہ دو قدم پیچھے ہوئی جب وہ لڑکے بائیک سے اتر کر اس کے قریب ہوۓ تھے

پپپیچھے رہوو ورنہ ممیں چلاؤں گی! ناچاہتے بھی اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے تھے الٹے قدموں چلتے چلتے اس کی کمر اچانک دیوار سے لگی تھی

آگے راستہ ختم ہے! اسنے سوچا اور پھر اسے اپنے سر سے چادر سرکتی محسوس ہوئی تھی

اللہ میاں….! وہ محض اتنا ہی کہ پائی تھی اور اگلے پل ان دونوں لڑکوں نے اس سے اس کی چادر چھین لی ایک سسکی سی اس کے ہونٹوں سے نکلی اور اسنے آنکھیں بند کرکے خود کو اللہ کے سپرد کیا جبھی کسی نے آکر ان دو لڑکیوں کو پکڑ کر پیچھے کی طرف دھکیلا

سالوں تمہیں تو میں چھوڑوں گا نہیں…یہ آواز سنتے ہی رعنین نے فٹ سے آنکھیں کھولی سامنے موجود شخص کو دیکھ کر آج پہلی بار اسے سکون ملا تھا

بغیرت لوگوں…المان دیوانہ وار ان دونوں کو مارتا ان کی نکلی گ*ن کو کہیں دور پھینک چکا تھا

المان خان نام ہے میرا اپنی یہ منہوس شکل گم کرو نہیں تو جس کھولنے سے تم کھیل رہے ہو یہ میری جیب میں اب بھی موجود ہے جس کی صرف ایک گو*لی ہی تجھے اوپر بھیجنے کو کافی ہے! المان کے دھاڑنے پر وہ دونوں تیزی سے وہاں سے بھاگے تھے

ان کے جاتے ہی المان تیزی سے رعنین کی طرف آتا اس کی زمین پر پڑی چادر اٹھا کر اسے اڑا گیا

کیا ضرورت تھی تمہیں یوں اکیلے نکلنے کی….آخر تم سمجھتی کیا ہو خود کو ہاں؟ اگر ابھی میں یہاں نہیں آتا تو جانتی ہو تمہارے ساتھ کیا ہو جاتا؟ المان سارہ لحاظ بکاۓ تاک رکھے چلایا

ممجھے نہیں ہتا تھا یہ سب ہو جاۓ گا!

کیسے نہیں پتا تھا تمہیں؟ جانتی ہو یہ لوگ اس چیز میں ماہر نہیں تھے مگر شکار کو کون نظرانداز کرتا ہے؟ بیٹھو گاڑی میں! اس کے غرانے پر خاموشی سی اپنے آنسو صاف کرتی اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی تھی

کہاں جانا ہے تم نے؟ وہ ہنوز سختی سے پوچھ رہا تھا

میرے گھر چھوڑ دو! رعنین سوں سوں کرتی بولی

آج جلدی جانے کی وجہ جان سکتا ہوں مطلب سب خیریت ہے نا؟ اب کے اس کا لہجہ زرا نارمل تھا

ہاں وہ ہمارے relative میں ڈیتھ ہو گئی ہے شاید تم جانتے ہو عالم خان…. یہ نام سنتے ہی المان نے چونک کر اسے دیکھا

عالم خان سے تمہارا کیا رشتہ ہے؟

وہ میرے خالو ہیں! رعنین عام سے انداز میں بولی کے اس کی بات پر المان نے حلق تر کیا

ویسے تمہیں کیسے پتا لگا کے میں مشکل میں ہوں تم کیا جاسوسی کر رہے تھے میری؟ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ اپنی کالونی آتے دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی

دل جس پر اٹک جائے اس کی خبر لینے کے لیے جاسوسی کی ضرورت نہیں پڑتی! وہ گھمبیر لہجے میں کہتا بریک لگا گیا کے اس کے انداز پر رعنین کا دل بے اختیار دھڑکا

تھینکس! پھیکی مسکراہٹ سے کہتی وہ گاڑی کا دروازہ کھولے آگے بڑھ گئی

عالم خان کی بھانجی گریٹ! اس کے جاتے ہی المان پرسوچ سا کہتا گاڑی زن سے بھاگا گیا

********************

میری جان میں جلدی آجاؤ گا

بس بیٹا زندگی کا کچھ نہیں پتا!

ڈیڈ۔۔۔۔! ایک جھٹکے سے اٹھی تھی

عرین۔۔! حائنہ جو اسکے ساتھ بیٹھی تھی فوراً سے الڑٹ ہوئی وہ صبح سے ایسے ہی بے ہوشی کی حالت میں تھی

میرے ڈیڈ کہاں ہیں۔۔۔۔مجھے میرے ڈیڈ کے پاس جانا ہے۔۔۔ وہ ہذیانی کیفیت میں باڈی کی طرف لپکی

عرین میرا بچہ ایسے ڈیڈ کو تکلیف ہوگی! ایرج نڈہال سی اسے خود سے لگاتی بولیں

نہیں موم آپ جانتی ہیں میں نہیں رہے سکتی ڈیڈ کے بغیر…میں میں مر جاؤں گی موم پلززز آپ کہیں ڈیڈ سے وہ اٹھیں میرا کوئی نہیں ہے. موم کوئی بھی نہیں ہمم کیسے رہیں گے یہاں… روتے روتے وہ ایک بار پھر غش کھا کر گری تھی اس لمحے اس کی حالت دیکھ کر رعنین کی بھی سسکی بلند ہوئی

اجازت دیں چاچی! حازم کی آواز پر عرین تڑپ کر مڑی

نہیں میں اپنے ڈیڈ کو کہیں نہیں جانے دوں گی کہیں بھی نہیں…. کرب سے کہتی وہ بے اختیار اوپر کی طرف بھاگی تھی

عرین! حائنہ اس کے پیچھے جانے لگی مگر حازم کے اشارے سے رک گئی

میں دیکھتا ہوں! اس سے کہ کر وہ عرین کے پیچھے گیا

اوپر آتے ہی وہ اقبال خان کے کمرے میں جاتی قدرے سائڈ پر بیڈ سے ٹیک لگا کر چھپ سی گئی تھی آیا جب تک وہ چھپی رہے گی اس کے ڈیڈ کو کوئی نہیں لے جاۓ گا

حازم اسے اسکے روم میں دھونڈنے کے بجاۓ کچھ سوچتے ہوۓ اقبال خان کے کمرے میں آیا جہاں وہ کہیں نظر نہیں آئی اس سے پہلے وہ پلٹتا اس کی نظر بیڈ کے قریب بیٹھے کسی لرزتے ہوۓ وجود پر گئی بے ساختہ اسنے اپنے قدم اس کی جانب بڑھا دیے

عرین! بہت ہی نرمی سے پکارا تھا

عرین! اب کے وہ جھک کر اسکا کندھا ہلا گیا ہے اسکے ہلانے سے وہ ہوش میں آتی اٹھ کر بے اختیار اسکے سینے سے لگتی اسے ساکت کر گئی

پلززز پلزز میرے ڈیڈ کو مت لے کر جائیں پلززز! اس کے سینے سے لگی وہ مستقل اپنا نفی میں ہلاۓ بولی حازم ساکت کھڑا تھا جب وہ اگلے ہی لمحے اس سے پیچھے ہوتی اس کے سامنے. اپنے ہاتھ جوڑ گئی

پلززز میرے ڈیڈ کو مت لے جائیں…. اس کی آواز پر وہ ہوش میں آیا ایک نظر اس کے جڑے ہاتھوں کو دیکھ کر اس کے چہرے کو دیکھا جو رونے کی وجہ سے سوجھ سا گیا تھا آنکھوں کی حالت اس کی تکلیف چیخ چیخ کر بتا رہی تھیں اسے اس وقت اس معصوم سی لڑکی پر بے حد ترس آیا تھا ایک نظر دوبارہ اس کے جڑے ہاتھوں کو دیکھا اور پھر نرمی سے اس کے بخار کی شدت سے تپتے ہوۓ ہاتھوں کو نرمی سے اپنے سرد ہاتھوں میں لیےبولا

دیکھو عرین یہ غلط بات ہے یہ سب کرکے تم اللہ کو ناراض کر رہی ہو کیا تم چاہتی ہو جب تمہارے ڈیڈ اللہ تعالی کے پاس جائیں تو انہیں تمہاری کسی حرکت سے دکھ پہنچے؟ اس کے پوچھنے پر وہ نفی میں سر ہلا گئی

تو پھر کیوں کر رہی ہو ایسے؟ میرا یقین کرو تمہارے ڈیڈ بہت اچھی جگہ پر جا رہے ہیں ان کے لیے رکاوٹ مت بنو بلکہ اچھے بچوں کی طرح ان کے لیے آسانی کرو! حازم مزید نرمی سے بولا

مگر…مگر مجھے لگ رہا ہے اگر میں نے ڈیڈ کو جانے دیا تو میرا دل پھٹ جاۓ گا! وہ ہچکیوں سمیت بولی کے حازم نے افسوس سے اسے دیکھا

اگر آپ نے ڈیڈ کے لیے کچھ کرو گی تو دل کو بھی سکون آجاۓ گا ٹرسٹ می انہیں جانے دو یہی ان کے لیے اچھا ہے…

اب نیچے آرہی ہو نا؟ اس کے پیار سے پوچھنے پھر وہ اثبات میں سر ہلا گئی

**********************

تین دن بعد:

اقبال خان کی ڈیتھ کو آج تیسرہ روز تھا ان تین دنوں میں عرین اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی اسنے اب اپنا کمرہ اقبال خان کے ساتھ والے کمرے کو بنا لیا تھا جبکہ ایرج زیادہ تر آئمہ بیگم کی طرف ہوتی تھیں جو اقبال خان کے بعد زیادہ کمزور اور بوڑھی ہو گئیں تھیں

ایسا ہی کچھ حال عالم خان کا تھا مگر وہ حازم کی توجہ کی وجہ سے زیادہ بیمار نظر نہیں آتے تھے

تو کیا سوچا ہے آپ نے؟ وہ لوگ اس وقت ڈرائنگ روم میں موجود تھے

میں نے سوچا ہے اس معاملے کی تہ تک جاؤں گا مجھے چاچو کا ایکسیڈنٹ نارمل نہیں لگ رہا! حازم پرسوچ انداز میں بولا

پھر آپ کو کیا لگتا ہے یہ سب کون کروا سکتا ہے؟ حمزہ نے تجسس سے پوچھا یہاں ان دونوں کے سوا کوئی موجود نہیں تھا

وقت سے پہلے اپنے شک کو ظاہر کرنا بےواقوفی ہے! حازم سرد لہجے میں بولا جس پر حمزہ بھی چپ لگا گیا

سر آپ سے ایک بات پوچھنی تھی!

پوچھو!

سر آپ نے اپنے نکاح کے بارے میں الیانہ میم کو آگاہ کیوں نہیں کیا وہ تو آپ کے نکاح کے لیے سب سے زیادہ خوش تھیں!

کیوں کہ میں نہیں چاہتا میری یا میری موم کی وجہ سے اس معصوم کے ساتھ کچھ غلط ہو…نجانے چاچو کا کیا پلان تھا اس نکاح کے پیچھے! حازم پرسوچ سا بولا

کیا مطلب؟

مطلب یہ کہ مجھے لگتا ہے میں نے جلد بازی میں عرین سے نکاح کا غلط فیصلہ کیا ہے….! اس سے پہلے حمزہ اسے کوئی جواب بیٹا حائنہ نے روم نوک کیا

بھائی وہ…عرین کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپ پلزز ڈاکٹر لے کر جائیں! حائنہ کے کہتے ہی وہ سر کو خم دیے اٹھا

میں آؤ بوس؟

نہیں میں خود لے جاؤں گا! اس کے کہنے کے بعد وہ تیزی سے باہر نکل گیا

اور یہ کہتے ہیں ان سے غلط فیصلہ ہوا ہے! حمزہ سر جھٹک کر بولا