Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389 Mehram-e-Raaz Episode 7
Rate this Novel
Mehram-e-Raaz Episode 7
Mehram-e-Raaz by Syeda Shah
واٹ ہیپنڈ اٹھو عرین! حازم نے با مشکل ضبط کرکے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے وہ فوری سے تھام کر اسکے پیچھے چھپی تھی
مجھے نہیں پڑھنا یہاں آپ مجھے واپس لے جائیں پلززز!! اس کے بازو کے پیچھےاپنا چہرہ چھپاۓ وہ روہانسی ہوکر بولی
آئی ایم سوری گرل میں زرا ایسی ہی ہوں کوئی کام آج تک مجھ سے ٹھیک سے نہیں ہوا آئی ہوپ تم مجھے معاف کردو گی ابھی تو میرا ٹیسٹ ہے میں چلتی ہوں! رعنین سامنے موجود اس معصوم سی لڑکی کے آگے اس سخت تیور لیے آدمی کو دیکھ کر فٹ سے کہتی چلتی بنی اس سے پہلے وہ شخص اسکا گلا دبا دیتا
بھائی کیا ہوا اسے اتنا گھبرائی ہوئی کیوں ہے؟ حنان اس کی کنڈیشن دیکھ کر پریشانی سے بولا
تم کہاں تھے؟ میں نے اسکے پاس کھڑا رہنے کو کہا تھا نا؟ حازم نے سرد لہجے میں سوال کیا
وہ بھائی مجھے ایک پرانے سر مل گئے تھے اسئلے چلا گیا آئی ایم سوری!
تم جاؤ میں اسے لے کر آتا ہوں! اس کی بات سن کر وہ تحمل سے بولا کے حنان سر جھکاۓ اپنی کلاس کے لیے چل دیا آج اسکا پہلا دن تھا
میری بات سنو لڑکی…..
مجھے نہیں جانا آپ کو کہ دیا نا میں نے مجھے نہیں پڑھنا یہاں…میں ڈیڈ کے ساتھ آج ہی آسٹریلا چلی جاؤں گی! اپنے آنسو ہاتھوں کو پشت سے رگرتی وہ تیزی سے یونی کے گیٹ سے نکل گئی کہ حازم محض اسے دیکھ کر رہے گیا
اندر چلو عرین…میرا صبر مت آزماؤ! اگلے دو منٹ میں وہ اپنی گاڑی کے پاس کھڑا اس کے سر پر تھا
میں نے کہ دیا نہ مجھے نہیں جانا….وہ وہ سب ممجھے ایسے دیکھ رہے تھے, ہننس رہے تھے! وہاں کا منظر یاد کرکے اس کے رونے میں مزید تیزی آئی مگر اس بار اس کے رونے پر حازم نرم پڑا
میری بات سنو چھوٹی لڑکی…آئی نو تمہارے لیے یہ سب نیو ہے بٹ تمہیں یہاں ہر جگہ اسی ٹائپ کے لوگ ملیں گے یہاں کے لوگ برے نہیں ہیں تمہیں اسٹرونگ بننا ہوگا اگر تم یونیورسٹی نہیں جاؤں گی تو پھر یہاں کی عدالتوں کو کیسے فیس کرو گی یہاں فی میل لائرز کو بہت کچھ فیس کرنا پڑتا ہے! وہ اپنی نیچر کے برعکس نرمی سے گاڑی کے دروازے پر ہاتھ رکھے اسے سمجھانے لگا جب کہ اس کے اس انداز پر عرین نے بےساختہ نظریں جھکا لی تھیں وہ اس سے زیادہ دوری پر نہیں تھا
اب بھی گھر جانا ہے؟
نہیں! اس کے نرم انداز پر وہ ہولے سے نفی میں سر ہلا گئی
گڈ گرل اب اندر چلو…ایک دو دن آکر دیکھو اگر پھر بھی تم یہاں کمفرٹیبل نہیں ہوتی تو ہم دوسری یونیورسٹی دیکھیں گے! نرمی سے کہتا وہ اسکی ایک سائیڈ سے ڈھلکی ہوئی چادر کا سراہ اس کے ہاتھ میں پکڑا گیا جسے عرین نے فورا ہی ٹھیک سے بازو پر پھیلایا تھا
اسے عرین سے چادر لینے کی توقع نہیں تھی مگر اس کی فرمابرداری پر دل کا گوشا نرم ضرور پڑا تھا
یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہی اب اسے ماحول نارمل سا لگا تھا شاید کوئی اسے پہچانتا نہیں تھا اسئلے کوئی اس پر واپس نہیں ہنسا تھا
دیکھا اب سب نارمل ہے! حازم عام سے انداز میں بولا وہ اب اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا جب اس کی نظر اس کے عرین سے کچھ فاصلے پر چلتے المان ملک پر گئی
سینکڈوں کی تیزی سے وہ عرین کے آگے آیا تھا کے اس کے اچانک اپنے آگے آنے پر وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی المان موبائیل میں مصروف ہونے کے باعث اسے دیکھ نہیں سکا تھا
**********************
کلاس میں آتے ہی اسنے سکھ کا سانس لیا تھا
اففف اللہ میاں ابھی وہ جلاد میرے پیچھے پڑ جاتا! رعنین کلاس میں آتے ہی شکر ادا کرتی بولی .
ایکسکیوز می! پیچھے سے آتی انجانی آواز پر وہ پلٹی جہاں اسے ایک خوبرو نوجوان اپنے پیچھے کھڑا دیکھائی دیا
کیا بات ہے؟
مس یہ کلاس آپ کی ہے کیا؟ حنان اسکے روائیے پر حیرت سے بولا
جی بلکل آپ نیو اسٹوڈنٹ ہیں؟ وہ لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ باندھے پوچھنے لگی
یس سوری مس میں سمجھا آپ اسٹوڈنٹ….
”کیا کر رہی ہو کیوں ہر کسی سے پنگے لیتی ہو
سوری یہ جسٹ مزاق کر رہی ہے“ علینہ اسے جھڑک کر حنان سے مخاطب ہوئی جو حیرانی سے ان دونوں لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا جو کسی آفت کی طرح اس کے سر پر آگئی تھیں
ایکسکیوز می دیکھیں مسز مجھے آپ لوگوں میں بلکل انٹرسٹ نہیں ہے بہتر ہے آپ مجھے جانے کی جگہ دے دیں! سرد لہجے میں کہتا وہ آگے کی طرف بڑھ گیا کے اس کے جمعلے پر رعنین منہ کھولے رہے گئی
”ہاؤ روڈ مجھے تو اسکا اور اس کھڑوس انسان کا کوئی رشتہ لگتا ہے“ رعنین منہ بنا کر فرسٹ سیٹ پر بیٹھ گئی پہلی بار کسی نے اسے یوں نظرانداز کیا تھا
کچھ ہی دیر میں. عرین نے کلاس میں داخل ہوکر حنان کے ساتھ بیٹھ کر اسکا شک یقین میں بدل دیا تھا
دیکھا یہ اسی کھڑوس کا لگتا سگتا ہے!
چپ کرجاؤ رعنین لوگوں کو گھورنا بند کرو اور ٹیسٹ کی تیاری کرو! علینہ کے آنکھیں دیکھانے پر وہ منہ بناتی چہرہ بوکس پر جھکا گئی
**********************
دوپہر کے تین بجے انہیں درائیور نے پیک کیا تھا اور اگلے پندرہ منٹ میں گاڑی سبز حویلی کے آگے رکی تھی
حویلی کے اندر داخل ہوتے ہی اریج اسے ٹی وی لاونج میں آئمہ بیگم کے ساتھ چاۓ پیتی نظر آئی
ارے میرا بچہ آگیا؟ کیسا رہا پہلا دن؟ اریج اسے دیکھ کر مسکراتے ہوۓ بولیں
صحیح گزر گیا!
صرف صحیح میرا تو بہت اچھا گزرا! حنان ایکسائٹڈ سا بولا
عرین کے لیے یہ سب نیا ہوگا نہ ایڈجیسٹ کرنے میں ٹائم لگے گا! حائنہ عرین کے پاس آتی مسکرا کر بولی
ہمم مجھے بھی یہی لگتا ہے یہ ایک دو دن تک ایدجیسٹ کر لے گی نہیں تو کچھ اور کر لیں گے ! حنان نے لیلی کے ہاتھ سے جوس پکڑ کر سہولت سے کہا
ڈیڈ کہاں ہیں موم؟ اسنے ادر گرد نظر گھما کر پوچھا
وہ زرا کام سے گئے ہیں آج ان کی آسٹریلا کی فلائٹ ہے!
واٹ؟ آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا اتنے سے ٹائم میں میری پیکنگ کیسے ہوگی؟
تمہاری پیکنگ نہیں تم اور میں یہی ہیں…. ابھی صرف تمہارے ڈیڈ جا رہے ہیں انہیں کام ہے! ایرج نرمی سے بولیں
سب خیریت تو ہے موم؟
ہاں میرا بچہ بس ڈیڈ کو کچھ ارجنٹ کام ہے!
ٹھیک ہے لیکن میں انہیں کہوں گی جلدی آئیں میں ان کے بغیر نہیں رہے سکتی….! وہ اداس دل سے بولی اس کے لیے اقبال صاحب سے کچھ دیر کی دوری بھی دشوار تھی
ٹھیک ہے چلو اب ریسٹ کر لو! اریج کے کہنے پر وہ سر کو خم دیتی اپنے روم کی طرف بڑھ گئی
********************
اسلام و علیکم! گھر میں داخل ہوتے ہی اسنے اعلانیہ کہا تھا
وعلیکم السلام! شمیم کی آواز کچن سے آتی دیکھ کر وہ بیگ باہر رکھے صوفے پر ڈالے کچن کی طرف آئی
کیا کر رہی ہیں اماں؟
ٹنڈے گوشت بنا رہی ہوں…جاؤ جاکر منہ ہاتھ دھو آؤ! شمیم مسکرا کر کہنے لگی
جبکہ ٹنڈے گوشت کا نام سن کر رعنین کا منہ بن چکا تھا
رہنے دیں مجھے بھوک نہیں ہے! اس کی بات پر شمیم نے آبرو اچکا کر اسے دیکھا
چپ چاپ کھا لو کتنی بار کہا ہے زرق کی نا شکری مت کیا کرو اللہ ناراض ہوتا ہے! شمیم نے اسے آنکھیں دیکھا کر کہا
اچھا کھا رہی ہوں! وہ فوری سے منہ بنا کر بولی
شاباش میری بیٹی…اب جلدی سے کھا لو پھر مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے!
خیر تو ہے؟ وہ کچھ حیران ہوئی
وہ دراصل کل تمہارے آنی کے گھر ایک فنشن ہے ہمیں بلاوا آیا ہے! شمیم جھجھک کر بولیں
ہمم خیر ہے تقریبا دس سال بعد آپ کی بہن کو اس غیر بہن کی یاد کیسے آگئی؟
بری بات ہے رعنین ایسے نہیں کہتے جو ہوا وہ ہوا اب اگر وہ ہماری طرف ہاتھ بڑھا رہے ہیں تو ہمیں بھی پرانی باتیں بھول جانی چاہیے!
لیکن اماں!
”میں کچھ نہیں سنو گی ہم کل ان کے ہاں جائیں گے….مجھے اپنی بہن سے ملنا ہے اب آج اس کا خاص ملازم مجھے خاص طور پر انوائیٹ کرکے گیا ہے“
ٹھیک ہے پھر آپ چلی جائیے گا! غصے سے کہ کر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی اسے چڑھ ہی تو تھی اس گھرانے سے جس کے لیے اس کی ماں راتوں کو اٹھ اٹھ کر روئی تھی
