357.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 14

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

وہ دھڑکتے دل سے اس کے کمرے سے نکلی تھی اس کے روم سے تھوڑا آگے بڑھ کر اسنے اپنا دل تھاما تھا ہاتھ کی کپکپاہٹ سے وہ چاہ کر بھی خود کو نارمل نہیں کر پا رہی تھی

یہ کیا تھا؟ وہ اس کی باتیں سوچتی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں سے کہتی اپنے روم میں آئی

دے آئی کافی؟ حائنہ جو اس کے انتظار میں بیٹھی تھی اس کے آتے ہی پوچھنے لگی

ہہ ہاں!

کیا ہوا تم ٹھیک ہو نا؟ وہ اس کے لہجے کی کپکپاہٹ دیکھ کر تعجب سے بولی

کککچھ نہیں ممجھے ککیا ہونا ہے؟

آڑ یو شور؟ حائنہ نے ابرو اچکا کر پوچھا

ہاں ہاں تم نے مووی نہیں لگائی؟

لگا لی ہے تم ہی نہیں آرہی تھی اب جلدی سے آجاؤ آج تو بیوٹی آینڈ ڈا بیسٹ دیکھ رہی ہوں لیکن نیکسٹ ٹائم میری مرضی چلے گی!

نہیں تم ایسا کرو ہورل مووی لگا لو! عرین خود کو نارمل کرتے ہوۓ بولی

واٹ؟ مجھے لگتا تمہاری طبیت واقعی خراب ہے!

نہیں نا ٹھیک ہے اگر تمہیں نہیں لگانی تو ٹھیک ہے بیوٹی آینڈ بیسٹ ہی دیکھتے ہیں! اس کے کندھے اچکا کر کہنے پر حائنہ فوری سے ہورل مووی لگا گئی

اب ڈرنا مت….! اس کے کہنے پر وہ محض سر ہلا کر رہے گئی اندھیرے کی وجہ سے حائنہ اس پر توجہ دینے کی بجاۓ مووی پر غور کر رہی تھی جبکہ وہ اس وقت سکرین پر نظریں جماۓ کچھ دیر پہلے والا واقعہ سوچ رہی تھی جس کے بعد اس کے لبوں سے مسکراہٹ ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی

*********************

کیا ہوا سر میں درد ہے کیا؟ شمیم اسے اپنا سر مسلتے ہوۓ دیکھ کر بولیں

نہیں نہیں بس ویسے ہی ٹیسٹ کی ٹینشن ہے اماں! اسنے بہانہ پیش کیا تھا جبکہ دماغ میں اس کی باتیں گردش کر رہی تھیں

تو زیادہ مشکل ٹیسٹ ہے کیا؟

.

”ہم اورل نکاح کر لیتے ہیں“یکدم المان نے الفاظ اسکے کانوں میں گونجے

نکاح؟ وہ زیرے لب بڑبڑائی

کیا؟

ککچھ نہیں اماں آپ کیا پوچھ رہی تھیں؟

میں تم سے ٹیسٹ کا پوچھ رہی ہوں اور تم نکاح بول رہی ہو؟ شمیم نے ابرو اچکا کر کہا کے ان کی بات سے رعنین گھبرا کر رہے گئی

جی جی وہ دراصل ٹیسٹ نکاح کے اوپر ہی ہے اوو اورل نکاح لیکن مجھے اس کے بار میں زیادہ پتا ہی نہیں!

اورل نکاح؟ وہ تو شرعی نکاح ہوتا ہے نہ؟ شمیم پرسوچ سی بولیں

جی اماں!

ہاں تو اس میں کیا مشکل ہے شرعی نکاح کی تفصیل یہی ہے کہ یہ نکاح زبانی کیا جاتا ہے لیکن شرط اس کی بھی وہی ہے جو کاغذی نکاح میں ہوتی ہیں مثلا گواہوں کا ہونا حق مہر صیح طریقے سے مقرر کرنا لڑکا اور لڑکی کے اصل باپ کا نام ہونا

اس نکاح میں فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ یہ جسٹر نہیں ہوتا لیکن آپ اسے بعد میں جسٹر بھی کروا سکتے ہیں بس لیکن اس کی اہمیت ایسے ہی ہے جیسے کاغذی نکاح کی اہمیت ہے!

جیسے نبی پاک (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:

”تین چیزیں ایسی ہیں کہ انہیں سنجیدگی سے کرنا بھی سنجیدگی ہے اور ہنسی مزاق میں بھی کرنا بھی سنجیدگی ہے نکاح, طلاق,اور رجعت“ شمیم اسے تفصیل بتانے لگیں

اوہ اچھا! رعنین نے منہ اوہ کی صورت میں بناۓ تھے اس کے لیے یہ انفارمیشن نئی تھی

اور ہاں ایک مسئلہ یہ بھی اٹھتا ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا لیکن بعض جگہ یہ بھی آیا ہے کہ ایک لڑکی اپنا ولی خود بھی بن سکتی ہے اب اللہ جانے اس میں کیا بات ٹھیک ہے یا کیا نہیں تم بس اتنا ہی لکھ دینا! شمیم اب بیڈ پر لیٹتی بولیں

کہاں لکھوں؟ ان کی بات پر رعنین نے ناسمجھی سے پوچھا

کیا مطلب تم نے ہی تو کہا ہے تمہارا ٹیسٹ ہے دماغ کہاں ہے تمہارا؟ اب کے شمیم نے کچھ پریشانی سے اسے دیکھا تھا

اوہ ہاں میرا دماغ بھی آج کل پتا نہیں کہاں رہتا ہے سوری اماں!

جلدی لائٹ بند کرکے سو جاؤ یہ سب دیر تک جاگنے کا نتیجہ ہے! شمیم اسکے سر پر چٹ لگا کر کہتی اپنے اوپر چادر تان گئیں کے وہ اب ان کی باتوں پر گہری سوچ میں پڑھ گئی تھی

**********************

آج کی صبح وہ کسی الرام کے بغیر ہی اٹھ گئی تھی ذہن پر بس ایک وہ شخص سوار تھا

وہ گھڑی پر ساڑھےساتھ کا ٹائم دیکھتی واشروم کی طرف بڑھ گئی

آٹھ بجے کے قریب وہ فریش سی مہرون رنگ سوٹ پہنے شیشے کے سامنے آتی اپنے کندھے سے تھوڑا نیچھے تک آتے گیلے بالوں کو پشت پر ڈالے کمرے سے باہر آئی

حازم ساڑھے آٹھ بجے کے قریب کورٹ کے لیے نکلا کرتا تھا لیکن آج کل اپنی مصروفیت کے باعث وہ اس کے نیچھے آنے سے پہلے ہی چلا جایا کرتا تھا اسے دیکھے بغیر وہ کل بھی یونیورسٹی میں بے چین رہی تھی یہی وجہ تھی کے وہ آج جلدی اٹھ کر نیچھے ٹیبل پر موجود تھی

ہاۓ عرین ڈئیر آج جلدی اٹھ گئیں؟ الیانہ اسے ٹیبل پر دیکھ کر کچھ سوچتے ہوۓ بولیں

”گڈ مورنک بڑی ماما….جی وہ آج جلدی جانا تھا یونی تو اسئلے اٹھ گئی“

ہمم لیکن حنان تو آج اوف لے رہا ہے اسکے سر میں درد ہے تم جاؤ گی کیسے؟

”ڈرائیور ککے ساتھ چلی جاؤں گی“ عرین جھجھک کر بولی

نہیں یہ بات حازم کو نہیں پسند وہ درائیور کے ساتھ گھر کی لڑکیوں کو نہیں بھیجتا میں ایسا کروں گی حازم سے کہ دوں گی وہ تمہیں ڈراپ کر دے گا…. تم جاکر اپنی موم اور دادی کو دیکھ آؤ! الیانہ نے ذومعانی انداز میں کہا جس پر وہ سر کو خم دیتی آئمہ بیگم کے کمرے میں آئی

جہاں آئمہ بیگم اسے بیڈ پر لیٹے جبکہ ایرج اسے قرآن پاک کی تلاوت کرتی نظر آئیں

اسلام و علیکم!

و علیکم السلام آج میری جان جلدی اٹھ گئی؟ ایرج محبت سے بولیں

جی بس یونی جلدی جانا تھا آپ ٹھیک ہے نا موم؟ آج کل میں آپ کو زیادہ ٹائم نہیں دے پاتی….اسنے شرمندگی سے کہا

ارے نہیں یونی سے واپس پر میرے پاس تو ہوتی ہو اور کیا مجھے نہیں پتا کہ میری بیٹی کو پڑھائی بھی کرنی ہے اور حائنہ کے ساتھ بھی ٹائم اسپنڈ کرنا ہے؟

جی موم!

”تمہارے ڈیڈ کے بعد مجھے لگتا تھا میں تمہیں کبھی ہنستا ہوا نہیں دیکھوں گی لیکن بھلا ہو شمیم کی بیٹی کا جس نے تمہیں صبر کرنے کی ہدایت دی“ ایرج نے اسے خود سے لگاۓ کہا

اور دادی آپ کیسی ہیں؟ اب وہ ان کی طرف متواجہ ہو گئی تھی

مورننگ مسز بیوٹیفل! حازم اپنی کورٹ کی مخصوص پنا کورٹ پہنے ڈائنگ پر آتا الیانہ کی پیشانی چوم کر بولا

فرصت مل گئی ہے میرے بیٹے کو؟

آپ کے لیے کونسی مصروفیت؟ حازم نے ابرو اچکائی

نہیں آج کل زیادہ تر وقت باہر ہی گزارتے ہو ناشتہ تو ساتھ کرکے جایا کرو…!

جی موم دراصل آج کل انور ملک کے کیس کی وجہ سے بزی تھا بہت مشکل سے جاوید خانی کو منایا ہے’

مجھے یقین ہے تم ہی یہ کیس جیتے گے! الیانہ ادا سے بولی

ہممم امید تو یہی ہے ڈیڈ اسلام آباد کے لیے نکل گئے؟ حازم نے سربراہی کرسی کھینچ کر بیٹھے ہوۓ پوچھا

ہاں نکل گئے….

مورننگ بھائی! حائنہ مسکرا کر ڈائنگ تک آتی بولی جبھی عرین نے انہیں جوائن کیا تھا

حازم بیٹا عرین کو ڈراپ کر دینا حنان کی طبیت ٹھیک نہیں ہے تو اسئلے اسنے اوف لیا ہے…! الیانہ اسے ناشتے سے فارغ ہوتے دیکھ کر بولی

بٹ…ٹھیک ہے میں باہر ویٹ کر رہا ہوں! الیانہ کی گھوری پر وہ ہامی بھرتا باہر نکل گیا

میں بھی چلتی ہوں! عرین فوری اپبا سنڈوچ ہاتھ میں اٹھاۓ اپنا بیگ لینے کو بھاگی کے الیانہ کی نظروں سے کافی دور تک اسکا پیچھا کیا تھا اور پھر تلخی سے سر جھٹک کر اپنے ناشتے میں مصروف ہو گئیں

جلدی کرو! وہ پیچھلے دس منٹ سے اسکا انتظار کرنے کے بعد اب بھی اسے سستی سے چلتے آتے دیکھ کر غرایا

آگر آپ کو اتنی ہی جلدی ہے تو چلیں جائیں اکیلے! اس کے غرانے پر وہ منہ پھلاۓ گاڑی میں بیٹھتی بولی

بہت زبان چلنے لگی ہے تمہاری!

”ہاں تو چلانے والی چیز ہے چلاؤں گی ہی اب اگر چپ رہنا ہوتا تو گونگی نا بن جاتی“ اس کی بات پر حازم نے گردن گھما کر اسے دیکھا جو اپنی ناک پھلاۓ سامنے سڑک کو دیکھ کر بول رہی تھی

کس بات پر اتنا غصہ آیا ہوا ہے؟ جانے کیوں وہ پوچھے بغیر نہیں رہے سکا

“آپ کو کیا؟ آپ کو تو بس اپنے ٹائم کی پڑی ہوتی ہے آپ کی وجہ سے ناشتہ نہیں کر سکی میں سنڈوچ لے کر آپ کے پیچھے آئی بھی تو باہر نکلتے نکلتے گر گیا” وہ ہنوز منہ پھلاۓ کہ رہی تھی

تو میں نے تو تمہیں جلدی آنے کو نہیں کہا!

”آپ نے خود نا کہا ہو لیکن میں آپ کو جانتی ہوں“ اس نے سر جھٹک کر کہا

اچھا تو کتنا جانتی ہو تم مجھے؟ اب کے حازم نے گھمبیر لہجے میں اس سے پوچھا کے اس بند گاڑی میں اس کی گھمبیر آواز سے عرین کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی

بولو! اسنے دوبارہ سے پوچھا تھا

مطلب کہ آپ غصہ ہو جاتے نہ! وہ چاہ کر بھی اپنے گالوں کی سرخی چھپا نہیں سکی کے حازم نے اب ایک بھرپور نظر اس پر ڈالی اس کی رنگت اپنے سوٹ کے رنگ کی طرح سرخ سی ہو رہی تھی

تمہیں میرے غصے سے ڈر آتا ہے؟

نہیں مجھے آپ کی ناراضگی سے خوف آتا ہے! وہ نظریں اپنی گود میں رکھے ہاتھوں پر جماۓ بولی کے اسکے جواب سے حازم لاجواب سا ہو گیا

تمہاری منزل آگئی! اس کے کہنے پر عرین نے کھرکی سے باہر دیکھا جہاں اس کی یونیورسٹی کا بڑا سا بوڈ جمگمگا رہا تھا

میری اصل منزل یہ نہیں بلکہ میرے شوہر کا دل ہے جہاں میں نے ساری زندگی قیام کرنا ہے یہ تو محض وقتی جگہ ہے! وہ ایک بار اسے لاجواب چھوڑ کر دروازہ کھولے یونیورسٹی کے اندر داخل ہوگئی

کے اس کے جانے کے بعد حازم نے کافی دیر تک اس کا تعاقب کیا اور پھر مسکرا کر گاڑی کورٹ کی طرف بھاگا گیا

********************

رعنین دو کلاس لینے کے بعد کلاس میں واپس نہیں آئی تھی

آج کچھ خاص ہے کیا جو پہلے رعنین اور اب تم بھی جا رہی ہو؟ عرین نے ابرو اچکا کر پوچھا

رعنین کا تو پتا نہیں لیکن مجھے تو سینئر نے بلایا ہے دو تین دن سے ٹرپ پلان کر رہے ہیں…! اس کے کہنے پر عرین اثبات میں سر ہلا گئی

اور کتنا وقت چاہیے تمہیں؟ المان اسے پرسوچ دیکھ کر بولا

بس مجھے ڈر لگ رہا ہے!

”دیکھو نین تمہیں کیوں سمجھ نہیں آرہی؟ تمہاری اماں تک نے تو تمہیں اس نکاح کی اہمیت بتائی ہے“

ہاں لیکن اگر تم مجھے ایسے ہی بیچ راستے میں چھوڑ گئے تو؟ اسنے اپنا اصل ڈر اس کے سامنے رکھا تھا

تو تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے؟

بات یقین کی نہیں ہے مجھے بس ڈر…

اوکے یار رہنے دو! اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ اکتا کر اس کی بات کاٹتا جانے لگا جب رعنین نے اسکا ہاتھ تھاما

ٹھیک ہے میں تم سے نکاح کے لیے تیار ہوں ابھی اور اسی وقت! وہ ایک ہی سانس میں کہتی گہرا سانس ہوا کے سپرد کرگئی کے اس کی بات پر المان نے خوشگوار حیرت سے اسے دیکھا

پکا؟ اس کے پوچھنے پر وہ سر ہلا گئی

ٹھیک ہے پھر چلو….

کچھ ہی دیر میں سکندر سمیت المان کے کچھ دوست اور علینہ کی گواہی میں انکا نکاح پڑھایا گیا تھا

رعنین حیدر آپ کا نکاح المان ملک ولد انور ملک سے تہ پایا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے؟ یہ آخری بار اس سے پوچھا جا رہا تھا

قبول ہے۔۔۔ اسنے آخری بار یہ لفظ ادا کیے تھے بغیر اپنی ماں کا سوچے

یہی تین سوال اس کے بعد المان سے کیے گئے تھے جس کے بعد وہ رعنین حیدر سے رعنین المان ملک بن گئی تھی

میری دعا ہے المان تمہیں اتنا خوش رکھے کے تمہیں کبھی پچھتانہ نا پڑے! علینہ آنکھوں میں نمی لیے اس سے مل کر بولی

اس کے بعد سب باری باری ان دونوں سے ملے تھے

ویلکم ٹو مائے لائف! المان سب سے ملنے کے بعد اسکے پاس آئے اس کی پیشانی پر بوسہ دیے بولا کے اس اچانک اتفاد پر رعنین حیرت اور شرم سے سرخ ہوتی نظریں جھکا گئی

سب نے ہوٹنگ کی تھی

“میری زندگی میں آنے کا شکریہ میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں بہت جلد پوری دنیا کے سامنے میری بیوی کی حیثیت سے ملواؤں گا” المان اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ لیے بولا جس پر وہ پورے دل سے مسکرا دی

کل ہم آیز آہ کپل اپنے ٹرپ پر جائیں گے! المان آنکھ دبا کر بولا

لیکن اماں نا مانی تو؟

انہیں منانا تمہارا کام ہے!

میں کوشش کروں گی! اس سے کہ کر وہ ایکسکیوز کرتی علینہ کے ساتھ اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئی

بہت مبارک ہو میرے یار! سکندر ایک بار پھر سے اسکا کونہی مارتے ہوئے بولا

بس اب دعا کر موم ڈیڈ بھی جلد مان جائیں!

ایسا ہی ہوگا!

*******************

واٹ ٹرِپ؟ حائنہ حیرت سے بولی

ہاں نا کتنا مزہ آگئے گا موم نے بھی پرمیشن دے دی! عرین مسکرا کر بولی وہ جب سے آئی تھی ایرج کو اپنے ٹرِپ پر جانے کے لیے منا رہی تھی جو صرف رعنین کے ساتھ جانے پر مانی تھیں

ہاں لیکن اپنا خیال رکھنا! حائنہ فکرمند سی بولی

ہاں ہاں میں کونسا دور جا رہی ہوں بس اسلام آباد تک تو جا رہی ہوں وہ بھی بس دو دن کے لیے!

ہاں لیکن اسلام آباد بھی خاصا دُور ہے!

کون کہاں جا رہا ہے؟ الیانہ ان کی باتیں سن کر یہاں آئی

موم عرین ٹرپ پر جا رہی ہے اسلام آباد دو دن کے لیے!

“واؤ یہ تو بہت اچھی بات ہے اسی بہانے عرین پاکستان کا خوبصورت ترین شہر بھی دیکھ آئے گی” الیانہ مسکرا کر بولیں

چلو پھر ہم تمہاری پیکنگ کرتے ہیں کل نکل بھی جانا ہے تم نے! حائنہ کے کہنے پر وہ ایکسائٹمنٹ سے اپنے روم کی جانب بڑھ گئی کے اس کے جاتے ہی الیانہ اپنا دماغ تیزی دے چلاتی اپنا فون اٹھا گئی

ہاں حمزہ۔۔۔کچھ ایسا کرو کہ کل حازم کو اسلام آباد جانا پڑے!

بٹ میم خیریت؟ دوسری طرف سے حمزہ نے تشویشی انداز میں پوچھا

وہ میں بعد میں بتاؤں گی لیکن ابھی بس میں نے جتنا کہا وہ کرو اور ہاں یہ بات تمہارے اور میرے بیچ رہے! الیانہ رازدانہ انداز میں بولیں

اوکے میم آئی ویل ٹرائے مائے بیسٹ! حمزہ کے کہنے پر وہ مسکرا کر کال کٹ کر گئی