451.5K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 21

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

المان کچھ لمحے وہی کھڑے کھڑے انہیں دیکھتا رہا اور پھر تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا

میں آپ کو بتا رہی ہوں ملک صاحب میں کسی معمولی سی لڑکی کو اپنی بہو نہیں بناؤں گی المان کی شادی صرف میری بھانجی سے ہوگی! زہرہ ضدی انداز میں بولیں

چپ کر جاؤ یہ سب کچھ تمہاری ہی ڈھیل کا نیتجہ ہے ریپ اور مڈر کرکے آیا تمہارا لاڈلہ! انور ملک غراۓ

میری وجہ سے؟ کیا میں نے کہا تھا اسے اتنی آشائشیں دیں؟ میں نے کہا تھا کے اس کے کیس پر پردے ڈالیں؟

بلکل تم ہی نے کہا تھا!

ہاں تو آپ نے بھی کبھی روکا نہیں! ان کی بات پر زہرہ خاصا بدمزہ ہوکر بولیں

یہی میری غلطی ہے پہلے دن ہی اگر.تمہیں چھوڑنے کی اور اسے گھر چھوڑنے کی دھمکی دے دیتا تو آج حالات بدل جاتے…اپنے بیٹے کو سمجھا دیا اگر وہ لڑکی اپنی زندگی میں چاہیے تو اس گھر سے نکل جاۓ! انور ملک غصے میں کہ کر کرسی سے اپنا کورٹ اٹھاۓ باہر نکل گئے جب کہ.زہرہ پیچھے اپنا سر جھٹک کر رہے گئیں

***********************

اٹھ جاؤ رعنین یونیورسٹی نہیں جانا؟ شمیم کے مسلسل جگانے سے وہ مشکل سے اٹھی تھی

کیا اماں ابھی تو مشین لگا کر سوئی تھی!

ہاں پتا نہیں کیسے مشین لگائی ہے صبح پانچ بجے مشین لگا کر احسان تو کر دیا تھا مگر میرے خیال سے کپڑے بالتی سے نکالنے بھی ہوتے ہیں! شمیم اسے ڈانٹے ہوۓ بولیں

اماں خوش رہنا سیکھیں قدر کریں اتنی قابل بیٹی ملی ہے پہلے میشن لگائی اور اب یونی جاؤں گی!.

کوئی انوکھا کام نہیں کیا رضیہ کی بیٹی بھی پورا گھر بھی سنبھالتی ہے اور پڑھائی الگ کرتی ہے! شمیم نے خفگی سے کہا

ایک تو یہ رضیہ آنٹی…مجھے تو لگتا ہے اماں میں مر بھی جاؤں تو آپ یہی کہیں گی کے ایسے کیوں مر گئی رضیہ کی بیٹی کو دیکھ کتنے اچھے سے فوت ہوئی تھی! اس کی بات پر شمیم نے ایک زوردار چٹ اسے رسید کی

فضول باتوں سے نکل آؤ جلدی سمجھدار ہو جاؤ نہیں تو کسی دن تمہارا یہ پاگل پن تمہیں لے ڈوبے گا! شمیم اسے سناتے ہوۓ باہر نکل گئی جب کہ وہ اب بیڈ سے ٹیک لگا کر روز کی طرح موبائیل چیک کرنے لگی

مگر آج معمول کے برعکس اس کا کوئی میسج نہیں آیا تھا اس کا دل بجھ سا گیا

پتا نہیں کیوں میسج نہیں آیا…پتا نہیں المان ٹھیک ہوگا یا نہیں؟ خود سے کہتے ہوۓ وہ تیزی سے اٹھ کر باتھروم میں چلی گئی

کچھ دیر بعد وہ فریش سی باہر آئی

ناشتہ تو کرتی جاؤ!

وہی کر لوں گی! ان سے کہ کر گھر سے نکل گئی اسے اب صرف المان سے ملنا تھا

بس نے آدھے گھٹنے بعد اسے یونیورسٹی کے مین گیٹ پر اتارا روز کی طرح آج المان اسے گیٹ پر بھی دیکھائی نہیں دیا اس کی بے چینی مزید بڑھ گئی

دیدار یار گر نصیب نا ہو…

وقت بھی چبتا ہے پھر کانٹوں کی مانند!

وہ مضطرب سی یونی میں داخل ہوئی تو وہ اسے سامنے ہی سکندر کے ساتھ کھڑا نظر آیا اسے دیکھتے ہی رعنین نے گہرا سانس بھرا تھا رکی ہوئہ دھڑکن جیسے پھر سے چلنے لگی تھی وہ سانس بحال کرتی اب چہکتے ہوۓ المان کی طرف بڑھنے لگی جب المان کی نظر اس پر گئی وہ ہاتھ ہلانے کو رکی مگر المان کے رخ پھیرنے سے اپنی جگہ سکت ہو گئی

اتنے عرصے میں یہ شاید آج پہلی بار ہوا تھا جب اسنے اسے یوں نظرانداز کیا تھا اس کی رفتار اب قدرے آستہ ہو گئی تھی

ہاۓ! وہ اس کے پاس آکر خود کو نارمل ظاہر کرتے ہوۓ بولی

ہاۓ…رعنین میری ایک ضروری کلاس ہے میں تم سے بعد میں ملتا ہوں! المان اس سے کہ کر سکندر کے ساتھ کلاس کی طرف بڑھ گیا جب کہ وہ محض اسے دیکھ کر رہے گئی

اسے وہ لمحہ یاد آیا جب وہ اس کے ایک اشارے پر اپنے امپورٹ ٹیسٹ چھوڑ کر دیتی تھی

وہ مرے مرے قدموں سے کلاس میں آئی

آگئی تم؟ شرم نہیں آئی تم اس دن میرا کیک کھا گئیں اور گفٹ کا گ بھی نہیں دیا؟ اسے دیکھتے ہی حنان اپنی جگہ سے اٹھتا منہ پھلاۓ بولا جب کے اس کی بات پر رعنین نے گھور کر اسے دیکھا

تم پہلے دن تو بہت کھڑوس لگے تھے اب کونسے بچے کی روح آگئی تم میں؟ رعنین نے ابرو اچکاۓ کر کہا

جب تم میری خالہ کی بیٹی نہیں تھی میں اپنوں کے ساتھ ہی فری ہوتا ہوں صرف اب تم میرا گفٹ دو!

بھاگو گفٹ نا گفٹ دو پھتڑ نا لگا دوں؟ رعنین اس کے سامنے والی کرسی میں سے ایک کرسی کھینچتے ہوۓ بولی آج اسے علینہ اور عرین دونوں ہی.کلاس میں نظر نہیں آئی تھیں

ہاتھ تو لگا کر دیکھاؤ آج میری کٹو کی طبیت ٹھیک نہیں تھی ورنہ وہ ابھی تمہارء ٹائی ٹائی شف کر دیتی! حنان اسے عرین کا ڈراوا دیتے ہوۓ بولا

کیوں کیا ہوا اسے؟ اس کی طبیت کا سن کر وہ فکرمند سی پوچھنے لگی

بخار ہے اسے…رات میں بھی اسکی طبیت خراب ہو گئی تھی جس کہ وجہ سے وہ پوری پارٹی بھی آٹینڈ نہیں کر پائی! حنان اسے تصیل بتانے لگا اس سے پہلے وہ کچھ اور کہتی کلاس میں سر جاوید نے قدم رکھا جس پر وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گئے…

*******************

اس کا دروازہ بجا تو وہ سیدھا ہوکر بیٹھی

آجائیں! اس کے کہنے پر ایرج اندر داخل ہوئی

موم آپ…!

میری جان آج مجھ سے ملنے بھی نہیں آئی اور یونی بھی نہیں گئی تو میں نے سوچا میں خود آجاؤں… ایرج آج عرصے بعد آئمہ بیگم کے روم سے نکلی تھیں آج ان کی عدت ختم ہوئی تھی عدت کا سارا عرصہ انہوں نے آئمہ بیگم کے کمرے میں ہی گزارا تھا اسئلے اب دوبار اپنے اس کمرے میں آکر انہیں اقبال صاحب کی خوشبو محسوس ہونے لگی بے ساختہ اپنی اس ضدی اور لاڈلی بیٹی کا خیال آیا جس نے اس عرصے میں ایک دن بھی انہیں پریشان نہیں کیا تھا

جی موم بس طبیت خراب تھی!

کیا ہوا میری پری کو؟ ایرج اس کے سرہانے بیٹھتی اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر چیک کرتے ہوئے بولیں

تمہیں تو بخار ہے۔۔ اٹھو میں لیلی سے کہتی ہوں وہ تمہیں ڈاکٹر کے لے جائیں! ایرج پریشانی سے بولیں

ننہیں موم میں ٹھیک ہوں!

کوئی ٹھیک نہیں ہو میں عدت میں ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اپنی بیٹی کو بھول جاؤں۔۔۔

موم آپ فکر نا کریں میں ٹھیک ہوں حائنہ کو بلا دیں!

وہ تو ابھی سو رہی ہے کل کی پارٹی دیر سے ختم ہوئی تھی بھابھی بتا رہی تھیں تم جلدی سونے آگئی؟ ایرج اسکے سر میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولیں

وہ….ببس مییری طبیت خراب ہو رہی تھی! اس کی آواز لڑکھڑائی یہ شاید پہلا جھوٹ تھا جو اسنے اپنی موم سے کہا تھا اور نجانے آگے ایسے کتنے ہی جھوٹ تھے جو اسے کہنے تھے

اچھا چلو تم ریسٹ کرو میں تمہارے لیے کچھ کھانے کو بھیجتی ہوں! ایرج اسکا ماتھا چوم کر روم سے نکل گئیں

ان کے جانے کے بعد اسنے اٹھ کر گھڑی دیکھی جو ابھی صرف بارہ پر آئی تھی

پتا نہیں اب کب آئیں گے وہ..! وہ حازم کو سوچتے ہوۓ خود سے بولی جبھی حائنہ ناشتے کی ٹرالی لیے اندر داخل ہوئی

********************

المان؟ کلاس لینے کے بعد وہ ایک بار پھر اس کے پیچھے آئی

ہمم!

تمہیں کیا ہوا ہے تم مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہے؟ رعنین اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوۓ بولی

کیوں کہ میرا دل نہیں ہے!

کککیا مطلب؟ وہ رک سی گئی

کچھ مطلب نہیں ہے یار…بس میرا پیچھا کرنا چھوڑ دو! وہ اکتا کر بولا

لیکن کیوں تم مجھے بتاؤ تم مجھ سے کیوں ناراض ہو؟

میں تم سے ناراض نہیں ہوں….!

تو پھر؟

کچھ نہیں میں کچھ دسٹرب ہوں کوشش کرو کہ میرے راستے میں مت آؤ! وہ المان سپاٹ انداز میں کہتا لمبے لمبے ڈھگ بھرے آگے نکل گیا

یا اللہ! رعنین نے بے اختیار اپنا ہاتھ دل پر رکھا تھا اس کے دل میں ایک عجیب سی تکلیف ہورہی تھی وہ کیوں اس کے ساتھ ایسا کر رہا تھا؟

نجانے کس طرح وہ بھاری بھاری قدموں سے یونی کے مین گیٹ تک آئی باقی کا راستہ اسنے صرف یہ سوچتے ہوۓ گزارا تھا کے اس سے آخر کیا خطا ہو گئی تھی جو المان اس سے یوں ناراض ہو گیا تھا

******************

اسلام و علیکم…میم! حمزہ فون کال سے لگاتے ہوۓ بولا

حازم کہاں ہے؟ الیانہ سیدھا مودعے پر آئی

کچھ نہیں پتا میم!

”میں مان ہی نہیں سکتی وہ تمہیں بتا کر نہیں گیا“

آپ مان لیں…سر کا واقعی کچھ نہیں پتا! حمزہ مودب انداز میں بولا

ہممم وہ کچھ دے کر گیا ہے؟

جی ایک فائل دے کر گئے اور آپ کے لیے میسج بھی دیا ہے

”آپ کا کام ہوگیا ہے“… اس کے کہتے ہی الیانہ نے گہرا سانس خارج کیا

گڈ! ان کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ رینگی

اسے لاونج میں بیٹھے بیٹھے دو بج چکے تھے مگر وہ نہیں آیا اسکا دل اب ڈوبنے لگا تھا

آخر کہاں رپے گئے؟ وہ ادھر ادھر ٹہلتے ہوۓ بڑبڑائی

از ایری تھنگ اوکے عرین جانی؟ الیانہ کی آواز پر وپ سٹپٹائی

جججی بڑی ماں بس نیند نہیں آرہی!

کیوں طبیت ٹھیک ہے؟ الیانہ اسے سر تا پاؤں دیکھتے ہوۓ معنی خیزی سے بولیں

جی!

حازم بھی ابھی تک نہیں آیا نکل گیا ہوگا کہیں! الیانہ بظاہر خود سے کہتی اسے سنانے کو خود سے بولی

کیوں کہاں گئے وہ؟ عرین نے بے اختیار پوچھا

اس کا یہی ہے کبھی بھی کہیں بھی چلا جاتا ہے کسی کو بھی بتاۓ بغیر…! الیانہ اس سے کہ کر ادا سے اسکا کندھا تھپتھپا کر واک اوٹ کر گئیں

جب کے وہ وہی کھڑی کی کھڑی رہے گئی تھی اس کا دل جیسے اندر ہی اندر ڈوب رہا تھا کل کا منظر اس کی آنکھوں میں لہرانے لگا

آج کے دن انہیں میرے ساتھ ہونا چاہیے تھا

(آپ مجھے کبھی چھوڑ کر تو نہیں جائیں گے نا؟

کوشش کروں گا تمہیں کبھی مجھ سے تکلیف نا پہنچے)

ابھی تو چوبیس گھٹنے بھی نہیں گزرے آپ اتنی جلدی اپنا وعدہ بھول.گئے؟ وہ اپنے خیالوں سے اس سے مخاطب ہوئی پھر خود ہی نفی کر گئی

نہیں یہ صرف میرا وہم ہے ہو سکتا ہے انہیں کچھ کام آگیا ہو…

اس کے اندر اب ایک جنگ شروع ہو گئی تھی شاید کبھی نا ختم ہونے والی جنگ…

**********************

اسنے جیسے ہی گھر میں قدم رکھا اس کا سامنا اندھیرے سے ہوا

عموما وہ رات کو اسی ٹائم آتا تھا اسئلے اس اندھیرے میں چلنے کا عادی تھا ابھی اسنے ایک اور قدم بڑھایا تھا جب اچانک سے پورا ہال روشن ہوا

آگیا تمہیں خیال گھر لوٹنے کا؟ انور ملک اسے دیکھتے ہوۓ سختی سے بولے

ڈیڈ وہ..!

اب بھی اسی لڑکی کے ساتھ تھے کیا؟

نہیں ڈیڈ میں تو سکندر کے ساتھ تھا!

ہممم تو کیا سوچا تم نے؟ وہ لڑکی چاہیے یا یہ عیش اور آرام؟ انور ملک سگار منہ سے لگاتے ہوۓ گہرے انداز میں بولے

ڈیڈ پلزز کیا یہ بات آپ صبح نہیں کر سکتے تھے؟

نہیں یہ تو صرف ایک ریمائنڈر ہے کہیں تمہیں ہر بار کی طرح لگے کے ہم تمہارے آگے سلنڈر کر دیں گے بلکہ نہیں اس بار تمہاری ایک نہیں سنی جاۓ گی تمہاری شادی نوال سے ہی ہوگی!

صاف کہیں نا ڈیڈ شادی نہیں آپ کی ایک اور بزنس ڈیل! المان تیش میں آتے ہوۓ غرایا

جو بھی سمجھو….ویسے تو تم نے آج تک ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا تو یہی سہی! انور ملک نے اسکا کندھے تھپتھپاکر کہا جب کے ان کی بات تیش میں آتا لمبے لمبے ڈھگ بھرے پھر سے گھر سے نکل گیا تھا

کہاں ہے تو واپس آ…! گھر سے نکلتے ہی اسنے سکندر کو کال ملائی اگلے پانچ منٹ میں سکندر کی گاڑی اس کے گھر کے سامنے رکی

کیا ہوا برو از ایوری تھنگ الرائٹ؟ سکندر گاڑی زن سے بھگاتے ہوۓ بولا جب المان نے اسے ساری بات تفصیل سے بتائی

دیکھ بھائی اگر تجھے میرا مشہورہ چاہیے تو میرا مشہورہ یہی ہے تو عقل کے ناخون لے….!

جیسے کے؟ المان ابرو اچکا کر بولا

یار تجھے لڑکیوں کی کمی ہے کیا؟ یہ محبت کا بھوت جس دن تجھے اپنی سگریٹ کے لیے پیسے نہیں ملیں گے اسی دن اتر جاۓ گا! سکندر اسکا کندھا تھپتھپاتا ہوا کہنے لگا

لیکن اس کا کیا ہوگا؟

کچھ نا کچھ ہو ہی جاۓ گا اس کا بھی….تو اپنا سوچ! سکندر کے کہنے پر وہ پرسوچ سا سیٹ کی پشت سے سر ٹکا گیا اب اسے جلد کوئی فیصلہ لینا تھا

******************

دو دن بعد:

پوری رات بے چینی میں گزار کر وہ آج زیادہ جلدی یونیورسٹی آگئی تھی المان اسے کل یونیورسٹی میں دیکھائی نہیں دیا تھا اسئلے وہ آج جلدی آئی تھی شاید وہ اسے کہیں نظر آجاتا

ابھی اسے آۓ چند منٹ ہوۓ تھے جب وہ اسے سامنے سے آتا دیکھائی دیا

المان؟ وہ بھاگنے کے سے انداز میں اس کی طرف آئی جبکے المان اسے دیکھتے ہی رخ پھیڑ گیا

تم مجھے اگنور کیوں کر رہے ہو؟

اگنور نہیں کر رہا جان چھڑوا رہا ہوں تم سے! اس کے الفاظوں پر وہ بامشکل سنبھل سکی تھی

ککیا؟

ہاں جان چھوڑ دو میری….دل بھر گیا ہے میرا تم سے نہیں رہے سکتا میں تمہارے ساتھ! وہ پوری قوت سے چلایا کے رعنین کو لگا وہ خواب دیکھ رہی ہے اسنے بے ساختہ خود کو ایج چونٹی کاٹی مگر افسوس کہ یہ سب حقیقت تھی

مگر ککیوں تم میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو؟ نجانے کس طرح اس کے منہ سے یہ لفظ ادا ہوۓ

میرے ڈیڈ نے ایک طرف تمہیں اور ایک طرف میری جائیداد رکھ دی ہے! وہ اسے حقیقت سے آگاہ کرتے ہوۓ بولا

مگر مجھے کچھ نہیں چاہیے مجھے پیسے نہیں چاہیے مجھے تمہارا ساتھ چاہیے میرے لیے پیسے امپورٹنٹ نہیں ہیں! وہ اب اسکا ہاتھ تھامتے ہوۓ کہنے لگی

لیکن میرے لیے ہے میں شروع سے پیسوں کا عادی ہوں میرے لیے تم سے زیادہ میرا فیوچر اہم ہے!

نہیں المان پلزز…میں مر جاؤں تم مجھے چھوڑ دو گے تو میں مر جاؤں گی پلزز میرے ساتھ ایسا مت کرو….اسنے اسکے آگے ہاتھ جوڑے تھے وہ ایک انا پرست لڑکی آج اپنی محبت میں اس بے رحم کے آگے ہاتھ جوڑ رہی تھی

تو مر جاؤ…یو نو واٹ مجھے اب لگتا ہے مجھے تم سے کبھی محبت تھی ہی نہیں وہ تو بس ایک ٹائم پاس تھا! اور رعنین کو لگا وہ اگلی سانس نہیں لے پاۓ گی

اللمان؟ اسنے بامشکل اسکا نام ادا کیا

سوری ڈارلنگ! المان اس سے کہ کر چلا گیا جب کے وہ وہی رہے گئی تھی شاید جم گئی تھی یا شاید پیچھے رہے گئی تھی

”سمجھدار ہو جاؤ نہیں تو کسی دن تمہارا یہ پاگل پن تمہیں لے ڈوبے گا“

”ایک مرد جب محبت کرتا ہے تو سب کے سامنے ڈٹ جاتا ہے اور جسے دنیا سے ڈر لگے وہ تم سے کبھی محبت کرتا ہی نہیں محبت تو انسان کو مضبوط کرتی ہے کمزور نہیں“

اپنی ماں کے کہے گئے الفاظ اسکے ذہن میں گونجے آستہ آستہ اس کی زندگی اسکے سامنے گھومنے لگی تھی

کیا کمی تھی جو رہے گئی تھی؟

وقت, پیار, عزت, جان, روح! سب تو دیا تھا اسے پھر؟ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا

رعنین! آخری منظر جو اسنے دیکھا تھا وہ دو مضبوط ہاتھوں کو خود کو تھامتے دیکھا تھا

آۓ کاش کہ اگلا سانس نصیب نا ہو! اس لمحے بند ہوتی آنکھوں سے صرف یہی دعا تھی جو اس کے دل سے نکلی تھی