Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389 Mehram-e-Raaz Episode 29 (Part 1)
Rate this Novel
Mehram-e-Raaz Episode 29 (Part 1)
Mehram-e-Raaz by Syeda Shah
فریش ہونے کے بعد وہ ایرج کے روم میں آئی جہاں وہ بیڈ پر بیٹھی کوئی کتاب پڑھ رہی تھیں
موم مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے!
ہاں بولو بیٹا!
مجھے حازم خان سے شادی پر اعتراض نہیں ہے…اس کے کہنے پر ایرج کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا
کیا؟ تم سچ کہ رہی ہو؟ ایرج بیڈ سے اٹھتے ہوۓ خوشگوار حیرت سے بولیں
جی موم…لیکن میری ایک شرط ہے!
کیسی شرط؟ ایرج نے نا سمجھی سے پوچھا
”وہ میں وقت آنے پر بتاؤں گی“
چلو میں یہ بات عالم بھائی کو بتاتی ہوں…عرین میرا بچہ آج تم نے میرا سر فخر سے بلند کر دیا مجھے اتنی ٹینشن تھی الیانہ بھابھی میری طبیت پر کوئی سوال نا اٹھا لیں! ایرج اسکی پیشانی چومتے ہوۓ خوشی سے کہتی اپنے فون کہ طرف بڑھ گئیں
موم میں تھکی ہوئی ہوں سونا چاہتی ہوں! عرین انہیں موبائیل میں مصروف دیکھ کر کہتی اپنے کمرے میں چلی گئی ہے جبکہ ایرج اس کی حالت کو فطری حیاہ کا نام دیتے ہوۓ مسکرا کر سر جھٹک گئیں
*********************
صبح کا منظر سبز ویلا پر یوں اترا تھا الیانہ کے وعلاوہ سب ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے حازم بھی بس سڑھیاں اتر کر اس جانب ہی آرہا تھا اسے جب سے عالم خان کے فیصلے کے بارے میں خبر ہوئی تھی وہ اپنے کمرے میں انگارے چباتے ہوے بیٹھی تھی
کیا ہوا ڈیڈ آپ آج بہت خوش نظر آرہے ہیں! حائنہ ان کے چہرے پر خوشی کے اثار دیکھتے ہوۓ بولی
بھئی بات ہی ایسی ہے….!
کیا بات ہے ڈیڈ؟ حازم انہیں سر کے اشارے سے سلام کرتا سربراہی کرسی کے عین سامنے والی کرسی سنبھالتے ہوۓ بولا
ایرج کا فون آیا تھا ان کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں ہے! عالم خان کے کہنے پر حازم کا فلیٹ اٹھاتا ہوا ہاتھ تھما اسنے چونک کر ان کی جانب دیکھا
واٹ؟
یس رات کو ہی فون آیا تھا ایرج کا!
کس بارے میں بات ہو رہی ہے کوئی بھی تو بتاۓ؟ حنان ناسمجھی سے بولا
آپ کے بڑے بھائی کی شادی ہو رہی ہے…! اور حنان اور حائنہ کو لگا انہوں نے کچھ غلط سنا ہے
ہیں؟ یہ کب ہوا؟ اور کس سے ہو رہی ہے؟ حائنہ نے حیرت سے پوچھا
عرین سے! عالم خان نے ایک اور بم پھوڑا تھا
واٹ؟ واقعی؟ نہیں مطلب واقعی؟ حنان کو تو جیسے حیرت کے جھٹکے لگ رہے تھے
واؤ ڈیڈ عرین واپس اس گھر میں آجاۓ گی اور وہ بھی میری بھابھی بن کے یاہو! حائنہ ایکسائٹڈ سی بولی جس پر حازم مسکرایا
تو آپ دونوں کو اپنی بھابھی کی خوشی ہے بھائی کے لیے کوئی جزبات نہیں؟ حازم نے آئبرو اچکا کر پوچھا جس پر وہ دونوں اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کی طرف لپکے
کنگریچولیشنز بھائی وی آڑ سو ہیپی فار یو! وہ دونوں اس کے پاس آتے اس کے گلے میں جھولتے ہوۓ بولے کے اس منظر پر عالم خان نے مسکراتے ہوۓ اپنے بچوں کو دیکھا
ارے بس بس پیچھے ہو جاؤ میرے کورٹ پر اوئل کے نشان لگ گئے تو تم دونوں کی خیر نہیں ہے!
ویسے موم کہاں ہیں آج؟ حائنہ آس پاس نظر ڈراتے ہوۓ بولی
وہ آج اپنے کمرے میں رہیں گی اسئلے ان کے بین میں کوئی خالش نا ڈالے! عالم جان کی بات سمجھنے پر وہ تینوں مسکرا دئیے تھے
چلیں ڈیڈ پھر رات میں ملاقات ہوتی ہے! حازم اپنا ناشتہ مکمل کرنے کے بعد اٹھ نیپکن سے ہاتھ صاف کرکے باہر کی جانب قدم بڑھا گیا
بھائی؟
ہاں؟ وہ گاڑی کا فرنٹ گیٹ اوپن کرنے لگا جب حنان نے اسے روکا
بھائی وہ ایک بات کرنی تھی!
ہاں بولو بیٹا!
بھائی وہ المان ملک کے بارے میں کچھ انفارمیشن چاہیے تھی آپ نکلوا سکتے ہیں؟ اس کے کہنے پر حازم سرعت سے پلٹا
تمہیں اس کی انفارمیشن کیوں چاہیے؟
” بس بھائی ایک کام تھا“
کیا کام پڑ گیا ہے تمہیں اس سے؟ میں نے منع کیا تھا نا اس سے کوئی بھی کونٹیکٹ نہیں رکھنا! وہ یکدم سنجیدہ ہوتا طیش سے بولا
آئی سویر میرا کوئی تعلق نہیں ہے اس سے میری ایک فرینڈ ہے المان نے اسے ٹریپ کیا ہے اس سے اوڑل نکاح کیا اور پھر اسے ایسے ہی بیچ راشتے میں چھوڑ گیا اس لڑکی کو اب اس سے ڈائیورس چاہیے! حنان اسے تفصیل بتانے لگا جس پر حازم کے تنے عصاب ڈھیلے پڑے اس سے پہلے وہ کچھ کہتا اس کا فون رنگ ہوا
میں تم سے اس بارے میں ڈیٹلیز سے بات کروں گا خدا حافظ! وہ سکرین پر حمزہ کا میل دیکھ کر تیزی سے گاڑی میں بیٹھ کر اسٹارٹ کر گیا
******************
کیا کہنا ہے پھر بھابھی آپ کا؟ عالم خان صوفے آج خود ان کے فلیٹ میں آۓ تھے جب کے عرین آج جلدی فریش ہوکر یونی کے لیے نکل گئی تھی
بھائی صاحب یہ معاملات تو آپ کو ہی دیکھنے ہیں میں کیا کہوں؟
دیکھو ایرج ہم میں غیروں والی بات تو نہیں ہے…تم کھل کر اپنی بات کہ سکتی ہو اور میں بھی تم سے کچھ نہیں چھپاؤں گا دراصل الیکشن قریب ہیں میں چاہتا ہوں جلد از جلد عرین اور حازم کی شادی رکروا دوں لیکن تم چاہو تو…
نہیں بھائی صاحب مجھے کیا مسئلہ ہوگا؟ آپ جب چاہین اپنی بیٹی کو لے جائیں! ایرج مسکرا کر بولی
تو بس پھر اگلے مہینے کی کوئی تاریخ رکھ لیتے ہیں!
”جی ٹھیک ہے…ایسے مجھے بھی تیاریوں کا وقت مل جاۓ گا…“
کیسی تیاریاں؟ تمہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے عرین میری بیٹی ہے میں خود سادے انتظام دیکھوں گا! کچھ ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد عالم خان نے انہیں اپنے گھر دعوت دی تھی جس میں حازم اور عرین کی ڈیٹ فیکس کرنے کا بھی کہا تھا
دن جیسے گنتیوں میں گزر رہے تھے ان دونوں حازم اپنے ایک نئے کیس میں مصروف رہا تھا اور دوسری طرف عرین اپنے نئے پروجیکٹ کے ساتھ ساتھ روز ایرج کے ساتھ کسی نا کسی نئے کام میں مصروف پائی جاتی تھی
آج بھی وہ ایسے ہی آئمہ بیگم اور ایرج کے ساتھ کوئی سندوق کھول کر بیٹھی تھی جب ان کا دروازہ نوک ہوا
میں دیکھتی ہوں…ایرج جو دروازے سے کچھ فاصلے پر موجود تھیں اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھ کر دروازہ کھول.گئی اور سامنے کا منظر ان کے لیے خوشگوار حیرت لے کر آیا تھا
اسلام و علیکم آنٹی…! رعنین شمیم کے ساتھ میٹھائی کا ڈبہ لے کر چہکتے ہوۓ بولی کے اس کی آواز سنتے ہی عرین دروازے کی طرف لپکی
واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز! وہ مسکراتے ہوۓ ان دونوں سے باری باری ملتے ہوۓ بولی
میں تو اماں کو روز کہ رہی تھیں لیکن ان کی طبیت ہی ٹھیک نہیں تھی جس کی وجہ سے یہاں آنا ہی نہیں ہو سکا!
کوئی بات نہیں دیر آۓ درست آۓ! ایرج مسکراتے ہوۓ بولیں
چلو آجاؤ بیٹھو…!
“کہاں بیٹھو؟ چلو میں تمہیں لینے آئی ہوں شوپنگ پر جانا ہے”
اور یہ تم سے کس نے کہا؟ عرین نے ابرو اچکائی
کیا مطلب آنٹی…آپ اسے سمجھائیں!
ہاں ہاں کیوں نہیں جاؤ عرین چلی جاؤ شوپنگ پر ویسے بھی کل سے تم نے مایو بیٹھنا ہے! ایرج نے جیسے اس پر بوم پھوڑا تھا
میں ایسی کوئی رسمیں نہیں کر رہی!
”تمہارے تو اچھے بھی کرین گے آجاؤ ہم تمہارے اوپٹن کا بھی سوا لے کر آئیں گے“
موم یار…اچھا چلو…پھر ہم حائنہ کو بھی کہیں گے ہمیں جوائن کر لے!
ہاں اب چلو! رعنین اسے گھیسٹتے ہوۓ باہر کی طرف بڑھ گئی
*******************
تقریبا آدھے گھنٹے بعد وہ مال کے اندر داخل ہوئی تھیں
حائنہ بھی بس پہنچنے والی ہوگی اتنے ہم کیفے ٹریا چلتے ہیں!
ہمم تو اب بتاؤ….تم تو منگنی کے بعد سے ایسے غائب ہوئی… کیا سین ہے؟ اتنی جلدی مان کیسے گئی؟ رعنین کیفے ٹریا میں بیٹھنے کے بعد اسے چھیڑتے ہوۓ بولی
ایسا کچھ نہیں یہ سب تو میں ایک خاص مقصد کے لیے کر رہی ہوں.! وہ پرسوچ سی بولی
کیا مطلب؟
کچھ نہیں تم کافی منگواؤ! عرین کے کہنے پر وہ منہ بسور کر ویٹر کو مخاطب کر گئی جبھی حائنہ نے انہیں جوائن کیا تھا
ہاۓ بھابھی ٹو بی! حائنہ شریر لہجے میں کہتی اس کے ساتھ جگہ بنا گئی
بھابھی نہیں بہن..تم سے میرا بہن والا ہی رشتہ ہے سمجھی؟
جی بلکل بلکل آپ کے شوہر کی بہن ہی ہے وہ! اب کے چھیڑنے کی باری رعنین کی تھی
“تم دونوں مار کھاؤ گی مجھ سے” عرین کے گھورنے پر وہ دونوں قہقہ لگا گئی
چلیں جی کافی اٹھاؤ اپنی اور جلدی جلدی شوپنگ کر لو میں نے جلد گھر جا کر ایک پروجیکٹ پر کام کرنا ہے!
یہ کونسی دلہن ہے جو اپنی شادی کی جگہ پروجیکٹ کی تیاری کر رہی ہے؟ حائنہ آنکھیں چھوٹی کیے بولی
یہ شادی بھی تو ایک پروجیکٹ ہی ہے! عرین محض سوچ سکی تھی…
