357.5K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 6

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

کہاں ہو؟ کال آٹینڈ کرتے ہی اسنے پہلا سوال یہی کیا تھا اس لمحے وہی ایک تھا جو اس کی الجھن کو کچھ کم کر سکتا تھا

سر آپ کے روم کے باہر کھڑا ہوں! حمزہ کی مودب آواز گونجی

اوکے! لفظی جواب دیئے وہ اپنے روم کی طرف بڑھا جہاں حمزہ اسے پہلے سے روم کے باہر کھڑا دیکھائی دیا

اسلام و علیکم سر!

وعلیکم السلام….میرے خیال میں تمہارا کام صرف دو دن کا تھا اور آج چوتھا دن ہے… حازم سرد لہجے میں کہتا روم کا دروازہ کھولے اندر داخل ہوا اسکے لہجے کی طرح اسکا کمرہ بھی سرد تھا جس کا احساس حمزہ کو ایک قدم اندر رکھتے ہی ہوا تھا

سوری سر…!

اور کیا ڈیٹلیز ہیں؟ وہ اب صوفے پر ریلیکس انداز میں بیٹھا تھا جبکہ حمزہ اسے ساری ڈیٹلیز بتانے لگا

ہمم گڈ یہ کام اسی طریقے سے ہونا تھا اب تم جاؤ ریسٹ کرو.. اپنی الجھن خود ہی حل کرنے کا سوچ کر وہ اسے جانے کا اشارہ کر گیا

سر اگر آپ برا نا مانے تو ایک بات پوچھوں؟

ہمم تمہارا ڈیوٹی ٹائم ختم ہو چکا ہے! حازم نے کندھے اچکا کر کہا جس پر وہ مسکرا دیا

”کوئی پریشانی ہے کیا؟ میرا دوست کچھ پریشان معلوم ہوتا ہے“ حمزہ کے پوچھنے پر اسنے ایک گہرا سانس لے کر اسے ساری صورتحال بتائی جس پر وہ حیرت کے مارے کافی لمحے خاموش رہا پھر کچھ دیر بعد کمرے میں اس کی آواز گونجی تھی

اور تم کیا چاہتے ہو؟

میں ایسا کچھ نہیں چاہتا جو ہو رہا ہے ایک طرف موم کی ضد ہے تو دوسری طرف چاچو کی درخواست….!

دیکھو حازم ہر چیز میں اللہ کی کوئی نا کوئی مصلحت ہوتی ہے ہر راستہ صرف تمہارے نکاح پر آکر رک رہا ہے میں تو کہتا ہوں اللہ کا نام لے کر فلحل نکاح کر لو اگر بعد میں کوئی مسئلہ ہوا تو دیکھا جاۓ گا! حمزہ کندھے اچکا کر بولا اس کے کہنے پر حازم سر اثبات میں ہلا گیا

میں چاچو سے مل کر آتا لوں….اس سے کہ کر وہ اقبال خان کے کمرے کی طرف بڑھ گیا

کہیں جا رہے تھے؟ وہ جو اپنے کمرے سے نکل رہے تھے اپنے پیچھے سے آتی اس کی آواز پر ٹھنکے

نہیں نہیں آؤ بیٹا!

مجھے دس بجے تک آوفس کے لیے نکلنا ہے چاچو اسئلے میں آپ سے دو ٹوک بات کرنا چاہوں گا!

”ہاں بیٹا بولو“

میں آپ کی بات ماننے کو تیار ہوں…! اسنے جیسے اقبال خان کو دوسری زندگی سی دی تھی

میں میرے پاس الفاظ نہیں ہے حازم تم نے مجھے پرسکون کر دیا میں کل کی ہی فلائٹ بک کرتا ہوں! اقبال صاحب خوشی سے اسکے گلے لگے بولے

لیکن چاچو اتنی جلدی پیپر ورک ہونا ناممکن ہے! وہ حیران تھا ان کی جلد بازی پر

پیپر ورک کس لیے؟

نکاح نامہ اور عرین کی ڈیٹلیٹز ٹائپ! اسنے کچھ جھجھک کر کہا جس پر اقبال خان بے ساکتہ مسکراۓ

نہیں بیٹا اس کی ضرورت نہیں ہے ابھی…پیپیر ورک کے لیے بہت سی ریکوائرمنٹس چاہیے ہونگی جس میں زرا وقت لگے گا…! اقبال صاحب کچھ دیر کو ٹہرے

اس لیے آپ چاہتے ہیں کہ ہم اورل نکاح کر لیں؟ حازم کے کہنے پر وہ چونکے وہ ان کی سوچ سے زیادہ سمجھدار تھا

تم شرعی نکاح کے بارے میں جانتے ہو؟

آپ شاید بھول رہے ہیں میں ایک لائر ہوں! اس کے انداز پر اقبال خان مسکراۓ

”دیکھو بیٹا مجھے پتا ہے تمہیں یہ سب فلحال غلط لگ رہا ہے ہوگا مگر میں مجبور ہوں مجھے جلد از جلد آسٹریلا جانا ہے ایک بار یہ مسئلہ حل ہو جاۓ پھر انشاءاللہ بہت دھوم دھام سے ہم تمہارا اور عرین کا نکاح پھر سے کروائیں گے ایسے میں عالم بھائی بھی خفا نہیں ہونگے میں چاہتا ہوں جب تک میں واپس نا آجاؤں تم اس نکاح کو خفیہ ہی رکھو“

مجھے بھی یہی مناسب لگتا ہے! وہ ان سے کہتا دروازے کی طرف بڑھ گیا فلحال حالات جس طرح چل رہے تھے انہیں ایسے ہی چلنے دینا تھا

میم آپ کو کچھ چاہیے؟ لیلی کی آواز پر وہ مصروف سی پلٹی

بس ڈیڈ کے لیے کافی بنانے آئی تھی اب بن گئی ہے! وہ مسکرا کر بولی

”جی مگر آپ مجھے کہ دیتی“

نہیں نہیں دراصل ڈیڈ کو صرف میرے ہاتھ کی کافی پسند ہے اور آپ ہر وقت کام کرتی رہتی ہیں اتنا سا کام تو میں بھی کر سکتی ہوں نا… اس کے اپنائیت سے کہنے پر لیلی نے خشگوار حیرت سے اسے دیکھا نجانے کتنے عرصے بعد کسی نے اس کے احساس میں دو لفظ بولے تھے

کافی کے علاوہ کچھ اور چاہیے آپ کو؟ وہ نرمی سے بولی کے اس کی بات پر عرین مسکرا کر سر نفی میں ہلاتی اقبال صاحب کے کمرے کی طرف بڑھی

وہ جو اپنی دھن میں موبائیل پر مصروف سا آرہا تھا اچانک سے اس کے سامنے آنے پر اس سے ٹکرایا کے اس اچانک اتفاد پر عرین کے ہاتھوں سے کافی کا کپ اچھل کر اس کے کپڑوں پر گرا تھا

واٹ ڈا ***** اسکے چلانے وہ بے ساختہ دو قدم پیچھے ہوئی

”دیکھ کر نہیں چل سکتی تم“

سسسورری ایییم سسسوری…… وہ خوفذدہ سی آنکھیں بند کیے بربڑائی کے اس کی کپکپاہٹ پر حازم نے غور سے اسے دیکھا وہ اسے اس وقت چہرے پر بلا کی مصومیت سجاۓ چھوٹی سی بچی لگی تھی

گھر میں اتنے ملازم اور میڈز ہیں تو تمہیں کیا ضرورت ہے جانسے کی رانی بننے کی جب کوئی کام ٹھیک سے کر ہی نہیں سکتی تو کرتی کیوں ہو؟ مارے غصے سے اسکا چہرہ سرخ پڑ رہا تھا وہ اس کی ایک امپورٹنٹ میٹنگ مس کروا چکی تھی

آئی ایم سوری! اب کے اس کی مزید دھیمی آواز گونجی جسے وہ نظر انداز کرتا آگے بڑھ گیا

**********************

کچھ دیر بعد وہ فریش سا دریس پنٹ پر بلیک بنیان پہنے ڈریسنگ کے سامنے آیا جب اسکا دروازہ نوک ہوا

کم ان… ایک نظر دروازے پر ڈالے وہ پھر سے ڈریسنگ کی طرف منہ کیے شرٹ پہنے لگا جب دروازہ کھلا اور وہ اندر داخل ہوئی

وہ ہاتھ میں ایک بوکس لیے اندر داخل ہوئی تھی مگر اگلے ہی لمحے اسے صرف بنیان میں دیکھ کر برے طریقے سے سٹپٹائی

اب کیا ہے؟ اس کی آمد پر وہ تیزی سے بٹن بند کرتا اس سے مخاطب ہوا

آپ ممیں آآپ کے لیے یہ لائی تھی! وہ جھجھک کر بولی

کیوں؟ اس کے ہاتھ میں بوکس دیکھ کر وہ اس کی جانب آۓ اس کے اطراف میں اپنا بازو ٹکاتا بولا جب کے اس کے اچانک قریب آنے پر عرین سہم کر دروازے سے لگی تھی

وووہ ممجھے لگا کہ آپ کو جلن محسوس ہو رہی ہوگی! وہ نظریں جھکاۓ بولی

ہممم تو تمہیں زخم دے کر مرہم لگانا بھی آتا ہے چھوٹی لڑکی؟

میں نے آپ کو جان کر زخم نہیں دیا…!

تو پھر لگاؤ مرہم! اس کے کہنے پر عرین اپنی جھجھک مٹاتی اس کے بازو پر مرہم لگانے لگی جب حازم نے اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا وہ اب تک دروازے کے قریب آمنے سامنے کھڑے تھے

جلن یہاں نہیں یہاں ہے اس کی وجہ بھی تم ہی ہو لگاؤ اب زخم! وہ اس کا ہاتھ بازو سے ہٹاۓ سینے کے قریب کر گیا.

یہ کیا کر رہے ہیں چھوڑیں مجھے پین ہو رہی ہے! اس کے اس نئے انداز پر وہ عرین نے گھبرا کر کہنا جب کے مقابل اس کی بات خاطر میں لاۓ بغیر اسکا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں لیے کھڑا اسے بغور دیکھتا رہا

چھوڑیں مجھے! اب کے عرین نے پوری قوت سے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکالنا چاہ جس ہوش کی دنیا میں لوٹتا اسکا ہاتھ چھوڑ کر دوسری طرف منہ کر گیا

چلی جاؤ یہاں سے!

جا رہی ہوں مجھے شوق بھی نہیں ہے آپ کے اس سرد کمرے میں آنے کا جیسے آپ ہیں ویسا ہی آپ کا یہ کمرہ بھی ہے سرد ……انتہائی سنگدل اور بے حس انسان ہیں آپ اس قابل ہی نہیں ہیں کہ کوئی آپ سے ہمدردی کرے میں آئندہ کبھی آپ سے بات نہیں کروں گی! وہ تلخی سے کہتی واپس جانے لگی کے اس کے لفظوں پر حازم سرعت سے پلٹتا اسکا بازو دبوچ گیا

بات تو تمہیں کرنی پڑے گی اب اس سنگ دل کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے تیار ہو جاؤ چھوٹی لڑکی! سرد لہجے میں کہتا وہ اس سے پہلے خود کمرے سے نکل گیا

لگتا ہے آج کافی بازو کی جگہ دماغ پر گر گئی ہے..! پیچھے وہ حیرتذدہ سی اس کی باتوں میں الجھ کر رہے گئی

******************

پھر منظر تبدیل ہوا…

یہ منظر یونیورسٹی کا تھا جہاں وہ بینچ پر منہ لٹکاۓ بیٹھی تھی

افف علینہ کم از کم مجھے بتا تو دیتی کے تم نے نہیں آنا آج! وہ فون پر علینہ سے شکواہ کرتی بولی

بس یار موم کی طبیت ٹھیک نہیں تھی کیا کرتی….تم جاکر کلاسس کے لو نا پھر مجھے بھی نوٹس بھیج دینا…

ہمم جاتی ہوں!

”اور ہاں ہو سکے تو آج المان سے بھی بات کر لینا“

ہمم دیکھتی ہوں اسے بھی ویسے آج وہ مچھر نظر نہیں آیا! منہ بنا کر کہتی وہ ادرگرد دیکھنے لگی جب نظر اسی طرف آتے المان پر پڑی

شیطان کا نام لیا اور شیطان حاضر…میں تمہیں کچھ دیر بعد کال کرتی ہوں! فون رکھ کر وہ المان کی طرف بڑھی جو اسے آتا دیکھ کر رخ بدلنے لگا مگر وہ دھٹائی سے اس کے راستے میں حائل ہوئی تھی

مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے!

کچھ رہے گیا ہے جو کہنا باقی ہو؟ المان نے تشویشی انداز میں پوچھا

ہممم مجھے….

”ہٹو میرے راستے سے“

اوہ ہیلو اوؤر مت ہو سوری کرنے آئی ہوں شرافت سے ایکسیپٹ کر لو…! اسکا انداز افسردہ کم غرانے والا زیادہ تھا

یہ تم مجھے سوری کر رہی ہو یا رعب جھاڑ رہی ہو؟ المان ابرو اچکاۓ بولا

جو بھی سمجھو میں یہاں صرف تم سے سوری کرنے آئی ہوں!

اچھا تو پھر کرو سوری! اب کے وہ خاصا گھمبیر لہجے میں بولا

سوری!

ایسے سمپل سوری نہیں!

تو پھر کیا یونیورسٹی کے ٹھرد فلور سے لٹک جاؤں؟ رعنین خاصا بدمزہ ہوئی تھی

ہمم آئیڈیا برا نہیں ہے ویسے تو ایک کوفی کا کپ بھی کافی تھا.. تمہارے پیسوں کا! آخر میں وہ زور دیے بولا جس پر رعنین پھیکا سا مسکرا دی

یہ امیری صرف نام کی ہے جو ایک کافی کا کپ خود نہیں پی سکتے!

ایسا ہی سمجھ لہجیے…!

چلو کیا یاد رکھو گے پورے سو روپے کی کافی پلاؤں گی میں تمہیں غریبوں کی مدد تو میں کرتی رہتی ہوں! ادا سے کہتی وہ آگے بڑھ گئی کے اس کے طنز کو خاطر میں لاۓ وہ ڈھٹائی سے کیفے ٹریا کی طرف بڑھ گیا

******************

تجھ سے ملنے سے پہلے۔۔۔۔

ہم نے جانا تھا محبت چیز اچھی نہیں!

آج پہلی بار وہ لیٹ ہوا تھا ورنہ حازم خان وقت کی پابندی کے باعث پورے کورٹ میں مشہور تھا

سر کہاں رہے گئے تھے آپ۔۔۔مرزا صاحب کو بہت مشکل سے روک رکھا ہے!

تم یہاں کیا کر رہے ہو تمہیں تو میں نے آج اوف دیا تھا؟

جی لیکن مجھے تھکاوٹ محسوس نہیں ہوئی تو آگیا ویسے بھی مجھے لگا آپ کو آج میری ضرورت ہوگی۔۔۔بدلے بدلے سے اصول ہیں میرے سرکار کے۔۔حمزہ شریر انداز میں بولا

اس کا جواب تمہیں میٹنگ کے بعد دیتا ہوں!حازم نے آنکھیں چھوٹی کرکے اسے دیکھا اور اپنے کیبن میں بڑھ گیا

تقریبا ایک گھنٹے بعد وہ میٹنگ سے فری ہوا تھا جب حمزہ نے اسے الیانہ کی آمد کی اطلاع دی

بلا لو۔۔۔!

آئیے موم! انہیں تیار سا اپنے کیبن میں آتے دیکھ کر وہ مودب انداز میں کرسی سے کھڑا ہوا

یہ میں کیا سن رہی ہوں حازم تم عَرین سے خفیہ نکاح چاہتے ہو؟ وہ حیرتذدہ سی تھیں

اور یہ بات یقیناً آپ کو حمزہ سے پتا لگی ہوگی!

ہاں بلکل۔ تم مجھے یہ بتاؤ کیا یہ حقیقت ہے؟

اس سے پہلے حمزہ نے کبھی آپ سے جھوٹ بولا ہے؟

تو پھر تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ الیانہ اکتائی تھیں

آپ شاید بھول رہی ہیں موم۔۔ آپ کو عرین کی جائیداد سے مطلب ہے۔۔۔نکاح سے نہیں اسئلے یہ سب مجھے میرے مطابق کرنے دیں! اس کے کہنے ہر الیانہ کی پیشانی پر موجود لکیڑیں کچھ کم ہوئی

ہمم تو تم چاہتے ہو یہ سب راز رہے؟

ہمم!

اوکے میں جا رہی ہوں میری ایک پارٹی ہے مگر ایک بات یاد رکھنا اس لڑکی سے شادی کا مقصد صرف جائیداد ہی رہے! وہ اسے جتانے والے انداز میں کہتی واک اوٹ کر گئی جب حمزہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا

سوری بوس بٹ موم سے جھوٹ نہیں بولا جاتا! وہ شرمندہ سا بولا جس ہر حازم بے گردن اثبات میں ہلائی

تو پھر نکاح نامہ ریڈی کروا دوں؟ اگلا سوال اسنے جھینپ مٹانے کو کیا تھا

نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے نکاح آج رات ہی ہوگا وہ بھی اورل! حازم نے گویا اس پر دھماکہ کیا تھا

اورل؟

ہممم!

مگر کیوں؟ وہ ناسمجھی سے بولا

کیوں کہ چاچو ایسا چاہتے ہیں۔۔۔انہیں شاید لگتا ہے میں نے چھولے دے کر لاء پاس کیا ہے جو مجھے ارجنٹ نکاح نامہ کی خبر نہیں ہوگی! وہ طنزیا مسکرایا

تو وہ کیا چاہتے ہیں؟

ایک تیر سے دو شکار۔۔۔وہ چاہتے ہیں میں عرین کو اپنا بھی لوں اور جب تک ان کی واپسی نا ہو نکاح رجسٹر بھی نا ہو ایسے عرین بھی سیوو اور ان کا پیسہ بھی! اسکا انداز اب بھی سرد تھا

جب آپ کو یہ سب پتا ہے تو آپ کیوں کر رہے ہیں یہ سب؟

کیونکہ شکار کا شوق تو میں بھی رکھتا ہوں۔۔۔اور جب شکار خود چل کر آئے تو کوئی بیواقوف ہی اسے نظرانداز کرتا ہے۔۔!

مگر اس سب میں عرین میم کا کیا قصور؟

وہ جب تک میرے راستے میں نا آئے اسے مجھ سے کوئی خطرہ نہیں ہے! وہ کسی غیر مرئی نقطے پر غور کرتا بولا

ہوپ سو آپ کے اس عمل سے کسی مصوم کا نقصان نا ہو! حمزہ محض سوچ سکا

******************

وہ اس وقت ایرج کے ساتھ آئمہ بیگم کے کمرے میں موجود تھی جب ملازمہ نے آکر اسے اقبال خان کا پیغام دیا

جی ڈیڈ آپ نے بلایا؟ اگلے پانچ منٹ میں وہ اقبال صاحب کے سامنے تھی

ہاں بیٹا آؤ مجھے تم سے بات کرنی ہے!

جی ڈیڈ کہیے۔۔!

واٹ نہیں دیڈ میں ان سے ہرگز شادی نہیں کروں گی! ان کی بات سنتے ہی وہ چلا اٹھی تھی

پلزز عرین ٹرائے ٹو اندر اسٹینڈ!

نو ڈیڈ آپ اُنہیں جانتے نہیں ہیں!

اچھا مان لیتے ہیں میں اُسے نہیں جانتا لیکن آپ مجھے تو جانتی ہیں نا؟ اقبال صاحب نے امید سے ہوچھا جس پر وہ فٹ سے سر ہلا گئی

تو پھر میری خاطر اپنے ڈیڈ کی خاطر مان جاؤ۔۔۔مجھ پر بھروسہ رکھو حازم اچھا لڑکا ہے میرے بیٹے اس وقت یہی ضروری ہے۔۔۔!

ڈیڈ! وہ رونے کو تیار تھی

پلزز میرے لیے!

ٹھیک ہے! نظریں جھکائے اپنے آنسو پی کر نجانے کس دل سے اسنے ہاں کی تھی ابھی تو اسنے اس معتلق سوچا تک نہیں تھا وہ تو اس رشتے کے تقازوں تک سے نا واقف تھی اوپر سے اتنی بڑی بات اسکے ڈیڈ نے اسے موم سے بتانے تک کو منع کر دی تھی

جیتی رہو میری جان تم نے اپنے ڈیڈ کا سر فخر سے اونچا کر دیا۔۔۔اب جاو اور ریڈی ہو جاو حازم ہمیں ایک گھنٹے میں پِک کر لے گا!

لیکن ڈیڈ یہ سب کیوں ہو رہا ہے موم سے کیوں چھپا رہے ہیں؟

بس بیٹا اس وقت جو مجھے ٹھیک لگ رہا ہے وہ میں کر رہا ہوں تم سے بس یہی گزارش ہے اپنے باپ پر اعتماد کرو!

ٹھیک ہے ڈیڈ جیسا آپ کہیں!

ماشاءاللہ کتنی خوبصورت لگ رہی ہو تم عرین ان ٹریدشنل کپڑوں میں۔۔۔حائنہ اسے آخری ٹچ دیتی بولی وہ اس وقت ریڈ سمپل سوٹ پر ہلکے کامدار مہرون شال لیے بالوں کو کھلا چھوڑے لائٹ سے میک اپ میں تیار تھی یہ سوٹ اسکا تھا جبکہ شال اسنے حائنہ کی پہنی تھی

آپ لوگ کہی جا رہے؟ ایرج اسے تیار دیکھ کر حیرانگی سے بولی

ہاں میں اپنی بیٹی کو ایک دوست اور اس کی فیملی سے ملوانے جا رہا ہوں! اقبال خان مسکرا کر بولے

اور بیوی کا خیال نہیں آیا آپ کو؟ ایرج نے خفگی سے کہا

آپ کو بھول سکتا ہوں؟ لیکن ابھی مسئلہ یہ ہے کہ جس دوست کے پاس لے جا رہا ہوں اس کے ساتھ باہر ڈنر ہے اسکی مسز کہیں گئی ہوئی ہیں اس لیے ان کی بیٹی ہمیں جوائن کرے گے آپ کو انشاءاللہ اگلی بار کے جاؤں گا! ان کے نرم انداز پر ایرج مسکرا دیں

ٹھیک ہے پھر احتیاط سے جائیں!

کچھ دیر میں انہیں حمزہ نے پک کیا تھا حازم ایک کام کے باعث لیٹ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے حمزہ اس کی جگہ آیا تھا

بیٹا کہاں کے جارہے ہو؟

سر ہم میرے گھر جا رہی ہیں بوس بھی ہمیں وہی سے جوائن کریں گے مولوی صاحب سے بھی بات ہو گئی ہے! حمزہ انہیں ڈیلیٹزُ بتانے لگا

ڈیڈ مجھے ڈر رہا ہے!

ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے بیٹا میں ہوں نا! اقبال صاحب محبت پاش لہجے میں بولے جبکہ حمزہ اس لڑکی کی مصومیت دیکھ کر دل ہی دل میں اس کے لیے دعا کرنے لگا

****************

عرین اقبال ولد اقبال خان کا نکاح حازم خان ولد عالم خان سے با ایوز تین لاکھ روپے حق مہر تہ پایا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے؟ مولوی صاحب کے سوال پر اسنے ایک بار اس کمرے کو دیکھا جہاں اسکا باپ اور حمزہ کی بہن کھڑی تھی

بولو بیٹا!

قبول ہے!

قبول ہے!

قبول ہے! اسنے ایک ہی سانس میں کہ دالا تھا بنا کچھ سوچے بنا کچھ جانے وہ بس اپنے باپ کے کہنے پر اس شخص کے نام سے جوڑی جا چکی تھی

اگلے پانچ منٹ میں یہی سوال حازم سے پوچھا گیا تھا جس کے بعد وہ عرین اقبال خان سے عرین حازم خان بن چکی تھی یکدم اسکے حقدار بدل گئے تھے جس کا اسے اندازہ نہیں تھا حازم اقبال خان سے ملنے کے بعد حمزہ سے ملا تھا

اس کا نکاح ہوتے ہی اقبال خان کا دل گھبرانے لگا تھا

آپ ٹھیک ہیں نا؟ حازم نے انہیں پسینے سے شرابو ہوتا دیکھ کر پوچھا

ہاں بیٹا بس۔۔۔

آپ ٹھیک نہیں لگ رہے۔۔حمزہ گاڑی نکالو چاچو کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا ہوگا!

ارے نہیں حازم۔۔۔عرین کا مسئلہ ہوجائے گا اسکا حلیہ ہوسپٹل جانے والا نہیں ہے!

آپ اس کی فکر نہیں کریں میں اسے گھر ڈراپ کروا دیتا ہوں! حازم تسلی بخش لہجے میں کہتا حمزہ کو اشارہ کر گیا جو انہیں احتیاط سے اپنے ساتھ لے گیا

*********************

ڈیڈ کہاں ہیں؟وہ کافی دیر ان کا انتظار کرنے کے بعد حمزہ کی بہن کو آتا دیکھ کر بولی

وہ انکل کی طبیت لو ہو گئی تھی انہیں ہوسپٹل لے کر گئے ہیں حازم بھائی آپ کا ویٹ کر۔۔۔ اسکی باقی کی بات سننے بغیر باہر کی طرف لپکی تھی

وہ جو دروازے کے باہر کھڑا حمزہ سے بات کر رہا تھا اچانک کسی کے ٹکرانے سے اسکا موبائیل زمین بوس ہوا

واٹ ڈا۔۔۔ اس اچانک اتفاد پر سرعت سے پلٹا کے سامنے اسے سرخ جوڑے میں دیکھ کر رک سا گیا تھا

میرے ڈیڈ کہاں ہیں؟ وہ اسکی ڈھار نظر انداز کرتی روتے ہوئے بولی

میرے ڈیڈ کہاں ہیں بتائیں آپ نے کیا کیا ہے ان کے ساتھ؟ عرین اسکا گریبان تھامے چلائی

کیا کر رہی ہو۔۔۔!

بتائیں مجھے۔۔۔ وہ ہنوز اسکا گریبان تھامے چلائی تھی

عرین! اب کے حازم ڈھار تھا جس پر وہ ہوش میں آتی دو قدم ہیچھے ہوئی

میرے ڈیڈ!

طبیت ٹھیک نہیں تھی ان کی حمزہ کے ساتھ چیک اپ کروانے گئے ہیں غلطی ہوگئے اگر مجھے پتا ہوتا تو تمہیں بھی علاج کے لیے بھیج دیتا! اس کی بادامی آنکھوں میں جھانکتا اپنے لفظوں پر وہ اسے آگ لگا گیا تھا

مجھے نہیں ٹریٹمنٹ کی ضرورت آپ کو ہے آپ کا دماغ۔۔۔

تمیز سے بات کرو! وہ اس کی بات بیچ میں ہی کاٹتا غرایا

جس طرح آپ مجھ سے بات کریں گے نا ویسے ہی میں کروں گی سمجھے آپ!

دیکھو چھوٹی لڑکی مجھ سے بحث۔۔۔

کتنی بار بتاؤں عرین نام ہے میرا؟ اس کے آنسو جیسے کہیں غائب ہو گئے تھے وہ اب شیرنی بنی دونوں بازو کمر پر ٹکائے لڑاکا عورتوں کی طرح بولی

گاڑی میں بیٹھو میرے پاس تمہاری اس فضول بحث کا ٹائم نہیں ہے!

میں نہیں بیٹھ رہی! اس کی جرأت پر حازم نے حیرت سے اسے دیکھا تھا

تمہیں کسی نے کاٹ تو نہیں لیا؟وہ حیرتذدہ سا بولا

آپ مسلسل مجھ سے بدتمیزی کر رہے ہیں۔۔۔پہلے تو میں چپ چاپ سن لیتی تھی موم کہتی ہیں کہ جو شوہر بیویوں سے بدتمیزی کرتے ہیں وہ اچھے نہیں ہوتے! اپنی اس بات سے وہ اسے مزید حیرت میں ڈال گئی تھی

(تو یہ ہمت میڈم میں نکاح سے آئی ہے) وہ محض سوچ سکا تھا

گاڑی میں بیٹھو نہیں تو تمہیں شوہرکے وہ مطلب سمجھاؤں گا پوری زندگی یاد رکھو گی جلدی آؤ!

میں نہیں آرہی! وہ ہنوز منہ بنائے بولی

اوکے پھر رہو یہی۔۔۔! تیش سے کہتا وہ گاڑی اسٹارٹ کر گیا کے اس کی بات پر عرین نے کن اکھیوں سے انہیں دیکھا

اور اگلے ہی لمحے وہ بھاگتے ہوئے فرنٹ سیٹ پر آکر بیٹھی تھی

آج بیٹھ گئی اگلی بار اگر آپ نے بدتمیزی کی تو کبھی نہیں بیٹھوں گی! گردن اکڑا کر کہتی وہ اپنے اس روپ سے اسے حیرت کے جھٹکے دے رہی تھی