357.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 2

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

ممجھے چچھھوڑ دیں ممیں صبح ہی واپس چلی جاؤں گی! وہ روم آکر سونے کی نیت سے بستر پر لیٹا تھا جب اس کے الفاظ اس کے ذہن میں گردش کیے تھے بے ساختہ وہ سر جھٹک گیا نجانے وہ اس لڑکی کو کیا سمجھا تھا

صبح کا منظر سبز حویلی میں عام دنوں کی نسبت آج زیادہ پر رونق سماں پیش کر رہا تھا

ہمیشہ کی طرح ٹیبل کو بھرپور لوازمات سے سجایا گیا تھا عالم خان آکر سربراہی کرسی پر بیٹھے جبکہ اقبال خان کو انہوں نے اپنے ساتھ دائیں طرف بیٹھایا تھا

گڈ مورننگ میم…! لیلی اسے دیکھ کر اس کے پاس آتی مودب انداز میں بولی

میرا ناشتہ میرے روم میں لے آؤ… وہ ایک نظر ناشتے کی ٹیبل پر ڈالتی تلخی سی دیکھتی پلٹنے لگی

رکو لیلی موم سب کے ساتھ بریک فاسٹ کریں گی! حازم کی آواز پر وہ تیش سے پلٹی

تم مجھے آڈدر دے رہے ہو حازم؟ وہ خفگی سے اس کی طرف دیکھے بولیں کے ان کے لفظوں پر حازم نے افسوس سے اپنی خوبصورت ماں کو دیکھا

میں آڈدر نہیں دے رہا موم…میں بس اتنا چاہتا ہوں آپ ہمیشہ کی طرح میرے ساتھ ناشتہ کریں….اب آپ ان لوگوں کے لیے اپنے اصول توڑیں گی؟ وہ انہیں ہینڈل کرنا جانتا تھا

ہاں صیح کہا میں کیوں ان لوگوں کے لیے اپنے ہی گھر کے اصول خراب کروں چلو! جب حازم کا فون رنگ ہوا

آپ چلیں موم میں آیا!

ہاں بولو حمزہ… اسے کال میں مصروف دیکھ کر الیانہ اپنی مخصوص مغرور چال چلتی ڈائنگ ہال کی طرف بڑھ گئی

جہاں توقع کے برعکس آج حنان بھی پہلے سے موجود تھا ان سب کو پرسکون ماحول میں ناشتہ کرتے دیکھ کر وہ ناگواری سے عالم خان کے ساتھ رکھی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئیں

اسلام و علیکم بھابھی!

اسلام و علیکم بڑی موم! ایرج اور عرین ساتھ بولیں جس کا جواب انہوں نے محض سر ہلا کر دیا تھا

حازم کہاں ہے؟ عالم خان اردگرد نظر دوہرا کر بولے

وہ بس آرہا ہے! جبھی اس کی بارعب آواز گونجی تھی

گڈ مورننگ ایوری ون! اس کی آواز پر سب نے سرعت سے اسے دیکھا کے اس کے آتے ہی حنان کھڑے ہوکر اس کے گلے لگا یہ اسکا روز کا معمول تھا

خیر ہے آج جلدی اٹھ گئے؟

جی بھائی میں نے سوچا چاچو کے سامنے نمبر بڑھا لوں…! وہ سرگوشی نما انداز میں بولا کے اس کی بات پر حازم سر جھٹک کر اقبال خان کی طرف بڑھا

اسلام و علیکم چاچو! ان کے گلے لگ کر وہ خوشدلی سے ان سے ملا تھا جبکہ اقبال صاحب حیرانی سے اسے دیکھ رہے تھے عالم خان اپنی شاندار شخصیت کے باعث لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا ہنر رکھتے تھے جب کہ وہ انہیں اپنے باپ سے دو قدم آگے لگا بلاشبہ اسکا دراز قد اور گہری آنکھیں اس کی شخصیت میں چار چاند لگاتی تھی

و علیکم السلام….ماشاءاللہ بھئی بھائی صاحب اسنے تو آپ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے! وہ اس کی باوقار شخصیت سے متاثر ہوکر بولے جو اب عالم خان کے سامنے سربراہی کرسی پر بیٹھ رہا تھا

بلکل ٹھیک کہ رہے ہو اقبال میرا بیٹا ہے ہی ایسا شیر جیسا…..اسی لیے بہت سے گیدڑوں کی نظریں ہیں اس پر! الیانہ طنزیا لہجے میں بولیں کے اقبال صاحب ان کا طنز سمجھ کر چپ لگا گئے عالم خان نے گھور کر الیانہ کو دیکھا جو اب بے زر سی کھانے میں مصروف ہو گئی تھیں

عرین بتا رہی تھی کل رات اماں کی طبیعت بگڑ گئی تھی….

جی ڈیڈ میں نے ڈاکٹر کو بلا لیا تھا زیادہ پریشانی کی بات نہیں تھی اسئلے آپ کو جگانا مناسب نہیں لگا! وہ کانٹے سے آملیٹ کا بائٹ لیے بولا

ہممم….

اور کیا کیا بتایا آپ کو عرین نے؟ کسی خیال کے تحت وہ پوچھ بیٹھا جبکہ اس کی بات پر عرین حلق تر کر گئی

یہی کہ تم نے اس پر آتے ہی گن رکھ دی تھی ویسے مجھے تم سے ایسی حرکت کی توقع نہیں تھی….. عالم خان کی بات پر اسنے عرین کی طرف دیکھا جو رات والے حلیے میں ہی تھی اس پر ایک سرد نگاہ ڈال کر وہ عالم خان کی طرف متواجہ ہوا

مس انڈر آسیٹڈنگ ہو گئی تھی ڈیڈ!

ہمم لیکن عرین آپ کی سوری کے انتظار میں ہے!

ایسا اس نے کہا آپ سے؟ حازم کو حیرت ہوئی اتنی ہمت والی وہ لگ تو نہیں رہی تھی

مجھے ایسا لگتا ہے! عالم خان بے نیازی سے بولے جبکہ عرین کو ان سے شکایت کرنے پر بے حد افسوس ہوا تھا انہیں بار بار حازم سے ذکر نا کرنے کے باواجود وہ اسے اس جلاد کے سامنے ڈال چکے تھے

ارے نہیں بھائی صاحب دراصل ہماری بیٹی زرا ناسمجھ ہے اس کی باتوں کو سریس نا لیں….اور حازم آپ بتاؤ کیا کرتے ہو آج کل؟ ایرج دھیمے لہجے میں اس سے محاطب ہوئیں

میں نے لاء پڑھا ہے اور فلحال ڈیڈ کے ساتھ ساتھ رہ رہ کر تھوری بہت سیاست بھی آتی ہے! وہ مصروف سے انداز میں بولا

صرف لاء پڑھی نہیں ہے اس شہر کا سب سے اچھا وکیل ہے یہ آج تک کوئی کیس نہیں ہارا میرا بیٹا…عالم خان فخریہ انداز میں بولے جس پر ایرج نے ستائشی انداز میں اسے دیکھا

(جبھی اتنا شکی ہے کہ گن ہی اٹھا لی) عرین محض سوچ سکی تھی

ماشاءاللہ بہت اچھی بات ہے

میری عرین کو بھی لاء میں انٹرسٹ ہے!

ہمم گڈ باہر کے لیے تو یہ ڈگری ٹھیک ہے لیکن پاکستان میں اس کام کے لیے لیڈیز کو بہت ہمت چاہیے ہوتی ہے…! وہ نیپکن سے ہاتھ صاف کرکے اٹھا تھا

چلیں آپ لوگوں سے پھر ملاقات ہوگی! ان سے کہ کر وہ موبائیل کان سے لگاۓ باہر نکل گیا

عرین بیٹی یہاں بور تو نہیں ہو رہی؟ عالم خان نے مسکرا کر پوچھا

نہیں بڑے پاپا انفیکٹ میں تو آسٹریلا میں بور ہو جاتی تھی اکیلے رہ رہ کر!

چلو کوئی بات نہیں ابھی حائنہ آجائے گی ایک دو دن تک پھر آپ کو اور مزہ آۓ گا! عالم خان محبت سے بولے جب کہ ان کا یہ انداز الیانہ کو سخت ناگوار گزر رہا تھا اس سے پہلے برداشت سے باہر ہوتا وہ ایسکیوز کرتی اٹھ گئی تھیں

بھائی صاحب میں زرا اماں کو دیکھ لوں! ایرج عرین کو اشارہ کرتی آئمہ بیگم کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں

مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے اقبال! سب کے جاتے ہی عالم خان اپنے بھائی اقبال خان سے بولے

جی بھائی!

”میں چاہتا ہوں جب تک اماں ٹھیک نا ہو جائیں تم واپسی کا خیال اپنے ذہن سے نکال دو“ عالم خان سنجیدگی سے بولے

ایسا نہیں ہو سکتا بھائی دراصل…!

یہ میرا حکم ہے اقبال! اس کے آگے اقبال خان نے فلحال خاموش رہنا مناسب سمجھا

*********************

کل کی نسبت وہ آج جلدی اٹھ کر جلدی یونیورسٹی پہنچی تھی آج اس کا حلیہ بھی کل کی نسبت زیادہ اچھا تھا بیلو جینس پر اورنج کڑتا گلے میں بیلو اسٹولڑ اور بالوں کو پونی میں قید کیے وہ لبوں پر صرف لپ گلوس لگاۓ ہوۓ ہی کل سے کافی مختلف لگ رہی تھی

لگتی بھی کیوں نہیں نا وہ آج اچھے سے ایک گھنٹہ لگا کر تیار ہوکر آئی تھی

واہ واہ خیریت ہے آج تو نین پوری پٹاخہ بن کر آئی ہے! علینہ اسے دور سے آتا دیکھ کر اسکے پاس آئی بولی اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتی کوئی ایک بار پھر اس سے آکر ٹکرایا تھا

آئی ایم سوری میم! مقابل اسے دیکھے بغیر بولا جبکہ اسکا چہرہ دیکھتے ہی وہ سرخ انگارہ ہوئی

اندھے انسان! اس کے چلانے پر ساتھ موجود علینہ نے کانوں ہر ہاتھ رکھے تھے

تم؟ المان نے گلاسس اتار کر اسے دیکھا وہ آج کافی منفرد لگ رہی تھی

ہاں میں ایک بات بتاؤ بچپن میں کیا پولیو کے قطرے نہیں پیئے تھے کیا یا بریکیں فیل ہو گئیں جو ٹکرے مارتے پھیڑتے ہو؟وہ خاصا کڑورے پن سے ہاتھ کمر پر باندھے بولی جبکہ اس کے چلانے سے یونیورسٹی کے چند اسٹوڈنٹ تماشائیوں کی طرح یہاں جمع ہو گئے تھے المان خان اس یونیورسٹی کا جانا مانا نام تھا جسے لوگ رشک اور حسد کی نظروں سے دیکھا کرتے تھے

ویل اب مجھے پولیو کے قطرے پلاۓ گئے ہوں یا نہیں یہ تو آپ کو میرے پیرنٹس سے ہی پتا لگ سکتا ہے اور اس کے لیے تمہیں میرے گھر جانا پڑے گا جو کہ تم جیسی میڈل کلاس لڑکی افوڈ نہیں کر سکتی! وہ لوگوں کا ہجوم دیکھ کر حقارت آمیز لہجے میں بولا کے اس کے طنز پر تمام اسٹوڈنٹ ہنسنے لگے

جب کے وہ تو جیسے زمین میں دھنس چکی تھی اسنے کرب سے آس پاس لوگوں کو دیکھا جو تمسخرانہ ہنسی ہنس رہے تھے مارے تزلیل سے اسکا چہرہ سرخ پڑنے لگا تھا

رعنین چلو یہاں سے! علینہ اسکا ہاتھ پکڑنے جانے لگی مگر وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نا ہوئی

کیا ہوا بے بی کو برا لگ گیا کچھ غلط کہ دیا کیا میں نے؟ المان اسکا سرخ چہرہ دیکھ کر طنزیا بولا

نہیں بلکہ بلکل ٹھیک فرمایا تم نے….میں تمہاری طرح سونے کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوئی مسٹر کیا نام تھا تمہارا ہاں المان ملک….نا تو میرا باپ تمہارے ڈیڈ کی طرح کسی سیاسی پارٹی کا حصہ ہے اور نا ہی ان کے پاس اتنے پیسے تھے(علینہ نے اسے کل المان کی ساری ڈیٹلیز بتائی تھیں جو آج اس کے کام آرہی تھیں) لیکن میرے باپ کے پاس غیرت خوداری اور حلال کی کمائی تھی جو کہ مجھے وسیت میں اپنے باپ سے ملی ہے….نا تو میں نے تمہارے باپ کی کمائی کھائی ہے اور نا ہی میں تمہاری ملازمہ ہوں اسئلے آئندہ مجھ سے اس طرح بات مت کرنا

.

اور ہاں جہاں تک بات رہی میڈل کلاس ہونے کی تو میری طرح نجانے اس یونیورسٹی میں کتنے ہی اسٹوڈنٹ ہونگے جو اپنے باپ کی پینشن اور ماں کی حق حلال کی کمائی سے یہاں تعلیم حاصل کرنے آۓ ہونگے مجھے فخر ہے اپنے میڈل کلاس ہونے پر کیوں کہ میں اپنے باپ کا کھاتی ہوں عوام کا نہیں!

ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتی ایک افسوس بھری نگاہ المان پر ڈالے وہ علینہ کا ہاتھ تھامے اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئی تھی جبکہ پیچھے المان کی طرح کسی بھی شخص کے پاس کوئی جواب نہیں بچا تھا

سکندر!

یس برو!

مجھے اس لڑکی کی ساری ڈٹیلٹرز چاہیے کہاں رہتی ہے کیا کرتی ہے! نجانے کیوں اسکا یوں کرب سے دیکھنا المان ملک کو ناگوار گزر رہا تھا

کیوں پسند آگئی ہے؟ سکندر نے اسے چھیڑا

ہاں شاید!

وہ مسکرا کر کہتا اپنا بیپ بیپ کرتا فون کان سے لگا گیا

جی ڈیڈ…

اوکے میں آرہا ہوں! موبائیل جیب میں ڈالے وہ تیز قدموں سے یونیورسٹی سے باہر کی جانب بڑھا

کیا ہوا بھائی؟ سکندر اس کے پیچھے پیچھے آیا مگر اسنے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا

ڈیڈ نے صرف مجھے بلایا ہے!

اگلے آدھے گھٹنے میں وہ ان کے سامنے تھا

ڈیڈ آپ نے یاد کیا؟ ان کے آوفس میں بے نیازی سے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوۓ اسنے بے نیازی سے پوچھا

ہاں مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے! سامنے موجود ویل ڈریس شخص جسے لوگ انور ملک کے نام سے جانتے تھے سنجیدگی سے بولے ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے ان کے ساتھ ایک خاتون بھی موجود تھیں

جی ڈیڈ پوچھیں!

اکیس جون کو تم کہاں تھے؟

ڈیڈ بتایا تو تھا مری…..

جھوٹ! وہ بری طرح ڈھارے کے المان نے حلق تر کرکے انہیں دیکھا

جھوٹ مت بولو المان ہم جانتے ہیں تم اس دن اسی شہر میں موجود تھے اور خانی کے بیٹے کا قتل تم سے ہی ہوا ہے!

پر ڈیڈ یہ سب پوچھنے کی وجہ جان سکتا ہوں وہ کیس تو بند ہو گیا تھا! وہ الجھ کر بولا

ہاں بند ہو ہوگیا ہے مگر خانی نے وہ کیس ری اوپن کروایا ہے اس کے لیے یہ کرنا مشکل نہیں تھا اور جانتے ہو اس بار اسکا وکیل کون ہے؟ انور ملک نے ایک لفافہ اس کے آگے ڈالا جس پر موجود نام پڑھتے ہی اس کے تاثرات بدلے

حازم خان…

حازم خان کیا؟ زہرہ نے اضطراب کی کیفیت میں پوچھا یہ نام ان کے لیے ایسا ہی تھا……خون نچوڑ کر رکھ دینے والا…!

حازم خان کیس لڑے گا! المان کسی خواب کی سی کیفیت میں بولا

واٹ؟ یہ کیا کہ رہا ہے ملک صاحب آپ ہی بتائیں!

ٹھیک کہ رہا ہے یہ یہ کیس اب حازم خان ہینڈل کرے گا…

اتنا بھی مشکل نہیں ہے آپ اسے کچھ دے دلا کر اس کیس سے ہٹا دیجیے! زہرہ کندھے اچکاۓ بولی کے ان کے مشہورے پر انور ملک نے انہیں غور کر دیکھا

احمق عورت وہ سابقہ وزیرے اعلی کا بیٹا ہے اس کے پاس بھلا پیسوں کی کیا کمی؟ ویسے بھی وہ کبھی رشوت نہیں لیتا..

آہ الیانہ آہ پہلے تم میرے پیچھے پڑی رہیں پھر تمہارا شوہر میرے شوہر کے اور اب تمہارا بیٹا میرے بیٹے کے پیچھے پڑ گیا ہے…..کچھ کریں انور میرے بیٹے کو کچھ نہیں ہونا چاہیے! انور ملک سے کہتی وہ المان کے پاس گئی جو آنکھیں سکیڑے کسی غیر مرئی نقتے کو دیکھ رہا تھا

میں نے سنا ہے عالم خان کی ایک بیٹی بھی ہے جس میں سب کی جان بستی ہے! وہ گہری سوچ میں ڈوبا بولا کے اس کی بات پر زہرہ اور انور نے چونک کر اسے دیکھا

”تمہارا دماغ درست ہے عالم خان سے پہلے حازم تمہیں نہیں چھوڑے گا اس معتلق غلطی سے بھی نا سوچنا“

تو پھر خانی کی بھی تو ایک بیٹی ہے….بیٹی پر بات آۓ گی تو وہ خودبخود کیس واپس لے لے گا! اسنے ایک اور حل پیش کیا مگر اس بار انور ملک اسے ڈانٹنے کے بجاۓ اس کے مشورے پر پرسوچ سے کرسی پر بیٹھ گئے

کمرے میں ایک گہرا سناٹا چھا گیا تھا

”حازم پیچھے نہیں ہٹے گا“

اسے ہٹنا پڑے گا…. ڈیڈ آپ اس بارے میں سوچیے ایک یہی حل ہے جو کام آسکتا ہے….میں چلتا ہوں مجھے کچھ کام ہے! انہیں ایسے ہی پرسوچ چھوڑ کر وہ وہاں سے واک اوٹ کر گیا

*******************

گھر آتے ہی اسنے بیگ بے زاری سے بیڈ پر پھینکا تھا

کھانا لے آؤں؟ شمیم اسے آتا دیکھ کر جاۓ نماز فولڈ کرتی بولیں

نہیں موم بھوک نہیں ہے!

کیسے بھوک نہیں ہے ویسے تم آتے ہی شور مچا دیتی ہو…..کوئی بات ہوئی ہے کیا؟ وہ اسے بیڈ پر اوندھے منہ لیٹے دیکھ کر پریشانی سے بولیں

ہم اتنے غریب کیوں ہیں اماں؟ مطلب اللہ تعالی نے دنیا میں کسی کو دیا تو اتنا دیا کے وہ شخص پیسوں کی وجہ سے دوسرے کو زمین پر چلنے والے کیڑے سمجھنے لگے اور کسی کو نہیں دیا تو اتنا بھی نہیں دیا کہ وہ لوگوں میں کونفیڈنس سے اٹھ بیٹھ سکے! اس کے لہجے میں مایوسی تھی

یہ کیا کفر بک رہی ہو بتانا زرا کونسی نعمت ہے جو اللہ نے ہمیں نہیں دی؟ جن لوگوں کی تم بات کر رہی ہو نا اللہ نے تمہیں اتنا دیا ہے کہ تم اس یونیورسٹی میں پڑھ رہی ہو ورنہ سوچو کتنے ہی لوگ ہیں جو یہ پڑھائی تک افوڈ نہیں کر سکتے

میں نے تمہیں کتنی بار کہا ہے رعنین اللہ کا شکر ادا کرنا سیکھو….تم اللہ سے شکوہ کس حیثیت سے کرتی ہو؟ اس نے تو تمہیں اتنا سب بن مانگے دیا ہے اور تم نے بدلے میں کیا کیا؟ آج تک کبھی پانچ وقت کی نماز پڑھی ہے؟ اللہ کا شکر ادا کیا ہے اس نے تمہیں ہاتھ پاؤں دیے زبان دی خوبصورت چہرہ دیا! شمیم اس پر برستی تیش سے بولیں

اچھا نا سوری پتا نہیں لوگوں کی باتیں دماغ خراب کر دیتی ہیں!

”سوری مجھ سے نہیں اللہ سے کرو“

اللہ تعالی آئی ایم رئیلی سوری آپ تو جانتے ہیں میرا دماغ خراب کر دیا تھا اس جاہل انسان نے آپ تو میرے پیارے اللہ ہیں نا مجھے معاف کر دیں! اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی وہ فوری سے توبہ کرتی بولی جس پر شمیم مسکرا اٹھی

چلو اب میں کھانا لے کر آتی ہوں!

”جی جب تک میں نماز ادا کر لوں“ مسکرا کر کہتی وہ واشروم میں بند ہو گئی

******************

کیا ہو رہا ہے بھئی بور تو نہیں ہو رہی؟ وہ ٹی وی لاونج میں بیٹھی چینل بدلنے میں مصروف تھی جب حنان اس کے پاس آکر بیٹھا

ہو رہی ہوں کافی بور…کوئی ہوتا ہی نہیں ہے میرے پاس!

“چلو کوئی نہیں جب تک حائنہ نہیں آجاتی میں تمہیں کمپنی دوں گا“ حنان شریر لہجے میں بولا جس پر وہ مسکرا کر سر جھٹک گئی

میری بات ہوئی تھی حائنہ سے وہ ایک ہفتے تک آجاۓ گی!

کیا مطلب تم اور حائنہ ایک دوسرے سے لنک میں تھے؟ حنان حیرت سے بولا

ہاں کچھ عرصے سے مگر زیادہ نہیں بس دادی کی خیریت کی حد تک! اس کے کہنے پر حنان نے ہونٹ اوپر کی صورت میں بناۓ جبھی اپنے پیچھے سے آتے آواز پر وہ دونوں سرعت سے پلٹے سامنے ایک پیاری سی مناسب قد کی گندمی رنگت کی لڑکی کھڑی نظر آئی

کسی نے میرا نام لیا ہے کیا؟

حائنہ؟ حنان تیزی سے اس کی طرف بڑھا

سرپرائز…! وہ چہک کر حنان کے گلے لگتی اسکے بعد عرین سے ملی تھی جس کا چہرہ اس کے آنے سے کھل اٹھا تھا

سب کہاں ہے؟ اسنے گھر میں نظر ڈرا کر پوچھا

موم کٹی پارٹی میں گئی ہیں ڈیڈ کام سے اور بھائی کورٹ ہیں باقی چاچو اور چاچی دادو کے روم میں ہیں! حنان نے اسے ساری تفصیل بتائی جس پر وہ سر اثبات میں ہلاتی دادو کے کمرے کی طرف بڑھ گئی

اور بھئی سناؤ کیسا گزر رہا ہے پاکستان میں ٹائم؟ سب سے ملنے کے بعد وہ واپس ٹی وی لاونج میں عرین کے پاس آئی

”بہت اچھا…“

بھائی سے ملیں؟ نجانے کس خیال کے تحت اسنے پوچھا تھا جبکہ اس کی بات پر حنان کے منہ سے پانی چھلکا

ایسا ویسا….

”حنان کے بچے“ عرین نے اسے ٹوکا مگر وہ کہاں باز آنے والوں میں سے تھا اور اگلے پانچ منٹ بعد حنان اور حائنہ کے قہقے بلند ہوۓ تھے

واقعی یار نا کرو…بھائی کو اس معصوم پر شک ہو گیا! وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ تھی

”بس کرو تم دونوں ورنہ میں نے تم دونوں کو نہیں چھوڑنا“

”ہاہاہا چلو…میں تو چلا دوستوں میں تم دونوں لگاؤ گپ شپ“ حنان اپنے فون پر میسج دیکھ کر باہر نکل گیا کے اس کے جانے کے کچھ دیر بعد وہ کورٹ اپنے بازو پر ڈالے اندر داخل ہوا

بھائی! سر پرائز…..وہ جو اپنی الغرض سا سیڑھیاں چڑھ رہا تھا اس کی آواز پر رکا وہ چہک کر اس کے گلے لگی جس پر حازم نے مسکرا کر اسکے گرد حصار قائم کیا

بھائی کی جان….کیسے آئیں مجھے بلا لیتی بھائی آجاتا!

اگر بتا دیتی تو سرپرائز کیسے ہوتا؟

یہ بھی ٹھیک ہے! حازم مسکرایا جبکہ اس کا یہ انداز دیکھ کر عرین حیرت میں تھی وہ شاید صرف اس کے لیے سخت ثابت ہوا تھا وہ انہی سوچوں میں گم تھی جب لیلی اس کے پاس آئی

میم آپ کو اریج میم بلا رہی ہیں! لیلی اس کے کہنے پر وہ عرین سر کو خم دیے اریج کے روم میں چلی گئی

ویسے بھائی اتنی خطرناک لگتی تو نہیں ہے وہ….حائنہ ابرو اچکاۓ بولی

کیا مطلب؟

مطلب کے آپ نے آتے ہی اس پر گن رکھ دی؟ اس کی بات پر حازم کی پیشانی پر بل پڑے کل وہ اس لڑکی کو منع کرکے گیا جبکہ آج یہ بات سب کا تکیہ قلام بنی ہوئی تھی

چلو میں دادی کو دیکھتا ہوں! اس کے سر پر ہاتھ پھیرے وہ آئمہ بیگم کے روم کی طرف بڑھا جہاں سے وہ ابھی پانچ منٹ پہلے ابھی غائب ہوئی تھی

آئمہ بیگم کا روم ہال کمرے کے بعد ایک چھوٹی سے گیلری سے گزر کر آتا تھا

********************

جی موم میں لے آتی ہوں!

ہاں جلدی لے کر آؤ! ایرج نے اسے اپنے سامان سے چند چیزیں لانے کو بلایا تھا

اوکے موم لائی بس! ان سے کہ کر وہ تیز قدموں سے باہر کی طرف بڑھی کے اپنی جلدی میں سامنے سے آتے وجود بری طرح ٹکرائی تھی ٹکر اتنی شدید تھی کہ اسے اپنا سر چکراتا محسوس ہوا اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی دو مضبوط ہاتھوں سے اسے تھاما

نہیں گری تم! وہ جو گرنے کا سوچ کر آنکھیں موندے ہوۓ تھی اس کی آواز پر پھٹ سے آنکھیں کھول گئی

وہ..وہ..وہ

دیکھ کر نہیں چل سکتی؟ حازم اسے سیدھا کرتا غرایا

آئی ایم سوری! اس کی موجودگی میں گھبرا کر کہتی وہ آگے بڑھنے لگی جب حازم نے اسے دیوار سے لگایا کے اس اچانک اتفاد پر وہ بری طرح بوکھلائی

جب میں بے تمہیں منع کیا تھا تو تم نے بات کو خبر کی طرح کیوں پھیلایا؟ وہ اس کی بادامی آنکھوں میں جھکتا غرایا

وہ…

ششش تمہاری یہ وہ وہ سننے نہیں آیا سیدھا جواب دو!

میں نے تو صرف بڑے پاپا کو بتایا تھا….اس کے غرانے پر وہ حلق تر کرتی منمنائی

منع کیا تھا نا!

تو آپ کو کیا لگتا ہے میں آپ کی ہر بات مانو گی؟ وہ گردن اکڑا کر بولی کے حازم نے اسے گھورا جس پر وہ بے ساختہ نظریں جھکا گئی

بہت زبان چلتی ہے نا تمہاری….جانتی ہو جب کوئی مجھ سے ضد کرتا تو میں اس کے ساتھ کیا کرتا ہوں؟ وہ اسے ڈرانے کی غرض سے بولا

جانتی ہوں آپ اسے شوٹ کر دیتے ہونگے…!

وہ بھی کر دیتا ہوں مگر عموماً یا تو مجھے اس سے نفرت ہو جاتی ہے یا وہ مجھے پسند آجاتا ہے کوشش کرنا ان دونوں ہی اوپشنز میں مت آؤ ورنہ تمہارے لیے مشکل ہوگی! وہ گہرے انداز میں کہتا واپس مڑ گیا جبکہ اس کی باتیں عرین کو اپنے سر کے اوپر سے گزرتی محسوس ہوئیں اس کے جاتے ہی رکا ہوا سانس بحال کرتی وہ بھاگتے ہوۓ ایرج کے کمرے میں گئی تھی پہلے ہی اس سڑیل کی وجہ سے اتنا لیٹ ہو گئی تھی