357.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 23

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

ایک بار دیکھنے سے کیا ہوگا میری تسلی ہی ہو جاۓ گی! دل میں کہ کر وہ تیزی سے اس فائیل کھول کر دیکھنے لگی

اور پہلا صفحہ پلٹتے ہی اسے لگا تھا وہ اگلا سانس نہیں لے پاۓ گی…..

اس فائل کے پہلے ہی صفحے پر اس کے سائن موجود تھے یہ وہی فائل تھی جو آخری بار اسنے حازم کو دی تھی اس دن اسنے اسے نہیں پڑھا تھا مگر آج وہ ہر ایک لفظ کو بے یقنی سے پڑھ رہی تھی

جس میں اس نے اپنے حصے کی ساری جائیداد حازم خان کے نام پر ٹرانسفر کر دی تھی

یہ سب جھوٹ بھی تو ہو سکتا ہے وہ ایسا کیوں کریں گے؟ دل کے کسی کونے سے آواز آئی تھی

لیکن یہ فائل بڑی موم کے روم میں کیا کر رہی ہے؟ اس سے پہلے وہ مزید کچھ سوچتی اپنے پیچھے سے آتی الیانہ کی آواز سے وہ ہوش میں آئی

تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ الیانہ جو ابھی ابھی اپنے کمرے میں آئی تھی اس کی غیر متواقع موجودگی کو دیکھ کر طیش سے بولیں کے اس کی آواز سے عرین سرعت سے پلٹی

یہ کیا ہے؟ وہ اپنی سرخ انگارہ ہوتی آنکھوں سے اس کے سامنے فائل لہراتے ہوۓ بولی جب الیانہ کی نظر اس کے ہاتھ میں موجود فائل پر گئی ایک لمحہ لگا تھا اسے سارا معاملہ سمجھنے میں

جو تم نے دیکھا وہی ہے!

کککیا مطلب؟.

مطلب یہ کہ اس فائل میں لکھا لکھا ایک ایک لفظ حقیقت ہے تمہیں کیا لگا تھا میرا ہونہار بیٹا تم جیسی لڑکی سے محبت کرے گا؟ صرف میرے کہنے پر اس نے تمہارے ساتھ یہ سارا سین کری ایکٹ کیا…!

مگر کیوں؟ اسے اپنی آواز کسی کھائی سے آتی سنائی دی

کیوں کہ میرے بیواقوف شوہر نے اپنے حصے کی آدھی جائیداد تمہارے نام کر دی تھی تمہارا باپ شروع سے میرا شوہر کا حق کھاتا آیا ہے اس کا تو اس جائیداد میں ایک فیصد بھی حق نہیں تھا ایک لے پالک تھا وہ لے پالک…اور اب تم آگئی میرے بچوں کا حق چھینے؟ تمہیں اور تمہاری ماں کو کیا لگا تھا تم میرے ہی گھر میں رہ کر سب کچھ اپنے نام کر لو گے؟ اور تمہیں کیا لگا تھا تم میرے بیٹے کو ٹریپ کر لو گی؟ چچچ افسوس ہو رہا ہے مجھے تم پر تمہارے تو سارے ارمان دھڑے کے دھڑے رہے گئے تم تو خود ٹریپ ہو گئی…

یہ کہتے ہی وہ ایک جاندار قہقے کے ساتھ ہنسی تھی کے اس کے الفاظوں سے عرین کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سماں جاۓ

ویسے مانتی ہوں میں تمہاری باپ کو پوری زندگی میرے شوہر کا حق کھانے کے بعد بھی آخری میں تمہاری ماں اور تمہیں ہمارے سروں پر مصلحت کر گیا تمہارا باپ خود تو مر گیا مگر…! اور یہاں عرین کو صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا

بس اب ایک لفظ بھی اگر آپ نے میرے ڈیڈ کے لیے بولا تو!

تو کیا کر لو گی تم؟ الیانہ نے تضحیک آمد لہجے میں پوچھا

تو میں بڑے بابا کو بتا دوں گی! اس کی بات پر الیانہ کا چھت پھاڑ قہقہ کمرے میں گونجا

اچھا؟ اور کیا بتاؤ گی اپنے بڑے بابا کو کہ تم نے بہت کوشش کی کہ میرا بیٹا تمہاری محبت میں دیوانہ ہوجاۓ لیکن وہ تم سے دور ہی رہا؟ یا یہ بتاؤ گی کہ تم میرے بیٹے کی محبت میں اندھی ہو کر اپنا سب کچھ اس کے ن کر گئی؟ اور چلو بتا بھی دو تو تمہارا یقین کون کرے گا؟ عالم جب حازم سے پوچھیں گے تو وہ تم سے دستبردار ہو جاۓ گا حازم نفرت کرتا ہے تم سے صرف تمہاری وجہ سے وہ یہاں سے گیا ہے تاکہ جب وہ واپس آۓ تو تمہارا وجود اسے اس گھر میں نظر نہیں آۓ سمجھی تم؟ اس کے الفاظوں سے اب عرین کو اپنا دل پھٹتا ہوا محسوس ہوا تھا

میرا دل چاہ رہا ہے میں آپ کو بددعا دوں مگر میری موم میں مجھے کبھی کسی کو بددعا دینا نہیں سیکھایا لیکن ہاں آپ اتنا ضرور یاد رکھیے گا اللہ نے ایک اونٹنی کی آہ پر پوری قوم کو عزاب میں ڈال دیا تھا میں تو پھر ایک انسان ہوں جس سے وہ ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے! عرین اس کے قریب ہوکر کہتی انتہائی تکلیف کے عالم میں اس کے کمرے سے نکل گئی تھی

کے اس کے جاتے ہی الیانہ اپنا سر جھٹک کر زمین پر گری فائل اٹھاۓ اپنی الماری کی طرف بڑھ گئی اب کے اسنے فائل اپنی الماری کے سیو میں رکھی جہاں سے کوئی اس تک پہنچ نا پاۓ….

وہ بامشکل بھاری بھاری قدموں سے اپنے روم میں داخل ہوتے ہی دروازے سے لگ کر بیٹھتی چلی گئی اس کا ایک ہاتھ اپنے دل پر دوسرا پیٹ پر رکھا تھا

(آپ مجھے کبھی چھوڑ کر تو نہیں جائیں گے نا؟

کوشش کروں گا تمہیں کبھی مجھ سے تکلیف نا پہنچے) اس کے الفاظ یاد آتے ہی ایک سسکی سی اس کے لبوں سے نکلی الیانہ کی سچائی کا ثبوت اس کے پاس موجود وہ فائل تھی کچھ دیر ایسے ہی بیٹھنے کے بعد وہ ہمت کرکے اٹھ کر نماز ادا کرنے کے بعد اللہ کے آگے ہاتھ پھیلا گئی

اللہ تعالی آپ دیکھ رہے ہیں نا یہ سب میرے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ میں کتنی ڈربدر ہو گئی ہوں میں نے تو صرف ان سے محبت کی تھی اور بدلے میں بھی صرف محبت ہی مانگی تھی وہ ایک بار مجھے کہ دیتے میں سب کچھ ایسے ہی دے دیتی لیکن یہ سب کیوں؟ میں تو رعنین کو دیکھ کر روتی تھی مجھے کیا پتا تھا میری قسمت تو اس سے بھی زیادہ بری نکلے گی میں کہاں جاؤ اللہ؟ میں کسے اپنا درد سناؤں؟ آپ تو جانتے ہیں نا وہ میرے شوہر تھے میں نے انہیں صرف ان کا حق دیا کتنی بد نصیب ہوں میں…بلکہ کتنی بیواقوف ہوں میں میری بیواقوفی کی سزہ میری اولاد کو بھی بھگتنی پڑے گی

یا اللہ مجھے صبر دے دیں میرا دل پھٹ جاۓ گا…پلزز آپ ہی میرے ہم راز ہیں پلزز میرے راز کو اپنے پاس محفوظ کر لیں…اگر ایسا ہوا تو میں کیسے لوگوں کو اپنے نکاح کا یقین دلاؤ گی؟ آپ نے تو انہیں میرا محرم بنایا تھا وہ محرم راز تھے میرے راز میں میرے ساتھ تھے اور محرم راز تو محرم راز ہوتا ہے وہ ہر چیز کو محفوظ رکھتا ہے چاہیے وہ عیب ہو یا پھر کوئی راز تو پھر میرے محرم راز نے مجھے کیوں اپنی ہی ماں کے سامنے شرمندہ کر دیا….. روتے روتے وہ سجدے کی حالت میں سر جاۓ نماز پر رکھیں موند گئی اپنے رب کے سامنے بہاۓ گئے آنسو انسان کے دل میں جھسلتے دل پر مرہم کی مانند لگتے ہیں اس کا دل بھی اب زرا پرسکون ہو گیا تھا

******************

صبح ناشتے کی ٹیبل پر سب موجود تھے سوائے حائنہ اور حازم کے

میرے بیٹے کی نیند پوری نہیں ہوئی؟ عالم خان اس کی سرخ ہوتی آنکھیں دیکھ کر پوچھنے لگے

نیند آتی بھی کیسے؟ اس کے جواب دینے سے پہلے ہی الیانہ نے مداخلت کی جس پر عرین نے اپنی سرخ انگارہ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھا

کیا مطلب؟ عالم خان ناسمجھی سے بولے

آآئی مین یونیورسٹی کی پڑھائی سونے کی کب دیتی ہے حنان اور یہ تو بس کتابی کیڑے بن گئے ہیں! اب کی بار اس نے بات سنبھالتے ہوۓ کہا

یہ بات تو بلکل ٹھیک کہی آپ نے بھابھی! ایرج ان کی تائید کرتے ہوۓ بولی جس پر الیانہ سر کو خم دے گئی

اچھا ڈیڈ آپ کی بات ہوئی ہے بھائی سے؟

ہاں ایک دو دن پہلے بات ہوئی تھی وہ ٹھیک ہے! حنان کے پوچھنے پر عالم خان کھانے میں مصروف سے بولے کے ان کی بات پر الیانہ نے گردن اکڑا کر عرین کو دیکھا جس کا چہرہ اب کاغز کی مانند سفید پڑ چکا تھا

بڑے بابا مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے!

ہاں بیٹا کرو!

اکیلے میں! اب کے سفید پڑنے کی باری الیانہ کی تھی

ٹھیک ہے پھر میں آپ سے شام میں ملتا ہوں! عالم خان کے کہنے پر وہ سر اثبات میں ہلاتے ہوۓ نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے ہوۓ اٹھ گئی

اکیلے جاؤ گی کٹو؟ اسے جاتا دیکھ کر حنان اس کے پیچھے آتے ہوۓ بولا

کاش میں پہلے اکیلے چلنا سیکھ جاتی! اسنے دل میں کہا اور گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی

********************

کلاسس لینے کے بعد وہ رعنین کے ساتھ یونیورسٹی کے کیفے ٹریا میں آگئی تھی

کیفے ٹریا میں موجود ویٹر کو چاۓ کا آڈدر دے کر وہ دونوں ایک ٹیبل پر آمنے سامنے بیٹھ گئیں

میں نے سنا المان کے بارے میں! کافی لمحوں کی خاموشی کے بعد عرین نے بات کا آغاز کیا

ہمم…رعنین تلخی سے مسکرائی

تمہیں تکلیف نہیں ہوئی یہ سب جاننے کے بعد؟

نہیں! اسنے لفظی جواب دیا

اتنا سب جاننے کے باواجود تمہیں اس سے محبت…

ہونہوں اب یہ لفظ تم اس شخص کے نام کے ساتھ جوڑ کر اس کی بے حرمتی مت کرو! اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی رعنین نے اسے ٹوکا

مطلب؟ عرین نے نا سمجھی سے پوچھا

مطلب کہ یہ سب جو کچھ ہوا اب میرا دل سکون میں ہے میں جانتی ہوں میں نے دیر کردی لیکن پھر بھی اللہ نے مجھے جلدی اس شخص کا اصل چہرہ دیکھا دیا

جانتی ہوں عرین اس سب کے بعد مجھے ایسا لگنے لگا ہے جیسے میں نے اپنی اماں کے ساتھ اچھا نہیں کیا انہوں نے کتنا بھروسہ کیا تھا مجھ پر اور میں نے کیا کیا؟ وہ رونا نہیں چاہتی تھی مگر پھر بھی اس کے آنسو گال بھگو رہے تھے شاید وہ اب تکلیف کے اس درجے پر تھی جہاں اسے آنسو بہتے ہوۓ بھی محسوس نہیں ہوتے تھے .

چلو مان لیتے ہیں تم نے آنٹی سے چھپا کر غلط کیا لیکن اس کے علاوہ تم نے کیا غلط کیا؟ تم نے اس شخص سے نکاح کیا اسی نیت سے وہ ایک دن تمہیں سب کے سامنے اپنی بیوی ایکسیپٹ کرے گا اس میں کوئی گناہ نہیں ہے! عرہن اسے سمجھاتے ہوۓ بولی

تمہیں نہیں پتا عرین…ہمارا معاشرہ آج بھی عورتوں کو بھی قصور وار ٹہراتا ہے اور المان جیسے مردوں کو چھوڑ دیتا ہے یہ دنیا مجھے ہی غلط کہے گی!

تم دنیا کو چھوڑ دو یہ تمہاری زندگی ہے رعنین تم پھر بھی بہت سے نقصان سے بچ گئی ورنہ بہت سی لڑکیاں ایسی بھی ہیں جو محبت میں اپنا آپ تک دوسرے کے حوالے کر دیتی ہیں…یہ لفظ ادا کرتے ہوۓ اسے اپنا دل جھنجھڑتا ہوا محسوس ہوا جب کے اس کے جمعلے پر رعنین نظریں پھیڑ گئی

( وہ اسے کیا بتاتی کے وہ بھی ان ہی لڑکیوں کو شامل تھی جو محبت کے دھوکے میں اپنہ عزت تک کھو چکی تھیں)

پھر بھی عرین یہ دنیا بہت بری چیز ہے یہ ہمارے رب کی مخلوق تو ہے لیکن اپنے رب کے حکم کو ماننے والی نہیں ہے یہ دنیا رب کی طرح عیبوں پر پردہ نہیں ڈالتی بلکہ یہ تو نظریں جماۓ بیٹھی ہوتی ہے کہ کب کوئی شخص غلطی کرے اور وہ اسے آگ کی طرح پھیلا دیں یہ عیب کو ڈھانپٹی نہیں ہے یہ عیبوں کو اچھالتی ہے یہ لوگوں کے درد میں ہمدرد نہیں بنتی بلکہ یہ دوسروں کی تکلیف سے خوش ہوتی ہے تم اس دنیا کو نہیں جانتی کیوں کہ تم ابھی محبت جیسے چیز کے ہتے نہیں چڑھی…. رعنین تلخ مسکراہٹ کے ساتھ اس کے سامنے حقیقی دنیا کی ایک جھلک رکھتے ہوۓ بولی جب کے اس کی باتوں سے عرین نے اپنا حلق تر کیا اور بے ساختہ اپنا ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھا

یہ دنیا تمہیں بھی کھا جاۓ گی! وہ محض سوچ سکی یکدم ہی اس کے تاثرات بدل گئے تھے اسے گھٹن ہونے لگی وہ کیسے یہ سب ہنڈل کرے گی؟ کیسے وہ اس دنیا میں اس بچے کو پہچان دلاۓ گی؟

مجھے گھر جانا ہے! وہ چاۓ کا انتظار کیے بغیر اٹھ گئی

لیکن اچانک کیوں؟

بس کچھ کام ہے! اس سے کہ کر وہ اگلی بات سنے بغیر تیزی سے اپنا بیگ اٹھا کر آگے بڑھ گئی

یونیورسٹی سے نکل کر اسے کوئی رکشہ یا ٹیکسی دیکھائی نہیں دی

وہ سستی سے قدم اٹھاتے ہوۓ اس ویران سڑک پر چلنے لگی

Areen means Forest!

”ایک ایسا جنگل جو اپنے ساۓ میں بہت سے لوگوں کو تپتی دھوپ سے بچاتا ہے جہاں ہر شخص آسانی سے سفر نہیں کر سکتا…“

”نایاب چیزیں پردے میں ہی اچھی لگتی ہیں!“ اس کا ایک ایک قدم اسکے الفاظ یاد کرتے ہوۓ مزید بھاری ہو گئے تھے

”میں پوری رات تمہاری وجہ سے ہی خوار ہوا ہوں یاد رکھنا اس طرح کی صورت حال میں کبھی بھی کسی مرد پر تہمت نہیں لگتی تمہت ہمیشہ عورتوں پر لگتی ہے مرد بہت آسانی سے اپنا دامن بچا لیتا ہے“

”کوشش کروں گا تمہیں کبھی مجھ سے تکلیف نا پہنچے“

جھوٹ جھوٹے ہیں کتنی بڑی بیواقوف تھی میں جو آپ کی باتوں آگئی…. وہ اپنی خیالوں میں اس سے مخاطب ہوکر بری طرح چلائی تھی کے اچانک سے اسکے سامنے سے وہ منظر ہٹا وہ اس وقت سڑک پر تھی اس سے پہلے وہ مزید کچھ سمجھتی سامنے آتی گاڑی نے اسے ہٹ کیا جس پر وہ اپنی جگہ سے اچھل کر سڑک پر گری تھی

اوہ شٹ دھیان کہاں تھا تمہارا؟ آخری منظر اسنے ایک عمر رسید خاتون کو اپنی طرف بڑھتے ہوۓ دیکھا پھر اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا

*********************

اس کی آنکھ کھولی تو خود کو ایک انجانی جگہ پر پایا تھا ذہن بیدار ہوتے ہوتے اسے اپنا سر پٹی میں جکڑا ہوا محسوس ہوا

میم آپ زیادہ ہلیں مت! یہاں موجود نرس اسے اٹھتا دیکھ کر بولی

ممجھے یہاں کون لایا ہے؟ وہ کچھ سوچتے ہوۓ پوچھنے لگی

آپ کو یہاں ہماری ایک سنیئر ڈاکٹر لے کر آئی ہیں انہی کی کار سے آپ کو چوٹیں لگی ہیں! نرس مودب انداز میں بولی

وہ.. میرا بے… وہ چاہ کر بھی پوچھ نہیں سکی مگر نرس اس کا سوال سمجھ چکی تھی

وی آڑ سو سوری میم بٹ ہم آپ کی پریگنینسی کو برقرار نہیں رکھ پاۓ! نرس کے کہتے ہی وہ کرب سے آنکھوں بھیج گئی

مممجھے یہاں آۓ کتنی دیر ہوئی ہے؟

میم آپ کو دو گھنٹے کو ہوگئے ہیں سر پر ہلکی سی چوٹ آئی ہے اس کے علاوہ کوئی سریس چوٹ نہیں ہے! نرس اسے تفصیل بتانے لگی

میرا بچہ تو مار دیا ہے اس کے علاوہ بھی کچھ سریس ہونا تھا؟ اسنے کرب سے کہا جس پر نرس خاموشی سے باہر نکل گئی اور ایک عمر رسید مگر ویل ڈریس خاتون اس کے روم میں داخل ہوئی

آئی ایم سوری فار یور لوس گرل! آپ میری گاڑی کے آگے بلکل اچانک آگئی تھی…وہ خاتون محبت پاش لہجے میں بولی جس سے عرین محض انہیں دیکھ کر رہے گئی

آئی ایم رئیلی سوری…! انہوں نے پھر سے کہا

کوئی بات نہیں شاید آپ نے میری مشکل آسان کر دی ہے! وہ مدہم آواز میں خود سے بولی اس کی تکلیف خودبخود اس کی آنکھوں کے زریعے بہنے لگا

آپ مجھے اپنا ایڈریس بتا دیں میرا ڈرائیور آپ کو چھوڑ آۓ گا آپ کے گھر والے بھی پریشان ہو رہے ہونگے! وہ خاتون اس کی حالت سمجھتے ہوۓ بولیں جس پر وہ سر ہلاتے ہوۓ انہیں اپنا ایڈریس بتانے لگی

یہ کچھ میڈیسن ہیں یہ لیں گی تو جلدی ریکور ہو جائیں گی! وہ بامشکل چل کر گاڑی تک آئی جب ان خاتون نے اسے کچھ میڈیسن پکڑائی ان سے میڈیسن لے کر وہ تلخی سے مسکراتے ہوۓ گاڑی میں بیٹھ گئی

تم سے میرا وعدہ ہے میں تمہارے باپ سے اس سب کا بدلہ ضرور لوں گی میری جان! وہ خالی سڑکوں کو دیکھتے ہوۓ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے ہوۓ خود سے بولی اس کی آنسو اب تک تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے

گھر پہنچتے ہی اسے حنان عالم خان اور ایرج پریشانی سے ہال میں ٹہلتے نظر آۓ

کککہاں تھیں تم کب سے کالز کر رہے ہیں ہم! ایرج اسے دیکھ کر پریشانی سے بولیں

موم وہ ایک چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا!

ایکسیڈنٹ؟ کیسا ایکسیڈنٹ؟ عالم خان فوری آگے بڑھے

کچھ نہیں بڑے بابا بس وہ ایک دم گاڑی نے ہٹ کر دیا چوٹ نہیں لگی اتنی!

وہ تو ہم دیکھ ہی رہے ہیں کیا ضرورت تھی تمہیں یونی سے اکیلے کی کیا ضرورت تھی؟ حنان اسے دیکھتے ہوۓ غصے کے انداز میں بولا

اچھا چلو کوئی بات نہیں شکر ہے اللہ نے کرم کر دیا ایرج آپ عرین کو روم میں لے جائیں! عالم خان نرمی سے بولیں کے ان کی بات سنتے ایرج اس کے پاس آتے ہوۓ اسے پیار سے اپنے ساتھ لگاۓ اس کے روم کی طرف بڑھ گئی

آئندہ خیال کرنا میری جان نکل گئی تھی تمہارے علاوہ اب میرا ہے ہی کون؟ ایرج اسے دوائی دیتے ہوۓ محبت پاش لہجے میں بولیں

ایک اولاد ماں کو کتنی عزیز ہوتی ہے؟ وہ کسی نقتے کو سوچتے ہوۓ پوچھنے لگی

اتنی عزیز جیسے ایک مرنے والے کو زندگی…!

اور اگر کسی سے اس کی اولاد ہی چھین لی جاۓ تو؟

کیسی باتیں کر رہی ہو اللہ کبھی کسی کو ایسا دن نہیں دیکھاۓ تم سو جاؤ اب! ایرج محبت سے اس کی پیشانی چومتے ہوۓ کہتی باہر نکلنے لگی جب عالم خان روم میں داخل ہوۓ انہیں دیکھ کر ایرج اپنا ڈوپٹا درست کرتے ہوۓ انہیں سلام کرکے باہر نکل گئی

بڑے بابا آپ؟عرین انہیں دیکھ کر سیدھے ہوکر بیٹھی

ہاں میرے بیٹے کو کوئی بات کرنی تھی نا مجھ سے؟ عالم خان مسکرا کر کہتے ہوۓ اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئے

جی بڑے بابا وہ مجھے دراصل…

بولو بیٹا کھول کر کہو!

بڑے بابا آپ نے جو پراپرٹی میرے نام کی تھی وہ میرے ڈیڈ کی ملکیت نہیں ہے آپ اسے واپس لے لیں!

ایسا آپ سے کس نے کہا؟ عالم خان سنجیدہ ہوتے ہوۓ بولے

کسی نے نہیں کہا لیکن میں جانتی ہوں کہ میرے ڈیڈ کا حصہ نہیں ہے!

آپ سے یہ سب ضرور الیانہ نے کہا ہوگا دیکھو بیٹا وہ تو کچھ بھی کہ دیتی ہیں لیکن میں پھر بھی آپ کو کلئیر کر دوں آپ کے ڈیڈ میرے پھوپھو کے بیٹے تھے اس حساب سے جو میرے دادا کی پراپرٹی کا حصہ پھوپھو کو ملنا تھا وہ میں نے آپ کے ڈیڈ اور آپ کے نام کیا ہے آپ کو جو ملا وہ آپ کا اپنا حق تھا…. عالم خان کی بات پر اسنے چونک کر انہیں دیکھا

آپ سچ کہ رہے ہیں؟

جی میرا بچہ میں کیوں جھوٹ کہوں گا اپنے بیٹے سے؟ عالم خام خفگی سے بولے جس پر وہ جبڑا مسکرا دی اس کا دماغ اب کافی تیزی سے چل رہا تھا

اور کوئی کام تھا میرے بیٹے کو؟ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد عالم خان اٹھتے ہوۓ بولے

جی بڑے بابا مجھے ایک فیور چاہیے!

فیور کیسا فیور آپ ویش مانگیں!

وہ میں چاہتی ہوں آپ مجھے کوئی ایک چھوٹا سا فلیٹ رینٹ پر دلوا دیں… اس کی بات پر عالم خان نے حیرت سے اسے دیکھا

لیکن….

پلززز بڑے بابا میں نے آپ سے پہلی بار کچھ مانگا ہے!

لیکن آپ اور ایرج اکیلے کیسے رہیں گے؟

ہم اکیلے کہاں ہونگے؟ آپ سے ٹچ میں رہیں گے اب پلزز انکار مت کریں! اس کے اسرار پر عالم خان نے ہتھیار ڈال دے تھے

ٹھیک ہے میں آپ کو سوچ کر بتاؤں گا! اس سے کہ کر وہ کمرے سے نکل گئے

یہ سب میرے ڈیڈ کا حق تھا اب تمہیں میں بتاؤں گی کسی کا حق کھانے کا انجام کیا ہوتا ہے حازم خان! ان کے جاتے ہی خود سے کہتے ہوۓ وہ جسم میں اٹھنے والی ٹیس سے آنکھیں میچ گئی