Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389 Mehram-e-Raaz Episode 31
Rate this Novel
Mehram-e-Raaz Episode 31
Mehram-e-Raaz by Syeda Shah
نکاح کا وقت ہو گیا تھا نکاح خواں کے آتے ہی عالم خان نے حائنہ اور رعنین کو عرین کو اپنے ساتھ اسٹیج پر لانے کا کہا جس پر وہ مسکرا کر سر کو خم دیتی اس کے پاس آئی
آجاؤ عرین…باہر نکاح خواں آگئے ہیں! ان دونوں کے کہنے پر وہ نزاکت سے اٹھ کر ان کے ساتھ چل دی
گھڑی میں تقریبا پانچ بجے کا وقت تھا موسم آج پہلے سے کچھ خوشگوار تھا سورج غروب ہونے کے قریب تھا ایسے میں سبز حویلی میں موجود اس خوبصورت لان میں ہوئی خوبصورت دیکوریشن میں انٹرس سے وہ پھولوں کے پردے میں چلتی ہوئی آتی کسی حور سے کم نہیں لگ رہی تھی اسکا پھولوں سے بھرے پردے کا ایک کونہ حنان اور دوسرا حمزہ نے تھام رکھا تھا اسے دیکھتے ہی ایرج نے بے اختیار اس کی نظر اتاری تھی
حائنہ اور رعنین نے اسے اسٹیج پر لاکر بیٹھایا اس کے سامنے ایک پھولوں کا پردہ تھا جو کہ اس کے اور حازم کے بیچ میں دیوار کی طرح لگایا گیا تھا.
عالم صاحب حازم کا کچھ پتا نہیں ہے یہ لڑکا پتا نہیں کہاں چلا گیا! الیانہ کی آواز اس کے کانوں میں پڑتے ہی گھونٹ کے اندر سے اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھری
مجھے یقین تھا پیچھلی بار کی طرح تم اس بار بھی کہیں بھاگ جاؤ گے مگر اس بار تم میرے نہیں بلکہ پوری دنیا کے جواب داہ ہونگے!
یہی ہوں موم… میں نے اپنے نکاح کے دن کہاں جانا ہے!ابھی وہ انہی سوچوں میں تھی جب حازم کی بھاری آواز اس کے کانوں میں پڑی جس پر اسنے فوری سے گردن اٹھا کر اسے دیکھا وہ سفید سوٹ پر گولڈن اور سفید ویسٹ کورٹ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے شان سے چلتے ہوۓ آیا تھا اسکے آگے پیچھے بہت سے کمیرہ مین تھے
ماشاءاللہ…! الیانہ اسے دیکھ کر اس کی بلائیں لیتے ہوۓ بولی
اگلے پانچ منٹ میں نکاح کی تقریب کا آغاز ہو گیا تھا
عرین اقبال خان ولد…
ایک منٹ قاضی صاحب…! حازم کے رکنے پر سب اس جانب متواجہ ہوۓ
پہلے مجھے میری دلہن کو تحفہ تو دینے دیں! وہ مسکرا کر کہتا ایک فائل ایرج بیگم کو تھاما گیا جو انہوں نے عرین کو پکرائی جسے وہ فورا تھام کر دیکھنے لگی
یہ کیا ہے حازم؟ الیانہ کسی ڈر کے عالم میں بولی
یہ میرا اور میری دلہن کا سکریٹ ہے…اب آپ نکاح شروع کریں قاضی صاحب!
عرین اقبال خان ولد اقبال خان آپ کا نکاح حازم خان ولد عالم خان سے بحق مہر ایک ہزار روپے تہ پایا جاتا ہے
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟ قاضی صاحب کے الفاظوں پر عرین کو پہلی بار اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا یہ سب تو اسنے سوچا ہی نہیں تھا وہ تو حازم کے چلے جانے کا ذہن بناۓ بیٹھی تھی
بے شک اس کے ساتھ یہ سوال پہلے بھی اسی شخص کے لیے کیا گیا تھا مگر اب؟
بولو عرین! ایرج نے اس کا کندھا ہلایا تو وہ خالی خالی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی ایرج کی آنکھوں میں اسے اس وقت مان نظر آیا تھا وہ مان جو وہ کبھی نہیں توڑ سکتی تھی
کیا آپ کو قبول ہے؟ مولوی صاحب نے ایک پھراپنا سوال دُھرایا
قققبول ہے! بامشکل اس کے لبوں سے یہ الفاظ نکلے جسے سنتے ہی حازم نے تشکر کا سانس لیا اس کے بعد یہی سوالات حازم سے کیے گئے تھے جس کا جواب اسنے بہت خوش اخلاقی سے دیا تھا
بلکل قبول ہے! اس کے تیسری بار کہنے کے بعد سب نے باری باری مل کر مبارکباد دی
چلیں بھائی اب اپنی دلہن کا دیدار تو کر لیں! حائنہ کے کہنے پر وہ مسکرا کر پردے کو بیچ میں سے ہٹاتا اس کے پاس جاکر اس کا گھونگھٹ اٹھا گیا جس پر یہاں موجود ینگسٹرز نے ہوٹنگ کی تھی جب کے اسکا گھونگھٹ اٹھاتے ہی حازم خان تھم سا گیا وہ اس لمحے لوگوں کے لحاظ سے ضبط سے آنکھیں جھکاۓ کھڑی اسے اپنے دل اتری محسوس ہوئی
اسلام و علیکم بیگم! وہ مودب انداز میں کہتا اس کے ہاتھ کا بوسہ لے گیا کے اس اچانک اتفاد پر عرین دل تھام کر رہے گئی
کچھ دیر تصویرات لینے کے بعد سب مہندی کے. فنشن کے لیے تیار ہونے میں مصروف ہو گئے
موم بتائیں میں چینج کروں یا ایسے ہی ٹھیک ہے؟ حنان کنفیوز سا الیانہ کے سامنے آتے ہوۓ بولا
کچھ بھی پہن لو کونسا کسی نے تمہیں دیکھنا ہے! الیانہ نخوت سے کہتی اپنا آگے بڑھ گئی کے ان کی بات سن کر سامنے سے آتی رعنین کا قہقہ بلند ہوا
ہو گئی تمہاری؟ کیسا لگ رہا ہے اتنی تازی تازی کروا کے؟ رعنین اس کے پاس آتی ہنستے ہوۓ بولی
بس کر جاؤ موم کا مطلب وہ نہیں تھا! حنان خجل ہوتے ہوۓ بولا
جو بھی تھا اب تو ہو گئی بےعزتی!
چپ کرو شرم نہیں آتی اپنے ہسبنڈ ٹو بی کا مزاق اڑاتے ہوۓ؟ حنان کے کہنے پر اس کی مسکراہٹ تھم گئی اس سے پہلے وہ کچھ کہتی حائنہ کی آواز سے وہ دونوں اس کی طرف متواجہ ہوۓ
رعنین یار یہاں کیا کر رہی ہو؟ جلدی آجاؤ مہندی والی بھی ویٹ کر کر رہی ہے! اس کے کہنے پر رعنین سر کو خم دیتی آگے بڑھنی لگی جب حنان نے اسکا ہاتھ تھاما
میرا نام لکھواؤ گی نا؟ وہ اسکے چہرے کو دیکھتے ہوۓ گھمبیر لہجے میں بولا
میرا ہاتھ چھوڑو حنان کوئی آجاۓ گا!
پہلے بولو میرا نام لکھواؤ گی نا؟
ہاں اب چھوڑو..اس کے ہامی بھرنے پر حنان اسکا ہاتھ چھوڑ گیا کے اس سے رہائی ملتے ہی رعنین بھاگتے ہوۓ حائنہ کے روم کی طرف بڑھ گئی مگر یہ منظر حازم کی نظروں سے چھپ نہیں سکا وہ کال میں مصروف سٹ ادھر آیا تھا مگر سامنے کا منظر اس کے لیے حریت کن ثابت ہوا تھا
**********************
عرین کی مہندی لگ چکی تھی اب اس کے میک اوور کے لیے حائنہ اسے اسکے پرانے روم میں لے آئی تھی
تم یہاں ریڈی ہو جاؤ پھر ہم باہر چلے گے میں بھی بس آدھے گھٹنے میں مکمل ریڈی ہو جاؤں گی! حائنہ اسے محبت پاش لہجے میں کہ کر روم سے نکل گئی جب کے وہ اب جیسے خود کو پر حالات کے سپرد کر چکی تھی اس کے چہرے پر اب کوئی تاثر نہیں تھا اسے علینہ کے ساتھ ہوئی اپنی ایک گفتگو یاد آئی
مجھے شادی سے بہت ڈر لگتا ہے! علینہ کچھ سوچتے ہوۓ بولی
کیوں؟ شادی تو ایک دن لازمی ہونی ہی ہے تو کیوں نا یہ ایکسپیرینس انسان اپنے من پسند شخص کے ساتھ کرے! اس کے کہنے پر علینہ نے ستائشی انداز میں سر ہلایا تھا مگر آج اسے اپنے یہ الفاظ ہی چب رہے تھے
میم آپ چینج کر آئیں! میک اپ آرٹس کے مخاطب کرنے پر وہ ہوش کی دنیا میں آتی سر کو خم دے گئی
دیکھنا یار یہ ٹھیک ہے؟ رعنین حائنہ کے پاس آتے ہوۓ بولی جس پر حائنہ نے جیولڑی بوکس سے نظر اٹھا کر اسے دیکھا
رعنین اس وقت سبز لہنگے پر سبز ہی کڑتی اور ملٹی شیڈ کا ڈوپٹا پہنے بالوں کو چٹیاں میں قید کیے ہلکی مہندی سے رنگے ہاتھوں سمیت لائٹ سے میک اپ میں بہت پیاری لگ رہی تھی
نین تم بہت پیاری لگ ہو! حائنہ اسے دیکھ کر ستائشی انداز میں بولی
اور تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو…جوابا رعنین اسے دیکھتے ہوۓ بولی وہ خود بھی اس وقت سبز گرارے اور لونگ شرٹ پر بالوں کو چٹیاں میں قید کیے خوبصورت لگ رہی تھی
لڑکیوں جاؤ جاکر عرین کو لے آؤ بہت وقت ہو گیا ہے!
جی چچی لاتے ہیں! حائنہ ان سے کہ کر عرین کے روم کی طرف بڑھ گئی
عرین تم ریڈی ہو ہم….بولتے بولتے وہ رک گئی تھی سامنے وہ اورنج لہنگے اور کڑتی میں بالوں کو کھول کر سر پر ماتھا پٹی اور ڈوپٹا ڈالے اپنی بادامی آنکھوں میں مسکارا اور لائٹ سی لپ اسٹک لگاۓ مہندی سے رنگے ہاتھوں میں سبز اور اورنج چوڑیاں پہنے پاؤں میں سیلور ہیل پہنے وہ نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی
اوہ مائی گوڈ….! حائنہ اور رعنین یک زبان ہوکر بولی جس پر وہ مسکرا دی
بس بس اب مکھن مت لگانا!
ہمیں مکھن لگانے کی ضرورت نہیں ہے تم بے حد حسین لگ رہی ہو میرے بھائی تو گئے! حائنہ اسے چھیڑتے ہوۓ بولی جس پر اس کی مسکراہٹ مدھم پڑ گئی
جب کہ دوسری طرف.
وہ کالے رنگ کی دھوتی شلوار اور قمیز پر کندھوں پر کالی شال اور سر پر کالی پگڑی باندھے اپنی سفید رنگت اور پر وقار شخصیت سے کسی وڈیرے کی طرح لگ رہا تھا اسے دیکھتے ہی الیانہ سحر زدہ سی اسے دیکھنے لگی
واؤ بھائی آپ تو مست لگ رہے ہیں! حنان اسکے بازو پر کندھا جماتے ہوۓ بولا جس پر وہ اس کے سر پر چٹ لگا گیا
چلو بھئی لڑکوں جلدی سے حازم کو لے کر چلو…! عالم خان کے کہنے پر وہ مسکرا کر حمزہ حنان اور اپنے ایک دو کزن کے ساتھ شان سے چلتے ہوۓ لان میں داخل ہوا کے اسے دیکھتے ہی وہاں موجود پر شخص اسے دیکھتا رہے گیا تھا
بلاشے وہ اپنی پروقار شخصیت کے باعث سب کو اپنہ طرف متواجہ رکھنے کا ہنر رکھتا تھا
اس کے آنے کے کچھ دیر بعد ہی عرین …حائنہ رعنین حنان اور حمزہ کے ساتھ چلتی ہوئی اسٹیج کی طرف آئی کے اسے یوں دلہن بنا آتا دیکھ کر حازم نے بے اختیار اپنا ہاتھ دل پر رکھا تھا
اس کے اسٹیج کے قریب پہنچبے پر حازم نے اپنا ہاتھ اسکے سامنے پھیلایا جسے وہ اگنور کرتے ہوۓ اسکے ساتھ آکر بیٹھ گئی
مجھ سے دور رہیں ورنہ میں نے سب کے سامنے تماشا لگا دینا ہے! عرین اسے کے ساتھ چپکنے پر تیش سے بولی
تو لگا دو تماشا میں نے انکار تو نہیں کیا! وہ کندھے اچکا کر بولا
سر میم ادھر دیکھیں! اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی کمیرہ مین نے انہیں متواجہ کیا جس پر وہ دونوں اس کی جانب چہرہ کر گئے
کچھ ہی دیر میں مہندی کی رسم اختتام کو پہنچ گئی باہر سے آۓ لوگ بھی کھانا کھا کر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے جب یکدم لان کی لائٹس ڈسکو لائٹ میں تبدیل ہوئی اور رعنین اور حنان ڈانس فلور پر آۓ تھے
لڑکے اوہ رے لڑکے کہاں سے آیا ہے رے تو
پیارا ہے شکل سے عقل کا مارا ہے رے تو
رعنین اسے پیچھے کی طرف دھلکتی نکھرے سے بولی
ہاں جل ہاں جل میری باتوں سے تو جل گئی
ہاں کھل گئی ہاں کھل گئی میری بے پروائی تجھے کھل گئی
متحرمہ تو کس کھیت کی مولی ہے زرا ہے بتا؟ یہ کہتے ہی اسنے رعنین کو گھومایا تھا جس پر عرین سمیت سب ینگسٹرز نے ہوٹنگ کی
ٹی وی پے بریکنگ نیوز ہاۓ رے میرا گھاگرا….اب ہال میں تالیوں اور سیٹیوں کی آوازیں تھی جس میں سب سے اونچی آواز عرین کی تھی اسے اتنے عرصے بعد اس قدر خوش دیکھ کر حازم نے محبت پاش نظر میں اسے دیکھا تھا
اس کے بعد حائنہ اور رعنین کا ڈانس تھا جس میں انہوں نے عرین کو بھی گھیسٹ لیا تھا
******************
رات کے دو بجے کے قریب وہ لوگ مہندی کے فنشن سے فری ہوۓ تھے حازم حمزہ کے ساتھ کچھ دیر کے لیے باہر چلا گیا تھا
ایک ایک کرکے سب اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے شمیم ایرج کے ساتھ سوئی تھی جبکہ رعنین نے عرین کے ساتھ روم شیئر کرنا تھا
عرین تم روم میں نہیں جا رہی؟ حائنہ اسے ہال روم میں ٹہلتے دیکھ کر بولی
بس جا رہی ہوں! اس کے کہنے پر حائنہ سر کو خم دے کر اپنے کمرے میں چلی گئی ہال میں اب مکمل خاموشی تھی
وہ ٹہلتے ہوۓ آج کا منظر یاد کرنے لگی وہ کیسے اتنی جلدی یہ سب اس کے نام کر سکتا تھا؟ابھی وہ انہیں سوچوں میں گھم تھی جب اسے کسی کے قدموں کی آواص سنائی دی اسے سے پہلے وہ اس کا چہرہ دیکھتی یکدم ہال کمرے کی لائٹ اوف ہوئی تھی
ککون ہے؟ اس اندھیرے میں بھی کسی کے قدم اپنی طرف بڑھتے محسوس کر رہی تھی مگر آگے سے کوئی جواب نہیں تھا
وہ پیچھے ہونے لگی مگر بھاری لہنگے اور ہیل سے اسکا پاؤں لہنگے میں ہی الجھ گیا یکدم اس سے ٹیبل پر رکھا واز زمین پر گرا
موم؟ بڑے پاپا کوئی ہے؟ اس کی آواز اب قدرے اونچی تھی لیکن پورے گھر میں ساونڈ پروو دوڑز ہونے کے باعث کوئی بھی اس کی آواز نہیں سن پایا تھا
اٹھاؤ اسے….! اس شخص کے کہنے پر اسے اندازہ ہوا تھا یہ کوئی ایک شخص نہیں تھا اسے اب اپنے ہاتھ پر کسی کے بھاری ہاتھ کی گرفت محسوس ہوئی اس کے پورے جسم میں خوف ڈور اٹھا تھا
یا اللہ….خوف سے لرزتے وجود سے وہ صرف اتنا ہی کہ پائی کے اگلے ہی پل اس شخص کی آواز اس کے کانوں میں ٹکرائی
کون ہے یہاں؟ اس کی آواز سے اس کے ہاتھ پر گرفت دھیلی ہوئی
بھاگو یہاں سے! دوسرے شخص کے آؤڈر پر وہ اس کا ہافھ چھوڑ کر تیزی سے دروازے کی طرف بھاگے کے حازم جو دروازے کے قریب ہی کھڑا تھا کسی کے قدموں کی آواز سے چوکنا ہوا
کون ہے یہاں؟ اس کی ڈھاد پر عرین کی سانس میں سانس آئی
اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتا ان میں سے ایک نے اسے دھکا دیا جس سے اس کے قدم لڑکھڑاۓ تھے
گاڈرز…. وہ فورا سنبھالتے ہوۓ چلا کر ان کے پیچھے بھاگتا ایک کا کالڑ پکڑ گیا جس پر اس شخص نے اپنی گن کی بیک اس کے ہاتھ پر ماری وہ شخص تیزی سے باہر بھاگ گئے
اسی لمحے لائٹ اون ہوئی
گادرز؟ وہ اس کے چلانے پر گاڈرز بھاگ کر اس کی طرف آۓ
کہاں مرے ہوۓ وہ تم لوگ؟ جاؤ دیکھو باہر جو بھی گیا ہے اس پکڑو! حازم انہیں آڈدر دیتا کسی خیال سے واپس ہال میں آیا
یہاں کوئی ہے؟ اس نے ہال میں نظر ڈرائی جب اسے ایک صوفے کے پاس کسی کا پلو نظر آیا وہ برق رفتاری سے یہاں پہنچا
اور یہاں پہنچتے ہی اسے خالی خالی نظروں سے زمین کو گھورتے دیکھ کر وہ ٹھنک گیا
عرین؟ وہ اس کے پاس بیٹھتا اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولا کے اس کا سہارا ملتے ہی وہ بلک کر اس کے سینے سے لگ کر ہجکیوں سے رونے لگی
ششش کچھ نہیں ہوا میں آگیا ہوں نا! حازم اس کی حالت پر ضبط سے اسکے بال سہلاتے ہوۓ بولا جب کہ وہ اب سب اس کی شرٹ میں منہ چھپاۓ ہلکی ہلکی ہجکیاں لے رہی تھی
