Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389 Mehram-e-Raaz Episode 30
Rate this Novel
Mehram-e-Raaz Episode 30
Mehram-e-Raaz by Syeda Shah
کچھ ہی دیر میں وہ سادھے منہ سے پیلے رنگ کا جوڑا پہن کر رعنین اور حائنہ کے ساتھ باہر آئی
مایو کی رسم شروع کی گئی سب سے پہلے حائنہ نے اس کی رسم کی تھی کیوں وہ اکلوتی تھی جو دلہے کی طرف یہاں موجود تھی
یہ کیا ہوا؟ جیسے ہی اسنے اس کے ہاتھ پر اوپن لگانے کے لیے اسکا ہاتھ کھولا اندر موجود اتنے گہرے زخم سے وہ دھنگ رہے گئی زخم کی لالی اس کے تازہ ہونے کی گواہی دے رہی تھی
یہ کیا ہوا عرین؟ حائنہ نے کہنے پر ایرج اس طرف متواجہ ہوئی
ککچھ نہیں کانچ لگ گیا تھا…اسنے ایرج کی نظریں خود محسوس کرکء جھٹ سے بہانہ بنایا
دیکھ کر کیا کرو نا کام زرا دیکھو کتنا گہرا کٹ لگا لیا ہے! اب کے ایرج فکرمند سی کہ کر اسکے پاس آکر بیٹھی
کچھ نہیں ہوا موم ڈونٹ وری! عرین انہیں تسلی دیتے ہوۓ بولی جس پر خفگی سے اسے دیکھ کر رعنین کو اپنے کمرے سے فرسٹ ایڈ بوکس لانے کا کہنے لگی
باقی کا فنشن بہت اچھے سے ہوگیا تھا رات کے تین بجے کے قریب وہ تھکی تھکی سی سلیپنگ سوٹ میں موجود شام کا منظر یاد کرنے لگی حازم کے لیے اب اس کی نفرت عروج کو جاتی جا رہی تھی
کل اس کا اور حازم کا نکاح اور مہندی کا فشن تھا جو سبز ویلا میں رکھا گیا تھا اسنے ایک بار پھر اپنے پلان کو سوچا اور پھر سب کچھ کل پر ڈال کر وہ تکیے پر سر رکھتے ہی گہری نیند میں سو گئی
***************************
غم ڈھلتے ہیں موسم بدلتے ہیں…..
ہم نے دیکھا ہے خدا پر یقین رکھ کے….
وہ دینے پر آۓ تو………………….
ہاتھ کیا دامن بھی بھرتے ہیں
اپنی روٹین کے مطابق وہ صبح آٹھ بجے فریش سا فارمل ٹراؤرز اور شرٹ میں لان میں کھڑا عالم خان کو آج کے دن کے اتنظامات سے آگاہ کر رہا تھا
اور نکاح کہاں ہوگا؟ عالم خان اس کی طرف کی بات سننے کے بعد بولے
وہ تو کب کا ہو چکا(وہ صرف سوچ سکا)
ڈیڈ پیچھے والے حصے میں نکاح کی ایرجنمٹ ہے اور اس لان میں مہندی کا سیٹ اپ کیا ہے!
اور مینیو؟عالم خان کا ایک اور سوال آیا
”ڈیڈ سب کلئیر ہے ڈونٹ وری“
چلو ٹھیک ہے…! عالم خان اس سے کہ کر باقی کے انتظامات دیکھنے لگے
کچھ ہی دیر میں ڈیکوریشن والے آگئے تھے جو حازم کے کہنے کے مطابق گھر کو سجانے میں مصروف ہو گئے
*********************
صبح اس کی آنکھ کمرے میں ہونے والی کٹ پٹ سے کھلی
اٹھو جلدی عرین! ایرج کے کہنے پر وہ آنکھیں مسلتے ہوۓ اٹھی
گڈ مورننگ موم!
گڈ مورنگ نہیں گڈ نون…ایک بج رہا ہے اٹھو پالڑ نہیں جانا؟ عصر کے ٹائم نکاح ہے تمہارا! ایرج اس پر بھرکتے ہوۓ بولیں
آج تو مجھ پر خفا نا ہوں…خیر سے آج میں دلہن ہوں! وہ انہیں چھیرتے ہوۓ بولی جس پر وہ مسکرا دیں
تم موقع مت دیا کرو اب جلدی سے فریش ہو جاؤ میری جان باہر رعنین تمہارا ویٹ کر رہی ہے! الماری میں سے ایک سیٹ کا ڈبہ دیکھتے ہوۓ بولیں
ٹھیک ہے میں بس دو منٹ میں آئی…وہ ان کے گال چوم کر واشروم کی طرف بڑھ گئی اگلے کچھ لمحوں میں وہ فریش ہوکر رعنین کے ساتھ پالڑ کے لیے نکل گئی
***********************
سبز حویلی کی طرف آؤ تو داخلی دروازے سے کچھ آگے موجود لان کو رنگین پھولوں سے سجایا گیا تھا لان کے بیچ میں ایک ڈانس فلور تھا جو ان بریک ایبل شیشے کا بنا تھا اس سے کچھ آگے ایک اسٹیج بنایا گیا تھا جس کی بیک
کو پھولوں سے بھرا تھا
اس سے چند قدم آگے چلو تو ایک چھوٹا لان تھا جو باہر کے برعکس لائٹ تھیم سےسجایا گیا تھا اِدھر سے اُدھر بھاگتے ہوئے ملازم یہاں کے محول کو مزید پررونق بنا رہے تھے
میں ریڈی ہوں اب تم میری پیکچرز کلک کر دو! حائنہ حنان کو گھیسٹتے ہوۓ ادھرلاتے ہوۓ بولی
اارے یار پہلے مجھے تو ریڈی ہونے دو! وہ ابھی تک شورٹ ٹراؤزر اور بنیان میں موجود تھا
تو تم ہو جانا ریڈی تم نے تو ایک بار ہی ہونا ہے میں نے نکاح اور مہندی پر الگ الگ تیار ہونا ہے اب شرافت سے اچھی سی پیکچر کلک کرو اور دھیان رہے میں موٹی نا آؤں!
”ایک تو تم لڑکیوں کے مسئلے کبھی ختم نہیں ہوتے“ حنان اکتا کر کہتا اپنا موبائیل نکال کر اس کی پیکچرز کلک کرنے لگا
دیکھاؤ! تقریبا دس تصویریں لینے کے بعد وہ ادا سے اس کے ہاتھ سے موبائیل لے کر دیکھنے لگی کے سکرین پر موجود پیکچر دیکھ کر اس کے چہرے کے زاویے بگڑے
اتنی موٹی کیوں لی ہیں تم نے؟ اسنے ایک زوردار چٹ حنان کو رسید کی
اب جیسے ہو ویسے ہی آؤ گی نا کٹو۔۔
میں تمہاری شکل بگاڑ دوں گی اچھی اچھی سی پیکچر لے لو ورنہ میں نے بھائی کو بتا دینا ہے! وہ تیش سے کہتے ہوئے ایک بار پھر موبائیل اسے پکڑا گئی
کیا یار کٹو۔۔۔اتنا میلا کچھیلا کھڑا ہوں میں اگر تمہاری بھابھی آگئی تو؟ اسنے رعنین کو تصور میں لاتے ہوۓ کیا
ہیں ہیں ہیں؟ کونسی بھابھی؟؟
ممیرا مطلب عرین آگئی تو؟ وہ فوری سوچوں سے نکلتے ہوۓ بولا جس پر حائنہ آنکھیں چھوٹی کرکے اسے دیکھنے لگی
زیادہ تیز مت بنو میری نظریں تم پر ہی ہیں! اسکے ڈراوے پر حنان جھرجھری لے گیا
***********************
شام کے تقریبا چار بجے مہمانوں کی آمدر شروع ہو گئی تھی
الیانہ سفید رنگ کی ساڑھی پر بالوں کا خوبصورت ہیئر اسٹال بناۓ اپنے دل میں ابلتے لاوے کو رکے زبردستی ایرج کے استقبال میں کھڑی تھی جبھی عرین ایرج اور باقی مہمانوں کے ساتھ چلتے ہوۓ سبز ویلا کے داخلی دروازے سے انٹر ہوۓ
واؤ…..حائنہ اسے دیکھتے ہی بے ساختہ بولی
عرین اس لمحے سفید گرارے اور شرٹ میں ملبوس چہرے پر گھونٹ ڈالے آتے ہوۓ بے حد حسین لگ رہی تھی
اسلام و علیکم! ایرج الیانہ سے ملتے ہوۓ بولیں
وعلیکم السلام…آئیے آئیے! الیانہ جبرا مسکراتے ہوۓ ان سے ملیں
چلو حائنہ عرین کو اندر لے جاؤ ابھی نکاح خواہ کو آنے میں دیر ہے! الیانہ کے کہنے پر حائنہ اور رعنین اسے ڈرائنگ روم میں لے آئیں
ماشاءاللہ میری بھابھی تو بہت پیاری لگ رہی ہے! حائنہ اس کی بلائیں لیتے ہوۓ بولی
اور بھابھی کی نند بھی بھی کم نہیں لگ رہی…عرین جوابا مسکرا کر بولی
اور بنو کی سہیلی کے تو کیا ہی کہنے ہیں! اب کے روم میں حنان کی آواز گونجی جس پر ان تینوں نے اس کی جانب دیکھا وہ اورنج رنگ کے کڑتے اور ٹراؤز میں کاندھوں پر شال ڈالے نکاح کے بجاۓ مہندی میں کے لیے تیار تھا
اہمم اہممم…اس کی بات پر عرین نے چھیڑا
ہاں تو تم دونوں میری دوست کو تو بھول ہی گئے…! وہ حائنہ کی سوالیہ نظریں خود پر محسوس کرتے ہوۓ گھبرا کر بولا
میں بھولنے والی نہیں بلکہ آنکھوں میں بس جانے والی چیز ہوں مسٹر حنان…سو ڈونٹ وری!رعنین کے جواب پر وہ بے اختیار اپنا دل تھام گیا جب کہ عرین نے ہوٹنگ کی تھی
چلو اب تم یہی رہو گی یا مہنانوں کو بھی آٹینڈ کروں گی؟ آجاؤ موم بلا رہی ہیں!
اچھا آرہے ہیں! اس کے کہنے پر حائنہ فوری باہر چلی گئی جبکہ رعنین عرین کا ڈوپٹا صوفے پر پھیلا کر باہر کی طرف بڑھی کے باہر قدم رکھتے ہی کسی نے اچانک سے اسے کھینچ کر دیوار سے لگایا اس سے پہلے وہ چینختی حنان کو دیکھ کر وہ گہرا سانس بھر گئی
تم پاگل ہو؟
ہاں نا تم نے کر دیا ہے!
سدھر جاؤ حنان ورنہ میں نے تمہارے اس خالی دماغ میں تہزاب ڈال کر آگ لگا دینی ہے ویسے بھی خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے وہی ہے جو تم سے یہ حرکتیں کروا رہا ہے! وہ اس کی حرکت پر طنز کرتی ہوئی بولی
بول لیں بول لیں جناب آپ تو کہ سکتی ہیں! جوابا وہ مزید لفرانہ انداز میں کہتا اسے پتنگے لگا گیا
ہٹو یہاں سے کوئی دیکھ لے گا!
کوئی نہیں دیکھتا…وہ شریر لہجے میں کہتا اس کے چہرے پر آئی لٹ پیچھے کرنے لگا کے یکدم رعنین نے گھبرا کر اسے پیچھے دھکیلا
یہ کیا بد.. ..وہ کچھ کہتے کہتے اپنے پیچھے سے آتی حازم کی آواز پر رکا
عرین کہاں ہے؟ اس کا چہرہ سرخ تھا
اننددر….رعنین اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر بامشکل کہ پائی
سب خیر ہے بھائی؟ حنان اسے غصے میں دیکھ کر اس کی طرف بڑھنے لگا مگر وہ ان سنی کرکے تیزی سے ڈرائنگ روم میں داخل ہوکر دروازہ دھاڑ سے بند کر گیا
کے اچانک اس آواز سے دروازہ بند ہونے پر عرین نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا اور سامنے موجود شخص کو دیکھ کر اس کے چہرے پر سکون مسکراہٹ آئی
یہ کیا میسج کیا ہے تم نے؟ وہ اس کے سر پر پہنچتا چلایا
آپ نے پڑھا نہیں؟ میں نے صاف لکھا ہے میں یہ نکاح نہیں کر سکتی…..!
تمہارا دماغ خراب ہے؟ باہر سب مہمان بیٹھے ہیں عرین! وہ ضبط کی انتہاہ پر پہنچتے ہوۓ بولا
تو پھر میری شرط مان لیں!
کیسی شرط؟ حازم چونکا
میرے ڈیڈ کے شیئرز مجھے واپس اپنے نام پر چاہیے وہ بھی ابھی کے ابھی! اسنے جیسے حازم کے اوپر بم پھوڑا تھا
واٹ؟ اس سب کاروائی میں گھٹنے لگ جاتے ہیں!
آپ شاید بھول رہے ہیں آپ ایک وکیل ہیں…آپ کے لیے کیا مشکل حازم صاحب؟ وہ اس کی پیشانی رگیں پھولتی ہوئی دیکھ طنزیا انداز میں بولی
دیکھو عرین….
میں اپنی بات کہ چکی ہوں آپ کے پاس زیادہ سے زیادہ آدھا گھنٹہ ہے یا تو میری شرط پوری کریں یا پھر پورے میڈیا کے سامنے اپنی بے عزتی کے لیے تیار ہو جائیں! وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی
یو…کچھ کہتے کہتے وہ بات ادھوری چھوڑ کر لمبے لمبے ڈھگ بھرے باہر نکل گیا کے اس کے جاتے ہی عرین نے گہرا سانس لیا
یہ تو صرف شروعات ہے حازم خان! وہ خود سے کہ کر ویسے ہی اطمنان سے صوفے پر بیٹھ گئی
وہ ہڑبڑی میں اپنے کمرے میں آتا تیزی سے الماری کی سیوو سے وہ فائل نکال گیا
ہیلو حمزہ…! وہ فون پر اس کا نمبر ملا کر تیزی سے اپنے کمرے سے نکل گیا
