357.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 5

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

اپنے روم میں آتے ہی اسنے دروازہ پٹکنے کے سے انداز میں بند کیا تھا وہ ڈسٹرب لگ رہا تھا

زندگی میں پہلی بار وہ اپنی ماں کو کسی چیز سے انکار کرکے آیا تھا نا صرف انکار بلکہ ان کی نافرمانی کرکے آیا تھا

وہ تھکا تھکا سا آج فریش ہونے کے بجاۓ وہی صوفے پر بیٹھتا سگریٹ سلگا گیا….ہوا میں اڑتے دھواں کے ساتھ ساتھ اس کی پریشانی بھی جیسے اس دھواں میں اڑتی جا رہی تھی وہ پریشان رہنے کا عادی نہیں تھا اسے صرف آج تک ایک ہی بات پریشان کرتی آئی تھی اور وہ اس کے موم ڈیڈ کی ناراضگی ہوتی تھی جو کہ وہ کسی صورت افوڈ نہیں کر سکتا تھا

کیا ہوا آپ کو اقبال؟ ایرج ان کے چہرے پر پریشانی کا تاثر دیکھ کر بولیں

کچھ نہیں بس! وہ جب سے روم میں آۓ تھے ایسے ہی پریشان سے تھے

کچھ تو ہوا ہے!

بس سوچ رہا ہوں عالم بھائی ٹھیک کہتے ہیں پردیس پردیس ہی ہوتا ہے اس سے جتنی وفا نبھا لو مگر کہلاتے بے وفا ہی ہیں! وہ افسردہ سے بولے

”کیا ہوا ہے اقبال مجھے صاف صاف بتائیں میرا تو دل ہولے جا رہا ہے“

غبن کا کیس کر دیا ہے مجھ پر! اقبال خان نے جیسے ان کے سر پر دھماکہ کیا تھا

واٹ؟ مگر ایک دم سے کیسے وہ یہ الزام لگا سکتے ہیں آپ تو وہاں موجود بھی نہیں تھے!

”اسی بات کا تو فائدہ اٹھایا گیا ہے…باقی کی تفصیل تو جاکر ہی معلوم ہو سکتی ہے“ وہ اچانک سے کمزور نظر آرہے تھے ایرج نے ایک بھرپور نگاہ ان پر ڈالی

آپ پریشان مت ہوں…آپ وہاں جائیں گے تو سب کلئیر ہو جاۓ گا! ایرج انہیں تسلی دینے کو بولیں البتہ دل انکا اپنا بھی بار بار ڈوب رہا تھا

”سو جائیں آپ“ انہیں دوائی دینے کے بعد سونے کا کہتی وہ خود بھی بیڈ کی دوسری طرف لیٹ گئی مگر نیند ان دونوں سے ہی اب جیسے کوسوں دور ہو چکی تھی جہاں یہ دونوں پریشانی میں جاگ رہے تھے وہی کچھ سیڑھیاں اوپر چلنے پر موجود کمرے میں ان کی اکلوتی اولاد کا بھی کچھ یہی حال تھا مگر فرق صرف احساسات کا تھا جہاں انہیں پریشانی کے احساس نے نیند سے دور رکھا تھا وہی اسے ایک نئے احساس نے جگاۓ رکھا تھا

Areen means Forest!

”ایک ایسا جنگل جو اپنے ساۓ میں بہت سے لوگوں کو تپتی دھوپ سے بچاتا ہے…“ پھر منظر تبدیل ہوا اور اسے مال کا منظر دیکھائی دینے لگا

”نایاب چیزیں پردے میں ہی اچھی لگتی ہیں!“ اس کے الفاظ یاد آنے پر ایک شرمیلی سی مسکراہٹ نے اس کے ہونٹوں کا احاطہ کیا

اتنے بھی برے نہیں ہیں! وہ کھڑکی کے پار دیکھتی خود سے ہمکلام ہوئی

کسے سوچ سوچ کر مسکرایا جا رہا ہے؟ حائنہ کی اچانک آمد پر وہ بری طرح سے سٹپٹائی

ککسی کو نہیں…بس آسٹریلا کو یاد کر رہی تھی!

ہممم….سوری عرین! حائنہ شرمندہ سی بولی

کس لیے؟

میرے ذہن سے بلکل ہی نکل گیا….بھائی بھی مجھ سے ناراض ہیں مال والی حرکت پر! اسنے منہ لٹکا کر کہا کے اس کی بات پر عرین کو حیرت ہوئی

وہ کیوں ناراض ہیں؟

میں نے تمہارے معاملے میں غیرزمےداری سے کام لیا اگر تم ادھر ادھر کہیں چلی جاتی تو؟ بس اسئلے بھائی ناراض ہیں!

کی ان کے لیے میں اتنی اہمیت رکھتی ہوں؟

افکورس عرین ڈئیر تم ہماری کزن ہو! حائنہ نے اسے خود سے لگایا تھا اس کی اور عرین کی عمر میں زیادہ سے زیادہ ایک سال کا فرق تھا مگر وہ اسے کوئی چھوٹی اور مصوم سی بچی لگتی تھی

رات گزرتی جا رہی تھی مگر سبز حویلی کے ہر کمرے میں ایک الگ ہی کہانی چل رہی تھی کوئی خوش تھا تو کوئی غمگین اور کہیں تلخ کلامی رواں تھیں

میں آپ سے کچھ پوچھ رہی ہوں خان صاحب! وہ بے چینی سے ادھر ادھر ٹہلتی بولیں

بتا دیا ہے میں نے آپ کو….میں آدھے شیئرز عرین کے نام کر چکا ہوں! عالم خان نے پرسکون انداز میں کہا

”لیکن کیوں؟ شرعی تور پر بھی اقبال کا کوئی حصہ نہیں بنتا وہ لے پالک ہے اور لے پالک اولاد کا کوئی حصہ نہیں ہوتا“

”اوہ جسٹ شٹ اپ الیانہ….یہ بات آپ اچھے سے جانتی ہیں جو کچھ اقبال کو ملا ہے وہ اس کا حق تھا..وہ لے پالک ہے لیکن لاوارث نہیں ہے میری پھوپھو کا بیٹا ہے اور جو کچھ پھوپھو کا حصہ تھا وہی ڈیڈ نے اقبال کے نام کیا ہے“

آپ….

خاموش ہو جاؤ تھک گیا ہوں آپ کی اس فضول چک چک سے آپ جانتی ہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے پیپر ورک بھی ہو چکا ہے اب آپ سو جائیں نہیں تو جا سکتی ہیں مجھے آرام کرنا ہے! ان کے ناگواری سے کہنے پر وہ پیر پٹک کر اپنی سائد پر آکر لیٹ گئیں

اب جو کرنا ہے وہ تمہیں ہی کرنا ہے الیانہ! دماغ کے تانے بانے جوڑتی صبح کا بے چینی سے انتظار کرنے لگیں

***********************

مسلسل بجتے فون سے وہ بامشکل اپنی آنکھیں کھول پائی فون پر علینہ کا لنک دیکھ کر وہ آٹینڈ کر گئی

ہیلو…..

میں نے تمہیں ایک پیک سینڈ کی ہے وہ دیکھو اور جلدی یونی آؤ! دوسری طرف سے علینہ کی گھبرائی ہوئی أواز سنائی دی تھی

خیریت تو ہے؟ وہ حواس بختہ ہوتی بولی

تم پہلے وہ پیک دیکھو…!

اوکے! اس سے کہ کر وہ جلدی سے اپنا واٹس ایپ کھول گئی جہاں علینہ نے اسے اس کی اور المان کی ایک پیکچر بھیجی تھی یہ وہی کل والا منظر تھا جب المان نے اسے گرنے سے بچایا تھا تصویر سے زیادہ تصویر پر موجود کیپشن پڑھ کر اسے تیش آیا تھا جہاں LoveBirds کے آگے کچھ دل والے اموجیز تھے

اب تم سب کو میں چھوڑوں گی نہیں! تیش سے کہتی وہ اٹھ کر واشروم کی طرف بڑھی اب اسے جلدی یونی پہنچنا تھا

آج تو میری بیٹی جلدی اٹھ گئی ہے! شمیم اسے وقتی یونی کے لیے فارمل سا تیار دیکھ کر خوشگوار حیرت لیے بولیں

جی اماں لیکن ٹائم آج بھی نہیں ہے مجھے آج جلدی نکلنا ہے کسی کی کلاس لینی ہے!

کیا مطلب لیکچر اڑ نہیں ہیں جو تم کلاس لینے لگیں؟

”افف ہو ایک تو میری بھولی اماں اتنے سوال مت پوچھا کریں مجھ سے الٹے جواب ہی نکلتے ہیں“

اچھا چلو ناشتہ تو کر لو…وہ اسے بیگ اٹھا کر باہر نکلتے دیکھ کر بولیں

میں یونی سے کچھ کھا لوں گی۔۔۔

نجانے کیا ہوگا اللہ میری بچی کی حفاظت کرنا۔۔ شمیم اس کی پشت دیکھ کر بولیں جو اب جا چکی تھی

یونیورسٹی پہنچتے ہی اسے ہر اسٹوڈنٹ خود کو عجیب نظروں سے دیکھتا محسوس ہوا

کنٹرول رعنین۔۔۔! علینہ اسکا سرخ ہوتا چہرہ دیکھ کر بولی جبکہ وہ اب اپنے شکار کو متلاشتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی جب وہ اسے سکندر اور باقی کچھ لڑکوں کے ساتھ کھڑا دیکھائی دیا

اِسے تو آج میں چھوڑوں گی نہیں! علینہ سے کہتی وہ تیش کے عالم میں المان کی طرف بڑھی

اوۓ بھابھی۔۔۔مگر تاثرات کچھ گھمبیر معلوم ہوتے ہیں! سکندر نےاسے آتا دیکھ کر المان کے کان میں کہا جس پر المان اس کی جانب متواجہ ہوا وہ آج موو سوٹ میں کسی کو بھی زیر کر سکتی تھی

گھٹیا انسان! اس کی تیز غراہٹ سے وہ ہوش کی دنیا میں لوٹا

تمہاری ہمت کیسے ہوئی سمجھتے کیا ہو تم خود کو ہاں؟ وہ اسکا گریبان تھامے چلائی

آئے چھوڑوں اسے۔۔۔!

رعنین چھوڑوں اُسے اس میں المان کی کیا غلطی ہے؟ علینہ نے اسے سنبھالنا چاہ

سب اسی کی غلطی ہے تمہیں کیا لگتا ہے یہ سب کس نے کروایا ہوگا؟ یہ سب اس نے ہی کیا ہے بولو تم نے میری ہیکچر وائرل کروائی ہے نا؟ وہ بری طرح سے اس پر جھپٹتی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے غرائی کے سب کے بیچ میں اس لڑکی کے ہاتھوں خود کو بے عزت ہوتے دیکھ کر المان نے بامشکل ضبط کیا تھا

تمہیں لگتا ہے یہ سب میں نے کیا ہے؟ رکو زرا۔۔۔سکندر مجھے دو منٹ کے اندر اندر ساری پیکچرز شوشل میڈیا سے ڈیلیٹ چاہیے اور جس نے بھی یہ حرکت کی ہے وہ بھی میری آنکھوں کے سامنے ہو دو منٹ ہیں تمہارے پاس۔۔۔۔وہ خود پر ضبط کیے ڈھارا

اور ٹھیک پانچ منٹ بعد سکندر کسی لڑکے کو گھیسٹتا ہوا اس کے سامنے حاضر ہوا یہ ان کا جونئیر اشفاق نامی لڑکا تھا جو اپنی فضول ایکٹیویٹیز کی وجہ سے پوری یونیورسٹی میں مشہور تھا

ممججھے معاف کر دیں! میں نے ساری پیکچرز ڈیلیٹ کروا دی ہیں۔۔!وہ گھبرایا سا بولا

جاؤ اور آئندہ مجھے نظر مت آنا نہیں تو۔۔۔! اس کے ڈھارنے پر وہ سہم کر دو قدم پیچھے ہوا جبکہ المان اب حیران کھڑی رعنین کی طرف موڑا

میں اس یونیورسٹی میں تین سال سے پڑھ رہا ہوں مجھے خود کو وائرل کرنے کے لیے ان فضول چیزوں کی ضرورت نہیں ہے! ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتا وہ آگے بڑھ گیا

بہت جزباتی ہو تم دیکھا کس طرح شرمندگی کا سامنا ہوا ہے تمہارے اس جزباتی پن کی پیچھے! علینہ افسوس سے بولی جب کہ رعنین کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سماء جائے

اماں مجھے وکیل بننا ہے یار!

وہ تو تم بھول جاؤ کیوں کہ وہ تم نہیں بن سکتی!

اور وہ کیوں؟

کیونکہ وکیلوں کو جزبات سے زیادہ عقل سے کام لینا ہوتا ہے ہر نقتے کو اچھے سے سمجھ کر پیش کرنا ہوتا ہے تمہاری طرح ایسے ہی منہ اٹھا کر کوئی بات نہیں کرتے وہ۔۔۔اور یہ بات صرف وکیلوں کو نہیں بلکہ ہر انسان کو سوچنی چاہیے وہ مسائل ہے نا(پہلے تولو پھر بولو)۔۔! اپنی ماں کے کچھ دن پہلے کہے گئے الفاظ اس کے ذہن میں گونجے آج واقعی اسے اس کے جزباتی پن میں کہ گئے الفاظوں پر پچھتانا پڑھ رہا تھا

************************

آج اس نے کورٹ دیر سے جانا تھا گھڑی اس وقت صبح کے نو بجا رہی تھی جب اسکا دروازہ نوک ہوا

آجائیں۔۔۔! وہ سگریٹ کا کش لگاۓ بولا کے دروازے سے آتے شخص کو دیکھتے ہی اسنے سگریٹ کچل کر زمین ایش ٹرے میں ڈالی

چاچو آپ! ان کی آمد حازم کے لیے غیر متوقع تھی جب کے اس کے سگریٹ کچلنے پر اقبال صاحب مسکراۓ اس لمحے اپنے ذہن میں آۓ خیال پر فخر محسوس ہوا تھا

کیوں بھئی چاچو نہیں آسکتے؟

ایسی کوئی بات نہیں آئیے آپ کا اپنا گھر ہے! وہ انہیں صوفے کی طرف بیٹھنے لگا اشارہ کرتا خوش اخلاقی سے بولا

دراصل مجھے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی تھیں! کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد وہ مدعے پر آۓ

جی کہیے میں سن رہا ہوں!

میری بات غور سے اور ٹھنڈے دماغ سے سننا بیٹا شاید جو بات میں تم سے کروں وہ تمہارے لیے خوشگوار ثابت نا ہو مگر میں چاہتا ہوں تمہارا اور عرین کا نکاح ہو جاۓ! انہوں نے جیسے دھماکہ کیا تھا

ایسا ممکن نہیں ہے! کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس کی سرد آواز کمرے میں گونجی تھی

ٹھیک ہے اگر تمہیں اعتراض ہے تو کوئی بات نہیں لیکن ایک بار میری پوری بات سن لو پھر جو فیصلہ کرو…میں جانتا ہوں ایک بیٹی کے باپ کی حیثیت سے مجھے یہ بات زیب نہیں دیتی لیکن میں اس لمحے صرف ایک بیٹی کا بے بس باپ ہی نہیں بلکل تمہارے چاچو کی حیثیت سے تم سے بات کرنے آیا ہوں! اقبال خان سنجیدگی سے بولے

مجھ سے کیا چاہتے ہیں آپ؟ حازم نے مودب انداز میں پوچھا

دیکھو حازم میں نے اور عالم بھائی سے بابا سے یہ وعدہ کیا تھا کے ہم یہ رشتے داری مضبوط بناۓ گے میرا تو کوئی بیٹا ہوا نہیں لیکن خیر سے عالم بھائی کو اللہ نے دو دو بیٹے دیے ہیں کیوں کہ حنان ابھی چھوٹا ہے وہ زمےداری اٹھانے کے قابل نہیں ہے تو عالم بھائی نے مجھ سے کچھ دنوں پہلے ہی تمہاری اور عرین کے رشتے کی بات کی تھی اس وقت میں نے انکار کر دیا تھا کیوں کہ الیانہ بھابھی کی اپنے لیے ناپسندیدگی سے واقف ہوں

مگر کل میں نے باۓ چانس تمہاری اور ان کی باتیں سن لی مجھے اچھا لگا تم نے میری بیٹی کو استعمال کرنے کے بجاۓ پہلی بار اپنی والدہ کی مخالفت کی… میرا دل کہتا ہے عرین تمہارے ساتھ خوش رہے گی تم اس بارے میں ضرور سوچنا اور مجھے آج رات ہی جواب دے دینا میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے! وہ مایوسی سے بولے کے حازم جو ان کی بات پورے غور سے سن رہا تھا ان کے آخری الفاظوں پر ٹھنکا

مطلب کوئی پریشانی ہے کیا؟

ہاں!

کیا ہوا آپ مجھے بتا سکتے ہیں شاید میں آپ کے کام آجاؤں!

تم کیا کوئی بھی میرے کام نہیں آسکتا سواۓ میرے رب کے جو ہر چیز پر قادر ہے….میرے پاکستان آتے ہی میرے اوپر غبن کا الزام لگا دیا گیا ہے….مجھے جلد از جلد اسٹریلا جانا ہے تاکہ کچھ کر سکوں مگر میں عرین کو اپنے ساتھ لے جانا نہیں چاہتا میری بچی بہت مصوم ہے وہ یہ سب برداشت نہیں کر سکے گی! اقبال خان کی بے بسی ان کی پریشانی پر پڑی لکیروں سے واضع تھی

آپ پریشان نا ہو چاچو میں دیکھتا یہ سب! حازم ان کے بازو تھپھپاۓ تسلی بخش انداز میں بولا جبکہ وہ اس کی بات پر پھیکا سا مسکرا کر اسے سوچوں میں ڈالے کمرے سے واک اوٹ کر گئے

ابھی انہیں گئے کچھ دیر ہی گزری تھی جب دروازے پر پھر سے دستک ہوئی اور لیلی اندر داخل ہوئی

سر میڈم لان میں بے ہوش ہو گئی ہیں!

واٹ؟ اس کی سنتے ہی وہ بھاگنے کے سے انداز میں نیچھے کی طرف بڑھا لان میں پڑی نازک سی الیانہ کو اٹھاۓ اسنے ان کے کمرے کا رخ کیا تھا

ڈاکٹر کو بلاؤ! اس کے آڈدر پر لیلی فوری سے باہر نکلتی ڈاکٹر کو کال ملا گئی کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر الیانہ کو کچھ دوائیاں لکھ کر حازم کے ہمراہ باہر آۓ

آئی تھنک ڈپریشن کا ایشو ہے کوئی بات ہے جو انہیں تنگ کر رہی ہے خیال رکھو حازم….اس عمر میں ڈیریشن ٹھیک نہیں ہے! ان کی بات پر وہ افسوس سے سر ہلا گیا دل ہی دل میں خود کو کوسا تھا وہی تو وجہ تھا اس سب کی

میں خیال رکھوں گا!

ڈاکٹر کو باہر چھوڑنے کے بعد وہ ان کے روم میں واپس آیا جہاں وہ اب بیڈ سے ٹیک لگاۓ بیٹھی لیلی کو فروٹ کی پلیٹ پیچھے کرنے کا کہ رہی تھیں

”تم نے سنا نہیں مجھے نہیں کھانا“ ان کی گرج سے لیلی نے ساختہ دو قدم پیچھے ہوئی جب حازم نے اسے پلیٹ سائد ٹیبل پر رکھنے کا اشارہ کیا جس پر وہ فروٹ کی پلیٹ سائد ٹیبل پر رکھے باہر نکل گئی

کچھ کھا لیں! شرمندگی سے سر جھکاۓ ماں کے آگے فروٹ کی پلیٹ کی تھی

نہیں کھانا مجھے اور یہ جھوٹی ہمدردی مت جتاؤ کل دیکھ چکی ہوں تمہیں کتنی محبت ہے اپنی ماں سے! وہ رخ پھیرے تلخی سے بولیں

کیا چاہتی ہیں آپ؟ حازم ایک سرد سانس لیے بولا

بتا چکی ہوں مجھے عرین سے سارے شیئرز چاہیے اور یہ ایک ہی صورت میں ممکن ہے جب تم یا حنان میں سے کوئی ایک اسے اپناۓ! الیانہ گردن اکڑاۓ بولیں

میں عرین سے نکاح کے لیے تیار ہوں! بہت سوچ سمجھنے کے بعد اسنے اپنا فیصلہ سنایا تھا مگر دل اب بھی کہیں بے چین تھا ہر راستہ اس پر جاکر رک رہا تھا مگر اس کا دل؟ وہ تو اس کے دل میں کہیں نا تھی پھر کیسے وہ اسے اپنا سکتا تھا؟

رئیلی؟ الیانہ خوشی سے چہک کر بولیں

جی…!

”ٹھیک ہے پھر میں تیاریاں شروع کرتی ہوں“ وہ چہک کر کہتی فوری سے بیڈ سے اٹھیں جبکہ حازم پرسوچ سا حمزہ کی آئی کال آٹینڈ کیے باہر نکل گیا