Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389 Mehram-e-Raaz Episode 28
Rate this Novel
Mehram-e-Raaz Episode 28
Mehram-e-Raaz by Syeda Shah
سبز ویلا سے نکل کر وہ غصے کی حالت میں اس کی یونیورسٹی پہنچا تھا
بلیک پنٹ کورٹ میں ملبوس آنکھوں پر گلاسز لگاۓ اپنی سحر انگیز شخصیت اور باوقار چال سے وہ یہاں موجود ہر اسٹوڈنٹ کو اپنی طرف متواجہ کر رہا تھا
آج یہ دونوں مجھ سے مار کھائیں گے…نہیں آنا تو بتا ہی دیتے! عرین کلاس لینے کے بعد وہ بڑبڑاتے ہوۓ کلاس سے نکلی تھی جب اچانک سے سامنے سے آتے وجود سے اس کا بری طرح ٹکراؤ ہوا تھا
اس سے پہلے وہ گرتی کسی کی مضبوط گرفت نے اسے تھام لیا
آئی ایم سوری مس میں آپ کو دیکھ نہیں سکا….اس کی آواز پر عرین نے سرعت سے سر اٹھایا مگر سامنے موجود شخص کا چہرہ اس کے ماسک میں چھپا ہوا تھا
اٹٹس اوکے…وہ اس سے فاصلہ اختیار کرتی ہڑبڑا کر بولی
وہ جیسے ہی اس کےڈیپارٹمنٹ میں داخل ہوا تھا سامنے کا منظر دیکھ کر اس کا غصہ سوا نیزے پر پہنچا تھا
عرین! اس کی سرد آواز پر عرین نے گردن موڑ کر اسے دیکھا جب کے وہ نقاب پوش اس کے پلٹتے ہی تیزی سے وہاں سے آگے بڑھ گیا تھا
کون تھا یہ؟ حازم اس کے سر پر پہنچے غرایا تھا اس کے کہنے پر عرین نے پھر سے پیچھے کی طرف دیکھا مگر وہ اب کہیں نہیں تھا اسکا ذہن جیسے اس شخص کی آواز میں اٹک کر رہے گیا تھا اس سے پہلے وہ مزید کچھ سمجھتی حازم کے جھنجھوڑنے سے وہ ہوش کی دنیا میں لوٹی
میں کچھ پوچھ رہا ہوں! وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے غرایا
آپ ہوتے کون ہیں مجھ سے یہ سوال کرنے والے؟ اب کے عرین خود ہوش میں آتی اسی کے انداز میں غرائی تھی
’‘تمہیں تو اب میں بتاتا ہوں…میں کون ہوں! اس کی ڈھار پر عرین بے ساکتہ دو قدم پیچھے ہوئی جب وہ اس کا ہاتھ مضبوطی سے اپنی گرفت میں لیے طیش سے باہر گاڑی کے پاس لاکر کھڑا کرتا اس کے دونوں اطراف میں بازو تھماۓ اس پر جھکاؤ کر گیا
کیا بدتمیزی ہے یہ؟ وہ اس کی حرکت پر سرخ پڑتی چلائی
بہت شوق ہو رہا ہے تمہیں شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کا ہاں؟ مجھے مجبور مت کرو عرین تم میری سختیاں برداشت نہیں کر پاؤ گی! حازم اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتا اسے سائد پر کرتا گاڑی زن سے بھاگا گیا تھا اس لمحے جو تکلیف اسے اس انجان شخص کے ساتھ دیکھ کر ہوئی تھی وہ اس ک برداشت سے باہر تھی
جب کے عرین وہی کھڑی اس کی حرکت پر دانت پیس کر رہے گئی وہ پوری یونیورسٹی کے سامنے اس کا ہاتھ تھام کر لوگوں کو کیا ثابت کرکے آیا تھا وہ اچھے سے جانتی تھی
*********************
رعنین بیٹا چاۓ لے آؤ…شمیم کی آواز پر وہ خود کو کمپوز کرتی ڈرائنگ روم میں آئی
کچھ دیر یونہی باتیں کرنے کے بعد شمیم نماز کے لیے اٹھ گئی تھیں اب کمرے میں صرف وہ دونوں رہے گئے
تم یہ سب کیوں کر رہے ہو؟ گفتگو کا آغاز رعنین نے کیا
کیا سب کر رہا ہوں؟ رشتہ لے کر آیا ہوں تمہارا! اس کے انداز پر رعنین نے گھور کر اسے دیکھا
تم جانتے ہو المان سے ڈائیورس نہیں ہوئی میری ابھی تک!
ہاں جانتا ہوں لیکن یہ بھی جانتا ہوں بہت جلد وہ ہمارے سامنے آجاۓ اور تم اس سے ڈائیورس لے لو گی…
لو گی نا؟ کشھ وقفے کے بعد وہ آس سے بولا اس کی آنکھیں اس لمحے اس کا ساتھ دے رہی تھی جو چاہت رعنین اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی وہ تو اسنے کبھی المان کی نظروں میں دیکھی ہی نہیں
محبت اپنا پتا خود بتاتی ہے…! اسے آج اس بات کا مفہوم سمجھ آیا تھا
بتاؤ؟ حنان کے پکارنے پر وہ ہوش میں آکر بے اختیار سر اثبات میں ہلا گئی
میں ان بیواقوف لوگوں میں سے نہیں ہوں جو ایک جگہ سے ٹھوکر کھانے کے باواجود اسی راستے کا انتخاب کر لیتے ہیں! اس کے کہنے پر حنان نے سکون کا سانس لیا
بس پھر تم سمجھو آج سے تمہاری ساری ٹینشنز میرے حوالے ہو گئی ہیں تم جب جو چاہو گی مجھے اپنے ساتھ پاؤ گی! حنان محبے پاش لہجے میں بولا جس پر وہ ہلکا سا مسکرا دی
*********************
وہ آج جلدی گھر آگیا تھا رات کے دس بجے اس کی واپسی ہوئی تھی پورے دن کام کے رہنے کے باعث وہ آج دوپہر کا واقع بھول گیا تھا مگر ہال کمرے کو دیکھتی ہی اسے ایرج کی گئی باتیں یاد آئی
لمحوں کی چوتھائی میں اسنے فیصلہ کیا…اب اس کے قدم عالم خان کے روم کی طرف تھے
عالم خان اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھے کچھ کتابوں کا مطالعہ کر رہے تھے جب ان کا روازہ نوک ہوا
آجاؤ!
اسلام و علیکم ڈیڈ!
وعلیکم السلام آؤ حازم میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا! عالم خان اسے دیکھ کر مسکراتے ہوۓ بولے
میرا انتظار خیریت؟
ہاں مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی…
جی ڈیڈ کرئیے!
پہلے تم بتاؤ خیر سے آۓ تھے؟ عالم خان کتاب سائد ٹیبل پر رکھ کر پوری طرح اس کی طرف متواجہ ہوتے ہوۓ بولے
ایکچلی ڈیڈ مجھے بھی آپ سے ایک بات کرنی تھی…لیکن پہلے آپ اپنی بات کریں!
دیکھو بیٹا جو بات میں تم سے ابھی کرنے جا رہا ہوں وہ تفصیل سے سنا بے شک آخری فیصلہ تمہارا ہی ہوگا لیکن ایک بار میری بات پر نظر ثانی ضرور کر لینا….! حازم بغور ان کی بات سن رہا تھا
بیٹا آج ایرج مجھے عرین کے کسی رشتے کی تفصیلات بتانے آئی تھی مگر میں یہ چاہتا ہوں…دراصل اقبال نے جانے سے پہلے مجھ سے تمہاری اور عرین کی شادی کی بات کی تھی مگر اس وقت میں نے تمہاری ماں کے روائیے کی وجہ سے انکار کر دیا…لیکن اب میں چاہتا ہوں میں اپنے بھائی کی آخری خواہش پوری کروں
”میں چاہتا ہوں تمہارے شادی عرین سے ہو!“ ان کی بات پر حازم اپنی وجہ ساکت ہو گیا
“بے شک اللہ نے نکاح میں بہت طاقت رکھی ہے” اسے کسی کی کہی گئی بات بے ساختہ یاد آئی اس لمحے اپنے رب پر بے حد پیار آیا تھا جب نیت صاف ہو تو رب بھی ساتھ ہی ہوتا ہے! وہ صرف سوچ سکا تھا
مجھے پتا ہے تمہارے لیے یہ مشکل ہوگا..مگر میں چاہتا ہوں تم ایک بار سوچ….
اس میں سوچنا کیا ہے ڈیڈ؟ ہیرے کی بے قدری کرنے والا بیوقوف کہلاتا ہے…
عرین ایک بہترین لڑکی ہے بے شک اللہ نے میرے لیے ایک پاک اور بہترین ہمسفر کا انتخاب کیا ہے میرے لیے اس سے بڑی اعزاز کی بات کیا ہوگی؟ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے! اس کے جمعلوں پر عالم خان نے رشک سے اسے دیکھا
آج تم نے ثابت کر دیا ہے حازم….تم واقعی اپنے باپ سے آگے نکل گئے ہو! عالم خان اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولے
آپ سے آگے نہیں آپ سے ایک قدم پیچھے چلنے کی خواہش ہے خان صاحب! حازم ان کا ہاتھ چومتے ہوۓ مودب انداز میں بولا جس پر عالم خان نے مسکرا کر اسے اپنے سینے سے لگایا ان کے بچے خاص تو پر حازم ہمیشہ سے ان کے لیے فخر کا باعث بنے تھے
******************
عرین کے گھر آنے کے بعد فلحال ایرج نے اس سے کوئی بات نہیں کی تھی وہ پہلے حازم کی طرف سے جواب چاہتی تھیں
کیا ہوا پریشان لگ رہی ہیں؟ عرین چاۓ کے گھونٹ بھرتی انہیں گھم سم بیٹھا دیکھ کر بولی
ہاں سب ٹھیک ہے بس آج تمہارے ڈیڈ کی کمی بہت محسوس ہو رہی ہے! ان کے کہنے پر عرین نے بغور انہیں دیکھا
آپ سے کسی نے کچھ کہا ہے؟
مجھے کون اب کچھ کہے گا؟ ایرج نے الٹا سوال کیا جس پر وہ سر کو خم دے گئی
ڈیڈ بھولتے ہی نہیں ہیں! اسنے تکلیف سے کہا کے اچانک اس کا فون رنگ ہوا سکرین پر رعنین کا نام دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی
موم میں یہ کال لے کر آئی…ایرج سے کہ کر وہ فون اٹھا کر ٹیرس پر چلی گئی
واٹ؟ یہ حنان کا بچہ کتنا تیز نکلا ہے! رعنین کی بات سننے کے بعد وپ شوکڈ ہوتے ہوۓ بولی
وہی تو مجھے خود اس پر یقین نہیں آیا یہ وہی بیواقوف حان ہے! دوسری طرف رعنین نے بھی اسی انداز میں کہا
چلو اس سے ایک بات تو کلیئر ہوئی وہ واقعی انٹرسٹڈ ہے تم میں!..
“ہمم لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا…کوئی بھی رشتہ شروع کرنے کے لیے مجھے پہلے پرانے رشتے سے نکلنا پڑے گا”
اس کے کہنے پر عرین کو صبح کا منظر یاد آیا
اس کی فکر تم مت کرو…المان ملک اپنے بل سے بہت جلدی نکل آۓ گا! اسے جانے کیوں وہ آنکھیں المان کی لگی تھیں
کیا مطلب تم نے اسے دیکھا ہے؟
نہیں.. اس کے لفظی جواب پر رعنین خاموش ہو گئی
اچھا چلو مجھے اماں بلا رہی ہیں روٹیاں بنانی ہیں پھر بات کرتی ہوں میں تم سے….شمیم کی آواز پر وہ عرین سے الوداعی کلام ادا کرتے ہوۓ کچن کی طرف بڑھ گئی
روٹی آج کی تاریخ میں بنے گی یا نہیں؟
بنا رہی ہوں اماں بس دو منٹ! رعنین ان سے کہ کر فریج سے آٹا نکالنے لگی
ویسے یہ حنان نے آنے سے پہلے تم سے کوئی بات کی تھی تم جانتی تھی اس کے احساسات کے بارے میں؟ شمیم نے کچھ وقفے کے بعد پوچھا کے ان کے سوال پر رعنین نے حلق تر کیا وہ صبح سے ان کے سوالات سے بجھتی آرہی تھی
اس نے کل مجھ سے اس بارے میں زکر کیا تھا لیکن میں نے اس کی بات کو خاطر میں نہیں لیا….
چلو اچھا ہوا حنان خود آگیا ورنہ تم تو اپنی ماں کو کسی قابل سمجھتی ہی نہیں ہو! شمیم خفگی سے بولیں
“ایسی بات نہیں ہے اماں میری طرف سے ایسا کچھ نہیں تھا اور میں آپ کو بتا کر اپنی کٹ نہیں لگوانا چاہتی تھی…”
ہاں اتنا تم ڈرنے والی…اتنے اچھے نصیب ہی کہاں ہے میرے! شمیم کھانا پلیٹ میں نکالتے ہوۓ بولیں
چلیں اب کھانا کھا لیں باقی شکوے بعد میں کر لیجیے گا! رعنین آنکھین چھوٹی کیے کہتی خود بھی کھانے میں مصروف ہو گئی
******************
عالم خان سے بات کرنے کے بعد وہ پر سکون سا اپنے کمرے میں آیا اس کا غصہ جیسے جھاگ کی بیٹھ گیا تھا
دل میں جلتی آگ اب آہستہ آہستہ مدھم پڑ رہی تھی کچھ دیر بعد وہ فریش ہوکر وضو کرکے پہلی بار اپنے رب کے آگے سجدہ ریز ہوا تھا
اسے زور دینے پر بھی اپنا آخری بار کیا سجدہ یاد نہیں آیا ندامت سے جیسے سر جھک سا گیا وہ رب جو بن مانگے اسے سب کچھ عطا کر دیتا تھا وہ اس رب کو تو جیسے بھول ہی گیا تھا
یا اللہ مجھے معاف کر دے…میں تیرے گناہگار بندوں میں سے ہوں مسجد تو کیا میں نے کبھی گھر میں بھی نماز ادا نہیں کی… میں دنیاوی کامیابی کی دوڑ میں اتنا کھو گیا کے مجھے آپ کا خیال ہی نہیں رہا مجھے معاف کر دیجیے! وہ سجدے میں سر رکھتے ہوۓ دل کی گہرائیوں سے توبہ کر رہا تھا
آج کی رات اسنے ایسے ہی اپنے رب کے ساتھ گفتگو میں گزار دی تھی
صبح اپنی روٹین کے مطابق آٹھ بجے کے قریب وہ فریش سا ناشتے کی ٹیبل پر آیا
گڈ مورننگ…! ہمیشہ کی طرح الیانہ کی پیشانی چومنے کے بجاۓ صرف زبانی کہ کر وہ کرسی کھینچتے ہوۓ بیٹھ گیا جب کے اس کی حرکت پر الیانہ صبر کا گھونٹ بھر کر رہے گئی
حازم…!
جی ڈیڈ!
بیٹا آج زرا آوفس چکر لگا آنا عرین بتا رہی تھی انہیں کوئی ایڈ ملا ہے…جس کی خوشی میں آج ایک پارٹی رکھی گئی ہے مجھے لگتا ہے تمہیں وہاں جانا چاہیے اس سے پہلے بھی تم ایڈجسٹ کر ہی رہے تھے!
.جی ڈیڈ میں چکر لگا لوں گا! وہ نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے ہوۓ اٹھا
آپ مجھے پارٹی کی ٹائمنگ انبوکس کر دیجیے گا!
“میں عینا سے کہ کر تمہیں ڈیٹیلز میل کروا دوں گا”
جی ٹھیک ہے! حازم ان سے کہ کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا
عالم خان کی بتاۓ گئی ٹائمنگ کے مطابق وہ شام کے ساتھ بجے کے قریب اس علیشان سے ہوٹل میں ٹیکسیذو (Texedo) پہنے اندر داخل ہوا کے اسے دیکھتے ہی بہت سے لوگ اس کی طرف ملنے کے لیے بڑھے تھے
آفٹر سو لونگ حازم! سکندر صاحب اس کی طرف بڑھتے جبکہ اس کی نظر غیر ارادی تور پر ادھر ادھر کسی کو تلاش کر رہی تھیں
جب اچانک ہال میں اندھیرا سا چھایا ہال میں یکدم خاموشی چھا گئی حازم بے زار ہوتا ڈرنک کاونٹر کی طرف بڑھ گیا
ٹک….ٹک…ٹک
اس خاموشی میں ہیل کی آواز سے وہ پلٹا نظر بے اختیار اوپر کی جانب اٹھی اور تھم سی گئی اس کے ڈھیلے تاثرات اب قدرے تن گئے تھے ہال میں اب تیز آواز میں میوزک اون ہوا تھا
وہ اس وقت ریڈ سیلوو لیس ساڑھی میں ملبوس جس کا بیک کا گلا ہلکا سا گہرا تھا آنکھوں پر اسموکی میک اپ اور لبوں پر ڈارک ریڈ لپ اسٹک لگاۓ بالوں کو اسٹریٹ کرکے پیچھے پشت پر ڈالے لونگ آئیر رنگز پہنے کھڑی اپنے حسن سے یہاں موجود پر شخص کو خود کی جانب متواجہ کر رہی تھی
واٹ ڈا…..تیش سے کہتے ساتھ ہی اس کی نظر آس پاس کھڑے ان مردوں پر گئی جو ایک ٹک اس سامنے سے آنے والی حسینہ کو تک رہے تھے
ہاۓ ایوری ون! اس کی میٹھی آواز پر سب نے گہرے انداز میں اسے جواب دیا
ابھی وہ یہ سب دیکھ ہی رہا تھا جب اس کی نظر ایک جوان لڑکے پر گئی وہ مسکرا کر اس کی طرف آکر اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیے ڈانس فلور کی طرف بڑھنے لگا اور یہاں حازم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا
وہ برق رفتاری سے اس کے قریب پہنچا کر اسکا ہاتھ اس لڑکے سے چھوڑوا کر اسکا بازو اپنی مضبوط گرفت میں لیے اسے تقریبا گسیٹنے کے سے انداز میں سائد پر لایا
چھوریں مجھے کیا حرکت ہے یہ؟ وہ اپنی بادامی آنکھیں اس کی آنکھوں میں گاڑھتے ہوۓ غرائی
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس طرح کی ڈریسنگ کرکے کسی غیر کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالنے کی؟ حازم ڈھارا
میری مرضی میں جس مرضی کے ساتھ جاؤں اور جس طرح کے کپڑے پہنوں…آئندہ میرے راستے میں مت آئیے گا مسٹر حازم! اس کے ڈھارنے کا اثر لیے بغیر وہ اسے وارن کرکے آگے بڑھنے لگی جب حازم نے ایک ہی جھٹکے سے اسے خود کے قریب کرتا اس کی پشت کو اپنی گرفت میں لے گیا
تمہارا ہر راستہ مجھ سے شروع اور مجھ پر ختم ہے آج کے بعد اگر اپنے راستے سے بھٹکی تو تمہارے لیے اچھا ثابت نہیں ہوگا….وہ اس کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھ کر جنونی انداز میں بولا
وہ عرین مر گئی جس کا راستہ آپ سے شروع ہوکر آپ پر ختم.ہوتا تھا اب میں اپنا راستہ خود بناتی ہوں بہتر یہی ہوگا میرے راستے میں مت آئیں ورنہ آپ کے لیے برا ثابت ہوگا! وہ آخری الفاظ اسی کے انداز میں کہ کر اسے اپنا آپ چھڑوا کر اسے شاکڈ کر گئی تھی
ناراض بلی شیرنی بن گئی ہے….تمہیں تو میں پھر سے اپنی محبت میں پہلے جیسی عرین بنا کر رہوں گا چھوٹی لڑکی! وہ اس کے اس روپ سے متاثر ہوتا مسکراتے ہوۓ سر جھٹک گیا اسے اب صرف اس کے ری ایکشن کا انتظار تھا جب ایرج نے اس سے بات کرنی تھی
وہ ریلیکس انداز میں کاونٹر کے پاس بیٹھتا سوڈا پینے لگا
کے اسے ایسے مطئمن دیکھ کر عرین نے ایک نظر اسے اور پھر اگلے لمحے کچھ سوچتے ہوۓ وہ اسی شخص کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہلکے ہلکے اسٹیپ لینے لگی کچھ اسٹیپ لینے کے بعد اس لڑکے نے اپنا ہاتھ اس کی کمر میں رکھ کر اسے خود کے قریب تر کیا کے اس کی حرکت پر عرین نے اس سے فاصلہ اختیار کرنا چاہ مگر اس کے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیے اس کی مزاحمت کو رد کر گیا اور یہاں حازم خان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا
وہ طیش سے اس کی طرف بڑھتا اس لڑکے کو گریبان سے پکڑ گیا
واٹ ڈا….اس سے پہلے وہ لڑکا مزید کچھ کہتا حازم کسی شیر کی طرح اس پر جھپٹ گیا
تیری ہمت کیسے ہوئی…وہ اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر اسکے چہرے پر مکے جڑتا اسے آدھ موہا کر گیا
چھوڑیں اسے…! عرین لوگوں کو ان کی طرف آتا دیکھ کر گھبرا کر حازم کا بازو تھام گئی
چھوڑیں اسے میڈیا میں بات گئی تو بڑے بابا غصہ ہو جائیں گے!
حازم پلزز… اس کے لاکھ کہنے کے باواجود وہ لگاتار اس پر جھکا اسے مارنے پر تلا تھا
کافی کوششیوں کے بعد کچھ لڑکوں نے مل کر اسے اس سے الگ کیا تھا
حازم ریلیکس..کیا ہو گیا تم تو اتنے Calm انسان ہو! سکندر اسے پیچھے کرتے ہوۓ بولے جب کے حازم نے خون آلود آنکھوں سے سامنے کھڑی اس لڑکی کو دیکھ
اگلے ہی پل وہ اسے کھینچتے ہوۓ صیح معنیوں میں گھسیٹ کر گاڑی کے پاس لایا
چھوڑیں…
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ…کس مٹی کی بنی ہو تم ہاں؟ شرم نہیں آتی تمہیں؟ اللہ نے عورت کو مرد کی پسلی سے اسئلے پیدا کیا کیوں کہ وہ اس مٹی کو بھی فرشتوں کو نہیں دیکھانا چاہتا تھا جس سے عورت بنی ہو اور تم ان واہیات کپڑوں میں ایک غیر محرم کی بانہوں میں جھول رہی ہو؟
اتنا بے غیرت سمجھ لیا ہے تم نے مجھے؟ وہ اسے گاڑی کے ساتھ لگاۓ بول کم چلا زیادہ رہا تھا کے اس کے انداز پر عرین نے اس کی آنکھوں میں دیکھا
پھر اچانک اس کا چھت پھاڑ قہقہ بلند ہوا تھا
درد ہو رہا ہے؟ تکلیف ہو رہی ہے؟ بہت خوب میں چاہتی ہوں اس سے بھی زیادہ تکلیف ہو تمہیں حازم خان…اس سے کئی زیادہ تکلیف تمہاری انکھوں میں دیکھنا چاہتی ہوں میں….تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے مجھے کتن سکون مل رہا ہے
تمہیں کیا لگا تمہاری ان باتوں سے میں ڈر جاؤں گی؟ نہیں حازم خان میں تمہیں اتنی آسانی سے معاف نہیں کروں گی تمہیں برباد کرکے رہوں گی چاہے مجھے اس کے لیے اپنے وجود کو مٹی ہی کیوں نا کرنا پڑے! وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے چلائی کے حازم نے کرب سے آنکھیں مچ کر کھولیں
یو نو واٹ؟ تم آج میری نظروں میں بہت گر گئی ہو عرین بہت زیادہ! وہ کرب سے کہتا اسے گاڑی میں زبردستی بیٹھا کر زن سے گاڑی اس کے فلیٹ کی طرف بھاگا گیا
مجھے یہی اتارو! اس کا گلا چیخ چیخ کر بیٹھ گیا تھا مگر اس بار حازم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا وہ اب سپاٹ تھا اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا
***************
رات کے تقریبا گیارہ بجے کے قریب اس نے اسے فلیٹ کے آگے اتار دیا تھا
فلیٹ میں داخل ہوتے ہی ایرج اسے اپنے اتنظار میں صوفے پر بیٹھی نظر آئی
اسلام و علیکم! خود کو نارمل ظاہر کرتے ہوۓ وہ مسکرا کر بولی
وعلیکم السلام میری جان…بیٹھو میں کھانا لے کر آتی ہوں! ایرج اس سے کہ کر کچن کی طرف چلی گئیں
کھانے کے بعد وہ اٹھنے لگی جب ایرج نے اسے روکا
“رکو بیٹا مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے”
جی موم؟ اسکے پوچھنے پر ایرج نے اسے کل کا سارا واقعی بیان کیا
تمہارے ڈیڈ کی خواہش تھی بیٹا…آخری بات کہ کر وہ امید سے اس کی طرف دیکھنے لگی
جب کے وہ جیسے سفید پڑ گئی تھی اس کا دل بیٹھنے لگا بے ساختہ وہ لمحہ یاد آیا جب اقبال خان نے خود اسے حازم کے حوالے کیا تھا
موم مجھے ریسٹ کرنا ہے!
اپنے کمرے میں آتے ہی اسنے بیگ سے موبائیل نکال کر حازم کو کال ملائی
وہ جو ابھی اپنے روم میں داخل ہوا تھا اس کے فون پر ایک گہرا سانس بھرے کال اٹھا گیا
کیا تماشا لگایا ہوا ہے یہ؟
کونسا تماشا؟ حازم ٹاۓ دھیلی کرتے ہوۓ بیڈ پر گرتے ہوۓ بولا
بڑے بابا نے کیا کہا ہے موم سے؟
وہی کہا ہے جو حقیقیت ہے تمہیں کیا لگ رہا تھا تم میرے نکاح میں ہونے کے باوجود یہ حرکتیں کرو گی؟ تم میری تھیں اسئلے میرے پاس ہی آؤ گی اب آگے تمہاری مرضی ہے چاہو تو انکار کرکے اپنے ڈیڈ کی خواہش پوری نا کرنے پر لوگوں کہ نظر میں بے آدب بن جاؤ اور مجھے بازی مارنے دو….داستانہ بات چھوڑ کر وہ کال کٹ کر گیا
کے اس کے فون کرتے ہی عرین نے طیش سے سکرین کی طرف دیکھا
آہہہہہہہ….وہ سر پکڑے بیٹھتی چلی گئی تھی
اب تمہیں میں بتاؤں گی حازم خان…بازی کون مارتا ہے!
میں تمہارا وہ حال کروں گی کے تم خود طلاق دینے پر مجبور ہو جاؤ گے! طیش سے کہ کر وہ ساری جیولری کھینچنے کے انداز میں اتارنے لگی اب اس کی آنکھیں میں ایک عظم تھا
کچھ بھی کر جانے کا عظم…..
