357.5K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 3

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

ایرج اور اقبال صاحب کا کمرہ حازم کے روم سے ایک دو روم چھوڑ کر تھا

وہ بے دھیانی میں اس کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں چڑھنے لگی سیڑھیاں عبور کرنے بعد وہ یکدم رکا اسے اپنے پیچھے کسی کی قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی وہ پلٹا تو عرین کو اسے اپنے پیچھے آتے دیکھ کر کشادہ پیشانی پر بل نمودار ہوۓ

اب کیوں پیچھا کر رہی ہو میرا؟ اسکے اچانک رکنے پر عرین کا سر اس کے چوڑے سینے سے ٹکرایا

مجھے کوئی شوق نہیں ہے آپ کے پیچھے آنے کا میں اپنی موم کے روم میں جا رہی ہوں ہٹیں! سپاٹ انداز میں کہ کر آگے پڑھنے لگی جب حازم نے اسکا راستہ روکا

تمیز سے بات کرو نہیں تو….

نہیں کیا ہاں؟ مجھے کوئی کمزور لڑکی مت سمجھیے گا جب سے آئی ہوں سناۓ جا رہے ہیں میں کوئی ملازمہ نہیں ہوں جسے آپ جب چاہیے کچھ بھی سنا کر چلے جائیں وہ تو بس میں آپ کی رسپیکٹ کر رہی تھی لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ میں کوئی کمزور سی لڑکی ہوں اب اگر آپ نے مجھ سے اس طرح روڈ ہوکر بات کی تو…..

اسے تپ چڑھ گئی تھی ایرج نے اسے جلدی کام کرنے کو کہا تھا اور وہ دوسری بار اسکے راستے میں حائل ہوکر اسکا وقت ضایع کر رہا تھا

تو کیا کر لو گی؟ حازم نے ابرو اچکائی

تو میں آپ کا منہ نوچ لوں گی! وہ اپنے دونوں ہاتھ اس کے منہ کے قریب کرتی اسے خاصا ڈرامائی انداز میں اسے ڈرانے کو بولی جبکہ اس بار اس کے انداز پر حازم نے بے ساختہ اپنی مسکراہٹ دبائی

دیکھو چھوٹی لڑکی….

عرین نام ہے میرا! وہ مارے تیش سے گال پھلاۓ بولی

میں نے تمہیں پہلے بھی کہا ہے چھوٹی لڑکی مجھ سے بحث کرنے والوں سے یا تو مجھے نفرت ہو جاتی ہے یا وہ مجھے پسند آجاتے ہیں کوشش کرو مجھ سے کم ہی الجھو نہیں تو میں تمہارے لیے کتنا خطرناک ثابت ہونگا یہ تم سوچ بھی نہیں سکتی! حازم اس کا پھلا ہوا منہ نظرانداز کرتا پر لفظ چبا کر بولا

مجھے سوچنا بھی نہیں ہے اب میرے راستے میں مت آئیے گا! تیش سے کہتی وہ آگے بڑھ

(اسے کیا ہو گیا کونسی شیرنی جاگ گئی؟) حازم محض سوچ سکا

ایرج کے روم میں آتے ہی وہ گہرا سانس ہوا میں بحال کرتی خود کو نارمل کرنے لگی

افف اللہ یہ میں نے کیا کر دیا اس سڑیل کو اتنی سنا دی اب تو وہ مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا….آہ عرین تم خاموش نہیں رہے سکتی تھیں! اپنے آپ کو کوستی وہ جلدی جلدی ایرج کا بتایا سمان بیگ سے نکالنے لگی

بیگ سے ایک دو چیزیں لے کر وہ ایرج کے پاس آئی جو اسے خفگی سے دیکھ رہی تھیں

اتنی دیر لگاتے ہیں عرین؟ ایرج افسوس کرتی بولیں

سوری موم…!وہ شرمندہ ہوئی

چلو کوئی بات نہیں ابھی لیلی کھانا لگانے کا کہ کر گئی ہے جاکر دیکھو اگر انہیں کسی کام کی ضرورت ہے تو کر لو!

ارے نہیں چاچی اسے کام کی کیا ضرورت میڈز ہیں تو صیح آپ لوگ بس آکر جلدی سے کھانا کھا لیں میرے تو پیٹ میں چوہے ڈور رہے ہیں! حائنہ کے کہنے پر وہ تینوں سر ہلاتے باہر نکل گئے

کھانے پر انہیں عالم خان نے بھی جوائن کرلیا تھا سواۓ الیانہ کے سب کھانے پر موجود تھے

حازم مجھے کچھ بات کرنی ہے کھانے کے بعد روم میں آنا! عالم خان اسے کھانے سے فارغ ہوکر اٹھے دیکھ بولے

”جی ڈیڈ میں آتا ہوں“ حازم اپنا بیپ کرتا موبائیل کان سے لگاۓ باہر نکل گیا کے اس کے جاتے ہی عرین کے کھانے میں تیزی آئی جو کہ حائنہ نے بخوبی نوٹ کیا

تم ڈر رہی ہو بھائی سے؟ حائنہ اسے چھیڑتے ہوۓ بولی

ککیا مطلب؟

مطلب کہ تم ان کے سامنے بہت ڈر ڈر کر بیٹھی تھیں اور ان کے جاتے ہی تمہارے کھانے میں تیزی آگئی…حائنہ نے ابرو اچکا کر پوچھا

ہاں تو تمہارے بھائی ہیں ہی ایسے سڑیل سے مجھے ڈر لگتا ہے ان سے! وہ رازدانہ انداز میں بولی

اب ایسی بھی بات نہیں میرے بھائی تو بہت سوئٹ ہیں…

وہ صرف تم لوگوں کے ساتھ ہی سوئٹ ہیں مجھ سے دو بار ملاقات ہوئی دونوں بار خطرناک ثابت ہوۓ ہیں..اس کے انداز پر حائنہ بے ساختہ ہنسی

ہاہاہا تم ڈر رہی ہو نا بھائی سے وہ اسئلے تمہیں ڈرا رہے ہیں ان کی عادت ہے..اب تم ڈرنا مت! حائنہ اسے سمجھانے کے انداز میں بولی جس پر وہ فٹ سے سر ہلا گئی

*******************

ویل اب مجھے پولیو کے قطرے پلاۓ گئے ہوں یا نہیں یہ تو آپ کو میرے پیرنٹس سے ہی پتا لگ سکتا ہے اور اس کے لیے تمہیں میرے گھر جانا پڑے گا جو کہ تم جیسی میڈل کلاس لڑکی افوڈ نہیں کر سکتی! اس کے الفاظ کسی ہتھوڑے کی طرح رعنین کے ذہن میں گونج رہے تھے

کیا ہوا رعنین سوئی نہیں؟ شمیم ایک نظر گھڑی پر ڈالے جو کہ رات کے گیارہ بجا رہی تھی اس سے مخاطب ہوئیں

کچھ نہیں اماں بس ٹیسٹ کی تیاری کر رہی ہوں! اس نے جھوٹ سے کام لیا

بس بس مجھے تو جیسے پتا ہی نہیں ناولز پڑھ رہی ہوگی! ان کے کہنے پر اسنے زبان دانتوں تلے دبائی

جب پتا ہے تو کیوں پوچھ رہی ہیں….

سدھر جاؤ رعنین اور آکر سو جاؤ بس!

افف ہو اماں کل اتوار ہے آج تو دیر تک جاگنے دیں…

کل اتوار ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ پورا دن سونے میں لگا دو کل وقتی اٹھ جانا کل تم نے میرے ساتھ مل کر مشین لگانی ہے…اب جلدی آؤ سونے! اس بار انہوں نے زرا سختی سے کہا جس پر وہ ناول بند کرتی ان کے پاس بیڈ پر آئی تھی

ویسے اماں میں سوچ رہی تھی کوئی ماسی لگا لیتے ہیں….

شاباش میری عقل مند بیٹی….آپ کو کیا ضرورت ماسی کی ماں ہے تو سہی فری کی ماسی ہر وقت کام کرتی رہے گی اور جب آپ شہزادی کو مدد کا کہ دے تو آپ دوسری ملازمہ رکھنے کا حکم صادر کر دیتی ہیں….

اچھا اماں اٹھا دیجیے گا جلدی لگا لوں گی مشین…..ان کے طنز کے تیروں سے وہ منہ بگاڑ کر کہتی کمبل میں گھس گئی

”اپنے خرشے کے پیسے نہیں ہے اور ماسیاں رکھ لوں میں“ ایک آخری بار طنز پھینکتی وہ بھی سونے کی تیاری میں لگ گئی یہ ان کی روز کی روٹین تھی کسی نا کسی بات پر جھگڑا کرنا وہ شاید ماں بیٹی کم دوستیں زیادہ تھیں

وہسے اماں ایک بات پوچھوں؟ کچھ دیر ہی گزری تھی جب وہ ایک بار انہیں مخاطب کر گئی

ہممم….

یہ جو ڈرامے یا ناولز ہوتے ہیں ان میں لوگ زیادہ تر زندگی کی مشکلیں ہی دیکھاتے ہیں زندگی کو آسان کیوں نہیں دیکھاتے خوشیاں اتنی کم کیوں دیکھاتے ہیں؟ وہ پرسوچ سی بولی

کیوں کہ یہی زندگی کی حیقیقت ہے جیسے ہمیں اپنا گھر چلانے کے لیے ہر مہینے پیسوں کو دیکھ بھال کر خرچ کرنا ہوتا ہے آدھا مہینہ تو اسی ٹینشن میں نکل جاتا ہے کہ اب باقی آدھے کا کیا ہوگا اور پھر باقی آدھا آنے والے مہینے کی ٹینشن میں گزر جاتا ہے اسی طرح ہر کسی کی زندگی میں بہت سے مسائل ہوتے ہیں اللہ کسی کو بہت دے کر بھی آزماتا ہے اور کسی کو نا دے کر بھی ایسے ہی زندگی میں اگر مشکل دن نہیں آۓ گے تو اچھے دنوں کی قیمت بھی نہیں ہوگی اگر کہانی میں صرف اچھا ہی چلتا رہے تو انسان بور ہو جاتا ہے اسئلے انہی کہانیوں کے زریعے بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی اصل زندگی کے لیے کچھ سبق حاصل کرتے ہیں

خوشیاں ایسے ہی ہوتی ہیں بے وفا بہت جلد ساتھ چھوڑ جاتی ہیں اور غم کم بخت ایسے وفادار ہیں کہ کبھی پیچھا نہیں چھوڑتے ایسے میں ہمیں صرف اللہ سے امید رکھنی چاہیے کیوں کہ وہی ہے جو ہر چیز پر قادر ہے! وہ نم آنکھوں سے بولیں رعنین اب ان کے کندھے پر سر رکھے جانے کب سے سو چکی تھی

*********************

اتوار کا دن….!

آج موسم کچھ زیادہ ہی سرد تھا

اففف بھئی اماں مجھے تو سردی ہی بہت لگ رہی ہے…!وہ میشن میں ہاتھ ڈال کر پانی کو چھوتی بولی

تو تمہارے لیے مشینوں میں ہٹر لگا دوں؟ شرافت سے انسان کی بچی بن کر میری مدد کروا…شمیم اس کے بہانوں سے تنگ آتی بولیں

ویسے بہت ہی ظالم ماں ہیں آپ!

”ظالم ہی سہی مگر میرے ظلم سے تم سگھڑ ہی بن جاؤ گی“ جہاں ان کے اس چھوٹے سے خوبصورت کی نوک جھوک ایسے ہی جاری تھی وہی ایک علیشان سے گھر میں جسے ملک میشن کہا جاتا تھا معمول کی نسبت آج زیادہ ہی گھٹن ذدہ تھا

صبح دس بجے کے قریب وہ جھولتے ہوۓ ڈائنگ ٹیبل پر آیا جہاں اسے اس حولیے میں دیکھ کر انور ملک کے چہرے پر ناگواری چھائی

کل رات کہاں تھے تم؟ ان کی سرد آواز سے اسنے پھٹ سے آنکھیں کھولیں

دوستوں کے ساتھ تھا….

کونسے دوست؟

کیا ہو گیا ملک صاحب ابھی اس کی آنکھیں پوری طرح کھلی بھی نہیں ہیں! زہرہ نے انہیں ٹوکا

آنکھیں کھلیں گی بھی کیسے صاحب زادے پوری رات باڑ میں لگا کر آئے ہیں….اگر اتنی جنوانی چڑھ رہی ہے تو بتاؤ عزت کے ساتھ کسی اچھی لڑکی سے شادی کروا دیتے ہیں ہم!

کم اون ڈیڈ ایسا کچھ نہیں ہے! وہ ان کے ڈھارنے کی پروا کیے بغیر بولا کے اس کی ڈھٹائی پر وہ مزید آگ بغولہ ہوۓ

بکواس بند کرو تمہیں کیا لگتا ہے تم کچھ بھی کرتے رہو گے اور میں ان سب سے غافل رہوں گا؟

ٹھیک ہے ڈیڈ اگر آپ کو اتنی ہی پروبلم ہے تو میرے کیس کے بارے میں بھی کچھ مت کرئیے گا حازم خان کو خود دیکھ لوں گا میں! وہ غصے سے گلاس ٹیبل پر پٹک کر اپنے روم کی طرف بھاگا

آپ بھی کیا کرتے ہیں ملک صاحب میرے بچے کو ناشتہ بھی نہیں کرنے دیا! زہرہ افسوس سے بولیں

چپ کرکے ناشتہ کرو! انہیں گھوری سے نواز کر وہ خود بھی ناشتے میں مصروف ہو گئے جبھی وہ سڑھیوں سے اب قدرے اچھے حلیے میں اترتا گاڑی کی چابی اٹھاۓ نیچھے آیا

کہاں جا رہے ہو؟

آپ کو بتانا مناسب نہیں سمجھتا! ان سے کہ کر وہ باہر کی جانب بڑھ گیا کے پیچھے وہ آگ بغولہ ہوتے زہرہ کی طرف متواجہ ہوۓ

تمہاری ڈھیل کی وجہ سے یہ اس مقام پر آیا ہے! جبکہ زہرہ اب اپنا کھانا چھوڑ چکی تھیں ان کے لیے اب کھانا دشوار تھا

اس کے برعکس کچھ کلو میٹر کے فاصلے پر سبز حویلی قہقہوں سے گونج رہی تھی وجہ صبح صبح حائنہ اور عرین کا حنان پر ٹھندا یخ پانی گرا کر اٹھانا تھا

کلو مائی اب بچے گی مجھ سے! حنان اس کے پیچھے پانی کا جگ لیے بھاگا تھا

اور تم فارمئی مرغی تم بھی بچو زرا….وہ اب عرین سے مخاطب ہوا کہ اس کے نئے لقب سے ایرج جو آئمہ بیگم کا ناشتہ ملازمہ کے ساتھ لے کر جا رہی تھیں حنان کے بلاۓ گئے لقب پر بے ساختہ ہنسی

چاچی آپ بھی ہنس رہی ہیں ان دونوں نے صبح صبح میرے اوپر پانی گرا کر اٹھایا ہے یہ طریقہ ہے بھلا؟ حنان خفگی سے بولا جس پر وہ اپنی ہنسی ضبط کیے حائنہ اور عرین کو ڈپٹ گئیں

یہ سب کیا ہو رہا ہے…! کسی کی تلخ آواز سے وہ سب اس جانب متواجہ ہوۓ سامنے الیانہ کو سخت تیور لیے کھڑا دیکھ کر ان تینوں کا خون خشک ہو گیا کے ایرج انہیں دیکھتے ہی آئمہ بیگم کے روم کی طرف چل دیں

وہ موم…..حائنہ آگے بڑھی وہ کل سے آئی ہوئی آج ان سے مل رہی تھی رات کو الیانہ دیر سے گھر آئی تھی جس کے باعث اس کی رات میں بھی ان سے ملاقات نہیں ہو سکی تھی

اور تم حائنہ چھٹیاں لے کر کیوں آئی ہو؟ پڑھائی زیادہ ضروری ہے یا یہ فالتو رشتے؟ وہ دھمے مگر سخت لہجے میں بولیں

لیکن موم…حنان نے بیچھ میں بولنا جس پر وہ اسے گھوری سے نواز گئی کے اس کے لیے یہ ایک گھوری ہی کافی تھی

آئندہ مجھے یہ اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتے نظر نا آؤ…نجانے کونسا غصہ تھا جو وہ ان کے زریعے عرین پر اتارنا چاہتی تھی

میم ناشتہ لگ گیا ہے…

چلو اب ناشتہ کرو سب! سختی سے کہتی وہ آگے بڑھ گئی کے ان کے جاتے ہی حائنہ نے عرین کے چہرے کی طرف دیکھا جو رونے والا ہو رہا تھا اس کے تاثرات دیکھتے ہی حائنہ کا قہقہ بلند ہوا

او ماۓ گوڈ عرین اسٹرونگ بنو یار اس میں رونے کی کیا بات ہے! حائنہ اسے کندھا مرے بولی جس پر وہ منہ پھلا گئی اکلوتے ہونے کی وجہ سے اریج اور اقبال اس پر کم ہی برستے تھے وہ موقع بھی کم ہی دیتی تھی

جتنی تم مصوم ہو نا لوگ تمہارا آرام سے استعمال کر سکتے ہیں خود کو اسٹرونگ بناؤ! حائنہ اب اسے گلے لگاۓ کہ رہی تھی

میں اسٹرونگ ہوں اور موم کہتی ہیں وقت آنے پر ہر لڑکی مضبوط بن جاتی ہے…وہ سوسوں کرتی بولی کے اس کی اس بات پر قسمت مسکرائی( اسے واقعی مضبوط بننا تھا مگر کچھ ٹھوکروں کے بعد…..)

چلو یار اس سے پہلے ہٹلر بیگم پھر سے آجائیں! حنان روزدانہ انداز میں بولا کے حائنہ نے اسے ایک چٹ رسید کی تھی

ناشتے پر آج عالم خان نے سب کچھ اقبال خان کی پسند کا رکھوایا تھا اتنے دنوں میں آج پہلا دن تھا جو وہ پرسکون ہوکر ان کے ساتھ وقت گزار سکتے تھے

حازم نہیں آیا؟

وہ ایک ضروری میٹنگ میں گیا ہے! الیانہ کھانے میں مصروف سی بولیں

اتوار کے دن میٹنگ؟ عرین نے حائنہ کے کان میں سرگوشی کی تھی مگر سن الیانہ نے بھی لیا تھا

اس کا کام ایسا ہی ہے اس کے کام میں دن رات یا ہفتہ اتوار نہیں ہوتا…مجھے لگا تمہیں پتا ہوگا تمہاری موم کے مطابق تمہیں لاء میں انٹرسٹ ہے؟ وہ بظاہر نرم انداز میں بولیں مگر ان کا طنز سمجھ کر عرین جھینپ کر پلیٹ پر جھک گئی

**********************

وہ چھٹی کے باعث فارمل سے ٹریک سوٹ میں آنکھوں پر گلاسس لگاۓ گاڑی سے اتر کر اس شاندار سے رسٹورینٹ کے اندر داخل ہوا

کچھ ٹیبل چھوڑ کر بیٹھا ادھیر عمر شخص اسے دیکھتے ہی احترام کھڑا ہوا

”بیٹھیے بیٹھیے خانی صاحب“ وہ اس کے سامنے والی کرسی کھینچ کر مغرور انداز میں بیٹھا یا شاید اسکا انداز ہی ایسا تھا مغرانہ اس کی ناک کی طرح….

مجھے یہاں بلانے کی وجہ جان سکتا ہوں؟ وہ بیٹھتے ہی مدعے پر آیا

ہاں میں نے تمہیں یہاں اس بات سے آگاہ کرنے کو بلایا ہے کہ میں اپنا کیس واپس لے رہا ہوں! ان کی بات پر اسکے چہرے نے تیوری چڑھا کر انہیں دیکھا

آپ جانتے ہیں میں جس کیس پر ہاتھ رکھ دوں اسے جیت کر ہی ختم کرتا ہوں یہ امپوسیبل ہے! اسنے مدھم لہجے میں اپنی بات مکمل کی

مگر میں نہیں چاہتا کہ کیس پھر سے ری اوپن ہو! وہ اضطراب کی کیفیت میں بولے

وجہ کیا ہے؟

کچھ نہیں بس میں اپنے ایک بیٹے کے پیچھے باقی فیملی ممبرز کی جان کو رسک میں نہیں ڈال سکتا…….انور ملک ایک طاقتور آدمی ہے! انہوں نے صاف گوئی سے کام لیا

انور ملک اچانک سے طاقتور کیسے بن گیا یہ بات آپ کو اس پر پہلے کیس کرتے ہوۓ یا کل تک جب آپ اس کیس کو ری اوپن کروانے کے لیے خوار ہو رہے تھے جب سمجھ نہیں آئی؟ وہ اپنے مخصوص سرد لہجے میں بولا

”ہاں تب سمجھ نہیں آئی اب آگئی ہے اور میں اب اس سے پنگہ نہیں لے سکتا….“ انہوں نے تیش سے کہا اس سے پہلے حازم جواب دیتا ویٹر نے آکر ان کی ٹیبل پر کافی رکھی

ہمم اگر آپ اتنا جان ہی گئے ہیں تو یہ بھی جانتے ہونگے کہ انور ملک مجھ سے زیادہ اسٹرونگ نہیں ہے! وہ کافی کا گھونٹ بھرے ان پر گہری نظریں جماے پوچھ رہا تھا

حازم خان میں یہاں بحث کرنے نہیں آیا میں تمہیں آگاہ کرنے آیا ہوں سمجھنے کی کوشش کرو! ان کے چہرے پر موجود خوف کے آثار وہ بخوبی نوٹ کر رہا تھا اب اسنے کافی کا کپ لبوں سے لگا کر پورے رسٹورینٹ کا جائزہ لیا اور چند ٹیبل چھوڑ کر اپنے چہرے کے آگے میگزین رکھے شخص کو دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگی

چلیں اب میں چلتا ہوں….. ایک ہی گھونٹ میں کافی حلق میں اتارے وہ اٹھا

تم نے بتایا نہیں! جاوید خانی اسے اٹھتا دیکھ خود بھی کھڑے ہوتے بولے

کیا بتانا ہے؟کیس تو میں واپس نہیں لوں گا مسٹر خانی اور اگلی بار اسے کہیے گا بیٹی کی دھمکی عالم خان کو دینے کی جرأت کرے…..آپ بے فکر رہیں آپ کی بیٹی کو کچھ نہیں ہوگا! اپنے لفظوں سے انہیں دھنگ چھوڑ کر وہ جس راستے سے آیا وہی سے لوٹ گیا

اسے یہ سب کیسے معلوم ہوا؟ وہ محض سوچ سکا حازم خان اس کی سوچ سے بھی زیادہ تیز نکلا تھا

*********************

شام کے پانچ بجے کے قریب وہ واپس گھر لوٹا تو وہ اسے ٹی وی لاونج میں حائنہ کے ساتھ بیٹھی کوئی کارٹون مووی دیکھتی نظر آئی وہ اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ ترک کرتا ان کی جانب بڑھا

کونسی مووی دیکھی جا رہی ہے؟

وہ گلاس ٹی شرٹ کے اندر لگاتا ان کے سامنے صوفے پر ریلیکس انداز میں بیٹھتا بولا کے اسے دیکھتے ہی عرین سمٹ کر بیٹھ گئی جبکہ حائنہ اسے دیکھ کر چہک اٹھی تھی

کچھ نہیں بھائی اسے کارٹون پسند ہیں میں تو سزہ کاٹ رہی ہوں! حائنہ شرارت سے بولی عرین نے اسے گھور کر دیکھا

ایک منٹ بھائی میری میم کی کال ہے! وہ موبائیل کو بجتے دیکھ کر اٹھی تھی

میں بھی آتی ہوں!

جی نہیں تم یہی بیٹھو بھائی کھا نہیں جائیں گے تمہیں! وہ اس کے کان میں سرگوشی کیے آگے بڑھ گئی اس کے جاتے ہی وہ حلق تر کرکے ایک چور نظر اس پر ڈال گئی جو سامنے صوفے پر لیٹنے کے سے انداز میں بیٹھی موبائیل یوز کر رہا تھا ( کل رات کے بعد وہ اب اس کا سامنا کر رہی تھی)

کونسی یونیورسٹی میں ایڈمیشن کروانا ہے ..! کچھ دیر مزید خاموشی کے نظر کرنے کے بعد اس کی بھاری آواز پر اسنے چونک کر اسے دیکھا وہ اب اسے ہی دیکھ رہا تھا نجانے کیوں اسکا دل اس لمحے عجیب لہ میں ڈھرکا

آپ مجھ سے مخاطب ہیں؟ وہ حیرانگی سے بولی

”ظاہر ہے اس وقت اور تو کوئی موجود نہیں ہے یہاں“

نہیں مجھے لگا شاید آپ کو دوسری مخلوق یعنی چڑیلوں سے بھی بات کرنے کا شوق ہے…وہ خود سے بولی مگر مقابل کے کان اس بات سے انجان نا رہے سکے

تم نے غلط نہیں سمجھا انہی میں سے ایک سے کر رہا ہوں! اسنے مسکراہٹ ضبط کرکے کہا

کیا مطلب ہے آپ مجھے چڑیل کہ رہے ہیں؟ اس کی بات پر وہ منہ پھولا گئی کے اسکا یہ انداز جانے کیوں حازم کو اچھا لگتا تھا وہ اس وقت بلیک پیٹ اور ٹوپ پر سکن مفلر گردن میں لپیٹے ہوۓ تھی

کتنی عمر ہے تمہاری؟

کیوں آپ نے کیا کرنا ہے؟ وہ دوبدو بولی

جتنا پوچھا ہے اتنا بتاؤ!

انیس…(19)! عرین ہنوز منہ بناۓ بولی اس کے سوال اس کی سمجھ سے تو بلکل باہر تھے

میں اٹھائس( 28 ) کا ہوں! اسکا انداز خاصا جتانے والا تھا

تو؟

تو تقریبا دس سال بڑا ہوں تم سے بھائی کہا کرو!

بلکل نہیں آپ میرے بھائی بن بھی نہیں سکتے اور نا مجھے کوئی انٹرسٹ ہے آپ کو بھائی بنانے میں! وہ فٹاک سے بولی

تو کیا بنانے میں انٹرسٹ ہے؟ حازم نے گہرے انداز میں پوچھا اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتا ایرج یہاں آئیں

کیا باتیں ہو رہی ہیں؟

بس کچھ نہیں ڈیڈ نے کہا ہے عرین کا ایڈمیشن کروا دوں بس وہی پوچھ رہا تھا کونسی یونی میں کرواؤں…..ڈیڈ چاہتے ہیں جب تک یہ آپ لوگ یہاں ہیں اس کا لوس نا ہو! وہ تفصیل بتانے لگا

اسے یہاں کی یونیورسٹی کا کیا پتا آپ کو جو اچھی لگے آپ کروا دیں!

”چلیں پھر میں حنان کے ساتھ اسکا بھی ایڈمیشن کروا دیتا ہوں باقی ساری ڈیلیٹز بعد میں لوں گا“ انہیں کہ کر وہ اپنے روم کی طرف بڑھ گیا

عرین ہر وقت بیٹھا مت کرو کچھ کام بھی کر لیا کرو! ایرج اسے ڈپٹتی بولیں

موم یہاں ہر کام کے لیے میڈ موجود ہیں میں کیا کام کروں؟

تو میڈ ہیں تو کیا ہوا خود کام میں لگ جایا کرو بچیوں و ہر وقت بیٹھنا نہیں چاہیے اب جاؤ اور خود میرے لیے کافی بنا کر لاؤ….وہ نرم لہجے میں بولیں

جی موم لاتی ہوں! ان سے کہ کر وہ کچن میں چلی گئی

********************

رات کے دو بجے کے قریب اسکا موبائیل رنگ ہوا حمزہ کا لنک دیکھ کر وہ فوری سے اٹھا گیا

ہاں بولو….!

سر مجھے خبر ملی ہے المان ملک نے کچھ آدمیوں کو آپ کے گھر کی طرف بھیجا ہے وہ شاید حائنہ میم…

کیا بکواس کر رہے ہو؟ حازم اس کی بات سننے سے پہلے ہی غرایا

سر مجھے ابھی خبر ملی ہے! وہ شرمندہ ہوا جب کہ حازم اس کی سنے بغیر ہی حائنہ کے کمرے کی طرف بھاگا

حائنہ کا کمرا اوپر والی منزل پر تھا وہ بھاگنے کے سے انداز میں اوپر کی طرف بھاگا کے اس کے کمرے میں قدم رکھتے ہی اسکا سامنا اندھیرے سے ہوا

وہ آگے بڑھتا کے واشروم کا دروازہ کھلا اور عرین سلیپنگ سوٹ میں ملبوس گیلے بالوں سے باہر نکلی کے اپنے سامنے اسے کھڑا دیکھتے ہی اس کی دلخراش چیخ کمرے میں گونجی تھی

اس سے پہلے وہ مزید چیختی حازم نے آگے بڑھ کر اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسکی چیخ کا گلا گھونٹا

ایڈیٹ لڑکی خاموش رہو تم یہاں کیا کر رہی ہو حائنہ کہاں ہے؟ وہ ہلکی سی روشنی میں اس کی بادامی آنکھوں میں جھانکتا بولا جس پر وہ آنکھوں سے پیچھے بیڈ پر لیٹی حائنہ کی طرف اشارہ کرگئی وہ نجانے کیا کھا کر سوئی تھی جو اس کی چیخ سے ہلی تک نہیں

اسے پرسکون اپنے بستر پر لیٹے دیکھ کر وہ کچھ پرسکون ہوا پورے کمرے کو اچھے سے چیک کرنے کے بعد کھرکیاں لوکڈ کرکے وہ واپس اس کی طرف آیا

ونڈو مت کھولنا! اس سے کہ کر وہ باہر نکلنے لگا جب عرین اس کے راستے میں حائل ہوئی

نہیں یہ کیا حرکت تھی؟ ایسا کریں آپ نا کسی مووی میں ویلن کے رول کے لیے اپلاۓ کر دیں بلکل ٹھیک ویلن بنے گے جب بھی آتے ہیں خطرناک ثابت ہوتے ہیں…وہ اپنی دل کی دھڑکیں نارمل کرتی بولی

تمہیں بعد میں دیکھا ہوں چھوٹی لڑکی ابھی مجھے بہت ضروری کام ہے! اسے سرد لہجے میں کہ کر وہ گاڈرز کو کال کرتے واک اوٹ کر گیا

سب کو سخت آڈدر دینے کے بعد وہ اپنے روم میں داخل ہوا تو الیانہ کو اپنے انتظار میں بیٹھے دیکھ کر ٹھنکا

خیریت موم؟

کہاں تھے؟

کام سے گیا تھا…!

بیٹھو مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے! وہ اضطراب کی کیفیت میں تھی

جی کریں کوئی پریشانی ہے؟

ہاں تمہارے باپ نے جائیداد کا آدھا حصہ اقبال کی بیٹی کے نام کر دیا!

”ہممم مجھ سے بات کی تھی اس بارے میں انہوں نے“

تم اس بارے میں جانتے تھے؟ وہ یکدم ہتے سے اکھڑی

مدعہ یہ نہیں ہے موم آپ بتائیں آپ کیا چاہتی ہے آپ کے ذہن میں کوئی حل ہوگا جبھی آپ اس وقت میرے روم میں آئی ہیں….وہ رات کے تین بجاتی گھڑی دیکھ کر بولا

میں چاہتی ہوں تم عرین سے خوفیاں نکاح کر لو….کچھ وقت کے لیے! انہوں نے گویا اس کے سر پر دھماکہ کیا تھا

واٹ موم یہ امپوسیبل ہے!.

یہ میرا حکم ہے حازم…تم اس سے نکاح کرو اور اپنے نام اس کے حصے کی جائیداد کرو یہ سب کچھ میں نے اور تمہارے ڈیڈ نے محنت سے کمایا ہے میں کبھی اس چیز کو قبول نہیں کروں گی! وہ سیخ پاؤ ہوئی

بٹ موم….

تمہیں منظور نہیں ہے تو میں یہ کام حنان سے کروا لوں گی لیکن تم نے آج میرا مان توڑ دیا! وہ تلخی سے بولیں کے حازم بے خفگی سے انہیں دیکھا اب وہ انہیں کیا بتاتا وہ آج ہی اسے بھائی کہنے کو بول کر آیا ہے

ایسے مت کہیں موم…میں سوچتا ہوں!

یعنی تم مان گئے ہو! الیانہ نے چہک کر پوچھا

نہیں میں آپ کو سوچ کر بتاؤں گا آپ کو جتنا آسان لگ رہا ہے سب اتنا آسان ہے نہیں….

آسان ہو نا ہو میں جانتی ہوں تم سنبھال لو گے یہ سب! وہ پر اعتماد سی کہتی اسے سوچوں میں گھم چھوڑے چلی گئیں