357.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 22

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

رعنین… حنان اس کا چہرہ تھپتھپاتے ہوۓ بولا مگر وہ بے سد سی اس کے بازو میں لہک گئی تھی

کیا ہوا اسے حنان؟ علینہ اس طرف آتے ہوۓ پریشانی سے بولی

میں اسے ہوسپٹل لے کر جا رہا ہوں!

میں بھی چلتی ہوں! علینہ اسکا بیگ اٹھا کر اسکے ساتھ چلتے ہوۓ بولی جس پر حنان سر کو خم دے کر رعنین کو بازو میں اٹھاۓ اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا

کب سے چل رہا ہے یہ سب؟ حنان اب علینہ سے مخاطب ہوا وہ اس وقت ہوسپٹل کے کولیڈور میں موجود تھے رعنین کو طاقت کی دریپ لگائی گئی تھی

کیا؟

زیادہ انجان مت بنو میں المان اور رعنین کی بات کر رہا ہوں! حنان اسکے انجان بنے پر مزید طیش میں آتے ہوۓ بولا وہ یقینا المان اور اس کی ساری باتیں سن چکا تھا

دو تین مہینوں سے!

اور یہ بات تم نے عرین سے شیئر نہیں کی تھی کیا؟

عرین سب جانتی تھی!

واٹ؟ عرین سب جانتی تھی؟ تم لوگوں نے روکا کیوں نہیں اسے المان کے کریکٹر سے تو واقف نہیں تھے تم لوگ؟

نہیں ہم نہیں واقف تھے اس دو نمبر انسان کی اصلیحت سے اور تم بھی اس کے بارے میں اسئلے جانتے ہو کیوں کہ تم اسے بچپن سے جانتے ہو

ہم تو اس سے اسی یونی میں ملے پوری یونیورسٹی کی لڑکیاں اس کے پیچھے پاگل تھیں وہ تو خود رعنین کے پاس پرپوزل لے کر آیا تھا انہوں نے اورل نکاح کیا تھا تو کیا یہ سب کرنے کے بعد بھی وہ اس پر یقین نا کرتی؟ علینہ اسی کے انداز میں چلائی جبکہ اس کے نئے انشاف پر حنان نے حیرت سے اسے دیکھا

اورل نکاح؟ اؤہ ماۓ گوڈ….تم لوگوں نے سوچ بھی کیسے لیا ایک چپ کر اورل نکاح کرنے والا مرد اس کے ساتھ وفا کرے گا؟ اور شاید کر بھی لے مگر ایک المان جیسا پاورفل مرد اورل نکاح کی طرف جاۓ گا بھی کیوں؟ کبھی سوچا ہے تم نے کیا المان کے لیے مشکل تھا رعنین کو اپنانا؟ اورل نکاح کے بجاۓ تم لوگ اسے خالہ کے پاس بھیجتی وہ ان سے بات کرتا پھر جو حل نکلتا اس پر عمل کرتے مجھے یقین نہیں آرہا اگر رعنین جیسی مضبوط لڑکی ٹریپ ہو سکتی ہے تو باقی لڑکیوں کا کیا ہوگا؟ بھائی کو آنے دو میں اس المان پر ایسا کیس کروں گا اس کی نسلیں یاد رکھیں گی!

حنان تیش سے کہتا وہاں سے واک اوٹ کر گیا کے علینہ اس کی باتوں پر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی وہ بھی تو روک سکتی تھی وہ بھی تو اسے عقل دے سکتی تھی پھر کیوں اس کی عقل پر پتھر پڑ گئے؟

وہ سر ہاتھوں میں دیے انہی سوچوں میں گھم تھی جب اسکے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا اور سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی

شکر ہے تم آگئی عرین! علینہ اس کے گلے لگتے ہوۓ بولی

رعنین کیسی ہے اب؟

وہ بہتر ہے ڈریپ لگی ہے! علینہ اس کے الگ ہوتے ہوۓ اسے بتانے لگی جس پر وہ سر ہلا گئی

المان اتنا گر سکتا ہے میں بے سوچا نہیں تھا! علینہ نے اسے سب بتا دیا تھا جس کے بعد وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوۓ بولی

المان کو دیکھ کر کوئی اندازہ لگا ہی نہیں سکتا وہ شخص اندر سے اتنا گرا ہوا ہے! علینہ کے تیش سے کہنے پر اسے بے ساختہ حازم کی نصیحت یاد آئی

”اگر مجھے وہ شخص تم سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر بھی نظر آیا تو اچھا نہیں ہوگا“ اسے اس کی بات آج سمجھ آئی تھی

ڈاکٹر کے آنے پر وہ سوچوں سے نکل کر ان کی جانب بڑھی

پیشنٹ نے کسی بات کا گہرا اثر لیا ہے آپ لوگ دھیان رکھیں کے اب ایسی کوئی بات نا ہو جس سے انہیں ٹینشن ہو! ڈاکٹر اپنے مخصوص انداز میں کہ کر چلے گئے

تم جاؤ مل لو میں میڈیسن لے کر آتی ہوں! علینہ اس کا بازو تھپتھپا کر باہر نکل گئی اس کے کہنے پر عرین سر ہلا کر اس روم میں داخل ہوئی جہاں وہ اسے نڈہال سی آنکھیں موند کر لیٹی نظر آئی

رعنین؟ عرین اس کے قریب آتے ہوۓ آستہ سے بولی اس کے کہنے پر وہ فوری آنکھیں کھول کر خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی

عرین؟

یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم نے آنٹی کیا سوچیں گی؟ عرین اسکا ہاتھ تھام کر نارمل انداز میں بولی کے اس کی بات پر رعنین ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی

امماں؟ میں اماں کو کیا منہ دیکھاؤں گی؟ عرین میرا تو سب کچھ تباہ ہو گیا میں کیسے لوگوں کا سامنا کروں گی؟ وہ ہزیانی کیفیت میں اپنا چہرہ نوچتے ہوۓ بولی

رعنین ریلیکس سنبھالو خود کو… عرین نے بامشکل اسکے خود کو نوچتے ہاتھ تھامے

ممیں مر جاؤں گی عرین میں مر جاؤں گی اسنے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ ایسی کونسی کمی رہے گئی تھی؟ تم تو جانتی ہو میں کتنی اصول پسند تھی میں نے کیوں اپنے اصول ایک ایسے شخص کے لیے توڑ دیے جو میرا تھا ہی نہیں؟ محبت؟ محبت تو لفظ ہے میں نے اپنے بابا کے بعد المان پر یقین کیا تھا پھر اس نے ایسا کیوں کیا میرے ساتھ؟

تتم دیکھو میرے چہرے پر دیکھو کوئی ایسا نقص بتا دو مجھے تو کوئی وجہ سمجھ نہیں آرہی ہاں میرا رنگ گندومی ہے لیکن کیا میرا رنگ اس سب کی وجہ بن سکتا ہے؟ وہ روتے ہوۓ بلکتے ہوۓ اس سے سوال کر رہی تھی اس کے ساتھ ساتھ عرین کا چہرہ بھی بھیگ چکا تھا

ایسا کچھ نہیں ہے تم میں کوئی کمی نہیں ہے! عرین اسے خود سے لگاۓ خود بھی روتے ہوۓ بولی

پھر اس نے مجھے کیوں چھوڑا؟

یہ سوال تم اس سے خود کیوں نہیں پوچھ لیتی؟ عرین کی بات پر وہ پھر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اب کے جب وہ بولی تو اسکا لہجہ سرد تھا برف کی مانند سرد….

یہ بھی سچ ہے کہ جان کی طرح عزیز تھا وہ مجھے

اور ایک سچ یہ بھی ہے جان سے بڑھ کر عزت پیاری ہے مجھے ….وہ آنکھوں موندے ہوۓ بولی کے اس کی بات عرین نے چونک کر اسے دیکھا

تم جانتی ہو تم نے اس وقت کتنی گہری بات کی ہے؟ عرین نے اس پر نظریں مرکوز کیے پوچھا

کاش کے یہ لفظ میرے زخم سے زیادہ گہرے ہوتے مگر یہ تو اس کا ایک حصہ بھی نہیں!

ہوسپٹل کے اس روم میں سناٹا چھا گیا تھا اس کے جواب کے بعد عرین کچھ بول نہیں سکی تھی مگر ہاں وہ اس کا درد خود میں محسوس کر رہی تھی اس کے ساتھ بھی تو کچھ یوں ہی ہو رہا تھا

گاڑی ریڈی ہے تم لوگ آجاؤ! حنان دروازے میں سے ہی کہتا باہر نکل گیا

اگلے آدھے میں علینہ اور رعنین کو ان کے گھر چھوڑنے کے بعد حنان اسے بھی سبز حویلی لے آیا تھا

تمہیں کیا ہوا ہے حنان؟ عرین گاڑی سے اترتے ہوۓ اس کی خاموشی نوٹ کرتے ہوۓ بولی

کچھ نہیں!

تم مجھ سے اتنا روڈ کیوں ہو رہے ہو؟ عرین اب کے اس کے سامنے آتے ہوۓ غرائی

کیوں کہ میں سمجھتا تھا تم میری بہن ہو میری سب سے اچھی دوست ہو لیکن تم نے مجھے کبھی اپنا بھائی یا دوست نہیں سمجھا! حنان نے تیش میں آتے ہوۓ کہا

اور تمہیں ایسا کیوں لگا؟

تمہیں سب پتا تھا رعنین کا المان کے ساتھ ریلیشن ہے لیکن تم نے مجھے نہیں بتایا اگر تم مجھے اپنا بھائی سمجھتی…م

شٹ اپ کیا بکواس کر رہے ہو یہ باتیں بھائیوں سے کرنے والی ہوتی ہیں؟ میں تمہیں اپنی ہر دوست کے ریلیشن بتاتی پھیڑوں تو میں تمہاری بہن ہوں ورنہ میں ایک اجنبی ہوں؟ عرین اس کی بات پر خفگی سے بولی جس پر وہ خاموش سا ہو گیا

پتا نہیں! اسنے اکتا کر کہا

ہٹو بدھو کہیں کے! عرین اس سے کہ کر آگے بڑھنے لگی جب اچانک اس کا سر بری طرح سے چکرایا

اؤے کٹو آڑ یو اوکے؟ حنان اسے سنبھالا دیتے ہوۓ بولا یہ منظر الیانہ کی آنکھوں سے بچ نہیں سکا تھا

یا آئی ایییمم اوکے! عرین اس سے چھڑوا کر پریشانی سے کہتی اندر داخل ہوئی جب کہ حنان اسے جاتا دیکھ کر کندھے اچکاۓ پھر سے گاڑی میں بیٹھ کر زن سے بھاگا گیا

****************

دن گزرتے جا رہے تھے آج حازم کو غائب ہوۓ ایک مہینہ ہو چکا تھا یہ دن اسنے یونی اور اپنے روم میں ہی گزارے تھے وہ صرف یونیورسٹی کے لیے اپنے کمرے سے نکلتی تھی اور پھر اپنے روم میں قید ہو جاتی

حائنہ بھی کچھ دنوں پہلے ہی ہوسٹل واپس چلی گئی تھی ایسے میں حازم کی غیر موجودگی نے اسکا دل پر چیز سے اچاٹ کر دیا تھا

آج بھی وہ گھر آتے ہی اپنے روم میں آگئی آج کل اسے اپنی طبیت بھی عجیب لگ رہی تھی روم میں آتے ہی سائد ڈراز موجود اپنی میڈیسن کھا کر وہ فریش ہونے کو چلی گئی

کچھ دیر بعد وہ فریش سی پیلے رنگ کا جوڑا پہنے باہر آکر جاۓ نماز بچھا کر بیٹھ گئی

اللہ میاں آپ مجھ سے خفا ہو گئے ہیں کیا؟ آپ دیکھ رہے ہیں حازم مجھے کیسے اکیلا کرکے چلے گئے کیا وہ بھی المان کی طرح مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہیں کیا؟ وہ آنسوؤں سمیت آج پھر سے وہی ایک سوال کر رہی تھی جو اتنے دنوں سے اس کے ذہن میں ہتھوڑے کی طرح بج رہا تھا

روز کی طرح آج بھی یہی دعا کرکے وہ جاۓ نماز تہ کرتی اٹھنے لگی جب اچانک اسکا سر بری طرح سے چکرایا

یا اللہ! وہ بیڈ کا کونہ تھام کر خود کو سنبھالتے ہوۓ بولی

اس کا پورا وجود آستہ آستہ اس کا ساتھ چھوڑ رہا تھا وہ بامشکل خود کو گھیسٹتے ہوۓ دروازے تک آئی

میم؟ لیلی اسے گرتے ہوۓ دیکھ کر اس کی طرف لپکی یہ آخری منظر تھا جو اسنے آنکھیں بند ہونے سے پہلے دیکھا تھا

********************

وہ اس وقت رجسٹر کھولے کچھ لکھ رہی تھی جب شمیم اس کے پاس آکر بیٹھیں

یہ لو چاۓ! شمیم اس کے پاس چاۓ کا کپ رکھتے ہوۓ بولیں

شکریہ اماں!

کیا ہوا رعنین؟ آج کل تم سب انہی کتابوں میں لگی رہتی ہو میری ہنسنے بولنے والی بیٹی کہاں گئی؟ ان کی بات پر رعنین نے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا

پہلے تو آپ چاہتی تھی میں چپ رہا کرو سمجھدار لڑکیوں کی طرح اور اب آپ کو میرا چپ رہنا ستا رہا ہے؟ وہ آنکھیں چھوٹی کیے بولی

اس ایک مہینے میں اس کے چہرے پر سنجیدگی آگئی تھی وہ یونیورسٹی میں بھی اب بہت کم ہی پہچانی جاتی تھی المان سے اس دن کے بعد سے اسکا سامنا نہیں ہوا اور یہ شاید اس کے لیے اچھا تھا ورنہ اسے دیکھ کر شاید اسکا دل اس سے بغاوت پر اتر جاتا

میں نے ایسے گم سم رہنے کو بھی نہیں کہا تھا! شمیم خفگی سے بولیں

بس اب ہر چیز تو انسان کی پسند کے مطابق نہیں ہوتی نا! وہ مسنوئی مسکراہٹ کے ساتھ کہ کر کپ ہونٹوں سے لگا گئی

یہ کیا بات ہوئی اب میں کیا ان خالی دیواروں سے باتیں کروں؟

اماں آپ رضیہ آنٹی کو بلا لیں نا وہ باتیں کر لیں گی آپ سے….مجھے اس کی تیاری کرنی ہے میرا کل ٹیسٹ ہے! ان سے کہ کر وہ پھر سے کتابوں میں دے گئی جب کے شمیم منہ بسور کر اسے دو تین باتیں سناتے ہوۓ کچن کی جانب بڑھ گئیں

کاش کے اماں آپ دیکھ پاتی آپ کی ہنستی مسکراتی بیٹی کو ایک بے وفا کی محبت نے اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے! کرب سے کہ کر وہ آنکھوں موند گئی مگر اگلے ہی لمحے اپنی آنکھوں کے سامنے آنے والے چہرے سے وہ واپس آنکھیں کھول گئی

مجھے تم سے نفرت کیوں نہیں ہوتی؟ اسنے کرب سے خود سے پوچھا اور پھر سر بیڈ کی ٹیک سے لگا گئی کے اچانک اسکا موبائیل بجا

نا چاہتے ہوۓ بھی اسنے موبائیل اٹھا کر دیکھا اور آنے والی ویڈیو کو دیکھ کر اس کا ذہن بھک سے اڑا

جی ہاں ناظرین یہ خبر بلکل درست ہے کہ آج سے ایک ماہ قبل 24 مارچ کو المان ملک نے بختاور ملک کا ریپ کیا اور ان کے والد کو قتل کر دیا…کیوں کہ المان ملک ایک اسٹرونگ سیاسی ممبر کے صاحبزادے ہیں تو ان کے خلاف میڈیا تو کیا پولیس تک نے کوئی ایکشن نہیں لیا لیکن ہمہارا آپ سے وعدہ تھا ہم آپ تک ہمیشہ سچ خبر پہنچاتے رہیں گے کیمرہ مین یوسف کے ساتھ آپ کی اپنی ایمن!

وہ آنکھیں پھاڑے اس لڑکی کو دیکھ رہی تھی یہ ایک لڑکی یوٹیوب کی طرف سے لوگوں تک سچی خبر پہنچاتی تھی اس کی کئی ویڈیوز رعنین نے پہلے بھی دیکھی تھیں مگر آج….آج اس کی خبر کو دیکھ کر اسنے اس کے سچ نا ہونے کی دعا کی تھی مگر وہ اب چند ثبوت پیش کر رہی تھی جس سے اس کی یہ بات صاف واضع تھی کہ وہ سچ کہ رہی ہے

اسکا دل جیسے ٹوٹ سا گیا تھا ایک بار پھر سے…وہ سب سوچ سکتی تھی مگر وہ اس حد تک گرے گا یہ اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا

(إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون) آج سے تمہاری محبت تمہاری یاد حرام ہے مجھ پر المان ملک! اسنے اپنے آنسو رگڑنے کے سے انداز میں صاف کیے تھے

*******************

اس کی آنکھ کھولی تو خود کو ایک انجان سے کمرے میں موجود دیکھ کر وہ ہڑبڑا کر اٹھی

ریلیکس میم! لیلی کی آواز پر وہ اس کی طرف متواجہ ہوئی

میں یہاں کیسے؟

آپ بے ہوش ہوگئی تھی میم…حنان بابا گھر پر نہیں تھے الیانہ میم بھی پارٹی میں گئی ہوئی تھیں اور ایرج میم بڑی بیگم صاحبہ کو لے کر واک پر گئی تھی ایسے میں مجھے کوئی نظر نہیں آیا تو میں گارڈ کے ساتھ آپ کو یہاں کے آئی…. لیلی اسی تفصیل سے بتانے لگی

لیکن میں تو بلکل ٹھیک تھی بس تھکن کی وجہ سے ہو گیا ہوگا آپ بلا وجہ مجھے یہاں کے آئی..

بلاوجہ نہیں بلکہ ٹھیک کیا انہوں نے جو آپ کو یہاں لے آئی..اندر داخل ہوتی ہوئی لیڈی ڈاکٹر اپنے مخصوص انداز میں مسکرا کر بولی

ہم نے آپ کے کچھ ٹیسٹ کرنے ہیں مسز عرین!

کس طرح کے ٹیسٹ؟ وہ گھبرا کر بولی اسے سوئیوں سے ویسے ہی بہت ڈر لگتا تھا ڈاکٹر اسے باقی کی تفصیل بتا کر اس کے ٹیسٹ کے لیے اسکا بلڈ سمپل لینے لگی

یہ رپورٹس کب تک ملی گی؟ عرین انہیں جاتا دیکھتے ہوۓ بولی

دو گھٹنے تک…آپ چاہیں تو ویٹ کر لیں نہیں تو…

نہیں میں ویٹ کر لوں گی…نجانے کونسے خدشے کے تحت اسنے بے چینی سے کہا

میم آپ نے بتایا نہیں کیا آیا رپورٹ میں؟ لیلی کے پوچھنے پر وہ باہر نظر آتی سڑکوں سے نظر ہٹا کر اسے دیکھنے لگی

کچھ نہیں بس خون کی کمی ہے…! اس کے کہنے پر لیلی اوہ کرتے ہوۓ سر کو خم دے گئی جب کے وہ اب پھر سے اپنی نظروں کا زوایہ کھڑکی سے نظر آنے والی خوبصورت بلڈنگز کی طرف کر گئی اس کے سامنے اب بھی کچھ دیر پہلے والا منظر گھوم رہا تھا

کونگریشلیشنز مسز عرین یو آڑ پرپیگنینٹ!

واٹ؟ ڈاکٹر چہک کے کہنے پر وہ جھٹکے سے اپنی چیئر سے اٹھی تھی

کیا ہوا مسز عرین کوئی ایشو ہے؟

جی وہ….

جو بات ہے آپ کھل کر کہ سکتی ہیں…ڈاکٹر آسیہ اس کی غیر ہوتی حالت کو دیکھتے ہوۓ مطمئن انداز میں بولی

ججی وہ دراصل میرے ہسبنڈ یہاں نہیں ہے اسئلے یہ سب….اب کے وہ ذرا سنبھل کر بولی

اٹس نوٹ آ بگ ڈیل…آپ اپنے ہسبنڈ کو یہ گڈ نیوز دیں وہ فوری یہاں آجائیں گے اولاد کی نعمت ہوتی ہی ایسی ہے! ڈاکٹر آسیہ نے مسکرا کر کہا جس پر اس کی گھبراہٹ کچھ کم ہوئی

ہاں یہ سب اب حازم ہی سنبھال سکتا تھا…!

اچانک لگنے والی بریک سے وہ فوری ہوش میں آتی بے ساختہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ گئی

دیکھ کر چلائیں!

سوری میم! اس کی گرج پر ڈرائیور شرمندہ ہوتے ہولا

گھر پہنچتے ہی وہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھی اسے اب وہ کام کرنا تھا جس کے لیے وہ ایک مہینے سے خود سے جنگ کرتی آرہی تھی اپنے روم میں آکر اسنے اپنا موبائیل اٹھایا

بہت دھونڈنے کے بعد بھی اسے اپنے موبائیل پر اسکا نمبر دیکھائی نہیں دیا

اب میں ان کا نمبر کہاں سے لوں؟ کافی سوچنے کے بعد وہ اٹھ کر نیچھے آئی

فیرونہ؟ اس کے بلانے پر ملازمہ مودب انداز میں اس کے پاس آئی

یس میم!

بڑی ماما کہاں ہیں؟

میم وہ تو گھر پر نہیں ہے آپ کو کچھ چاہیے؟ فیرونہ مودب انداز میں بولی

نہیں آپ جا سکتی ہے! اس سے کہ کر وہ احتیاط کے ساتھ الیانہ کے کمرے میں داخل ہوئی

آئی نو اللہ میاں جی یہ غلط ہے لیکن میں تو صرف اپنے شوہر کا نمبر دھونڈ رہی ہوں…ویسے بھی اس طرح تو مانگنے سے لوگ دس سوال پوچھیں گے! خود سے کہتے ہوۓ وہ الیانہ کی سائد ٹیبل کی طرف بڑھی اسے یاد تھا حائنہ نے ایک بار اسے ایک ڈرائری کے بارے میں بتایا تھا جو الیانہ نے اپنے پاس رکھی ہوئی تھی اس میں ان کے بچوں کی برتھ ڈے سے لے کر ان کا ہر ایک خاص موومنٹ لکھا ہوا تھا یقینا اس میں اس کا نمبر بھی ہوگا

جیسے ہی اسنے بیڈ کی سیدھی سائد پر موجود ڈراز کھولی اس کے اندر موجود فائل کو دیکھ کر وہ چونک اٹھی تھی

یہ فائیل….یہ فائیل تو اسنے آخری بار اس رات دیکھی تھی

ضروری تو نہیں کہ یہ وہی ہو! سر جھٹک کر کہتی وہ پھر سے ڈائری دھونڈے لگی مگر اسے کہیں کچھ دیکھائی نہیں دیا

شاید یہ کام مجھے حائنہ سے ہی کروانا پڑے گا.! آدھے گھٹنے کی محنت کے بعد منہ بسور کر کہتی وہ اس کے کمرے سے نکلنے لگی جب ایک بار پھر اسے اس فائیل کا خیال آیا

ایک بار دیکھنے سے کیا ہوگا میری تسلی ہی ہو جاۓ گی! دل میں کہ کر وہ تیزی سے اس فائیل کھول کر دیکھنے لگی

اور پہلا صفحہ پلٹتے ہی اسے لگا تھا وہ اگلا سانس نہیں لے پاۓ گی…..