357.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 32

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

عرین…اسنے ایک بار اس کا نام پکارا جس پر وہ یکدم ہوش میں آتی اسے الگ ہوئی

ریلیکس کچھ نہیں ہوا…! حازم اس سے کہ کر آگے بڑھنے لگا جب وہ اسے ہاتھ کے اشارے سے روک گئی

ڈونٹ ٹچ می اگین! اس کے یوں اچانک بدلتے رواۓ پر حازم کو حیرت ہوئی

اچھا یہ سب چھوڑو آجاؤ میں تمہیں روم تک چھوڑ دوں!

ڈونٹ…میں خود جا سکتی ہوں! وہ اسے خود کی طرف بڑھتے دیکھ کر وہ دو قدم پیچھے ہوئی کے اچانک اسکا سر بری طرح سے چکرایا جس سے وہ اپنے لہنگے میں اٹک کر گرنے لگی جسے وہ بروقت سنبھال گیا کے اس کا سہارا ملتے ہی وہ اس کے بازوں میں جھول گئی تھی

وہ اسے اسکے کمرے میں لاتا احتیاط سے اسے بیڈ پر لٹا کر اٹھنے لگا جب وہ اس بےہوشی کی حالت میں اس کا ہاتھ تھام گئی جس پر حازم نے مسکرا کر اسے دیکھا

یہ تو زیادتی ہے بیگم…مجھے تو آپ انگلی تک پکڑنے نہیں دیتی اور اب پورا ہاتھ تھام کر بیٹھی ہیں! وہ شریر لہجے میں کہتا اس کے کسمسانے پر اس پر ایک نظر ڈال کر آرام سے اس کی جیولڑی اتارنے لگا

اس کی ماتھا پٹی اتار کر سائد ٹیبل پر رکھنے کے بعد اسنے باری باری اسکے کانوں سے ٹوپس اور ہاتھوں سے چوڑیاں نکالی تھیں

کوئی سوچ سکتا تھا حازم خان جیسا ایک مغرور شخص اپنی بیوی کی جیولڑی اتارتے ہوۓ خود کو اس دنیا کا خوش نصیب شخص تصور کر رہا تھا

کچھ دیر ایسے ہی بیٹھنے کے بعد وہ اس پر کمبل ڈالے اپنے روم کی طرف بڑھ گیا

روم میں آتے ہی اسنے حمزہ کو کال ملا کر اس سارے واقعے کی خبر دی تھی

مجھے کل ہی ان لوگوں کا پتا چاہیے یہ سب کون کروا سکتا ہے! اس سے کہ کر وہ کال کٹ کر گیا جب اچانک اسے صبح کا منظر یاد آیا جب اس کی دلہن نے اسے آدھے گھنٹے کے اندر اندر اسے پیپرز لانے کو کہا تھا اور اس کی شرط کے مطابق وہ جس طرح وہ پیپرز آدھے گھنٹے میں بنوا کر لایا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا

*******************

رات کا اختتام ہوا اور نئی صبح سبز حویلی پر اتری آج بھی کل کی طرح یہاں کا منظر کافی دلکش اور خوبصورت مناظر پیش کر رہا تھا لان میں ہر طرف لائٹنگ اور پھولوں کا سٹ اپ کیا گیا تھا جب کے یہاں سے ہال روم میں طرف آؤ تو الیانہ کے چند رشتےدار اور ایرج کے رشتےدار بیٹھ کر دھولک لگاۓ ہوۓ تھے

رعنین پتھر جاکر حازم کی بیوی کو اٹھا دے اب اٹھے گی تو پالر جاۓ گی!یہ الیانہ اور شمیم کی اکلوتی پھوپھو تھیں جو فیصل آباد سے صرف حازم کی شادی کے لیے آئی تھیں

جی نانو جا رہی ہوں!

لے اسنے تو مینو نانی ہی بنا دیا ابھی تو میں صرف پچسس کی ہوئی ہوں! پروین بیگم کے کہنے پر وہاں موجود سب لوگوں نے قہقہ لگایا

جی جی پروین باجی آپ مجھ سے مشکل سے ایک سال ہی تو بڑی ہیں…ان کے کہنے پر رعنین بھی شریر لہجے میں بولی جس پر ایک بار پھر سب کے قہقے بلند ہوۓ تھے

چلو رعنین اب جاکر عرین کو اٹھا دو! ایرج مسکرا کر بولی

جی خالہ…! رعنین اب انہیں زیادہ تر خالہ ہی بلایا کرتی تھی

کسی کے مسلسل جگانے پر وہ بامشکل آنکھیں کھول پائی تھی

اٹھ رہی ہو عرین یا یہ پانی ڈالوں؟

اٹھ گئی! وہ اٹھ کر بیٹھتی جماۓ روکتے ہوۓ بولی

کتنا سوتی ہو تم؟ کم از کم کپڑے چینج کر لیتی اتنے ہیوی ڈریس میں سو گئی؟ اس کے کہنے پر وہ پوری طرح بیدار ہوکر رات کا منظر یاد کرنے لگی

میں تو نیچھے تھی…وہ ذہن پر زور ڈالنے لگی

اور یہ جیولڑی کوئی ایسے اتارتا ہے؟

جیولڑی؟ میری جیولڑی کس نے اتاری؟ وہ سائد ٹیبل پر جیولڑی دیکھ کر ہم کلام ہوئی جب اس کے سامنے یکدم حازم کا چہرہ لہرایا اور ایک سیکنڈ لگا تھا اسے سارہ معاملہ سمجھنے میں

کیا ہوا یہ غصہ کیوں آرہا ہے اب؟ رعنین اس کے تاثرات دیکھتے ہوۓ بولا

کچھ نہیں تم یہاں بیٹھو میں فریش ہوکر آئی…

ہاں جلدی آجاؤ پھر پالڑ بھی جانا ہے! رعنین اس سے کہ کر اس کی جیولڑی سمیٹنے لگی

*******************

ویسے ایرج میں تم سے ایک بات کرنا چاہتی ہوں برا نا ماننا! یہ الیانہ اور شمیم کی ایک کلاس فیلو تھی جو الیانہ سے کافی کلوز تھی

ہاں بولو…

یہ تم نے اپنی عرین کا حق مہر اس زمانے کے لحاظ سے ایک ہزار کیوں رکھا؟ مطلب کے یہ کچھ کم نہیں ہیں؟

بلکل آمنہ شاید یہ تم لوگوں کو کم لگے لیکن یہ میری عرین کا فیصلہ تھا…جب بھائی صاحب نے ہم سے جہیز کے نام پر ایک سوئی بھی نہیں لی تو ہمارا بھی کچھ فرض تھا میں مانتی ہوں حق مہر بیوی کا حق ہے لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو نکاح کے وقت پچاس پچاس ہزار ایک ایک ہزار بھی رکھواتے ہیں مگر پھر پوری زندگی اتار نہیں پاتے ہم نے یہ حق مہر اس بات کو ثابت کرنے کے لیے رکھوایا ہے کہ نکاح اتنی مشکل چیز نہیں ہے جتنا لوگوں نے اسے بنا لیا ہے ایک غریب آدمی اپنے بچوں کی شادی سے پہلے جہیز اور حق مہر کا سوچنے لگتا ہے…

ایرج تحمل سے بولیں

ہاں مگر….

اور ویسے بھی آمنہ آنٹی اس دنیا میں سب سے پہلا جوڑا بابا آدم اور اماں حوا تھیں اور جانتی ہیں بابا آدم نے اماں حوا کو کیا حق مہر دیا تھا؟ درود پاک! اس کے بعد تو کوئی چیز رہتی ہی نہیں ہے! اب کی بار عرین نیچھے آتے ہوۓ ان کہ بات سنتے ہوۓ بولی جس پر سب کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی

بہت اچھی بات ہے! شمیم اس کی پیشانی چومتے ہوۓ بولیں

اچھا میرا بچہ آجاؤ ناشتہ کر لو…ایرج کے کہنے پر وہ سر کو خم دے کر ڈائنگ کی طرف بڑھ گئی

لو حازم بھی آگیا! اپنے اس نے پہلا نوالہ لیا ہی تھا جب ایرج کے کہنے پر اسے پھنڈا لگا

کیا ہوا میری جان ٹھیک ہو؟ ایرج اس کی کمر مسلتے ہوۓ بولیں

بس موم اب بھوک نہیں ہے! ان سے کہ کر وہ اٹھنے لگی جب حائنہ نے اسے روکا

رکو سامنے بھائی کھڑے ہیں وہ تمہیں دیکھ لیں گے! وہ آگے بڑھ کر اس پر بڑی سی چادر ڈالے ہوۓ بولی

یہ کیا ہے؟

”اس سے اپنا چہرہ چھپاؤ پھر چلتے ہیں پالڑ…“ حائنہ شریر لہجے میں کہتی اسے اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھ گئی

میں تم لوگوں کا لنچ ڈرائیور کے ساتھ بھیج دوں گی!

اوکے موم! ان کے جانے کے بعد ایرج نے آیتیں پھونک کر ان پر دم کیا تھا

********************

رعنین تیار سی بیٹھی نجانے کب سے حائنہ کو کالز ملا رہی تھی جو ان سے کچھ ہی فاصلے پر موجود دوسرے سلون پر ریڈی ہونے گئی تھی مگر اب تک واپس نہیں آئی تھی وہ خود اس وقت پنک کامدار میکسی پر ڈوپٹا بازو پر ڈالے لائٹ سے میک اپ اور ڈارک لپ اسٹک لگاۓ بالوں کو چٹیٹاں میں قید کرکے ان پر پھولوں کی لڑیاں سجاۓ پوۓ بے حد پیاری لگ رہی تھی

آج یہ حائنہ کہ بچی بچے مجھ سے….! وہ آنکھیں سیکڑ کر کہتی پھر سے کال ملانے لگی

سی میم! بیوٹیشن اسے آخری ٹچ دے کر اس سے مخاطب کیا جس پر اس نے شیشے میں دیکھا وہ سرخ لہنگا جس پر گولڈن نفیس سا کام تھا برائیڈل میک اپ پر مہرون لپ اسٹک لگاۓ بالوں میں جھومر اور ٹیکا لگاۓ کانوں اور گردن میں ہیوی جیولڑی اور مہندی سے رنگے ہاتھوں میں چوڑیاں پہنے وہ اس لمحے کسی پری کی مانند لگی تھی اس کے سفید و ملائم رنگت پر سرخ رنگ مزید جچ رہا تھا

میم یہ گھونٹ ڈالنا ہے یہ یا ڈوپٹا سر پر سیٹ کرنا ہے؟

اسے جسٹ پن اپ کر دیں! وہ خود پر سے نظر ہٹا کر اردگرد دیکھتے ہوۓ بولی جبھی رعنین یہاں داخل ہوئی

ماشاءاللہ…اسے دیکھتے ہی رعنین نے بے ساختہ کہا جس پر وہ ہلکا سا مسکرا دی

بہت پیاری لگ رہی ہے میری دوست!

تم بھی! عرین نے محبت پاش انداز میں کہا تبھی رعنین کٹ فون رنگ ہوا

ہیلو؟ اوکے ہم آۓ…آجاؤ عرین حنان باہر آگیا ہے!

اسلام و علیکم! میرے خفا خفا سے ریڈرز مجھے پتا اپ لوگ ناراض ہیں لیکن یقین کریں میری شادی بلکل اچانک آئی ہے جس کی وجہ سے میرا ایک پاؤں کہیں اور ایک کہیں ہے گھر میں مہمان رای بھی ہے بہت مشکل سے قسط لکھ پا رہی ہوں اگلی آپیسوڈ بھی ابھی پوسٹ کر رہی ہوں امید کرتی ہوں آپ لوگوں کو اچھی لگے گی!