Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389 Mehram-e-Raaz Episode 27
Rate this Novel
Mehram-e-Raaz Episode 27
Mehram-e-Raaz by Syeda Shah
میں کوئی بھیڑ بکری نہیں ہوں جسے آپ جیسا چاہیے گے چلائیں گے پہلے والی عرین مر چکی ہے اب والی عرین کے سامنے اس طرح کی باتیں کرنے سے پہلے دس بار سوچیے گا میرے لیے آپ کی باتوں اور آپ کی حیثیت اب میری نظر میں اس کونے میں پڑے واز جیسی ہے جو ٹوٹ بھی جاۓ تو اس سے کمرے کی خوبصورتی میں کوئی فرق نہیں آتا….وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتی اپنے ہی کمرے سے نکل گئی تھی
تقریبا دس منٹ کے بعد وہ واپس کمرے میں آئی تھی مگر اب وہ یہاں موجود نہیں تھا ایک گہرا سانس بھر وہ اپنے بیڈ کی طرف بڑھنے لگی جب اس کی نظر سامنے ڈریسنگ کے ساتھ گرے واز پر پڑی وہ تیزی سے لائٹ اون کرکے اس کی طرف بڑھی تھی جہاں واز کے ٹکروں کے ساتھ ساتھ چند خون کے قطرے بھی پڑے تھے اسنے نظر ڈرائی تو اس کے ساتھ ہی ایک کاغز فلوڈ ہوۓ رکھا تھا
وہ بے اختیار اسے کھول کر پڑھنے لگی
اس واز سے بےشک کمرے کی خوبصورتی کو فرق نا پڑے لیکن ایک بات یاد رکھنا واز کے ٹوٹ جانے سے پھول بھی محفوظ نہیں رہتے…! ایک مختصر سی تحریر نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا
آئی ہیٹ یو حازم خان آئی ہیٹ یو! وہ اس کاغز پر بھی اسکے خون کو دیکھ کر بلکتے ہوۓ بولی تھی
نفرت چاہے جتنی بھی طاقت رکھتی ہو
بازی پھر بھی محبت لے جاتی ہے……!
ایسا ہی کچھ اس کے ساتھ ہو رہا تھا وہ اس سے بے انتہاہ نفرت کے باوجود اس کے خون کے چند قطروں پر بلک اٹھی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اب اس سے چاہتا کیا ہے ایک طرف الیانہ کی باتیں تھیں تو دوسری طرف اس شخص کی آنکھیں جو اپنی سحر انگیز اور بارعب شخصیت کے باوجود اس کے آگے آج ٹوٹا ہوا کھڑا تھا
کیا پتا الیانہ جھوٹ بول رہی ہوں؟ وہ محض سوچ سکی
ابھی وہ انہی سوچوں میں تھی جب اس کا فون رنگ ہوا سکرین پر الیانہ کا نام دیکھ کر وہ آنسو صاف کرکے کال آٹینڈ کر گئی
آئی ہوپ میں نے تمہیں ڈسٹرب نہیں کیا ہوگا! فون پر الیانہ کی شہد میں ڈوبی آواز گونجی
آپ نے جتنا ڈسٹرب کرنا تھا آپ کر چکی ہیں اب ڈسٹرب کرنے کی باری میری ہے! اس کا لہجہ سپاٹ تھا جس سے الیانہ نے جھرجھرلی لی تھی
دیکھو لڑکی جو کچھ ہوا اسے بھول جاؤ میں نے تمہیں ایک ویڈیو میسج بھیجا ہے وہ دیکھ لو تمہارا ہی فائدہ ہے! الیانہ رازدانہ انداز میں کہتی کال کٹ کر گئی کے اس کے فون کٹ کرنے پر عرین نے سکرین کو ایک نظر دیکھ کر آیا ہوا نوٹیفکیشن اوپن کیا جسے دیکھ کر اس کی آنکھیں کھولی کی کھولی رہے گئی تھیں
ویڈیو میں حازم کا کمرہ اس کے سامنے تھا کمیرہ کچھ زوم ہوا اور اسے اس کی ڈریسنگ پر رکھی ریڈ فائل نظر آئی ویڈیو اب بھی نہیں رکی تھی الیانہ نے اب اس فائل کے قریب جاکر اسے کھول کر اس کا ایک ایک صفحہ اس کے سامنے کیا جس سے اسے یقین ہو گیا تھا یہ وہی فائل تھی جس پر حازم نے اس سے سائن کرواۓ تھے
ویڈیو ختم ہوتے ہی اسنے الیانہ کو کال ملائی تھی
یہ سب دیکھانے کے پیچھے مقصد کیا ہے آپ کا؟ اس نے بامشکل اپنے آنسو ضبط کیے تھے
میں نے تمہیں صرف اپنی سچائی کا ثبوت دیا ہے اگر تمہارے ذہن میں یہ سوال آۓ کہ میں نے وہ سب جھوٹ کہا تھا تو خود دیکھ لو اگر میں جھوٹ کہتی تو حازم آتے ہی مجھ سے اپنی امانت واپس نا مانگتا اسنے یہ سب صرف میرے کہنے پر کیا اور اب بھی وہ جو وہ کرے گا میرے کہنے پر اسئلے اپنے ذہن میں اگر کہیں کوئی خوش فہمی ہے بھی تو اسے نکال دو! الیانہ طنزیا انداز میں کہتی اس کی طرف کی بات سننے سے پہلے ہی کال کٹ کر گئی
اس کے کال کٹ کرنے پر عرین نے طیش سے سکرین کو دیکھا اور پھر اس کاغز کو جو ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا
”اسنے یہ سب صرف میرے کہنے پر کیا اور اب بھی وہ جو وہ کرے گا میرے کہنے پر اسئلے اپنے ذہن میں اگر کہیں کوئی خوش فہمی ہے بھی تو اسے نکال دو“ الیانہ کی بات ذہن میں گونجتے ہی اسنے طیش سے اس کاغز کو کئی ٹکروں میں تقسیم کر دیا تھا
اسے رہے رہے کر خود پر غصہ آرہا تھا وہ کیسے چند لمحوں کے لیے ہی سہی اس کے لیے نرم کیسے پڑ سکتی تھی؟
اس کا دل چاہ تھا سب کچھ تہس نہس کر دے!
دوسری طرف الیانہ نے اس کا فون ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ بند کیا تھا
“آج پہلی بار میرے بیٹے نے مجھ سے یوں بات کی ہے جو جزبہ آج میں نے اپنے بیٹے کی آنکھوں میں تمہارے لیے دیکھا ہے وہ میں آگے بڑھنے نہیں دوں گی” وہ کسی غیر مری نقتے کو سوچتے ہوۓ خود سے بولی
*********************
وہ رش ڈرائیو کرتے ہوۓ رات کے دو بجے کے قریب گھر میں داخل ہوا تھا
حازم؟ وہ جو سرھیاں چڑھ رہا تھا الیانہ کی آواز پر رکا
ہمم!
کہاں تھے زیادہ لیٹ نہیں ہو گئے؟
آپ کو کوئی کام ہے مجھ سے؟ وہ سرد لہجے میں بولا
ہاں میں نے تم سے کچھ بات کرنی تھی!
جی؟
تم نے دوپہر میں مجھ سے وہ فائل واپس لی ہے اس کی وجہ جان سکتی ہوں اس وقت تمہارے روائیے کی وجہ سے میں کچھ نہیں بولی مگر…
جو روائیہ میرا اس وقت تھا وہی اب بھی ہوگا…! الیانہ کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کی سرد آواز گونجی تھی
اس کا مطلب تم وعدہ خلافی کرو گے؟ الیانہ سیخ پاؤ ہوئی
میں آپ کی وعدہ خلافی نہیں کر رہا موم… لیکن میں کسی حقدار کا حق نہیں کھا سکتا آپ نے مجھ سے ایک سال پہلے یہ مطالبہ کیا تھا یا تو میں آپ کی بات مان لوں یا اگر نہیں تو یہ کام آپ حنان سے کروا لیں گی میں حنان کی مصومیت کو ان سب میں رگرنا نہیں چاہتا تھا جس کی وجہ سے میں نے ہامی بھری اور شاید میں آپ کی بات مان بھی لیتا….وہ کچھ رکا
لیکن آپ نے میری ڈرنک میں ڈرگ ملا کر مجھے خود سے ہمیشہ کے لیے دور کر لیا ہے! اس کی بات پر الیانہ کو لگا وہ اگلی سانس نہیں لے پاۓ گی اس کا چہرہ سفید ہو چکا تھا
اور اس سب کے بعد میں اب آپ کو عرین کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کرنے دوں گا میں اس کی محبت پھر سے جیتوں گا لیکن اس بار آپ کے لیے نہیں…اپنے لیے! حازم اس پر ایک نظر ڈال کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا
جب کہ الیانہ سفید پڑتے چہرے سے اسے جاتا دیکھ رہی تھی حازم خان تو اس کا مان تھا اس کی پہلی اور سب سے عزیز تر اولاد…وہ کیسے اس سے دور ہو سکتا تھا؟ اس کے دل میں عرین کے لیے نفرت نے اب شدت پکڑ لی تھی اس کے متعلق اس سب کی وجہ عرین تھی
تمہیں یہ بہت مہنگا پڑے گا لڑکی! وہ زہر خندق ہوتی پیر پٹک کر اپنے کمرے میں چلی گئی
اب ہال میں گہری خاموشی چھا گئی تھی مگر ان دونوں کہ گفتگو نے ہال روم اور چکن کے بیچ میں کھڑے حنان کو حیرت کا زوردار جھٹکا دے دیا تھا وہ خالی خالی نظروں سے سیڑھیوں کو دیکھ رہا تھا
جہاں سے اس کا آئیڈیل بھائی ٹوٹی ہوئی حالت میں یہاں سے گیا تھا اور دوسری طرف اس نے اپنے ماں کے کمرے کا بند دروازہ دیکھا
موم اتنا کیسے گر سکتی ہیں؟ اس کے ذہن میں ایک سوچ آرہی تھی اور ایک جا رہی تھی وقت جیسے تھم گیا تھا
لوگوں کے بدلتے چہرے تکلیف دیتے ہیں
مگر اپنوں کے بدلنے سے انسان کی ذات سوالیہ نشان بن جاتی ہے!
کیا واقعی میں ایک گھر میں رہتے ہوۓ اتنا لا علم تھا…اسنے ہاتھ میں پکڑے پانی کے جگ جو دیکھتے ہوۓ سوچا اگر آج بھی وہ پانی کے لیے یہاں نا آتا تو شاید ہمیشہ ایسے ہی بے خبر رہتا….
بھاری دل کے ساتھ وہ واپس اپنے کمرے میں چلا گیا آج کی رات شاید انہی سوچوں میں گزرنی تھی
دوسری طرف سبز حویلی سے چند میٹرز کے فاصلے پر ایک محلے میں موجود چھوٹے سے مکان میں صرف ایک لائٹ تھی جس نے اس کمرے میں صرف اتنی روشنی کی ہوئی تھی جس سے اس کمرے کی چیزوں کا اندازہ لگایا جا سکے
رات کے تین بجنے کے قریب تھے اور وہ پرسوچ سی چھت کو گھور رہی تھی
”پہلے بھی عرض کر چکا ہوں تم سے محبت کرتا ہوں“
”تم سے محبت میں نے تمہارا ماضی دیکھ کر نہیں کی تھی وہ تو بس ہو گئی میں نہیں جانتا مجھ میں کتنا ظرف ہے لیکن اتنا ضرور کہوں گا مجھے اپنے ماضی کے ڈر سے انکار مت کرو تم چاہو تو ہم دنیا کے لیے ایک نئی مثال بن سکتے ہیں….“
حنان کے الفاظ اسکے ذہن میں گونجے تھے
یا اللہ یہ کس مشکل میں الجھ گئی ہوں میں؟ حنان بھی اگر المان کی طرح نکلا تو….؟ اس سے آگے وہ سوچ نہین سکی
سو جاؤ رعنین…شمیم نے اسکا سر تھپتھپایا تھا انہیں کچھ کچھ اندازہ تھا کچھ تو جنگ چل رہی تھی ان کی بیٹی میں…لیکن کیا؟ یہ وہ نہیں جان سکی تھیں شاید یہی ہمارے معاشرے کا اصول ہے اپنے بچوں سے اتنی بونڈنگ رکھی ہی نہیں جاتی یا شاید کوئی ڈر ہوتا ہے جس کی وجہ سے ماں باپ اپنی اولاد سے ان کے غم دریافت نہیں کر پاتے
جی اماں! ان سے کہ کر وہ کمبل منہ تک اوڑھ کر لیٹ گئی
*******************
صبح ایرج کے دروازہ بجانے پر اس کی آنکھ کھولی تھی کچھ دیر بعد وہ فریش سی لیمن ٹوپ اور ٹراؤزر میں باہر آئی
اسلام و علیکم! وہ ڈائننگ پر آکر سلام کرکے بیٹھ گئی
وعلیکم السلام! عرین مجھے اور اماں کو آج ناشتے کے بعد سبز حویلی چھوڑ دینا…
جی ٹھیک ہے!
موم مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے! ایرج جو اسے ناشتہ سروو کر رہی تھیں اس کی بات پر ٹھنکی
ہاں بولو؟
بڑی مما نے جس رشتے کی بات کی تھی آپ سے آپ انہیں گھر بلا لیں! اس کے کہنے پر ایرج نے خوشگوار حیرت سے اسے دیکھا
واقعی؟
جی! وہ سپاٹ انداز میں بولی
ٹھیک ہے میں آج ہی جاکر بات کروں گی تھینک یو سو مچ میری جان!
“خبردار جو تم نے یہ لفظ پھر منہ سے نکالا چیر کر رکھ دوں گا اگر کسی نے تمہیں مجھ سے چھینے کی کوشش بھی کی تو… سب کچھ تہس نہس کردوں گا سب کچھ یعنی سب کچھ سمجھی تم؟ دیکھتا ہوں کون تمہیں مجھ سے چھینتا ہے“
تم سے تو بدلہ اب میں لے کر رہوں گی حازم خان چاہے اس سے میں خود کو برباد ہی کیوں نا کر لوں! وہ کل رات کا منظر سوچتے ہوۓ خود سے بولی تھی
****************
آج اسنے یونیورسٹی سے اوف لیا تھا وہ حنان کا سامنا نہیں کر سکتی تھی
اس وقت بھی وہ شمیم کے ساتھ مل کر مشین لگا رہی تھی جب انکا دروازہ نوک ہوا
دیکھو رعنین کون ہے! شمیم کپڑے مشین سے نکالتے ہوۓ بولیں
جی…اماں! وہ اپنے بالوں کا رف سے جوڑا بنا کر دروازہ کھول گئی جہاں سامنے وہ تیار شیار سا پھولوں کا بوکے لیے کھڑا تھا
گڈ مورننگ مسز موٹو! حنان شریر لہجے میں کہتا اسے ایسے ہی حیرتذدہ چھوڑ کر اندر داخل ہو گیا
اسلام و علیکم خالہ!
ارے میرا بچہ آج کیسے رخ کر لیا یہاں کا؟ شمیم اسے دیکھ کر خوشی سے بولیں
”بس میں نے سوچا آج اپنی خالہ کے گھر کی چاۓ پی لوں.“
ہاں ہاں ضرور کیوں نہیں آجاؤ اندر بیٹھو….رعنین جاکر چاۓ بناؤ! وہ جو حیرتذدہ سی کھڑی تھی ان کی بات پر ہوش میں آئی
یہ یہاں کیوں آیا ہے؟ وہ خود سے کہتی چاۓ چولہے پر رکھ کر ڈرائنگ روم کے دروازے پر آکر کھڑی ہو گئی
ایکچلی خالہ مجھے آپ سے ایک بات کرنی تھی!
”ہاں بولو بیٹا“
آئی نو آپ کو یہ بات ناگوار گزرے گی لیکن میں پھر بھی آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ….
میں رعنین سے شادی کرنا چاہتا ہوں! اور رعنین کو لگا وہ یہی گر جاۓ گی
کیا؟ شمیم حیرت سے بولیں
جی خالہ مجھے رعنین بہت اچھی لگتی ہے لیکن میرا یقین کریں آپ کی بیٹی بہت انمول ہے اس نے مجھ سے آج تک کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی…اسئلے میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ اس کے رشتے دھونڈنے سے پہلے ایک بار میرے لیے بھی سوچ لیں اپ سوچ رہی ہونگی میں یہ بات خود کیوں کر رہا ہوں تو…آپ جانتی ہیں میری موم کی نیچر کیسی ہے ….میں اپنی پوری کوشش کروں گا انہیں منا لوں اور میں منا بھی لوں گا آپ بس مجھے کچھ دن دے دیں! وہ اس وقت سنجیدگی سے بات کرتے ہوۓ کہیں سے کم عقل حنان نہیں لگ رہا تھا
دیکھو بیٹا یہ بات بڑوں کی کرنے کی ہوتی ہیں! شمیم اسے سمجھاتے ہوۓ بولیں
جی لیکن آپ بھی تو میری بڑی ہی ہیں خالہ تو دوسری ماں ہوتی ہے آپ سمجھیں آپ کے بیٹے نے آپ سے اپنی خواہش ظاہر کی ہے! اس کے انداز پر شمیم نا چاہتے ہوۓ بھی مسکرائی تھیں جس سے رعنین نے بے ساختہ اپنے چٹکی کاٹی اور پھر کچن کی طرف بھاگ گئی
یہ سب بلکل اچانک تھا مگر جانے کیوں اسے اچھا لگ رہا تھا وہ المان جیسا نہیں تھا یہ بات اسنے آج ثابت کر دی تھی
مگر میں المان سے ڈائیورس کیسے لوں گی؟ اس سوچ پر آکر اسکا ذہن اٹک گیا تھا
********************
کچھ دیر میں عرین انہیں سبز حویلی چھوڑ کر یونیورسٹی کے لیے نکل گئی تھی
کیسے ہیں آپ بھائی صاحب؟ ایرج اس وقت ہال کمرے میں عالم خان اور حائنہ کے ساتھ بیٹھی تھیں
اللہ کا شکر ہے!
“اچھا بھائی صاحب مجھے آپ سے ایک بات کہنی تھی…”
ہاں کہو! عالم خان سہولت سے بولے
مجھے الیانہ بھابھی نے عرین کے لیے ایک رشتہ بتایا تھا میں چاہ رہی تھی ایک بار آپ بھی ان لوگوں سے مل لیں! ایرج کے الفاظوں پر حازم کے سیڑھیاں اترتے قدم رکے
لیکن چچی اتنی جلدی کیا ہے ابھی تو وہ پڑھ رہے نا! عالم خان سے پہلے ہی حائنہ بولی تھی
حائنہ درست کہ رہی ہے!عالم خان اس کی تائید کرتے ہوۓ بولے
جی مگر اقبال کے بعد میں بہت خوفذدہ رہتی ہوں مین چاہتی ہوں میری موجودگی میں ہی میری بچی اپنے گھر کی ہو جاۓ اور اب تو عرین خود راضی ہے! ان کی اس بات پر حازم نے اپنی مٹھی سختی بھینجی
اس سے پہلے ایرج مزید کچھ کہتیں حازم تیزی سے باہر کی طرف قدم بڑھا گیا
حائنہ بیٹا آپ اپنے روم میں چلی جائیں مجھے آپ کی چچی سے کچھ بات کرنی ہے! ایرج کی بات پر عالم خان سنجیدہ ہوتے ہوۓ بولے جس پر حائنہ مسکرا کر سر ہلاتی اپنے کمرے کی جانب چلی گئی
دراصل ایرج مجھے بھی تم سے ایک بات کرنی ہے! اس کے جانے کے بعد عالم خان سنجیدگی سے بولے
جی بھائی صاحب؟
اقبال کے انتقال سے پہلے اقبال نے مجھ سے حازم اور عرین کی شادی کے متعلق بات کی تھی مگر اس وقت میں نے حازم کی ماں کے روائیے اور عرین کی چھوٹی عمر کی وجہ سے ان سے کچھ وقت مانگا تھا لیکن…وہ کچھ دیر کو رکے ایرج ان کی بات دم سادھے سن رہی تھیں
لیکن اس کے بعد اقبال کی واپسی نہیں ہوئی…میرے دل میں ایک بہت بڑا بوجھ تھا میں اپنے بھائی کی آخری خواہش پوری نہیں کر سکا….اتنے عرصے میں صرف عرین کی عمر کی وجہ سے خاموش رہا لیکن اب جب تم خود اس چیز کے لیے تیار ہوں تو میری عرض ہے تم میرے حازم کے بارے میں بھی سوچنا میں چاہتا ہوں میں اپنے بھائی کی خواہش کا مان رکھوں اور عرین مجھے خود بھی اپنی حائنہ جتنی عزیز ہے! عالم خان سنجیدگی سے بولے
ان کے خاموش ہونے کے بعد ایرج نے ایک گہرا سانس لیا
آپ کی بات درست ہے بھائی صاحب اقبال نے مجھ سے بھی اس بارے میں سرسری سا زکر کیا تھا لیکن جب میں نے آپ کی طرف سے کوئی اشارہ نہیں پایا اور پھر بھابھی بھی مجھے عرین کے لیے رشتے دیکھانے لگیں تو میں نے یہ خیال اپنے دل سے نکال دیا….!
الیانہ کی عادت ہے وہ ایسی ہی ہے لیکن مجھے اس سے زیادہ اپنے بھائی کی آخری خواہش عزیز ہے عرین کو یہاں کوئی پریشانی نہیں ہوگی یہ میرا وعدہ ہے! عالم خان نے محبت سے کہا جس پر ایرج مسکرا دی
ٹھیک ہے بھائی صاحب میں اس بارے میں ایک بار عرین اور اماں جی سے بات کروں گی آپ بھی بھابھی اور بچوں سے بات کر لیں…اگر سب کی راضا مندی اسی میں ہوئی تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے حازم گھر کا بچہ ہے اس سے بہتر کیا ہوگا..! ایرج کے کہنے پر عالم خان سر ہلاتے ہوۓ مسکرا دئیے
مجھے امید ہے حازم انکار نہیں کرے گا! عالم خان پرسوچ سے بولے
