Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389 Mehram-e-Raaz Episode 1
Rate this Novel
Mehram-e-Raaz Episode 1
Mehram-e-Raaz by Syeda Shah
پیدا کی اس نے روحیں سب کی
اور پھر اسنے خلق کیا آدم کو
پھر عطا کی اسے اسی کی پسلی سے بنائی ہوئی حوا
پھر انہیں اولاد عطا کی تاکہ چلیں اس سے نسلیں
بنایا انسانوں کو اپنی عبادت کے واسطے
دی اسے ہر آسائش تاکہ اعتراف کرے رب کی قدرت کا
حتیٰ کے اس کی نشانیوں میں سے ایک تمہیں تم سے ہی
بیوی دیں تاکہ تم سکون حاصل کر سکو
پھر اے انسان تو کہاں بھٹک گیا
کیوں دنیا کی فکر میں ہے اتنا کھو گیا کہ اپنے خالق کو ہی بھول گیا؟
وہ پکارتا ہے وہ کہتا ہے کوئی ہے جو مجھ سے مانگے؟
وہ پوچھتا ہے آۓ میرے بندے تیرا رب کون ہے جواب آتا ہے آپ ہیں اور پھر فرماتا ہے تو پھر کیوں مجھے چھوڑ کر جاتے ہو؟
ہاں وہی رب جو رات میں تمہارے گناہوں سے واقف ہونے کے باواجود تمہارے لیے صبح رزق بھیجتا ہے
وہی رب جو تمہاری لاکھ نافرمانیوں کے باواجود تمہارے ایک بات پکارنے پر کہتا ہے
لبیک یا عبدی(اے میرے بندے میں حاضر ہوں)
پھر آۓ گا ایک دن جب وہ لے گا تم سے سب حساب….پوچھےگا ہر عمل کا…ہر بات کا…ہر مال کا
پھر تو سوچے گا آس پاس دیکھے گا کہاں گئی وہ دنیا
.
کہاں گئی وہ آشائشیں جو تونے خود کے لیے تیار کی تھیں
کہاں گیا وہ نامحرم کے ساتھ گزارا وقت جس کے لیے تو نے اپنے رب سے منہ پھیرا تھا
تو پکارے گا لیکن کچھ نا تیرے پاس آۓ گا راج صرف خدا کا ہوگا پھر اعمال نامہ کھولا جاۓ گا
سب سے پہلے ایک ہی عمل تولہ جاۓ تیرا تیری بیوی سے اخلاق پوچھا جاۓ گا….
وہی جو تجھے عطا کی تھی آدھے دین کی طرح
محرم راز کی طرح……!
از: سیدہ شاہ
*******************
گھڑی اس صبح کے چار بجا رہی تھی فضا میں ابھی ہلکی ہلکی سی خنکی سی تھی سردیوں کی آمد آمد تھی اسٹریلا میں جہاں اس وقت سب عموما سونے کی تیاری میں ہوتے ہوں وہی اقبال ہاوس میں کھٹ پھٹ شروع تھی
چلو بیٹا جلدی کرو ہم لیٹ ہیں فلائٹ نکل جاۓ گی! ایرج جلدی جلدی بیگ سمیٹتی بولیں
بس آئی موم!
ہیری اپ داڑلنگ…وہ خود بھی جلدی جلدی کام کرتی اسے بھی پھرتی سے تیار ہوتے دیکھ رہی تھیں جو ان کے لگاتار دو گھٹنے کی محنت کے بعد اب اٹھی تھی جبھی دروازے پر دستک ہوئی
میم سر جلدی کرنے کو کہ رہے ہیں! ملازمہ نے آکر بیغام دیا تھا
افف ہو ایک تو ڈیڈ بھی نا ہر بار ایمرجنسی شروع کر دیتے ہیں! وہ منہ بناۓ بولی
بری بات عرین ڈیڈ کو ایسے نہیں کہتے! ایرج نے خفگی سے اس کے پھولے ہوۓ چہرے کو دیکھا
کندھے سے توڑا نیچھے تک آتے براؤن بال بڑی بڑی بادامی ہیزل آنکھیں ستواں ناک گلابی لب بھرے بھرے گال جو کہ وہ ابھی مزید پھلاۓ بیٹھی تھی سفید و ملائم چہرہ درمیانہ قد اور مناسب جسم کی وہ مصوم سی لڑکی اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی جس کی وجہ سے خاصی لاڈلی بھی تھی
آپ ایسے جائیں گی؟ اقبال صاحب شریر لہجے میں بولے وہ فارمل ٹریک سوٹ پر بالوں کو پونی میں قید کیے گلے میں ہلکا سا اسٹولر ڈالے کھڑی تھی
کیوں ڈیڈ اس میں کوئی پروبلم ہے کیا؟ میں اچھی نہیں لگ رہی؟ ان کے کہنے پر وہ روہانسی ہوکر پوچھنے لگی
نہیں چلو کوئی بات نہیں اب کیا کر سکتے ہیں….
بس کریں اقبال میر بیٹی کو ہر وقت ہی تنگ کرتے رہتے ہیں…ایرج نے ان کے بازو پر بازو پر ہاتھ مارتیں خفگی سے بولیں جس پر اقبال صاحب کا جاندار قہقہ بلند ہوا
ارے یہ تو میری جان ہے! محبت سے کہتے وہ اسے اپنے گلے سے لگا گئے
چلیں پھر دیر نہیں ہو رہی اب؟ ایرج کے کہنے پر وہ سر ہلا کر باہر کی طرف نکل گئے ابھی انہیں کمبا سفر تہ کرنا تھا.
**************
ایک نئی صبح ہلکی ہکلی سی خنکی کے ساتھ سبز حویلی پر اتری تھی یہاں صرف یہی ایک محل نما گھر تھا جو اپنے سبزے اور علیشان ہونے کے باعث سبز حویلی کے نام سے پہچان جاتا تھا حویلی ہے مین گیٹ سے داخل ہو تو سامنے ایک بڑا باغ نما لان تھا جہاں دو مالی ایک سفید سوٹ پہنی عورت کی نگرانی میں پھولوں کو پانی دے رہے تھے
جلدی جلدی یہ پانی دو اگر میم نے دیکھ لیا کہ تمہاری لاپراوئی سے سارے پھول مرجھا گئے ہیں تو وہ تمہارے ساتھ ساتھ میری بھی چھٹی کر دیں گی!
سوری میم! مالی شرمندہ سا بولا
بس اب آئندہ دھیان کرنا لاپراوئی نا ہو اب…میں ناشتے کا انتظام دیکھتی ہوں! ان سے کہتی وہ آگے بڑھ گئی وہ یقینا یہاں کے اسٹاف کی ہیڈ تھی یہاں موجود سب ملازم ہی سفید اور کالے رنگ کے لباس پہنے ہوۓ تھے
گھر کے اندر داخل ہو تو وسیع ہال روم تھا جس کے عین بیچ میں ایک بڑی سی ڈائنگ ٹیبل رکھی تھی جو اس وقت بھرپور لوازمات سے سجی ہوئی تھی اس گھر میں تقریبا دس سے بیس ملازمہ تھے جو کہ کام کم شاید دیکھاوے کے لیے زیادہ رکھے گئے تھے اس وقت بھی تین سے چار ملازم ہر چکر میں کچھ نا کچھ لا کر اس ٹیبل کو مختلف چیزوں سے بھر رہے تھے
گڈ مورنگ مسز الیانہ!
باقی سب کہاں ہیں؟ وہ ہال میں طائرانہ نظر ڈالتی بولیں
میم خان صاحب کی ایک میٹنگ تھی وہ جلدی چلے گئے حازم سر ابھی ریڈی ہو رہے ہیں اور حنان صاحب ابھی سو رہے ہیں! وہ عورت جس کا نام لیلی تھا اپنے مخصوص موآدب انداز میں بولی
ہممم حنان کو اٹھاؤ….اسے پتا ہونا چاہیے ہم ناشتہ ساتھ کرتے ہیں.. الیانہ مغرور انداز میں کہتی سربراہی کرسی کے ساتھ والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئیں
سیڑھیوں سے اوپر پہلے کمرے میں آؤ تو یہ کمرا باقی گھر کی نسبت زیادہ سرد تھا وجہ سردی کے موسم کی شروعات میں بھی اندر چلتا آے سی تھا شاید اس کمرے میں رہنے والا سرد پن کا عادی تھا مردانہ پرفیوم کی مہک نے کمرے کی فیضا کو معطر کر رکھا تھا
وہ کچھ دیر پہلے ہی سیاہ رنگ کا مہنگا ترین پنٹ کورٹ پہنے واشروم سے نکل کر ڈریسنگ کے سامنے آتا اب اپنی ٹائی باندھ رہا تھا کانوں جتنے آتے سیاہ بالوں کو جیل سے سیٹ کیے, وجہیہ نقوش, سفید صاف رنگت اور گہری سیاہ آنکھیں جن میں سب کچھ حاصل کرنے کا عظم تھا سب کچھ یعنی سب کچھ….. اپنی اسی شاندار شخصیت کے باعث وہ ملک بھر میں صرف عالم خان کے بیٹے نہیں بلکہ حازم خان کے نام سے اپنی ایک الگ پہچان بنا چکا تھا خود پر ایک تنقیدی نظر ڈال کر وہ سیڑھیوں سے نیچھا آیا
جہاں الیانہ نیوز پیپیر پڑھتے ہوۓ ناشتے کی ٹیبل پر اسکا انتظار کر رہی تھیں
مورننگ موم…! وہ کورٹ کے بٹن بند کرتا ان کے ماتھے کا بوسہ لے کر سربراہی کرسی سنبھال گیا جب بھی عالم خان موجود نہیں ہوتے سربراہی کرسی اس کی ملکیت بن جاتی ہے
مورننگ میری جان!
دادی کی طبیت اسٹیبل ہوئی؟ وہ مہارت سے کانٹے سے آملیٹ کا نوالہ لیتے ہوۓ پوچھنے لگا
ہو ہی نا جاۓ جب تک اپنے اس بیٹے کو نہیں بلا لیتی جب تک یہ ڈرامے ایسے ہی جاری رہیں گے! ان کے زکر پر وہ تلخی سے بولیں
ہمم آج کی فلائٹ ہے ان کی شام تک پہنچ جائیں گے! وہ عام سے انداز میں بتانے لگا جبکہ اس کی بات پر الیانہ کا چہرہ غصے سے سرخ پڑھا
واٹ؟ اور یہ بات تم مجھے اب بتا رہے ہو حازم؟ میں کبھی اس شخص کو اس گھر میں برداشت نہیں کروں گی مجھ سے لکھوا کر لے لو وہ آۓ گا تو تمہارا باپ اسے کبھی واپس نہیں جانے دے گا…! وہ آگ بغولہ ہوئی
ڈونٹ وری موم میں دیکھ لوں گا سب…اور کوئی آپ کی جگہ نہیں لے سکتا یہ میرا وعدہ ہے آپ سے! وہ ریلیکس انداز میں ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بولا
تمہیں پتا نہیں ہے حازم….وہ شخص تمہاری دادی اور باپ کو سگو سے زیادہ عزیز ہے تمہارے باپ نے ملک میں تو سیاست کی لیکن اپنے گھر میں کبھی نا کر سکے!
میں نے کہا نا موم میں سب دیکھ لوں گا! اب کے وہ اپنے لفظوں پر زور دیے بولا جس پر الیانہ چپ لگا گئیں
تم کہاں جا رہے ہو آج تمہارے ڈیڈ کے ساتھ پریس سے میٹنگ نہیں تھی تمہاری؟ وہ اسے نیپکن سے ہاتھ صاف کرکے اٹھتا دیکھ دھمیے لہجے میں بولیں
وہیں جا رہا ہوں اس کے بعد کورٹ…. آپ حنان کو آئیر پورٹ بھیج دیجیے گا! ان کا کندھا تھپتھپا کر وہ باہر نکلنے لگا جب سامنے سے اترتے حنان کو دیکھ کر وہ رک گیا
اسلام و علیکم بھائی! وہ ٹراؤزر اور شرٹ میں جھولتے ہوۓ اس سے گلے لگتا بولا
وعلیکم السلام….اٹھ کیوں گئے سو جاتے! حازم اس کے حولیے کو دیکھ کر نرمی سے بولا
سچ میں بھائی اتنی نیند آرہی تھی لیکن یہ مسزز عالم خان جو ہیں نا سونے بھی نہیں دیتی! وہ مصومیت سے بولا کے اس کے انداز پر حازم کھل کر مسکرایا
سونے دیا کریں اسے موم….چھٹیاں انجواۓ کرنے دیا کریں! وہ اب الیانہ کی طرف متواجہ ہوا
یہ وقت سونے کا نہیں جاگنے کا ہے اگر ایسا چلتا رہا تو کسی دن کسی فٹ پاتھ پر پڑھا ہوگا یہ! ان کے کہنے پر ان دونوں نے خفگی سے ماں کی طرف دیکھا
ایسا نہیں ہوگا اسکا سب کچھ اسکا بھائی دیکھ لے گا! اس کے سر پر ہاتھ ہھیرے وہ مسلسل بجتے فون کو آئیر فون سے آٹینڈ کرتا باہر نکل گیا
خبردار جو تم بے حازم کی باتوں کو ذہن میں بیٹھایا اس ہی کے لاڈ کی وجہ سے تم اتنے لاپرؤا ہوگئے ہو….!
اچھا نا موم آپ ہر وقت آینگری برڈ کیوں بنی رہتی ہیں؟دیکھئے گا ایک دن میں بھائی کی طرح ایک کامیاب آدمی بنوں گا! وہ پر اعتماد سا بولا
.
پہلے بھائی کی طرح وقت کی پابندی کا تو خیال کر لو! الیانہ اس پر ایک غصیلی نظر ڈالے بولیں جو اب ان کی باتوں جو خاطر میں لاۓ بغیر ناشتے سے انصاف میں مصروف ہو گیا تھا
یہ گھر سبز حویلی کے نام سے مشہور تھا اس گھر میں شاہین خان اپنی بیوی کے ساتھ رہتے تھے ان کی ایک اولاد تھی عالم خان لیکن کچھ عرصے بعد شاہین خان کی ہہن اور بہنوئی کا ایک کار ایکسیڈنٹ میں انتقال ہو گیا جس کے بعد وہ اپنے بھانجے اقبال خان جو کے ابھی صرف دو سال کا تھا سبز حویلی لے آۓ شاہین خان اور ان کی بیگم آئمہ نے اقبال کو اپنے چھوٹے بیٹے کی طرح پالہ یہی وجہ تھی کے عالم خان بھی انہیں اپنا چھوٹا بھائی سمجھتے تھے وقت گزرتا گیا اور اسی طرح عالم خان کی شادی اپنی ایک یونیورسٹی فیلو الیانہ سے ہوئی جو کہ اپنی سخت مجاز طبیت کے باعث اس گھر میں اپنی جگہ نہیں بنا پائی اقبال صاحب کی شادی شاہین خان کی مرضی کے مطابق ان کے دوست کی بیٹی ایرج ملک سے ہوئی چند دن بہت سکون سے گزرے مگر کچھ ہی عرصے میں شاہین خان اس دنیا سے رخصت ہو گئے جس کے بعد الیانہ نے اپنی بد اخلاقی سے اقبال صاحب کو بھی اس گھر سے نکلنے پر مجبور کر دیا اقبال صاحب اپنی بیوی ایرج کو لے کر ہمیشہ کے لیے آسٹریلا شفٹ ہو گئے ان کے لاکھ کہنے کے باواجود عالم خان نے آئمہ بیگم کو ان کے ساتھ نہیں جانے دیا عالم خان پہلے ہی اقبال صاحب کے جانے سے ان سے خفا تھے اسئلے اقبال صاحب نے انہیں زیادہ زور نہیں دیا پھر بچوں کی مصروفیت میں یہ سب ایسے کھو گئے کے واپس پاکستان کی شکل دیکھ ہی نا پاۓ عالم خان کے تین بچے تھے جن میں سب سے بڑا حازم خان پھر حنان خان اور آخر میں سب سے چھوٹی بیٹی حائنہ خان جو کہ اپنی پڑھائی کے لیے اسلام آباد رہتی تھی
اس کے بعد اقبال صاحب کی ایک ہی بیٹی تھی عرین خان جو آج تک پاکستان نہیں آئی تھی عالم خان نے بھی سیاست جوائن کر لی تھی جس کے باعث وہ ملک سے بہت کم ہی جایا کرتے تھے
اب بھی آئمہ بیگم کی طبیت کے زیادہ خراب ہونے سے اقبال صاحب بیس سال بعد پاکستان کی سر زمین پر قدم رکھ رہے تھے جو کہ الیانہ کو قبول نہیں تھا ان کا کہنا تھا یہ سب ان کے دونوں بیٹوں کا ہے اور اس میں اقبال صاحب اور ان کی اولاد کا کوئی حصہ نہیں تھا
*********************
آہ…….میں پھر لیٹ ہو گئی! روز کی طرح وہ آج بھی اسی شور کے ساتھ اٹھی تھی جبکہ کچن میں کھڑی شمیم نے اپنا ماتھا پیٹا
اٹھ گئی ہو تو ناشتہ لگا دوں؟ وہ کچن سے ہی چلائی تھیں.
ارے اماں یہاں میں اپنی یونیورسٹی کے پہلے دن ہی لیٹ ہو گئی آپ کو ناشتے کی پڑی ہے؟ وہ بستر سے اٹھتی تیزی سے چپل پاؤں میں آڑستی واشروم میں بند ہوئی
ہاں تو اس میں کونسی نئی بات ہے سکول سے کالج اور پھر اب یونیورسٹی کوئی ایسا دن ہے جس میں تم کبھی ٹائم سے پہنچی ہو؟
بس کریں اماں آپ کو تو بس موقع چاہیے ہوتا ہے میری کلاس لینے کا! پانچ منٹ بعد وہ سفید رنگ کے پرنٹڈ سوٹ پر ملٹی ڈوپٹا پہنے میک اپ سے پاک چہرے سے باہر آئی
یہ کیا نہائی نہیں تم؟ وہ اس کی پھرتی دیکھ کر خفگی سے بولیں
اب نہانے کا کوئی ٹائم نہیں ہے میرے پاس! ازلی ڈھٹائی سے کہتی وہ بریڈ پر جیم لگانے لگی
تو پھر اس بوتھے شریف پر کچھ لگا لو ایسے ہی جاؤ گی؟
ہاں تو کیا ہوا میرے منہ کو؟ ویسے بھی لپ اسٹک رکھ لی ہے میں نے بیگ میں راستے میں لگا لوں گی!
راستے میں تو ایسے کہ رہی ہے میسے گاڑی میں جاؤ گی… شمیم منہ بناۓ بولیں
کوئی بات نہیں اماں ایک دن گاڑیوں میں بھی سفر کر لیں گے ابھی تو رکشہ کرنے پڑے گا بس تو نکل گئی ہوگی…چلیں اب میں چلتی ہوں! ان کی پیشانی چومتی وہ باہر نکل گئی کے پیچھے شمیم ہمیشہ کی طرح آیتوں کا ورد کرتی گھر کے کاموں میں لگ گئیں
یہی انکا چھوٹا سا آشیانہ تھا جس میں ان کے شوہر کی وفات کے بعد وہ اپنی اکلوتی بیٹی کے ساتھ رہتی تھیں
یونیورسٹی کے اندر داخل ہوتے ہی خوبصورت لڑکیوں کو اچھے سے مینٹین دیکھ کر اسے اپنے حویلے پر شرمندگی سی ہوئی
شکر ہے تو لپ اسٹک لے آئی نین! خود سے کہتی وہ جلدی سے بیگ سے لپ اسٹک نکال کر لگانے لگی جب اچانک کوئی بری طرح اس سے ٹکرایا تھا اور لپ اسٹک اس کے ہونٹوں کی جگہ گال کو رنگ گئی
آئم ایم سسوری میم…
واٹ ڈا….دیکھ کر نہیں چل سکتے! بری طرح سے غراتی وہ پلٹی تھی کے مقابل کا اسکا چہرہ دیکھتے ہی بے ساختہ قہقہ بلند ہوا
ہاؤ ڈئیر یو پہلے میری لپ اسٹک خراب کر دی اور اب ہنس رہے ہو مجھ پر رعنین حیدر نام ہے میرا میں چھوڑوں گی نہیں تمہیں! وہ سرخ انگارہ ہوتی بولی
آئی ایم سوری مسز بٹ آپ بہت فنی لگ رہی ہیں! وہ چاہ کر بھی اپنی ہنسی روک نا سکا
یو…میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں! مقابل کی ہنسی اسے مزید سیخ پا کر رہی تھی اس سے پہلے وہ آگے بڑھ کر اس کے سر ہوتی اس کی دوست نے أکر اسے تھاما
رعنین کیا ہو گیا ہے ریلیکس! علینہ نے اسے پیچھے سے پکڑا تھا
ریلیکس کی بچی ان مسٹر کی وجہ سے میرا پورا چہرہ بگڑ گیا! اس کے کہنے پر المان نے بغور اسکا چہرہ دیکھا تھا تیکھے نقوش کی وہ گندمی رنگت کی لڑکی اسے بے حد پرکشش اور پیاری لگی تھی
رعنین چلو یہاں سے تم جانتی نہیں ہو وہ کون ہے! علینہ نے اسے آنکھیں دیکھائیں
ہاں ہاں بتاو زرا میں بھی تو دیکھوں کون ہے یہ!
سوری میم مجھے لگتا ہے آپ کے پاس لڑنے کو بہت فالتو ٹائم ہے لیکن میں لیٹ ہو رہا ہوں! وہ اسے مزید آگ لگاۓ آگے بڑھ گیا کے پیچھے وہ پیر پٹک کر رہے گئی
آڑ یو میڈ رعنین وہ المان ملک ہے یہ یونیورسٹی اس کے ڈیڈ کی ہے کوئی اس سے پنگاہ نہیں لیتا اور تم آتے پی پیچھے پڑھ گئی اس کے…! علینہ کے کہنے پر وہ کچھ خجل سی ہوئی
افف ایک تو یہ سارے بگڑی ہوئی اولادیں امیر باپ کی کیوں ہوتی ہیں؟ وہ سر پیٹ کر رہے بولی
اچھا چھوڑو ہم کلاس میں چلتے ہیں! اس کے گھبرانے ہونے پر علینہ اسے ریلیکس کرنے کو بولی جس پر وہ سر ہلاتی اس کے ساتھ چل دی
********************
فلائٹ کے لیٹ ہونے کے باعث شام میں تین چار بجے کے قریب وہ لوگ پاکستان پہنچ گئے تھے حنان نے انہیں ریسو کرنے کے لیے نکل گیا تھا
موم مجھے ڈر لگ رہا ہے! وہ لاہور آئیرپورٹ پر کھڑی اردگرد دیکھتی بولی
کیوں میری جان؟
دادی کو کچھ ہوگا تو نہیں؟ یہ کوئی چھوٹی بار تھا جو وہ یہ سوال کر چکی تھی
نہیں میری جان تم دعا کرنا نا اللہ تمہاری دادی کو لمبی زندگی دے! ایرج بیگم اسے محبت سے خود سے لگاۓ بولیں اسکا یہ خوف اقبال صاحب اور عالم خان کی فون پر ہوئی گفتگو کے باعث تھا جس میں انہوں نے انہیں یہاں آنے کو کہا تھا ان کے خیال میں اقبال کے آنے سے شاید وہ اس تکلیف سے نجات پا لیں اور اسنے ان کی اس بات کو زیادہ ہی سنجیدہ لے لیا تھا پاکستان سے باہر رہنے کے باواجود وہ اپنی دادی سے بہت زیادہ اٹیچ تھی
ہم یہاں کیوں کھڑے ہیں موم؟
بس بیٹا تمہارا کزن آتا ہوگا پھر ہم حویلی کے لیے نکلیں گے….! اقبال صاحب نے مسکرا ک جواب دیا دل اپنے وطن کی خوشبو سے کافی عرصے بعد پرسکون ہوا تھا
اسلام و علیکم چھوٹے بابا! اپنے پیچھے سے آتی آواز پر وہ تینوں پلٹے تو نظر سامنے کھڑے اس خبرو نوجوان پر پڑی جو دیکھنے میں اپنے باپ جیسا وجہیہ تھا
و علیکم السلام! اقبال صاحب خوش دلی سے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا گئے اس کے بعد وہ ایرج سے ملا
ہاۓ عرین! وہ مسکرا کر اس کی طرف متواجہ ہوا
ہاۓ! جوابا عرین بھی مسکرائی
چلیں آجائیں گھر دادی ویٹ کر رہی ہیں!
صرف دادی؟ تمہاری موم نہیں؟ ایرج کے منہ سے بے ساکتہ نکلا جس پر اقبال خان نے انہیں گھور کر دیکھا
وہ بھی یاد کر رہی ہیں! حنان کی مسکراہٹ اب بھی ویسے ہی برقرار تھی وہ گھر کے معاملات سے دور رہتا تھا یہ کام حازم کا تھا کچھ دیر کی مسافت کے بعد وہ لوگ سبز حویلی میں داخل ہوۓ تھے عالم خان ان کا سنتے ہی جلدی گھر آگئے تھے اتنے عرصے بعد بھائی سے مل کر انہیں ایک تسلی سی ہو گئی تھی جبکہ الیانہ محض دعا سلام کے بعد وہاں سے اپنی کسی پارٹی کا کہ کر اٹھ گئیں تھیں
اب بھی وہ سب آئمہ بیگم کے کمرے میں موجود تھے جہاں الیانہ اور حازم کے وعلاوہ گھر کے سب افراد موجود تھے
.
میرے دل کو سکون مل گیا ہے تمہیں دیکھ کر اقبال! آئمہ بیگم محبت پاش لہجے میں بولیں
اماں یہی حال میرا ہے!
اور میری چندہ کیسی ہے حقیقت میں تو اور بھی خوبصورت ہے بلکل شہزادیوں کی طرح! وہ اپنے سرہانے بیٹھی عرین کا ہاتھ تھپتھپاتی محبت سے بولیں عرین جب سے آئی تھی انہی سے لگ کر بیٹھی تھی آج پہلی بار اسے احساس ہو رہا تھا آسٹریلا رہے کر وہ نجانے کتنے رشتوں سے محروم رہے گئی تھیں
رات کا کھانا پرسکون محول میں کھایا گیا تھا اقبال خان نے دو تین بار حازم کے بارے میں پوچھا تھا جس پر عالم خان نے انہیں اس کے بزی شڈویل کے بارے میں آگاہ کیا تھا
رات کے کھانے کے بعد اقبال صاحب اور ایرج اپنے پرانے کمرے میں آرام کرنے کے لیے چلے گئے تھے جبکہ عرین ضد کرکے آئمہ بیگم کے پاس رکی تھی
دادی آپ کی جوانی کتنی خوبصورت تھی نا..! وہ ایلبم میں ان کی تصویرں دیکھتی بولی
میں تو تمہاری اردو پر حیران ہوں اتنی صاف اردو کیسے سیکھی؟
جی میں نے اون لائن اردو کا کوڑس کیا تھا! وہ ایکسائٹڈ سی بولی
اچھا چلیں اب آپ میڈیسن لے کر سو جائیں میں بھی فریش ہو جاتی ہوں! انہیں میڈیسن دینے کے بعد وہ کمرے سے ملحقہ واشروم کی طرف بڑھ گئی
کچھ دیر بعد وہ فریش سی بیلو سلک کا سلیپنگ سوٹ پہنے گیلے بالوں کو کھلا چھوڑے باہر آتی آئمہ بیگم کے ساتھ کمفرٹر اوڑھ کر لیٹ گئی
رات کے نجانے کونسے پہر کسی سے مسلسل کھانسنے سے وہ بامشکل آنکھیں کھول پائی تھی خود کو انجانی جگہ پر پاکر ایک جماکے سے وہ اٹھی تھی
دادی کیا ہوا آپ کو؟ آئمہ بیگم کی بگڑتی حالت کو دیکھ کر وہ گھبرا کر اٹھی
ببیٹا ممجھے…..وہ لگاتار کھانسے کھانسے اب بے نڈہال سی ہو گئی تھیں
ددددادی آنکھیں کھولیں پلللزززز میں….میں ڈیڈ کو بلاتی ہوں! ان کے بے ہوش وجود کو دیکھ کر وہ آنسو صاف کرتی چپل پاؤں میں آڑستی باہر کی طرف بھاگی
یہ گھر اس کے لیے بلکل نیا تھا جس کی وجہ سے وہ مزید گھبرا گئی تھی رات کے دو تین بجے بھی یہاں ہر ایک لائٹ روشن تھی وہ ادرگرد دیکھتی اوپر کی جانب دیکھنے لگی کیونکہ اقبال صاحب اس کے سامنے اوپر کی طرف گئے تھے
ان کا سوچتے ہوۓ وہ تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی تھی
******************
وہ کچھ دیر پہلے ہی گھر پہنچا تھا آج اسے زیادہ ہی دیر ہو گئی تھی گھر میں داخل ہوتے ہی لیلی اس کے انتظار میں ملی اسے کھانا سے منع کرکے وہ اسٹاف کو سونے کا آڈدر دے کر اپنے روم میں داخل ہوا تھا جب اچانک اسکے روم کا دروازہ ڈھار سے کھل کر اس کی پشت سے ٹکرایا
وہ اوپر آتے ہی پہلا کمرا اپنے موم ڈیڈ کا سمجھ کر داخل ہوئی تھی مگر اندر داخل ہوتے ہی اسے اپنی غلطی کا بری طرح سے احساس ہوا تھا
ہاؤ ڈئیر یو….میں نے منع کیا تھ….. وہ تیش کھاتا پلٹا کے اپنے سامنے موجود انجان لڑکی کو دیکھ کر ٹھنکا کے اس کے ڈھارنے سے وہ سٹپٹا کر باہر نکلنے کی جگہ دروازہ بند کر گئی
کون ہو تم؟ وہ اس انجان لڑکی کی جرأت پر حیران ہوتا اس کی طرف قدم بڑھا گیا کے اسے اپنی طرف آتے دیکھ وہ بے ساکتہ دو قدم پیچھے ہوتی دروازے کے ساتھ چپکی تھی
آئی سیڈ کون ہو تم؟
وہ میں وہ میں…..
تتت ملک تو اس تک گر جاۓ گا نائس مگر فولش پلان…گردن نفی میں ہلاۓ وہ فوری سے اپنی جیب سے گن نکالتا اس پر تان گیا کے اس اچانک اتفاد پر عرین کا کی زور دار خیچ کمرے میں گونجی تھی
چلا لو مگر اسکا فائدہ نہیں ہے آواز اس کمرے سے باہر نہیں جاۓ گی بہتر ہے بتا دو کس نے تمہیں یہاں بھیجا ہے؟ اس پر گن تانے وہ اس کے بلکل قریب آیا تھا جب کے وہ اب رونے کا شغل جاری کر چکی تھی
بولو لڑکی تمہارے آنسوؤں کا اثر مجھ پر نہیں ہوگا…..وہ غرایا جب کہ اس کہنے پر عرین نے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا اور حازم نے بے ساختہ حلق تر کیا تھا اس کی آنکھیں….یہ بادامی آنکھیں…. وہ ذہن پر زور دینے لگا
مممجھے چچھوڑ دیں ممیں صبح ہی واپس چلی جاؤں گی بٹ وہ دددادی دادی کی طبیت…. وہ اکڑی ہوئی سانسوں کے بیچ بولی
کون دادی؟ حازم اب بھی سمجھ نہیں سکا تھا
دادی آئمہ دادی ان کی طبیت بہت خراب ہو رہی ہے مجھے لگا یہ روم ڈیڈ کا یا بڑے پاپا کا ہوگا اسئلے میں آگئی…اب کے وہ ہجکیوں سمیت اپنی پوری بات مکمل کرگئی تھی کے اس کی بات سمجھ میں آتے ہی حازم کے تاثرات ڈھیلے پڑے تھے مگر اگلے ہی لمحے وہ واپس سے اس کی طرف پلٹا
ڈیم اٹ کیا ہوا دادی کو؟
وہ…وہ
وہ سے آگے کی اردو آتی ہے تمہیں؟ اس کی ایک ہی گردان سے وہ اکتا کر بولا جب کہ اس وقت گھبراہٹ میں وہ اسے کچھ سنا نہیں پائی تھی
وہ اپنے روم میں بے ہوش ہو گئی ہیں…. اس کے کہتے ہی وہ آئمہ بیگم کے روم کی طرف بھاگا تھا
کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر نے آکر آئمہ بیگم کا چیک اپ شروع کر دیا تھا اس دوران وہ آئمہ بیگم کے بیڈ پر ایک سائد پر پریشان سی بیٹھی تھی جبکہ حازم کی ساری تواجہ ڈاکٹر کے اوپر تھی اسنے کسی کو بھی اٹھاۓ بغیر ڈاکٹر کو بلایا تھا
کچھ نہیں بس ویکنس بہت ہے آپ لوگ ان کی ڈائٹ کا خیال کریں! ڈاکٹر تسلی بخش انداز میں کہتا اس سے ہاتھ ملاۓ باہر نکل گیا کے ڈاکٹر کے جاتے ہی وہ اب اس کی جانب متواجہ ہوا
ایک ہی بار نہیں بتا سکتی تھی تمہاری اس وہ وہ کے چکر میں دادی کو کچھ ہو جاتا….اپنی دھن میں کہتا وہ واپس پلٹنے لگا جب عرین اسکے راستے میں حائل ہوئی اسنے ابرو اچکا کر اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا جس کی آنکھوں میں اب غصہ واضع تھا
کیسے بتاتی آپ کچھ سننا چاہتے تھے؟ میں پہلے ہی اتنی ڈری ہوئی تھی میں صبح اٹھتے ہی بڑے پاپا کو بتاؤں گی آپ نے میرے اوپر گن رکھ دی تھی….وہ منہ پھلاۓ خفگی سے بول رہی تھی جب حازم نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے چپ کروایا
خبردار تم کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی!
میں بتاؤں گی کیا کر لے گے آپ! وہ اب اپنے اصل روپ میں آتی گردن اکڑا کر بولی کے اس کے اس انداز پر حازم نے شتائشی انداز میں اسے دیکھا
مجھ سے ضد مت کرنا چھوٹی لڑکی…میں لوگوں کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوتا! اس کی بادامی آنکھوں میں جھانک کر ٹھنڈے لہجے میں کہتا وہ باہر نکل گیا کے اپنے الفاظوں سے وہ اسے ڈرانے میں کامیاب ضرور ٹہر گیا تھا
کیا تھا یہ؟ خود سے کہتی وہ واپس سے آئمہ بیگم کے ساتھ آکر لیٹ گئی تھی
