Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389 Mehram-e-Raaz Episode 24
Rate this Novel
Mehram-e-Raaz Episode 24
Mehram-e-Raaz by Syeda Shah
اسے اب خود پر ہنسی آنے لگی تھی
واہ عرین خان کبھی سوچا تھا تم نے پاکستان آکر تمہاری زندگی ہی بدل جاۓ گی؟
یہ سچ ہے اللہ تعالی کے میں ان سب کے لیے ریڈی نہیں تھی اور شاید اس اولاد کے لیے بھی لیکن پھر مجھے اتنی تکلیف کیوں ہو رہی ہے؟
میں کیا کروں کیسے میں اس تکلیف سے نکلوں؟ اس کے ذہن میں بار بار صرف یہ ایک ہی سوال آرہا تھا
کبھی کبھی انسان ان راستوں میں الجھ کر رہے جاتا ہے جو اسنے خود اپنے لیے چنے ہوں ایسے ہی وہ بھی الجھ گئی تھی ان راستوں میں جہاں اسے اپنی زندگی اب ایک بوجھ سی لگ رہی تھی وہ تنہاہ رہے گئی تھی
ہاں بلکل تنہاہ….کیا ظلم ہے کہ انسان کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جہاں اس کے برے وقت میں اس کے اپنے خاص سے خاص رشتے تک موجود نہیں ہوتے وہ کس تکلیف میں تھی نا تو اس کا اندازہ اس کی ماں کو ہوا تھا اور نا ہی اس کی بہترین دوست کو…
اور پھر وہ آزماتا ہے تمہیں دنیا جہاں کی محبت دے کر اور پھر پوچھتا ہے ” بتا میرے سوا تیرا کون ہے”
بے شک اللہ تعالی آپ ہی میرے رب ہیں اور آپ ہی میرے بہترین دوست ہے صرف آپ ہیں جو ہر چیز سے واقف ہیں جو میری تکلیف سمجھ سکتے ہیں دیکھ سکتے ہیں جو سب کچھ جانتے ہیں جو یہ لوگ نہیں جانتے میں اس تکلیف میں ہوں یا اللہ کے میں یہ تکلیف اپنی ماں سے بھی بیان نہیں کر سکتی اور نا ہی میرے پاس کوئی ایسا دوست ہے سب تو مجھے قصور وار سمجھیں گے میں تھک گئی اللہ تعالی میں تھک گئی آپ مجھے میرے ڈیڈ کے پاس بھیج دیں میرا اب اس مطلبی دنیا میں دل نہیں لگتا میرا دم گھٹنے لگا ہے یہاں…یہ دنیا تو میرا مصوم بچہ تک کھا گئی مجھے اپنے پاس بلا لیں اللہ پاک پلزز مجھے اپنے پاس بلا لیں آپ تو مجھ سے پیار کرتے ہیں نا آپ مجھے اپنے پاس بلا لیجیے میں اور کچھ نہیں مانگوں گی بس ایک بار مجھے اپنے پاس بلا لیں…. روتے روتے وہ ایسے ہی بیڈ کی ٹیک سے لگاۓ آنکھیں بند کر گئی تھی
*********************
دن گزرے پھر مہینے اور پھر ایک سال گزر گیا
دن جیسے لوگوں کے لیے چٹکیوں میں گزر رہے تھے مگر دوسری طرف اس کے لیے ہر دن چھوٹا اور ہر رات لمبی ہوتی تھی پورے دن خود کو آوفس اور یونیورسٹی میں مصروف رکھنے کے باواجود رات کو آنکھیں بند کرتے ہی اس کا خیال ذہن پر سوار ہو جاتا تھا
عرین بیٹے اٹھ جاؤ….ٹائم دیکھو کیا ہو گیا ہے! ایرج اسے اٹھاتے ہوۓ بار بار گھڑی کی طرف دیکھ رہی تھیں
موم پلزز دو منٹ!
آٹھ بجنے والے ہیں! اور ایرج کی یہ بات سنتے ہی فٹ سے آنکھیں کھول گئی
کتنی بار کہا ہے رات میں جلدی سو جایا کرو…روز تمہاری آنکھیں نیند پوری نا ہونے کی چغلی کرتی ہیں! ایرج اب کھڑکیوں سے پردے ہٹاتے ہوۓ کہ رہی تھیں
میرے بس میں ہوتا تو میں اپنی زندگی کو اتنی مصروف بنا لیتی کے رات میں بھی وہ شخص مجھے تنگ نا کرتا لیکن یہ میرے بس میں نہیں ہے…وہ اپنے بال سمیٹتے ہوۓ خود سے بولی اس کے بال اب قدرے لمبے ہو چکے تھے
چلو میں ناشتہ بنا رہی ہوں…تم جلدی سے ریڈی ہو جاؤ! اس سے کہ کر ایرج کمرے سے چلی گئیں جس پر وہ بھی سر ہلاتے ہوۓ واشروم کی طرف بڑھ گئی
یہ ایک چھوٹا سا سیکنڈ فلور پر موجود تین کمروں کا فلیٹ تھا اس کے داخلی دروازے سے داخل ہو تو سب سے پہلے ایک بڑا سا ٹی وی ہال اور اس کے سیدھے ہاتھ ہی طرف ان کا اوپن کچن تھا ٹی وی ہال سے کچھ آگے جاؤں تو دو کمرے تھے جو ایک عرین کا تھا اور دوسرے میں ایرج آئمہ بیگم کے ساتھ رہتی تھیں جو عالم خان کے لاکھ منع کرنے کے باواجود عرین کی ضد پر یہاں آگئی تھیں شروع میں عالم خان ناراض رہے مگر پھر خود الیانہ کی نیچر کی وجہ سے آئمہ بیگم کو ایرج کی طرف چھوڑنے پر راضی ہو گئے…اور باقیہ تیسرا کمرہ انہوں نے اسٹوروم کے تور پر استعمال میں رکھا ہوا تھا یہ ایک چھوٹا مگر نہایت خوبصورت فلیٹ تھا
کچھ دیر بعد وہ ناشتہ کرکے گاڑی نکال کر یونیورسٹی کی طرف بھاگا گئی
کچھ دیر بعد اس کی گاڑی یونیورسٹی کے مین گیٹ پر رکی اور وہ پر اعتماد چال چلتے ہوۓ یونیورسٹی میں داخل ہوئی جہاں آج معمول کے برعکس رعنین اس کے انتظار میں کھڑی نہیں ملی شاید وہ آج کچھ زیادہ ہی لیٹ ہو گئی تھی
آج جناب اتنی لیٹ کیسے ہو گئیں؟ اپنی امپورنٹ کلاسس لینے کے بعد وہ دونوں یونیورسٹی کے لان میں چہل قدمی کرنے کو نکل آئی تھیں
ہاں بس رات میں دیر سے آنکھ لگی تھی!
ایسا کیوں؟ کچھ تو ہے عرین جو تم مجھ سے چھپاۓ ہوۓ ہو! رعنین اب کی بار اس کا راستہ روکتے ہوۓ بولی جس پر عرین نے اس کی جانب دیکھا وہ اب پہلے والی روعنین کہیں سے نہیں لگی تھی اس کے چہرے پر سمجیدگی رہتی تھی آنکھوں میں چھپی شرارت اسنے نجانے کتنے عرصے سے نہیں دیکھی تھی
“ یہ سچ ہے محبت روح کو سکون دیتی ہے مگر جب برباد کرنے پر آۓ تو انسان کا خون تک نچوڑ لیتی ہے“ اسنے رعنین کو دیکھتے ہوۓ بے ساختہ سوچا تھا جب کہ خود پر تو اسنے جانے کتنے عرصے سے تفصیلی نظر تک نہیں ڈالہ تھی
کہاں کھو گئیں جواب دو؟ اس کے دوبارہ مخاطب کرنے پر وہ ہوش میں آئی
ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو مجھے تم سے چھپانا پڑے اور جہاں تک بار میری ہے تو میں بھی آدم ذات ہوں کچھ غلطیاں مجھ سے بھی ہوئی ہیں اور اب بس میں ان کا زکر کرنے کے بجاۓ ان غلطیوں کا کفارہ دینے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہوں! عرین نے سپاٹ انداز میں کہا
کون سی کوششوں میں لگی ہوئی ہو تم؟ اس سے پہلے رعنین کچھ کہتی حنان نے ان دونوں کو جوائن کیا تھا جس پر وہ دونوں اس کی طرف متواجہ ہو گئے
ان کی کمی تھی!
کیوں بھئی کیا تم لوگوں کو میرا آنا پسند نہیں ہے اگر واقعی ایسا ہے تو میں آئندہ تم دونوں کے پاس نہیں آوں گا! حنان اس کے انداز پر مسنوئی ناراضی سے بولا کے اس کی اوور ایکٹنگ پر عرین اور رعنین کا قہقہ بلند ہوا تھا
ساڈی باری آئی تو بچہ رو پڑا! عرین ہنستے ہوۓ حنان کے سر پر چٹ لگا کر بولی
ہنس لیا؟ اب بتاؤ کہیں کچھ کھانے چلیں؟ حنان ایکسائمنٹ سے پوچھنے لگا
نہیں گائز تم لوگ انجواۓ کرو مجھے ابھی آوفس جانا ہے! عرین کے کہنے پر وہ دونوں منہ بسور گئے
یار کٹو آج چھوٹی کر لو نا ویسے بھی تم نے کونسا کسی کو جواب دینا ہے بوس ہو میری بہن اپنی کمپنی کی! حنان دوستانہ انداز میں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا
ہاں تو باس ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اپنی زمےداریوں سے منہ پھیڑ لوں!
”اچھا بابا ٹھیک ہے…تم جاؤ لیٹ ہو رہی ہو“ رعنین شریر لہجے میں بولی
چلو پھر ملتے ہیں…..تم لوگ انجواۓ کرو! ان سے کہ کر وہ آگے بڑھ گئی آج کل اس کی یہی روٹین تھی یونیورسٹی سے اپنی کچھ اہم کلاسس لینے کے بعد وہ اپنی ایڈورٹائزمنٹ کمپنی چلی جاتی تھی اسنے عالم خان سے خود اس کمپنی کی پارٹنر شیپ مانگی تھی جس پر عالم خان نے خوشدلی سے حازم خان کی اس کمپنی کے آدھے شیئرز اس کے نام کر دہے تھے اسے اب اپنا کام کروانے کا طریقہ آگیا تھا
میں اپنے ڈیڈ کا حق اب کسی کو کھانے نہیں دوں گی! یہ ایک ایسی بات تھی جو وہ روز خود کو یاد دلاتی تھی تاکہ اس کی ہمت بنی رہے
*******************
اور جناب چلیں پھر کچھ کھانے؟ اس کے جانے کے بعد حنان رعنین سے مخاطب ہوا جو اسے گھور کر رہے گئی
تمہیں میں نے کتنی بار کہا ہے مجھے ایسے عرین کے بغیر کوئی اس قسم کی آوفر نا کروایا کرو!
”اچھا سوری میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا پیزے کی بھوک لگ رہی تھی”
تو آدڈر کر لو نا! اس کے مصومیت سے کہنے پر رعنین مسکرا کو بولی
ارے ہاں یہ تو میں بھول ہی گیا آدڈر کرتے ہیں….تھینک یو یار تم تع جیم ہو جیم! اس کے انداز پر رعنین نے اسے ایک چٹ رسید کی
زیادہ مسکا مت لگاؤ اب!
اچھا رعنین میں کیا سوچ رہا تھا! حنان اب سنجیدہ ہوتے ہوۓ بولا
کیا سوچ رہے تھے بولو کچھ فضول ہی ہوگا!
”نہیں یار میں سوچ رہا تھا تو میں تمہیں آپ کہ کر پکڑا کروں“ وہ موبائیل میں مصروف سا اپنے انداز میں بولا
اور وہ کیوں؟ رعنین نے ابرو اچکائی
”کیوں کہ آپ اپنا لگتا ہے اور تم تمہارا لگتا ہے“ وہ اپنی ہی دھند میں بولا کے اس کی بات رعنین نے چونک کر اسے دیکھا
تتتم سے یہ ککس نے کہا؟
میرے دل نے! جواب دوبدو آیا تھا
اپنے دل کو یہی روک دو حان…..اس سے زیادہ اپنے دل کو بڑھنے مت دینا! وہ یکدم سنیجیدہ ہوتے ہوۓ کہتی تیزی سے وہاں سے نکل گئی
دل تو تم سے نہیں رکا تو مجھ سے کیسے رکے گا؟ اسے یوں جاتا دیکھ کر حنان خود سے بولا اور پھر سر جھٹک کر پھر سے موبائیل میں لگ گیا
********************
رات کے قریب نو بجے وہ گھر لوٹی تھی
آج کچھ زیادہ لیٹ ہو گئیں؟ ایرج اسے دیکھتے ہی پریشانی سے بولیں
جی موم بس تھک گئی تھی بھوک بھی بہت لگ رہی ہے!
ہمم میں کھانا لگا لیتی ہوں! ایرج اس سے کہ کر کچن کی طرف بڑھ گئیں جب وہ بھی ان کے پیچھے آئی
دونوں ساتھ لگاتے ہیں! اس کی بات پر ایرج مسکرائیں
اچھا عرین آج تمہاری بڑی مما کی کال آئی تھی! ایرج سالن گرم کرتے ہوۓ مصروف سے انداز میں بولیں
کیا کہ رہی تھیں وہ؟
کسی رشتے کا بتا رہی تھیں…ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی عرین کے برتن سیٹ کرتے ہاتھ تھمے
کہ رہی تھیں لڑکے کا اپنا بزنس ہے بہت اچھے ویل ایجوکیٹڈ لوگ ہیں تم چاہو تو…..
آپ کے لیے میں بوجھ ہو گئی ہوں کیا؟ ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ سرد لہجے میں بولی
کیسی باتیں کر رہی ہو؟
آپ بتائیں موم آپ کے لیے کیا میں بوجھ ہو گئی ہوں جو بیس سال کی عمر لگتے ہی آپ کو میری شادی کی لگ گئی ہے آۓ دن اب آپ کے پاس اور الیانہ میڈم کے پاس یہی ایک ٹوپک ہوتا ہے تنگ آگئی ہوں ان سب سے! وہ اپنی دلی کیفیت چھپاتے ہوۓ چلائی
تمیز سے بات کرو عرین…کس طرح تم بھابھی کا نام لے رہی ہو میں نے یہ تربیت کی ہے تمہاری؟
میں ویسے ہی نام لے رہی ہوں جس کے وہ قابل ہیں وہ ایک مطلب پرست عورت ہیں! اس کی بات پر ایرج نے ایک زوردار تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کیا تھا
شٹ اپ…..شٹ اپ…! وہ اسے پھتڑ مارتے ہوۓ سرد لہجے میں بولیں کے عرین نے حیرت سے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ کر انہیں دیکھا اس کی آنکھوں میں اب خودبخود پانی جمع ہونے لگا اس سے پہلے ایرج مزید کچھ کہتی وہ بھاگنے کے سے انداز میں اندر کی طرف بھاگ گئی تھی
***************
آج اتور کا دن تھا
وہ بارہ بجے کے قریب اپنے کمرے سے باہر آئی سوجھی ہوئی آنکھیں رات کو رونے کی چغلی کر رہی تھیں ایرج نے ایج نظر اسے دیکھا اور پھر اس کے لیے ناشتہ بنانے چلی گئیں
اسلام و علیکم دادو! وہ اپنے بال سمیتے ہوۓ ایسے ہی سلیپنگ سوٹ میں ٹی وی ہال میں بیٹھیں آئمہ بیگم کے پاس آئی
وعلیکم السلام میری شہزادی کیسی ہے؟ آئمہ بیگم محبت سے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ بولیں
ٹھیک ہی ہوں!
آجاؤ پہلے ناشتہ کرو کل سے کچھ نہیں کھایا! ایرج کی آواز پر وہ منہ بسور کر بیٹھ گئی
مجھے بھوک نہیں ہے دادو!
میری بیٹی ناراض ہے مجھ سے؟ ایرج اس کے گرد اپنے حصار باندھتے ہوۓ بولیں
تو نا ہوں کیا؟ میرے ڈیڈ نہیں ہیں تو آپ مجھے ماریں گی؟
سوری میری جان آئندہ ایسا نہیں ہوگا لیکن تم نے بھی آئندہ بدتمیزی نہیں کرنی! ایرج اب کی بار اسے سمجھاتے ہوۓ بولیں جس پر وہ سر ہلا کر ان کے گرد خود ہی حصار قائم کر گئی
عرین؟ ناشتہ مکمل کرنے کے بعد وہ عرین سے مخاطب ہوئیں
جی موم!
بیٹا آج عالم بھائی نے ایک پارٹی رکھی ہے انہوں نے ایک ہوسپٹل تعمیر کروایا ہے تو آج اس کی خوشی میں ایک گیٹ ٹو گیدر ٹائپ رکھا ہے!
ہمم آپ اور دادو چلیں جائیں!
ہرگز نہیں عالم بھائی نے خصوصی تمہیں بلایا ہے!
ہمم تو آپ چاہتی ہیں میں ساتھ چلوں آپ کے؟ عرین نے ان کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا
بلکل!
ٹھیک ہے چل لیں گے! اس کی بات پر ایرج نے مسکرا کر اس کا کندھا تھپتھپایا!
********************
سبز حویلی کو خوبصورت لان کو مزید خوبصورتی سے سجا لیا گیا تھا
شام چھ بجے سے مہمانوں کا آنا شروع ہو گیا تھا
الیانہ سفید میکسی پہنے کھڑی سب کو ویلکم کر رہی تھی جب کے حائنہ کوپر میکسی پہنے ہوۓ تھی وہ آج ہی اسلام آباد سے واپس آئی تھی عرین کو اسنے آتے ہی میسج کر دیا تھا اور عرین کے آنے کی ایک اہم وجہ یہ بھی تھی حائنہ سے وہ آج تقریبا دس مہینے بعد مل رہی تھی حائنہ کے میڈیکل کا لاسٹ آئیر تھا جس کی وجہ سے مصروف رہتی تھی
کب آۓ ہی عرین؟
وہ آگئی! حنان کے اشارے پر اسنے گیٹ کی طرف دیکھا جہاں سے وہ مہرون ویلوٹ کا اسٹائلش سیلوو لیس لونگ ٹوپ اور پنٹ پر بالوں کو ہائی پونی ٹیل میں باندھے پاؤں میں ہیل پہنے مغرانہ چال چلتی اس ہی کی طرف آرہی تھی میک اپ کے نام پر صرف پنک سی لپ اسٹک لگانے کے باواجود وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی
اوہ ماۓ گوڈ میری عرین تو بوم بن گئی ہے! حائنہ اس کے گلے لگتی ہوئی ستائشی انداز میں بولی
تم بھی دھماکہ کرنے والی ہو! عرین نے اسے چھیڑا جس پر وہ ہنس دی
فنشن اچھے سے گزر رہا تھا عالم خان اب سب مہمانوں سے ملنے کے بعد اس طرف آۓ تھے جہاں ایرج عرین حنان اور حائنہ کھڑے گپ شپ لگا رہی تھے
آج کتنے عرصے بعد رونق ہوئی ہے نا حنان؟ عالم خان نے مسکرا کر پوچھا
جی ڈیڈ لیکن بھائی کی کمی اب بھی محسوس ہو رہی ہے! حنان منہ بسور کر بولا کے اس کے کہنے پر عرین نے بے ساختہ گلاس پر اپنی گرفت مضبوط کی تھی آج اتنے عرصے بعد وہ اس کا نام سن رہی تھی
بھائی کو یاد کیا اور بھائی نا آۓ ایسا ہو سکتا ہے! اور عرین کو لگا وہ اگلا سانس نہیں لے پاۓ گی
یہ آواز….
یہ آواز وہ آج پورے ایک سال بعد سن رہی تھی جو اسے بلکل اپنے پیچھے سے آتی محسوس ہوئی
حازم کی طرف اس کہ پشت تھی
بھائی؟ حنان اسے دیکھتے ہی خوشی سے چہک کر اسکے گلے سے لگا تھا
ایک ایک کرکے سب اس سے ملنے لگے جب کے وہ؟
وہ کسی خواب کی سی کیفیت میں اسے دیکھتے ہوۓ قدم آگے بڑھانے لگی اسے لگا اس کی ساری محنت برباد ہو گئی ہے وہ اس کے عین پیچھے تھ اسے لگا اس کا دل باہر نکل آئے گا کسی خواب کی سی کیفیت میں ہی وہ بھاگنے کے سے انداز میں قدم آگے کی جانب بڑھا گئی کے اسے جاتا دیکھ کر حازم کی نظر اس کی پشت پر پڑی اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتا الیانہ نے آکر اسے اپنے گلے سے لگایا تھا
واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز!
اینی تھنگ فار یو موم! وہ.مسکرا کر اس کی پیشانی کا بوسہ لیتے ہوۓ بولا
*********************
عرین یہاں کیوں آگئی؟ سب مہمانوں کے جانے کے بعد بھی جب وہ اندر دیکھائی نہیں دی تو حائنہ اسے دھونڈے کے لیے گراج کی طرف آئی جہاں وہ ایک کرسی پر سر لٹکاۓ بیٹھی دیکھائی دی
بس دل گھبرا رہا رہا تھا…تم پلزز موم کو بھیج دو ہم لیٹ ہو رہے ہیں!
بلکل نہیں…تم لوگ آج کہیں نہیں جا رہے ڈیڈ نے روک لیا ہے سب کو میں بھی تمہیں بلانے آئی ہوں! حائنہ اس کی آنکھیں دیکھے بغیر بولی
مجھے نہیں آنا میری طبیت ٹھیک نہیں ہے میں گھر جانا چاہتی ہوں!
کیا ہوا تمہاری طبیت کو یہ آنکھیں کیسے اتنی ریڈ ہو گئیں تمہاری؟ وہ اب اسے تفصیلی توڑ پر دیکھ رہی تھی
کچھ نہیں بس فلو ہے! اسنے فوری جھوٹ بولا تھا
اچھا چلو پھر اندر چلو میں تمہیں میڈیسن دیتی ہوں…اور پلزز اب اور منتیں مت کروانا! اب کے حائنہ نے اسے ڈپٹتے ہوۓ کہا جس پر سرد آہ بھر کر اس کے ساتھ چل دی
گھر کے تقریبا سب لوگ ہی اب شاید اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے
چچی جان اور دادو کے روم میں ہیں اور تم جاکر اپنے روم میں ریسٹ کر لو ہم نے تمہارا روم تمہارے لیے ہی رکھا ہوا ہے! حائنہ کے کہنے پر وہ مسکرا دی
میں تمہارے لیے کافی اور میڈیسن بھیج دیتی ہوں…اگر تمہاری طبیت خراب نا ہوتی تو ہم آج خوب باتیں کرتے!
کوئی بات نہیں اگلی بار تم ہمارے گھر آجانا! عرین اسے آنکھ مار کر کہتی اوپر جانے کے لیے بڑھ گئی
وہ ڈرتے ڈرتے آس پاس نظر گھما کر تیزی سے اپنے روم میں بند ہوئی تھی
ہاں وہ ڈر رہی تھی اس کے سامنے سے!
میں کمزور نہیں پڑھ سکتی…اور اب تو بلکل نہیں! خود سے کہ کر وہ واشروم کی طرف بڑھ گئی
کچھ دیر میں ہی وہ کپڑے تبدیل کرکے باہر آگئی جب ملازمہ اس کے لیے میڈیسن اور چاۓ بھی لے آئی
ہونہوں میڈیسن تو آگئی لیکن پانی تو ہے ہی نہیں! اس کے جانے کے بعد وہ پانی کا خالی جگ دیکھتے ہوۓ بولی
مزید کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ خالی جگ لیے روم سے نکلی اسنے نیند کی گولی تو لینی ہی تھی وہ احتیاط سے ادھر ادھر دیکھتے ہوۓ نیچھے اتری تھی عیاں کہیں اس کا سامنا الیانہ اور حازم سے نا ہو جاۓ
دبے دبے پاؤں چلتے ہوۓ وہ کچن میں آئی تھی سد شکر اس وقت اسے یہاں کوئی دیکھائی نہیں دیا تھا
ابھی اسنے ڈسپنسر میں پانی کا جگ رکھا ہی تھا جب اس کی سرد آواز کچن میں گونجی اور وہ بے ساختہ جگ کو مضبوطی سے پکڑ گئی آخر وہ وقت آہی گیا تھا جب اسے اس کا سامنا کرنا تھا
مجھے بھی پانی چاہیے! وہ پانی کے غرض سے کچن میں آیا تھا جب وہ اسے یہاں پہلے سے موجود ملی
لے لیں! ایک لفظی جواب دے کر وہ اپنا جگ اٹھاۓ جانے لگی جب حازم نے اس کا راستہ روک کر سر تا پیر تک اسے دیکھا اس کی نظر عرین کی سرخ ناک سرخ آنکھیں اور بکھرے ہوۓ بالوں پر اٹک کر رہے گئی
یہ کیا حالت بنا لی ہے تم نے؟ اس کے سوال پر وہ اسے نظر انداز کرتی جانے لگی جب حازم ایک بار پھر اس کے سامنے آگیا
کچھ پوچھ رہا ہوں! وہ آج بھی اس پر رعب جما رہا تھا
آپ یہ پوچھنے کا حق کھو چکے ہیں بہتر ہے آئندہ میرے راستے میں مت آئیے گا! وہ اپنے مخصوص پر اعتماد انداز میں کہتی آگے بڑھنے لگی جب اسنے اسے ایک ہی جست میں دیوار سے لگا کر راہ فرار کا راستہ بند کر گیا
نجانے وہ آج کتنے عرصے بعد اسے دیکھ رہا تھا کتنا طویل تھا یہ انتظار اور اس پر اس کا یہ روپ…
کیسے حق نہیں ہے بیوی ہو تم میری! وہ اس کی آنکھوں میں دیکھے غرایا اس لڑکی کا یہ نیا روپ اسے بے حد تکلیف میں مبتلا کر رہا تھا
کونسی بیوی؟ آپ ہوش میں تو ہیں مسٹر کوئی ثبوت ہے آپ کے پاس ہمارے نکاح کا؟ اپنے الفاظوں سے وہ اسے خاصا تیش دلا گئی تھی .
انجان مت بنو تم جانتی ہو تم بیوی ہو میری اب بھی میرے نکاح میں ہو! اب کے وہ اس پر مزید جھکاؤ کرتا ایک ایک لفظ چبا کر بولا
کونسی بیوی؟ وہی بیوی جسے آپ بیچ راستے میں اکیلا چھوڑ گئے تھے یا وہ بیوی جس کی خبر آپ نے اتنے عرصے میں ایک بار بھی نا لی کے وہ مر گئی یا زندہ ہے؟ یا وہ بیوی جسے آپ نے آج تک کبھی کسی کے سامنے بیوی کی حیثیت نہیں دی؟ وہ نا چاہتے ہوۓ بھی شکواہ کر گئی تھی کے اس کے سوالوں پر حازم کے لب سل سے گئے تھے آج بھی وہ ان سوالوں کے جواب نا دھونڈ سکا تھا
کیوں کر رہی ہو یہ سب؟ اس کا لہجہ ٹوٹا سا تھا
اور جو آپ نے کیا؟
میری مجبوری تھی یار….
میں بھی مجبور ہوں کیوں کہ میرے دل نے اب آپ کے نام کے دروازے خود کے لیے بند کر دیے ہیں جب تک یہاں ہیں کوشش کرئیے گا میرے سامنے مت آئیں! سپاٹ انداز میں کہتی وہ اپنے دل میں ہوتی ہلچل کو دباۓ آگے بڑھ گئی کے اس بار وہ چاہ کر بھی اسکا راستہ روک نا سکا
