Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389 Mehram-e-Raaz Episode 34 (Part 1)

357.5K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 34 (Part 1)

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

وہ چینج کرکے واپس روم میں آیا تو اب کمرے میں کافی خاموشی تھی یعنی وہ سو چکی تھی اسنے ایک نظر اپنے بیڈ کے سیدھی طرف سوتی اس لڑکی کو دیکھا

مجھ سے راضی نہیں ہونا لیکن سونا میرج جگہ پر ہی ہے! وہ اسے اپنی جگہ پر مزے سے سوتا دیکھ کر سر جھٹک کر کہتا اپنی سگریٹ اور لائٹر اٹھاۓ بلکنی میں آگیا

ہیلو؟ بلکنی میں آتے ہی اسنے حمزہ کو کال ملائی تھی

کیا بات ہے سر آج کی رات بھی آپ کو میری یاد ستا گئی؟ حمزہ اس وقت اس کا نمبر دیکھ واقعی شوکڈ ہوا تھا کے اس کی بات پر حازم لب بھینج گیا

بکواس بند کرو مجھے یہ بتاؤ المان کا کچھ پتا لگا؟ جب کوئی جواب نہیں بنا تو وہ اپنی جھینپ ہٹانے کو لہجے میں زرا سختی لے آیا

جی سر ایک خبر ملی ہے مجھے یقین ہے اس سے ہمیں بہت کچھ مل سکتا ہے! اب کے حمزہ بھی سنجیدہ ہوا

ہمم؟

المان ملک کی ایک گرل فرینڈ رہے چکی ہے اور معاملہ کافی آگے تک کا تھا…..!

یہ کوئی نئی بات نہیں ہے! حازم نے سرد پن سے کہا

ایکچلی سر شاید آپ کو میری بات بری لگے مگر ہم اس لڑکی کو بہت قریب سے جانتے ہیں! اس کی بات پر حازم نے سگریٹ لبوں سے ہٹاۓ تھی

کون ہے وہ؟

رعنین حیدر! اور حازم نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں اس کے ذہن میں حنان کا چہرہ آیا اور اس کا دل ٹوٹنے کا سوچتے ہی وہ اپنی آنکھیں دوبارا کھول گیا

مجھے ساری انفارمیشن صبح ہونے سے پہلے مل جانے چاہیے! اس سے کہ کر وہ کال کٹ کرنے لگا جب حمزہ نے اسے روکا

ویسے سر مجھے آپ سے اس بیواقوفی کی امید نہیں تھی! .

کونسی بیواقوفی؟

آج آپ کی ویڈنگ نائٹ…

مجھے لگتا ہے تم نیند میں ہو صبح تم سے بات ہوگی! حازم اس کا مطلب سمجھتے ہوۓ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی خجل ہوکر کہتا کال کٹ کر گیا

تھوڑی دیر مزید یہاں گزارنے کے بعد وہ واپس اپنے کمرے میں آتا بیڈ پر اس سے قدرے فاصلے پر لیٹ گیا مگر نظریں اب بھی اس سوتے ہوۓ مہتاب پر تھیں اسے دیکھتے دیکھتے جانے کب اس کی آنکھ لگی وہ اس کا اندازہ نہیں کر سکا

****************

خود پر پرتی ہلکی ہلکی سی روشنی سے وہ با مشکل اپنی آنکھیں کھول پائی تھی

اسنے غیر آرادی تور پر نظر گھومائی تو نظر اپنے ساتھ لیٹے وجود کو دیکھتے ہی وہ کرنٹ کھا کر اٹھی تھی وہ اس سے چند فاصلے پر ہونے کے باواجود اس لمحے اس کی دھڑکنیں منتشر کر گیا تھا عرین اس کے بعد اس پر ایک غلط نگاہ بھی ڈالے بغیر واشروم کی طرف بڑھ گئی

اپنی روٹین کے مطابق آٹھ بجے کے قریب اس کی آنکھ کھولی تواقع کے برعکس وہ اسے کمرے میں کہیں دیکھائی نہیں دی شاید وہ اس لمحے اس کے دیدار کی خواہش رکھتا تھا کچھ دیر بعد وہ سر جھٹک کر بستر سے نکلتا واشروم میں گھس گیا

ہاں ادھر لے آئیں! اس کے جاتے ہی وہ فریش سی حازم کی دوسری شرٹ اور ٹراؤز میں ملازم کے ساتھ اپنا سامان لیے اندر داخل ہوئی

روم میں انٹر ہوتے ہی اس کی خالی جگہ دیکھ کر وہ سمجھ چکی تھی وہ اس لمحے واشروم میں ہے

سلیم بابا آپ یہ سامان چیجنگ روم میں رکھ دیں میں وہی سے لے لوں گی!

اوکے میم!

چند لمحوں بعد وہ فریش سا واشروم سے باہر آیا تو نظر اس پر گئی وہ نیوی بلیو ویلوٹ کے سوٹ میں ملبوس بالوں کو پشت پر بکھیرے جیولڑی پہنے میں مصروف تھی اسے دیکھتے ہی حازم کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ نمودار ہوئی وہ مسکرا کر دبے قدموں اس کے عین پیچھے آکر کھڑا ہوا کے اس کا عکس اپنے عین پیچھے دیکھ کر عرین کا جیولڑی پہنتا ہوا ہاتھ تھما

گڈ مورننگ بیگم! اسے بنیان میں نیند کی خماری سے سرخ آنکھیں لیے اپنے عین پیچھے کھڑا دیکھ کر فطری حیا کے باعث وہ بے ساختہ نظریں جھکا گئی

یہ کیا حرکت ہے دور ہٹیں! دو منٹ لگے تھے اسے خود کو کمپوز کرنے میں…

ابھی تو میں نے کوئی حرکت کی ہی نہیں! حازم گھمبیر لہجے میں کہتا اس کے بالوں کو پشت سے کچھ پیچھے کر گیا جس پر وہ اس کا ہاتھ جھٹ کر سیدھا ہوتی اسے پیچھے دھکیل گئی

بیہوہ….اگر تمہاری ساری یہ بدتمیزیاں برداشت کر رہا ہوں تو اس کا فائدہ اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے بے فکر رہو تمہاری مرضی کے بغیر نا پہلے کچھ ہوا ہے اور نا اب ہوگا…! وہ اس کے ہاتھ تھامے کہتا اسے کنگ کر گیا

اس کے تیور دیکھ کر عرین کچھ کہ نہیں پائی تھی مصلیحت چپ رہنے کا آثر یہ ہوا کے وہ اس کی خاموشی کا فائدہ اٹھاتے ہوۓ اس پر جھک کر ڈریسنگ سے کنگن اٹھا کر اسے پہنانے لگا

دیکھا جاۓ تو یہ کنگن میرے لیے بے معنی سی چیز تھے لیکن تمہارے ہاتھوں نے انہیں بھی متبر کر دیا ہے تم میں ایسا کیا ہے چھوٹی لڑکی جو تم مجھے اس دنیا میں سب سے عزیز تر لگنے لگی ہو؟ وہ اس کے ہاتھوں میں کنگن ڈالتے ہوۓ محبت سے بولا اس کی بات پر عرین نے کچھ کہنے کو منہ کھولا ہی تھا جب ان جا دروازہ نوک ہوا جس پر وہ بدمزہ ہوکر اس سے دور ہٹتا دروازے کی جانب بڑھ گیا

ہمم؟

سر آپ کو بڑے صاحب ناشتے پر یاد کر رہے ہیں! لیلی اسے بنیان میں دیکھتے ہی نظریں جھکا گئی

ہممم آرہے ہیں! اس سے کہ کر وہ پلٹا تو نظر عرین پر گئی کو خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی اس کی نظروں میں حازم کو آج عرصے بعد اپنے لیے خفگی نظر آئی تھی

بے شرم! اس کے پوچھنے سے پہلے ہی وہ اس کے ساتھ سے بڑبڑاتے ہوۓ گزر گئی کے اپنے نئے لقب پر حازم کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ بکھری

*******************

ناشتے کی ٹیبل آج پررونق منظر پیش کر رہی تھی عالم خان کے گھر والوں کے ساتھ ساتھ ایرج اور الیانہ کی پھوپھو بھی تھیں

اسلام و علیکم! وہ ناشتے کی ٹیبل پر آتی خوشدلی سے بولی جس پر الیانہ کے علاوہ سب کے چہرے پر مسکراہٹ پھل گئی

و علیکم السلام…!

کسی ہے ہماری بٹیاں؟ حازم نہیں اٹھا ابھی تک؟ پروین بیگم مسکرا کر بولیں

جی پھوپھو وہ آتے ہونگے!

ایرج تم نے اپنی بیٹی کو سیکھایا نہیں شادی کے پہلے دن خود ہی اٹھ کر چلی آئی ہے! الیانہ نے اپنا پہلا تیر چھوڑا

لو الیانہ تم تو ایسے کہ رہی ہو جیسے خدا نا خاستہ عرین کی تین چار شادیاں ہوئی ہوں….پروین بیگم کے کہنے پر حنان اور حائنہ دبی دبی ہنسی ہنسے

پھر بھی پھوپھو یہ تو بیسک مائنرز ہیں اتنی سمجھ تو سب کو ہوتی ہے! الیانہ زہر خندق ہوئی

“بھابھی ٹھیک کہ رہی ہیں…تمہیں حازم کے ساتھ آنا چاہیے تھا” اب کے گفتگو میں ایرج نے حصہ لیا تھا

ریلیکس چچی یہ تو مجھے کہ رہی تھی لیکن میں نے ہی لیٹ کر دیا…! اس کے جواب دینے سے پہلے ہی حازم کی آواز گونجی جس پر عرین نے گہرا سانس کھینچا

لیکن جس حازم کو میں جانتی ہوں وہ وقت کے معاملے میں بہت پنچول ہے… الیانہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی

افف ہو آپ لوگ کس بحث میں پڑ گئے ہیں بیٹھو بچوں ناشتہ کرو…عالم خان الیانہ کو دیکھتے ہوۓ خفگی سے بولے

عرین بیٹا پہلے حازم کو سروو کرو! ایرج نے اسے اشارہ کیا جس پر اسکا املیٹ لیتا ہوا ہاتھ تھما

جی موم! وہ برا سا منہ بنا کر کہتی اس کی پلیٹ میں املیٹ ڈالنے لگی

تھینکس! حازم اس کے اترے ہوۓ منہ کو دیکھ کر شوخ لہجے میں بولا کے اس کے لہجے پر عرین نے خونخار نظروں اسے دیکھا اس کے بعد وہ اپنا نکالنے لگی جب حازم نے اٹھانے سے پہلے ہی اس کے آگے سے پلیٹ اٹھائی

اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی حازم املیٹ کی پلیٹ اٹھا کر اس کی پلٹ میں کچھ املیٹ ڈالتا اسے حیران کر گیا

بھائی چچی نے صرف عرین کو سروو کرنے کا کہا تھا! حنان نے اسے ٹوکا

کیوں؟ سروو کرنے کا کام صرف عورت کا تو نہیں ہے جس طرح میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں اسی طرح دونوں ہر چیز میں برابر کے حقدار بھی ہیں اگر صبح وہ مجھ سے پہلے ناشتے کی ٹیبل پر آئی تو اس میں کوئی ہرج نہیں ہے بلکہ میری تو خواہش ہے میری بیوی مجھ سے ہر معاملے میں دو قدم آگے ہو!

اس کی بات پر الیانہ سمیت گھر کے سب افراد نے حیرت سے اسے دیکھا وہ اتنا طویل کم ہی بولتا تھا ایرج نے اس لمحے فخریہ انداز میں دیکھا جب کہ عرین اس کی ساری باتوں کو ہوا میں اڑا گئی باقی کا ناشتہ خاموشی میں کیا گیا تھا

حنان مجھے اسٹڈی میں ملو! ناشتے کے بعد حازم نیپکن سے ہاتھ صاف کرکے حنان سے کہتا اسٹڈی کی طرف بڑھ گیا

*******************

جی بھائی آپ نے یاد کیا؟ کچھ دیر میں حنان اس کے سامنے کھڑا تھا

ہاں بیٹھو!

جی بھائی بولیں! حنان اس کے کہنے کے مطابق سامنے موجود کرسی پر بیٹھتا ہوا بولا

ہمم مجھے امید ہے تم میرے سوالوں کا جواب سچائی سے دو گے!

آپ سے جھوٹ کہ بھی نہیں سکتا…پوچھیے!

رعنین کو کب سے پسند کرتے ہو؟ اس کے سوال پر حنان کو جھٹکا لگا تھا وہ اس سے اس سوال کی تواقع نہیں کر رہا تھا

جی؟

سیدھا سوال کیا ہے!

ایک سال سے! وہ جھجھک کر بولا

ہمم پھر تو تم اس بات سے بھی واقف ہونگے کے وہ پہلے المان کے ساتھ انوول رہی ہے!

جی! حنان نظریں جھکاۓ کہتا حازم کو مسکرانے پر مجبور کر گیا

تو پھر نظریں جھکا کر نہیں اٹھا کر بات کرو! وہ خوش ہوا اس کا حوصلہ دیکھ کر

مجھے اس کی کسی حرکت پر شرمندگی نہیں ہے بھائی اس کہ زندگی میں پہلے جو بھی ہوا ہو مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا!

لیکن مجھے پڑتا ہے!

کیا مطلب؟ حنان نے ابرو اچکائی

مطلب یہ کہ مجھے رعنین سے المان کے متعلق کچھ انفارمیشنز چاہیے…مجھے یقین ہے تم اسے اس پر راضی کر لو گے!

”اگر بات صرف میری ہوتی تو آپ کو دوبارہ کہنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی لیکن رعنین کے معاملے میں میں کوئی زبردستی نہیں کر سکتا“

میں چاہتا بھی نہیں کہ تم اس سے زبردستی کرو میں چاہتا ہوں تم اسے اس کی جنف لڑنا سیکھاؤ! حازم ذومعانی انداز میں بولا جس کا مطلب سمجھ کر حنان سوچ میں پڑ گیا

مجھے کل تک کا ٹائم دیں بھائی میں آپ کو کل بتاتا ہوں!

ہمم اوکے! حازم اس سے کہتا اسے ایسے ہی سوچ میں ڈالے اپنا رنگ ہوتا ہوا فون کان سے لگاۓ باہر چلا گیا

******************

ولیمے کا فنشن کل کی تقریب کی نسبت زیادہ دھوم دھام سے ہوا تھا رات کے گیارہ بجے کے قریب وہ لوگ ولیمے سے فارغ ہوکر اپنے اپنے کمروں میں چل دیے تھے پروین بیگم کے لاکھ کہنے پر آج شمیم اور رعنین سبز ویلا ہی رکے تھے

رعنین شمیم کو پھوپھو کے روم میں چھوڑنے کے بعد حائنہ کے روم میں جانے لگی جب اچانک وہ اس کے سامنے آکر اس کا راستہ روک گیا

تمہارا دماغ خراب ہے کیا؟ جان نکال دی میری! وہ اد کے اچانک نازل ہونے پر دل پے ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی

نہیں تو تمہاری جان تو بلکل صیحح سلامت ہے! حنان نے خود کی جانب اشارہ کیا

بکواس بند کرو! رعنین اپنے ہونٹوں پر مچلتی مسکراہٹ دباۓ بولی

اچھا سنو ایک بات کرنی ہے میں نے تم سے! اسے سنجیدہ ہوتے دیکھ کر رعنین کی مسکراہٹ سمٹ سی گئی

بولو..

دیکھو رعنین تم چاہے اس بات کو ایکسیپٹ کرو یا نا کرو لیکن میں تمہیں تمہارے ہر فیصلے میں تمہارے ساتھ کھڑا ملوں گا…اسنے تہمید باندھی

تم کھول کر کہو کیا کہنا چاہ رہے ہو؟ رعنین کے کہنے پر وہ ایک گہرا سانس لے کر اسے دوپہر میں ہوئی حازم کے ساتھ ساری گفتگو بتا گیا

آر یو میڈ؟ مممیں کسے یہ سب کر سکتی ہوں؟ تتتم ممجھے اپنا تماشا لگانے کو کہ رہے ہو؟ میری اماں تک یہ بات پہنچ گئی تو جانتے ہو وہ کیا کریں گی؟

ریلیکس رعنین میری بات سنو! اس کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر حنان نے اسے بازؤں سے تھاما جس پر وہ ہوش میں آکر اسے ایک ٹک دیکھنے لگی

.

میں چاہتا ہوں تم خود کو ہٹا کر ایک بار ان لڑکیوں کے لیے سوچو جو تمہاری طرح یہ سب فیس کر رہی ہونگی؟ ہمیں لوگوں کو اس بارے میں آویئر کرنا ہوگا تم جانتی ہو یہ اورل نکاح کے نام پر کتنے ہی لوگ یونیورسٹی میں موجود لڑکیوں کی زندگی برباد کر چکے ہیں؟ میں یہ نہیں کہ رہا اورل نکاح غلط ہے لیکن اس کا غلط استعمال غلط ہے ہمیں یہ لوگوں کو بتانا ہوگا رعنین تم سوچ لو سمجھ لو آخری فیصلہ تمہارا ہی ہوگا!

حنان اسکا کندھا تھپتھپا کر کہتا اسے ایسے ہی سوچ میں ڈالے آگے بڑھ گیا

*********************

ولیمے سے فارغ ہوکر حائنہ اسے اسکے کمرے میں چھوڑ کر چلی گئی تھی اس کے جانے کے بعد وہ حازم کے آنے سے پہلے پہلے چینج کر لینا چاہتی تھی

انہی سوچوں سوچتے ہوئے وہ اٹھ کر ڈریسنگ کے سامنے آتی اپنے ڈوپٹے کی پن کھول کر اسے بیڈ کی طرف اچھالتی اپنی جیولڑی اتر کر بالوں کو جوڑے سے آزاد کر گئی جس سے اس کے ریشمی بال پسشت پر بکھرتے چلے گئی

وہ حمزہ کے ساتھ معاملات سمیٹنے کے بعد تقریبا ایک گھنٹے بعد کمرے میں داخل ہوا تو وہ اسے ڈریسنگ کے سامنے کھڑی نظر آئی اسے دیکھتے ہی حازم کو اپنی تھکن اترتی ہوئی محسوس ہوئی

نجانے کب میں وہ ایک چھوٹی سی لڑکی اسے پوری دنیا سے عزیز ہو گئی تھی

وہ اپنی ہی دھن میں تیزی سے اپنی جیولڑی اتار رہی تھی جب اسے اپنی کمر پر سنسناتا ہوا ہاتھ محسوس ہوا اس کی خوشبو پہنچانتے ہی وہ بے ساختہ دڑیسنگ کا کونہ تھام گئی وہ اس کے بےحد قریب کھڑا اس کے بال کو نرمی سے ایک کندھے سے آگے ڈالتا اپنی تھوڈی اسکے کندھے پر رکھ گیا اور عرین کو لگا وہ آج حقیقی معنی میں ہار جائے گی

اسنے ہمت کرکے نظر اٹھا کر شیشے میں دیکھا جہاں وہ آنکھوں میں بے تحاشہ محبت سموئے اسے ہی دیکھ رہا تھا جانے کیوں وہ اس کی نظروں کی تاب نا لا سکی اسنے پھر سے نظریں جھکا لی تھیں لاکھ اختلافات سہی مگر اس شخص کی با رعب شخصیت کسی کو بھی زیر کر سکتی تھی جب کے دوسری طرف وہ اس کے یوں نظریں جھکانے پر مزید اس کا گرویدہ ہو گیا تھا

You are driving me crazy baby girl!

وہ اسکا رخ اپنی طرف کیے خمار آلود لہجے میں بولا کے اس کے الفاظ ایک لمحے میں عرین کو ایک سال پہلے کی اس رات میں لے گیے تھے جس کے بعد اسنے صرف و صرف بربادی دیکھی تھی

مصوم عرین کی بربادی

اور سب سے بڑھ کر اُس مصوم کی بربادی جو دنیا میں آنے سے پہلی ہی مار دیا گیا

حازم کے خود کی طرف جھکاؤ سے وہ ہوش کی دنیا میں لوٹی اس سے پہلے وہ اس پر اپنی کوئی چھوڑتا عرین نے سوچے سمجھ بغیر ایک زوردار تھپڑ اسکے چہرے کی زینت کیا تھا

کے اس اچانک اتفاد پر حازم بے اختیار پیچھے ہٹتا بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا

ہاؤ ڈئیر یو؟ ایک سیکنڈ لگا تھا اسے جنونی کھول میں آتے ہوئے

دور رہیں مجھ سے خبردار جو میرے قریب آنے کی کوشش بھی کی! وہ سرخ آنکھیں لیے حقارت سے چیخی کے حازم نے اگلے ہی لمحے اسے کھینچ کر خود سے قریب تر کیا

تمہارے قریب آنے کا حق مجھے ہر قانون دیتا ہے۔۔۔اور تم سے اپنا حق وصول کرنا مجھے بہت اچھے سے آتا ہے عرین حازم خان!

مجھ سے دُور۔۔۔۔ باقی کے الفاظوں وہ جنونی کفیت میں اس پر جھکتا ختم کر گیا اس کی لاکھ مزاحمت کے باواجود اپنی مرضی کے مطابق کافی لمحوں کے بعد اسنے اسے آزادی بخشی تھی کے اس کے دور ہونے ہر عرین کو اپنے ہونٹوں سے خون رستا ہوا محسوس ہوا اسنے گہرا سانس لے کر خود کو کمپوز کرنا چاہ وہ اب بھی اس کے سہارے کھڑی تھی

فطری حیا اور غصے کے بائث اس کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ چہرہ بھی لال ہو چکا تھا حازم نے غور سے اسکا یہ روپ دیکھنا چاہ تھا مگر اس کا تھپڑ جسے اس کی آنا پر پڑھا تھا وہ چاہ کر بھی اپنے غصے کو ختم نہیں کر پا رہا تھا

میں چاہوں تو تم سے اپنا ہر حق وصول کر سکتا ہوں مگر مجبوری ہے تمہاری خوشی مجھے میری ضد سے زیادہ عزیز ہے کوشش کرو کے میری ضد کو مت چھیڑو! وہ اسکے کان کے قریب لب رکھے ہر لفظ چبا چبا کر کہتا اسکے ہونٹوں سے رستا خود انگوٹھے سے صاف کرکے اسے ڈریسنگ کی سہارے چھوڑ کر بلکنی میں چلا گیا کے اس کے جاتے ہی عرین کانپتے ہاتھوں سے ڈریسنگ کا کونہ پکڑ کر بیٹھتی چلی گئی جانے کیوں اس خود سے زیادہ اسے مارے گئے تھپڑ کا دکھ تھا وہ کیسے اس پر ہاتھ اٹھا گئی تھی؟ ُ