Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389 Mehram-e-Raaz Episode 16
Rate this Novel
Mehram-e-Raaz Episode 16
Mehram-e-Raaz by Syeda Shah
کونسے روم میں جانا ہے میں نے؟ پانچ منٹ بعد وہ اپنا ہیبڈ کیری چلاتے ہوۓ باہر آئی
سنا نہیں تھا 117 ہے تمہارا…!
آپ سننے دیتے تو سنتی نہ اور یہ رعب مت جماۓ آپ ہیں تو روم خالی کر رہی ہوں ورنہ کوئی نکال کر تو دیکھاتا! وہ اسکے ناگواری سے کہنے پر جتانے والے انداز میں بولی کے اس کی بات پر حازم محض اسے دیکھ کر رہے گیا
بلاوجہ ہی اتنا سامان بھرا جب کہ تم کل میرے ساتھ نکل بھی جاؤ گی! حازم آگے بڑھ کر اس کی ہینڈ کیری اسکے ہاتھ سے لے کر روم نمبر 117 میں شفٹ کرتے ہوۓ بولا
میں آپ کے ساتھ نہیں جا رہی کل…مجھے اسلام آباد گھومنا ہے! اس کے کہنے پر حازم نے غور سے اسکا چہرہ دیکھا اور ٹہر سا گیا
بلاشے وہ اپنی خوبصورتی سے کس کو بھی زیر کر دینے کا ہنر رکھتی تھی تو کیا یہ ممکن تھا کہ وہ یہاں رہے اور المان ملک جیسا انسان اس پر غلط گناہ نا ڈالے؟ وہ محض سوچ سکا تھا
کچھ دنوں میں ایک فیملی ٹرپ پلان کر لیں گے پھر گھوم لینا اسلام آباد سے سکردو تک!
لیکن….اسنے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کے حازم کے اس کی طرف بژھتے قدموں نے اس کی بولتی بند سی کردی
تمہاری واپسی میرے ساتھ ہوگی! وہ اس کے قریب ہوتا نرمی سے اسکے چہرے پر آئی لٹ کو کانوں کے پیچھے اڑستے ہوۓ ٹھوس لہجے میں بولا
جی! اس کے اس قدر قریب ہونے پر وہ ہڑبڑا کر محض “جی” کہ کر اپنے روم میں گھس گئی
یہ روم پہلے والے سے زیادہ الگ نہیں تھا بس فرق یہ تھا کہ اس میں سنگل بیڈ کی جگہ ڈبل بیڈ تھا اور گلاس وال کی جگہ ایک بڑی سی ونڈو تھی روم کا مکمل جائزہ لینے کے بعد رعنین کو میسج کرکے ایرج کو کال ملا لی تھی
*******************
وہ دونوں اس وقت سرینہ کے خوب صورت سے گاڑدن نما لان میں تھے
میں ابھی پچھلے مہینے یہاں آیا تھا جب مجھے اندازہ نہیں تھا میں اگلی بار اپنے پارٹنر کے ساتھ یہاں آؤں گا! المان اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لیے محبت پاش لہجے میں بولا
اور مجھے تو دو دن پہلے تک نہیں پتا تھا کہ تم میری زندگی میں یوں اچانک سے داخل ہو جاؤ گے میں رعنین حیدر سے رعنین ملک بن جاؤں گی اور زندگی اتنی خوب صورت ہو جاۓ گی….رعنین سامنے موجود درختوں اور پھولوں کے دلفریب منظر کو آنکھوں اترتے ہوۓ کہنے لگی
تم خوش ہو نا؟ المان نے اس کی آنکھوں کے کناروں پر نمی دیکھتے ہوۓ پوچھا
”بہت….زندگی سمجھ ہی آنے لگی ہے خوشیاں دیکھائی ہی اب دینے لگی ہیں ایسا لگتا ہے جیسے یہ سب ایک خوٹن سا ہے اور کسی دن مجھے جاگ کر حقیقت کا سامنا کرنا ہے جو اس کے برعکس ہے اور…..
شششش! اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی المان اسکے لبوں پر اپنا ہاتھ جماۓ اس کی پیشانی پر لب رکھ کر اس کی حالت تبدیل کر گیا
ایسی باتیں مت سوچوں میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گا! وہ گھمبیر لہجے میں اس کی پیشانی کا بوسہ لے کر اس کے کان کے قریب لب کیے بولا کے اس اچانک اتفاد پر رعنین کا دل اچھل کر حلق میں آیا سخت سردی میں پیشانی پر پیسنے کی بوندیں آنے لگی فطری حیا کے باعث وہ چاہ کر بھی اپنی سرخی اس سے چھپا نہیں پا رہی تھی
تم تو ابھی سے گھبرا گئی! المان اس کی حالت انجواۓ کرتا اب اس کا گال کا بوسہ لیے بولا
مان….! اس کے لمس پر اسنے گھبرا کر اس سے دور ہونا چاہا مگر وہ اب اس کے کمر کے گرد حصار باندھ چکا تھا
اجازت ہے بیگم؟….اس سے پہلے وہ مزید کوئی جسارت کرتا رعنین نے اسکے بازو پر اپنے ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور دھکیلا تھا
پلزز المان مجھے یہ سب اچھا نہیں لگ رہا….رعنین گھبرا کر کہتی آگے بڑھنے لگی جب وہ اسکا ہاتھ تھام گیا
میرا حق ہے یہ ہمارا نکاح ہوا ہے!
چاہے جو بھی ہے نکاح ہوا پے رخصتی نہیں! اس کے جواب پر المان تیش میں آیا تھا
تم بار بار مجھے ایسے ہی خود سے جدا کرتی ہو ہر بار مجھے یہ احساس دلاتی ہو کہ تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں ہے اگر ایسا تھا تو تم نکاح بھی نا کرتی… تیش سے کہتا وہ اسے ایسے ہی چھوڑے ہوٹل کے اندر کی جانب بڑھ گیا
کیا میں یہ سب ٹھیک کر رہی ہوں؟ اسنے خود سے سوال کیا تھا یکدم اس کے سامنے کچھ سال قبل کا منظر لہرایا
اماں آپ کیوں اتنی فکر کر رہی ہیں؟ ہو جائیں گے ٹھیک بابا!
ناراض ہو کر گئے ہیں اور شوہر کو ناراض کرنے سے اللہ ناراض ہوتا ہے! شمیم اسے پیار سے سمجھاتے ہوۓ بولیں
ایک جماکے سے وہ ہوش میں لوٹی تھی اور اندر کی طرف بڑھی
المان اپنے روم میں آتے ہی سر جھٹک کر بی بیڈ پر ڈھے گیا تھا کچھ دیر مزید گزری تو اسکے دروازے پر دستک ہوئی اور وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اندر داخل ہوئی
اب کیا لینے آئی ہو؟ المان آنکھوں پر ہاتھ رکھے بیڈ پر لیٹے لیٹے ہی اسے دیکھتے ہوۓ بولا
سوری….! رعنین دروازے سے لگی منمنائی
ٹھیک ہے اب جاؤ…! اس نے سرد لہجے میں کہا کے اس کے انداز پر رعنین سرد آہ بھرے بیڈ کے پاس آئی تھی
اب کیوں ایسے ناراض چڑیا بن گئے ہو؟
تمہیں کونسا فرق پڑتا ہے میری ناراضگی سے! وہ ہنوز اسی پوزیشن میں خفگی سے بولا
کیوں فرق نہیں پڑے گا شوہر ہو اور شوہر کو ناراض کرنا اچھی بات نہیں ہوتی! رعنین کا انداز اب قدرے نرم تھا اس کی بات پر المان نے آنکھوں سے بازو ہٹا کر اسے دیکھا وہ اس لمحے پرپل لونگ شرٹ اور ٹراؤز میں بالوں کو کھلا چھوڑے سردی کے باعث سرخ ہوتی ناک سے اس کے سر پر امتحان بنی کھڑی تھی
تم نے مجھے شوہر مانا کب ہے!
میرے مانے سے کیا ہوتا ہے؟ تم میرے شوہر ہو یہ حقیقت ہے اور میں حقیقت سے منہ موڑنے والوں میں سے نہیں ہوں!
بس بس باتیں کروا لو بس تم سے! اب کے وہ اسے چھیڑنے کو بولا کے اس کی بات پر رعنین نے گھور کر اسے دیکھا
اوکے پھر مرو ایسے ہی! تیش سے کہ کر اس سے پہلے وہ پلٹتی المان نے ایک ہی جست میں اس کی کلائی تھام کر اسے بیڈ پر کھینچا کے اس اچانک اتفاد پر وہ بھکلا کر رہے گئی مگر اس بار بولی کچھ نہیں تھی
یییہ….
شوہر کو “مرو ایسے ہی” کہتے ہیں؟ المان اس کی گھبراہٹ نظرانداز کیے گھمبیر لہجے میں بولا کے اس کے سوال پر وہ فوری سے سر نفی میں ہلا گئی
لیکن ان معافی ایسے ہی نہیں ملے گی!
مممان پلللززز! اس کی قربت میں وہ سر تا پیر تک کانپی سی تھی فطری حیا تھی جس نے اس جیسی مضبوط عصاب رکھنے والی لڑکی کو بھی یوں اپنے شوہر کے آگے بے بس سا کر دیا
مجھ پر یقین رکھو نین….!
لیکن ہماری رخصتی نہیں ہوئی ہے!
وہ بھی ہو جاۓ گی شرعی تور پر میں پورا حق رکھتا ہوں تم پر مجھ پر بھروسہ رکھو تمہیں کبھی بیچ راستے میں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا لیکن ہاں اگر تم اس وقت مجھ پر یقین نہیں رکھتی تو بہتر ہے ہم ابھی الگ ہو جائیں کوئی بھی رشتہ اعتماد کے بغیر نا مکمل سا ہے! المان اس کی آنکھوں میں آنکھیں جماۓ نرمی سے بولا تھا
مجھے تم پر یقین ہے…! اس کے اقرار پر وہ مسکرا دیا
جبکہ رعنین شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ بے ساختہ اپنی پلکیں جھکا گئی اسنے خود کو اس کے حوالے کر دیا تھا اسے یقین تھا اس ایک شخص پر جو 28 گھنٹے قبل تین لفظ کہ کر ایک نا محرم سے اس کے لیے محرم بن گیا تھا اس کے باپ کے بعد یہ ایک شخص تھا جسے اس کا محرم بنایا گیا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ مضبوط سی لڑکی اپنی محبت اور پورے خلوص سے اپنے شوہر کے آگے نظریں جھکا گئی تھی
*****************
رات سرکتی جا رہی تھی مگر اسے واپس نا آتا دیکھ کر وہ انجان جگہ پر اس اکیلے روم میں خوف سے پورا روشن کیے بلینکٹ خود کرد لیپٹے بیٹھی تھی
کہاں رہے گئیں نین کی بچی! وہ موبائیل پر دو چالس کا ٹائم دیکھ کر خیال میں رعنین سے مخاطب ہوئی تھی جب اچانک سے اس کے ہلنے پر اسکے پاس پڑے ریموٹ کا کوئی بٹن دبا اور ٹی وی کر گیا
موم…یوں اچانک ٹی وی چلنے سے وہ بے ساختہ اچھل کر بیڈ سے نیچھے اتری
رعنین کی بچی تم بچو اب زرا مجھ سے…میں کہاں جاؤں؟ خوف سے لرزتی وہ اب اس کمرے میں نظر گھومانے لگی تھی کے جب ہی اچانک سے حوا سے پردے ہلنا شروع ہوۓ اور یہاں اس کہ بس ہوئی تھی
یا اللہ مدد…! خود سے بڑبڑاتی وہ تیزی سے باہر کی طرف بھاگی تھی
کہاں جاؤ؟ اردگرد دیکھتے ہوئے یکدم اس کی نظر روم نمبر 116 پر گئی مزید سوچے بغیر اس کے روم کی طرف بڑھے روم نوک کر گئی
وہ اس وقت بیڈ سے ٹیک لگائے سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے لیپ ٹوپ کھولے بیٹھا تھا جب اسکا روم نوک ہوا
اس ٹائم کون ہو سکتا ہے؟ وہ گھڑی پر تین کے قریب ٹائم دیکھ ذہن پر زور ڈالے اٹھا تھا کے اتنی دیر میں مزید دو بار نوک ہوا اس بار وہ خاصا پریشان ہوکر دروازے کی طرف آیا
کھول بھی لے لیں۔۔۔ خوف سے کاپنتے ہوئے بڑبڑاتی وہ پھر سے دستک دینے لگی کے اب کی بار دستک دینے سے پہلے ہی دروازہ کھولا جس سے اسکا ہاتھ حوا میں ایسے ہی رہے گیا
تم؟ حازم سے اسے دیکھتے ہوئے نا سمجھی سے بولا جب وہ اگلے ہی لمحے اسکے سینے سے لگتی اسے ششدر کر گئی
کیا ہوا ہے تمہیں؟ وہ اپنے ذہن میں المان کی کسی غیر مناسب حرکت کا سوچتے ہوۓ ضبط سے بولا جب کہ عرین اسے کچھ بھی کہ بغیر اس کی شرٹ سے لگی سوں سوں کر رہی تھی
کیا ہوا ہے بتاؤ مجھے آئی سوئیر میں اُسے چھوڑوں گا نہیں! اب کے اسنے سرد لہجے میں اس سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے کہا کے اس کی بات پر عرین نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
آپ بھوتوں سے بھی لڑتے ہیں؟ وہ سوں سوں کرتی چہرے پر بلا کی مصومیت سجائے بولی
کیا مطلب؟
وہ۔۔وہ جو میری روم میٹ تھی نا وہ ابھی تک روم میں نہیں آئی اور۔۔۔!
اور؟ حازم نے بے چینی سے پوچھا
اور وہاں بھوت ہیں! اس کی بات ہر حازم کا دماغ بھک سے اڑا تھا
ککیا؟ تم اس وقت مجھ سے یہ مزاق کرنے آئی ہو؟
نہیں نہیں اللہ کا پکا وعدہ میں مزاق نہیں کر رہی وہاں بھوت ہیں ٹٹی وی بھی خود چلنے لگ گیا اور پھر پردے ہلنے لگ گئے موم کہتی ہیں ایسی جگہوں پر نا بھوت بہت زیادہ ہوتے ہیں!
ایسا کچھ نہیں ہوتا اس سے پہلے میری زبان سے کوئی غلط لفظ نکلے اپنے روم میں لوٹ جاؤ! وہ با مشکل ضبط کر سکا تھا
میں نہیں جا رہی! عرین اسے نظر انداز کرتی اندر کی طرف بڑھے بیڈ پر ریلیکس انداز میں بیٹھ گئی
یہ کیا بدتمیزی ہے اپنے روم میں جاؤ عرین!
میں نہیں جا رہی میں اکیلے نہیں سو رہی… جب تک میری روم میٹ نہیں آجاتی میں یہی رہوں گی!
یہ صیح نہیں ہے بیواقوف لڑکی تمہاری روم میٹ کیا سوچے گی تم اس وقت میرے ساتھ کیا کر رہی ہو؟ حازم نے اسے سمجھانا چاہا
وہ کچھ بھی سوچے مجھے تو پتا ہے میں کچھ غلط نہیں کر آفٹر آل بیووووی ہوں میں آپ کی…! وہ منہ پھلاۓ کہتی آخر میں بیوی لفظ پر زور دیے خاصا جتاتے ہوۓ بولی
تم اس وقت میرے غصے کو للکار رہی ہو!
ہا…آپ سگریٹ پیتے ہیں؟ وہ اسکی بات نظر انداز کرتی سائد ٹیبل پر ایش ٹرے دیکھ کر بولی حازم اس کے جواب میں کچھ نہیں بولا
بڑے بابا کو پتا ہے اس بارے میں؟ اس کی خاموشی پر وہ آنکھیں چھوٹی کیے پوچھنے لگی اب اسے اندازہ ہوا تھا اس کمرے میں پرفیوم کے ساتھ جس چیز کی سی اسمیل تھی
کونسے بھوت ناچ رہے ہیں تمہارے روم می اب کے وہ خاصا تیش سے بولا تھا
اگر آپ کو مجھ پر اعتبار نہیں ہے توخود جاکر دیکھ لیں!
میں دیکھ کر آرہا ہوں اس کے بعد بہتر ہوگا کے تم کسی ضد بحث کے اپنے روم میں چلی جاؤ! اسے وارن کرتا وہ لمبے لمبے ڈھگ بھرے اس کے روم میں آیا
پورے روم کھنگالنے کے بعد اس کی نظر بیڈ کی سائد میں پھنسے ریموٹ پر گئی ٹی وی اچانک چلنے کی وجہ اس کے ہاتھ لگ گئی تھی وہ اب ان ہلتے ہوۓ پردوں کے پاس گیا جو کھڑکی کھولنے کی وجہ سے سرد ہوا سے ہل رہے تھے
بیواقوف لڑکی! سر جھٹک کر وہ اب واپس اپنے روم میں آیا
میں نے تم سے کہا…..وہ اندر آتے ہی شروع ہوا تھا مگر اسے بیڈ سے ٹیک لگاۓ سوتے دیکھ کر تھم گیا
شٹ یار….کتنی بیواقوف لڑکی ہے یہ! اسنے بے ساختہ اپنی پیشانی مسلی وہ کیسے ایسے ہی اسکے روم میں آکر سو سکتی تھی کیا وہ واقعی اس پر اس قدر یقین رکھتی یا وہ ایسے ہی تھی؟ وہ محض سوچ سکا
گہرا سانس ہوا کے سپرد کرکے وہ احتیاط سے اسکا سر تکیے پر رکھے اس پر کمفرٹر ڈال کر اپنا لیٹ ٹوپ اٹھاۓ صوفے پر آگیا
رات کے تقریبا ساڑھے تین بجے تک وہ اپنے کام سے فری ہوا تھا اپنا کام سمیٹ کر اسنے ایک بار پھر سامنے لیٹی اس لڑکی کو دیکھا اور پھر سر جھٹک کر اپنے روم میں نکل گیا
***********************
صبح اس کی آنکھ کھلی تھی تو خود کو اس کے حصار میں پاکر ایک شرمیلی سی مسکراہٹ نے ہونٹوں کا احاطہ کیا تھا
مگر اگلے ہی لمحے آنے والے خیال سے وہ ہڑبڑا کر اٹھی گھڑی ابھی صبح کے چھ بجا رہی تھی
شٹ عرین تو مجھے چھوڑے گی نہیں پتا نہیں کیسے رہی ہوگی وہ…اگر صبح کسی نے مجھے المان کے روم سے نکلتے دیکھا تو بہت بڑا مسئلہ ہو جاۓ گا! وہ خود سے کہتے ہوۓ جلدی جلدی اپنے بال سمیٹے ہوۓ اٹھی
کچھ دیر بعد وہ فریش سی المان کے روم سے نکلی اور باہر آئی
اب کہاں جاؤں؟ عرین تو بلینڈر کر دے گی! کچھ سوچتے ہوۓ وہ عرین کی جگہ علینہ کے روم کو نوک کرنے لگی جو اسنے کچھ دیر بعد موندی ہوئی آنکھوں سے دروازہ کھول گئی
”کیا ہو گیا ہے صبح صبح کیوں اٹھا دیا…“
بہت لمبی کہانی ہے بتاتی ہوں تمہیں! رعنین زبردستی اندر گھستے ہوۓ بولی
بعد میں ہی بتانا پھر مجھے سونے دو! علینہ جماۓ لے کر پھر سے سو گئی تھی جب کے رعنین بیڈ سے ٹیک لگاۓ المان کو سوچنے لگی تھی اسکا دل اب بھی رات کی طرح ہی بڑی طرح دھڑک رہا تھا
”اس کی زندگی یکدم ہی خوبصورت ہو گئی تھی“
………………………
مسلسل بجتے فون سے اس کی آنکھ کھولی تھی کمرے میں نظر ڈرا کر وہ اپنے ذہن پر زور ڈالنے لگی پھر ایک جماکے سے اٹھی بے ساختہ اس کے ذہن میں رات کا منظر گونجا
افف اللہ میں کیوں ایسی حرکتیں کرتی ہوں؟ وہ اپنی اس کے گلے لگنے والی حرکت پر شرمندہ ہوتی سرخ ہوتے گالوں سے بولی
سد شکر کے وہ اس کے روم میں کہیں نہیں تھا فون کی اسکرین پر ایرج کی کال دیکھ کر وہ کال آٹینڈ کرکے انہیں اپنی خیریت بتا کر فون رکھتی واشروم میں گھس گئی
کچھ دیر بعد ہی وہ فریش سی بلیک پینٹ اور بلیک شرٹ پہنے باہر آتی شیشے کے سامنے آئی اسنے اس پر بلیک لونگ لیدر کی جیکٹ پہننی تھی شکر تھا کہ حازم نے اسکا سوٹ کیس رات میں یہی رکھ دیا تھا جسے دیکھ کر وہ خاصا متاثر ہوئی تھی مگر وہ رات بھر کہاں رہا تھا؟
ابھی وہ انہیں سوچوں میں تھی جب حازم دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا
یہ کیا حرکت ہے لڑکیوں کے روم میں نوک کرکے آتے ہیں! اس کے اچانک نازل ہونے پر وہ بری طرح سٹپٹا کر بولی
ہممم لڑکیوں کے روم میں نوک کیے بغیر آنا غلط ہے لیکن تم تو شوہر مانتی ہو نا مجھے! حازم عام سے انداز میں بیڈ کی سائد دراز میں کچھ دھونڈتے ہوۓ مصروف سا بولا
مانتی نہیں ہوں آپ نے نکاح کیا ہے مجھ سے! اس کی بات پر وہ خاصا بدمزہ ہوتے ہوۓ بولی
میری ایک فائل رکھی تھی یہاں کہاں ہے؟
مجھے نہیں ہتا میں تو صرف سوئی ہوں یہاں! وہ اپنے بال برش کرتے ہوۓ بولی
ہاں وہ تو خاصا گھوڑے گدھے بیچ کر سوتی ہو تم!
آپ کو کیسے پتا؟ اس کی بات پر عرین نے آنکھوں چھوٹی کیے پوچھا
میرے خیال سے یہ روم میرا تھا پوری رات تمہاری وجہ سے خوار ہوا ہوں! وہ اب بھی دراز کھنگالنے میں لگا ہوا تھا
تو میں نے تو آپ کو کچھ نہیں کہا تھا آپ سو جاتے صوفے پر! اس کی بات پر حازم نے گردن موڑ کر اسے دیکھا اس کی جانب عرین کی بشت تھی مگر شیشے میں اسکا عکس دیکھ کر وہ رک سا گیا وہ اس وقت بلیک پینٹ اور گھٹنوں تک آتی شرٹ میں لیگے بالوں میں کھڑی بے حد جوبصورت لگ رہی تھی اس کی نظریں خود پر محسوس کرکے عرین کا دل اچھل کر حلق میں آیا وہ کنفیوز سی پلٹی جس سے وہ فوری ہوش میں آتا حلق تر کیے بولا
تم واقعی اتنی بیواقوف ہو یا اتنی آزاد خیال ہو؟ اگر کوئی تمہیں میرے روم سے نکلتے ہوۓ دیکھے تو کیا سوچے گا؟
تو آپ لوگوں کے سوالوں سے ڈر رہے ہیں؟ اپنے کہیے گئے سوال سے وہ بے ساختہ اپنی زبان دانتوں تلے دبا گئی مگر دیر ہو چکی تھی اس کی بات پر حازم آنکھوں میں بلا کی سختی لیے اس کی طرف بڑھا
آئندہ یہ لفظ میرے لیے اپنی زبان سے مت نکالنا….! وہ اس کے قریب آتا ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا کے اس کے یوں قریب آنے پر عرین حلق تر کیے دریسنگ سے لگی تھی
میں پوری رات تمہاری وجہ سے ہی خوار ہوا ہوں یاد رکھنا اس طرح کی صورت حال میں کبھی بھی کسی مرد پر تہمت نہیں لگتی تمہت ہمیشہ عورتوں پر لگتی ہے مرد بہت آسانی سے اپنا دامن بچا لیتا ہے….! حازم اس پر جھکاؤ کیے اس کے کان کے قریب کہتا اس کی دھڑکنوں میں اتعارش پیدا کر گیا وہ اس لمحے اس کی قربت اور اس کی سٹرونگ پرفیوم سے بامشکل اپنے قدموں پر کھڑی تھی
سمجھ میں آگئی؟ اسکے پوچھنے پر وہ بے اختیار سر اثبات میں ہلا گئی جس پر حازم مسکرا کر اسکے پیچھے سے دریسنگ پر رکھی اپنی فائل اٹھا کر اسے اسی پوزیشن میں چھوڑے کمرے سے نکل گیا
اس کے جاتے ہی وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ گئی وہ اپنی چیزوں پر کمپرومائز نا کرنے والا شخص اس کی عزت کے خیال میں پوری رات خوار ہوا تھا
