Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389 Mehram-e-Raaz Episode 17 (Part 1)

357.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 17 (Part 1)

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

اس کے جانے کے کچھ لمحوں بعد وہ باہر آئی

ہاۓ! رعنین اس کے پاس آتی خوشدلی سے بولی مگر وہ اسے نظر انداز کرتی علینہ کی طرف بڑھ گئی

تم ناراض ہو کیا مجھ سے؟ رعنین اس کے پاس آتے ہوۓ بولی

نہیں میں کیوں ناراض ہونگی؟ تم نے اچھا کیا پوری رات باہر رہی اور مجھے ایک نئی جگہ نئے کمرے میں اکیلا چھوڑ دیا….عرین نے سپاٹ انداز میں کہا

سوری یار لیکن رات میں المان کہ طبیت بہت خراب ہو گئی تھی ہم لوگ سارہ ٹائم ہوٹل کے لان میں ہی رہے! اسنے جو بات علینہ سے کی تھی وہی اب عرین کو بتائی کے اس کی بات پر عرین کے تنے ہوۓ تاثرات قدرے نرم ہوۓ

اب ٹھیک ہے وہ؟

ہاں اب بہتر ہوگا ابھی تک ملی نہیں میں اسے…! رعنین جھجھک کر بولی

اللہ سب بہتر کریں گے تم پریشان نا ہو! عرین کے محبت سے کہنے پر وہ پھیکا سا مسکرا دی

چلیں اسٹوڈنٹس جیسے کے آپ سب جانتے ہیں ہمارا یہ ٹریپ صرف چار دن کا ہے

اسئلے ہم آج فیصل مسجد اور دامن کوہ کا ویزٹ کریں گے! ایک معزز عورت(جو شاید ان کی میم تھیں) اپنے مخصوص نرم انداز میں بولیں

اوکے میم….سب خوشی سے بولے تھے جب کے عرین ایکسائٹڈ سی اس جگہ کے بارے میں سوچنے لگی پھر یکدم اس کا خیال آیا مسکراہٹ تھم سی گئی

اللہ تعالی پلزز وہ مجھے واپس نا لے کر جائیں!

******************

تقریبا آدھے گھٹنے کے بعد وہ سب ناشتے سے فارغ ہوکر بس میں بیٹھ کر فیصل مسجد کے لیے نکلے تھے

عرین اور علینہ کے بارہا کہنے پر وہ جھجھک کر المان کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی جو آج اسے ایک الگ ہی انداز سے دیکھ رہا تھا اس کی آنکھوں میں رعنین کو اپنے لیے مزید محبت نظر آئی تھی مگر آج اس کے ساتھ بیٹھنے پر اسکا دل عجیب سی طرز میں دھڑک رہا تھا

گڈ مورننگ وائفی! اسکے بیٹھتے ہی المان اسکا ہاتھ تھامے بولا

ممورننگ ممیرا ہاتھ چھوڑو کوئی دیکھ لے گا!

”دیکھنے دو میں اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا ہوں“ المان نے گھمبیر لہجے میں کہا

اچھا جی؟ ہمت ہے سب کے سامنے بیوی تسلیم کرنے کی؟

بلکل ہے میں ڈرتا نہیں ہوں کسی سے..اگر یہ سب خوفیاں رکھا ہے تو صرف تمہارے لیے….میں نے سوچا تم پہلے اپنی موم سے بات کر لو! المان اسکا ہاتھ سہلاتا ہوا بولا

”میں جلدی اماں سے بات کروں گی“

ہمم انشاءاللہ ! المان مسکرا کر بولا جس پر وہ بھی ہلکے سے مسکرا دی

آدھے گھٹنے کی مصافت کے بعد وہ لوگ فیصل مسجد پہنے تھے

واؤ…! اسے دیکھتے ہی عرین اور رعنین کے منہ سے بے ساختہ نکلا

کتنی خوبصورت ہے یہ! وہ دونوں اس کے ٹھنڈے فرش پر چلتی ادرگرد کا خوبصورت نظرہ آنکھوں میں اترے بولی

تمہارے لیے تو اور بھی خوبصورت ہوگا یہ سب! عرین نے کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوۓ کہا

اچھا اور وہ کیوں؟ رعنین ابرو اچکا گئی

تمہارے ساتھ المان جو ہے اس کے ساتھ یہ نظاہرہ مزید دلکش لگتا ہوگا….

ہاں یہ تو ہے ایک طرف یہ خوبصورت سفر اور دوسری طرف خوبصورت ہمسفر!

تمہیں اس کیا اس وقت کسی کی کمی محسوس ہو رہی ہے؟ رعنین نے عام سے انداز میں پوچھا جب کہ اس کے سوال پر عرین کو بے ساختہ اس شخص کی یاد آئی تھی جو اس کے پاس ہونے کے باوجود اس کے ساتھ نہیں تھا

نہیں تو میں نے تو بس ویسے ہی کہا! وہ دونوں انہیں باتوں میں مصروف تھیں جب عرین کا فون رنگ ہوا

ہیلو….

کہاں ہو تم؟ ان نون نمبر سے اس کی بھاری سرد آواز پہنچان کر وہ دل تھام کر رہے گئی

عرین میں المان کے پاس جا رہی ہوں تم بھی وہی آجانا! رعنین اسے موبائیل پر مصروف ہوتے دیکھ کر کہتی المان کی جانب بڑھ گئی جب کے دوسری طرف المان کے نام سے اس کی آواز میں اب غصہ جھلکنے لگا تھا

آئی سیڈ کہاں ہو تم؟

ففیصل مسجد…..

دو منٹ کے اندر اندر وہاں سے نکلو میں تمہیں پک کرنے آرہا ہوں!

سن رہی ہو؟

ججج جی جی! فون کٹ گیا

کہاں جا رہی ہو عرین؟ علینہ نے اسے نیچھے کی جانب جاتا دیکھ کر پکارا جسے وہ ان سنی کرتی بھاگنے کے سے انداز میں نیچھے آرہی تھی اس وقت اس کے دماغ میں صرف حازم سوار تھا

اسے کھڑے پانچ منٹ گزر چکے تھے مگر وہ اب تک کہیں دیکھائی نہیں دیا

عرین یہاں کیا کر رہی ہو اوپر سب ویٹ کر رہے ہیں؟ المان کی آواز سے وہ حلق تر کرگئی اگر حازم اسے اس کے ساتھ لے تو مسئلہ ہو جاۓ گا

ممیں آرہی ہوں آپ چلیں!

کیوں ساتھ چلو نا نین بھی تمہیں دھونڈ رہی ہے!

آپ چلیں میں آتی ہوں مجھے کچھ کام ہے!

’اوہ کم اون عرین آئی تھنک تمہیں کس نے کچھ کہا ہے جبھی یہ بہانے کر رہی ہو‘

نہیں نہیں ایسی کوئی بات…

تو پھر چلو! اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی المان نے اسکا پاتھ پکڑا تھا کے اس کی اس حرکت پر عرین نے گھبرا کر اس کی گرفت سے اپنا ہاتھ نکالنا چاہ

میرا ہاتھ چھوڑو! عرین غرائی

کم اون عرین یہ سب نارمل ہے تم تو باہر سے آئی ہو پھر بھی اتنی فارمل ہو! اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی المان کو پڑنے والے مکے پر وہ سرعت سے پلٹی

اور اسے لگا وہ اگلی سانس نہیں لے پائے گی اس کے عین پیچھے وہ چہرے پر بلا کی سختی لیے کھڑا تھا عرین کو اس لمحے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے خفگی نظر آئی تھی

تیری ہمت کیسے ہوئی ہمارے خاندان کی لڑکیوں کے آس پاس بھی نظر آنے کی! حازم کی دھاڑ پر وہ سہم کر دو قدم پچھے ہوئی جب کے المان اپنی شرٹ سے خون صاف کیے اب اس کی طرف جوابی حملے کی لیے بڑھا

پہلے جانے دیا تھا اس بار۔۔۔

پہلے تو نے نہیں پہلے تجھے میں نے جانے دیا تھا لیکن اس بار تو نے ناقابلِ برداشت حرکت کی ہے!

ان دونوں کو گھتم گھتا ہوتے دیکھ کر لوگ کا ایک مجعمہ یہاں اکٹھا ہو گیا

نہیں پلزز چھوڑ دیں اُسے! عرین ہمت کرکے بار بار حازم کا بازو تھامنے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ کسی شیر کی طرح اپنے شکار پر پوری طرح جھپٹ چکا تھا

بامشکل پانچ چھ آدمیوں کے ہٹانے سے وہ دونوں الگ ہو پائے تھے

میں اسے۔۔۔ المان اپنا خون صاف کیے پھر سے اس کی طرف بڑھنے لگا جب عرین اس کے راستے میں حائل ہوئی

نہیں المان پلزز تمہیں نین کی قسم ہو پلزز چلے جاؤ! اس کے کہنے پر وہ رک سا گیا اسنے نظر اٹھا کر حازم کو دیکھا جو سرد آنکھیں عرین پر گاڑھے ہوئے تھا جس سے واضع تھا اسے اس کا المان کو مخاطب کرنا زہر لگا ہے یہی لمحہ تھا وہ جزباتی پن سے نکل کر ہوش میں آتا ایک تیر سے دو شکار کر گیا

صرف تمہاری وجہ سے جا رہا ہوں!

اس کے جانے کے بعد وہ اب حازم کی طرف پلٹی اس کی نظروں کی تپش سے اسے اپنا چہرہ جھلستا ہوا محسوس ہوا

چلیں؟

اس کے کہنے پر وہ سر جھٹکتا لمبے لمبے ڈھگ بھرے آگے بڑھ گیا

******************

فیصل مسجد کے بعد ہوٹل پہنچ کر اسنے جلدی جلدی اپنا اور عرین کا سامان گاڑی میں رکھا لیا تھا اس دوران عرین گاڑی میں ہی رہی تھی

شام کے چھ بجے کے قریب وہ لوگ اسلام آباد سے لاہور کے لیے نکل گئے

مجھے بھوک لگ رہی ہے میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا! کافی دیر کی خاموشی کے بعد بلاآخر اسنے زبان کھولی

عزت کھا تو چکی ہو میری اب کیا چاہیے اور! حازم کی سرد آواز گونجی

ایکسکیوز می…میں نے کچھ نہیں کیا سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے آپ ہی اس بچارے پر…..اس کی بات پوری ہونے سے قبل ہی حازم نے بریک پر پاؤں رکھا اور سرد نظروں کا زاویہ اس کی طرف کیا

میری وجہ سے؟

جی آپ نے فضول تماشا کیا!

تمہیں بہت فکر ہو رہی ہے اس کی ہاں؟ اس کی بات پر عرین نے چونک کر اسے دیکھا(تو کیا وہ اس پر شک کر رہا تھا)

جی ہاں کیوں کہ آپ کی طرح پتھر نہیں ہے میرے سینے میں!

ہممم صیحیح تو ایک کام کرتے ہیں نا تمہیں واپس چھوڑ دیتا ہوں!

ایک تماشا آپ لگا چکے ہیں اب مزید مت کریں….پہلے آپ سے میری دو دن کی خوشی نہیں دیکھی گئی

مجھے لینے آگئی شوہر ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے آپ کچھ بھی کریں ! عرین منہ بناۓ بولی

ٹھیک ہے پھر میں اس سب کو آج ہی ختم کر دیتا ہوں جیسے نکاح کیا تھا ویسے ہی ڈیورس….اس سے آگے بولنے سے عرین کی حرکت پر وہ ساکت ہو گیا وہ تیش سے اس کے لبوں پر اپنا ہاتھ جما گئی تھی

خبردار….سمجھ کیا رکھا ہے آپ نے خود کو میں آپ کی عزت اس لیے کرتی ہوں کیوں کہ آپ میرے شوہر ہیں یہ رشتہ کوئی مزاق نہیں ہے جیسے آپ جب چاہیں توڑ دیں! وہ تیش سے غرائی تھی کے حازم اس کے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا آج پہلی بار اسے اس رشتے ہی نوعیت کا احساس ہوا تھا اگلے ہی لمحے وہ اسکا ہاتھ جھٹکتا سٹرنگ سنبھال گیا

کیا کھانا ہے تم نے؟

کچھ نہیں!

اوکے نا کھاؤ! سر جھٹک کر کہتا وہ پھر سے سامنے کی طرف متواجہ ہو گیا ایک بار پھر گاڑی میں خاموشی چھا گئی تھی

اور المان سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے وہ تو بس میری فرینڈ کا منگیتر ہے!

میں نے پوچھا؟ حازم نے ابرو اچکا کر کہا

میں پھر بھی بتا رہی ہوں….مجھ پر شک….

شک نہیں کیا میں نے تم پر…جسٹ سوال پوچھا تھا! وہ اس کی بات کاٹ کر بولا

میری فرینڈ کی وجہ سے ہی اس سے اچھے سے بول لیتی ہوں نہیں تو وہ ناراض ہو جاۓ گی! عرین اپنی دھن میں بولی جبکہ اس کا یوں کہنا حازم کو سخت ناگوار گزرا تھا

اوہ تو تمہیں مجھ سے زیادہ اپنی دوست کی ناراضگی کی فکر ہے؟

اوہ تو آپ کو جیلسی ہو رہی ہے؟ عرین نے اسی کے انداز میں پوچھا

مجھے کیوں ہوگی؟ وہ پزل ہوا

آپ کا چہرہ تو یہی بتا رہا ہے! وہ اب کچھ مطمئن سی بولی

تمہیں جیسے چہرے پڑے آتے ہیں! حازم سر جھٹک کر بولا

سارے نہیں لیکن آپ کا چہرہ پڑھنا آتا ہے!

تو کیا لکھا ہے میرے چہرے پر؟ وہ آج چاہ کر بھی اس کی باتوں کو نظرانداز نہیں کر پا رہا تھا

ادھر دیکھیں…. میری آنکھوں میں! اس کے کہنے پر اسنے اسپیڈ سلو کرکے اس کی طرف دیکھا

عرین نے اس کی آنکھوں میں ایک نظر دیکھا اور پھر پلکیں جھکا گئی

بتاؤ کیا کہ رہی ہیں میری آنکھیں؟بس ہو گئی تمہاری بولتی بند؟ اس کی جھکی نظریں دیکھ کر وہ طنزیا بولا

آپ کی آنکھیں اور چہرہ دونوں الگ الگ باتیں کر رہے ہیں آپ کا چہرہ آپ کی آنکھوں کے کہنے کو اپنے سرد تاثرات سے چھپانے کی کوشش کر رہا ہے!

اور ایسا کیا کہ رہی ہیں میری آنکھیں! حازم اب پوری طرح اس کے جھکے ہوۓ سر کی طرف متواجہ تھا

آنکھیں بتا رہی ہیں جو میں سمجھ رہی ہوں وہ ٹھیک ہے آپ جیلس ہو رہے تھے المان سے….آپ کو میرے قریب اسکا کھڑا ہونا ناگوار گزرا تھا میں جانتی ہوں آپ حنان سے باخبر رہتے ہیں اسئلے آپ یہ بھی جانتے ہونگے کہ ہماری یونی میں المان پڑھتا ہے لیکن آپ نے جب کوئی ایکشن نہیں لیا

آپ کو خوف آیا جب آپ نے مجھے اس کے ساتھ دیکھا آپ کو لگا وہ مجھے آپ سے چرا لے گا آپ کو لگا وہ میرے ساتھ کچھ غلط کر دے گا! وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتی آخر میں چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگی جو ساکت بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا

یہ سب تو میرا اندازہ ہے ہو سکتا ہے غلط ہو! عرین اس کے سپاٹ تاثرات دیکھ کر تلخی سے مسکراتی اپنی ونڈو کی طرف ہونے لگ جب حازم نے اسکا بازو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا

اور اگر میں کہوں تمہارا اندازہ درست ہے تو؟ اگر میں کہوں کے مجھے نہیں پسند وہ شخص مجھے اس کا تمہارے قریب ہونا نہیں پسند تو؟ اسنے اس کے کان کے لو کے قریب جھک کر گھمبیر لہجے میں پوچھا

تو میں آپ کی راضا کے لیے دوبارہ کبھی اس کی شکل نہیں دیکھوں گی! وہ اس کی قربت سے دل میں ہوتی ہلچل کو ترتیب دیتے ہوۓ ٹھوس لہجے میں بولی کے اس کے جواب پر حازم بے ساختہ مسکرایا

تو پھر تم نے آج آخری بار المان کو دیکھا ہے! اس سے کہ کر وہ جیسے ہی اپنی سیٹ پر بیٹھنے لگا یکدم عرین کی نظر شیشے کے باہر پڑتے عکس پر گئی

کیا ہوا کوئی بھوت دیکھ لیا ہے کیا؟ حازم اس کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھتے ہوۓ اس کی نظروں کے تعقب میں دیکھنے لگا

شٹ….میری گن پکڑاؤ! اس سے کہتا جلدی سے حمزہ کو کال.ملا گیا