357.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 4

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

کچھ غموں سے دو چار ہونا ہے…..

زندگی نے ابھی بہت کچھ کھونا ہے!

رات سرکتی جا رہی تھی بہت سوچنے کے بعد وہ ایک فیصلے پر پہنچتا وہ سونے کے لیے لیٹ گیا

”میں نے تمہیں پہلے بھی کہا ہے چھوٹی لڑکی مجھ سے بحث کرنے والوں سے یا تو مجھے نفرت ہو جاتی ہے یا وہ مجھے پسند آجاتے ہیں کوشش کرو مجھ سے کم ہی الجھو نہیں تو میں تمہارے لیے کتنا خطرناک ثابت ہونگا“

اونہوں مغرور انسان نا ہو تو…..دوسری طرف وہ اب تک اسی کے الفاظوں میں گم سی تھی نیند کے باواجود لاشعوری طور پر اسے سوچ رہی تھی

کیا ہوا عرین نیند نہیں آرہی؟ حائنہ کی آنکھ کھلی تو اسے اپنے ساتھ بستر پر لیٹے کچھ سوچتے ہوۓ دیکھ کر اسنے نرمی سے پوچھا

”نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں بس سونے ہی لگی تھی لیکن فجر کا سوچ کر نہیں سوئی“

ہاں شاید ٹائم ہو گیا ہے چلو پہلے نماز ادا کر لیتے ہیں….حائنہ موبائیل میں ٹائم دیکھ کر اٹھی اس کے کہنے پر وہ بھی بالوں کو جوڑے میں قید کرتی اٹھی

نماز کے بعد وہ دونوں کچھ دیر لان میں چہل قدمی کے لیے نکل گئیں

تم سوئی کیوں نہیں ایسے طبیعت خراب ہو جاۓ گی تمہاری…!

ہاں لیکن ابھی نیند اڑ چکی ہے بعد میں سو جاؤں گی اتنے تم مجھے اپنا لان تو دیکھاؤ….حائنہ نے اسے اپنے گھر کی پیچھلی طرف کے لان کا بتایا جسے دیکھنے کے لیے وہ بہت ایکسائٹڈ تھی

اس لان کو حازم بھائی اور میں نے بچپن میں ڈیکوریٹ کیا تھا وہ عرین کو بتانے لگی جو ستائشی انداز میں پورے لان میں نظر گھوما رہی تھی

کیسا لگا؟

بہت پیارا میں نے آج سے پہلے اتنے خوبصورت پھول نہیں دیکھے! عرین سحرذدہ سی بولی

یہ سب پھول حازم بھائی کی پسند کے ہیں انہیں منفرد اور خوبصورت پھول اگانے کا شوق ہے حازم بھائی کی ہی احتیاط کی وجہ سے یہ اتنے تروتازا ہیں وہ ان کے لیے لاپروائی برداشت نہیں کرتے…! حائنہ لہجے میں اس کے لیے دھیڑوں محبت سموۓ بولی

تمہیں حازم سے بہت محبت ہے نا؟ عرین نے مسکرا کر پوچھا

مجھے اپنے دونوں بھائی بہت عزیز ہیں لیکن حازم بھائی مجھے پرنسس کی طرح ٹریٹ کرتے ہیں..بھائی کا کہنا ہے ہر لڑکی ہی پرنسس اور ہر عورت قوئین ہے!

مجھے ایسا نہیں لگتا وہ میرے لیے شاید ایسی راۓ نہیں رکھتے بٹ شاید انہیں میں لڑکی نہیں لگتی! اسنے ہنستے ہوۓ بولا جس پر حائنہ نے اسے خفگی سے دیکھا

ایسی بات نہیں ہے تم ابھی بھائی کو سمجھی نہیں ہو جب تم انہیں سمجھ جاؤ گی تو تمہیں پتا لگے گا وہ کس ٹائپ کے ہیں اسکا انداز تم ان پھولوں سے بھی لگا سکتی ہو جو شخص ان پھولوں کو مرجھانے نہیں دیتا وہ ایک پھول سی لڑکی کے لیے کس طرح سخت ثابت ہو سکتا ہے؟

ہممم چلو اب مجھے ان سب پھولوں کے نام بتاؤ میں آسٹریلا جا کر انہیں اپنے لان میں لگاؤں گی! اس کے کہنے پر حائنہ نے اسے سارے پلانٹس اور پھولوں کے نام لکھواۓ تھے

ان سب میں زیادہ تر پودے H سے شروع ہیں تم لوگوں کے گھر میں H کی کچھ زیادہ ویلیئو نہیں ہے؟ عرین نے تفتشی انداز میں پوچھا وہ لاشعوری طور پر اس کے ذکر میں دلچسپی لے رہی

ہاہاہا ہاں ایسا ہی سمجھ لو سب سے پہلے حازم بھائی کا نام ڈیڈ نے رکھا تھا

حازم یعنی( ہوشیار, دور اندیش اور معاملہ فہم) اس کے بعد حنان کا نام حازم بھائی نے رکھا اس کے معنی رحمت ہیں اور پھر میرا نام بھی حازم بھائی نے رکھا میرے نام کا مطلب خوصورت پھول ہے… آئی تھنک حازم بھائی H سے بہت obsessed ہیں! اسنے ہنستے ہوۓ بتایا

اچھے نام ہیں تم سب کے! وہ مسکرا کو بولی

ہیں نا میں بھی یہی سوچتی ہوں ہمارا اسلام کتنا پیارا ہے نا اسلامک نیم کی بھی ایک اپنی ہی ہسٹری ہے ہر نام کے ساتھ کوئی نا کوئی خوبصورت معنی چھپا ہے! حائنہ کے لہجے میں اسے محبت ہی محبت نظر آئی تھی

بے شک ایسا ہی ہے!

تمہارے نام کا مطلب کیا ہے عرین؟ حائنہ اب اس کی طرف متواجہ ہوئی تھی

مجھے نہیں معلوم شاید کوئی مطلب نہیں ہے!

ایسا کیسےہو سکتا ہے کوئی تو مطلب ہوگا نا…تمہارا نیم بھی تو اسلامک ہے!

ہاں لیکن مجھے اسکا مطلب نہیں معلوم… اسنے جھوٹ سے کام لیا اسکے نام کا مطلب اسے شروع سے عجیب لگا تھا

Areen means Forest!

حازم کی بھاری آواز سے وہ دونوں پلٹے تھے

”ایک ایسا جنگل جو اپنے ساۓ میں بہت سے لوگوں کو تپتی دھوپ سے بچاتا ہے…جہاں ہر شخص آسانی سے سفر نہیں کر سکتا جنگل کے راستوں کو کوئی مستقل رہائشی ہی جان سکتا ہے…جنگل لفظ عجیب ہے لیکن ایک جنگل ہی ہے جو نجانے کتنی زندگیوں کو خود میں سمیٹے ہوۓ ہوتا ہے“ وہ اس پر نظریں جماۓ ٹھنڈے لہجے میں بولا

واؤ بھائی….آپ کو کیسے پتا لگا عرین کا مطلب؟

میرے لیے مشکل نہیں ہے! حازم کندھے اچکا کر عام سے انداز میں کہتا اپنا رنگ ہوتا موبائیل کان سے لگاۓ نکل گیا جب کے عرین اس کے لفظوں میں کہیں کھو سی گئی تھی اسے آج سے پہلے اپنا نام کبھی اتنا خوبصورت نہیں لگا تھا اسنے پلٹ کر اس شخص کی پشت کو دیکھا جو اتنی خوبصورتی سے اسکے نام کا مطلب اسے سمجھا کر گیا تھا

******************

صبح کے آٹھ بجے اسکا الرام بجا تھا

اٹھ جا میری نکمی اولاد….! شمیم کچن میں سے چلائی

اٹھ گئی اماں! گھڑی پر جہاں صرف اس کی یونیورسٹی کے ٹائم میں پانچ منٹ رہے گئے تھے

ہاۓ اللہ پھر سے لیٹ! وہ جلدی سے کمفرٹر سے نکلتی واشروم کی طرف بڑھ کچھ پانی کے چھینٹے منہ پر مارنے کے بعد وہ پینک کڑتے اور بیلو جنس پر اسٹولر لیے جلدی سے اپنے بال پونی میں قید کیے اگلے دو منٹ میں تیار تھی

”ناشتہ تو کرتی جاؤ“

نہیں موم پہلے ہی بہت لیٹ ہوں… بس نکل جاۓ گی!

اللہ ہدایت دے اسے! شمیم پیچھے اس کے لیے دعا کرتی رہے گئیں

یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر المان پر گئی جو سکندر کے ساتھ کھڑا اسے کوئی فائل دیکھا رہا تھا

اسے نظر انداز کرے وہ آگے بڑھنے لگی کے اسے دیکھتے ہی سکندر نے المان کا بازو ہلایا اس کے اشارے پر وہ اسے آنکھ مارتا جان کر رعنین سے ٹکرایا کے اس اچانک اتفاد پر رعنین کے ہاتھ میں موجود فائل زمین پر گری تھی

خلاف معمول اس پر ایک بھی نظر ڈالے بغیر وہ خاموشی سے اپنے پیپرز سمیٹ کر آگے بڑھ گئی جہاں اب علینہ اس کے انتظار میں تھی

اسے کیا ہوا برو اسنے تو تجھے گھاس تک نہیں ڈالی… سکندر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے بولا

آکڑ آگئی ہے یا شاید اکڑ ٹوٹ گئی ہے خیر اسے میں دیکھتا ہوں! وہ خود سے کہتا کلاس روم کی طرف چل دیا

کیا ہوا نین آج بہت خاموش خاموش ہو؟ علینہ اسکا مرجھایا ہوا چہرہ دیکھ کر بولی وہ لوگ فری ٹائم میں کینٹین کی طرف جا رہے تھے

نہیں میں تو خاموش نہیں ہوں…تمہیں ایسا کیوں لگا؟.

تم نے آج المان کو کچھ کہا نہیں نا! علینہ نے گہرے انداز میں پوچھا

ہاں کیوں کہ میری اماں کہتی ہیں اگر کیچڑ میں کھیلوں گے تو داغ خود پر ہی آتا ہے اسئلے بہتر ہے کہ میں ایسے لوگوں سے دور رہوں! وہ اپنی پاؤں پر نظریں مرکوز کیے بولی

ہمم گڈ چلو میں تمہارے اور اپنے لیے کچھ لے کر آئی! اس سے کہ کر علینہ آگے بڑھ گئی جبھی کوئی اس سے کچھ فاصلے پر آکر رکا

مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے مس رعنین! اس کی آواز پر رعنین نے گردن موڑ کر اسے دیکھا وہ بیلو جینس اور سفید شرٹ میں آنکھوں پر گلاسس لگاۓ اسے ہی دیکھ رہا تھا

فرمائیے؟

آپ مجھ سے ناراض ہیں؟ المان نے جھجھک کر پوچھا جبکہ اس کے بے تکے سوال پر رعنین کا دل کیا اسکا منہ نوچ لے

نہیں میرا آپ سے ایسا کونسا رشتہ ہے میرے ابا لگے ہو بھائی لگے یا انکل؟ جو میں تم سے ناراض ہونے لگی؟ وہ مسنوئی حیرت لیے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر بولی کے اس کے انداز پر المان نے سر جھٹکا

آج اپنے مجھے ٹکرانے پر سو سنائی نہیں نا! اسنے اپنی پریشانی بتائی

اوہ اچھا ادھر دیکھو… پاگل لکھا ہے کیا؟ پیچھلی بار تمہارا پیٹ نہیں بھرا تھا تو اب واپس مجھے میری اوقات یاد دلانے آۓ ہو؟……اس کی بات سنتے ہی وہ نارمل سے انداز میں اسے اپنی پیشانی کی طرف متواجہ کرتی بولی

دیکھیں مسز رعنین ایسی کوئی بات نہیں ہے میں اپنی اس دن کی حرکت پر شرمندہ ہوں!

اور ایسے اچانک شرمندہ ہونے کی وجہ جان سکتی ہوں؟

میں تم مجھے اچھی لگنے لگی ہو میں چاہتا ہوں ہم فرینڈز بن جائیں! اسنے صاف گوئی سے کام لیا جبکہ اس کی بات پر رعنین کا منہ کھلا کا کھلا رہے گیا

مجھے لگتا ہے آپ کا دماغ اپنی جگہ سے ہل گیا ہے مسٹر المان…جیسے میں آپ کے گھر میں آنا افوڈ نہیں کر سکتی ویسے ہی آپ کی دوستی بھی افوڈ نہیں کر سکتی بہتر ہوگا آئندہ مجھ سے دوری اختیار کریں نہیں تو میں کچھ افوڈ کروں نا کروں آپ کا کفن دفن تو افوڈ کر ہی سکتی ہوں…! ٹھنڈے لہجے میں اسے آگ لگاتی واک اوٹ کر گئی

فل پٹاخہ ہے! المان اسے نئے لقب سے نوازتا سر جھٹک گیا

*****************

ویسے یار اتنا بھی برا نہیں ہے وہ! وہ دونوں کیفیے ٹریا میں بیٹھی تھیں جب رعنین نے اسے کچھ دیر پہلے کا قصہ سنایا

برا نہیں ہے تو اچھا بھی نہیں ہے میری اماں کہتی ہیں انسان کو چادر دیکھ کر ہی پاؤں پھیلانے چاہیے! وہ رول توڑ توڑ کر اسکے چھوٹے نوالے لیتی بولی

افف رعنین اب تو ان رولز کو توڑنا بند کر دو…!

”جی نہیں میری اماں کہتی ہیں کوئی بھی چیز ایسے دانتوں سے جنگلیوں کی طرح نہیں توڑنا چاہیے یہ زرق کی بے آدبی ہے“

ویسے کبھی ملاؤ تو صیح اپنی اماں سے ہم بھی پوچھیں گے کہ تم تنی فرمابراد ہو اپنی اماں کی! علینہ ابرو اچکا کر بولی اس کی اور رعنین کی دوستی کالج میں ہوئی تھی اتنی گہری دوستی ہونے کے باواجود نا کبھی رعنین نے اس کے گھر قدم رکھا تھا نا اسنے

تو تم لگا لو نا چکر!

لگاؤں گی اس ہفتے المان کے ساتھ! وہ شریر لہجے میں بولی کے اس کی بات پر رعنین نے چونک کر اسے دیکھا اور اگلے ہی لمحے وہ کسی کی بھی پروا کیے بغیر اس کے پیچھے بھاگی تھی

تم بچو مجھ سے اس کنکجھورے کی چمچی میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں! وہ اندھا دھن اس کی طرف بھاگتی چلائی تھی کے اچانک ایک گاڑھے میں اسکا پاؤں اڑا تھا مگر عین موقعے پر المان نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے گرنے سے محفوظ کیا

دیکھ کر مسز رعنین حیدر ابھی آپ گر جاتی تو کیا عزت رہے جاتی! المان ذومعانی مسکراہٹ لیے بولا جبکہ رعنین اس اسکے ہاتھ تھامنے پر اس کے سہارے حیران سی کھڑی تھی ممکن تھا اگر وہ اس کا ہاتھ چھوڑ دے تو وہ اگلے ہی لمحے زمین بوس ہو جاتی انہیں اس طرح دیکھق کر یونیورسٹی کے چند اسٹوڈنٹس نے ہوٹنگ کرتے ہوۓ یہ منظر کیمروں میں قید کیا تھا

.تھینکس! مارے شرمندگی کے وہ سرخ چہرہ لیے علینہ کے ہمراہ آگے نکل گئی اسنے ایک غلط نگاہ بھی پلٹ کر اس پر نہیں ڈالی تھی آج وہ نا چاہتے ہوۓ بھی اس شخص کی مقروض ہو گئی تھی یونیورسٹی میں گرنا سواۓ لزت اور وائرل ہونے کے کچھ نہیں تھا

*********************

آج شام کو وہ جلدی گھر لوٹ آیا تھا سبز حویلی میں داخل ہوتے ہی آج اسے غیر معمولی سی خاموشی محسوس ہوئی

لیلی!

”یس سر“

حائنہ کہاں ہے؟

”سر وہ اپنے روم میں ہیں آپ کہیں تو بلا لاؤں؟“ لیلی مؤدب انداز میں پوچھنے لگی

نہیں میں خود دیکھ لیتا ہوں! حازم موبائیل میں مصروف سا کہتا اوپر کی جانب بڑھ گیا

حائنہ کے روم کے پاس جاکر اسنے روم نوک کیا

آجائیں!

بھائی آپ؟ وہ بیڈ پر بوکس پھیلاۓ بیٹھی تھی جبکہ عرین اس کی سیدھی طرف کمبل میں منہ دیے ہوۓ تھی

کیوں میں نہیں آسکتا؟

آسکتے ہیں اس ٹائم آپ گھر آتے نہیں نا اسئلے…! وہ خوامخواہ شرمندہ ہوئی

”ہاں آج زیادہ کام نہیں تھا میں نے سوچا تم لوگوں کو شوپنگ پر لے جاؤں اسی بہانے آؤٹنگ ہو جاۓ گی“

لیکن بھائی عرین کی طبیت ٹھیک نہیں ہے!

کیا ہوا اسے؟ اسنے غیر ارادی تور پر اس کی طرف دیکھا جس کا صرف ہاتھ ہی اس وقت نظر آرہا تھا

صبح دیر سے سونے کی وجہ سے ٹمپریچر ہے! حائنہ اسے تفصیل بتاے لگی

میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں جلدی کرو!

پر بھائی عرین؟

اس کے لیے ہی کہ رہا ہوں فریش آئیر میں جاۓ گی اچھا فیل کرے گی طبیت ٹھیک نہیں ہے تو ڈاکٹر سے ہوتے ہوۓ آۓ گے اب جلدی کرو! عام سے انداز میں کہ کر وہ چلا گیا

یاہو عرین جلدی سے اٹھو بھائی جانے ہمیں شوپنگ پر لے جا رہے ہیں جلدی سے اٹھو….اس کے جاتے ہی وہ ایکسائٹڈ سی عرین کو اٹھانے لگی

اگلے پندرہ منٹ وہ دونوں گاڑی میں موجود تھیں حائنہ حازم کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی جب کے وہ پیچھلی سیٹ پر اکیلی مزے سے بیٹھی تھی

کہاں چلنا ہے؟ حازم نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوۓ پوچھا

کہیں بھی لے جائیں مجھے تو بس پاکستان گھومنا ہے! عتین ایکسائٹمنٹ سے بولی

پاکستان پھر سہی فلحال تو میں لاہور ہی گھوما سکتا ہوں! معمول کہ نسبت وہ آج زرا نرمی سے بول رہا تھا

تو پھر آپ خود ہی گھوما دیں مجھے تو پاکستان کا نہیں پتا!

”آج تو ہم شوپنگ پر جا رہے ہیں پھر کبھی تمہیں فرصت سے لاہور دیکھاؤں گا“ وہ ڈرائیونگ میں مصروف سا بولا کے اس کے اس روایے پر عرین کو اپنا سر چکڑاتا محسوس ہوا حائنہ ان سب میں خاموش سی موبائیل میں بزی تھی اس کے ثاثرات کسی غلط بات کا پتا دے رہے تھے

کیا ہوا حائنہ؟

ابھی زرا چپ ہو جاؤ میری بہت سخت لڑائی ہو رہی ہے کسی سے.. چلو میں تم سے پوچھتی ہوں کیا انسان کی زندگی میں پیسوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے ایون کے رشتوں سے بھی زیادہ؟ وہ سرخ چہرہ لیے بولی

ہاں بلکل….آج کل انسان کی زندگی میں پیسہ سب سے زیادہ امپورٹنٹ ہے لوگ دولت دیکھ کر ہی ایک دوسرے سے متاثر ہوتے ہیں اور کچھ لوگ تو دولت کی بیسڈ پر ایک دوسرے سے رشتے قائم کرتے ہیں لیکن یہ بات بھی ہر کسی پر لاگو نہیں ہوتی جیسے فرعون کی قوم میں موسی پیدا ہوۓ تھے ویسے ہی آج کل بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو مخلص ہوتے ہیں! وہ نرمی سے بولی کے اس کی بات مکمل ہونے پر حازم نے بیک میئر سے اسے دیکھا وہ اس وقت بیلو جینس پر ریڈ گھٹنوں پر آتا پرنٹڈ ٹوپ اور گلے میں ریڈ اسٹولر لپیٹے ہوۓ سنجیدگی سے کہتی اسے اچھی لگی تھی

اس سے پہلے حائنہ مزید کوئی سوال کرتی حازم کے گاڑی امپوریم مال کے آگے روکنے پر وہ خاموشی اختیار کر گئی

تم لوگ جاکر شوپنگ کرو مجھے کچھ کام ہے میں وہ پورا کر لیتا ہوں….پیچھلی گاڑی میں گاڈرز ہیں وہ تمہارے ساتھ رہیں گے!

اوکے بھائی…حائنہ کہتی اترنے لگی جب حازم نے اسے روکا

رکو….

جی بھائی؟

یہ لو! اسنے اپنا کریڈٹ کاڈر اس کی طرف بڑھایا جسے وہ چہک کر تھام گئی

کیسا لگا تمہیں یہ مال مزہ آرہا ہے نا؟

ہاں بہت! عرین مسکرا کر بولی وہ مال سے زیادہ پاکستان کے لوگوں سے متاثر ہو رہی تھی

اچھا عرین تم یہی رک کر آرڈر ریسیوو کرو میں اس شوپ سے ہوکر آئی!

اوکے! اس کی اجازت ملنے پر حائنہ جیولڑی شوپ کی طرف بڑھ گئی دونوں گارڈز بھی اس کے پیچھے چل دیے انہیں حازم نے سختی سے حائنہ کے ساتھ رہنے کی تاکید کی تھی

********************

شام کے چھ ساتھ بجے وہ اچھی خاصی شوپنگ کرکے واپس گاڑی میں آئی

میرا فون بج بج کر پھٹ جانا تھا تمہاری شوپنگ کے بلز سے! حازم ابھی ہی کار میں آکر بیٹھا تھا اسے دیکھتے ہی مسکرا کر بولا

”ہاہاہا بھائی ظاہر ہے اب ایسے مجھے کھلی چھوٹ دیں گے تو نقصان تو اٹھائیں گے“

عرین کہاں ہے؟ وہ اسے اکیلے بیٹھتے دیکھ پوچھنے لگا کے اس سوال پر حائنہ نے چونک کر اسے دیکھا

وہ نہیں آئی؟ اس کے الٹے سوال پر حازم کی پیشانی پر بل نمودار. ہوۓ

وہ تمہارے ساتھ گئی تھی تو یہاں کیسے آسکتی ہے؟

ببھھائی آئی سویر مجھے نہیں پتا وہ کہاں گئی میں بلکل بھول گئی اس کا! اس کی آواز لڑکھڑائی کے اس کی بات پر حازم محض اسے دیکھ کر رہے گیا

مجھے تم سے اتنی لاپروائی کی امید نہیں تھی حائنہ! اس سے کہ کر وہ تیزی سے گاڑی سے نکلا

میں بھی آتی ہوں!

نہیں تم یہی گاڑی لوکڈ کرکے بیٹھو میں آیا!

وہ تیزی سے مال کے اندر داخل ہوا تھا پورا مال کھنگالنے کے باوجود وہ اسے کہیں دیکھائی نہیں دی

شٹ! اس کا چہرہ اب غصے کی شدت سے سرخ پڑا تھا

کہاں ہو عرین! ہر ایک دوکان دھونڈنے کے بعد وہ ایک سائد پر بنے کیفے کی طرف آیا جہاں وہ اسے سامنے ہی ایک ٹیبل پر پریشان سی بیٹھی نظر آئی

عرین! اس کی آواز پر وہ کرنٹ کھا کر اٹھتی اس کے بازو پکڑ گئی

شکر ہے آپ آگئے..ممممیں بہت ڈر گئی تھی حائنہ مجھے یہاں رکنے کا کہ کر پتا نہیں کہاں چلی گئی! اسے دیکھتے ہی وہ ضبط ہو چکی تھی جبکہ اس کی حالت دیکھ پر حازم کو اپنی بہن پر افسوس ہوا

ششش…رو مت دیکھو کوئی مسئلہ نہیں ہوا میں آ تو گیا ہوں! حازم نے احتیاط سے اس سے اپنا بازو چھروا کر نرمی سے کہا

بٹ اتنے یہاں ہر لڑکا آتے جاتے گھور رہا تھا مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا مجھے تو گھر کا راستہ بھی نہیں معلوم! وہ سوسوں کرتی بولی کے اس کی بات پر حازم بے اپنی مٹھیاں بھینجی

یہاں پاکستان میں اس طرح لڑکوں کا گھورنا عام ہے! وہ اسے ریلیکس کرنے کو بولا

لیکن یہ تو غلط بات ہے نا!. عرین نے معصومیت سے پوچھا جس پر وہ بے ساختہ مسکرایا

بہت غلط بات ہے لیکن اس میں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر کوئی کچھ غلط کرے تو اس سے کیسے مقابلہ کرنا ہے یہ میں تمہیں سیکھا دوں گا بٹ اس سے پہلے اگلی بار گھر سے نکلنے سے پہلے ان غلیظ نظروں سے بچنے کے لیے تمہیں حائنہ کی طرح چادر لینی پڑے گی….

نایاب چیزیں پردے میں ہی اچھی لگتی ہیں! وہ ایک ایک لفظ نرمی سے بولا کے اس کی بات پر عرین سر اثبات میں ہلا گئی اس کی مصومیت پر حازم نے اپنا فیصلہ مزید پختہ کر لیا تھا

چلیں اب؟

جی چلیں! وہ اب اس کے قدم سے قدم ملاتی گاڑی تک آئی تھی حائنہ شرمندہ تھی مگر حازم اس سے کچھ بھی بات کیے بغیر گاڑی گھر کی طرف کر گیا

*******************

کہاں گئے تھے؟ گھر آتے ہی وہ اپنے روم کی طرف بڑھنے لگا جب الیانہ اس کے راستے میں حائل ہوئیں

حائنہ اور عرین کو شوپنگ پر لے گیا تھا!

ہمم اچھی بات ہے اس لڑکی سے ابھی ہمدردی کرو گے تو آگے جلدی اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکو گے!

میں نے فیصلہ کر لیا ہے موم….میں آپ کی یہ خواہش پوری نہیں کر سکتا…میں اس جائیداد کے پیچھے عرین کی زندگی برباد نہیں کروں گا! اسنے دوٹوک انداز میں کہا

ٹھیک ہے پھر میں حنان سے کہ دیتی ہوں!

آپ کہ کر دیکھ لیں حنان کے لیے میرا ایک انکار ہی کافی ہے موم!

تم مجھ سے مقابلہ کر رہے ہو حازم؟ الیانہ تیش میں آئی

میں آپ سے مقابلہ نہیں کر رہا موم میں آپ کو جسٹ اتنا بتا رہا ہوں میں اس جائیداد کے لیے کسی بھی معصوم کی زندگی تباہ نہیں ہونے دوں گا نا عرین کی نا حنان کی…اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ میں آپ مقابلہ کر رہا ہوں تو مقابلہ ہی سہی مگر میں فیصلہ کر چکا ہوں! سرد لہجے میں کہتا وہ وہاں سے اوک اوٹ کر گیا

تتتت اقبال ڈئیر تمہاری وجہ سے آج پہلی بار میرے بیٹے نے میری نافرمانی کی ہے اب اگر میں نے تمہاری بیٹی کو خوار نا کر دیا تو میرا نام الیانہ نہیں! پیچھے وہ تیش سے کہتی پیر پٹک کر وہ اپنے روم کی طرف چل دیں