Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389 Mehram-e-Raaz Episode 13
Rate this Novel
Mehram-e-Raaz Episode 13
Mehram-e-Raaz by Syeda Shah
رات کے بارہ بج گئے تھے مگر نیند اس کی آنکھوں سے جیسے چھین لی گئی تھی وہ موبائیل میں اس کی تصویر دیکھتی بس اس کی باتیں سوچے جا رہی تھی
محبت ہو گئی ہے مجھے تم سے رعنین حیدر! اس کے الفاظ یاد کرتے ہوۓ بے ساختہ ہونٹوں پر ایک شرمیلی سی مسکراہٹ رینگی تھی
محبت؟
سوجا بیٹا کیا رات بھر موبائیل میں لگے رہنا ہے؟ آنکھیں خراب ہو جائیں گی! شمیم کے اچانک سے بولنے پر اس کا دل اچھل کر حلق میں آیا
جی جی اماں سسسو رہی ہوں! ان سے کہتی وہ جلدی سے خود پر کمفرٹر ڈال گئی مگر سوئی اب بھی نہیں تھی
دوسری طرف ان سے کچھ کلو میٹرز کی دوری پر سبز حویلی کے دوسرے پورشن کی طرف آؤ تو پہلے کمرے میں بیٹھے شخص کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا
”میں تو اپنی عمر کے حساب سے ہی بات کرتی ہوں میری موم نے مجھے بچپن سے یہ بتایا ہے کہ شوہر مجازی خدا ہوتا ہے میں تو بس آپ کو آپ کے مقام سے واقف کر رہی ہوں جو خدا نے آپ کو بخشا ہے“
بیوی نہیں تو کم از کم ملازمہ ہی تسلیم کر لیں مجھے اتنا بھی گرا ہوا نا سمجھیں کے میں خود کی ذات کے لیے ہی ایک سوالیہ نشان بن کر رہے جاؤں!
“دل تو آپ میرا روز ہی توڑتے ہیں“
اس کے الفاظ کسی ہتھوڑے کی طرح اس کے دماغ میں بج رہے تھے
میری بیٹی کا خیال رکھنا حازم! اقبال خان کی آواز کانوں میں گونجتے ہی اسنے اپنی پیشانی مسلی اور سگریٹ لبوں سے لگائی تھی
یہ لڑکی مجھے ایفیکٹ کر رہی ہے! سگریٹ کے گہرے کش لگا کر دھواں ہوا میں چھوڑتا وہ ایک نظر اپنے سامنے رکھے اس کافی مگ کو دیکھنے لگا جو چاہ کر بھی اس سے پھنکا نہیں گیا تھا
******************
آج دو دن گزر چکے تھے ان دو دنوں میں حازم کیس کی وجہ سے کم ہی گھر آیا تھا اور دوسری طرف المان بھی یونیورسٹی سے اوف تھا
آج تیسرا دن تھا یعنی آج اسے جواب دینا تھا….وہ ایسے ہی کافی لمحے یونیورسٹی کے باہر کھڑے رہنے کے بعد یونی کے اندر داخل ہوئی
کیا حال ہیں؟ علینہ کے اچانک نازل ہونے پر وہ دل تھام کر رہے گئی
کیسی ہو سکتی ہوں؟
کیوں کیا ہوا؟ علینہ ابرو اچکا کر بولی
یار آج دو دن گزر چکے ہیں! رعنین نے منہ بنا کر کہا جس پر علینہ نے ہونٹ اوہ کی صورت میں بناۓ
اہمم اہممم تو آج تو سائیں جی کو جواب دینا ہے!
”چپ کرو کچھ بھی بولتی ہو…“ رعنین نے اسے ایک چٹ رسید کی جس پر وہ اسے منہ چراتی کلاس کی طرف بھاگ گئی
تمہیں تو میں چھوڑوں گی نہیں…. رعنین اس کے پیچھے بھاگنے لگی جب اچانک سے المان نے اسکا,راستہ روکا
میں تو تمہیں چاہتا بھی نہیں تم مجھے چھوڑوں…وہ یکدم اسکا ہاتھ تھامے گھمبیر لہجے میں بولا
ککککیا؟مممیں تو علینہ…!
ریلیکس تمہیں ایسے گھبراتے ہوۓ دیکھ کر کہیں محبت نہ ہو جاۓ مجھے! اب کے وہ لفرانہ انداز میں بولا
ہٹو مجھے کلاس لینی ہے!
لے لینا کلاس فلحال مجھے میرا جواب دو آپ دو دن گزر چکے ہیں مسز رعنین حیدر!
میں تم سے کلاس کے بعد بات کروں گی اب پلزز میرا راستہ چھوڑو لوگ کیا سوچے گے! رعنین گھبرا کر بولی کے اس کے کہنے کے اگلے لمحے ہی المان قدرے سائد پر ہوا
تمہارا راستہ تمہارے گھبرانے کی وجہ سے چھوڑا ہے ورنہ المان ملک نے تمہیں دنیا سے چھپانے کے لیے نہیں بلکہ تمہیں رعنین حیدر سے رعنین ملک بنانے کے لیے تھاما ہے! وہ ایک ایک لفظ چبا کر کہتا اس کے دل میں اپنے لیے مزید عزت ڈال گیا تھا
کلاس میں قدم رکھتے ہی اسے عرین اور علینہ ساتھ بیٹھے نظر آۓ ان دو دنوں میں عرین کی رعنین کے ساتھ ساتھ علینہ سے بھی خاصی دوستی ہو گئی تھی
کیسی ہو عرین؟ رعنین اس کے بائیں جانب بیٹھتے ہوۓ پوچھنے لگی
ٹھیک ہوں اور تم؟
میں بھی ٹھیک لیکن تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی رات میں سوئی نہیں کیا؟ رعنین اسکے چہرے پر نیند سے آثار دیکھتے ہوۓ بولی
نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں! اسنے جھوٹ کا سہارا لیا اب وہ اسے کیا بتاتی کے حازم کے نظر نا آنے پر وہ پوری رات بے چین رہی تھی
تمہیں کبھی محبت ہوئی ہے عرین؟ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد رعنین نے اس سے پوچھا کے اس کے سوال پر عرین نے چونک کر اسے دیکھا
مممحبت؟
ہاں محبت تمہیں کبھی کسی سے محبت ہوئی ہے؟
محبت؟ اسنے زیرے لب دھرایا کے یہ لفظ کہتے ہی اسکی آنکھوں کے سامنے اس کھڑوس کا عکس آیا تھا
بتاؤ نا؟ رعنین اسکا بازو ہلاتے ہوۓ بولی
پہلے تم بتاؤ!
میں تو کنفیوز ہوں شاید محبت ہو رہی ہے کسی سے! وہ المان کو سوچتے ہوۓ بولی
کیا مطلب کنفیوز کیوں؟ محبت میں کنفیوزثن نہیں ہوتی یا تو محبت ہوتی یا پھر نہیں ہوتی…! عرین نے مسکرا کر کہنا
”مطلب تمہیں محبت ہو چکی ہے“ رعنین شریر لہجے میں بولی
ہاں!
کس سے؟
”اسی سے جس کا خیال میرے خدا نے میرے دل میں ڈالا ہے“ اسے سوچتے ہوۓ عرین کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ رینگی تھی
خدا نے ڈالا؟
ہاں جب اس کی مرضی کے بغیر ایک پتا تک نہیں ہل سکتا تو میرے دل کیسے اس کی راضا کے بغیر کسی سے محبت کر سکتا ہے؟ اس کے لفظوں پر رعنین ستائشی انداز میں مسکرائی
تم کتنی پیاری باتیں کرتی ہو مجھے یقین ہے جس سے تم نے محبت کی ہے وہ بھی بہت پیارا ہوگا! رعنین اسے چھیڑتے ہوۓ بولی
ہاں پیارا تو ہے لیکن اس کی باتیں پیاری نہیں ہیں! عرین بدمزہ ہوکر بولی جس پر وہ دونوں بے ساختہ ہنس دیں
********************
آخری لیکچر سے پہلے وہ اس سے بات کرنے کے لیے کیفے ٹریا میں آئی تھی
بہت دیر کردی مہربان آتے آتے! المان اسے دیکھتے ہی مسکرا کو بولا
ہاں بس آج کلاسس ضروری تھیں! اس کے کہنے پر المان نے سر جھٹکا
کیا سوچا تم نے؟ چند لمحے ایسے ہی ادھر ادھر کی بات کرنے کے بعد وہ مودے پر آیا
میں سوچ رہی تھی…کہ کیوں نا ہم نکاح کر لیں دیکھو المان میں ایک میڈل فیملی سے بلونگ کرتی ہوں میں یہ سب افوڈ نہیں کر سکتی ہمارے لیے ایک ہی چیز معنی رکھتی ہے وہ ہے عزت…تم اگر مجھ سے واقعی محبت کرتے ہو تو اپنے پیڑنٹس کے ہاتھ رشتہ بھیج دو! .
ہمم اسکا مطلب تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں ہے! المان نے سرد لہجے میں کہا
نہیں ایسی بات نہیں ہے مجھے تم پر اعتبار ہے لیکن میرے اوپر بھی میری اماں کا اعتبار ہے جسے میں ٹور نہیں سکتی! اس کے لہجے میں بے بسی واضع تھی
دیکھو رعنین میرے ڈیڈ سے میرے تعلقات ابھی اچھے نہیں چل رہے میں ان سے بہت جلد ہمارے بارے مجں بات کروں لیکن فلحال میں ان سے کوئی بات نہیں کر سکتا!
تو ٹھیک ہے جب تک نکاح نہیں ہو جاتا تم مجھ سے اس بارے میں کوئی بات مت کرنا…رعنین نارمل انداز میں کہتی اٹھنے لگی جب وہ اسکا راستہ روک گیا
رکو…میرا مطلب ہے ایک راستہ ہے!
کیا؟
”ہم اورل نکاح کر لیتے ہیں“
مطلب؟ وہ نا سمجھی سے بولی
مطلب یہ دیکھو… اس کے پوچھنے پر المان نے موبائیل پر ایک ویدیو لگا کر اسے دی جس میں اورل یعنی شرعی نکاح کی کچھ تفصیل بتائی جا رہی تھی
یہ سب کیا ہے؟ رعنین نے حیرانی سے اسے دیکھا
میرا یقین کرو ہمارے لیے ابھی یہی بہتر ہے میں بہت جلد تم سے کاغذی نکاح بھی کروں گا! المان اسکا ہاتھ تھامے بولا
لیکن یہ تو دھوکا ہوگا نا میں اماں کی اجازت کے بغیر…
کوئی دھوکا نہیں ہے تم خود مختار ہو تم کونسا گناہ کر رہی ہو صرف نکاح کی تو کر رہی ہو! المان نے اسے قائل کرنا چاہ جس پر وہ سوچ میں پڑ گئی
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے! کافی لمحے سوچنے کے بعد اسنے جواب دیا تھا
واٹ؟ تھینک یو سو مچ رعنین ہم کل ہی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کریں گے! المان خوشی سے بولا اس کے چہرے پر موجود تاثرات اس کے خوش ہونے کی گواہی دے رہے تھے کے اسے اس قدر خوش دیکھ کر رعنین محفوظ انداز میں مسکرائی تھی
*******************
وپ اس وقت اپنے آوفس میں بیٹھتا کسی فائل پر نظر ڈال رہا تھا جب حمزہ اسکا دروازہ نوک کرے اندر داخل ہوا
گڈ نیوز ہے سر….جاوید خانی نے کیس واپس لینے سے انکار کر دیا ہے!
ڈیٹس گڈ! حازم مسکرایا اس کی دو دن کی محنت رنگ لائی تھی
یس سر آینڈ گیس واٹ یہ خبر پہنچتے ہی انور ملک نے المان خان کو دو دن یونیورسٹی سے اوف کروایا مگر آج وہ ضد کرکے یونیورسٹی کے لیے نکلا تھا یہ رہی اس کی چند پیکچرز جو ہمارے لیے آگے کام آسکتی ہیں! حمزہ نے اس کے سامنے ایک لفافہ رکھا
”ہمم گڈ بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی“ حازم نے سر جھٹک کر کہا
آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں لیکن اب آپ کیوں پریشان ہے اب تو خانی بھی کیس لڑنے کو مان گیا؟ حمزہ اسے اپنی پیشانی مسلتے دیکھ کر بولا
میرے لیے پریشانی کی وجہ خانی نہیں ہے بلکہ میری پریشانی وہ لڑکی ہے جو میرے نکاح میں ہے اور شاید محبت کی پہلی سڑھی چڑ چکی ہے! وہ خود سے بڑبڑایا مگر اس کی آواز حمزہ بخوبی سن گیا تھا
وہ آپ کے نکاح میں ہے سر اس کا حق ہے آپ سے محبت کرنا! اس کی بات پر حازم نے گھور کر اسے دیکھا
محبت انسان کو تباہ کر دیتی ہے!
محبت سے زیادہ محبوب کی بے حسی انسان کو تباہ کر دہتی ہے سر!
کہنا کیا چاہتے ہو؟ حازم نے سرد لہجے میں پوچھا
صرف اتنا کہ جب آپ نے فیصلہ کر ہی لیا ہے تو نبھا کر دیکھیں…مجھے لگتا ہے آپ کو اس رشتے کو ایک موقع دینا چاہیے! حمزہ مودب انداز میں بولا
اس سے پہلے حازم کوئی جواب دیتا اسکا فون رنگ ہوا تھا
یس ڈیڈ….اوکے میں آپ کو آدھے گھٹنے تک جوائن کرتا ہوں!
تم سے اس بارے میں پھر بات ہوتی ہے! اسے وارن کرنے والے انداز میں کہتا وہ اپنا کورٹ کرسی سے اٹھاۓ باہر نکل گیا کے اس کے جاتے ہی حمزہ نے گہرا سانس بھرا تھا
******************
کونسی مووی دیکھیں؟ حائنہ صوفے پر اس کے ساتھ بیٹھتے ہوۓ بولی
آج بیوٹی آینڈ ڈا بیسٹ دیکھتے ہیں!
نہیں آج ہم کوئی ہولی وڈ مووی دیکھیں گے… حائنہ بدمزہ ہوتے ہوۓ بولی
نہیں بیوٹی آینڈ ڈا بیسٹ دیکھیں گے! عرین نے ضدی انداز میں کہا
ہولی وڈ
نہیں بیوٹی آینڈ ڈا بیسٹ! رات کے تقریبا دس بجے وہ دونوں عرین کے روم میب بیٹھ کر یہ بحث کر رہی تھیں
دیکھ لو کٹو اچھا نہیں ہوگا! حائنہ اسے وارن کرتے ہوۓ بولی
میں نے بھی کہ دیا میں بیوٹی آینڈ بیسٹ دیکھوں گی نہیں تو تم اکیلے دیکھ لو!
وہ جو ابھی اپنا کورٹ بازو پر لٹکاۓ گھر میں داخل پوتا سیدھے اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا روم کے ساتھ والے روم سے آتی آوازوں پر ٹھنکا
کیا ہوا حائنہ؟ اس کی آواز پر وہ دونوں چونک کر اسے دیکھنے لگی
بھائی اسے بتائیں ہولی وڈ موویز اچھی ہوتی ہیں نا اسے بیوٹی آینڈ بیسٹ دیکھنی ہے اور مجھے ہورل مووک دیکھنی ہے! حائنہ نے اپنا مسئلہ اس کے سامنے رکھا
کے اس کی بات پر حازم نے نظر گھما کر عرین کو دیکھا جو اس کے دیکھتے ہی مصومیت سے نظریں جھکا گئی
آج موم نے پھر سب کو جلدی اوف دے دیا؟ اسنے بات بدلی تھی
جی وہ موم کہتی ہیں اتنے ٹائم تک ملازموں کو گھر میں نہیں ہونا چاہیے آپ کو کچھ چاہیے بھائی؟
”مجھے لگتا ہے آپ کو اس رشتے کو ایک موقع دینا چاہیے“ حمزہ کے الفاظ یکدم اسکے ذہن میں گونجے تھے
ہممم…کافی چاہیے! اسنے عرین کی طرف دیکھ کر کہا
میں بنا دیتی ہوں آپ کو! حائنہ اس سے کہ کر اٹھنے لگی جبکہ وہ عرین کی آفر کے انتظار میں تھا مگر وہ آج منہ میں دہی جماۓ بیٹھی تھی
تم بناؤں گی؟ اسنے بلند آواز میں کہا عیاں وہ اسے جتانا چاہتا ہو
جی بھائی میں بنا دوں گی! حائنہ مسکرا کر بولی جب کے وہ اب تک ایسے ہی نظریں لیٹ ٹوپ کی سکرین پر جماۓ ہوۓ تھی جیسے اسے کچھ سنائی ہی نا دیا ہو اس کا یوں نظرانداز کرنا حازم کو تیش دلا گیا تھا
ہمم….تم رہنے دو مجھے عرین بنا دے گی! بامشکل ضبط کرکے وہ خود سے بولا
لیکن بھائی مجھے بھی آتی ہے! حائنہ منہ بناۓ بولی
ہاں بٹ مجھے عرین بنا کر دے گی!
لیکن اس سے پوچھ تو لیں وہ بنانا چاہتی ہے یا نہیں؟ حائنہ حیرت سے بولی
بولو عرین بھائی کو کافی بنا دو گی؟ حائنہ نے اسے مخاطب کیا
میں بنا دیتی لیکن انھی میرا موڈ نہیں ہے! وہ خاصے مصروف انداز میں بولی کے اس کے انداز پر ان دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا
میں تمہارے موڈ کا محتاج نہیں ہوں مجھے کافی بنا کر دو ! اب کے حازم نے سختی سے کہا جس پر اسنے خفگی سے اسے دیکھا
ٹھیک ہے اگر آپ اتنا کہ ہی رہے ہیں تو بنا دیتی ہوں! خاصے ڈرامائی انداز میں کہتی وہ منہ بنا کر اٹھی کے اب حائنہ نے اس کی ایکٹنگ سمجھتے ہوۓ بامشکل اپنی ہنسی دبائی تھی
اگلے پانچ میں کافی میرے روم میں ہو! اسے آڈدر دیے وہ اپنے روم کی طرف بڑھ گیا کے اس کے جاتے ہی حائنہ نے ستائشی انداز میں عرین کو دیکھا
اہمم اہمم بہت ہمت نہیں آگئی تم میں؟
بس کبھی غرور نہیں کیا تم مووی لگاؤ میں کافی دے کر آئی! عرین شرارت سے کہتی باہر نکل گئی
اگلے پانچ منٹ بعد اسنے حازم کے روم کا دروازہ نوک کیا تھا
کم ان! اس کے کہنے پر وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی جہاں وہ اسے بیڈ پر بیٹھا سگریٹ کا آخری کش لگاتا دیکھائی دیا سگریٹ کی اسمیل نتھنوں میں جاتے ہی وہ ناگواری سے کافی کا کپ سائد ٹیبل پر رکھتی پلٹنے لگی جب وہ اچانک سے کھڑا ہوتا اسکی نازک کلائی اپنی مضبوط گرفت میں جکڑتا اسے اپنے مقابل کھڑا کر گیا کے اس اچانک اتفاد پر عرین بھکلا کر رہے گئی
کافی کیوں نہیں بنا رہی تھی میری؟ اس کی بادامی آنکھوں میں جھانکتا وہ قدرے اس کے قریب ہوتا بولا کے اس کے قریب ہونے پر اس کی پرفیوم اور سیگریٹ کی خوشبو محسوس کرکے اسکا دل بری طرح کود کر حلق میں آیا تھا
آآپ کو میرے ہاتھ کی کافی نہیں پسند تو نہیں اسئلے نہیں بنا رہی تھی! وہ ہمت کرکے اپنی بادامی ہیزل آنکھیں اس کی سرد آنکھوں میں گاڑھے بولی
اتنی جلدی ہار مان گئی؟ وہ اس پر گہری نظریں جماۓ بولا جو اس وقت ڈارک بیلوٹ لونگ شرٹ اور ٹراؤز پر بالوں کو چٹیاں میں قید کیے بادامی آنکھوں سے اسے اپنی طرف مائل کر رہی تھی
ہاں جی کیوں کہ مجھے اپنی بے عزتی نہیں چاہیے! وہ منہ بناۓ بولی اس لمحے حازم کو نجانے کیوں وہ اچھی لگ رہی تھی
ہمم تو پھر کیا چاہیے؟ وہ بے اختیار اسے اپنی طرف کھینچتا اس کی کمر کے گرد حصار قائم کیے بولا کے اس کے اس انداز پر عرین کے دل نے بے ساختہ بیٹ مس کی تھی اور اس کی نظریں بخود جھک سی گئی تھیں
کککچھ نہیں! وہ لرزتی پککوں سے بولی
”بڑی ہو جاؤ چھوٹی لڑکی…بہت سی زمےداریاں نبھانی ہے تمہیں“ حازم اس کے مصوم چہرے پر نظریں جماۓ مسکرا کر اسکے بال کان کے پیچھے اڑستا بولا
آآپ کی طبیت ٹٹٹھیک نہیں ہے…ممججھے حائنہ بللا رہی ہے..اس کے گھمبیر لہجے پر وہ بے ساختہ اپنی پوری قوت سے اسکی گرفت سے نکلتی باہر کی طرف بھاگی تھی کے اس کے جاتے ہی وہ جیسے سحر سے نکلا تھا
شٹ….! اس کے جاتے ہی حازم سحر سے نکلتا اپنا ماتھا مسلتے ہوۓ کہتا کافی کا کپ لبوں سے لگا گیا جب ایک بار پھر اسکا خیال آیا
پاگل لڑکی….!اسے سوچتے ہوۓ وہ آج پہلی بار مسکرایا تھا
