357.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 11

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

تم جاکر عرین کو لے آؤ میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں!

اوکے بھائی…! حائنہ سر کو خم دیے عرین کے روم کی جانب بڑھ گئی

کچھ ہی دیر میں وہ لوگ ہسپٹل میں موجود تھے

آپ ان کے کیا لگتے ہیں؟ ڈاکٹر نے عرین کا تفصیلی چیک اپ کرنے کے بعد اس سے پوچھا کے اس سوال پر ان دونوں نے بے ساختہ ایک دوسرے کو دیکھا ایک لمحے کو نظر ملی پھر عرین نے نظریں جھکا لیں

کزن ہیں یہ میری! دل ٹوٹا سا تھا اس کے جواب پر

اتنا تیز بخار نارمل نہیں ہے مسٹر حازم! ڈاکٹر مزید کہنے لگیں

جی دراصل عرین کے فادر کی دیتھ ہوئی ہے یہ ان سے بہت اٹیچ تھی ان کی دیتھ کے بعد سے یہ حالت ہے! اب کے حائنہ نے تفصیلہ جواب دیا تھا

اوہ آئی سو..تو اسکا علاج بھی یہی ہے کہ آپ انہیں زیادہ سے زیادہ مصروف رکھیں تاکہ یہ نار لائف کی طرف لوٹ سکیں! ڈاکٹر اب قدرے مدھم لہجے میں بول رہی تھیں جو کہ صرف حازم اور حائنہ کو ہی سنائی دے رہا تھا

باقی میں یہ میڈیسن لکھ کر دے رہی ہوں یہ آپ فارمسی سے لے لیں!

اوکے تھینکس ڈاکٹر! حازم مسکرا کر کہتا باہر گاڑی کی طرف بڑھ گیا

بھائی میں سوچ رہی ہوں کیوں کہ ہم آج گول گپے کھاتے ہوۓ چلیں کیوں عرین؟ حائنہ سڑک پر گزرتی گول گپے کی ریڈی کو دیکھتی ایکسائٹڈ سی بولیں

Never!

حازم نے سر نفی میں ہلایا

پلزز نا بھائی دیکھیں عرین بھی کہ رہی ہے! اس کے کہنے پر حازم نے بیک مرر سے عرین کو دیکھا جو خاموشی سے باہر کی سڑکوں کو دیکھ رہی تھی

ٹھیک ہے مگر زیادہ دیر نہیں!

ڈن! حائنہ چہک کر بولی حازم نے گاڑی گول گپے کی ریڈی کے پاس روکی

اندر بیٹھ کر کھاؤ!

جی نہیں ہم باہر کھڑے ہوکر کھائیں گے کیوں عرین؟

نہیں تم کھاؤ مجھے نہیں کھانا کچھ! اس کے چہرے سے نکاہت واضع تھی

کھا لو یار ہمارے یہاں مشہور ہے کہ بیماری میں ایسی چیزیں نہیں کھانی چاہیے جبکہ میں تو ایسی چیزیں کھاتے ہی ٹھیک ہو جاتی ہوں! حائنہ کے چہکنے سے عرین اس کی گول گپوں کے لیے پسندیدگی جان گئی تھی

ایک بات سن لو حائنہ اگر تمہاری یہ دوست گول گپے نہیں کھاۓ گی تو تمہیں بھی نہیں ملیں گے! اس کے کہنے پر عرین نے حائنہ کا اترا ہوا چہرہ دیکھا

میں بھی کھاؤں گی! اس کے جواب پر حائنہ خوشی گول گپے کی پلیٹ پکڑ کر اسے تھما گئی

بھائی آپ بھی کھا کر دیکھیں نا بلا وجہ چڑ ہے آپ کو گول گپوں سے! حائنہ شرارت سے کہتی حازم کے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی اسکے منہ میں گول گپا ٹھوس گئی ہے اس کے کٹھے زائقے پر حازم کے چہرے کے زاویے بدلے جس پر بے ساختہ عرین کے چہرے پر مسکراہٹ رینگی تھی

آہ..دیکھا بھائی گول گپے کھاتے ہی عرین مسکرانے لگ گئی!

ہاں میں بھی سوچ رہا ہوں تمہیں ڈاکٹر کی ڈگری کی جگہ گول گپے کا ٹھیلا لگوا دوں…گاڑی میں بیٹھوں اب! حازم ٹھنڈے لہجے میں طنز کرتا گاڑی میں بیٹھ گیا

جب کے عرین اور حائنہ دونوں اپنی مسکراہٹ ضبط کرتی اس کے پیچھے آئی تھیں

یاد رکھنا میرے بعد تمہارا شوہر ہی ہوگا جو تمہاری حفاطت کرے گا! اسنے بے ساختہ اپنے باپ کے الفاظ سوچتے ہوۓ آگے بیٹھے اس شخص کو دیکھا جو آج جانے کتنے دنوں بعد اس کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی وجہ بنا تھا

********************

رعنین میں تو کہتی ہوں ہمیں ایک بار پھر ایرج کے پاس جانا چاہیے تھا! شمیم کام میں مصروف سی افسوس سے بولیں جب کے وہ اس وقت کتاب میں منہ دیے ان تین دنوں کو سوچ رہی تھی جو اس کی زندگی میں سب سے اچھے دن ثابت ہوۓ تھے نے ساختہ اسے کل کا منظر یاد آیا

المان؟ اس کے پکارنے پر وہ ابرو اچکا کر مڑا

آپ مجھ سے مخاطب ہیں؟ المان اس کے قریب آتا شریر لہجے میں بولا

ہاں وہ ایکچلی مجھے تمہیں تھینکس کہنا تھا اس دن کے لیے!

اچھا؟ لیکن اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں بے جو کیا وہ میرا فرض تھا! المان عام سے انداز میں بولا

تمہارا فرض کیسے؟ رعنین نے ابرو اچکائی

دل کا معاملہ ہے میڈم آپ نہیں سمجھیں گی! المان گھمبیر لہجے میں قدرے سرگوشی سے بولا کے ناچاہتے ہوۓ بھی اس کی بات پر رعنین کا دل اچھل کر حلق میں آیا تھا.

سن رہی ہو؟ شمیم کی آواز پر وہ ایک جھٹکے سے ہوش میں آئی

یا اللہ یہ مجھے کیا ہو رہا ہے میں کیوں اس فضول انسان کو سوچ رہی ہوں!

”ویسے فضول تو نہیں ہے“ اس کے دل سے آواز آئی تھی جس پر وہ بے اختیار جھرجھرلی لے گئی

رعنین! اب کے شمیم پوری قوت سے چیخی تھیں

جی جی اماں؟

کہاں گھم رہتی ہے کبھی ماں بھی مدد بھی کر لیا کرو کل کو اگلے گھر جانا ہے پتا نہیں کیسے لوگ ملیں گے آگے! شمیم غصے سے بولیں

کیا پتا ایسے لوگ ملیں کے مجھے کام کی ضرورت ہی نا پڑے؟

”ایسا کبھی نہیں ہو سکتا میں نے کہ دیا ہے راضیہ سے کہے دیا ہے ہمیں ہماری حیثیت کا ہی رشتہ دیکھاۓ اپنے سے اونچے لوگوں میں کرکے میں نے اپنی بیٹی کو ساری زندگی کے تانے سننے کے لیے نہیں چھوڑنا روٹی وہی اچھی جو عزت سے ملے“

ضروری تو نہیں ہر امیر لوگ برے ہوں ایرج آنٹی میں بھی تو غرور نہیں ہے! رعنین نے جتانے والے انداز میں بولی

”ہاں یہ بھی ہے کہ ہر شخص ایک جیسا نہیں ہوتا لیکن سمجھدار انسان ایسے معاملوں میں رسک نہیں لیتا اب آؤ اور روٹیاں بناؤ اور آج اگر گول روٹی نہیں بنی تو تمہاری تو ہڈیاں میں توڑوں گی….“ شمیم نے اسے بیلن دیکھا کر کہا

افف ہو اماں ویسے آپ نا مجھے میری سوتیلی ماں لگتی ہیں! رعنین جل کر بولی

ہاں اب تو لگوں گی سوتیلی کیوں کہ کام جو کہ دیا اس نکمی اولاد کو….ان کی بات پر رعنین بَڑا سا منہ بنا گئی

****************

گڈ ایوننگ ڈیڈ!

کہاں تھے تم؟ انور ملک ابرو اچکا کر پوچھا

بس آپ کا کام انجام دے رہا تھا ویسے آپ کے لیے ایک گڈ نیوز ہے میرے پاس! المان ان کے سامنے صوفے پر بیٹھے بولا

اور وہ کیا؟

لکھ کر لے لیں ڈیڈ کل آپ کو نوٹس ملے گا جاوید خانی نے اپنا کیس واپس لے لیا ہے اور یہی سے حازم خان کی بربادی شروع ہوگی! المان انہیں اپنے ارادے بتانے لگا

“دیکھا ملک صاحب میں کہتی تھی نا میرا بیٹا ہمیں شرمندہ نہیں ہونے دے گا۔۔۔” زہرہ ادا سے بولیں

اگر ایسا ہے تو پھر ہم تمہیں تمہاری فیورٹ چیز دلوائیں گے! انور ملک مسکرا کر بولے جس پر المان بھی کندھے اچکا کر پرسوچ انداز میں موبائیل میں لگ گیا

ابھی اسنے واٹس ایپ کھولی ہی تھی جب سکندر نے اسے رعنین کی پیکچر سینڈ کی جو شاید آج صبح یونیورسٹی کی تھی اسے دیکھتے ہی اس کے تاثرات بدلے

میں آتا ہوں ڈیڈ! ان سے کہ کر وہ فون پر سکندر کا نمبر ڈائل کیے باہر آیا

تیری ہمت کیسے ہوئی اُس کی پیکچر لینے کی! المان غرایا

کیا ہو گیا بھائی میں نے تو تیرے لیے لی ہے! سکندر گھبراتے ہوۓ بولا

اب کردی نا سنڈ اب یہ پیکچر مجھے تیرے پاس نظر نا آئے! غصے سے کہتا وہ کال کٹ کر گیا وہ آج پہلی بار سکندر سے اس طرح بات کررہا تھا نجانے کب میں وہ لڑکی اس کے لیے اتنی اہم ہو گئی تھی

*******************

گول گپے کھانے کے بعد حازم نے گاڑی سبز حویلی کی طرف بڑھا دی تھی کچھ فاصلہ ہی رہتا تھا جب حازم کا فون رنگ ہوا

ہاں بولو حمزہ!

سر وہ آپ کہاں ہیں؟ حمزہ کی گھبرائی ہوئی آواز گونجی

بات کیا ہے؟

سر وہ خانی کی بیٹی پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے! حمزہ گھبرا کر بولا

واٹ؟ کہاں ہے وہ اب؟ اس کی دھاڑ پر عرین اور حائنہ نے خوفذدہ ہوکر اِسے دیکھا

میں آرہا ہوں! کال رکھ کر وہ گاڑی کی اسپیڈ مزید تیز کر گیا

سب خیریت ہے نا بھائی؟ حائنہ نے عرین کے اشارے پر پوچھا

اس وقت مجھے صرف خاموشی چاہیے! اسی اسپیڈ سے وہ اگلے پانچ منٹ میں سبز حویلی کے سامنے تھے

جلدی اترو جلدی اندر جاؤ! حازم کے کہنے پر وہ دونوں چپ چاپ گاڑی سے اتر گئیں اور وہ گاڑی زن سے بھاگا گیا

سر۔۔ یار انتظار تو کر لیا کریں! حمزہ اپنا سر پیٹتا دوسری گاڑی لیے اس کے پیچھے نکلا تھا

*******************

چلے جاؤ یہاں سے حازم خان صرف تمہاری وجہ سے میری بیٹی اس حال میں ہے صرف تمہاری وجہ سے میں نے منع کیا تھا تمہیں! جاوید خانی روتے ہوئے بولا

دیکھیں خانی صاحب یہ سب محض آپ کو ڈرانے کے لیے ہے میں چاچو کی دیتھ کی وجہ سے مصروف ہو گیا تھا مگر۔۔۔

بس کرو حازم خان مجھے اب یہ کیس نہیں لڑنا سمجھے تم؟ جاوید خانی کے انداز پر وہ بامشکل اپنا غصہ ضبط کر پایا تھا

سر ریلیکس یہ جگہ مناسب نہیں ہے باہر میڈیا آپ کے انٹرو کے لیے تیار کھڑی ہے! حمزہ اسے ریلیکس کرنے کی کوشش کرنے لگا

مجھے اگلے پانچ منٹ میں المان ملک کی کرنٹ لوکیشن چاہیے!

بٹ سر!

آئی سیڈ پانچ منٹ کے اندر اندر مجھے لوکیشن بتاؤ! اب کے وہ دھاڑا کے حمزہ سرد سانس خرج کر گیا

****************

شام سے رات ہو گئی تھی مگر اسکی کوئی خبر نہیں تھی

وہ اس وقت ٹیرس پر اس کے انتظار میں چکر کاٹ رہی تھی

پتا نہیں کہاں ہونگے دوپہر کو بہت غصے میں نکلے تھے۔۔۔خود سے کہتی وہ گھبرا کر ادھر اُدھر ٹہل رہی تھی کے اچانک اس کی گاڑی کے ہارن سے وہ اس کی جانب متواجہ ہوئی ٹیرس سے جھکنے پر اس کی آمد کا یقین ہو چکا تھا اسکی گاڑی دیکھتے ہی وہ جلدی سے اپنا موبائیل اٹھا کر نیچھے آئی

سر آپ ٹھیک ہے نا؟ لیلی نے اس کی بگڑی ہوئی حالت دیکھتی مودب انداز میں پوچھا

ہممم تم اس بات کا زکر کسی سے نہیں کرنا!

اوکے سر! اسے آڈدر دینے کے بعد وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا جب کوئی بری طرح آکر اس سے ٹکرایا

آہ میرا س۔۔۔باقی کے الفاظ مقابل کی بکھرے بال سرخ آنکھیں اور پٹھے ہوئے ہونٹ کو دیکھ کر منہ میں ہی ہے گئے خلافِ تواقع حازم اسے کچھ بھی کہ بغیر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا

اس کی جاتے ہی عرین نے بے ساختہ اپنا دیوار کا سہارا لیا کچھ لمحے ایسے ہی کھڑے رہنے کے بعد وہ اس کے ہوش میں آکر اس کے پیچھے بھاگی

کیا ہوا ہے آپ کو؟ حازم جو ابھی اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا اس کی آمد سے پلٹا

اس وقت میں تم سے کوئی بحث نہیں چاہتا جاکر سو۔۔۔اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ اس کی طرف لپکتی اسکا کالڑ تھام گئی

میں نے آپ سے کچھ پوچھا ہے کیا ہوا ہے آپ کو؟

یہ کیا حرکت ہے؟ حازم غرایا

کتنی چوٹیں لگی ہیں آپ کو۔۔۔ بیٹھیں میں اس پر کچھ لگاتی ہوں۔۔۔ وہ پریشانی سے بولی

اس کی ضرورت نہیں ہے میں ٹھیک ہوں اب تم میرے کمرے سے جاؤ! حازم سرد لہجے میں بولا

آپ کو سمجھ کیوں نہیں آتی میں ڈیڈ کے بعد آپ کو نہیں کھونا چاہتی! آپ کو کچھ سمجھ نہیں آتی۔۔۔برے ہیں آپ میں اب کببھی بات نہیں کروں گی آپ سے! وہ روتے ہوئے کہتی تیزی سے اس کے کمرے سے نکل گئی کے اپنی باتوں سے وہ اسے خاصا پریشان کر گئی تھی