357.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 19

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

تمہیں کیا ہوا عرین؟ حنان اسے خاموش دیکھ کر بولا

کچھ نہیں!

کوئی مسئلہ ہے تو بتا دو!

نہیں بس میں کل کے بارے میں سوچ رہی ہوں تم نے جو تھیم رکھی ہے میرے پاس اس کلر میں کچھ نہیں ہے! اسنے بہانا بنایا جبکہ ذہن تو اب تک رعنین کی لفظوں پر اکٹا ہوا تھا

تو اس میں کونسی بڑی بات ہے تم اور حائنہ دونوں شوپنگ پر چلے جاؤ!

ہمم!

ویسے آج تمہاری وہ دوست کچھ زیادہ اُکھڑی ہوئی نہیں لگ رہی تھی؟

ہمم وہ کچھ پریشان تھی!

اچھا کیا ہوا اسے؟

پتا نہیں تم کیوں پوچھے جا رہے ہو؟

میں تو بس ویسے ہی پوچھ رہا تھا میرا کارڈ نہیں لے رہی تھی خالہ کا کہ بہت مشکل سے لیا ہے اُس نے! حنان اسے تفصیل بتانے لگا جس پر وہ محض سر ہلا گئی

چلو کٹو اندر چلو پھر تمہیں لے جاؤں گا شوپنگ کروانے اب اپنا پھلا ہوا منہ ٹھیک کر لو ویسے ہی اتنی موٹی ہو! حنان گاڑی سبز حویلی کے گراج میں روک کر اس سے بولا

اچھا اور اپنا منہ دیکھا ہے تم نے؟ سانڈ کہیں کے!

اوئے کٹو تمیز سے نہیں تو شوپنگ بھول جاؤ۔۔۔! اس کے کہنے پر وہ منہ چڑاتی اندر کی طرف بڑھ گئی

جہاں الیانہ ملازموں کو کل کی متعلق انسٹرکشنز دے رہی تھیں اسے دیکھتے ہی وہ بال انگلی میں گھما کر اس کی جانب رخ کیا

عرین ڈئیر کم ہیر!

جی بڑی مما…

یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم نے خود کی؟ کلر دیکھو کتنا ڈل لگ رہا ہے تمہارا! الیانہ اس کے چہرے پر موجود تھکن کے اثار دیکھ کر بولی

جی!

تم جاکر فریش ہو جاؤ پھر سلون چلی جانا حائنہ کے ساتھ!

”نہیں بڑی مما مجھے ان سب کی عادت نہیں ہے موم کہتی ہیں ابھی ایج نہیں ہے اس سب کی”

تو جسٹ کلینزنگ کروا لینا آئم شور ایرج کو اس سے کوئی پروبلم نہیں ہوگی….! الیانہ اپمی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ بولی

بلکل ٹھیک کہ رہی ہیں موم…تمہیں دھیان رکھنا چاہیے اپنا! حائنہ ان دونوں کو محو گفتگو دیکھ کر ان کی گفتگو میں شامل ہوتے ہوۓ بولی

ہاں لیکن….

لیکن ویکن کچھ نہیں ہم دونوں سلون جا رہے ہیں….اب تم جاکر فریش ہو جاؤ میں تمہارا ناشتہ روم میں ہی بھیج رہی ہوں! حائنہ کے مان سے کہنے پر وہ مسکرا کر سر ہلاتی اوپر کی جانب بڑھ گئی

موم ویسے آپ عرین کو مجھ سے زیادہ پیار نہیں کرنے لگ گئی؟ حائنہ خفگی سے بولی

وقت پر گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے!

مطلب؟ حائنہ نے ابرو اچکا کر پوچھا

Nothing!

ایک لفظی جواب دے کر وہ ادا سے باہر کی طرف بڑھ گئیں کے حائنہ اسے جاتا دیکھ کر محض کندھے اچکا گئی

**********************

تشریف لے آئیں آپ؟ گھر میں داخل ہوتے ہی اسے شمیم کی تیش سے بھری آواز سنائی دی

اسلام و علیکم! وہ تھکن ذدہ سی بیگ چوکی پر رکھ کر خود اس پر لیٹنے کے سے انداز میں بولی

وعلیکم السلام….یہ کونسی پڑھائی ہے جو سر شام آتی ہو تم؟

کیا ہو گیا اماں آپ تو آتے ہی شروع ہو جاتی ہیں ظاہر ہے جب یونیورسٹی والے فری کریں گے تو تبھی آؤں گی نا!

ٹھیک ہے میں پتا لگاتی ہوں ان یونیورسٹی والوں سے ایسا کونسا کام ہے جو جوان بچیوں کو شام میں فارغ کرتے ہیں ٹائم دیکھو شام کے چھ بج رہے ہیں! شمیم خفگی سے گھڑی کو دیکھتے ہوۓ بولیں

افف ہو اماں بس کر دیں خدا کے لیے بس کر دیں تنگ آگئی ہوں میں آپ کے ان روز روز کے سوالوں سے شرور ہی ہو جاتی ہیں….انسان کی طبیت جیس بھی ہو سر پھٹ رہا ہو لیکن وہ آکر آپ کی باتیں پہلے سنے! اب کی بار وہ اکتا کر خاصا ناگواری سے بولی تھی کے اس کے لہجے پر شمیم نے حیرانگی سے اسے دیکھا

یہ کس طرح بات کر رہی ہو؟

تو اور کس طرح کروں آپ دماغ خراب کر دیتی ہیں میرا!

رعنین! اب کی بار شمیم غصے سے بھرے انداز میں چیخی کے ان کی گرج پر وہ بے ساکتہ خاموش ہو گئی

آئندہ کے بعد میں تمہاری یہ بدتمیزی پھر با سنوں ابھی تمہاری کمائی پر نہیں بیٹھی میں جو اس طرح باتیں سناؤ گی….ماں ہوں تمہاری پورے دن لوگوں کے کپڑے سیتی ہوں تاکہ تمہاری خواہشیں پوری کر سکوں پورا پورا دن انتظار کرتی ہوں کہ کب آۓ گی….یہ تنہائی چبتی ہے مجھے اسئلے سوال کرتی ہوں! شمیم اپنی نمی چھپاتی تیش سے کہتی کچن کا رخ کر گئی

آپ کو بس یہی آتا ہے باتیں سنانا….جوابا وہ بھی تنخ کر کمرے کا دروازے پٹخ کر کھول کر اندر چلی گئی

کچھ لمحے مزید گزرے تھے شمیم کھانے کی بڑی سی ٹرے لے کر اس کے پاس آئیں

یہ کھانا رکھا ہے ٹیبلٹ بھی رکھ دی ہے کھانے کے بعد کھا لینا! منہ بنا کر کہتی وہ جانے لگیں جب رعنین نے ااٹھ کر ان کا بازو تھاما اور انہیں اپنا حصار میں لیا

سوری اماں…! اس کی آنکھوں میں نمی تھی

اٹس اوکے!

وہ آج کل بس پریشانی ہے تو اسئلے ایسے ہو رہی ہوں! وہ اپنی آنکھیں رگڑتے ہوۓ بولی

کیا پریشانی ہے؟ شمیم فکرمند سی پوچھنے لگی

بس پڑھائی کی ہی ہے! اسنے بہانہ بنایا وہ اب انہیں کیا بتاتی آج کل المان کی ذومعانی باتیں اسے بہت سے وسوسوں میں ڈال رہی تھیں اور اب اسکا اسے حنان کی بڑتھ ڈے پارٹی جانے کے لیے فورس کرنا اس کی سمجھ سے باہر تھا

تو دل لگا کر پڑھو! شمیم محبت سے اسکا کندھا تھپتھپاتی اپنی سلائی مشین پھر سے چلانے چلی گئیں

*****************

رات کے تقریبا بارہ بجے کے بعد وہ گھرلوٹا تھا معمول کے مطابق سب سونے کے لیے جا چکے تھے وہ بھی تھکا تھکا سا گھڑی پر نظر ڈال کر اپنے کمرے میں آیا

اس رات کے واقعے کے بعد سے اس کی روٹین پہلے سے زیادہ بزی ہو گئی تھی

ابھی اسنے کمرے میں پہلا قدم ہی رکھا تھا جب اسے الیانہ اپنے روم میں کھڑی دیکھائی دی

آپ یہاں؟

کیوں میں اپنے بیٹے سے ملنے نہیں آسکتی؟

.

آسکتی ہیں بلکل آسکتی ہیں! حازم مسکرا کر ان سے ملتے ہوۓ بولا

کہاں بزی رہتے ہو آج کل؟

آج کل شیخ ادیانی کے کیس میں پھنسا ہوا ہوں آپ سنائیں میری موم رات کے اس پہر میرا ویٹ یقینا کسی اہم بات کی وجہ سے کر رہی ہونگی!

یقینا ایسا ہی ہے!

حکم کریں! ان کے اعتراف پر وہ مزید مسکرا کر بولا

یہ پیپرز ہیں تمہیں ان پر عرین کے سائن کروانے ہیں! اس کی مسکراہٹ سمتی

کس چیز کے پیپرز؟

افکورس پراپرٹی کے پیپرز ہیں! الیانہ نے ادا سے کہا

بٹ موم وہ ابھی میرے اوپر ٹرسٹ…

کم اون حازم میں جانتی ہوں تم اس کا ٹرسٹ پا چکے ہو جبھی اسنے اس رات کے جھگڑے والی بات کسی سے ڈسکس نہیں کی!

بٹ موم…!

تم میرا یہ کام کرو گے یا نہیں حازم؟ اب کی بار الیانہ نے دوٹوک انداز میں پوچھا جس ہر وہ گہرا سانس ہوا کے سپرد کرکے بولا

ٹھیک ہے دیں پیپرز…!

نہیں ابھی نہیں جب وقت آۓ گا تم میں تمہیں یہ دوں گی اور تمہیں اسی وقت اس پر سائن کروانے ہونگے! الیانہ پرسوچ کہتی واک اوٹ کر گئی کے ان کی باتوں سے حازم کافی لمحوں تک دروازے کو گھورتا رہا تھا اور پھر سر جھٹک کر سگریٹ لبوں سے لگتا اپنا ماتھا مسل کر بلکنی میں آگیا

آج چوتھا دن ہے اور اسنے اپنی شکل تک نہیں دیکھائی ویسے تو اتنی باتیں کرتی تھی! وہ بلکنی میں آکر غیر محسوس انداز میں اس کی کمی محسوس کرتے ہوۓ خود سے بولا

صبح کسی کے مسلسل جھنجوڑنے پر اس کی آنکھ کھولی

عرین کی بچی اٹھو…گیارہ بج گئے ہیں! حائنہ اسے جھنجھوڑتے ہوۓ بولی

تو میں کیا کروں؟

کیا کروں کی بچی…چچی بلا رہی ہیں نیچھے اور حنان تم سے اتنا ناراض ہے تم بے اسے رات میں ویش بھی نہیں کیا! اس کے کہنے پر وہ فٹ سے آنکھیں کھول گئی

ہا…میں اسے ویش کیے بغیر ہی سو گئی!

جی ہاں اور وہ تم سے اور بھائی سے کافی ناراض ہے!

کیوں؟

کیوں کہ بھائی بھی رات میں لیٹ آۓ تھے! حائنہ اسے تفصیل بتانے لگی

ہممممم….!

ہممم کی بچی ٹائم نہیں ہے جلدی سے فریش ہوکر آؤ پہلے ہم نے تمہارا ڈریس رسیوو کرنا ہے اور پھر پالڑ جانا ہے! حائنہ کے مستقل اٹھانے پر وہ بڑا سا منہ پھلا کر واشروم کی طرف بڑھی تھی

********************

اماں آپ بھی چلیں نا! رعنین اپنا سوٹ استری کرتے ہوۓ باضد تھی

میری طبیت ٹھیک نہیں ہے تم میری طرف سے اسے پیار اور دعا دے دینا!

اماں یہ دعا سلام مجھے دینا نہیں آتا اب بندہ کیا کہ امی کی طرف سے پیار؟ اور وہ آگے سے پوچھ لے کہاں پر تو؟ وہ خاصا بدمزہ ہوتے ہوۓ بولی

توبہ استغفار کیسی الٹی باتیں کرتی ہے یہ لڑکی….!

گھٹی آپ کی ہی تھی!

میرے اوپر تو کچھ نہیں گیا سب کچھ تو تمہارا اپنی خالہ جیسا ہے! شیم شرارت سے بولی جب کے ان کی بات پر رعنین کا حلق تر کڑوا ہوا

توبہ کریں اماں اپنی اتنی مصوم سی بیٹی کو کس سے ملا رہی ہیں! وہ دونوں ہاتھ کانوں پر رکھتے ہوۓ کہنے لگی

مصوم نا مصوم مجھے تو الیانہ باجی سے بھی ایک قدم آگے لگتی ہے میری بیٹی…..

امممممماں…اب کی بار رعنین نے خاصا زور دے کر کہا جس پر شمیم کا قہقہ گونجا تھا جبکہ وہ محض منہ بسور کر رہے گئی تھی

***********************

آج کی ساری اریجمنٹ حازم خان نے ارینج کی تھیں جبکہ وہ اس وقت خود اپنے آوفس کے کیبن میں بیٹھا کچھ لوگوں کو ڈیل کر رہا تھا مگر ہر چیز اس کے کہنے کے مطابق کی گئی تھی

پورے سبز ویلا کو ایک ڈسکو کلب میں تبدیل کر دیا گیا تھا ان تینوں بہن بھائیوں میں حنان سب سے زیادہ شوخ تھا یہی وجہ تھی کے اس کی برتھ ڈے آج بھی کسی بچے کی پہلی سالگرہ جیسی منائی جاتی تھی حائنہ بھی اس معاملے میں کچھ حنان جیسی ہی تھی مگر وہ اس کی خوشی صرف گفٹ کو لے کر ہوتی تھی جب کے ان دونوں کے برعکس حازم اپنی برتھ ڈے پر کیک بھی کاٹنا مناسب نہیں سمجھتا تھا وہ اپنی عمر سے پہلے ہی بڑھا ہو چکا تھا اس کا انٹرسٹ شروع سے صرف ایک چیز پر رہا تھا اپنی پڑھائی اور کام پر…!

شام کے ساتھ بجے فنشن کا آغاز کیا گیا تھا آج کی تھیم بیلو تھی

حنان اس لمحے بیلو ڈریس کورٹ میں الیانہ اور عالم خان کے ساتھ کھڑا اپنا فوٹو شوٹ کروا رہا تھا اس دوران اندر داخل ہوتے ہوۓ لوگ بھی ان تینوں کو دیکھ کر کچھ لمحوں کو رک جاتے عالم خان بھی اس کی طرح بیلو ڈریس پنٹ جبکہ الیانہ ڈارک بیلو میکسی پہنے ہوۓ تھیں

میرا شیر….الیانہ کے سیرھیوں کی طرف دیکھ کر کہنے پر وہ دونوں بھی اس جانب متواجہ ہوۓ جہاں سے وہ نیوی بیلو فور پیس سوٹ میں بالوں کو جیل سے سیٹ کیے ہاتھ میں برئینڈ رسٹ واچ چڑھاۓ اپنی گہری آنکھیں سامنے کی طرف مرکوز کیے ایک ہاتھ سے اپنے بال سیٹ کرتے ہوۓ مغرانہ چال چلتا ہوا سیڑھیاں عبور کر رہا تھا

ہیپی برتھ ڈے میری جان! اس کی آواز سے حنان اور الیانہ ہوش میں آۓ وہ کب نے ان کے قریب آیا وہ اندازہ نہیں کر سکے تھے

آپ کو یاد آگیا؟

یاد تھا لیکن کل رات کو لیٹ ہو گیا تھا! وہ معذرت خواں انداز میں بولا

لیکن آپ کو پتا ہے مجھے سب سے پہلے آپ کا ویش چاہیے ہوتا ہے! حنان اس کے لگتا لاڈ سے بولا جس پر حازم مسکرایا

نیکسٹ ٹائم سب سے پہلا ویش میرا ہی ہوگا!

لیں کٹو اور بھوتنی بھی اپنی اپنی شکلیں تبدیل کروا کر آگئیں….اس کے کہنے پر حازم نے پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں سے اسے اسکاۓ سلک کی لونگ میکسی پر اسموکی میک اپ کیے بالوں کو کرل کیے کھلا چھوڑ کر نیوڈ لپ اسٹک لگاۓ پیروں میں اسکاۓ ہی ہائی ہیل اور ہاتھوں پر اسکاۓ فرل کا ڈوپٹا ڈالے نروس سی حائنہ کا بازو پکڑے آتے ہوۓ دیکھائی دی حازم کی نظریں جیسے اس پر اٹک سی گئی تھیں وہ چاہ کر بھی اس سے نظریں ہٹا نہیں سکا

ہیپی برتھ ڈے حنان! وہ ان کے قریب آتے بولی کنفیوز سی بولی جب اس کی نظر حازم پر گئی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اس کی نظروں سے وہ مزید کنفیوز ہوکر حائنہ کی اوٹ میں چھپ گئی

کیسے لگ رہے ہیں ہم؟ حائنہ جو خود لارئل بیلو میکسی میں ملبوس بہت پیاری لگ رہی تھی مسکرا کر بولی

بس میں تو کہتا ہوں یہ پالڑ والی فراۓ کی جائیں گی لوگوں کے جزبات کے ساتھ کھیلتی ہیں یہ! حنان جھرجھرلی لیے بولا کے اس کی بات پر حائنہ ایک زوردار چٹ اسے ریسید کی

چپ کرو تم…وہ بیچاری پہلے ہی کنفیوز ہے بھائی آپ بتائیں عرین کیسی لگ رہی ہے؟ حائنہ اب اس کی جانب متواجہ ہوئی

بھائی؟ حائنہ کے واپس پکارنے پر وہ ہوش میں لوٹا

ہمم کیا؟

کیسی لگ رہی ہے عرین؟

Gorgeous!

اس کے لفظی جواب پر عرین سر تا پیر تک سرخ پڑی تھی

دیکھا اب تو بھائی نے بھی تعریف کر دی…حائنہ مسکرا کر بولی

ہاۓ برو! حنان اپنے یونیورسٹی کے کچھ دوستوں کو آتا دیکھ کر ان کی جانب متواجہ ہو گیا ان میں رعنین اور علینہ بھی شامل تھیں جنہیں دیکھ کر عرین ایک بار پھر سب بھلاۓ ان کی طرف بڑھ گئی

سر ڈرنک! حازم جو ان سب کے جانے کے بعد ایک ضروری میل دیکھ رہا تھا ویٹر کی آواز پر متواجہ ہوکر ایک جوس کا گلاس ہاتھ میں لیے پھر سے موبائیل میں لگ گیا کے اس کے گلاس لیتے ہی ویٹر نے نظر گھما کر الیانہ کو دیکھا جو اس جانب ہی دیکھ رہی تھیں

ویٹر نے اس کی طرف دیکھ کر گردن اثبات میں ہلائی جس پر وہ ادا سے گردن اکڑا کر مسکراتے ہوۓ مہمانوں سے باتوں میں لگ گئی

اب سب فیری اپنا کام بخوبی کر لے! پرسوچ انداز میں خود سے کہتی وہ آگے کا لائحہ عمک سوچنے لگی تھی

*****************

کیسی ہو؟ اس کے مخاطب کرنے ہر رعنین اس کی جانب متواجہ ہوئی اور نظریں پھیر کر دوسری جانب بڑھ گئی

اسے کیا ہوا ہے؟ علینہ حیرانگی سے بولی

ککچھ نہیں! اس کی بے رخی پر عرین کا دل بے ساختہ مٹھی میں آگیا وہ بامشکل اپنی نمی چھپا کر علینہ سے ایکسکیوز کرتی اندر کی جانب مڑ گئی

اسے جوس پیئے ابھی پانچ منٹ ہی گزرے تھے جب اسے اچانک سے اپنا سر بھاری ہوتا ہوا محسوس ہوا…. اس کے سامنے سب کچھ دھندلا سا ہونے لگا

وہ بار بار سر جھٹک کر سامنے کا منظر ٹھیک سے دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا مگر اس کا دماغ آستہ آستہ جیسے شل ہوتا جا رہا تھا

شٹ! اسنے بے ساختہ اپنی پیشانی مسلی اور بامشکل اندر کی طرف بڑھا سد شکر کے وہ لان کے اس کونے میں تھا جہاں سے اندر کا راستہ دور نہیں تھا

حازم کیا ہوا؟ وہ اپنا سر تھامے اندر کی طرف بڑھنے لگا جب الیانہ کی آواز سے اسے کچھ تسلی سی ملی

موم پتا نہیں…آئی تھنک میری ڈرنک میں کسی نے کچھ ملا دیا ہے! وہ اپنا سر مسلتے ہوۓ بار بار جھٹ کر ہوش برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا تھا

نہیں بیٹا یہ تمہارا وہم ہے تم بلکل ٹھیک ہو ابھی تو تم نے مجھے فائل لانے کو کہا!

میں نے؟ وہ حیران ہوا

ہاں یہ فائل جس پر تم نے عرین سے سائن کروانے ہیں! الیانہ نے ایک فائل اسکے ہاتھ میں ہکڑائی تھی

مگر موم مجھے ایسا کچھ یاد نہیں پڑ رہا….

تم زیادہ مت سوچو تم یہ فائل پکڑو اور آحد کے ساتھ اوپر جاؤ میں عرین کو بھیجواتی ہوں!

معاوف ہوتے دماغ سے وہ سر کو اثبات میں ہلاتا آحد کے ساتھ اپنے روم میں آگیا!

وہ جو رعنین کے راؤیے سے دل برداشتہ ہوکر اپنے روم میں آتی ٹپ ٹپ کرتے آنسو صاف کر رہی تھی کے اچانک اسکا دروازہ نوک ہوا

وہ تیزی سے اپنے آنسو صاف کرکے اٹھتی اپنا موبائیل جو وہ اپنے روم میں ہی بھول گئی تھی اٹھا کر دروازہ کھول گئی جہاں فیری جو یہاں سے اسٹاف میں سے تھی پریشان ہال میں کھڑی دیکھائی دی

کیا ہوا فیری؟

وہ میم….حازم سر!

کیا ہوا انہیں؟ اس کے نام پر وہ فوری الرٹ ہوئی

وہ جی اپنے روم میں آپ کا ویٹ کر رہے ہیں مجھے ان کی طبیت بھی ٹھیک نہیں لگ رہی…آپ کو بلانے کا آڈدر دیا ہے سر نے!

اووکے آپ جائیں میں دیکھتی ہوں…اس سے کہ کر وہ تیزی سے اپنے سے چند قدم جے فاصلے پر موجود اس کے روم کی جانب بڑھ گئی

ابھی اسنے پہلا قدم رکھا ہی تھا کے سامنے کا منظر دیکھ کر وہ دھنگ رہے گئی

آآاپ ڈرنکک ہیں؟ وہ اسے صوفے پر سرخ آنکھیں لیے بیٹھا دیکھ کر گھبرا کر بولی

کم ہیئر! اس کی بھاری آواز گونجی جس پر وہ حلق تر کرکے رہے گئی

ممیں…!

آئی سیڈ کم ہیئر..!