357.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 18

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

اس کی دھڑکن کے ساتھ ساتھ وقت جیسے تھم سا گیا تھا جب حازم نے اس کے کندھے پر اپنا سر رکھا تھا اس کی بے ہنگم دھڑکنیں جیسے تھم سی گئی تھیں

وہ کافی لمحے ہل نا سکی رات سرکتی گئی پل جیسے تھمے ہی رہے وہ ایسے ہی اس کے کندھے پر سر رکھے شاید اٹھانا بھول گیا تھا

حازمم! بامشکل اسکا نام پہلی بار یوں لیا تھا لمحے گزر گئے لیکن اسکا جواب نا آیا

سو گئے کیا؟ وہ اسے ایک گھٹنے سے ایسے ہی سر رکھے دیکھ کر سرگوشی میں بولی اس بار بھی اس کا جواب نا آنے پر اسے یقین ہو گیا تھا کے وہ سو گیا ہے

………………….

دوسری طرف رات کے اس پہر رعنین حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی

ہوا کیوں یہ سب؟ مسجد والے معاملے کے بعد

کچھ نہیں یار بس تمہارے کزن کے ساتھ ہمارے کچھ فیملیز ایشو ہیں!

”تو ایسے کیا ایشوز کے جنگلی بن جائیں حازم بھائی تو ویسے ہی جنگلی ہیں“ رعنین انگارے چباتے ہوۓ بولی

اوہ رئیلی؟ المان نے ابرو اچکائی

ہاں میرے ہسبنڈ پر بات آۓ گی تو میں کسی کا لحاظ نہیں کروں گی! اس کے کہنے پر المان مسکرایا

پکی بات ہے؟

بلکل پکی! وہ اسی کے انداز میں بولی

دیکھ لو آزمائش کے وقت کہیں بھول مت جانا!

ہر آزمائش پر پورا اتروں گی دیکھ لینا! رعنین نے اس کے زخم پر آخری کریم لگا کر اٹھتے ہوۓ ادا سے کہا کے اس کی بات پر المان نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے خود کی طرف کھینچا

دیکھ لو… وہ گھمبیر لہجے میں اسے اپنے بے حد قریب کیے بولا کے اس اچانک اتفاد پر وہ گھبرا کر نظریں جھکا گئی

میں تو آزمائش پر اتر جاؤں گی لیکن تم اپنی باری کیا کرو گے تمہاری محبت کا اندازہ کیسے ہوگا؟

میری محبت کی شدت کا اندازہ میں تمہیں آج ہی کروا دوں گا! وہ گھمبیر لہجے میں اسے مزید قریب کرتے ہوۓ بولا

کککیا مطلب؟

شششش… اس کے مزید کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ اس کے لبوں پر جھکے الفاظ ختم کر گیا

*********************

کچھ دیر بعد وہ احتیاط سے اپنا سر بیڈ کی ٹیک سے لگا کر بیٹھ گئی حازم کا سر اب بھی اسی کے کندھے پر تھا

رات گزرتی گئی ایک بار پھر سورج طلوع ہوا اور ایک نئی صبح کا آغاز ہوا خوبصورت صبح کا…..

اپنے معمول کے مطابق وہ آستہ آستہ اپنا دماغ جگانے لگا دماغ کے پھر چلتے ہی اسے سب سے پہلے اپنی گردن میں کچھ درد سا محسوس پوا پھر اپنے نزدیک.سے آتی نرم سی خوشبو کا احساس ہوتے ہی اسنے فٹ سے آنکھیں کھولی اور پہلا منظر دیکھتے ہی وہ جیسے ساکت وہ گیا تھا اس کا سر عرین کے کندھے پر تھا

اسنے ہربڑا کر اپنا خود کو اس سے دور کیا پھر اسے دیکھنا لگا وہ اس لمحے ڈارک بیلو سلک کے فل سلیپنگ سوٹ میں تھی جو اسنے رات میں ہی چینج کیے تھے اس کی گردن بیڈ کی ٹیک سے قدرے دھلکی ہوئی تھی حازم کو بے ساختہ اس مصوم سی لڑکی پر پیار آیا جو پورہ رات اس کی وجہ سے الرٹ رہی تھی

بیواقوف لڑکی! سر جھٹک کر وہ بیڈ سے اتر کر اس کی سائد پر آتا اس کا سر احتیاط سے تیکیے پر رکھا گیا اور پھر ٹہر سا گیا

”مجھے آپ کی ناراضگی سے ڈر لگتا ہے“ اس کے الفاظ حازم کے ذہن میں گونجے جس پر وہ بے ساختہ مسکراتے ہوۓ اس کے چہرے پر آئی کچھ شرارتی لٹوں کو نرمی سے پیچھے کر گیا

”تم مجھے اپنی مائل کرتی ہو چھوٹی لڑکی“ محبت سے کہتا وہ سر جھٹک کر واشروم کی طرف بڑھ گیا خورشید بابا نے اس کا اور عرین کا بیگ اس روم میں رکھوا دیا تھا

اس کی آنکھ کھولی تو خود کو انجانی جگہ پر پایا اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی کلک کی آواز سے واشروم کا دروازہ کھلا اور حازم ٹراؤزر اور بلیک بنیان میں باہر آیا

آہ….آپ ایسے کییسے! اسے یوں اچانک دیکھ کر وہ گھبرا کر کمبل منہ تک اوڑھ گئی کے اس کی حرکت پر وہ بے ساختہ مسکرایا

تم تو ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو جیسے میں نے بنیان بھی نا پہنا ہو! اس کی بات پر وہ مزید سرخ ہوئی

اس طرح کی باتیں مت کریں….! وہ کمبل کے اندر سے ہی بولی جب اسے آستہ آستہ اپنا کمبل سرکتا ہوا محسوس ہوا

کیسی باتیں؟ وہ اس کے بے حد نزدیک کھڑا اس کی طرف جھکے ہوۓ بولا

کککچچھھ نننہیں!

نہیں تم کچھ کہ رہی تھیں نا!

نہیں میں تو کککچھ نہیں کہ رہی تھی!

نہیں کہ رہی تھی کچھ آپ کیوں تنگ کر رہی ہیں؟ وہ اس کی نظروں سے کنفیوز ہوکر نظریں جھکاۓ بولی

ااور جو تم مجھے اپنی باتوں سے تنگ کرتی ہو؟

میں نے کب کیا؟ عرین نے ابرو اچکا کر پوچھا

”تنگ ہی تو کرتی ہو تم…اپنی طرف کھینچتی ہو“ اس کی بات پر وہ مزید نظریں جھکا گئی

”ممممیں فریش ہو جاتی ہو“ اس کی باتوں سے بچنے کا فلحال ایک ہی طریقہ تھا

ہممم اچھا سنو!

جی؟ وہ جاتے جاتے پلٹی

‘کل رات جو کچھ ہوا اسے کسی سے ڈسکس مت کرنا’

جی! وہ سر اثبات میں ہلاتی واشروم کی طرف بڑھ گئی کچھ دیر بعد ہی وہ مسٹڈ کلر کی لونگ شرٹ اور پنک ٹراؤزر پہنے باہر آئی حازم اس وقت صوفے پر بیٹھا سگریٹ کے کش لگا رہا تھا اسے دیکھتے ہی وہ سگریٹ ایش ٹرے میں مسل کر اس کی طرف متواجہ ہو گیا کے اسے یوں سگریٹ ہاتھ میں لیے دیکھ کر عرین نے منہ بگاڑا

شرم نام کی کوئی چیز نہیں ہے آج کل لوگوں میں!

مجھ سے کچھ کہ رہی ہو؟ حازم نے خاصا جتانے والے انداز میں پوچھا جس پر وہ منہ بسور گئی

جی نہیں!

”گڈ اب جلدی ریڈی ہو جاؤ“ اس کے کہنے پر وہ سر ہلا کر ڈریسنگ کی طرف متواجہ ہو گئی

***************

ایک ہفتے بعد:

انہیں اسلام آباد سے آۓ چار دن گزر چکے تھے رعنین ان دنوں میں عرین سے کم ہی ملی تھی وجہ اس کی وجہ سے المان کو پڑنے والی مار تھی جس کے باعث وہ آج کل عرین سے ناراض تھی ان دونوں وہ تقریبا روز ہی المان سے مل رہی تھی

آج بھی وہ آخری دو لیکچر بنک کرنے کا ارادہ رکھتی تھی جب عرین اس کے پاس آکر بیٹھی اسے دیکھتے ہی وہ اٹھنے لگی مگر عرین نے اسکا تھام لیا

مجھے نہیں لگتا ہم دونوں کی کوئی پرسنل لڑائی ہوئی ہے جس وجہ سے تم مجھے اگنور کرو! عرین چہرے پر بلا کی مصومیت سجاۓ بولی یہ کوئی چار دنوں یہ چوتھی کوشش تھی جو اسنے اس سے بات کرنے کے لیے کی تھی

میرے لیے المان کی عزت ہی میری عزت ہے اگر کوئی اس سے بدتمیزی کرے گا تو مجھ سے بھی کوئی امید نا رکھے!

لیکن میری تو المان سے کوئی لڑائی نہیں ہوئی….

تمہاری وجہ سے تو ہوئی ہے نا؟ تمہاری وجہ سے اسے اتنی چوٹیں آئیں…. اس کے پاس میں ہوں اسے اور لڑکیوں کی ضرورت نہیں تھی!

وہ کہ کر جا چکی تھی جبکہ عرین حیریت سے اس دروازے کو دیکھ رہی تھی جہاں سے وہ ابھی نکل کر گئی تھی

یہ تو وہ سوئٹ سی رعنین نہیں تھی جو اسے اپنی دوست لگتی تھی….تو کیا رشتے ایسے ہی بدل جاتے ہیں؟

چند دنوں میں؟

چند منٹوں میں؟

یا چند سکینڈوں میں؟ وہ محض سوچ سکی اسکا دل ٹوٹ سا گیا تھا ویسے ہی اتنے دنوں سے حازم بزی رہنے کی وجہ سے اسے دیکھائی نہیں دے دیا تھا اوپر سے اس کا یہ راؤیہ….

وہ عرین کو سنا کر اب جلدی سے المان سے ملنے کا ارادہ رکھتی تھی اسکا ذہن بار بار عرین کی طرف جا رہا تھا انہی سوچوں میں گھم اسے سامنے سے آتے وجود کو دیکھ نا پائی اور اگلے ہی لمحے وہ کسی سے بری طرح ٹکرائی

آہ….

رعنین یار سارا میس اپ کر دیا! حنان زمین پر گرے کارڈ اٹھاتے ہوۓ بولا

تو تمہیں دیکھ کر چلنا چاہیے! وہ اب ساتھ ساتھ کارڈز سمیٹ رہی تھی

ہممم الٹا چور کتوال کو ڈانٹے؟

پکڑو اپنا یہ کچرا….

اوہ ہیلو کچرا نہیں ہے میری بڑتھ ڈے پارٹی کا انویٹیشن ہے…پکڑو یہ تمہارا! حنان آنکھیں چھوٹی کیے کہتا اسے ایک کارڈ پکڑا گیا

سوری بٹ مجھے ان فضول چیزوں میں انٹرسٹ نہیں ہے!

اوۓ چنے کیوں چبا رہی ہو رکھ لو نہیں تو رات میں گھر آکر خالہ سے شکایت بھی لگاؤں گا اور تمہیں ڈانٹ بھی ڈانٹ پٹوا کر ہی گھر آؤں گا! اس کے تیور دیکھ کر وہ بھی تیوری چڑھاۓ بولا جس پر رعنین نے اسے اکتا کر دیکھا

دو! اس کہ باقی بات سنے بغیر وہ جھٹ سے اس سے کارڈ لیتی آگے بڑھ گئی

کیا ہوا جناب؟ المان نے اسے منہ پھلاۓ دیکھ کر پوچھا

کچھ نہیں آج حنان نے یہ انویٹیشن کارڈ دیا ہے کل اس کی بڑتھ ڈے ہے!

ہمم پھر کیا پلان ہے؟ المان ابرو اچکا کر بولا

کیا مطلب؟ صاف منع کر دیا میں نے اسے جہاں تمہاری عزت نہیں ہے وہاں میں کہاں سے چلی؟ اس کی بات پر المان مسکرایا

اور اگر میں تمہیں کہوں کے میں چاہتا ہوں تم جاؤ تو؟

اور تم ایسا کیوں چاہوں گے؟رعنین نے آئبرو سکیڑ کر بولی

وہ میں تمہیں وقت آنے پر بتاؤں گا!

یعنی؟

یعنی یہ کہ تمہیں جانا چاہیے تمہارے کزن ہے اور میں نہیں چاہتا تم بلاوجہ ان سے ناراضگی پالو!

مگر!

مگر کچھ نہیں جو میں کہ رہا ہوں وہ مانو! المان اسکا ہاتھ تھامے بولا جس پر وہ خاموش ہو گئی