Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389 Mehram-e-Raaz Episode 35 (Last Episode Part 2)
Rate this Novel
Mehram-e-Raaz Episode 35 (Last Episode Part 2)
Mehram-e-Raaz by Syeda Shah
حازم…! الیانہ نے اسے روکنا چاہا مگر وہ اس کی آوازوں کو ان سنی کرتا ہوا برق رفتاری سے گاڑی کی طرف بڑھ گیا کچھ ہی سیکنڈ میں اس کی گاڑی زن سے سبز حویلی سے نکل گئی
الیانہ کافی لمحے کھڑی اس گیٹ کو دیکھتی رہی جہاں سے وہ ابھی گیا تھا اس کا بیٹا آج پہلی بار یوں روٹھ کر گیا تھا دل کے کسی کونے میں ٹھیس سی اٹھی تھی حازم خان جو اس کے حکم کے بغیر نوالہ نہیں لیتا تھا آج وہ اس کی آوازوں کو ان سنی کر گیا تھا
وہ وہی دروازے پر بیٹھتی چلی گئی
میم آپ ٹھیک ہیں؟ لیلی اسے ایسے بیٹھتے دیکھ کر فوری اس کے پاس آئی
گارڈز کو کہو حازم کی گاڑی کا پیچھا کریں فورا…..جاو! وہ ہزیانی کیفیت میں چیخی
اوکے میم! لیلی اس کے آرڈر پر تیزی سے گاڈرز کی طرف لپکی تھی
*********************
رعنین اس لمحے سبز حویلی کے ایک کمرے میں موجود گزشتہ ایک سال کو سوچ رہی تھی کیا کچھ تھا جو اس ایک سال میں ہو گیا تھا وہ ایک چلبلی رعنین سے سنجیدہ سی لڑکی بن گئی تھی اس کی ہنسی اب بھی گھر میں گونجا کرتی تھی لیکن کھلھلاہٹیں کہیں کھو گئیں تھیں
رعنین حیدر آپ کا نکاح المان ملک سے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے؟
مبارک ہو آپ دونوں اب محرم بن گئے ہیں…(اے میرے محرم راز تو ایک راز کا پردہ رکھ لیتا)
”محبت گناہ نہیں ہے لیکن وبال جان ہے انسان کو اگر محبت مل بھی جاۓ تو وہ کسی نا کسی رنج میں مبتلا رہتا ہے اور اگر نا ملے جب بھی خوشیاں جیسے اس سے روٹھ جاتی ہیں کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں نا وہ لوگ جو اس محبت نامی چیز سے دور رہتے ہیں“ وہ محض سوچ سکی
مگر تم تو محبت کو ایک پاک جزبہ کہتی تھیں….دل کے کسی کونے نے یاد دہانی کروائی تھی جس پر وہ تلخی سے مسکرائی
انسان کو ہر وہ چیز اچھی لگتی ہے جس سے وہ گزرا نا ہو محبت سے پالا پڑا تو معلوم ہوا ہے یہ سب کے لیے اچھی نہیں ہے….
ضروری نہیں جیسا تم سوچ رہی ہو ویسا ہی ہو…ہو سکتا ہے تمہاری محبت صحیح ہو لیکن بندہ غلط ہو….! اس کی آواز سے وہ سوچوں کے سمندر سے نکلتے ہوئے حیرت سے اس شخص کو دیکھنے لگی جو جن کی طرح یکدم یہاں حاضر ہوا تھا اور اس کے دل میں ہوتی باتوں کا جواب دے رہا تھا
کیا ہوا یقیناً یہی سوچ رہی ہوں گی مجھے تمہارے دل کی آواز کس طرح آگئی… یہ بھی عشق کا ایک پہلو ہے! حنان اس کے چہرے پر نظر ڈالتے ہوۓ بولا
جب بندہ ہی غلط نکلا تو محبت کے صحیح ہونے کا کیا اچار ڈالنا ہے؟ وہ اس کی پہلی بات کا جواب دیتے ہوۓ بولی
کیا مطلب کیا اچار ڈالنا ہے؟ بندہ چینج کرو غلام حاضر ہے اعتبار کرو…! اس کے مسکرا کر کہنے پر وہ بھی ہنس دی
تم ایسے کیوں ہو حنان؟
کیسا؟
ایسے جیسے تم ہو…اتنے پوزیٹوو!
پتا نہیں شاید تمہارے لیے اللہ نے مجھے ایسا بنایا…حنان اس کے چہرے پر نظر ڈالتے ہوۓ بولا
تمہیں پتا ہے رعنین تم میرے لیے سب سے اچھی لڑکی ہو کیونکہ تم حاضری اور باطنی خوبصورت ہو… اس کی بات پر وہ بے ساختہ مسکرا جبھی انہیں باہر سے آتی آوازوں نے متوجہ کیا
یہ تو موم کی آواز ہے….حنان پریشانی سے کہتے ہوۓ باہر کی طرف لپکا جب کے اس کے ساتھ ساتھ رعنین بھی باہر آئی تھی
کیا ہوا موم آپ ایسے کیوں بیٹھی ہیں؟
وہ…حازم!
کیا ہوا بھائی کو؟ حنان چونکا
وہ بہت غصے میں باہر نکلا ہے مممیں نے گاڈرز کو بھیجا ہے مگر مگر میرا دل ہول رہا ہے حنان تم حمزا سے کہوں وہ حازم کی لوکیشن دیکھتا رہا…وہ بھوکلاۓ ہوۓ انداز میں بولی
آئی ہوپ موم بھائی کو آپ سے اب کوئی دکھ نا ملا ہو ورنہ آپ اپنے دونوں بیٹوں کو خود سے دور پائیں گیں! حنان کے کہنے پر اسنے اپنی سرخ انگارہ آنکھیں اٹھائیں مگر وہ اپنی بات کہ کر موبائیل میں جمزہ کا نمبر ملاتا باہر کی جانب بڑھ گیا
اٹھیں خالہ آپ اندر چلیں آپ کی طبیعت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی! رعنین کے کہنے پر وہ کچھ بھی کہے بغیر اس کے ساتھ اپنے روم میں چل دی
رعنین الیانہ کو اپنے روم میں چھوڑنے بعد عرین کے روم میں آئی تھی اور اس کے توقع کے برعکس وہ اسے بیڈ کے ساتھ لگ کر بیٹھی نظر آئی
عرین؟ رعنین اس کے پاس بیٹھتے ہوئے نرمی سے بولی جب وہ اگلے ہی لمحے اس کے گلے لگتی سسکیوں سمیت رونے لگی
مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی مممیں کیسے اُس گھٹیا عورت کی باتوں میں آگئی؟
کس کی بات کر رہی ہو؟ رعنین نے حیرت سے پوچھا جس پر وہ سنجیدہ ہوتے ہوئے اپنی زندگی کے سب سے بڑے راز سے پردہ اٹھا گئی
واٹ؟ تمہارے ساتھ اتنا سب ہو گیا اور تم نے مجھے بتایا تک نہیں؟ میں بھی کہوں محبت کو متبر کہنے والی عرین کیوں محبت سے اتنی بدظن ہو گئی۔ رعنین حیرت سے بولی
میں کیا کروں رعنین؟ حازم مجھے معاف نہیں کریں گے میں نے ان پر یقین نہیں کیا! وہ روتے ہوۓ اس سے پوچھ رہی تھی
انتظار…سب کچھ ٹھیک ہو جاۓ گا مگر کچھ دیر لگے گی…میں جانتی ہوں تم نے جو کچھ کیا وہ خالہ کی باتوں کی وجہ سے کیا لیکن حازم بھائی کے ساتھ جو رویہ تم نے رکھا ہے وہ تم نے خود رکھا ہے تم نے ان سے بغاوت کی ہے …وہ شاید وقت لیں مگر سب ٹھیک ہو جاۓ گا تم پریشان مت ہو! رعنین اسے سمجھاتے ہوۓ بولی جس پر وہ سر ہلا کر آنسو صاف کر گئی
****************
وہ خالی سڑک پر گاڑی دوڑا رہا تھا
میرا بچہ کھا گئے آپ!
حازم نے جو کچھ کیا وہ میرے کہنے پر کیا!
تم ایک حوس پرست انسان ہو!
مجھے یقین تھا میرا شیر مجھے کبھی انکار نہیں کرے گا!
”کیسی ماں ہو تم اپنے بیٹے کی ہی خوشیاں کھا کر یوں مطمئن کھڑی ہو“
میرا بیٹا میرا غرور ہے…
آہ….وہ ہزیانی کیفیت میں چلاتا گاڑی کے اسٹیرنگ پر زور سے ہاتھ مار رہا تھا
اسے آپ اپنے دل میں ٹیسیں اٹھتی محسوس ہو رہی تھیں
اسنے اس دنیا میں صرف دو عورتوں پر ہی اعتماد کیا تھا اور ان دونوں سے ہی اسے تکلیفیں ملی تھیں عرین سے زیادہ تکلیف تو اسے اس کی ماں نے دی تھی جو اصل وجہ تھیں اس سب کی…
کچھ لمحے ایسے ہی سب سوچنے کے بعد وہ خود کو ریلیکس کرتے ہوۓ گاڑی موڑنے لگا جب یکدم ایک گاڑی نے اسے ہٹ کیا تھا اس اچانک حملے پر وہ کچھ سمجھتا کے سامنے موجود گاڑی نے ایک بار پھر اسے ہٹ کیا تھا کے اس بار حازم کا سر بری طریقے سے اسٹیرنگ سے لگا تھا یہ کاروائی اب بھی رکی نہیں تھی سامنے موجود گاڑی نے ایک دو بار مزید اسے ہٹ کیا تھا
اس کی آنکھوں کے سامنے اب اندھیرا چھانے لگا
چلو بس کافی ہے! اس کی سرد آواز پر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے لڑکے نے سر کو خم دیا
کیا لگتا ہے بچے گا؟ اسنے ایک اور سوال کیا
گاڑی کی حالت سے تو نہیں لگتا! ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا لڑکا مسکرایا
اسے بچنا ہوگا….بہت پرانا انتقام ہے اس طرح آسانی سے مرا تو مجھے چین نہیں ملے گا…اس کے بعد گاڑی میں اسکی کی پراسرار ہنسی گونجی تھی
میم مجھے لگتا ہے اسکا بچنا مشکل ہے!
تم گاڑی بھگاؤ…میں جانتی ہوں یہ اتنی جلدی نہیں مرے گا! اس کے کہنے پر ڈرائیونگ سیٹ پر موجود لڑکا زن سے گاڑی بھگا گیا
جب کے دوسری جانب وہ ایسے ہی خون میں لت پت گاڑی کے اسٹرنگ پر لٹکا سا تھا ماؤف ہوتے دماغ سے اسنے آخری منظر جو یاد کیا تھا وہ اس لڑکی کا معصوم چہرا تھا جو اپنی بادامی آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی
میں بڑے بابا کو بتاؤں گی آپ نے میرے سر پر گن رکھی تھی!
اس کی پہلی ملاقات کا منظر اس کے ذہن میں گونجتے ہی وہ اس حالت میں بھی بے ساختہ مسکرا دی
چھوٹی لڑکی…ایک بار پھر تمہیں میرے بغیر رہنا ہوگا مگر اس بار تمہیں اتنی تکلیف نہیں ہوگی! وہ خیالوں میں اس سے کہتا اس کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت یاد کرتے ہوۓ آنکھیں بند کر گیا
