Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389 Mehram-e-Raaz Episode 35 (Last Episode Part 1)

357.5K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 35 (Last Episode Part 1)

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

اس میں ثبوت ہے تمہاری محبت میرا بچہ.کھا گئی کیوں کیا آپ نے ایسا میرے ساتھ؟ بتائیں؟

وہ اب آستہ آستہ اس کے قریب ہوتی اسکا گریبان تھام.گئی تھی اسے پہلے حازم اسے کچھ کہتا وہ اگلے ہی لمحے اس کے بازو میں جھول گئی تھی کے حازم جو پہلے ہی اس کے انکشاف پر حیران تھا اس کے یوں اپنے بازو میں جھول جانے پر وہ حلق تر کرکے پوری طرح اس کی جانب متواجہ ہوا

عرین؟ وہ بے سد سی اس کے بازو میں پری تھی جس پر وہ سر کو جھٹک کر اسے اٹھاتے ہوۓ بیڈ پر لے آیا

”آپ کی محبت میرا بچہ کھا گئی“ وہ اسی کی بند آنکھوں کو دیکھتے ہوۓ اس کے کہے گئے الفاظ یاد کر رہا تھا

”میں عرین کی زمےداری تم پر چھوڑ کر جا رہا ہوں حمزہ اس وقت صرف ایک تم ہی ہو جو میرے ہمراز ہو…“

بٹ سر مجھے لگتا ہے آپ کو عرین میم کو اپنے میشن کے بارے میں بتا دینا چاہیے!

”میں اسے فلحال کچھ نہیں بتا سکتا ان سب چیزوں کو سمجھنے کے لیے اسے وقت لگے گا اور میں رسک نہیں لینا چاہتا….“ اس کے کہنے پر حمزہ نے اثبات میں سر ہلایا

ڈونٹ وری سر میم کی زمےداری اب میری ہے!

اسے ایک سال پہلے حمزہ سے کی گئی گفتگو یاد آئی تھی جو اسنے انڈرگراؤنڈ ہونے سے پہلے آخری بار کی تھی

تم پر اتنا بڑا بوجھ تو نہیں ڈالا تھا میں نے حمزہ…ایک مصوم جان کی حفاظت نہیں ہوئی تم سے! وہ عرین کے بالوں میں ہاتھ پھیڑتے ہوۓ بولا

کچھ دیر مزید ایسے ہی اسے دیکھنے کے بعد اس کی نظر زمین پر گری فائل پر گئی جسے وہ اٹھا کر پھر سے اس کے سرہانے بیٹھ گیا اس فائل کو کھولتے ہوۓ آج پہلی بار حازم خان کا ہاتھ کانپا تھا دل میں ایک انجانی سی خواہش تھی کہ یہ سب جھوٹ ہو محض نشے میں کی گئی فضول گوئی ہو مگر پہلا فصحہ پلٹتے ہی اس کی یہ خواہش مر گئی تھی

وہ لب بھینجے ان صفحوں کو پڑھ رہا تھا جب یکدم اس کی آنکھوں سے ایک قطرہ ٹوٹ کر گال پر پھسل گیا اس کے بعد دوسرا…پھر تیسرا اور پھر ان گنت قطرے اس کے آنکھوں سے نکل کر عرین کی بند آنکھوں پر گرے تھے

حازم خان آج پہلی بار اپنی بے بسی پر رو پڑا تھا ایک مضبوط شخص جسے دیکھ کر کوئی بھی ٹہر جایا کرتا تھا اس کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی تھی اتنا بے بس تو وہ کبھی نہیں ہوا تھا

آئی ایم سوری ماۓ لیٹل چیمپ

آئی ایم رئیلی سوری…وہ ان صفحوں پر سر رکھتا بڑبڑاتے ہوۓ آنکھیں موند گیا

.

**********************

روشنی کے آنکھوں پر پڑنے سے اس کی آنکھیں آہستہ آہستہ کھلنا شروع ہوئی تھیں سر اب بھی بھاری تھا کچھ دیر ایسے ہی لیٹے رہنے کے بعد وہ ہمت کرکے اٹھ کر بیٹھنے لگی جب یکدم اسے کچھ محسوس ہوا اسنے جیسے ہی اپنی بائیں جانب دیکھا اس کی آنکھیں پوری طرح کھل گئیں وہ اس سے ایک انچ سے بھی کم فاصلے پر بیڈ سے ٹیک لگاۓ بیٹھا تھا

اس کی بند آنکھوں سے وہ اندازہ لگایا جا سکتا تھا کے وہ رات میں ایسے ہی بیٹھے بیٹھے سو گیا ہے رات کا منظر کسی فلیش بیک کی طرح اس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا اور ایک لمحہ لگا تھا اسے بیڈ سے اٹھنے میں اس کی دھڑکن اسے اپنے اتنے قریب بیٹھے دیکھنے سے معمول سے زیادہ تیز ہو چکی تھی

آئی ہیٹ یو…! وہ اس کے سوتے ہوۓ وجود کو دیکھ کر طیش سے کہتی واشروم کہ طرف بڑھنے لگی کے اسے اچانک ایک احساس نے گھیرا

وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگی جو آنکھیں موندے بیڈ سے ٹیک لگاۓ سو رہا تھا اس کے چہرے پر تھکن کے آثر صاف واضع تھے

جانے دل کے کس کونے کے حکم پر وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیے اس کی طرف آئی بے حد احتیاط سے اس کی گردن پر ہاتھ رکھا جس پر اس کے دل نے بے ساختہ ایک بیٹ مس کی اسنے احتیاط سے ایک کوشن نکال کر اس کی گردن کے نیچھے رکھا جس پر وہ کسمسایا اس سے پہلے اس کی آنکھ کھلتی عرین نے واشروم کی طرف دڑکی لگائی تھی عیاں اس کی چوری پکڑی نا جاۓ

نیند سے اٹھتے ہی اسے گردن میں درد محسوس ہوا شاید پوری رات بیڈ سے ٹیک لگانے کے باعث یہ درد تھا وہ گردن کو دو تین بار جھٹک کر سیدھا ہوکر بیٹھا جب کلک کی آواز سے واشروم کا دروازہ کھلا اور وہ آسمانی رنگ کے جوڑے میں گیلے بالوں سے باہر آئی

اسے دیکھتے ہی حازم خان ٹہر سا گیا کے دوسری طرف وہ اسے دیکھ کر نظر انداز کرتے ہوۓ گزرنے لگی کہ اس کا پاؤں گیلے ہونے کی وجہ سے پھسلا اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی حازم نے برق رفتاری سے اس کی طرف بڑھ کر اسے کمر سے جکڑا تھا

کمرے میں ایک گہری خاموشی چھا گئی اس کے یوں قریب آنے پر عرین کی دھڑکنیں منتشر ہو گئی تھیں وہ اس کی کمر کو جکڑے اس کے بالوں سے ٹپکتے ہوۓ پانی کو دیکھ رہا تھا جو اس کے چہرے سے ہوتے ہوۓ گردن میں جزب ہو رہے تھے حازم نے اسے دیکھ کر حلق تر کیا نہایت مجبوری کی حالت میں وہ اسے سیدھا کرتا اس کی کمر چھوڑ گیا تھا ایک عجیب سی خاموشی کمرے میں چھا گئی تھی عرین کا دل تھا کے دھڑکنیں توڑ کر باہر آنے پر تل گیا تھا

اس کے دور ہونے کے بعد وہ زبان لبوں پر پھیر کر تیزی سی کمرے سے نکل گئی کے اس کے جاتے ہی حازم نے ایک گہرا سانس لے کر سر جھٹکا

کچھ دیر بعد وہ تیار سا کورٹ کے لیے نکلنے لگا جب اس کی نظر سائد ٹیبل پر رکھے پیڈ اور پین پر گئی دل نے ایک سگنل دیا تھا جس پر وہ لبیک کہتے ہوۓ بیڈ پر آتا اس. نوٹ پیڈ اور پین کو ہاتھوں میں لیے تیزی سے کچھ لکھنے لگ گیا

**********************

ناشتے کی ٹیبل آج کل سے زرا کم پررنق تھی مگر پھر بھی اچھی لگ رہی تھی حازم کی شادی کے بعد سبز حویلی ایک گھر کی صورت پیش کرنے لگی تھی

اسلام و علیکم! ناشتے کی ٹیبل پر آتے ہی اسنے بلند آواز میں کہا

وعلیکم السلام آجاؤ بیٹا بیٹھو! عالم خان محبت پاش لہجے میں بولے

ایک بات بتائیں بڑے پاپا اگر آپ کا بیٹا دیر سے جاگے اور دیر سے ہی شاور لینے جائے تو کیا مجھ پر بھی لازم ہے کہ میں اُن کے انتظار میں بیٹھی رہوں اور نیچھے آکر کوئی کام وام نا دیکھوں؟ وہ خود پر ایرج کی خفگی بھری نظریں دیکھتے ہوئے نرم لہجے میں بولی

نہیں یہ بات تو سراسر غلط ہے ایسا آپ سے کس نے کہا؟ عالم خان لاڈ سے بولے

آپ کی سمدن یہی چاہتی ہیں! اس کے کہنے پر ایرج نے مزید آنکھیں نکال کر اسے گھورا جب کے عالم خان کا قہقہ بلند ہوا تھا

آپ میری سمدن کی باتوں کو چھوڑیں یہ پرانے زمانے کی عورتیں ہیں انہیں ہم جوانوں کی کوئی خبر نہیں ہے! ان کے کہنے پر عرین کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری

ہاں تو ہم نے کب کہا ہے ہر روز ساتھ ساتھ آئیں لیکن شروعات میں تو کم از کم ان چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے…! ایرج خفگی سے بولیں

ہاں عرین تمہاری موم بلکل ٹھیک کہ رہی ہیں شروع میں تو احتیاط کرو بعد کا کس کو پتا یہ شادی رہے گی بھی یا….. الیانہ نے داستانہ بات چھوڑی جس پر سب نے حیرت سے اسے دیکھا

یہ کیا بکواس ہے الیانہ؟ پروین بیگم شختی سے بولی

معاف کیجیے گا پھوپھو میری زبان پھسل گئی…..

آج کل آپ کہ زبان کچھ زیادی ہی پھسلنے لگی ہے اسے سنبھال لہجیے اس سے پہلے کہ کوئی بڑا نقصان اٹھائیں…عالم خان خفگی سے بولی جب اگلے ہی پل حازم کی آواز سے ان کے چہرے پر مسکراہٹ رینگی

اسلام و علیکم گڈ مورننگ ایوری ون! وہ فریش انداز میں کہ کر عرین کے ساتھ والی کرسی سنبھال گیا تھا اس کے بعد ناشتہ پرسکون محول میں کھایا گیا

ناشتے سے فارغ ہوکر حازم کورٹ کے لیے نکل گیا تھا

کیا سوچا جا رہا ہے؟ رعنین کی آواز پر وہ چونکی وہ دونوں اس وقت لان میں موجود تھے سردیوں کے دن تھے جس کی وجہ سے ہلکی ہلکی سی دھوپ اور یہ ہرا بھرا لان عرین کو ایک الگ ہی دنیا میں لے گئے تھے

کچھ نہیں بس سوچ رہی ہو زندگی بھی صیح کھیل گئی ہے میرے ساتھ! وہ گہری سانس لیتے ہوۓ مکمل اس کی طرف متواجہ ہو کر بولی

ایسا کیوں سوچ رہی ہو؟ابھی تو ایک نئی اور خوبصورت زندگی کا احساس ہوا ہے تمہاری…

ایسا صرف تمہیں لگتا ہے رعنین…تم زندگی کی تلخ حقیقت سے واقف نہیں ہو! اس کی بات پر رعنین تلخی سے مسکرائی

مجھ سے بہتر کون حقیقت کی تلخی سے واقف ہوگا! عرین نے اسکا چہرہ اور یکدم اسے کل کا واقعہ یاد آیا

ہاں میں نے تمہیں ایک بات بتانی ہے…وہ سیدھا ہوکر بیٹھتی بے چینی سے بولی

کیا ہوا؟ اس کے پوچھنے پر عرین نے اسے کل المان سے ہونے والی ساری کہانی سنائی جس پر رعنین کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہے گئیں

واٹ؟ تمہارا دماغ خراب تھا تم اس سے پاس چلی بھی کیوں گئی؟ اور ایسی کونسی پیاس تھی جو تمہیں وہاں جاکر ہی لگی؟

پتا نہیں یار آج کل مجھے بہت زیادہ پیاس لگنے لگتی ہے! عرین شرمندہ سی بولی

پھر حازم بھائی نے تمہیں کچھ کہا نہیں؟ رعنین نے تشویشی انداز میں پوچھا

وہ مجھے کیا کہیں گے؟ میں نے انہیں اتنا زیادہ فری نہیں کیا!

یہ غلط بات ہے عرین تمہیں ان کے بارے میں ایسے بات نہیں کرنی چاہیے وہ شوہر ہیں تمہارے اور شوہروں کی تو عزت کی جاتی ہے مگر تم تو جیسے ان کی عزت بھول ہی گئی ہو! رعنین اس کی بات پر چڑھ کر بولی جس پر عرین مصلیحت خاموشی اختیار کر گئی

*************************

وہ اپنے کیبن میں کھڑا بے چینی زے چکر کاٹ رہا تھا جب کیبن کا دروازہ کھلا اور وہ گہرے پنٹ کورٹ میں اندر داخل ہوا

مورننگ سر…سوری سر آج ٹریفک جام تھی…! حمزہ اس کے تیور دیکھے بغیر اپنی دھن میں آتے ہوے بولا

کوئی بات نہیں آخری دن ہے تو کیا فرق پڑتا جلدی آؤ یا دیر سے…..اس کے جمعلے پر حمزہ نے چونک کر اسے دیکھا اب کے غور کرنے پر حمزہ نے اس کے سرد تاثرات دیکھے جس سے وہ اپنی جگہ جم گیا

میں سمجھا نہیں سر؟

ایزی ہے یو آڑ فائر…. اس کے لفظوں پر حمزہ بامشکل سنبھلا

واٹ؟ لیکن کیوں؟

آپ میری غیر موجودگی میں میرے وفادار ثابت نہیں ہوۓ…اسئلے مجھے نہیں لگتا آپ کو اس جوب کی کوئی ضرورت ہے! حازم بامشکل ضبط کرتے ہوۓ بولا

بٹ سر آپ میرا قصور تو بتائیں…

جاننا چاہتے ہو؟ تو سنو..آج سے ایک سال قبل میں نے تمہیں اپنے انڈرگراؤنڈ ہونے سے پہلے صرف ایک کام سونپا تھا

ایک مصوم سی لڑکی حفاظت

وہ لڑکی میری زندگی میں آنے والی پہلی اور آخری لڑکی ہے جو میرے دل میں اتر گئی اور تم سے اسی کی حفاظت نہیں ہوئی؟ میں مانتا ہوں میری غلطی تھی مجھے تم پر یا کسی پر ٹرسٹ کرنا ہی نہیں چاہیے تھا…مگر تم تو مجھے سب سے زیادہ انسیت تھی….وہ کہ کر کرسی پر ڈھے سا گیا تھا

آئی ایم سوری سر…مجھے معاف کر دیں میرا یقین کریں اس میں میرا قصور نہیں تھا موم نے مجھے ان دنوں اپنے کاموں میں اتنا مصروف رکھا کے میں عرین میڈم کو فراموش کر گیا آپ مجھے ایک آخری موقع دے دیں….

واٹ موم نے؟ حازم چونکا

یس سر یہ بات میری بھی سمجھ سے باہر تھی میں جب بھی عرین میڈم پر نظر رکھنے لگتا تھا الیانہ میم کا کوئی نا کوئی کام آجاتا تھا آئی ایم رئیلی سوری سر….! وہ اب اس کے آگے جھک کر بیٹھ گیا تھا جب کے حازم کا ذہن اب اس کے بجاۓ اس کے کہے گئے الفاظوں پر تھا

”میں چاہتی ہوں تمہیں تکلیف ہو تم سسک سسک کر مر جاؤ تمہاری ماں بھی تمہارے لیے روۓ جیسے تم نے مجھے میرے بچے کے لیے رولایا تھا“ ایک جماکے سے عرین کے کہے گئے الفاظ اس کے سامنے گونجے

موم…! وہ زیرے لب دھرا کر تیزی سے آوفس سے نکل گیا

سر؟ حمزہ اس کے یوں جانے پر پریشانی سے اس کے پیچھے بھاگا تھا

*******************

رعنین سے باتیں کرنے کے بعد وہ اپنے روم میں آگئی تھی اس کا سر اب بھی دکھ رہا تھا وہ سر کو جھٹک کر بیڈ پر بیٹھنے لگی جب اس کی نظر سائد ٹیبل پر رکھے ایک پیپر پر گئی

کچھ سوچتے ہوۓ وہ اس پیپر کو اٹھا کر پڑھنے لگی اور پہلا لفظ پڑھتے ہی اسنے منہ بگاڑا مگر جیسے جیسے وہ اس لیٹر پر لکھے لفظ پڑھنے لگی اسے حیرت کے ایک کے بعد ایک جھٹکے لگنے لگے

”چھوٹی لڑکی…بہت کچھ سوچ رکھا ہوگا تم نے بہت کچھ ہوگا جو تمہیں مجھ سے بد گمنان کر رہا ہوگا میں زیادہ کچھ تو نہیں جانتا مگر جتنا تم سے جاننا ہے وہ یہہ ہے کہ یہ سب نفرت ایک سال پہلے میرے اچانک غائب ہو جانے سے ہے

میں جانتا ہوں اب وقت گزر چکا ہے اور شاید آزالہ بھی نہیں ہو سکتا مگر میں پھر بھی چاہتا ہوں کہ تم ہماری کہانی کا صرف ایک رخ دیکھ کر کوئی فیصلہ نا کرو

غلطی تو ہوئی ہے مگر مجھے رشتوں کی باریکیوں کا زیادہ علم نہیں تھا میں ایک میشن پر گیا تھا میری ایک بہت عزیز کا مڈر کر دیا گیا تھا اور ان کے ساتھ ساتھ ان کی بیٹی کے ساتھ زیادتی تک کر دی گئی تھی وہ سب اتنا اچانک ہوا کے مجھے کچھ سمجھ نا آ سکا

اور جہاں تک بات جائیداد کی ہے تو سائد ڈراز کو کھولو اس میں ایک ریڈ فائل ہے شاید اسے دیکھ کر تمہیں یہ یقین آجاۓ کے میرے لیے تم سے زیادہ اس دنیا میں کوئی شے ضروری نہیں ہے…. اس کے باواجود اگر تم مجھ سے دور رہنا چاہتی ہو تو میری طرف سے کوئی بھی زبردستی نہیں ہے

مجھ پر ظلم مت کیا کرو چھوٹی لڑکی تمہاری آنکھوں سے نکلنا ہر آنسو میرے دل میں زخم پیدا کر دیتا ہے!“

پیپر ختم کرتے ہی اسنے دڑاز میں سے ریڈ فائل نکالی اور عرین خان کو لگا وہ دوبارہ سانس لے پاۓ گی اس کا شوہر اپنے نام کی ساری جائیداد اس کے نام کر چکا تھا اس سے پہلے وہ مزید کچھ سوچتی ٹک ٹک کی آواز سے وہ دروازے کی طرف متواجہ ہوئی جہاں کھڑے وجود کو دیکھ کر اس کا چہرہ سرخ ہوا

کیا ہوا لڑکی لگتا ہے کوئی بازی ہار گئی ہو! الیانہ اس کے دروازے پر کھڑی مغرانہ چالتے ہوۓ بولی

آپ یہاں کیا کر رہی ہیں…

تمہاری یاد آرہی تھی ماۓ ڈئیر وہ کیا ہے سنا ہے تم کل المان ملک سے مل کر آئی ہو تو کیا بتایا اس نے تمہیں یہی نا اسنے جو کچھ کیا حازم کے کہنے پر کیا…

شٹ اپ جسٹ شٹ اپ….اب ایک لفظ اور نہیں…الیانہ کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ چلائی تھی کے اس کے یوں چلانے پر الیانہ چونکی

کیسی ماں ہو تم اپنے بیٹے کی ہی خوشیاں کھا کر یوں مطمئن کھڑی ہو اور اب بھی مجھے اس کے خلاف بھرکانے آئی ہو؟ مجھے نفرت ہو رہی ہے خود سے کہ میں نے تم جیسی عورت کا یقین کیا تم نے مجھے جو کچھ کہا میں اس پر یقین کرتی رہی کیا کہا تھا تم نے؟ حازم کو میری جائیداد چاہیے؟ ہاں؟

نہیں چاہیے اسے مجھ سے کچھ میں نے تمہاری وجہ سے ان پر شک کیا ان کا دل توڑ دیا میرا دل کر رہا ہے میں تمہارا گلہ دبا دوں الیانہ عالم خان! عرین ہزیانی کیفیت میں اس کہ طرف بڑھتے ہوۓ بولی جس پر الیانہ کو اس کا دماغی توازن درست نہیں لگا

آۓ لڑکی دور رہو مجھ سے!

میں تمہیں جان سے مار دوں گی یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے…

میری وجہ سے کچھ نہیں ہوا حازم تم سے واقعی نفرت کرتا ہے اس نے میرے کہنے پر یہ کھیل کھیلا تھا….الیانہ الٹے قدم لیتے ہوۓ چلائی جب اچانک اس کی پشت کسی مضبوط چیز سے ٹکرائی

موم…! اور الیانہ کے جسم کا سارا خون جیسے خشک ہو گیا تھا وہ سرعت سے پلٹی جہاں حازم اس کے عین پیچھے کھڑا آنکھوں میں دنیا جہاں کی حیرت اور بے یقینی لیے کھڑا تھا

حازم! عرین زیرے لب بولی

حححازم….! الیانہ بے چینی سے اس کے قریب ہونے لگی کے وہ برق رفتاری سے اس کی پہنچ سے دور ہوتا ایک افسردہ نظر عرین پر ڈالتا نکل گیا

حازم…الیانہ ہزیانی کیفیت میں اس کے پیچھے بھاگی جب کے عرین وہی بیڈ کے کنارے بیٹھتی چلی گئی تھی

کہانیاں ہمیں بہت کچھ سیکھاتی ہیں

مگر کچھ اپنے در حقیقت اپنے نہیں ہوتے یہ سمجھنے میں زندگیاں لگ جاتی ہیں …..